Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

پطرس کی تبدیلی

THE CONVERSION OF PETER
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
جمعہ کی شام، 3 اپریل، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Friday Evening, April 3, 2015

’’اور خُداوند نے کہا، شمعون، شمعون، دیکھ، شیطان نے گِڑ گِڑا کر اجازت چاہی کہ تمہیں گندم کی طرح پھٹکے لیکن میں نے تیرے لیے دعا کی کہ تیرا ایمان جاتا نہ رہے اور جب تُو توبہ کر چُکے تو اپنے بھائیوں کے ایمان کو مضبوط کرنا‘‘ (لوقا 22:31۔32).

حال ہی میں مَیں مسیح کے یروشلیم میں جا کر مرنے پر تین واعظوں کے ایک سلسلے کی منادی کر چکا ہوں۔ وہ یہاں پر آسانی کے لیے ہائپرلِنک کر دیے گئے ہیں – ’’ Determined to Suffer؛‘‘ ’’The Fear of the Disciples؛‘‘ اور ’’یہ قول اور اُس کا مطلب اُن سے پوشیدہ رہا This Saying Was Hid From Them۔‘‘ اِن میں سے پہلا تعارفی ہے۔ دوسرا اور تیسرا شاگردوں کے خوف اور بے اعتقادی پر توجہ مرکوز کراتا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اُس وقت تک شاگردوں نے خوشخبری پر یقین نہیں کیا تھا جب تک کہ مسیح مُردوں میں سے زندہ نہیں ہو گیا۔ مسیح نے کہا تھا،

’’ابنِ آدم لوگوں کے حوالہ کیا جائے گا اور وہ اُسے مار ڈالیں گے۔ لیکن وہ اپنی مَوت کے تین دِن بعد پھر زندہ ہو جائے گا۔ تو شاگرد یسوع کا مطلب نہ سمجھ سکے اور اُس سے پُوچھتے بھی ڈرتے تھے‘‘ (مرقس 9:31۔32).

’’تو شاگرد یسوع [کی اُس خوشخبری] کا مطلب نہ سمجھ سکے اور اُس سے پوچھتے بھی ڈرتے تھے‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر اے۔ ٹی۔ رابرٹسن Dr. A. T. Robertson نے کہا،

اُنہوں نے نہ سمجھنے کو جاری رکھا۔ وہ [مسیح کی] موت اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے موضوع پر اگنوسٹکagnostic [بے اعتقادے] تھے یہاں تک کہ اُس کی ہیّت بدلنے [Transfiguration] یا تبدیلی کے بعد بھی… جب وہ پہاڑ سے نیچے آئے تو وہ اُستاد کے اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھے (مرقس9:10)۔ متی17:23 توجہ سے لکھتا ہے کہ یسوع کے [اپنی موت اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں] میں بات کرنے کو سُننے سے’’شاگرد شدت کے ساتھ افسردہ تھے‘‘ مگر مرقس اضافہ کرتا ہے کہ وہ ’’اُس سے پوچھتے بھی ڈرتے تھے‘‘ (اے۔ ٹی۔ رابرٹسن، لیٹریچر ڈی۔ A. T. Robertson, Litt.D.، نئے عہدنامے میں کلام کی تصاویر Word Pictures in the New Testament، براڈمین پریس Broadman Press، 1930، جلد اوّل، صفحہ 344؛ مرقس9:32 پر غور طلب بات)۔

یہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ شاگردوں نے یسوع کی خوشخبری کا اُس وقت تک یقین نہیں کیا تھا جب تک کہ وہ مُردوں میں جی نہیں اُٹھا۔

ڈاکٹر جے ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے کہا شاگردوں نے اُس وقت تک نئے سرے سے جنم (نئی تخلیق) نہیں لیا تھا جب تک کہ وہ عید پاشکا کی شام مُردوں میں سے جی اُٹھے مسیح سے نہ مل لیے۔ ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’میں ذاتی طور پر یقین کرتا ہوں کہ جس لمحے مسیح نے اُن پر پھونکا [یوحنا20:22] اِن لوگوں کی نئی تخلیق ہو گئی تھی۔ اِس سے پہلے، وہ خُدا کے روح سے معمور نہیں ہوئے تھے‘‘ (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن پبلیشرز، جلد چہارم، صفحہ498؛ یوحنا20:21 پر غور طلب بات)۔

کلام مقدس کے میرے مطالعے کی بنیاد پر، میں خود بھی قائل ہوں کہ شمعون پطرس نے اُس وقت تک نئے سرے سے جنم نہیں لیا تھا اور توبہ نہیں کی تھی یا مسیح میں تبدیل نہیں ہوا تھا جب تک کہ اُس نے عید پاشکا کی شام جی اُٹھے مسیح کا سامنا نہیں کر لیا۔ تلاوت پر دوبارہ غور کریں،

’’اور خُداوند خُدا نے کہا، شمعون، شمعون، دیکھ، شیطان نے گِڑ گِڑا کر اجازت چاہی کہ تمہیں گندم کی طرح پھٹکے لیکن میں نے تیرے لیے دعا کی کہ تیرا ایمان جاتا نہ رہے اور جب تُو توبہ کر چُکے تو اپنے بھائیوں کے ایمان کو مضبوط کرنا‘‘ (لوقا 22:31۔32).

شیطان یہوداہ کو پہلے ہی قبضے میں لے چکا تھا، ’’تب شیطان یہوداہ میں سما گیا‘‘ (لوقا22:3)۔ اب یسوع پطرس سے کہتا ہے، ’’شیطان نے گِڑ گڑا کا اجازت چاہی تو تجھے [بھی] گندم کی طرح پھٹکے‘‘ (لوقا22:31)۔ مسیح کے مصائب کے دوران، پطرس کو چھنی میں سے چھننے کی مانند ’’تشدد اور مسلسل دھچکوں‘‘ میں سے گزرنا پڑا ہوگا (ڈاکٹر آر۔ سی۔ ایچ۔ لینسکی Dr. R. C. H. Lenski)۔ پطرس کے پاس کچھ ایمان تھا، اور مسیح نے دعا مانگی تھی کہ جو ایمان پطرس کے پاس تھا وہ اُسے ’’ناکام نہیں‘‘ کرے گا۔ پطرس کا ایمان وہ تھا جس کو سپرجیئن Spurgeon نے ’’ایمان سے پہلے ایمان‘‘ کہا تھا، یعنی کہ توبہ یا مسیح میں ایمان سے پہلے غیبی ہدایت۔ خُدا پہلے سے ہی پطرس کی غیبی ہدایت کر چکا تھا، اُس کو یہ کہنے کے لیے اِتنا ایمان بخش چکا تھا، ’’تو المسیح، زندہ خُدا کا بیٹا ہے‘‘ (متی16:16)۔ اب مسیح نے پطرس کے لیے دعا مانگی تھی کہ عید پاشکا کی شام کو اُس کے توبہ کرنے یا مسیح میں تبدیل ہونے اور نئی تخلیق سے پہلے شیطان اُس کے غیر جُزوی یا نامکمل ایمان کو بُجھا نہ ڈالے،

’’اور جب تُو توبہ کر چُکے تو اپنے بھائیوں کے ایمان کو مضبوط کرنا‘‘ (لوقا 22:32).

یہ اُس آیت کی عام طور پر کی جانے والی تاویل یا وضاحت نہیں ہے۔ اِس کے باوجود میرے خیال میں یہ ہی سچ بات ہے۔ مہربانی سے اِس سے پہلے کہ آپ میرے فیصلے کا انصاف کریں میری بات کو آخر تک سُننا برداشت کر لیں۔ درج ذیل تین نکات ہیں جو یہ یقین کرنے میں میری رہنمائی کرتے ہیں کہ ہماری تلاوت میں مسیح عید پاشکا کی شام شمعون پطرس کی حقیقی توبہ یا مسیح میں ایمان کے بارے میں بات کر رہا ہے۔

I۔ پہلی بات، یہ آیت پطرس کی توبہ یا مسیح میں ایمان کی جانب حوالہ دیتی ہے کیونکہ کنگ جیمس بائبل اور 1599 کی جینیوا بائبل بجا طور پر یونانی لفظ کا ترجمہ بطور ’’توبہ کی یا مسیح میں تبدیل ہوا‘‘ کرتا ہے۔

میں جانتا ہوں کہ نئی انٹرنیشنل بائبل NIV اِس کا ترجمہ بطور ’’واپس بدلا turned back‘‘ کرتی ہے اور نئی امریکی معیاری بائبل NASV اِس کا ترجمہ ’’دوبارہ بدلا turned again‘‘ کرتی ہے۔ مگر یہ بات مجھے پریشان کرتی ہے۔ یہ غیرموافق یا متضاد نظر آتا ہے، کیونکہ یونانی میں لفظ کی بنیادی جڑ کا مطلب وہی ہوتا ہے جو اعمال15:3 میں ہے، جو ’’غیر یہودیوں کی توبہ یا مسیح میں ایمان‘‘ کے بارے میں بات کرتا ہے (دیکھیں NIV اور NASV، جن میں دونوں ہی ’’توبہ یا مسیح میں ایمان conversion‘‘ کہتی ہیں)۔ کیوں یونانی الفاظ ’’ epistrephō،‘‘ ’’epistrophe‘‘ بالترتیب کا ترجمہ لوقا22:32 میں ’’بدلاturned‘‘ اور اعمال15:3 میں ’’توبہ یا مسیح میں تبدیل ہوا converted‘‘ ہونا چاہیے؟ میرے خیال میں اِس کی وجہ سادہ سی ہے – یہ واضح تھا کہ غیر یہودی بِلاشُبہ ’’مسیح میں تبدیل ہوئے تھے یا اُنہوں نے توبہ کی converted‘‘ تھی۔ ’’بدلنے سے turning‘‘ معنی واضح نہیں ہوتا۔ مگر جب دورِ حاضرہ کے ترجمان لوقا22:32 میں پطرس پر پہنچتے ہیں تو اُن کی انجیلی بشارت کی نئی تعلیم اور پہلے سے ہی قائم کیے ہوئے ’’فیصلہ سازیت‘‘ کے مفروضے اُنہیں اِس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ پرانے کنگ جیمس بائبل اور 1599 کی جینیوا بائبل کے لفظ ’’توبہ یا مسیح میں ایمانconversion‘‘ کا استعمال کرتے۔ میرے لیے دورِ حاضرہ کی بائبلوں کے ترجمے ایک باقائدہ یا مناسب ترجموں کے مقابلے میں ایک کمزور مصالحت ہیں۔ ڈاکٹر برنارڈ رَامDr. Bernard Ramm نے کہا، ’’علمِ تفسیر Hermeneutics بائبل کی تشریح و وضاحت کا فن اور سائنس ہے‘‘ (برنارڈ رَام، پی ایچ۔ ڈی۔ Bernard Ramm, Ph.D.، پروٹسٹنٹ کی بائبلی وضاحت و تفسیر Protestant Biblical Interpretation، بیکر کُتب گھر Baker Book House، 1970 ایڈیشن، صفحہ 1)۔ ڈاکٹر رَام نے یہ بھی کہا، ’’مذھبی سُدھار والے اعلان کرتے ہیں یا نعرہ لگاتے ہیں کہ کلام پاک ہی کلام پاک کی تشریح و وضاحت کرتا ہے۔‘‘ علم تفسیر کے اصولوں میں سے ایک اصول یہ ہے کہ کلام پاک کو ہی کلام پاک کی وضاحت و تشریح کر لینے دی جائے۔ اگر عالمین اعمال15:3 میں ’’غیر یہودیوں کا مسیح میں ایمان لانا‘‘ ترجمہ کرتے ہیں تو پھر اُنہیں لوقا22:32 ’’جب تو توبہ کر چکے‘‘ کا بھی ترجمہ جتنا کہ زیادہ قابل اعتماد 1599 جینیوا بائبل اور کنگ جیمس بائبل کرتی ہیں کرنا چاہیے! یہاں تک کہ نئی والی کنگ جیمس بائبل نے بھی اِس کا ترجمہ غلط کیا ہوا ہے۔ اُنہوں نے ’’غیر یہودیوں کے لیے ’’توبہ یا مسیح میں ایمان لانا conversion‘‘ کا استعمال کیا، لیکن لوقا22:32 میں پطرس کے لیے ’’واپس بدلنا یا واپس پلٹنے have returned‘‘ کا استعمال کیا۔ ایک بار پھر، یہ ہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ کنگ جیمس بائبل میں سے ہی منادی کرتا ہوں! موڈی Moody کی دوسرے لفظوں میں بات کی جائے تو کنگ جیمس بائبل KJV دورِ حاضرہ کے ترجموں پر انتہائی زیادہ تفصیل سے بات کرتی ہے! میں اِس کو بارہا سچا پا چکا ہوں۔

’’میں نے تیرے لیے دعا کی کہ تیرا ایمان جاتا نہ رہے اور جب تُو توبہ کر چُکے تو اپنے بھائیوں کے ایمان کو مضبوط کرنا‘‘ (لوقا 22:32).

میرے دوست، یہ صرف غیریہودی ہی نہیں ہیں کہ جنھیں توبہ کرنے یا مسیح میں ایمان لانے کی ضرورت ہے! یہ پطرس بھی ہے! یہ محض صرف باہر سڑکوں پر لوگ ہی نہیں ہیں جنھیں ایمان لانے کی ضرورت ہے۔ اوہ، جی نہیں، یہاں اِس گرجہ گھر میں بھی لوگ ہیں، بالکل یہیں پر، اِسی شام، جنھیں مسیح میں ایمان لانے کی ضرورت ہے، ’’واپس بدلنے یا واپس پلٹنے‘‘ کی نہیں! ایمان لانے کی ضرورت ہے! یسوع نے کہا، ’’تم سب کو نئے سرے سے پیدا ہونا لازمی ہے‘‘ (یوحنا3:7)۔ آپ کو نئی تخلیق ہونا اور مسیح میں ایمان لانا چاہیے ورنہ آپ ’’خُدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتے‘‘ (یوحنا3:5)۔

’’اور جب تُو توبہ کر چُکے تو اپنے بھائیوں کے ایمان کو مضبوط کرنا‘‘ (لوقا 22:32).

II۔ دوسری بات، یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ مسیح کی پیروی کرنے سے، بپتسمہ لینے سے، یا یہاں تک کہ الٰہی غیبی ہدایت کے ذریعے سے کوئی بھی توبہ نہیں کرتا یا ایمان نہیں لاتا۔

پطرس کی توبہ کرنے یا مسیح میں ایمان لانے سے یہ دوسرا سبق ہے جو ہم سیکھتے ہیں۔ رومن کاتھولک اور بے شمار ’’فیصلہ سازیتdecisionist‘‘ کے بپتسمہ دینے والے اور پروٹسٹنٹ سوچتے ہیں پطرس نے توبہ کی تھی یا مسیح میں ایمان لایا تھا جب اُس نے یسوع کی پیروی کی تھی یعنی اُس کے ساتھ ہو لیا تھا یا اُس کے پیچھے چل پڑا تھا۔ بائبل کہتی ہے،

’’گلیل کی جھیل کے کنارے جاتے جاتے یسوع کی نظر شمعون اور اُس کے بھائی اندریاس پر پڑی جو جھیل میں جال ڈال رہے تھے کیونکہ اُن کا پیشہ ہی مچھلی پکڑنا تھا۔ اور یسوع نے اُن سے کہا، میرے پیچھے چلے آؤ اور میں تمہیں اِنسانوں کے پکڑنے والے بنا دُوں گا۔ اور اُنہوں نے اُسی وقت اپنے جال چھوڑ دیے اوراُس کے پیچھے ہو لیے‘‘ (مرقس 1:16۔18).

یہ سوچنا کہ شاگرد مسیح کے پیچھے چل پڑنے سے نجات پا چکے تھے پلے گئین اِزم Pelagianism کی غلطی ہے، اور آج یہ بے شمار گرجہ گھروں میں ایک عام سی غلطی ہے۔ جی ہاں، پطرس اور اندریاس ’’نے اُسی وقت اپنے جال چھوڑ دیے تھے اور اُس [یسوع] کے پیچھے ہو لیے تھے‘‘ (مرقس1:18)۔ مگر ہم اِس طرح کی کسی انسانی عمل کے وسیلے سے توبہ نہیں کرتے یا مسیح میں ایمان نہیں لاتے۔ یہوداہ، ’’جہنم کے بیٹے‘‘ نے بھی اُس [یسوع] کی پیروی کی تھی، مگر وہ مسیح میں ایمان نہیں لایا تھا۔ لوقا کی انجیل نے اُس کو ’’یہوداہ اسخریوطی‘‘ کہا، جو کہ ایک غدار بھی ثابت ہوا‘‘ (لوقا6:16)۔ یسوع نے اُس کو ’’شیطان‘‘ کہا (یوحنا6:70)۔

جی ہاں، یہوداہ اور پطرس نے تین سالوں تک یسوع کی پیروی کی، مگر اُن میں سے کسی ایک نے بھی خوشخبری کا یقین نہیں کیا۔ لوقا18:31۔34 کو سُنیں،

’’تب یسوع نے بارہ شاگردوں کو اپنے ساتھ لیا اور اُن سے کہنے لگا، دیکھو، ہم یروشلیم جا رہے ہیں اور نبیوں نے جو کچھ اِبنِ آدم کے بارے میں لکھا ہے وہ پُورا ہوگا۔ وہ غیر یہودی لوگوں کے حوالہ کیا جائے گا۔ وہ اُسے ٹھٹھوں میں اُڑائیں گے، بے عزت کریں گے اور اُس پر تھوکیں گے۔ اور اُسے کوڑوں سے ماریں گے اور قتل کر ڈالیں گے۔ لیکن تیسرے دِن وہ پھر زندہ ہو جائے گا۔ یہ باتیں اُن کی سمجھ میں نہ آسکیں اور یسوع کا یہ قول اور اُس کا مطلب اُن سے پوشیدہ رہا‘‘ (لوقا 18:31۔34).

’’یسوع کا یہ قول اور اُس کا مطلب اُن سے پوشیدہ رہا۔‘‘ کونسا ’’قول‘‘؟ خوشخبری کے وہ الفاظ کہ مسیح کو قتل کر دیا جائے گا اور وہ تیسرے روز مُردوں میں سے زندہ ہو جائے۔ پطرس اور یہوداہ نے یسوع کے پیچھے چلنے کا ایک ’’فیصلہ‘‘ کیا ہوا تھا، مگر ابھی تک خوشخبری ’’اُن سے پوشیدہ تھی۔‘‘ ڈاکٹر چارلس سی۔ رائیری Dr. Charles C. Ryrie نے کہا، ’’یہوداہ مسیح کے غیرنجات یافتہ شاگرد کی ایک مثال ہے‘‘ (رائیری مطالعۂ بائبل Ryrie Study Bible؛ متی 10:1 پر غور طلب بات)۔ مگر یہوداہ پر ہی کیوں اکتفا کیا جائے، جبکہ پطرس نے بھی تو یسوع کو چھوڑ دیا تھا؟ اُن میں سے کسی ایک نے بھی خوشخبری کو نہیں سمجھا تھا۔ یہ ’’اُن سے پوشیدہ‘‘ تھی (لوقا18:34)۔

میرے دوست، آپ ایک عبادت میں ’’سامنے بڑھ‘‘ سکتے ہیں اور اِس کے باوجود بھی نئے سرے سے جنم نہیں لے سکتے۔ آپ مسیح کی پیروی کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور اِس کے باوجود بھی مسیح میں ایمان نہیں لا سکتے۔ آپ یہاں تک کہ ’’گنہگار کی دعا‘‘ مانگ سکتے ہیں اور اِس کے باوجود بھی غیرنجات یافتہ رہ سکتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ یہ تمام کے تمام انسانی اعمال ہیں اور ہم انسانی اعمالوں کے وسیلے سے نہیں مسیح میں ایمان لاتے! بائبل کہتی ہے،

’’تمہیں ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا کی بخشش ہے: اور نہ ہی یہ تمہارے اعمال کا پھل ہے کہ کوئی فخر کر سکے‘‘ (افسیوں 2:8۔9).

بائبل کہتی ہے،

’’اُس نے ہمیں نجات دی۔ یہ ہمارے نیک کاموں کا پھل نہیں تھا بلکہ اُس کا فضل تھا۔ اُس نے ہمیں نئی پیدائش کا غسل دے کر اپنے پاک روح کے ذریعہ نیا بنا دیا۔ جسے اُس نے ہمارے مُنّجی یسُوع مسیح کی معرفت ہم پر بڑی کثرت سے نازل فرمایا‘‘ (طِطُس 3:5۔6).

آپ یسوع کی پیروی کرنے یا کسی اور انسانی عمل کے وسیلے سے نجات نہیں پا سکتے۔ میں نے خود اِس طریقے سے نجات پانے کی کوشش کی تھی، مگر اِس سے کوئی بات نہیں بنی۔ مسیح کے مجھے اُس کے فضل کے وسیلے سے نجات دلانے سے پہلے، میں تین سال سے زیادہ عرصے کے لیے ایک بپتسمہ دینے والا مبلغ تھا! پھر میں خُداوند کے وسیلے سے مسیح کی جانب کھینچا گیا اور اپنے گناہوں سے مسیح کے خون کے وسیلے سے دُھل کر پاک صاف ہوا۔

’’لیکن،‘‘ کوئی ایک کہتا ہے، ’’پطرس بپتسمہ یافتہ تھا۔‘‘ جی ہاں، میں جانتا ہوں۔ یہوداہ بھی تو تھا اور میں بھی بپتسمہ یافتہ ہی تھا – میرے مسیح میں ایمان لانے سے سات سال پہلے تک! ’’لیکن،‘‘ کوئی دوسرا کہتا ہے، ’’پطرس کے پاس ’تو المسیح، زندہ خُداوند کا بیٹا ہے‘ کہنے کے لیے ایمان تھا (متی16:16) – اور یسوع نے کہا کہ خُدا نے یہ اُس پر ’آشکارہ کیا‘‘ تھا (متی16:17)۔ جی ہاں، میں جانتا ہوں۔ اور خُداوند نے مجھ پر بھی میرے ایمان لائے جانے سے بہت عرصہ پہلے آشکارہ کیا کہ میرے لیے یسوع ہی المسیح تھا۔ یہ بھی غور کریں کہ اُس نے اتنا سب کچھ تو یسوع کے بارے میں بھی بدروحوں پرآشکارہ کیا تھا، ’’اور بدروحیں بھی چلاتی ہوئی اور یہ کہتی ہوئی کہ تو خُداوند کا بیٹا ہے کئی لوگوں میں سے نکل جاتی تھیں چونکہ اُنھیں معلوم تھا کہ وہ المسیح ہے‘‘ (لوقا4:41)۔ بدروحوں نے بھی وہی کچھ کہا جو پطرس نے یسوع کے بارے میں کہا تھا۔ لہٰذا پطرس اپنے ایمان لائے جانے سے پہلے ایک بدروح کے مقابلے میں یسوع کے بارے میں کوئی اتنا زیادہ نہیں جانتا تھا۔

ہم یسوع کی پیروی کرنے کے وسیلے سے توبہ نہیں کرتے یا مسیح میں ایمان نہیں لاتے۔ ہم بپتسمہ لیے جانے کے وسیلے سے بھی مسیح میں ایمان نہیں لاتے۔ اور ہم یہ یقین کرنے سے بھی مسیح میں ایمان نہیں لاتے یا توبہ نہیں کرتے کہ یسوع ہی المسیح تھا۔ پطرس نے اُن تمام باتوں کا تجربہ کیا تھا۔ اور اِس کے باوجود یسوع نے اُس سے کہا تھا،

’’اور جب تُو توبہ کر چُکے تو اپنے بھائیوں کے ایمان کو مضبوط کرنا‘‘ (لوقا 22:32).

III۔ تیسری بات، آیت کو چاروں اناجیل کے مکمل تحریری بیان کے سیاق و سباق میں دیکھا جانا چاہیے۔

چاروں اناجیل میں آپ دیکھیں گے کہ یسوع نے واضح طور پر پطرس اور دوسروں کو بتایا کہ وہ یروشلیم میں مرنے اور تیسرے روز مُردوں میں سے زندہ ہونے کے لیے جا رہا ہے۔ یہ بات یسوع کے ذریعے سے پطرس اور دوسرے شاگردوں کو متی16:21؛ 17:12؛ 17:22۔23؛ 20:18۔19 اور 20:28 میں پانچ مرتبہ دہرائی گئی تھی۔ ڈاکٹر جے ورنن مگی Dr. J. Vernon McGee نے پطرس اور دوسرے شاگردوں کے بارے میں کہا، ’’اِس قدر شدید ہدایت کے باوجود، شاگرد یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد تک [خوشخبری] کی اہمیت کو گرفت میں کرنے سے ناکام رہے تھے‘‘ (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن پبلیشرز Thomas Nelson Publishers، جلد چہارم، صفحہ93؛ متی16:21 پر غور طلب بات)۔

’’اور جب تُو توبہ کر چُکے تو اپنے بھائیوں کے ایمان کو مضبوط کرنا‘‘ (لوقا 22:32).

’’بہت خوب،‘‘ کوئی کہتا ہے، ’’بائبل کہاں پر کہتی ہے کہ پطرس یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد ایمان لایا تھا؟‘‘ کیوں، ساری اناجیل کے اختتام کے قریب یہ بات اتنی ہی واضح ہے جتنی کہ آپ کے چہرے پر ناک! لوقا اِس بات کو خصوصی طور پر واضح کرتا ہے،

’’ابھی وہ یہ باتیں کہہ ہی رہے تھے کہ یسوع خود ہی اُن کے درمیان آ کھڑا ہُوا اور اُن سے کہا، تمہاری سلامتی ہو۔ لیکن وہ اِس قدر ہراساں اور خوف زدہ ہو گئے کہ سمجھنے لگے کہ وہ کسی رُوح کو دیکھ رہے ہیں۔ اور یسوع نے اُن سے کہا، تُم کیوں گھبرائے ہُوئے ہو؟ اور تمہارے دلوں میں شکوک کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟ میرے ہاتھ اور پاؤں دیکھو، میں ہی ہُوں۔ مجھے چھُو کر دیکھو کیونکہ رُوح کی ہڈّیاں ہی ہوتی ہیں اور نہ گوشت جیسا تُم مجھ میں دیکھ رہے ہو۔ یہ کہنے کے بعد اُس نے اُنہیں اپنے ہاتھ اور پاؤں دکھائے لیکن خوشی اور حیرت کے مارے اُنہیں یقین نہیں آ رہا تھا۔ لہٰذا یسوع نے اُن سے کہا، یہاں تمہارے پاس کچھ کھانے کچھ گوشت ہے؟ اُنہوں نے اُسے بھُنی ہُوئی مچھلی کا قتلہ پیش کیا۔ اُس نے لیا اور اُن کے رُوبُرو کھایا۔ پھر اُس نے اُن سے کہا، جب میں تمہارے ساتھ تھا تو میں نے تمہیں یہ باتیں بتائی تھیں کہ مُوسٰی کی توریت، نبیوں کی کتابوں اور زبور میں میرے بارے میں جو کچھ لکھا ہُوا تھا اُس کا پُورا ہونا ضروری ہے۔ تب اُس نے اُن کا ذہن کھولا تاکہ وہ پاک کلام کو سمجھ سکیں‘‘ (لوقا 24:36۔45).

اور یوحنا اضافہ کرتا ہے،

’’پھر ہفتہ کے پہلے دِن شام کے وقت جب شاگرد ایک جگہ جمع تھے اور یہودیوں کے ڈر سے دروازے بند کیے بیٹھے تھے یسوع آیا اور اُن کے بیچ میں کھڑا ہوکر کہنے لگا، تُم پر سلامتی ہو! یہ کہہ کر اُس نے اپنے ہاتھ اور اپنی پسلی اُنہیں دکھائی۔ شاگرد اُسے دیکھ کر خُوشی سے بھر گئے۔ پھر یسوع نے دوبارہ اُن سے کہا، تُم پر سلامتی ہو! جیسے باپ نے مجھے بھیجا ہے ویسے ہی میں تمہیں بھیج رہا ہُوں۔ اور جب وہ یہ کہہ چکا، تو اُس نے اُن پر پُھونکا اور کہا، پاک رُوح پاؤ!‘‘ (یوحنا 20:19۔22).

یہ عید پاشکا کی شام کا وقت تھا کہ مُردوں میں سے جی اُٹھا مسیح پطرس اور دوسرے شاگردوں پر ظاہر ہوا تھا اور اُن کو اپنے ہاتھوں میں کیلوں کے سوراخ اور اپنی پسلی میں نیزے کا زخم دکھایا تھا۔ پھر اُس نے اپنی مصلوبیت سے تعلق رکھتی ہوئی پرانے عہد نامے کی پیشن گوئیوں کے بارے میں اُن کے ذہنوں کو کھولا۔ پھر اُس نے اُن پر پھونکا اور اُنھوں نے پاک روح کا پایا۔ اُس لمحے میں پطرس کی بالاآخر (نئے سرے سے جنم ہوا) نئی تخلیق ہوئی تھی اور اُس نے توبہ کی تھی یا مسیح میں ایمان لایا تھا یا مسیح میں تبدیل ہوا تھا۔ خُداوند کے روح کا عمل اِسی قدر شدید تھا اور یسوع کے جی اُٹھے جسم کو، اُس کے ہاتھوں میں کیلوں کے اور اُس کی پسلی میں لگے زخم کے نشانات کے ساتھ دیکھنے سے ایسا اثر ہوا تھا کہ پطرس کو مذید کوئی اور شک نہیں رہا تھا۔ سالوں بعد، پطرس نے نہایت اعتماد کے ساتھ لکھا کہ مسیح ’’خود اپنے ہی بدن پر ہمارے گناہوں کا بوجھ لیے ہوئے صلیب پر چڑھ گیا… اُسی کے مار کھانے سے تم نے شفا پائی‘‘ (1۔ پطرس2:24)۔ یہ ہمیں ظاہر کرتا ہے کہ پطرس سچے طور پر مسیح میں ایمان لے آ یا تھا! عید پاشکا کی شام کو اپنے مسیح میں ایمان لا چکنے کے بعد پطرس نے کبھی بھی دوبارہ مسیح کا انکار نہیں کیا۔ اُس نے اپنی زندگی کے آخر تک مسیح کی خوشخبری کی منادی کی۔ انتہائی مصائب میں سے گزرنے کے بعد اُس کو اُلٹی صلیب دی گئی اور اُس نے اپنی زندگی کا اختتام مسیح کا ایمان کی بھرپوری کے ساتھ اعلان کرتے ہوئے کیا۔

ایک اور بات۔ یسوع نے پطرس سے کہا تھا، ’’جب تُو توبہ کر چکے تو اپنے بھائیوں کے ایمان کو مضبوط کرنا‘‘ (لوقا22:32)۔ صرف یہی سوچ – جب آپ سچے طور پر توبہ کر چکے ہوتے ہیں تو آپ کیا کہتے ہیں اِس سے کوئی اِس قدر زیادہ ثابت نہیں ہوتا، نا ہی اِس بات سے کہ آپ کیا محسوس کرتے ہیں اِتنا کچھ آپ کو لگتا ہے۔ توبہ کرنے یا مسیح میں ایمان لانے کا حقیقی ثبوت یہ ہے – کیا آپ دوسروں کو مضبوط کر سکتے ہیں؟ کیا آپ دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں؟ یوحنا کی انجیلی کے اختتام پر جی اُٹھے مسیح نے پطرس سے کہا، ’’کیا تو مجھ سے محبت رکھتا ہے؟‘‘ پطرس نے کہا، ’’خُداوند تُو تو سب کچھ جانتا ہے… میں تجھ سے محبت رکھتا ہوں۔ یسوع نے اُس سے کہا، تُو میری بھیڑیں چَرا‘‘ (یوحنا21:17)۔ اُس وقت کے بعد سے پطرس پھر کبھی بھی نہیں ڈگمگایا۔ اُس نے خوشخبری کی منادی کی اور اپنی باقی کی تمام زندگی دوسروں کی مسیح تک رہنمائی کرتا رہا۔ اگر آپ سچے طور پر مسیح میں ایمان لا چکے ہیں، تو آپ دوسروں کو مضبوط کرنے کے قابل ہو جائیں گے – اور ہلاک ہونے والوں کے لیے حقیقی مدد اور برکت ثابت ہونگے۔ اگر اُس پھل کی آپ کی زندگی میں مکمل طور پر کمی ہو رہی ہے تو پھر آپ سچے طور پر مسیح میں ایمان نہیں لا ئے۔ آپ کے پاس صرف الفاظ ہوتے ہیں۔ آپ نے ابھی تک ’’یسوع مسیح بخود کے ساتھ‘‘ سامنا نہیں کیا (افسیوں2:20)۔ ہم دعا مانگتے ہیں کہ کہ خُداوند آپ کو یسوع کی جانب اُس کے خون کے وسیلے سے گناہ سے پاک صاف ہونے کے لیے کھینچے! تب آپ سچ میں مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو جائیں گے جیسا کہ پطرس عید پاشکا کے اِتوار کی شام کو ہوا تھا۔ آمین۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
     ’’صلیب کی کششThe Attraction of the Cross‘‘ (شاعر سیموئیل سٹینیٹ Samuel Stennett، 1727۔1795).

لُبِ لُباب

پطرس کی تبدیلی

THE CONVERSION OF PETER

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اور خُداوند نے کہا، شمعون، شمعون، دیکھ، شیطان نے گِڑ گِڑا کر اجازت چاہی کہ تمہیں گندم کی طرح پھٹکے لیکن میں نے تیرے لیے دعا کی کہ تیرا ایمان جاتا نہ رہے اور جب تُو توبہ کر چُکے تو اپنے بھائیوں کے ایمان کو مضبوط کرنا‘‘ (لوقا 22:31۔32).

(مرقس9:31۔32، 10؛ متی17:23؛ لوقا22:3؛ متی16:16)

I۔   پہلی بات، یہ آیت پطرس کی توبہ یا مسیح میں ایمان کی جانب حوالہ دیتی ہے کیونکہ کنگ جیمس بائبل اور 1599 کی جینیوا بائبل بجا طور پر یونانی لفظ کا ترجمہ بطور ’’توبہ کی یا مسیح میں تبدیل ہوا‘‘ کرتا ہے، اعمال15:3 .

II۔  دوسری بات، یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ مسیح کی پیروی کرنے سے، بپتسمہ لینے سے، یا یہاں تک کہ الٰہی غیبی ہدایت کے ذریعے سے کوئی بھی توبہ نہیں کرتا یا ایمان نہیں لاتا، مرقس1:16۔18؛ لوقا6:16؛ یوحنا6:70؛ لوقا18:31۔34؛ افسیوں2:8۔9؛ طیطُس3:5۔6؛ متی16:16، 17؛ لوقا4:41 .

III۔ تیسری بات، آیت کو چاروں اناجیل کے مکمل تحریری بیان کے سیاق و سباق میں دیکھا جانا چاہیے، متی16:21؛ 17:12، 22۔23، 20:18۔19، 28؛
لوقا24:36۔45؛ یوحنا20:19۔22؛ 1۔پطرس2:24؛ یوحنا21:17؛ افسیوں2:20 .