Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مگر نوح نے فضل پایا – حصہ دوئم

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 83)
BUT NOAH FOUND GRACE – PART II
(SERMON #83 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 22 جُون، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, June 22, 2014

’’لیکن نُوح خداوند کی نظر میں مقبول ہُوا‘‘ (پیدائش 6:8).

جب سے آبائے کلیسیا نے پیدائش 4:26 کی غلط تعبیر کی تب سے مسیحی عالمین اِسے غلط سمجھتے رہے ہیں۔ آپ کنگ جیمس نسخۂ بائبل کا مرکزی حاشیہ پڑھنے سے یہ دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں پر ایک تذبذب اِس بات پر ہے کہ اِس کا ترجمہ کیسے کیا گیا ہے۔ آیت کہتی ہے، ’’اُس وقت سے لوگ خداوند کا نام لے کا دعا کرنے لگے۔‘‘ مگر کنگ جیمس نسخۂ بائبل میں متبادل ترجمے کا حاشیہ کہتا ہے، ’’اُس وقت سے لوگوں نے خود کو خُداوند کے نام سے بُلانا شروع کر دیا۔‘‘ قدیم ربّیوں نے اِس کو درست طریقے سے سمجھا۔ اُنہوں نے کہا اِس کا مطلب ’’اُس وقت سے لوگوں نے اپنے بتوں کو خُداوند کے نام سے بُلانا شروع کر دیا۔‘‘ ابتدائی مسیحی مصنف جیرومJerome (347۔420) نے کہا یہ قدیم ربّیوں کی تاویل تھی، اور ہمارے پاس اُن کی لکھائی میں اِس کے بارے میں بے شمار حوالے ہیں۔

اِس کا مطلب ہے کہ پیدائش پانچ باب میں بزرگان نے ماسوائے حنوک کے، سیتیوں کی تہذیب کی اِرتداد میں انتہائی گہرائی تک رہنمائی کی تھی۔ پھر پیدائش چھے باب کی پہلی چند آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ کس قدر زیادہ لوگ مکمل طور پر آسیبوں کے قبضے میں آ گئے تھے اور دوسرے شیاطین سے مغلوب تھے۔

’’خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6:5).

چونکہ وہ شیطان کےزیر اثر تھے، خُداوند نے نسل انسانی کو تباہ کر دیا۔ یہ اِس قدر بُرا ہو چکا تھا کہ بالاآخر وہاں پر صرف ایک خاندان ہی رہ گیا تھا جو شیطان سے بچا ہوا تھا – نوح اور اُس کا خاندان۔

’’لیکن نُوح خداوند کی نظر میں مقبول ہُوا‘‘ (پیدائش 6:8).

اب یہ وہ مقام ہے جہاں پر آج نوح کی تاریخ کو ہمارے لیے انتہائی دلچسپ ہونا چاہیے۔ یسوع نےکہا،

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا۔ کیونکہ طوفان سے پہلے کے دِنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور شادی بیاہ کرتے کراتے تھے۔ نُوح کے کشتی میں داخل ہونے کے دِن تک یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ اُنہیں خبر تک نہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا۔ ابنِ آدم کی آمد بھی ایسی ہی ہوگی‘‘ (متی24:37۔39).

’’جیسا نوح کے دِنوں میں ہوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی24:37)۔ نوح کے دِن ایک ایسا دور تھا جب دُنیا پر شیطان اور اُس کے چیلوں کی حکومت تھی۔ یہ اُس بڑھتے ہوئے اِرتداد کا نتیجہ تھا جو سیت کی زندگی کے دوران ہی شروع ہوا تھا، جب بزرگان اور اُن کے لوگوں نے بُت پرستی کے دور میں داخل ہونا شروع کیا تھا، جیسا کہ قدیم ربّیوں نے نشاندہی کی تھی (یہاں پر ’’نوح کے زمانے میں اِرتداد – حصہ اوّل‘‘ پڑھنے کے لیے کلک کریں، جواِس نظریے کے ذرائع پیش کرتے ہیں

نوح کے زمانے کے لوگوں نے خود کو مادیت پرستی کے حوالے کر دیا تھا، اور خُدا کے عدل کی تنبیہات سے اندھے ہو گئے تھے کیونکہ اُنہیں شیطان نے اندھا اور اپنے قابو میں کیا ہوا تھا!

’’لیکن نُوح خداوند کی نظر میں مقبول ہُوا‘‘ (پیدائش 6:8).

ہم اِس کو مذید اور نزدیکی سے یسوع کے بیان کی روشنی میں دیکھیں گے، ’’جیسا نوح کے دِنوں میں ہوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی24:37)

I۔ اوّل، نوح نے ایک مرتد مذھب کے دور میں زندگی بسر کی تھی۔

یہ ہے جہاں پر کلام پاک کا یہ حصّہ ہمارے لیے آج اِس قدر اہم ہو جاتا ہے۔ پیدائش 6:11 میں بائبل کہتی ہے،

’’زمین بھی خدا کی نگاہ میں بگڑ چُکی تھی اور ظلم و تشدّد سے بھری ہُوئی تھی‘‘ (پیدائش 6:11).

یہ بہت زیادہ ہمارے معاشرے کی مانند محسوس ہوتا ہے۔ یہ اِس قدر بُرا ہو چکا ہے کہ پیٹرک جے۔ بیکحنن Patrick J. Buchanan نے اِس کے بارے میں ایک کتاب لکھی جو مغرب کی موت The Death of the West (سینٹ مارٹن کی پریسSt. Martin’s Press ، 2002) کہلاتی ہے۔ حالانکہ میں اُن کے ساتھ ہمیشہ متفق نہیں ہوتا ہوں، وہ عنوان خود ہی کہانی بتاتا ہے – مغرب کی موت!

چند ایک ہی سال پہلے، انجیلی بشارت کے پرچار کے عالم الٰہیات ڈاکٹر کارل ایف۔ ایچ۔ ھنری Dr. Carl F. H. Henry نے عظیم تہذیب کی طلوع سحر: جدید کافریت کی جانب جھونکا Twilight of a Great Civilization: the Drift toward Neo-Paganism (کراسوے کُتب Crossway Books، 1988) کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔ دونوں ہی کہتے ہیں کہ مسیحی بنیاد کھائی جا چکی ہے – اور ہماری قوم میں ایک طاقتور قوت کی حیثیت سے مذید اور وجود نہیں رکھتی ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ جیفریس Dr. Robert Jeffress نے امریکہ کے خاتمہ کے بارے میں طلوع سحر کی آخری کِرن Twilight’s Last Gleaming (وردھی اشاعت خانے Worthy Publishing، 2011) کے نام سے ایک خوفزدہ کر دینے والی کتاب لکھی ہے۔ وہ ٹیکساس کے شہر ڈلاس کے پہلے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر کے پادری ہیں۔ ہر منادی کرنے والے کو اِسے پڑھنا چاہیے۔

یہ کیسے رونما ہوا تھا؟ کیسے امریکہ اور مغربی دُنیا اُس کافریت میں بہہ گئی جس میں آج ہم زندگی بسر کررہے ہیں؟ اِس ہی طرح یہ نوح اور عظیم سیلاب سے پہلے بزرگان کے دور میں رونما ہوا تھا۔ کسی نہ کسی اہم شخصیت نے، غالباً سیت نے خود بت پرستی کو متعارف کروایا تھا۔ اُس وقت سے جھوٹے مذھب نے معاشرے کی بنیاد کو کھوکھلا کر ڈالا، اور شیطان کی قوتوں نے غالبہ پا لیا!

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

میں قائل ہو چکا ہوں کہ گذشتہ دو سو سالوں میں مسیحیت کے خلاف بدترین حملہ چارلس گرینڈیسن فنی Charles Grandison Finney (1792۔1875) کی جانب سے ہوا۔ فنی نے پروٹسٹنٹ علم الٰہیات پر حملہ کیا اُس لمحے سے جب سے وہ بچایا گیا تھا۔ اُس نے تکبر سے بڑائی ظاہر کی کہ اُس کا اپنا علم الٰہیات واحد سچا راستہ تھا، اور کہ اُس سے پہلے کے تمام اصلاح پسند اور تمام عظیم انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے اور مبلغین غلط تھے۔ اُس نے تمام ابتدائی پروٹسٹنٹ عالمین الٰہیات کو اُڑا کر رکھ دیا، اور کہا کہ جو اُنہوں نے لکھا وہ محض صرف ’’الٰہیاتی افسانہ‘‘ تھا (سوانح حیات Autobiography، صفحہ57)۔ اُس نے فضل کے وسیلے سے نجات کو مسترد کیا، اور اصرار کیا کہ ہر کوئی کسی بھی وقت خود اپنی مرضی سے ’’مسیح کے لیے فیصلے‘‘ سے بچایا جا سکتا ہے۔ آئعین ایچ۔ میورے Iain H. Murray نے کہا،

فنی بذات خود بنیاد پرستی کے برعکس خود اپنی منادی اور اُس کے زمانے کی راسخ الاعتقادی کے درمیان دِل کی گہرائیوں سے آگاہ تھا۔ 1835 تک وہ اپنے سُننے والوں کو یہ بتانے کے لیے تیار تھا کہ جو وہ پیش کر رہا تھا وہ لگ بھگ تبدیلی کا ایک نیا علم الٰہیات تھا۔ [فنی نے کہا] ’سچائی یہ ہے کہ اِن سینکڑوں سالوں کے دوران جھوٹے علم الٰہیات کے ذریعے سے مبہم اور بغیر کسی رکاوٹ کے انتہائی کم انجیل دُنیا پر ظاہر ہوئی تھی‘ (آئعین ایچ۔ میورے، حیات نو اور حیات نواِزم: امریکی انجیلی بشارت کے پرچار کا بننا اور بگڑنا1750-1858 Revival and Revivalism: The Making and Marring of American Evangelicalism 1750-1858، دی بینر اور ٹرتھ ٹرسٹ The Banner of Truth Trust، 1995، صفحہ246)۔

یہ ناقابل یقین طور پر ایک متکبر صورت حال ہے۔ اپنے تکبر میں، فنی نے اپنے نظریات کو جاناتھن ایڈورڈز Jonathan Edwards، جارج وائٹ فیلڈ George Whitefield پہلے عظیم بیداری کے تمام رہنماؤں کے نظریات سے بُلند ترین جگہ پر رکھ دیا! کس قدر متکبرانہ تکبر اُس آدمی میں تھا! ڈاکٹر مائیکل ایس۔ ھارٹن Dr. Michael S. Horton نے کہا،

وہ ناصرف امریکی پروٹسٹنٹ اِزم کا ایک دشمن ہے بلکہ تاریخی مسیحیت کا بھی دشمن ہے (مائیکل ایس۔ ھارٹن، پی ایچ۔ ڈی۔، چارلس فنی کی وصیت The Legacy of Charles Finney،‘‘ جدید اصلاح پسند میگزین سے From Modern Reformation Magazine، کمپیوٹر نیٹ پوسٹنگ، یکم اپریل، 1996)۔

فنی دراصل ایک کافرانہ بدعتی تھا، جس نے تعلیم دی تھی کہ مرد اور عورتیں انسانی کوششوں سے نجات پا سکتے ہیں۔ یوں، وہ جدید ’’فیصلہ سازیت Decisionism‘‘ (’’فیصلہ سازیت Decisionism‘‘ کی تعریف پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں) کا مصنف تھا۔

’’فیصلہ سازیت Decisionism‘‘ نے اپنی مختلف اقسام میں پروٹسٹنٹ اِزم کی تمام شاخوں کے ساتھ ساتھ بپتسمہ دینے والوں اور پینتیکوست مشن والوں کے دِل کو بھی چُبا ڈالا ہے۔ یہ لگ بھگ تمام انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والی منادیوں، بشمول پال واشر Paul Washer اور جان میک آرتھر John MacArthur کی ’’نجاتِ خُدائے خُداوند Lordship Salavation‘‘ کے ساتھ ساتھ بلی گراھم Billy Graham اور اُس جیسے تمام دوسروں کی ’’الطار کی بُلاہٹوں altar calls‘‘ میں پائی جاتی ہے۔

یوں، فنی بنیادی طور پر مذبح خانے تک رہنمائی کرنے والی ’’یہوداہ بکری Judas goat‘‘ تھا جس کو شیطان نے مغربی دُنیا میں مسیحیت کی تباہی کے لیے جس کو ہم آج دیکھتے ہیں استعمال کیا، جسے ڈاکٹر کارل ایف۔ ایچ۔ ھنری نے عظیم تہذیب کی طلوع سحر: جدید کافریت کی جانب جھونکا Twilight of a Great Civilization: the Drift toward Neo-Paganism (ibid.) میں یہ کہا۔ ہماری کتاب آج کا اِرتداد: کیسے فیصلہ سازیت ہمارے گرجہ گھروں کو تباہ کر رہی ہے Today’s Apostasy: How Decisionism is Destroying Our Churches پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

II۔ دوئم، نوح فضل کے وسیلے سے بچایا گیا تھا، ناکہ اُس کے اپنے ’’فیصلے‘‘ کی وجہ سے۔

’’لیکن نُوح خداوند کی نظر میں مقبول ہُوا‘‘ (پیدائش 6:8).

آہ، ’’لیکن‘‘! ’’بائبل میں ’’لیکن‘‘ اکثر ایک اچھا لفظ ہے۔ ’’لیکن نوح نے خُداوند کی نظر میں مقبول ہوا۔‘‘ ہر ایک بات غلط ہو رہی تھی۔ دُنیا ایک روحانی ابتری میں پڑی ہوئی تھی۔ وہاں پر کوئی اُمید نہیں تھی۔ ہمارے زمانے کا اِس کے ساتھ موازنہ کریں تو آپ کہہ سکتے ہیں، اگر وہاں پر کالج ہوتے، تو وہاں پر وہ سب ارتقاء پر تعلیم دے رہے ہوتے۔ اگر وہاں پر سیمنریاں ہوتی تو وہ سب آزاد خیالی پر تعلیم دے رہے ہوتے۔ اگر وہاں پر اخبارات ہوتے، تو وہ سب سچائی کی ترمیم کر رہے ہوتے۔ اوہ، جی ہاں! بِن غازی! آئی آر ایس کا سیکینڈل! اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کی انصاف کی رکاوٹ ہوتی۔ اوہ، جی ہاں – اوباما کی حاکمانہ شاہی صدارت ہوتی! اگر وہاں پر مبلغین ہوتے، تو وہ کہہ رہے ہوتے، ’’خُدا مر چکا ہے،‘‘ یا وہ جوئیل آسٹن Joel Osteen کی طرح زہریلی گولیاں دے رہے ہوتے۔ اگر آپ کے دوست ہوتے، تو وہ آپ کے بارے میں پیٹھ پیچھے باتیں کرتے۔ اگر آپ کی شادی ہو چکی ہوتی تو آپ کی بیوی آپ پر باتیں کستی۔ اگر آپ کے بچے ہوتے تو وہ آپ کے ساتھ گندگی کی طرح برتاؤ کرتے، آپ کو ایک ای میل بھیجتے، مگر آپ کو دیکھنے کے لیے کبھی بھی نہ آتے۔ ہر ایک بات غلط تھی! بالکل جیسے اب ہے! بائبل کہتی ہے،

’’زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6:5).

کیسی ابتری! یہ سب کچھ ایک ابتری ہی تھی!

’’لیکن نُوح خداوند کی نظر میں مقبول ہُوا‘‘ (پیدائش 6:8).

غور کریں، یہ کہتی ہے، ’’نوح نے فضل پایا۔‘‘ فضل نوح کو بخشا گیا تھا۔ زمین پر ہر کسی پر بچائے جانے والا فضل نہیں بانٹا گیا تھا۔ کچھ مبلغین کہتے ہیں خُدا تمام دُنیا پر بچائے جانا والا فضل نچھاور کرتا ہے۔ تو پھر کیوں نہیں ہر کوئی دُنیا میں بچایا جاتا؟ میں اِس کو مکمل طور پر نہیں سمجھ پاتا – مگر میں جانتا ہوں کہ خُداوند کا فضل کچھ لوگوں کو بدل ڈالتا ہے۔ اِس کے باوجود دوسرے لوگ غلط سوچوں میں اور غلط طرزِ زندگی گزارنا جاری رکھتے ہیں۔ وہ کہہ سکتے ہیں، ’’خُداوند کی ستائش ہو!‘‘ مگر اُن میں کوئی زندگی نہیں ہوتی ہے، کوئی اخلاقی قوت نہیں ہوتی، مویشیوں کے ریوڑ میں سے نکالنے اور اُنہیں مختلف بنانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا – اُن کے باطن میں اُنہیں حقیقی مسیحی بنانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا!

میں آپ کو بتاتا ہوں – نوح مختلف تھا۔ اِس زمین پر اُس جیسا کوئی دوسرا نہیں تھا! کیوں؟ کیونکہ خُدا اُس کا نام جانتا تھا، اور خُدا نے اُس کو فضل کے وسیلے سے بُلایا تھا! یہ وجہ ہے! ’’لیکن نوح خُداوند کی نظر میں مقبول ہوا۔‘‘

بعد میں خدا نے موسیٰ سے کہا، ’’تو نے میری نظر میں مقبولیت پائی، اور میں تجھے نام سے جانتا ہوں‘‘ (خروج33:17)۔ خُدا نے فضل کو ’’جادوئی مٹی pixie dust‘‘ کی مانند اِدھر اُدھر نہیں پھینکا تھا جب موسیٰ وہاں باہر بیابان میں تھا! جی نہیں! خُدا اُس آدمی کو نام سے جانتا تھا۔ اور خُدا نے اُس آدمی کو فضل بخشا تھا! اور بالکل ایسا ہی نوح کے ساتھ بھی ہوا تھا!

اِس تصور کو ذہن میں مت لائیں کہ نوح نے خُداوند کا فضل پایا تھا کیونکہ وہ نیک تھا۔ نوح بالکل بھی ایک کامل انسان نہیں تھا۔ اُس نے خُداوند کا فضل ’’کمایا‘‘ نہیں تھا! یہ وجہ نہیں تھی کہ اُس نے خُداوند کا فضل پایا تھا۔ دُنیا کی تخلیق سے پہلے ہی خُدا نے نوح کو چُن لیا تھا۔ یہ ایک معما ہے، جو کہ قادر مطلق خُدا کے ذہن میں موجود تھا۔ خُدا نے نوح کو آزاد اور خود مختیار فضل کے ذریعے سے چُنا تھا۔ نوح نیک تھا کیونکہ خُدا نے اُسے چُنا تھا۔ اگر خُدا نے اُس کو چُنا نہ ہوتا، تو وہ بھی اتنا ہی کھویا ہوا ہوتا جتنے کے باقی سارے تھے۔

ایک عظیم پرانا حمد و ثنا کا گیت اِس سب کچھ کو کہتا ہے،

کیونکہ تیرے فضل کے لیے
   دعویٰ کرنے کے لیے میرے پاس کچھ اچھا نہیں؛
میں اپنے لبادے کو کلوری کے
   برّے کے خون میں دھو کر سفید کر لوں گا۔
یسوع نے اِس تمام کی قیمت چکائی،
   اُسی کا میں مکمل مقروض ہوں؛
گناہ نے ایک سُرخ مائل دھبہ چھوڑا تھا،
   اُس نے اُسے برف کی مانند سفید کر دیا ہے۔
(’’یسوع نے اِس تمام کی قیمت چکائی Jesus Paid It All‘‘ شاعرہ ایلوینہ ایم۔ ھال
      Elvina M. Hall، 1820۔1889)۔

اور جان نیوٹن John Newton نے کہا،

’’حیرت انگیز فضل! کس قدر میٹھی وہ آواز
   جس نے مجھ جیسے تباہ حال کو بچایا۔‘‘

جی ہاں! یہ ’’حیرت انگیز فضل‘‘ ہے! جب آپ اپنی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں اور بالا آخر پاتے ہیں کہ آپ ایک حقیقی مسیحی ہیں – تو یہ واقعی میں حیرت انگیز ہوتا ہے! میں کبھی کبھار اِس کے بارے میں سوچتا ہوں۔ میں اُن تمام بچوں کے بارے میں سوچتا ہوں جن کے ساتھ میں ہائی سکول میں پڑھتا تھا۔ اور میں اُن تمام نوجوان لوگوں کے بارے میں سوچتا ہوں جن کے ساتھ میں ہونٹینگٹن پارک Huntington Park میں گرجہ گھر گیا تھا۔ اُن کے میرے سے کئی گُنا بہتر خاندان تھے۔ اُن کے بہت بہتر گھر تھے، بہت شاندار کپڑے تھے، اعلٰی گاڑیاں تھی، ہر ایک بات بہترین تھی! اور اِس کے باوجود میں یہاں اِس شام کو آپ کو تبلیغ کر رہا ہوں!

جب میں اُن کے بارے میں سوچتا ہوں تو بہت دُکھ محسوس کرتا ہوں۔ وہ ’’دراڑوں میں سے پھسل‘‘ جاتےتھے۔ اُن کی زندگیوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ میری بالکل ابھی شروع ہوئی ہے! میں اِس کی وضاحت نہیں کر سکتا۔ میں نہیں جانتا کہ کیوں خُداوند نے مجھے چُنا ہے! لیکن اُس نے چُنا ہے۔ اور میں یہاں ہوں! میں ایک تباہ حال ہوں جو خُداوند کے خُود مختیار فضل کی وجہ سے بچایا گیا تھا!

اور میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ میرے پاس شیخی مارنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے – ایک بھی چیز نہیں ہے! میں اِس لیے نہیں بچایا گیا کیونکہ میں نے ایک فیصلہ لیا تھا! کیا آپ مذاق کر رہے ہیں؟ میں نے پچاس سے زیادہ ’’فیصلے‘‘ کیے اور ایک سو ’’دوبارہ وابستگیاں‘‘ کی اور میں پھر بھی کھویا ہوا تھا! میں نہیں جانتا کہ میں کیسے کبھی بچایا گیا تھا۔ مگر میں جانتا ہوں کہ میرا اِس سب کے ساتھ کچھ بھی تعلق نہیں ہے! میں نے گناہ سے بھرپور اور سڑا ہوا محسوس کیا۔ خُدا نے اُس طرح سے مجھے محسوس کروایا۔ پھر یسوع آیا، اور اُس نے مجھے بچا لیا! اُس نے مجھے اپنے خون سے پاک صاف کر دیا۔ میرے پاس ایسا ہونے کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔ میں فضل کے وسیلے سے بچایا گیا تھا!!! اور یہ ’’اعمال کا پھل نہیں کہ کوئی فخر کر سکے‘‘ (افسیوں2:9)۔

’’لیکن نُوح خداوند کی نظر میں مقبول ہُوا‘‘ (پیدائش 6:8).

یہ کیسے ہوا؟ نوح کے کردار میں ایسا کیا تھا جو اُس کو فضل پانے کے قابل بنایا؟ کچھ بھی نہیں تھا! بالکل بھی کچھ نہیں تھا! اُس کا باپ لمک تھا۔ لمک کی بہت سے دوسرے بیٹے اور بیٹیاں تھیں (پیدائش5:30)۔ مگر وہ سب کے سب سیلاب میں بہہ گئے تھے۔ جی ہاں، نوح کے تمام بھائی اور بہنیں سیلاب میں ڈوب گئے تھے! کیوں نوح ہی واحد شخص تھا جو اپنے خاندان میں بچایا گیا تھا؟ سادہ سی بات ہے، اُس نے فضل پایا تھا اور اُنہوں نے نہیں پایا تھا! ’’لیکن نوح نے فضل پایا…‘‘ یہ ہی جواب ہے! نوح فضل کے وسیلے سے بچایا گیا تھا، اور باقی تمام فضل کے وسیلے سے نہیں بچائے گئے تھے! نوح وہ تنہا تھا جس کو خُدا نے بچانے کے لیے چُنا تھا، اور اُن لوگوں کو اُس نے بچانے کے لیے نہیں چُنا! یہ انتہائی حیرت انگیز ہے! یہی وجہ تھی کہ نیوٹن نے کہا،

حیرت انگیز فضل! کس قدر میٹھی وہ آواز
   جس نے مجھ جیسے تباہ حال کو بچایا۔

پیدائش5:30 کو سُنیئے۔

’’نُوح کی پیدائش کے بعد لمک پانچ سو پچانوے برس جیتا رہا اور اُس کے ہاں اور بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہُوئیں‘‘ (پیدائش 5:30).

لمک نوح کا باپ تھا۔ اُس کے بہت سے بیٹے اور بیٹیاں تھیں۔ وہ سب کے سب سیلاب میں ڈوب گئے۔ ’’مگر نوح خُداوند کی نظر میں مقبول ٹھہرا‘‘ (پیدائش6:8)۔ آپ میں سے کچھ کی بہنیں اور بھائی ہیں جو کھوئے ہوئے ہیں۔ آپ بچائے گئے ہیں – مگر وہ کھوئے ہوئے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ خُدا کا فضل۔ خُدا کے فضل نے آپ کو بچایا ہے، مگر اُس کے فضل نے اُنہیں نہیں بچایا ہے۔ کیوں؟ یہ ایک معما ہے – چُننے کا معما۔ آپ خُدا کے چُنیدہ میں سے ایک ہیں – اور وہ نہیں ہیں۔ ’’حیرت انگیز فضل! کس قدر میٹھی وہ آواز، جس نے مجھ جیسے تباہ حال کو بچایا!‘‘

III۔ سوئم، نوح کا دِل خُداوند کے فضل کے وسیلے سے تبدیل ہوا تھا۔

خُداوند کے فضل نے اُسے خوفزدہ کر دیا تھا! بائبل کہتی ہے کہ نوح ’’خوف سے بدل گیا‘‘ (عبرانیوں11:7)۔ یہ پہلی بات ہے جو فضل آپ کی زندگی میں کرتا ہے اگر آپ چُنیدہ لوگوں میں سے ایک ہیں۔ وہ آپ کے دِل میں خُوف پیدا کرتا ہے اگر آپ چُنیدہ لوگوں میں سے ایک ہیں۔ بائبل کہتی ہے، ’’جب وہ آ جائے گا تو گناہ کی دُنیا کو مجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا16:8)۔ لوتھر Luther نے خُدا کی شریعت سے گنہگاروں کے ’’خوفزدہ‘‘ ہو جانے کے بارے میں بات کی تھی۔ میرے خیال میں وہ درست تھا! بائبل کہتی ہے،

’’خدا کا خوف علم کی ابتدا ہے‘‘ (امثال 1:7).

جدید تبصرہ نگار عام طور پر اِس بات کو ہوا میں اُڑا دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ خوف کرنے کے بجائے ’’احترام یا لحاظ‘‘ کرنا ہے۔ مگر یہ اچھا ہے کہ بائبل تبصروں پر روشنی ڈالتی ہے جب وہ کہتی ہے،

’’تیرے خوف سے میرا جسم کانپتا ہے؛ اور میں تیرے فیصلوں سے ڈرتا ہُوں‘‘ (زبُور 119:120).

پرانے پیوریٹنز اور لوتھر کے منافق نیک لوگ جان نیوٹن کے ساتھ کہتے ہیں،

یہ فضل تھا جس نے میرے دِل کو خوف کرنا سیکھایا،
   اور فضل نے ہی میرے خوفوں کی شدت کو دور کیا۔

سزایابی اور خوف ہیں جو جدید فیصلہ سازیت میں ناپید ہیں۔ درحقیقت، گناہ کے تحت سزایابی کے بغیر اور خُدا کے خوف کے بغیر آپ خود بخود ہی ایک ’’فیصلہ سازdecisionist‘‘ بن جاتے ہیں۔‘‘ انسان طبیعتاً ایک ’’فیصلہ ساز‘‘ ہے۔ خُدا کے خوف اور گناہ کے تحت سزایابی کے بغیر آپ قدرتی طور پر ’’فیصلہ سازیت‘‘ کی جانب رُخ موڑ لیں گے۔ قائِن ایک فیصلہ ساز تھا۔ نوح کے دِنوں میں لوگ فیصلہ ساز تھے۔ ندب اور ابیہو اپنی ’’فیصلہ سازیت‘‘ کی وجہ سے خُدا کی آگ میں جل گئے تھے۔ یہوداہ فیصلہ ساز تھا! وہ تمام کے تمام جہنم میں گئے تھے۔ ہم لوگوں کو کہتے ہوئے سُنتے ہیں، ’’میں یسوع کے پاس کیسے آؤں؟ میں اُس کے پاس کیسے آؤں؟ ہم اُنہیں بتاتے ہیں کہ اُنہیں کیسے جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ پریشان اور تذبذب کا شکار دکھائی دیتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ اور اگلی مرتبہ ہم اُنہیں دیکھتے ہیں تو وہ یہی بات کہتے ہیں – ’’میں کیسے اُس کے پاس آؤں؟‘‘ اور وہ ایسا کرنا جاری رکھتے ہیں اور جاری رکھتے ہیں – جب تک کہ خُدا کا روح اُن کے دِلوں میں خُدا کا خوف نہیں بیٹھا دیتا، اور اُنہیں گناہ کی سزایابی کے تحت نہیں لے آتا۔

یہ محض ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سیکھنے اور ناکام ہونے کا دور ہوتا ہے – سیکھنے اور ناکام ہونے کا دور – سیکھنے اور ناکام ہونے کا دور – جب تک کہ خُدا کا روح آپ کو دھشت زدہ نہیں کرتا اور آپ کو گناہ کی سزایابی کے تحت نہیں لاتا۔ صرف جب آپ گہرائی کے ساتھ اپنے دِل کی گناہ کی سزایابی کے تحت آتے ہیں – صرف جب آپ خُدا سے خوفزدہ ہوتے ہیں – صرف تب ہی آپ سچائی کے ساتھ مسیح کو چاہیں گے۔ جب آپ واقعی میں اُس یسوع کو چاہیں گے تو اُس کے پاس خُدا کے فضل کے وسیلے سے آنا آسان ہو جاتا ہے۔ مگر اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کیا کہتے ہیں، جب تک کہ آپ خدا سے خوفزدہ نہیں ہوتے، اور اپنے گناہ سے گہرائی کے ساتھ پریشان نہیں ہوتے – تو آپ واقعی میں یسوع کو نہیں چاہیں گے۔ آپ صرف کہتے ہیں کہ آپ اُس کو چاہتے ہیں۔ آپ سالوں ایسے ہی جاری رہ سکتے ہیں، پہیے پر ایک چوہے کی مانند بھاگتے ہوئے جو اپنے پنجرے میں ہوتا ہے، جب تک کہ خُدا آپ کو نہیں جھنجھوڑتا اُس سے خوف کھانے اور اپنے گناہ سے نفرت کرنے کے لیے آپ کو بیدار نہیں کرتا۔

’’لیکن نُوح خداوند کی نظر میں مقبول ہُوا‘‘ (پیدائش 6:8).

اِس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ نوح کے لیے کشتی میں آنا اِس قدر آسان تھا۔ وہ سیلاب سے دھشت زدہ تھا! اور آپ مسیح کے پاس نہایت آسانی سے آ جائیں گے جب آپ اپنے دِل میں گناہ سے کراھت کرتے ہیں اور آنے والے فیصلے سے دھشت زدہ ہوتے ہیں – لیکن اُس سے پہلے نہیں! آپ اپنے لیے صلیب پر یسوع کی اہمیت کو نہیں دیکھ پائیں گے، جس نے آپ کے گناہ کے لیے کفارہ ادا کیا، جب تک کہ آپ اپنے دِل کے گناہ اور زندگی سے کراھت نہیں کرتے! اوہ، خُدا کرے کہ آپ ابھی یسوع پر بھروسہ کریں! یسوع آپ کو بچانے کے لیے تیار ہے! یسوع آپ کو بچانا چاہتا ہے! شک کرنا چھوڑ دیں! اُس کے پاس کیسے آنا ہے اِس کے ’’حل کو تلاش کرنے‘‘ کی کوشش چھوڑ دیں! خود کو یسوع کے حوالے کر دیں اور وہ فوراً آپ کے گناہوں کو اپنے خون کے ساتھ دھو ڈالے گا! کاش آپ یسوع سے کہہ پائیں،

خُداوندا! میں آ رہا ہوں! میں ابھی تیرے پاس آ رہا ہوں!
   مجھے دُھو ڈال، مجھے خون میں پاک صاف کر ڈال جو کلوری پر بہا تھا۔
(’’اے خُداوند میں آ رہا ہوں I Am Coming, Lord، شاعر لوئیس ہارٹسو
      Lewis Hartsough ، 1828۔1919)

یسوع آپ کو بالکل ابھی پاک صاف کرنے کے لیے تیار ہے!

آؤ اے گنہگاروں، غریب اور خستہ حال، کمزور اور زخمی، بیمار اور دُکھی،
   یسوع تمہیں بچانے کے لیے تیار کھڑا ہے، ہمدرردی، محبت اور قوت سے بھرپور؛
وہ لائق ہے، وہ لائق ہے، وہ رضامند ہے، مذید اور شک مت کرو!
   وہ لائق ہے، وہ لائق ہے، وہ رضامند ہے، مذید اور شک مت کرو!
(’’آؤ، اے گنہگاروںCome, Ye Sinners ‘‘ شاعر جوزف ہارٹ Joseph Hart ، 1712۔1768)

اگر آپ اِس کے بارے میں ہمارے ساتھ بات کرنا چاہیں تو ابھی اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک اور کمرے میں لے جائیں گے جہاں پر ہم بات کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا مانگیں کہ آج شب کوئی نہ کوئی یسوع پر بھروسہ کرے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: پیدائش6:1۔8 ۔

لُبِ لُباب

مگر نوح نے فضل پایا – حصہ دوئم

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 83)
BUT NOAH FOUND GRACE – PART II
(SERMON #83 ON THE BOOK OF GENESIS)

ڈاکٹر آر۔ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’لیکن نُوح خداوند کی نظر میں مقبول ہُوا‘‘ (پیدائش 6:8).

(پیدائش4:26؛ 6:5؛ متی24:37۔39)

I. اوّل، نوح نے ایک مرتد مذھب کے دور میں زندگی بسر کی تھی، پیدائش6:11؛ متی24:37 .

II. دوئم، نوح فضل کے وسیلے سے بچایا گیا تھا، ناکہ اُس کے اپنے ’’فیصلے‘‘ کی وجہ سے، پیدائش6:5؛ خروج33:17؛ افسیوں2:9؛ پیدائش5:30 .

III. سوئم، نوح کا دِل خُداوند کے فضل کے وسیلے سے تبدیل ہوا تھا، عبرانیوں11:7؛ یوحنا16:8؛ اِمثال 1:7؛ زبور 119:120 .