Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

نوح کے دِنوں میں اِرتداد – حصّہ دوئم

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 80)
APOSTASY IN THE DAYS OF NOAH – PART II
(SERMON # 80 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ خُداوند کے دِن کی شام، 25مئی، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, May 25, 2014

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

گذشتہ اِتوار کی شب میں نے ’’نوح کے دِنوں میں اِرتداد – حصّہ اوّل نوح کے دِنوں میں اِرتداد –حصّہ اوّل “Apostasy in the Days of Noah – Part I” (click here to read it) پر بات کی تھی۔ یہ اِس قدر اہم موضوع ہے کہ میں سوچتا ہوں ہمیں آج کی رات اِس پر سوچنے کے لیے مذید اور وقت صرف کرنے کی ضرورت ہے۔

ہماری تلاوت میں یسوع نے کہا کہ اُس کی دوسری آمد کا زمانہ ’’نوح کے دِنوں‘‘ کے جیسا ہوگا۔ ایک مبلغ نے مجھے بتایا کہ یہ صرف اِس حقیقت کی جانب حوالہ دیتا ہے کہ نوح کے زمانے میں لوگ تیار نہیں تھے۔ مگر میں قائل ہوں کہ یہ انتہائی سرسری ہوگا۔ یہ نظریہ واضح نہیں کرتا کہ کیوں وہ تیار نہیں تھے۔ یاد رکھیں کہ یہ پیشن گوئی ایک اہم پیشن گوئی ہے۔ یہ متی 24:37۔39 میں ظاہر ہوئی، اور لوقا17:26۔27 میں، اور اس کے علاوہ 2پطرس2:1۔9 میں انبیانہ پیغام میں، جہاں نوح ’’راستبازی کے مبلغ‘‘ (آیت 5) کا موازنہ آخری ایام کے ’’جھوٹے اُستادوں‘‘ کے ساتھ کیا گیا ہے (آیت 1)۔

اِس لیے میں یقین کرتا ہوں کہ وہ زمانہ جس میں نوح نے زندگی گزاری وہ اِس موجود زمانے کے آخری دِنوں کی ایک اہم تصویر ہے۔ متی کے چوبیسویں باب میں شاگردوں نے یسوع سے اِس زمانے کے خاتمہ اور مسیح کی دوسری آمد کے نشان کا پوچھا۔ اُس نے اُن کی ملامت نہیں کی۔ اس کے بجائے، اُس نے اُنہیں آخری ایام کی بے شمار نشانیاں بتائیں۔ مسیح نے اُنہیں بتایا کہ کوئی بھی اُس کی دوسری آمد کے ’’دِن اور لمحے‘‘ کے بارے میں نہیں جانتا۔ مگر اُس نے اُنہیں عام زمانے کی بے شمار نشانیاں پیش کیں، اور پھر اُس نے ایک بہت بڑی نشانی پیش کی۔ بے شک وہ ’’دِن اور لمحہ‘‘ نہیں جانتے ہونگے، وہ زمانہ کا اندازہ جانتے ہونگے۔ یسوع نے کہا،

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحان Dr. M. R. DeHaan نے کہا،

     سیلاب سے پہلے کے دِنوں کے اندراج کا مطالعہ کریں، یسوع کہتا ہے، اگر تمہیں اپنے سوال کا جواب چاہیے، کہ یہ نشانیاں کب رونما ہونگی؟ اور میری آمد کا نشان کیا ہوگا؟ جب سیلاب سے پہلے کے حالات دھرائے جائیں گے، تب تم جان سکو گے کہ یہ قریب ہے، جی ہاں، بالکل آپ کے دروازے پر (ایم۔ آر۔ ڈیحان، ایم۔ ڈی۔ M. R. DeHaan, M.D.، نوح کے دِن The Days of Noah، ژونڈروان پبلیشنگ ہاؤس Zondervan Publishing House، 1963، صفحہ28)۔

ڈاکٹر جان میک آرتھرDr. John MacArthur نے ڈاکٹر ڈیحان کی تصویر کشی بُری روشنی میں کی، خصوصی طور پر اس لیے کیونکہ ڈاکٹر ڈیحان نے مسیح کے خون کے محفوظ ہونے پر شدید اصرار کیا تھا۔ مگر ڈاکٹر ڈیحان دراصل ایک انتہائی محتاط بائبل کے عالم تھے۔ جب وہ 1965 میں فوت ہوئے، بلی گراھم نے یہ نوٹ ڈاکٹر ڈیحان کے بیٹے کو لکھا،

مجھے ابھی ابھی پتا چلا کہ آپ کے پیارے والد کو گھر بُلا لیا گیا ہے۔ میں کئی سالوں تک تقریباً ہر اِتوار کو [ریڈیو پر] اُنہیں سُن چکا ہوں۔ میرے بائبل کے شعور کی ایک بہت بڑا حصہ اُس کی تعلیمات سے آتا ہے... (بلی گراہم کا رچرڈ ڈیحان کو خط، ڈاکٹر ڈیحان کی کتاب پیدائش میں مسیح کی تصویر کشی Portraits of Christ in Genesis، کے کور پر، ژونڈروان پبلیشنگ ہاؤسZondervan Publishing House ، 1966)۔

اِس نوٹ کو پڑھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ مسیح کی دوسری آمد پر بلی گراھم کے واعظ اکثر کئی جگہوں پر یوں لگتے تھے جیسے یہ اِس موضوع پر ڈاکٹر ڈیحان کے عظیم کُتب میں سے براہ راست لیے گئے ہوں۔ اور ڈاکٹر ڈیحان نے کہا، ’’جب عظیم سیلاب سے پہلے کے حالات دھرائے جاتے ہیں، تب آپ جان سکتے ہیں کہ [مسیح کی دوسری آمد اور اِس زمانے کا خاتمہ] نزدیک ہیں، جی ہاں، بالکل آپ کے دروازے پر۔‘‘

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

میں آپ کو ہمارے زمانے اور نوح کے زمانے کے درمیان وہ تمام مماثلتیں تو پیش نہیں کر سکتا جو کہ ڈاکٹر ڈیحان نے پیش کیں، مگر میں اُن میں سے آج کی شب تین آپ کے سامنے پیش کر سکتا ہوں۔ پہلا نقطہ گذشتہ اِتوار کی شب میرے واعظ ’’نوح کے زمانے میں اِرتداد Apostasy in the Days of Noah‘‘ کی مختصر کی ہوئی ذرا سے تبدیل شُدہ نقل سے ہے۔

I. اوّل، یہ بڑھتے ہوئے اِرتداد کا ایک زمانہ تھا۔

مہربانی سے میرے ساتھ پیدائش4:26 کھولیں۔ کھڑے ہو جائیں اور اِس کو باآوازِ بُلند پڑھیں،

’’سیت کے ہاں بھی ایک بیٹا پیدا ہُوا اور اُس نے اُس کا نام انوس رکھا۔ اُس وقت سے لوگ یہوداہ کا نام لے کر دعا کرنے لگے‘‘ (پیدائش 4:26).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

سیت آدم کا تیسرا بیٹا تھا۔ انوس آدم کا پوتا تھا۔ مگر کیا پیدائش4:26 واقعی میں ہمیں بتاتی ہے کہ لوگوں نے صرف سیت کے زمانے میں خُداوند کو نام لے کر پکارنا شروع کیا تھا؟ میں نے ہمیشہ اُس بارے میں سوچا کہ یہاں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے۔ کنگ جیمس بائبل کا مرکزی حاشیہ ظاہر کرتا ہے کہ کنگ جیمس بائبل کے نسخے کے ترجمان جانتے تھے کہ عبرانی الفاظ کے ترجمے سے تعلق رکھتے ہوئے یہاں کچھ نہ کچھ اُلجھاؤ ہے، کیونکہ حاشیے میں، اُنہوں نے متبادل حوالہ لکھا تھا، ’’خود کو یہوواہ کے نام سے پکارتے تھے۔‘‘

قدیم ربّیوں نے اُس آیت کا ترجمہ ایسے کیا، ’’اُس وقت سے لوگوں نے اپنے خُداؤں کو خُداوند کے نام سے پکارنا شروع کیا۔‘‘ قدیم مسیحی عالم جیروم نے کہا یہ پانچویں صدی بعد از مسیح اور اُس سے پہلے کے ربّیوں کی رائے تھے۔ ’’قدیم یہودی تبصرہ نگاروں کی اکثریت نے ’’اُن کے خُداؤں‘‘ کے الفاظ فراہم کیے، جو یہ تجویز دیتے ہیں کہ وہ ستاروں اور بتوں کو اُن کے خُدا پکارتے تھے، اور اُن کی پرستش کرتے تھے... ٹارگم کے جوناتھنThe Targum of Jonathan کہتے ہیں، ’یہ وہ نسل تھی جس کے دِنوں میں اُنہوں نے غلطی کا آغاز کیا، اور خود کے لیے بتوں کو بنایا، اور اپنے بتوں کے ناموں کو خُداوند کے کلام کے نام سے پکارنے لگے‘... راشی Rashi کہتے ہیں، ’پھر خُداوند کے نام کو پکارنے میں ایک [بگاڑ] ہوا تھا‘‘‘ (ضمیمہ 21، کمپینیئن بائبل The Companion Bible)۔ لوتھر Luther نے اُن قدیم ربّیوں کے بارے میں کہا، ’’وہ سوچتے کہ اُس وقت تک یہوواہ کا نام مخلوقات کو دیا جانا شروع ہو گیا تھا، سورج، چاند وغیرہ کے لیے۔‘‘

تاہم، اُن اصلاح پرستوں نے اِس کا مطلب یہ لیا کہ سیت کا خاندان خُدائی تھا اور خُداوند کے نام کو پکارتا تھا۔ ڈاکٹر جان گِل Dr. John Gill نے غور کیا کہ یہ قدیم ربّیوں کے دیے گئے الفاظ سے ’’ایک انتہائی مختلف سمجھ و فہم‘‘ تھی۔ میں یقین کرتا ہوں کہ اصلاح پرست اُلجھ گئے تھے، یہ سوچنے سے کہ پیدائش پانچ باب میں بزرگان سیت کی ’’خدائی نسل‘‘ سے کہلائے جاتے تھے۔ میں نے سالوں تک تعجب کیا کہ یہ اصطلاح ’’سیت کی خُدائی نسل‘‘ کہا سے وجود میں آئی۔ میں اب یقین کرتا ہوں کہ یہ ’’عہد کے علم الہٰیات covenant theology‘‘ کے مذھبی سُدھار کے عقیدے سے آیا تھا، جو کہ بائبل معاہدوں کے انتظام کو دیکھتا ہے جس میں خاندان سے متعلق اصول، اداروں کی شمولیت یا ’نسلی تسلسل‘ شامل ہیں‘‘ (عہد کے علم الہٰیات پرتھیوپیڈیا کا آرٹیکل)۔

میں خود کو نجات کے موضوع پر ایک اصلاح شُدہ شخص سمجھتا ہوں، مگر یقینی طور پر ’’نسلی تسلسل‘‘ پر نہیں! یہاں ایسی کوئی بات نہیں ہے جیسی کہ پیدائش پانچ باب میں نسلی طور پر ’’خُدائی نسل۔‘‘ جی ہاں، ایک نسل تھی جو سیت سے تھی، مگر اُن کو پیدائش پانچ باب میں ’’خُدائی نسل‘‘ سے بیان نہیں کیا گیا۔ اُن الفاظ کو کبھی بھی بائبل میں اُنہیں بیان کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔

پیدائش کے پانچ باب میں جو آپ کے پاس ہے وہ قدیم ربّیوں کے ذریعے سے بُت پرستی کی دلدل میں نیچے کی جانب جاتے ہوئے بھنور کے طور پر اور تمام نسل کے بڑھتے ہوئے اِرتداد جس میں سیت کی آل اولاد بھی شامل ہے اُن کوبیان کیا گیا تھا – بالاآخر بائبل کہتی ہے،

’’خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6:5).

’’اور خداوند نے کہا، میں انسان کو جسے میں نے پیدا کیا رُوئے زمین پر سے مِٹا دُونگا‘‘ (پیدائش 6:7).

اور یسوع نے کہا،

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

یہ ظاہر کرنا کافی آسان ہے کہ نیا عہد نامہ تعلیم دیتا ہے کہ اِس زمانے کا خاتمہ گہرے اِرتداد میں گرے زیادہ تر اقراری مسیحیوں کے ساتھ ہوگا۔

’’جس طرح بنی اِسرائیل میں جُھوٹے نبی موجود تھے اُسی طرح تُم میں جھوٹے اُستاد اُٹھ کھڑے ہوں گے جو چوری چھُپے ہلاک کرنے والی بدعتیں شروع کریں گے اور اُس مالک کا بھی اِنکار کردیں گے جس نے اُنہیں قیمت دے کر چھُڑایا ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو جلد ہی ہلاکت میں ڈالیں گے‘‘ (2۔پطرس2:1).

’’[خُدا نے] پرانے زمانے کے لوگوں کو بھی نہ چھوڑا بلکہ بے دینوں کی زمین پر طوفان بھیج کر صرف راستبازی کی منادی کرنے والے نُوح کو اور سات دیگر اشخاص کو بچا لیا‘‘ (2۔ پطرس 2:5).

’’مگر یہ [جھوٹے اُستاد] اُن جنگلی جانوروں کی مانند ہیں جو شکار کیے جانے اور ہلاک ہونے کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور جن باتوں کو سمجھتے نہیں اُن پر بھی لعنت بھیجتے ہیں۔ یہ لوگ جانوروں کی طرح خود اپنی بدکاری میں ہلاک ہوجائیں گے‘‘ (2۔ پطرس 2:12).

’’سب سے پہلے تمہیں یہ جان لینا چاہیے کہ آخری دِنوں میں ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی گزاریں گے اور تمہاری ہنسی اُڑائیں گے‘‘ (2۔ پطرس 3:3).

’’وہ سچائی کی طرف سے کان بند کرلیں گے اور کہانیوں کی طرف توجہ دینے لگیں گے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 4:4).

’’آخری زمانہ میں بُرے دِن آئیں گے لوگ خُود غرض ... ناپاک اور وہ دینداروں کی سی وضع تو رکھیں گے لیکن زندگی میں دینداری کا کوئی اثر قبول نہیں کریں گے۔ ایسوں سے دُور ہی رہنا‘‘ (2۔ تیموتاؤس 3:1،2،5).

یہ بائبل کی وہ آیات ہیں جو ’’آخری آیام‘‘ میں ارتداد کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ اور ہارورڈ کے ماہر عمرانیات مشہور زمانہ پیٹیرم سوروکِن Pitirim Sorokin (1889۔1968) نے اپنی کتاب ہمارے زمانے کے بحران The Crisis of Our Age میں کہا، ’’امن، تحفظ اور بچاؤ معدوم ہو چکے ہیں... آزادی محض ایک طلسماتی کہانی ہے۔ مغربی تہذیب اندھیرے کی چادر سے ملفوف ہے۔ تمام کی تمام نوع انسانی پر ایک بہت بڑے طوفانی گردباد پِھر چکا ہے۔‘‘ پیٹرک جے۔ بکحنن Patrick J. Buchanan تین صدروں کے لیے ذاتی صدر تھے۔ مسٹر بکحنن نے مغرب کی موت The Death of The West کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے اور ایک اور کتاب عظیم طاقت کی خود کشی Suicide of a Superpower کے عنوان سے لکھی۔ اتنی ہی ابتدا میں جتنا کہ 1950 کی دہائی تھی سر ونسٹن چرچل نے کہا، ’’ہمارے مسائل ہم سے بہت بڑھ کر ہیں۔‘‘ چرچل نے اکثر پیشن گوئیاں کیں جو بعد میں پوری ہوئیں۔

میں اِس پر بہت سا وقت صرف کر چکا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ نوجوان لوگ شاید تعجب کریں، جیسا کہ میں نے کیا تھا کہ کیسے اِس قدر زیادہ گرجہ گھر اتنے ہی بُرے ہو سکتے ہیں جتنے کہ آج ہیں۔ میرے چینی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں شمولیت سے پہلے، میں ایک بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر کا رُکن تھا جو اِس قدر بُرا تھا کہ اُس نے مجھے اصل میں سوچنے پر مجبور کر دیا، ’’یہ سچا مذھب نہیں ہو سکتا! یہ کیسے سچا ہو سکتا ہے؟‘‘ آج آپ کاہن اور مبلغین کو دیکھتے ہیں جو جنسی زناکاری، پیسوں کی چوری، اور جھوٹے عقائد کی منادی کرنے میں ملوث ہوتے ہیں۔ آپ جیری فالویلزJerry Falwell کی لبرٹی یونیورسٹیLiberty University جیسے سکول دیکھتے ہیں جو گلین بیک Glenn Beck جیسے مورمن کو اپنے اجلاس میں بولنے کے لیے مدعو کرتے ہیں۔ آپ ایک ایپیسکوپل Episcopal اسقف کی شادی کا سُنتے ہیں اور پھر ایک دوسرے آدمی کے ساتھ اُس کی طلاق کے بارے میں سُنتے ہیں۔ اور آپ شاید ایسا محسوس کریں جیسا کہ میں نے کیا تھا، ’’غلطی کیا ہے؟‘‘

پریشان مت ہوں۔ ہم آخری ایام کے اِرتداد میں داخل ہو چکے ہیں! فکر مند مت ہوں۔ صرف یہیں اپنے مقامی گرجہ گھر میں ٹکے رہیں جب تک کہ اِرتداد کا یہ طوفان گزر نہیں جاتا!

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

II۔ دوئم، یہ عام بےاعتقادی کا زمانہ تھا۔

پولوس رسول نے کہا،

’’آخری دِنوں میں ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی گزاریں گے اور تمہاری ہنسی اُڑائیں گے اور کہیں گے کہ مسیح کے آنے کا وعدہ کہاں گیا؟" (2۔ پطرس 3:3،4).

بائبل تعلیم دیتی ہے کہ مسیح دوبارہ بادلوں میں سے زمین پراپنی بادشاہت قائم کرنے کے لیے آ رہا ہے۔ مگر پولوس رسول کہتا ہے کہ آخری ایام میں لوگ ہنسی اُڑائیں اور اِس تصور کا مذاق اُڑائیں گے کہ وہ خود اپنی ہی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی بسر کریں گے اور مسیح کے آنے اور دُنیا کے عدل کا انکار کریں گے۔

کیا بالکل اِسی طرح سے نوح کے دِنوں میں نہیں ہوا تھا؟ مسیح نے کہا،

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا کیونکہ طوفان سے پہلے کے دِنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور شادی بیاہ کرتے کراتے تھے۔ نُوح کے کشتی میں داخل ہونے کے دِن تک یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ اُنہیں خبر تک نہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا۔ اِبن آدم کی آمد بھی ایسی ہی ہوگی‘‘ (متی 24:37-39).

مسیح نے کہا اُنہیں ’’خبر تک نہ ہوئی اور طوفان آ گیا۔‘‘ یہ معلومات کی قلت نہیں تھی جس نے اُنہیں آنے والی سزا کے فیصلے سے لاعلم رکھا تھا۔ نوح ’’راستبازی کی منادی کرنے والا‘‘ تھا (2پطرس2:5)۔ وہ جانتے تھے کہ وہ کیا منادی کر رہا تھا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ حنوک کیا منادی کرتا تھا،

’’دیکھو خُداوند آتا … سب پر سزا کا حکم دینے کے لیے‘‘ (یہوداہ14، 15)۔

وہ جانتے تھے کہ سزا کا حکم آنے والا ہے، مگر اُنہوں نے اِس کا یقین نہیں کیا!

آج شب کو یہاں پر نوجوان لوگ ہیں جو جانتے ہیں کہ سزا کا فیصلہ آنے والا ہے۔ آپ مجھے جہنم کی آگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے سُن چکے ہیں۔ آپ مجھے دُنیا کی موجودہ حالت میں اُس کے خاتمے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سُن چکے ہیں۔ مگر آپ اِس پر یقین نہیں کرتے کہ یہ آپ پر اثرانداز ہوگا! آپ نوح کے زمانے کے اُن لوگوں کی مانند ہیں جنہیں ’’خبر تک نہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا‘‘ (متی24:39)۔ خُدا آپ کی آنکھیں کھولے اور آپ کو گناہ کی سزایابی کے تحت لائے اِس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، اور آپ سزا کے فیصلے کے دائمی شعلوں میں جھونک دیے جائیں۔ مسیح کے پاس آئیں! اُس کے خون کے وسیلے سے اپنے گناہ سے پاک صاف ہو جائیں! یسوع کے پاس ابھی آئیں اِس سے پہلے کے ہمیشہ کے لیے انتہائی تاخیر ہو جائے! جیسا کہ مسٹر گریفتھ Mr. Griffith نے اِس واعظ سے پہلے گایا،

ایسے وقتوں کے دوران تمہیں ایک نجات دہندہ کی ضرورت ہوتی ہے،
   ایسے وقتوں کے دوران تمہیں ایک رابطہ کار کی ضرورت ہوتی ہے؛
انتہائی یقین کرو، انتہائی یقین کرو
   تمہارا رابطہ کار مضبوط چٹان کو گرفت میں کیے اور اُٹھائے ہوئے ہے!
یہ چٹان یسوع ہے، جی ہاں، یہ وہی ایک ہے؛
   یہ چٹان یسوع ہے، وہی تنہا واحد!
انتہائی یقین کرو، انتہائی یقین کرو
   تمہارا رابطہ کار مضبوط چٹان کو گرفت میں کیے اور اُٹھائے ہوئے ہے!
(’’ایسے وقتوں کے دوران In Times Like These‘‘ شاعرہ رُوتھ کائی جونز Ruth Caye Jones، 1944)۔

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

III۔ سوئم، یہ وہ زمانہ تھا جب انتہائی کم لوگ بچائے گئے تھے۔

بائبل ’’نوح کے دِنوں‘‘ کی بات کرتی ہے جب نوح کشتی تیار کر رہا تھا جس میں صرف آٹھ اشخاص سوار ہو کر پانی سے صحیح سلامت بچ نکلے تھے‘‘ (1پطرس3:20)۔ چند – یعنی کہ آٹھ لوگ – بچائے گئے تھے – پوری دُنیا میں سے! کشتی میں صرف آٹھ لوگ بچائے گئے تھے!

ہر کوئی فرض کرتا ہے کہ وہ بچا لیا جائے گا۔ کیا غلطی ہے! یہ اُس سے کئی درجہ بہتر ہوگا اگر آپ یہ فرض کر لیں کہ آپ کھوئے ہوئے ہیں! یسوع نے اِس بات کو واضح کیا تھا جب اُس نے کہا،

’’... دروازہ تنگ اور وہ راستہ سکڑا ہے جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں‘‘ (متی 7:14).

’’اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں!‘‘ یہ تھا جو خُداوند یسوع مسیح نے کہا! کیا آپ اپنی جان کو اُس پر یقین نہ کر کے داؤ پر لگائیں گے؟ ’’اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں!‘‘

میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ بیدار ہو جائیں! جاگیں! جاگیں! ’’اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں!‘‘

ہائے، میں کس قدر دعا مانگتا ہوں کہ آپ یسوع کے لیے اپنی ضرورت پر جاگ جائیں! میں جانتا ہوں کہ بہت سے انجیلی بشارت کا پیغام دینے والے جنہیں آپ ملتے ہیں بڑی پریشانی میں ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کے کالج کے پروفیسرز بائبل کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ تقریبا آپ کے اِردگرد ہر کوئی – یہاں تک کہ ریاست ہائے متحدہ کے صدر تک – اوّل درجے کے بے اعتقادے ہیں، جو مسیح کو ٹھٹھوں میں مسترد کر دیتے ہیں! اوہ، اُن کے ساتھ جہنم میں مت جائیے گا! اوہ، یسوع کے پاس آئیں اور اپنے گناہ سے پاک صاف ہو جائیں! نوح کی وہ کشتی یسوع کی ایک تشبیہہ تھی، اُس کی ایک تصویر تھی۔ اوہ، کشتی کے اندر آئیں اور بچائیں جائیں! اوہ، یسوع کے پاس آئیں اور خُداوند کے قہر و غضب اور آپ کے گناہ کے لیے سزا کے فیصلے سے بچائے جائیں ! آئیں! آئیں! اندر آئیں! یسوع کے پاس آندر آئیں اور بچائے جائیں! آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: 2پطرس2:1۔9 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
         ’’ایسے وقتوں کے دوران In Times Like These‘‘ (شاعرہ روتھ کائی جونز Ruth Caye Jones، 1902۔1972)۔

لُبِ لُباب

نوح کے دِنوں میں اِرتداد – حصّہ دوئم

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 80)
APOSTASY IN THE DAYS OF NOAH – PART II
(SERMON # 80 ON THE BOOK OF GENESIS)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37).

(2پطرس2:5، 1)

I. اوّل، یہ بڑھتے ہوئے اِرتداد کا ایک زمانہ تھا، پیدائش4:26؛ 6:5، 7؛
2پطرس2:1، 5، 12؛ 3:3؛ 2تیموتاؤس4:4؛ 3:1، 2، 5 .

II. دوئم، یہ عام بے اعتقادی کا زمانہ تھا، 2پطرس3:3، 4؛
متی24:37۔39؛ 2پطرس2:5؛ یہوداہ14، 15 .

III. سوئم، یہ وہ زمانہ تھا جب انتہائی کم لوگ بچائے گئے تھے،
1پطرس3:20؛ متی7:14 .