Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

آخری ایام میں فرشتوں کے نظریے کو کیوں نظر انداز کیا گیا ہے

WHY THE DOCTRINE OF ANGELS
IS NEGLECTED IN THE LAST DAYS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
15 جنوری، 2012 ، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, January 15, 2012

’’ کلام کی منادی کر؛ وقت بے وقت تیار رہ، ملامت کر، نصیحت کر، بڑے صبر اور تعلیم کے ساتھ لوگوں کو سمجھا، ۔ کیونکہ ایسا وقت آرہا ہے کہ لوگ صحیح تعلیم کی برداشت نہیں کریں گے؛ بلکہ اپنی خواہشوں کے مطابق بہت سے استاد بنالیں گے، تاکہ وہ وہی کچھ بتائیں جو اُن کے کانو ں کو بھلا معلوم ہو؛ وہ سچائی کی طرف سے کان بندکر لیں گے، اور کہانیوں کی طرف توجہ دینے لگیں گے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 4:2۔4).

بلّی گراہم نے کہا، ’’میں نے کبھی کبھی کسی کو فرشتوں پر واعظ دیتے ہوئے نہیں سُنا. . . میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں، اِس لاپرواہی کا سبب کیا ہے؟ ہم نے کیوں فرشتوں کے بارے میں بائبل کی عظیم تعلیم کو نظر انداز کیا ہوا ہے؟‘‘ (فرشتے: خُدا کے خفیہ نمائندے Angels: God’s Secret Agents، ڈبل ڈے اور کمپنی، 1975، صفحہ 17).

پھر گراہم نے نقطہ اُٹھایا کہ درجہ بہ درجہ علمِ الہٰیات کی تمام کتابوں میں ایسے حصّے ہیں جو فرشتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن ہم اِس تعلیم کی تبلیغ آج کل اپنی دِن کی واعظ گاہوں میں نہیں سنتے ہیں۔

میں بے شمار موضوعات پر بلّی گراہم کے ساتھ متفق نہیں ہوتا ہوں، خاص طور پر جن کا تعلق’’فیصلہ سازیت‘‘ سے ہے۔ لیکن گراہم نے ایک سوال پوچھا جب اُس نے کہا، ’’میں نے کبھی بھی کسی کو فرشتوں پر واعظ دیتے ہوئے نہیں سُنا. . . اِس لاپرواہی کا سبب کیا ہے؟ ہم نے کیوں فرشتوں کے بارے میں بائبل کی عظیم تعلیم کو نظر انداز کیا ہوا ہے؟‘‘ میں نے اپنے واعظ ’’فرشتے ہمارے ساتھ ہیں!‘‘ (اِسے پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے) میں دو وجوہات پر روشنی ڈالی ہے: (1) بہت سے مبلغ مذہبی طور پر تبدیل نہیں ہوئے، اور (2) بہت سے دوسرے منادی کےلیے بلائے ہی نہیں گئے۔ اِس صورتِ حال میں پادریوں سے اُمید نہیں کی جا سکتی کہ وہ روحانی باتوں پر بولنے کی ضرورت کو دیکھ سکیں۔

لیکن اِس میں اِس سے بھی زیادہ اور بہت کچھ ہے۔ یہ آدمیت پسندی کا دور ہے۔ زیادہ تر لوگ اِس میں دلچسپی نہیں رکھتے کہ خُدا نے روحانی باتوں کے بارے میں بائبل میں کیا آشکارہ کیا ہے۔ وہ خُدا پسندی کے بجائے آدمیت پسند ہیں۔ وہ صرف اپنے آپ میں ، اور جو کچھ وہ مادی دُنیا میں دیکھ اور محسوس کر سکتے ہیں اُس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اِس میں یقیناً آج کے لاتعداد گرجہ گھر کے لوگ شامل ہیں۔ اپنے زود فہم مضمون، ’’بائبل کی دُنیا حقیقی دُنیا ہے The Bible World is the Real World ،‘‘ میں ڈاکٹر اے. ڈبلیو. ٹُوزر Dr. A. W. Tozer نے کہا،

      کلامِ پاک پڑھتے ہوئے ہوئے ایک حساس شخص یقینی طور پر اُس مخصوص فرق کو محسوس کرتا ہے جو دُنیا جسے بائبل ظاہر کرتی ہے اور دنیا جسے آج کل کے مذہبی لوگوں نے تصور کیا ہوا ہے کے درمیان موجود ہے۔ اور یہ تضاد ہماری حمایت میں نہیں ہے. . . یعقوب نے ایک سیڑھی زمین پر تیار ہوتی ہوئے دیکھی تھی جس کے ساتھ خُدا اوپر کھڑا تھا اور فرشتے اُس کے ذریعے نیچے اور اوپر آ جا رہے تھے۔ ابراہام اور بلعام اور منوحہ اور اِسی طرح بہت سے دوسروں نے خُدا کے فرشتوں سے ملاقات کی اور اُن کے ساتھ [گفتگو] کی. . . فرشتے یسوع کی ہونے والی پیدائش کو بتانے کے لیے موجود تھے اور جب وہ پیدائش بیت لحم میں ہوئی تو اُس کو منانے کے لیے موجود تھے؛ فرشتوں نے ہمارے خُداوند کو تشفی دی جب اُس نے گتسمنی میں دعا کی تھی؛ فرشتوں کا تزکرہ متاثر کرنے والے کچھ مراسلوں میں موجود ہے، اور مکاشفہ کی کتاب عجیب اور خوبصورت مخلوقات کی موجودگی سے روشن ہے جو زمین اور آسمان کے معاملات میں مشغول ہیں. . .
      جی ہاں، حقیقی دُنیا ایک آباد دُنیا ہے۔ جدید مسیحیوں کی اندھی آنکھیں غیر مرئی کو نہیں دیکھ سکتیں لیکن یہ روحانی تخلیق کی حقیقت کو تباہ نہیں کرتی ہے۔ (اے. ڈبلیو. ٹوزر، ڈی.ڈی.، ’’بائبل کی دُنیا حقیقی دُنیا ہے،‘‘ لوگوں اور خُدا کی Of God and Men، مسیحی اشاعت خانے، 1960، صفحات 116۔117).

صرف جس بات کو میں مثتثنیٰ قرار دیتا ہوں یہ ہےکہ یہ ’’جدید مسیحی‘‘ بھی – لفظ کے کسی بھی بامعنی حساس میں تمام مسیحی ہیں۔ اُن کی ’’سمجھنے کی آنکھیں‘‘ کبھی بھی کھولی نہیں گئیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اُنہوں نے نئے جنم کاتجربہ کیا ہی نہیں ہوگا۔ پولوس رسول ہماری تلاوت کلام پاک کی تیسری اور چوتھی آیت میں ایسے کہلائے جانے والے مسیحیوں کی وضاحت کرتا ہے۔

’’ کیونکہ ایسا وقت آرہا ہے کہ لوگ صحیح تعلیم کی برداشت نہیں کریں گے؛ بلکہ اپنی خواہشوں کے مطابق بہت سے استاد بنالیں گے، تاکہ وہ وہی کچھ بتائیں جو اُن کے کانو ں کو بھلا معلوم ہو؛ وہ سچائی کی طرف سے کان بندکر لیں گے، اور کہانیوں کی طرف توجہ دینے لگیں گے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 4:3۔4).

بائبل کا الہامی مطالعہ The Prophecy Study Bibleہماری تلاوتِ کلامِ پاک پر یہ تبصرہ پیش کرتا ہے،

پولوس. . . کلیسیائی دور کے آخری ایام کے لیے مذید انتباہ مہیا کرتا ہے۔ لفظ ’’برداشت‘‘ کا بنیادی معنی ہے ’’تائید کرنا‘‘ . . . یوں، ایک ایسا وقت آئے گا گرجہ گھروں میں سے ہی اکثریت مستحکم یا معقول نظریات کی تعلیمات کی تائید نہیں کرے گی۔ لفظ ’’آرزو‘‘ کا سادہ سا مطلب ہے ’’شدید خواہش،‘‘ لیکن اِس سیاق و سباق میں منفی پہلو مضمر ہے۔ غلط نظریات کی برداشت اُن لوگوں کی خواہشات یا احساسات سے وجود میں آتی ہے جو خُدا کے کلام کی پیروی نہیں کرنا چاہتے۔ اِن گرجہ گھر کےارکان کے لیے کہا گیا ہے کہ ’’ وہ وہی کچھ بتائیں جو اُن کے کانو ں کو بھلا معلوم ہو،‘‘ جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے مبلغین سے وہی کہلوانا چاہتے ہیں جو اُنہیں پُر مسرت لگے۔ وہ معقول یا مستحکم نظریے کی ہدایات کو سُننا نہیں چاہتے، نا ہی وہ خُدا کے کلام سے تسلی پائیں گے، لہذٰا وہ انسانی خیالات اور خلا کو پُر کرنے کے لیے کہانیوں کی طرف کھیچے جائیں گے (ٹِم لے ہایی کی بائبل کا الہٰامی مطالعہ The Tim LaHaye Prophecy Study Bible، اے.ایم.جی اشاعت خانے، 2000، صفحہ 1304؛ 2۔تیموتاؤس 4:3۔4 پر ایک یاداشت( .

’’آخری ایام‘‘ میں زیادہ تر جماعتیں غیر تبدیل شُدہ لوگوں کی اکثریت سے بھری ہونگی، جو حاضرین میں اُن کی اکثریت بناتی ہے۔ مبلغ صرف ’’خوشگوار باتوں‘‘ پر بول سکے گا۔ جیسا کہ بائبل کے الہٰامی مطالعے میں لکھا ہے، ’’وہ اپنے مبلغین سے وہی کہلوانا چاہتے ہیں جو اُنہیں پُرمسرت لگے۔‘‘ اگر پادری یہ کہتا ہے کہ وہ گناہ گار اور غلط ہیں تو وہ اُن میں سے بہتوں کوکھو دے گا! اِسی وجہ سے بہت سے مبلغین سچائی بولنے سے خوفزدہ ہیں! چونکہ جماعت میں بہت سے لوگوں نےکبھی بھی دوبارہ جنم نہیں لیا وہ نصحیت آموز، ملامت انگیز اور ترغیب آمیز باتیں سُننا نہیں چاہتے (2۔ تیموتاؤس 4:2). ’’وہ مستحکم اور معقول تعلیم کو برداشت نہیں کریں گے ‘‘ (2۔تیموتاؤس 4:3). اِسی لیے بہت سے مبلغین ’’قصے کہانیاں‘‘ سُناتے ہیں (2۔تیموتاؤس 4:4) جیسے کہ مشہور و مقبول نفسیات، مثبت سوچ، خوشحالی کی خوشخبری، ’’تحریکی‘‘ تبلیغی، اور بائبل کے لیے ’’تفاسیر‘‘ بھی جوکہ اُن کے لوگوں کو ’’نصحیت آموز،‘‘ ’’ ملامت انگیز‘‘ یا ’’ترغیبی‘‘ باتیں نہیں لگتیں (دیکھیئے ایمانِ مسیح کے بغیرمسیحیت Christless Christianity مصنف ڈاکٹر مائیکل ہُارٹن، بیکر بُکس، 2008).

آج کل کی تبلیغ میں صرف فرشتوں کو نہیں بُھلایا گیا ہے۔ کب ہم نے کوئی مکمل واعظ گناہ، جہنم، شیطان، بدروحوں، مسیح کے خون، یا خود یسوع مسیح پر سُنا ہے؟ ہم نے مسیح کے صلیب پر کفارے کے اوپر مکمل واعظ تقریباً کبھی نہیں سُنے ہیں۔ ہم نے تقریباً کبھی بھی خود یسوع مسیح پر مرکوز مکمل واعظ نہیں سُنے! ہم نے لگ بھگ کبھی بھی نئے جنم پر مکمل واعظ نہیں سُنے! یقیناً ہم آخری ایام ہی میں رہ رہے ہیں! یقیناً ہم اُسی وقت میں رہ رہے ہیں جس کی پیشن گوئی 2۔تیموتاؤس 4:2۔4 میں کی گئی ہے!

’’ کلام کی منادی کر؛ وقت بے وقت تیار رہ، ملامت کر، نصیحت کر، بڑے صبر اور تعلیم کے ساتھ لوگوں کو سمجھا، ۔ کیونکہ ایسا وقت آرہا ہے کہ لوگ صحیح تعلیم کی برداشت نہیں کریں گے؛ بلکہ اپنی خواہشوں کے مطابق بہت سے استاد بنالیں گے، تاکہ وہ وہی کچھ بتائیں جو اُن کے کانو ں کو بھلا معلوم ہو؛ وہ سچائی کی طرف سے کان بندکر لیں گے، اور کہانیوں کی طرف توجہ دینے لگیں گے‘‘
        (2۔ تیموتاؤس 4:2۔4).

جس دور میں ہم رہ رہیں ہیں اُس کے آخری ایام میں اپنی مدد آپ کے تحت مطا لعہ، تحریکی پیغامات، اور آیت بہ آیت بائبل کا مطا لعہ وہ تمام ہیں جن کے بارے میں ہم اپنی واعظ گاہوں میں سُنتے ہیں۔ 18ویں اور 19ویں صدیوں کی تین عظیم بیداریوں میں آیت بہ آیت بائبل کا مطالعہ نہیں ہے جو ہمارے اباؤاجداد نے سُنا تھا! اِس قسم کی ’’تاویلات‘‘ کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا چاہیے! ہم دہائیوں سے اُن کے بارے میں سُنتے رہے ہیں اور اُنہوں نے ہماری مدد نہیں کی ہے! ہمیں خوراک چاہیے، نظریاتی خوراک، خُداوند کے پاک کلام میں سے خوراک!

فرشتوں کے نظریات کے بارے میں بائبل غور کرنے کےلیے بہت کچھ بتاتی ہے – اور آج آپ کو وہ سُننے کی بہت ضرورت ہے! پروفیسر ڈاکٹر پی. بی. فِٹزواٹر Dr. P.B. Fitzwater نے کئی سالوں تک مُوڈی بائبل کے تعلیمی ادارے میں درجہ بہ درجہ علمِ الہٰیات کے پروفیسر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ میں ڈاکٹر فِٹزواٹر کی مسیحی الہٰیات: ایک درجہ بہ درجہ اِظہار Christian Theology: A Systematic Presentation میں سے اِس موضوع کے دو نقاط اُٹھاؤں گا (عیئرڈمینز اشاعت خانے کا ادارہ، 1958 ایڈیشن، صفحات 255۔257).

1۔ اوّل، فرشتے اُن کی خدمت کرتے ہیں جو نجات کے وارث ہیں۔

ڈاکٹر فِٹزواٹر نے عبرانیوں 1:13۔14 آیات کا حوالہ دیا، ’’لیکن خُدا نے فرشتوں میں سے کسی کے بارے میں کب کہا ہے کہ، تو میری دائیں طرف بیٹھ جب تک میں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کی چُوکی نہ بنا دُوں؟ کیا وہ تمام فرشتے خدمت کرنے والی روحیں نہیں جو نجات پانے والوں کی خدمت کے لیے بھیجی جاتی ہیں؟‘‘ (عبرانیوں 1:13۔14 ). ڈاکٹر فٹزواٹر نے کہا، ’’یہ یہیں ہے جہاں پر وثوق سے کہا گیا ہے [کہ فرشتے] خُدا کے بچوں کی خاطر خدمت کرتے ہیں۔ یہ نہیں بیان کیا گیا ہے کہ انفرادی ایماندار کے لیے کوئی مخصوص فرشتہ ہے۔ یہ جان لینا ہی کافی ہے کہ بچائے ہوؤں کی خاطر یہاں یہ خدمت ہے۔ فرشتے نوجوان ایمانداروں میں خاص دلچسپی لیتے ہوئے ظاہر ہوتے ہیں۔ ’خبردار اِن چھوٹوں میں سے کسی کو ناچیز مت سمجھناکیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اُن کے فرشتے آسمان پر ہر وقت میرے آسمانی باپ کا منہ دیکھتے ہیں‘ (متی18:10). یہ دلچسپی نادان [مسیحیوں] کی ضروریات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہے۔ نوجوانوں کے مقاصد اشد ضروری ہوتے ہیں۔ اُن کے لیے بُرائی کی دُنیا میں اپنی زندگیاں گزارنا ضروری ہے۔ یہ جاننا انتہائی با برکت ہے کہ خُدا کا نوجوان ایمانداروں کے لیے خاص تعلق ہے اور یہ کہ وہ اِس طرح [فرشتوں کی مدد] سے اُن کے لیے خدمت کی ضرورت فراہم کرتا ہے۔‘‘

فرشتانہ مدد کا اظہار اُن جگہوں پر بھی ہو رہا ہے جہاں مسیحیوں کو اُن کے ایمان کے لیے اذیت دی جاتی ہے۔ مسلمان ممالک، اور اشتراکیت پسند ممالک میں، ہم سُنتے ہیں کہ فرشتے اُن کی خدمت کر رہے ہیں جو ’’نجات کے وارث‘‘ ہیں۔ فرشتے اکثر اِن ستم رسیدہ مسیحیوں کی خطرے کے وقت مدد کرتے ہیں۔

بے شک میں بِلّی گراہم کے ساتھ علیحدگی، فیصلہ سازیت اور کچھ دوسرے موضوعات پر متفق نہیں ہوں، لیکن میں نے اُس کی کتاب کو بہت فرحت آمیز پایا۔ بِلّی گراہم نے کہا، ’’اٹھارویں اور اُنیسویں صدیوں کے مذہبی تبلیغ کے لیے دوسرے علاقوں میں جانے والے لوگوں نے بہت سے حیرت انگیز واقعات کی خبر دی ہے جہاں فرشتے خوشخبری کی منادی کے لیے اُن کی مدد کرتے ظاہر ہوتے ہیں‘‘ (ibid.، صفحہ 112).

لیکن فرشتانہ مدد صرف ماضی تک ہی محدود نہیں کی گئی ہے۔ آج، بہت سی قوموں میں، جہاں خوشخبری پر پابندی ہے، مسیحیوں نے فرشتوں کی خدمت کے ذریعے سے مدد پائی ہے۔ فرشتانہ امداد کی اطلاعات ہمیں چین، ہندوستان، ایران، پاکستان، انڈونیشیا، شمالی افریقہ اور تیسری دُنیا کے دوسرے حصّوں سے ملتی ہیں۔ چین میں ایک مقامی مسیحی کارکُن نے کہا کہ امریکی اکثر فرشتوں کی مدد کے بارے میں اندھے ہوتے ہیں کیونکہ، ’’اگر آپ سوچتے ہیں کہ آپ طاقتور اور امیر ہیں، تو پھر آپ کے اردگرد معجزات نہیں ہونگے۔‘‘

جیسا کہ امریکہ مسلسل بدتر اور زوال پذیر ہوتا جا رہا ہے، تو وہ وقت قریب آ رہا ہے جب یہاں پر حقیقی مسیحیوں کو بھی اپنے لیے فرشتانہ مدد کی ضرورت خطرات اور ایذارسانیوں کے درمیان میں نظر آئے گی۔ آنے والے بُرے دِنوں میں یہاں ایک سچے مسیحی کے باقیات کو بھی نظر آئے گا کہ صرف خُدا ہی اُن کی مدد کر سکتا ہے۔

2۔ دوئم، فرشتے خُدا کے دشمنوں کا انصاف کرتے ہیں۔

ڈاکٹر فِٹزواٹر نے اعمال 12:23 آیت کا حوالہ دیا، ’’چونکہ ہیرودیس نے خُدا کی تمجید نہ کی: اِس لیے اُس پر اُسی دم خُدا کے فرشتے کی ایسی مار پڑی کہ اُس کے جسم میں کیڑے پڑ گئے اور وہ مر گیا۔ ’سو اُسی رات خُداوند کے فرشتے نے نکل کر اَسور کی لشکر گاہ میں ایک لاکھ پچاسی ہزار آدمی مار ڈالے اور اگلی صبح کو جب لوگ اُٹھے تو دیکھا وہاں صرف لاشیں پڑی ہوئی ہیں‘ (2۔ سلاطین 19:35). بادشاہ کی دُعا کے جواب میں، خُداوند کا فرشتہ اسرائیل کو آزادی دلانے اور اُسور کی فوج کو ہرانے کے لیے بھیجا گیا ۔‘‘

ڈاکٹر فِٹزواٹر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں، ’’[فرشتے] خُدا کے چُنیدہ کو اکٹھا کرتے ہیں اور بدکاروں کا انصاف کرتے ہیں۔ ’دُنیا کے آخر میں بھی ایسا ہی ہوگا: فرشتے نکلیں گے، اور بدکاروں کو راستبازوں سے جُدا کریں گے، اور اُنہیں آگ کی بھٹی میں ڈال دیں گے:جہاں وہ لوگ روتے اور دانت پیستے رہیں گے‘ (متی 13:49۔50). فرشتوں کے ذریعے سے بدکار راستبازوں کے درمیان سے علیحدہ کیے جائیں گے. . . انصاف کی اِس خدمت میں ناکامی کا ہونا ممکن ہو ہی نہیں سکتا؛ انسان کا کوئی منصوبہ اِس میں تاخیر نہیں کر سکتا یا اُن کی خدمت کو روک نہیں سکتا‘‘ (ibid.، صفحات 254۔259).

اگر تم چُنیدہ لوگوں میں سے نہیں ہو تو تم اِس بات کا یقین کر سکتے ہو کہ فرشتے تمہیں راستبازوں کے درمیان میں سے علیحدہ کر لیں گے، اور تمہیں جہنم کی آگ میں پھینک دیں گے، جہاں تم ابدیت تک رنج اور غم میں روتے اور چلاتے رہو گے اور دانت پیستے رہو گے۔

اوہو، یہ آپ کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے! کاش آپ ابھی بھی اپنی بے اعتقادی سے مڑ کر یسوع پر ایمان لائیں۔ اُس نے صلیب پر دُکھ برداشت کیے اور مرا تاکہ آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرے۔ اُس نے اپنا خُون بہایا تاکہ آپ کو گناہ سے پاک صاف کرے۔ وہ واپس آسمان پر اُٹھایا گیا اور خُدا باپ کے داہنے ہاتھ پر بیٹھا ہے اور اب بھی آپ کے لیے موجود ہے! اُس کے پاس آئیں۔ اُس پر بھروسہ کریں۔ وہ آپ کو بچائے گا، وہ آپ کو بچائے گا، وہ ابھی آپ کو بچائے گا۔‘‘

ایسے وقت میں، تمہیں ایک نجات دہندہ کی ضرورت ہے۔
   ایسے وقت میں تمہیں ایک لنگر کی ضرورت ہے؛
کامل یقین کرو، کامل یقین کرو
   تمہارا لنگر ایک مضبوط چٹان کو پکڑے اور تھامے ہوئے ہے!
یہ چٹان یسوع ہے، جی ہاں، یہ صرف وہ ہی ہے؛
   یہ چٹان یسوع ہے، تنہا اور یکتا!
کامل یقین کرو، کامل یقین کرو
   تمہارا لنگر ایک مضبوط چٹان کو پکڑے اور تھامے ہوئے ہے!
(’’ایسے وقت میں‘‘ شاعر رُوتھ کائی جونز Ruth Caye Jones ، 1902۔1972).

یسوع پر اپنی نظریں جمائیں،
   اُس کے حیرت انگیز چہرے پر نظر بھر کر ڈالیں،
اور زمین کی چیزیں حیرت ناک طور پر مدہم پڑ جائیں گی،
   اُس کے فضل اور جلال کی روشنی میں۔
(’’یسوع پر اپنی نظریں جمائیں‘‘ شاعر ہیلن ایچ. لیَمل Helen H. Lemmel، 1863۔1961).

’’یسوع پر اپنی نظریں جمائیں۔‘‘ آپ کو اُس کی ضرورت ہے! صرف یسوع ہی آپ کو آپ کے گناہ سے بچا سکتا ہے۔ لیکن یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے آپ کو اپنے آپ پر بھروسہ کرنا چھوڑنا ہوگا۔ سپرجئین نے کہا، ’’یسوع پر بھروسہ کریں، آپ بچائے جاتے ہیں۔ اپنی ذات پر بھروسہ کریں، آپ کھو جاتے ہیں۔‘‘ آپ میں کچھ اپنے آپ پر بھروسہ کرتے رہے ہیں۔ میں آپ سے کہتا ہوں کہ یسوع کے پاس آئیں اور اُس پر بھروسہ کریں۔ لیکن آپ جلدی سے اپنے آپ کو دیکھنے لگ جاتے ہیں کہ آپ کو کچھ الگ محسوس ہو رہا ہے، یہ دیکھنے لگ جاتے ہیں کہ آیا آپ کے اندر کوئی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ یسوع پر بھروسہ کرنے کے بجائے، اور اُسی کی مرضی پر رہنے دینے کے بجائے، آپ اپنے آپ کو دیکھتے ہیں – یہ جاننے کے لیے کہ آیا آپ کے پاس ’’دُرست احساس‘‘ یا دُرست تبدیلی‘‘آئی ہے۔ اس طرح، آپ یسوع پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے آپ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جنہوں نے بچائے جانے کے بغیر ایسا سالوں تک کیا ہے۔ اگر آپ بھی اُنہی کی طرح اپنے آپ کو سمجھتے ہیں، تو اِس پرانے گیت کے الفاظ کو غور سے سنیئے،

میں نے ہزاروں طریقے سے بیکار میں کرنے کی کوشش کی
   میرے خوف کُچلنے کے لیے، میری اُمیدیں بڑھانے کے لیے؛
لیکن مجھے جس کی ضرورت ہے، بائبل کہتی ہے،
   وہ ہمیشہ سے صرف یسوع ہی ہے۔
(’’یسوع میں‘‘ شاعر جیمس پروکٹر James Procter ، 1913).

جس وقت میں یہ واعظ لکھ رہا تھا ایک چھوٹے سا سیاہ پرندہ میرے گھر کے آفس کے شیشے کی کھڑکی سے آکر ٹکرایا۔ پرندہ دوبارہ اٹھااور پھر کھڑکی سے ٹکرایا، پھر دوبارہ، پھر دوبارہ۔ آخر کار مجھے اُٹھنا پڑا اور پرندے کو ڈرا کر بھگانا پڑا۔ آپ میں سے کچھ اُس چھوٹے پرندے کی مانند ہیں۔ آپ وہی چیز بار بار اور بار بار دوبارہ کرتے ہیں ، لیکن آپ پھر بھی کھوئے ہوئے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ یسوع پر بھروسہ کریں گے، لیکن آپ جلد ہی اپنے آپ کو دیکھنے لگے جاتے ہیں۔ چونکہ آپ کوئی تبدیلی نہیں دیکھتے، اور نہ ہی اپنے میں کوئی احساس، تو آپ کہتے ہیں کہ آپ ابھی بھی کھوئے ہوئے ہیں۔ میں آپ کو کہہ رہا ہوں کہ اپنے آپ کو جانچنا چھوڑ دیں! ابھی وقت ہے کہ آپ اپنے آپ کو جانچنا چھوڑ کر یسوع کو جانچنا شروع کریں! یسوع کے پاس آئیں اور اپنے آپ کو واپس مُڑ کر دیکھنا بالکل چھوڑ دیں! ’’میں نے بیکار میں کرنے کی کوشش کی۔‘‘ اِسے میرے ساتھ گائیے۔

میں نے ہزاروں طریقے سے بیکار میں کرنے کی کوشش کی
   میرے خوف کُچلنے کے لیے، میری اُمیدیں بڑھانے کے لیے؛
لیکن مجھے جس کی ضرورت ہے، بائبل کہتی ہے،
   وہ ہمیشہ سے صرف یسوع ہی ہے۔

اگر آپ واپس مُڑ کر اپنے آپ کو دیکھیں گے تو صرف اندھیرا اور گناہ پائیں گے۔ لُوط کی بیوی کی مانند مت بنیں – جس نے مُڑ کر صیدوم شہر کو دیکھا تھا اور کھو گئی تھی! آپ کا دِل ایک چھوٹا صیدوم ہے، اندھیرے اور گناہ سے بھرا ہوا۔ یسوع کے پاس آئیں، اور اپنے آپ کو واپس مُڑ کر مت دیکھیں! جیسا کہ سپرجئین نے کہا، ’’یسوع پر بھروسہ کریں، اور آپ بچائے جاتے ہیں۔ اپنے آپ پر بھروسہ کریں اور آپ کھو جاتے ہیں۔‘‘ یسوع کے پاس آئیں، اور بالکل بھی اپنے آپ کو مت دیکھیں۔ بہت سے دوسرے اِس طرح کی ایک طویل جدوجہد کے بعد بچائے جا چُکے ہیں۔ یسوع کو دیکھیں۔ یسوع کے پاس آئیں۔ یسوع پر بھروسہ کریں۔ اور اپنے آپ کو واپس مُڑکر مت دیکھیں۔ اُس کے پاس ’’دُرست احساس‘‘ کے بغیر آئیں اور آپ بچائے جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو دیکھیں اور آپ بھی دائمی سزا یافتہ ہو جائیں گے – لُوط کی بیوی کے ساتھ۔ یسوع نے کہا، ’’لُوط کی بیوی کو یاد رکھ‘‘ (لوقا 17:32). یسوع کو دیکھیں اور اُس پر بھروسہ کریں، اور واپس مُڑ کر مت دیکھیں! اپنے آپ کو دوبارہ مت جانچیں! یسوع کے پاس آئیں اور بالکل بھی اپنے آپ کو مُڑ کر مت دیکھیں! ’’یسوع پر بھروسہ رکھیں، اور آپ بچائے جائیں گے۔ خود پر بھروسہ رکھیں، اور آپ کھو جاتے ہیں۔‘‘ وہی گیت دوبارہ گائیے۔

میں نے ہزاروں طریقے سے بیکار میں کرنے کی کوشش کی
   میرے خوف کُچلنے کے لیے، میری اُمیدیں بڑھانے کے لیے؛
لیکن مجھے جس کی ضرورت ہے، بائبل کہتی ہے،
   وہ ہمیشہ سے صرف یسوع ہی ہے۔

سپرجیئن نے کہا، ’’[آپ یہ مت سوچیں] کہ یہ ایک خوفناک بات ہو سکتی ہے اگر آپ کو یسوع پر بھروسہ کرنا پڑے اور اِس کے باوجود آپ انتقال کر جائیں؟ ایسا ہو بھی سکتا ہے۔ لیکن [چونکہ] آپ کو ختم ہو جانا چاہیے اگر آپ [یسوع] پر بھروسہ نہیں کرتے، اِس لیے اِتنا بڑا خطرہ نہیں ہے۔

اگر میں جاتا ہوں تو کر سکتا ہوں لیکن مارا جاتا ہوں؛
   میں کوشش کے لیے مستقل مزاجی سے لگا ہوا ہوں؛
کیونکہ اگر میں نے ایسا نہیں کیا، تو میں جانتا ہوں
   مجھے ہمیشہ کے لیے مر جانا چاہیے۔

آپ کے پاس کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں، کیونکہ آپ پہلے سے ہی کھوئے ہوئے ہیں؛ آپ بھی – اِس لیے فوراً [مسیح] کے لیے دوڑ کر جانے کی کریں اور اپنے لیے خُدا کے رحم پر ایمان کرنے کی جرأت کریں‘‘ (سی. ایچ. سپرجئین، چھوٹے دروازے کی دوسری طرف سے Around the Wicket Gate، پِلگِرم اشاعت خانے، 1992 دوبارہ اشاعت، صفحات 50، 51).

میں نے ہزاروں طریقے سے بیکار میں کرنے کی کوشش کی
   میرے خوف کُچلنے کے لیے، میری اُمیدیں بڑھانے کے لیے؛
لیکن مجھے جس کی ضرورت ہے، بائبل کہتی ہے،
   وہ ہمیشہ سے صرف یسوع ہی ہے۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَینDr. Kreighton L. Chan ۔ 2۔ تیموتاؤس 4:1۔5.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ: Mr. Benjamin Kincaid Griffith:
’’ایسے وقت میں‘‘ (شاعر رُوتھ کائی جونز Ruth Caye Jones ، 1902۔1972).

لُبِ لُباب

آخری ایام میں فرشتوں کے نظریے کو کیوں نظر انداز کیا گیا ہے

WHY THE DOCTRINE OF ANGELS
IS NEGLECTED IN THE LAST DAYS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’ کلام کی منادی کر؛ وقت بے وقت تیار رہ، ملامت کر، نصیحت کر، بڑے صبر اور تعلیم کے ساتھ لوگوں کو سمجھا، ۔ کیونکہ ایسا وقت آرہا ہے کہ لوگ صحیح تعلیم کی برداشت نہیں کریں گے؛ بلکہ اپنی خواہشوں کے مطابق بہت سے استاد بنالیں گے، تاکہ وہ وہی کچھ بتائیں جو اُن کے کانو ں کو بھلا معلوم ہو؛ وہ سچائی کی طرف سے کان بندکر لیں گے، اور کہانیوں کی طرف توجہ دینے لگیں گے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 4:2۔4).

1۔ اوّل، فرشتے اُن کی خدمت کرتے ہیں جو نجات کی وارث ہیں,
عبرانیوں 1:13۔14؛ متی 18:10 .

2۔ دوئم، فرشتے خُدا کے دشمنوں کا انصاف کرتے ہیں، اعمال 12:23؛
2۔ سلاطین 19:35؛ متی 13:49۔50؛ لوقا 17:32.