Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

فرشتے ہمارے ساتھ ہیں

!THE ANGELS ARE WITH US

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
08 جنوری، 2012، خُداوند کے دِن، شام کو
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, January 8, 2012

’’اور پھر میں نے نگاہ کی تو لاکھوں اور کروڑوں فرشتوں کی آواز سُنی جو اُس تخت اور اُن جانداروں کے اِرد گِرد موجود تھے‘‘ (مکاشفہ 5:11).

میں نے کبھی کسی پادری کو ایک مکمل واعظ فرشتوں پر دیتے ہوئے نہیں سنا۔ پھر بھی تمام بائبل میں فرشتے نمایاں ہیں۔ ہماری پہلی تلاوت مکاشفہ 5:11 بتاتی ہے کہ فرشتوں کی تعداد ’’لاکھوں اور کروڑوں‘‘ ہے (مکاشفہ 5:11).

فرشتے بائبل بھر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ جب ابراہام نے اپنے ملازم کو اپنے بیٹے اِضحاق کے لیے ایک بیوی ڈھونڈنے کے لیے بھیجا ، اُس نے ملازم کو کہا تھا کہ خُداوند تیری مدد کے لیے تیرے آگے آگے ایک فرشتہ بھیجے گا (پیدائش 24:7). جب یعقوب سفر کر رہا تھا اُسے ’’خُداوند کے فرشتے‘‘ ملے تھے۔ ڈاکٹر جان گِل Dr. John Gill (1697۔1771) نے کہا کہ فرشتے اُس کی حفاظت کے لیے دو گروہوں میں علیحدہ ہوگئے۔ فرشتوں کا ایک گروہ اُس کے سامنے گیا اور دوسرا گروہ اُس کے پیچھے گیا، اُس کی حفاظت کے لیے (پیدائش 32:1۔2). جب لُوط اور اُس کے خاندان کو صیدوم میں تباہ و برباد ہونے کا خطرہ تھا تو فرشتوں نے اُنہیں غیر محفوظ شہر سے باہرنکالا تھا (پیدائش 19:15۔17). جب دانی ایل کو شیروں کے غار میں پھینکا گیا تھا، خُدانے ایک فرشتہ بھیجا تھا ’’شیروں کے منہ بند کرنے کے لیے‘‘ (دانی ایل 6:22). جب رسولوں کو خوشخبری کی تبلیغ دینے کی وجہ سے قید میں ڈالا گیا، ’’رات کو خُداوند کا فرشتہ جیل کے دروازے کھول کر رسولوں کو باہر نکال لایا (اعمال 5:19۔20). جب پطرس رسول کو خُشخبری کی منادی کے لیے قید کیا گیا، ایک فرشتہ آیا اور قید کا دروازہ کھول کر اُسے آزاد کیا (اعمال 12:7۔10).

فرشتوں نے نومولود مسیح کی حفاظت کی تھی یوسف کے سامنے ظاہر ہو کر اور اُسے یہ بتا کر کہ بچے کے ساتھ مصر کی طرف جائے (متی 2:13۔14). بیابان میں شیطان کے مسیح کو آزمانے کے بعد، ’’فرشتے آکر اُس کی خدمت کرنے لگے‘‘ (متی 4:11). ایک فرشتے نے مسیح کو تقویت دی جب گتسمنی باغ میں وہ ہمارے گناہوں تلے پیسا ہوا تھا، اور خون کی بوندیں پسینہ بن کر ٹپک رہی تھیں (لوقا 22:43۔44). ایک فرشتے نے مسیح کی قبر پر سے پتھر کو لڑھکایا تھا، اور اُن عورتوں سے جو وہاں آئیں تھی کہا تھا کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے (متی 28:2، 5۔6). ہزاروں کی تعداد میں فرشتے میسح کے ساتھ تھے جب وہ واپس آسمان پر اُٹھایاگیا (زبور 68:17۔18؛ افسیوں 4:8). اور مقدس فرشتے مسیح کے ساتھ اُس کی دوسری آمد پر نیچے آئیں گے۔ (لوقا 9:26؛ 2۔تسالونیکیوں 1:7). دیکھئیے ڈاکٹر جان گِل کی الہٰیاتی عقائد پر مشتمل A Body of Doctrinal Divinity، بپتسمہ دینے والے معیاری بیئرر، نیا ایڈیشن، جلد اوّل، صفحات 262۔268 .

اِس کے علاوہ، بائبل میں واضح طور پر خُدا کے لوگوں کے لیے فرشتوں کے کام آشکارہ ہوتے ہیں۔ وہ خُدا کے لوگوں کو بھیجتے اور اُن کی حفاظت کرتے ہیں۔ زبور 91:11۔12 کہتا ہے، ’’وہ فرشتوں کو تیرے متعلق حکم فرمائے گا کہ وہ تیری سب راہوں میں تیری حفاظت کریں؛ وہ تجھے اپنے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے، کہیں ایسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو کسی پتھر سے ٹھیس لگ جائے۔‘‘ دانی ایل 3:28 کہتا ہے کہ خُدا نے ’’اپنے فرشتے بھیجے، اور اُنہیں اپنے ملازمین کے حوالے کیا جو اُس پر بھروسہ کرتے تھے۔‘‘ عبرانیوں 1:14 کہتی ہے کہ خُداوند اپنے فرشتے بھیجتا ہے ’’اُن کی خدمت کے لیے جو نجات پانے کے وارث ہیں۔‘‘ دیکھئے ڈاکٹر ہنری سی. تھائیسن Dr. Henry C. Thiessen، درجہ بہ درجہ الہٰیات میں تعارفی واعظ Introductory Lectures in Systematic Theology، عیئرڈمینز اشاعتی ادارہ، 1971ایڈیشن، صفحہ 205 .

چونکہ فرشتوں کا کام اِس قدر (اور بے شمار مرتبہ) بائبل میں واضح طور پر منکشف کیا گیا ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ ہمیں آج کل فرشتوں پر مکمل واعظ سُننے کو نہیں ملتے؟ میں نے کبھی کسی پادری کو فرشتوں پر مکمل واعظ دیتے ہوئے نہیں سُنا۔ کیا آپ نے سُنا؟ آج کل ایسا مسئلہ کیوں ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اِس کی بے شمار وجوہات ہیں۔ اوّل، بہت سے پادری کبھی مذہبی طور پر تبدیل ہوئے ہی نہیں۔ یقیناً یہی اہم وجہ ہے۔ دوئم، بہت سے وہ جو مذہبی طور پر تبدیل ہوئے ہیں خُدا کی طرف سے بُلائے نہیں گئے ہیں۔ لاس انجیلز چینی بپتسمہ دینے والے پہلے گرجہ گھر کے میرے دیرینہ پادری نے کہا، ’’گذشتہ دِنوں کے گرجہ گھروں میں ویرانی پادریوں میں کمی کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ پادریوں کی وہ بہتات ہے جو خُداوند کی [بُلاہٹ] کے بغیر اور خُداوند کے بھیجے جانے کے بغیر خدمت کر رہے ہیں۔ چونکہ اُنہیں خُداوند نے نہیں بھیجا ہے، تو وہ کیسے اُمید رکھ سکتے ہیں کہ خُدا اُن کے لیے ذمہ دار ہو اور اُنہیں اپنے پیغام کے ساتھ لیس کرے؟‘‘ (تموتھی لِن، پی ایچ. ڈی.، گرجہ گھرکی افزائش کا راز The Secret of Church Growth، پہلا چینی پبتسمہ دینے والا گرجہ گھر، 1992، صفحات 21۔22).

وہ پادری جو مذہبی طور پر تبدیل نہیں ہوئے ہیں، اور وہ جو خُدا کی طرف سے بُلائے نہیں گئے ہیں، ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ ’’خُدا کے تمام مقاصد جو اُن کے لیے بیان کیے گئے‘‘ (اعمال 20:27) دیکھ پائیں. میرے خیال میں یہ دوسری وجہ ہے کہ کیوں ہمیں آج کل اپنی واعظ گاہوں میں فرشتوں، یا شیاطین کے بارے میں اِس قدر کم سُننے کو ملتا ہے۔ در حقیقت، ہم تو یسوع مسیح کے خود کے بارے میں بھی بہت کم واعظ سُنتے ہیں! تقریباً آج کل کے تمام واعظ لوگوں پر مرکوز ہیں یا تحریکوں پر – لیکن روحانیت اور خُدا کو مرکز جان کر نہیں ہیں۔

بہت سال پہلے میں نے شمالی کیلیفورنیا کے ایک گرجہ گھر میں فرشتوں پر ایک تبلیغی واعظ دیا تھا۔ میں نے فقط ڈاکٹر تھائیسن کی درجہ بہ درجہ الہٰیات پر کتاب (ibid.) میں سے فرشتوں کے بارے میں بے شمار نقاط پیش کیے ۔ جس کے بعد میں نے کھوئے ہوؤں کی مسیح کے لیے شدید التجا کے ساتھ اختتام کیا۔ بہتیروں نے اِس بلاوے پر ردِعمل ظاہر کیا۔ لیکن اگلے دِن پادری نے مجھ پر اپنے بڑوں کے سامنے الزام لگایا، یہ کہہ کر کہ میرا واعظ’’ایک ہی مسلک کو ماننے پر مشتمل‘‘ تھا اور وہ ’’فرشتوں کی پرستش‘‘ کی جانب راہنمائی کرسکتا تھا(کلسیوں 2:18). بے شک وہ گھٹیا تھا۔ جب ایک یقینی قسم کے بے دین اور تنقید کرنے والے لوگ اپنے گناہوں کے ساتھ واعظ میں سامنا کرتے ہیں، وہ اکثر اِس کو ’’ایک ہی مسلک کے ماننے پر مشتمل‘‘ کرتے ہیں! میں نے وہ گرجہ گھر چھوڑ دیا۔ تقریباً دو سال بعد مشہور مبشرِ انجیل بِلّی گراہم Billy Graham نے فرشتے: خُدا کے خفیہ نمائندے Angels: God’s Secret Agents، (ڈبل ڈے اینڈ کمپنی، 1975) کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی۔ بلّی گراہم کی کتاب میں زیادہ تر وہی تھا جو میں نے اُس تبلیغی واعظ میں کہا تھا جسے پادری نے ’’ایک ہی مسلک کے ماننے پر مشتمل ‘‘ کہا تھا۔ میں نے اُس کو بلّی گراہم کی کتاب کی ایک نقل بھیجی ایک رقعہ کے ساتھ جس میں لکھا تھا، ’’کیا یہ کتاب ایک ہی مسلک کے ماننے پر مشتمل ہے؟‘‘ اُس نے مجھے کبھی جواب نہیں بھیجا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اِس پادری کو اُس کے گرجہ گھر سے نکال دیا گیا کیونکہ وہ اپنی ہی جماعت کی عورتوں کے ساتھ ہم بستری کرتے پایا گیا۔ وہ جو میرے شدید مردانہ طرز کی تبلیغ پر ردعمل کرتے ہیں نقص تلاش کریں گے چاہے میں کچھ بھی کہوں!

جبکہ میں بلّی گراہم سے بعض موضوعات پر متفق نہیں ہوں، میں نے پایا کہ اُس کی فرشتوں پر کتاب میں اِختلاف کے لیے بہت کم تھا۔ اُس کتاب میں بلّی گراہم نے بتایا کہ ’’بائبل کے ذریعے سے خُدا نے ہمیں بہت کچھ بتایا ہے۔ اِسی وجہ سے، برسوں سے عالمینِ الہٰیات، عالمگیر طور پر’فرشتوں کے علم‘ (فرشتوں کے بارے میں بائبل کے سچے درجہ بہ درجہ بیانات)کی اہمیت کے بارے میں متفق تھے۔ اُنہوں نے اِنہیں کسی بھی ترتیب وار علمِ الہٰیات کی کتاب میں پیش کرنے کے لیے مستند پایا تھا‘‘ (ibid. ، صفحہ 18).

عظیم اصلاح پسند مارٹن لوتھر نے کہا، ’’فرشتہ ایک جسم کے بغیر روحانی مخلوق ہے جسے خُدا نے مسیحیت اور گرجہ گھر کی خدمت کے لیے تخلیق کیا (گراہم، ibid.، صفحہ 10). جان کیلوِن John Calvin نے اپنی کتاب مسیحی مذہب کے ادارے Institutes of the Christian Religion، کی جلد اوّل میں کہا، ’’فرشتے ہماری طرف الہٰی [فیاضی] کے منتظم اور علاج کا عمل کرنے والے ہیں۔ وہ ہمارے بچاؤ کا خیال رکھتے ہیں، ہمارے دفاع کی ضمانت اُٹھاتے ہیں، ہماری راہ کا تعین کرتے ہیں، اور مستقل [نگہداشت] کرتے ہیں کہ ہمیں کوئی بدی جکڑ نہ لے‘‘ (گراہم، ibid.). عظیم سپرجیئن، ’’مبلغین کے شہزادے،‘‘ نے کہا، ’’’وہ اپنے فرشتوں کو ہماری نگرانی کےلیے دے گا، کہ ہمارے تمام راستوں میں ہماری‘. . . یہ ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ مقدسین میں سے ہر ایک ذاتی طور پر محفوظ ہے۔ خُدا سیدھے راستے پر چلنے والے ہر مسافر میں ذاتی دلچسپی لیتا ہے، اور اُس کے تحفظ کے لیے اپنے فرشتوں کو نگرانی دیتا ہے‘‘ (سی. ایچ. سپرجیئن، ’’مقرر کردہ طریقوں سے فرشتانہ تحفظ Angelic Protection in Appointed Ways،‘‘ دی میٹرو پولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ سے The Metropolitan Tabernacle Pulpit، پلِگرِم اشاعت خانہ، دوبارہ اشاعت 1978، جلد 52، صفحہ 20).

لیکن یہ فرشتانہ تحفظ کے عظیم وعدے صرف چُنیدہ لوگوں پر نافذ العمل ہوتے ہیں۔ اگر آپ اُن میں سے نہیں ہیں تو آپ محفوظ نہیں ہیں – ناہی تو خُدا کی طرف سے اور نا ہی اُس کے فرشتوں کی طرف سے۔ آپ چیختی چلاتی ہوا میں بغیر حفاظت کے رہ جاتے ہیں۔ بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے۔ آپ کو توبہ کرنی چاہیے اور ایمان کے ساتھ یسوع مسیح کے پاس آنا چاہیے۔ یہاں تک کہ فرشتوں کی نگرانی کے ساتھ، وہ جو مذہبی طور پر تبدیل ہوئے ’’مشکل سے‘‘ نجات پاتےہیں (1۔ پطرس 4:18). ’’تو بے دین اور گنہگار کا حشر کیا ہوگا؟‘‘ (1۔پطرس، ibid.). جب قیامت کا خوفناک دھماکہ آئے گا، آپ جو بچائے نہیں گئے ہیں دائمی شعلوں میں جھلس [بہہ] جائیں گے! میں آپ سے التجا کرتا ہوں، مسیح کی طرف مڑیں۔ اُس کے پاس آئیں اور اپنے گناہوں سے پاک صاف ہوں! مسیح کا خون آپ کے ہر گناہ کو خُدا کی انصاف کی کتاب سے دھو سکتا ہے۔ یسوع کے پاس آئیں اور اپنے قصور اور گناہ کے کفارے سے بچائے جائیں! پھر خُداوند کے فرشتے آپ کے فرشتے ہوں گے، جو آپ کی حفاظت ’’آپ کی تمام راہوں‘‘ میں کریں گے – لیکن اِس سے قبل نہیں! اِس سے قبل نہیں! اِس سے قبل نہیں! انتظار مت کریں! ابھی مسیح کے پاس آئیں، جبکہ آپ جوان ہیں۔

مارٹن لوتھر صرف 29 سال کی عمر میں ایک اصلاح پسند تھا۔ اور اُس نے صرف 33 برس کی عمر میں مذہب کا سُدھار شروع کر دیا تھا۔ مسیح کے پاس ابھی آئیں، جبکہ آپ جوان ہیں، اور آپ بھی خُدا کے فرشتوں کے ذریعے سے محفوظ رہیں گے جیسے مارٹن لوتھر رہا تھا! یہ لوتھر ہی تھا جس نے کہا،

کہ فرشتے ہمارے ساتھ ہیں یہ بہت یقینی ہے، اور کسی کو بھی کبھی اِس پر شک نہیں کرنا چاہیے. . . وہ اِس زندگی میں حقیقی معنوں میں ہمارے اِرد گِرد ہیں، جو ہمارے معاملات کی راہنمائی کرتے ہیں اور اُن کے لیے مہیا کرتے ہیں. . . اس لیے ہمیں سیکھ لینا چاہیے کہ ہمارے بہترین اور سب سے زیادہ وفادار دوست نظر نہیں آتے ہیں۔ وہ نیک فرشتے ہیں، جو اپنی وفاداری اور بھلائی کی وجہ سے اور اپنی دوستی کی بے شمار خدمات کی وجہ سے ہمارے نظر آنے والے دوستوں سے کئی گُنا بہتر ہیں. . . اگر کچھ اچھا ہوتا ہے، تو یہ نیک فرشتوں کے ہی ذریعے سے مکمل طور پر ہوتا ہے (لوتھر نے کیا کہا What Luther Says، کانکرڈیا اشاعت گھر، ایڈیشن 1994، صفحہ 23؛ پیدائش 24:5۔7 پر تبصرے( .

بہت سے مسیحیوں کی اپنی زندگی میں ایسے مواقعے آئے تھے جب اُنہوں نے نگران فرشتوں کی موجودگی کو محسوس کیاتھا۔ چند دِن قبل ایک بنیاد پرست بپتسمہ دینے والے پادری نے، جو کہ میرا دوست بھی ہے، مجھے فرشتوں کے ساتھ اپنے تجربے کے بارے میں بتایا۔ اُس نے کہا، میرے خیال میں مَیں مارا جا چکا ہوتا اگر ایک فرشتے نے مجھے بچایا نہ ہوتا۔‘‘

مجھے یاد ہے کہ دو دفعہ جب میں نے یقین کیاکہ فرشتوں نے مجھے یہاں لاس اینجلیز میں تیز شاہراہ پر ہولناک حادثات سے بچایا۔ پہلا حادثہ اُس وقت ہوا تھا جب میں کار چلا کر پہلے چینی پبتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں ایک دعائیہ اِجلاس کے لیے جا رہا تھا۔ دھیمی دھیمی بارش ہو رہی تھی۔ میں ریڈیو پر موسیقی سُن رہا تھا۔ جہاں دونوں شاہراہیں ایک دوسرے میں ملتی ہیں میرے سامنے جانے والی گاڑی میں بیٹھے شخص نے یکدم بریکوں پر پیر دبا دیے۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ میرے گاڑی دائرے میں چکر کھانے لگی۔ جس تنگ سے ڈھلوان پر میں تھا اُس کے دونوں اطراف میں گرنے سے بچنے کے لیے بڑی رکاوٹیں [کالم] تھیں۔ جیسے ہی میری گاڑی تین مرتبہ گھومی، اور گھومی اور گھومی میں دیکھ سکتا تھا کہ کالمز چکر کھاتے ہوئے گزر رہے تھے ۔ میں جانتا تھا کہ اب میں مرنے والا ہوں۔ لیکن اچانک گاڑی رُک گئی۔ میرا رُخ اُلٹی طرف تھا۔ سامنے سکرین پر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ ریڈیو ابھی تک بج رہا تھا۔ میں نے اُسے بند کیا۔ وہاں خاموشی میں بیٹھے بیٹھے چند لمحات میں مجھے احساس ہوا کہ میں فرشتوں کے پروں کی آواز سُن سکتا تھا۔ پھر میں نے گاڑی موڑی اور دعائیہ اجلاس کی طرف چل پڑا۔ لیکن جب میں وہاں پہنچا تو دُعا نہیں کرسکا۔ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ مجھے لگ رہا تھا کہ جیسے میں بے ہوش ہو جاؤں گا۔ لیکن پاک کلام کی وہ آیات میرے ذہن میں گونجتی رہی تھیں،

’’کیونکہ وہ فرشتوں کو تیرے متعلق حکم فرمائے گاکہ وہ تیری سب راہوں میں تیری حفاظت کریں۔ وہ تجھے اپنے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے، کہیں ایسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو کسی پتھر سے ٹھیس لگ جائے‘‘ (زبور 91:11۔12).

ایک دوسرا شاہراہ کا مشاہدہ بھی میرے ذہن میں اُجاگر ہوتا ہے۔ وہ ہفتے کی رات گئے کا وقت تھا۔ مسٹر جینی ولِکرسن اور میں پہلے چینی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں تھے۔ اُنہوں نے مختصر اطلاع نامہ ٹائپ کیا تھا جبکہ میں نے لوگوں کی راہنمائی کرنے والوں کے صدر ہونے کی حیثیت سے گرجہ گھر کی صفائی کی، اور اگلی صبح جونیئر گرجہ گھر کے لیے اپنا واعظ تیار کیاتھا۔ پھر ہم نے مختصر اطلاع نامہ تہہ کیا اور میں مسٹر ولِکرسن کو شمالی لاس انجیلز میں اُن کے پساڈینا میں فلیٹ میں گاڑی پر چھوڑنے نکلا۔ میرے پاس ایک پرانی گاڑی تھی اُس کا ایندھن کی پیمائیش بتانے والا آلہ خراب تھا۔ میں نے سوچا کہ میرے پاس گھر واپس آنے کے لیے کافی مقدار میں ایندھن ہے، لیکن میں غلط تھا۔ جب میں لاس انجیلز کے لیے واپس چلا میری گاڑی کا ایندھن ڈاجر سٹیڈیم کے شمال میں، جنوب کی طرف جانے والی پساڈینا کی مخصوص شاہراہ پر ختم ہو گیا۔ پرانی شاہراہ ہونے کی وجہ سے اُسے نئی شاہراہوں کے مقابلے میں سُست رفتار گاڑیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ پساڈینا شاہراہ اپنے موڑوں اور اونچی نیچی سڑک کی وجہ سے مشہور تھی۔ وہ کم رفتار والی گاڑیوں کے داخلے اور اخراج کے لیے ڈیزائن کی گئی تھی۔ اُس کے کناروں پر حفاظتی اُبھار چھوٹے اور نا ہونے کے برابر تھے۔ وہ سڑک بہت تنگ ہے اور اِس کے زیادہ تر حصّوں میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں ہنگامی صورت میں ایک جانب گاڑی کو کھڑا کیا جا سکے۔ میں جنوب کی جانب جانے والے تنگ راستے میں تھا، وہاں گاڑی کے لیے کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں اُس کو سڑک سے اُتار کر کھڑا کیا جا سکے۔ میری گاڑی نے دھچکے کھائے اور اُس تنگ راستہ میں رُک گئی، جہاں بالکل میرے پیچھے ایک موڑ تھا۔ اُس موڑ کی جانب سے گھوم کر آنے والی اگلی گاڑی میری گاڑی کے پیچھے ٹکرا سکتی تھی۔ گاڑی سے باہر چھلانگ لگاتے ہوئے میں گھبرا گیا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ کیا کرناہے۔ لیکن جیسے ہی میں گاڑی سے باہر نکل میں نے اُونچی آواز میں ایک ہارن بجتے ہوئے سُنا۔ ایک چھوٹے قد کا آدمی شاہراہ کے ایک طرف زنجیر سے منسلک باڑھ کی دوسری طرف سے وی ڈبلیو بَگ میں سے باہر نکلا۔ اُس نے ایندھن کا ایک کنستر جیسے مچھلی کا شکار کرنے والا ڈنڈا ہوتا ہے اُس کے دوسرے سرے پر پھسایا ہوا تھا۔ پھر اُس نے ڈنڈے کو پھرکی کی طرح گھما کر لمبا کیا، اور اپنے سرے پر ایندھن کا کنستر لیے ہوئے زنجیر سے منسلک باڑھ کے اوپر سے وہ ایک دوربین کی طرح لمبا ہوتا گیا۔ اُس نے کہا، جلدی کرو، ایندھن اس میں ڈال لو۔‘‘ میں نے کنستر کو پکڑا، ایندھن گاڑی میں ڈالا، اور کنستر کو واپس اُس کے کھنچنے کے لیے کُنڈے میں لٹکا دیا۔ میں نے اُسے کچھ پیسے دینے کےلیے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ اُس نے کہا، ’’اِس کے بارے میں فکر مت کریں۔ جلدی سے، اپنی گاڑی میں جایئے۔ اِس کے بارے میں فکرمند نہ ہوئیں۔ میں ہر رات کو یہ کرتا ہوں۔‘‘ میں نے گاڑی میں چھلانگ لگائی اور چل پڑا۔ پھر مجھے یاد آیا۔ ’’میں ہر رات یہ کرتا ہوں۔‘‘ میرے رونگٹھے بائبل کی آیت سوچ کر کھڑے ہو گئے جس میں لکھا تھا، ’’بعض نے فرشتوں کی نادانستہ مہمان نوازی کی ہے‘‘ (عبرانیوں 13:2). میں نے اُس کی مہمان نوازی نہیں کی تھی، لیکن یقیناً اُس نے مجھے بچا لیا تھا!

’’کیونکہ وہ فرشتوں کو تیرے متعلق حکم فرمائے گاکہ وہ تیری سب راہوں میں تیری حفاظت کریں۔ وہ تجھے اپنے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے، کہیں ایسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو کسی پتھر سے ٹھیس لگ جائے‘‘ (زبور 91:11۔12).

میں اس طرح سے کہانی کے بعد کہانی سُنا سکتا ہوں، لیکن میں یہ واعظ اب ختم کرتا ہوں۔

میری بیوی آپ کو بتا سکتی ہے کہ میں ہر رات کو آپ کے لیے دُعا کرتا ہوں، جب آپ لاس اینجلز کی گلیوں اور کیمپسسز میں انجیل کی تبلیغ کے لیے نکلتے ہیں۔ یہ انتہائی بےہودہ ، خطرناک شہر کی گلیاں ہیں۔ میں ہمیشہ دُعا کرتا ہوں، ’’خُداوندا، مہربانی سے ہرکسی کی جو آج رات بشارتِ انجیل کے جارہا ہے حفاظت کرنا۔‘‘ ہم 35سالوں سے زیادہ عرصے سے اِن اندھیری گلیوں میں انجیل کے تبلیغ کے لیے لوگوں کو بھیجتے رہے ہیں۔ معجزانہ طور پر، کبھی بھی کسی کو نقصان نہیں پہنچا!

’’کیونکہ وہ فرشتوں کو تیرے متعلق حکم فرمائے گاکہ وہ تیری سب راہوں میں تیری حفاظت کریں ‘‘ (زبور 91:11).

فرشتے ہمارے ساتھ ہیں! انجیل کی بشارت کے لیے باہر جائیں! چوراہوں پر جائیں! کیمپسسز میں جائیں! گلیوں میں جائیں! فرشتے ہمارے ساتھ ہیں! کچھ بھی ہمیں رُوک نہیں سکتا! پھر، جائیے اور مسیح کی تابعداری کریں جس نے کہا،

’’راستوں اور کھیتوں کی باڑوں کی طرف نکل جا اور لوگوں کو مجبور کرکہ وہ آئیں اور میرا گھر بھر جائے‘‘ (لوقا 14:23).

باہر جائیں اور کھوئے ہوؤں کو انجیل کی بشارت دیں! کوئی آسیب آپ کو روک نہیں سکتا! شیطان خود آپ کو روک نہیں سکتا! کوئی ناراض انسان آپ کو روک نہیں سکتا! کچھ بھی آپ کو روک نہیں سکتا! فرشتے آپ کے ساتھ ہیں! جائیں اور کھوئے ہوؤں کو لائیں! کچھ بھی آپ کو روک نہیں سکتا! فرشتے ہمارے ساتھ ہیں!

کھڑے ہو جائے اور اپنی گیتوں کے ورق میں سے آخری گیت گائیے، ’’بشارتِ انجیل! بشارتِ انجیل!‘‘ شاعر ڈاکٹر اُوسولڈ جے. سمتھ۔

ہمیں اِس وقت کے لیےایک نعرہ عطا کر، ایک ہیجان انگیز لفظ، ایک قوت کا لفظ،
طبلِ جنگ، شعلوں بھری سانس، جو فتح کا سبب ہو یا موت کا۔
ایک لفظ جو سوئی ہوئی کلیسیا کو جگا دے، جو خُداوند کی شدید طلب پر توجہ دے۔
اشارہ مِل گیا ہے، اے میزبانوں، اُٹھو، ہمارا نعرہ بشارتِ انجیل ہے!

مسرور مبشرِانجیل یسوع کے نام کا تمام دُنیا میں اب دعویٰ کرتا ہے؛
یہ لفظ آسمانوں کی بُلندیاں چھورہا ہے: بشارتِ انجیل! بشارتِ انجیل!
مرتے ہوئے لوگوں کے لیے، ایک مٹتی ہوئی نسل نے، انجیل کے فضل کا تحفہ عام کردیا؛
اُس دُنیا کے لیے جو اب اندھیروں میں ڈوب چُکی ہے، بشارتِ انجیل! بشارتِ انجیل!
   (’’بشارتِ انجیل! بشارتِ انجیل!‘‘ شاعر ڈاکٹر اُوسولڈ جے. سمتھ، 1889۔ 1986؛ تبدیل کیا
     ڈاکٹر ہیمرز؛ بطرزِ ’’اور کیا ایسا ہو سکتا ہے؟‘‘ شاعر چارلس ویزلی، 1707۔1788).

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَینDr. Kreighton L. Chan ۔ لوقا 2:8۔16 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ: Mr. Benjamin Kincaid Griffith:
’’قدُوس، قدُوس، ہے جو فرشتے گاتے ہیں Holy, Holy, Is What the Angels Sing ‘‘
(شاعر جانسن اُیٹمین، جونئیر Johnson Oatman, Jr. ، 1856۔1922).