Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


انسان کا دِل – بچپن سے ہی بدکار

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 53)
MAN’S HEART – EVIL FROM YOUTH
(SERMON #53 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

محترم پادری ایمریٹس جناب ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے لکھا گیا ایک واعظ
اور جس کی تبلیغ پادری جیک نعان کے وسیلے سے کی گئی
بپتسمہ دینے والی چینی عبادت گاہ میں
خداوند کے دِن کی شام، 18 اکتوبر، 2026
A sermon written by Dr. R. L. Hymers, Jr., Pastor Emeritus
and preached by Jack Ngann, Pastor
at the Chinese Baptist Tabernacle
Lord’s Day Morning, October 18, 2026

’’انسان کے دِل کا ہر خیال بچپن ہی سے بدی کی طرف مائل ہوتا ہے‘‘
(پیدائش 8: 21)۔

یہاں ہمیں انسان کے دل کے مکمل اِخلاقی زوال کی ایک واضح تصویر ملتی ہے۔ یہ بات انتہائی قابلِ غور ہے کہ اگرچہ دورِ حاضرہ کے تراجم میں اسے ”انسان کے دل کا رجحان“ (نئی انٹرنیشنل نسخہٗ بائبل NIV) یا ”انسان کے دل کا ارادہ“ نئی امریکن معیاری بائبل (NASB) قرار دیا گیا ہے، لیکن قدیم تراجم میں اسے ”انسان کے دل کے تصورات“ (1599 کی جنیوا بائبل) اور (کِنگ جیمس نسخہٗ بائبل KJV) کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ، جب ہم دورِ حاضرہ کے اور پرانے تراجم کا موازنہ کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان کا دل محض برائی کی طرف مائل ہے، یا پھر خود اس کے ”تصورات“ ہی ”اس کے بچپن سے ہی برے“ ہیں؟ جب ہم عبرانی تلاوت کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں قدیم تراجم کی تائید کرنی چاہیے؛ یعنی یہ انسان کے دل کا ”تصور“ ہے جو برا ہے، نہ کہ محض اس کا ”رجحان“ یا ”ارادہ“۔ ”رجحان“ کا مطلب ہے ”برائی کی جانب جھکاؤ، برائی کی طرف مائل ہونا، یا برائی کی طرف ایک فطری استعداد یا میلان [رغبت]۔“ اس طرح، یہ دورِ حاضرہ کے تراجم تلاوت کے اصل مفہوم کو کمزور کر دیتے ہیں۔ عبرانی تلاوت ہمیں بتاتی ہے کہ انسان محض برائی کی طرف مائل یا جھکا ہوا نہیں ہے، بلکہ اس کے دل کے ”تصورات“ ہی بذاتِ خود برے ہیں۔ یہ محض برائی کی جانب ایک جھکاؤ یا میلان نہیں، بلکہ یہ بذاتِ خود برائی ہے!

اس طرح، ہم دیکھتے ہیں کہ دورِ حاضرہ کے ترجمے اچھی پرانی اصلاح اور مکمل اِخلاقی زوال کے بپٹسٹ نظریے سے پیچھے ہٹ کے واپس کیتھولک کلیسیا کے نقطہ نظر کی طرف چلے گئے ہیں کہ انسان صرف برائی کی طرف ’’مائل‘‘ ہے۔ لہٰذا جدید ترجمے ہمیں رومن کیتھولک نظریہ کی طرف واپس لے جاتے ہیں جس میں انسان کا دل صرف برائی کی طرف "مائل" ہوتا ہے۔ یہ لوتھر، اصلاح پسندوں اور ابتدائی بپتسمہ دینے والوں کی طرح کا نظریہ نہیں ہے۔ دورِ حاضرہ کے مترجمین کے نزدیک انسان برائی کی طرف محض ’’مائل‘‘ ہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ جدید ترجمے ہمارے بپٹسٹ/پروٹسٹنٹ امتیازات کو چھپانے میں کس طرح مدد کرتے ہیں اور روم کے ساتھ عالمگرانہ طور پر شامل ہونے کو زیادہ سے زیادہ قابل فہم بناتے ہیں۔

لیکن ہمارے پروٹسٹنٹ اور بیپٹسٹ آباؤ اجداد کے نزدیک، انسان محض جزوی طور پر بگڑا ہوا (یا گناہ آلود) نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی گناہ آلود حالت پر قابو پانے میں کچھ مدد دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، یعنی وہ خود کو اس حالت سے نجات دلانے کے لیے ”اپنا حصہ“ ڈال سکتا ہے۔ ماہرینِ اِلہٰیات اسے ”سائنرجزم یعنی متحدہ عمل synergism“ کہتے ہیں۔ مگر پُرانے دور کے اصلاح کار اور پیوریٹنزPuritans کا نظریہ ایسا نہیں تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ انسان ”گناہوں میں مردہ“ ہے (افسیوں 2: 5)۔

اگر پُرانے دور کے پیوریٹنز درست تھے، اور میرا ماننا ہے کہ وہ درست ہی تھے تو گناہ میں مبتلا انسان میں محض گناہ کرنے کا صرف رجحان ہی نہیں پایا جاتا۔ جی ہرگز نہیں!

’’اِنسان کے دِل کا ہر خیال [ناکہ اُس کا رجحان] بچپن ہی سے بدی کی طرف مائل ہے‘‘ (پیدائش 8: 21)۔

یہ عبرانی لفظ ظاہر کرتا ہے کہ پرانے دور کے مبلغین اور ماہرینِ اِلہٰیات درست تھے اور دورِ حاضرہ کے غلط ہیں۔ نئے دور کے لوگ تلاوت میں اس لفظ کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے ’رومن کیتھولک‘ مفہوم دیتے ہیں، جو کہ کہیں زیادہ نرم ہے اور غیر تبدیل شدہ (یعنی ایمان نہ لانے والے) انسان کے نفسانی ذہن کے لیے زیادہ قابلِ قبول ہے۔ عبرانی لفظ جس کا ترجمہ ’تصورimagination‘ کیا گیا ہے، اس کا ترجمہ ’رجحان inclination‘ یا ’ارادہ intent‘ نہیں ہونا چاہیے۔ ’کنگ جیمز بائبل KJV‘ میں استعمال ہونے والا لفظ ’تصور‘ ایک ایسے عبرانی لفظ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ”مقصد، ہیّت، یا [ذہن کی] ساخت“ (سٹرانگ # 336)۔ انسان کے دل کا انتہائی مقصد، اس کی ہیّت اور اس کی ساخت ہی ”اس کے بچپن سے ہی بُری ہے“، نہ کہ صرف اس کے رجحانات اور ارادے! لہٰذا، دورِ حاضرہ کے تراجم میں استعمال ہونے والے الفاظ کی نسبت ’کنگ جیمز بائبل‘ کا لفظ ’تصور‘ کہیں بہتر ہے۔ ’تصور‘ پورے دل کی کیفیت کو بیان کرتا ہے، نہ کہ محض اس کے کسی رجحان یا ارادے کو۔

پیدائش 8: 21 جیسی آیات کی روشنی میں، 16ویں صدی کی ’بیداری‘ نے انسان کے ’مکمل اِخلاقی زوال‘ سے متعلق بائبلی تعلیم کو دوبارہ بحال کیا۔

’’انسان کے دِل کا ہر خیال [مقصد، ہیّت] بچپن سے لی بدی کی طرف مائل ہے‘‘ (پیدائش 8: 21)۔

I۔ پہلی بات، طوفان سے پہلے انسان کی یہی حالت تھی۔

ہم پیدائش 6: 5 آیت میں پڑھتے ہیں،

’’خدا نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6: 5)۔

انسانی فطرت کے بارے میں یہ وہ نظریہ نہیں ہے جو اکثر لوگوں کا ہے۔ قدیم زمانے میں، غیر مسیحی اقوام انسان کے وقار اور اس کی اچھائی کا ذکر کیا کرتی تھیں۔ قدیم فلسفیوں کا کہنا تھا کہ انسان ایک برتر مخلوق ہے، جس میں خود کو بہتر بنانے کی صلاحیت موجود ہے؛ جیسا کہ مغرب میں سقراط اور مشرق میں کنفیوشس نے کہا تھا۔ بعد ازاں، عہدِ مسیحیت میں بھی، بہت سے لوگوں نے انسان کی صلاحیتوں اور اس کی فطرت کی بھرپور تحسین کی۔

یہ ایراسمسErasmus (1466-1536) کی کیتھولک تعلیم اور اصلاح پسندوں کے درمیان بنیادی فرق تھا۔ کیا انسان مکمل طور پر اِخلاقی زوال میں گرا ہوا تھا، یا انسانی فطرت میں کوئی ایسی چیز رہ گئی تھی جو خدا کے ساتھ تعاون کر سکے؟ ایراسمس نے کہا کہ انسان کا دل خدا کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے آزاد ہے، کہ انسان خدا کی فرمانبرداری کے لیے ’’فیصلہ‘‘ کر سکتا ہے۔ اصلاح پسندوں نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے، وہ

’’اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ پیدائش 6: 5)۔

’مکمل اِخلاقی زوال‘ کو لوتھر نے وہ ”مرکزی نکتہ“ قرار دیا جس پر سب کچھ منحصر ہے، کیونکہ اسی سے یہ طے ہوتا ہے کہ آیا مسیحیت ’فضل‘ کا مذہب ہوگی یا ’اعمال‘ کا۔

اگرچہ کیتھولک کلیسیا اور ’’فیصلہ سازی پر زور دینے والے‘‘، بیپٹسٹ اور پروٹسٹنٹ یہ تعلیم دیتے ہیں کہ انسان کو خدا کی طرف رجوع کرنے یا جواب دینے کی آزادی حاصل ہے، لیکن بائبل اس کے بالکل برعکس تعلیم دیتی ہے۔ بائبل بتاتی ہے کہ انسان باغِ عدن میں (گناہ میں) گر گیا تھا۔

”ایک آدمی کے ذریعے گناہ دنیا میں آیا، اور گناہ کے ذریعے موت؛ اور یوں موت تمام انسانوں تک پھیل گئی“ (رومیوں 5: 12)۔

آدم کی نافرمانی کی وجہ سے سارے لوگ گنہگار شمار کیے گئے کیونکہ

’’آدم میں سب مرتے ہیں‘‘ (I کرنتھیوں 15: 22)۔

تو پھر گمراہ ہوا، گناہ سے بھرپور

’’اُس کی اپنی مانند ایک بیٹا پیدا ہوا‘‘ (پیدائش 5: 3)۔

اُس کے لیے ممکن ہی نہیں تھا کہ کسی دوسری طرح کے بیٹے کا باپ بن سکے، کیونکہ

”کون ناپاک میں سے پاک چیز نکال سکتا ہے؟ کوئی بھی نہیں“ (ایوب 14: 4)۔

نتیجے کے طور پر، ساری نسلِ انسانیت نے وہ فطرتیں وراثت میں پائی جو ہیں

’’گناہوں میں مُردہ‘‘ (افسیوں 2: 5)،

”اُمید سے محروم اور دُنیا میں خُدا کے بغیر“ (افسیوں 2: 12)۔

اور یوں، تمام بنی نوع انسان پیدا ہوتے ہیں جیسے

’’نافرمانی کے بچے‘‘ (افسیوں 2: 2)۔

’’فطرتاً قہر کے بچے‘‘ (افسیوں 2: 3)۔

پس، ہر انسان سچے طور پر کہہ سکتا ہے،

”میں بدی میں تشکیل پایا؛ اور میری ماں نے مجھے گناہ میں حاملہ کیا“ (زبور 51: 5)؛

کیونکہ

’’وہ تمام گناہ کے تحت ہیں‘‘ (رومیوں 3: 9).

”کیونکہ سب نے گناہ کیا ہے اور خدا کے جلال سے محروم ہیں“ (رومیوں 3:23)۔

اس لیے خداوند نے نیچے نسل انسانی پر نگاہ ڈالی اور کہا،

’’کوئی راستباز نہیں، ایک بھی نہیں … سب کے سب گمراہ ہو گئے ہیں … کوئی نہیں جو بھلائی کرتا ہو، ایک بھی نہیں‘‘ (رومیوں 3: 10، 12)۔

اَس لیے، جب خدا نے آسمان سے نیچے نگاہ ڈالی، تو اُس نے

’’دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت زیادہ ہو گئی تھی، اور کہ اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں ‘‘ (پیدائش 6: 5)۔

کوئی کہہ سکتا ہے، ’’یہ اعلیٰ کیلونزم ہے!‘‘ لیکن آپ غلط ہیں۔ میں جان ویزلی کے ایک واعظ کی تشریح کر رہا ہوں، جو ایک آرمینیائی تھا، اور بالکل کیلونسٹ نہیں تھا! (’’موروثی گناہ سے Of Original Sin‘‘ تحریر محترم جناب جان ویزلی، ایم اے۔ Rev.John Wesley, M.A.، جان ویزلی کے اعمال The Works of John Wesley، بیکر کُتب گھر Baker Book House، دوبارہ اشاعت 1979، جلد VI، صفحات 54۔55)۔ میں شاید اتنی ہی آسانی سے جان بنعیان، ہمارے مشہور بپتسمہ دینے والے پیشوا، یا سپرجیئن، جو ہمارے زمانے کے بپتسمہ دینے والے مبلغ ہیں، کی تشریح کر سکتا ہوں! یہ حقیقی بپتسمہ دینے والے اور پروٹسٹنٹ آرتھوڈوکس کا ایک مرکزی نقطہ ہے، اگرچہ یہ اب کیتھولک اور انجیلی بشارت کی ’’فیصلہ پسندی‘‘ کے ذریعہ بگڑ چکا ہے۔ یہ مکمل بگاڑ یا اِخلاقی زوال کا نظریہ ہے جو بپٹسٹوں کی گریٹ لندن کانفیشن، پریسبائٹیرینز کے ویسٹ منسٹر کانفیشن، لوتھرین کے ہائیڈلبرگ کانفیشن، اور چرچ آف انگلینڈ کے انتیس آرٹیکلز میں پایا جاتا ہے۔ یہ انسان کی مکمل بدحالی یا اِخلاقی زوال کا نظریہ ہے، جو ایک طرف تو رومن کیتھولک کے درمیان بنیادی فرق تھا، اور دوسری طرف بپتسمہ دینے والوں اور پروٹسٹنٹوں کے درمیان بنیادی فرق ہے، ’’وہ قبضہ جس پر سب کا رخ ہے۔‘‘ تلاوت اس غلط تعلیم کو درست کرتی ہے۔ یہ سیلاب سے پہلے انسان کی تاریک تصویر پیش کرتی ہے۔

’’اور خدا نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت زیادہ ہو گئی تھی، اور کہ اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6: 5)۔

II۔ دوسری بات، طوفان کے بعد بھی انسان کی یہی حالت رہی۔

اس عظیم تباہی سے انسان میں کچھ بھی نہیں بدلا۔ سیلاب سے پہلے خدا نے انسان کی طرف دیکھا اور دیکھا

’’کہ اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6: 5)۔

سیلاب کے بعد خدا نے کہا،

’’انسان کے دِل کے خیالات پچپن سے ہی ہیں‘‘ (پیدائش 8: 21)۔

چنانچہ، ایک اضافی خیال یہ ہے کہ انسان کے دل کی بُری فطرت بچپن ہی سے، یعنی ”اس کی نوعمری کے زمانے سے“، موجود ہوتی ہے۔

”وہ پیدا ہوتے ہی بھٹک جاتے ہیں“ (زبور 58: 3)۔

سپرجیئن نے کہا،

طوفانِ نوح کے بعد بھی صورتِ حال بالکل ویسی ہی ہے... آپ نے شاید یہ امید کی ہوگی کہ اتنے ہولناک فیصلے… جس میں محض آٹھ افراد ہی بچ پائے تھے… کہ اب انسان کی فطرت میں بہتری آئے گی۔ [لیکن] ایسا نہیں ہے... وہی خدا جس نے طوفان سے پہلے انسان کو دیکھ کر یہ قرار دیا تھا کہ اس کے خیالات برے ہیں، طوفان کے بعد بھی ان کے بارے میں وہی فیصلہ سناتا ہے۔ اے خدا! انسانی فطرت کتنی مایوس کن ہے! یہ کتنا ناممکن ہے کہ نفسانی ذہن خدا کے ساتھ صلح کر سکے!... یہاں تک کہ تیرے فیصلوں (عذابوں) کے سیلاب بھی اسے اس کے برے تصورات سے پاک نہیں کر سکتے!۔۔۔ ڈاکٹر ڈک Dr. Dick کہتے ہیں: ”انسان کے تمام خیالات، تمام خواہشات اور تمام ارادے، خواہ صراحتاً ہوں یا اشارتاً، برے ہوتے ہیں؛ کیونکہ ان کا موضوع ہی کھلم کھلا گناہ پر مبنی ہوتا ہے، یا اس لیے کہ ان کی بنیاد کسی پاکیزہ اصول پر نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کا رخ کسی درست مقصد کی جانب ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ انسانی روح کبھی کبھار بگاڑ (اِخلاقی زوال) کے زیرِ اثر آتی ہو، بلکہ یہ تو اس کی عادت اور کیفیت ہے۔ کوئی ایسا جملہ تشکیل دینا ناممکن ہے جو اس کی مکمل تباہ حالی (فساد) کو اس سے زیادہ واضح انداز میں بیان کر سکے“ (سی ایچ سپرجیئن، ”انسانی زوال اور الہی رحمت Human Depravity and Divine Mercy“، میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ The Metropolitan Tabernacle Pulpit، پلگرم پبلیکیشنز، 1979 کی دوبارہ اشاعت، جلد گیارہ، صفحات 99-100)۔

’’اُس کے دِل کے خیالات کا ہر تصور ہمیشہ صرف بدی کی طرف مائل رہتا ہے‘‘ (پیدائش 6: 5)۔

”انسان کے دل کے خیالات اس کی نوعمری ہی سے برے ہوتے ہیں۔“ (پیدائش 8: 21)

’’اُن کی عقل تاریک ہو گئی ہے، اور وہ اپنی سخت دِلی کے باعث جو اُن میں ہے جہالت میں گرفتار ہیں اور خدا کی دی ہوئی زندگی میں اُن کا کوئی حصہ نہیں‘‘ (افسیوں 4: 18)۔

یہی وجہ ہے کہ اٹھارویں صدی کے حمدوثنا کے گیت لکھنے والے جوزف ہارٹ نے انسان کو یوں بیان کیا: ”گناہگار اور پست؛ ایک سخت دل گروہ، ایک باغی نسل“ (”خدا کے تمام چنے ہوئے مقدسو، آؤ“ شاعر جوزف ہارٹ، 1712-1768)۔ اگرچہ جوزف ہارٹ کی پرورش ایک مسیحی گھرانے میں ہوئی تھی، لیکن وہ (ایمان کی تبدیلی کے تجربے سے) محروم رہے۔ انہوں نے کہا،

اپنی عمر کے اکیسویں برس کے لگ بھگ، میں اپنی جان کے معاملے میں شدید بے چینی کا شکار ہونے لگا … گناہ کرنے اور توبہ کرنے، نیک اعمال کی کوشش کرنے اور (خدا کے غضب سے) ڈرنے کے اس پرتشویش سلسلے میں، میں آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ میں اپنی فطرت کی برائی، اپنے دل کی فریب کاری اور سختی … اپنی مسیحی زندگی کے سطحی پن، اور اپنی عقیدت کی اندھی کیفیت کے احساس میں مزید گہرائی تک دھنستا چلا گیا۔ میں نے دیکھا کہ میں ایک خطرناک حالت میں ہوں، اور اس سے پہلے کہ میں خود کو ’مسیحی‘ کہہ سکوں … میرے پاس اس سے کہیں بہتر مذہب (یا ایمان) ہونا چاہیے جو اب تک میرے تجربے میں رہا تھا… لیکن، افسوس! یہ کام میرے لیے اتنا ہی ناممکن تھا جتنا کہ مردوں کو زندہ کر دینا (جوزف ہارٹJoseph Hart، ہارٹ کے حمدوثنا کے گیت Hart’s Hymns، اولڈ پاتھس گوسپل پریس Old Paths Gospel Press، دوبارہ اشاعت 1965، دیباچہ، صفحات v۔vi)۔

میرا ایک دوست، جو ایریزونا کے شہر ٹیمپے (Tempe) میں ایک پادری تھا، اپنی زندگی کے آخری ایام میں، جب وہ آہستہ آہستہ موت کی طرف بڑھ رہا تھا، ہر چند دنوں بعد مجھ سے ٹیلیفون پر بات کیا کرتا تھا۔ ہماری ان متعدد گفتگوؤں میں سے ہر ایک کے دوران، وہ اس سوال پر گہری سوچ میں ڈوب جاتا اور حیران ہوتا کہ آج ہمارے کلیسیاؤں میں گناہ کے تحت سزایابی کا احساس اتنا کم کیوں ہے۔ وہ ہماری ہر گفتگو میں یہی کہتا: ”مجھے حیرت ہے کہ آج گناہ کا احساس اتنا کم کیوں ہے؟“ میں جانتا تھا کہ وہ موت کے قریب ہے اور کینسر کی وجہ سے شدید تکلیف میں مبتلا ہے، یہ کینسر اس کے پورے جسم میں پھیل چکا تھا، اس لیے میں نے اسے کوئی مشورہ دینے کے بجائے صرف اس کی باتیں سنیں، تاکہ اس کے آخری لمحات کے خیالات میں کوئی خلل نہ ڈالوں۔ ”مجھے حیرت ہے کہ آج گناہ کے تحت سزایابی کا احساس اتنا کم کیوں ہے؟“ اس نے ہماری گفتگوؤں کے دوران بار بار یہی بات کہی۔ موت کے بستر پر پڑے ہوئے، یہ بات اسے بے حد پریشان کر رہی تھی۔ کچھ عرصہ بعد، میں اس کی آخری رسومات (جنازے) میں شرکت کے لیے ایریزونا گیا۔ وہاں کئی ممتاز بیپٹسٹ مبلغین نے خطاب کیا، لیکن مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کہ انہوں نے کیا کہا۔ جب میں اس کے کلیسیا کے کھچا کھچ بھرے ہال میں بیٹھا تھا، تو بار بار اسی سوال کے بارے میں سوچتا رہا: ”آج گناہ کے تحت سزایابی کا احساس اتنا کم کیوں ہے؟“ پوری آخری رسومات کے دوران، اس کے یہ الفاظ میرے ذہن میں گونجتے رہے۔

آہستہ آہستہ، اس کے جنازے کے بعد کے ہفتوں اور مہینوں میں، آخرکار میں ایک جواب پر پہنچا۔ میں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ اس کا سوال ایک انتہائی اہم سوال ہے، درحقیقت ان برے دنوں کے بارے میں سب سے اہم بات ہے جو ایک مبلغ سوچ سکتا ہے۔ اور اب مجھے لگتا ہے کہ میرے پاس جواب ہے۔ ہم گناہ کے تحت سزایابی کو اس طرح نہیں دیکھتے جس کا جوزف ہارٹ، اور بہت سے دوسرے لوگوں نے پہلی عظیم بیداری میں، بڑے پیمانے پر تجربہ کیا کیونکہ ہم گناہ کے تحت سزایابی والے واعظوں کی تبلیغ نہیں کرتے ہیں، اور ہم میں سے چند لوگ دل سے دعا کرتے ہیں کہ کھوئے ہوئے لوگوں کو روح کی سزا دینے والی ایسی اذیت کا سامنا کرنا پڑے جیسا کہ جوزف ہارٹ اور ہزاروں دوسرے لوگوں نے محسوس کیا، بہتر اور واضح روحانی ادوار میں۔ اب ہم سوچتے ہیں کہ ہارٹ کی طرح یقین اہم نہیں ہے، شاید عجیب، یا نفسیاتی طور پر عجیب ہے۔ اب ہم سوچتے ہیں کہ ہمیں صرف بائبل کی تعلیم دینے کی ضرورت ہے، اور لوگوں کے لیے اس طرح کے اعتقاد کی تلاش کے لیے دعا اور تبلیغ کرنے کی ضرورت نہیں۔ مبلغین ایک فوری فیصلے سے مطمئن ہو گئے ہیں، اور وہ روح کی اذیت کو بھول گئے ہیں جس کا تجربہ ہمارے آباؤ اجداد نے کیا تھا جب انہوں نے حقیقی تبدیلی کا تجربہ کیا تھا۔ لیکن میں ’’مسیح کے لیے‘‘ فوری اور غیر جذباتی فیصلوں سے مطمئن نہیں ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ ایسے ’’فیصلے‘‘ انسانی دل کو حقیقی معنوں میں تبدیل نہیں کریں گے۔ حقیقی تبدیلیاں تقریباً ہمیشہ روح کی کچھ اذیتوں کے ساتھ ہوتی ہیں جس سے جوزف ہارٹ اپنی تبدیلی کے دوران گزرے تھے، جو اس زمانے میں بہت عام تھا، لیکن ہمارے زمانے میں بہت کم ہے۔

اور، اس لیے، مجھے گناہ کے تحت سزایابی کے سچے دل دہلا دینے والے یقین کی حقیقت کی تبلیغ کرنی چاہیے۔ مجھے آپ کو ماضی کے احیاء [حیات نو کے اِجلاسوں] کے حقیقی مردوں اور عورتوں کی اپنی تبلیغ میں مثالیں دینی چاہییں جنہوں نے اپنے دلوں کی بری حالت کو جان لیا تھا۔ یاد رکھیں کہ 18ویں صدی کے عظیم مبشر جارج وائٹ فیلڈ نے بار بار اپنی آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ، جب اُن کا دل جذبات سے پھٹنے کے لیے تیار تھا کہا کہ کوئی بھی حقیقی معنوں میں تب تک تبدیل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اسے یقین نہ ہو کہ وہ ایک مکمل طور پر منحرف گنہگار ہے، جو اسے محسوس کراتا ہے۔

”میں کیسا بدبخت انسان ہوں! اِس موت کے بدن سے مجھے کون چھڑائے گا؟“ (رومیوں 7: 24)۔

اگر خدا کی طرف سے عطا کردہ ایسی اندرونی مایوسی نہ ہو، تو شاید ہی کوئی مسیح میں سکون پا سکے، یا اُس کے اُس خون کے وسیلے سے پاک ہو سکے جو تمام گناہوں کا کفارہ ادا کرتا ہے۔

اور آپ کی روح کا کیا حال ہے؟ کیا آپ مسیح میں پیش کی جانے والی نجات کی دعوت کے تئیں سرد مہر ہیں؟ اگر ایسا ہے، تو کیا اس کی وجہ یہ نہیں کہ آپ نے اپنے دل کی ہولناک فطرت کو محسوس نہیں کیا؟ کیا اس کی وجہ یہ نہیں کہ آپ یہ سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ آپ ایک ناپاک وجود ہیں، اور یہ کہ آپ اپنے دل کی گہرائیوں میں یسوع کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے؟

اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کا دل مسخ ہو چکا ہے اور بدکار ہے تو آپ مسیح کے پاس بھاگے چلے آئیں گے، کوئی سوال نہیں کریں گے، اس کے پاس کیسے آنا ہے کے بارے میں کوئی جواب نہیں ڈھونڈیں گے۔ آپ یسوع کے پاس دوڑیں گے، اس کے قدموں پر گریں گے، اور گناہ کی وجہ سے اس طرح لٹ گئی اور مردہ، اپنی تباہ شدہ روح کو بچانے کے لیے اس سے التجا کریں گے۔

دیکھیں، وہ آپ کے لیے صلیب پر جان دیتا ہے، تاکہ آپ کے گناہ کی ہولناک قیمت ادا کر سکے! دیکھیں کہ، وہ مردوں میں سے جی اٹھتا ہے تاکہ آپ کی اس زخمی روح کو زندگی بخشے، جو ’زوال‘ (گناہ میں گرنے) کے باعث بگڑ چکی تھی اور تباہ ہو گئی تھی! اگر آپ کو اپنی بگڑی ہوئی حالت کا ذرا سا بھی احساس ہے، تو مسیح کی پناہ میں بھاگے چلے آئیں، خود کو پوری طرح اس کی بانہوں میں سونپ دیں، اور یسوع آپ کے اِس اِخلاقی بگاڑ کو شفا دے گا اور آپ کے اندر ”ایک درست روح“ بحال کر دے گا۔ اگر آپ کو اپنے گناہ کا ذرا بھی احساس ہے، تو فوراً یسوع کے پاس آ جائیں! ”اب اس سرخ دھارے (خون) میں ڈبکی لگاؤ، جو آپ کو برف کی مانند سفید کر دیتا ہے!“

کیونکہ یسوع نے اپنا قیمتی خون بہایا تھا،
   فراوانی سے نعمتیں عطا کرنے کے لیے؛
سُرخی مائل سیلاب میں ابھی ڈبکی لگائیں
   جو برف کی مانند سفید شفاف صاف کر دیتا ہے۔
صرف اُسی پر بھروسہ کریں، صرف اُسی پر بھروسہ کریں،
   صرف اُسی پر ابھی بھروسہ کریں۔
وہ آپ کو بچائے گا، وہ آپ کو بچائے گا،
   وہ ابھی آپ کو بچائے گا۔
(’’صرف اُسی پر بھروسہ کریں Only Trust Him‘‘ شاعر جان ایچ. سٹاکٹنJohn H. Stockton، 1813۔1877)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب

انسان کا دِل – بچپن سے ہی بدکار

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 53)
MAN’S HEART – EVIL FROM YOUTH
(SERMON #53 ON THE BOOK OF GENESIS)

ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’انسان کے دِل کا ہر خیال بچپن ہی سے بدی کی طرف مائل ہوتا ہے‘‘
(پیدائش 8: 21)۔

(افسیوں 2: 5)

I.   پہلی بات، طوفان سے پہلے انسان کی یہی حالت تھی، پیدائش 6: 5؛
رومیوں 5: 12؛ I کرنتھیوں 15: 22؛ پیدائش 5: 3؛ ایوب 14: 4؛
افسیوں 2: 5، 12، 2، 3؛ زبور 51: 5؛ رومیوں 3: 9، 23، 10، 12۔

II.  دوسری بات، طوفان کے بعد بھی انسان کی یہی حالت رہی، پیدائش 6: 5؛ زبور 58: 3؛ افسیوں 4: 18؛ رومیوں 7: 24۔