اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔
واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔
جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔
سیلاب سے متعلق چار سوالات کے جوابات(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 48) ایمریٹس پادری جناب محترم ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے لکھا گیا ایک واعظ ’’سب سے پہلے تمہیں یہ جان لینا چاہیے کہ آخری دِنوں میں ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی گزاریں گے اور تمہاری ہنسی اُڑائیں گے اور کہیں گے کہ مسیح کے آنے کا وعدہ کہاں گیا؟ ہمارے آباؤاِجداد مر چکے اور تب سے اب تک سب کچھ ویسا ہی چلا آ رہا ہے جیسا کہ دُنیا کے پیدا ہونے کے وقت تھا‘‘ (II پطرس 3: 3۔4)۔ |
کلامِ مقدس کا یہ حوالہ ہمیں بتاتا ہے کہ آخری ایام میں لوگ بائبل کا مذاق اڑائیں گے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ مسیح کی دوسری آمد اور حتمی عدالت پر یقین نہیں رکھیں گے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ وہ ’’جان بوجھ کر انجان‘‘ بن جائیں گے اس حقیقت سے کہ خدا نے عظیم طوفان کے پانیوں کے ذریعے دنیا کا انصاف کیا تھا۔ یہ بتاتا ہے کہ وہ یکساں نظامِ فطرت uniformitarianism کے قائل اور ڈارون کے نظریات کے پیروکار ہوں گے، جو اس خیال کو رد کرتے ہیں کہ خدا دنیا کا انصاف غضبناک قیامت کے ذریعے کرے گا، جیسا کہ اس نے ماضی میں طوفان کے ذریعے دنیا کا انصاف کیا تھا۔
لیکن ’’آخری ایام‘‘ کے لوگ ڈارون کے ارتقائی نظریے اور ارضیات کے یکساں نظامِ فطرت والے تصورات میں اس قدر ڈوبے ہوئے ہیں کہ نوح کے زمانے کے طوفان کے بارے میں ان کے ذہنوں میں بہت سے سوالات ہیں۔ آج میں چند منٹ نکال کر ان میں سے کچھ سوالات کے جواب دوں گا۔
I۔ پہلی بات، غاروں میں بسنے والے لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟
ہم نے غاروں میں بسنے والے لوگوں کے بارے میں سنا ہے۔ کیا ایسی مخلوق تھی؟ ٹھیک ہے، یقیناً ایسے لوگ تھے! ڈاکٹر ہائیمرز کی والدہ کے والد، ان کے دادا ڈیڈ فلاورزDad Flowers، انیسویں صدی کے اوآخر میں، جب بھینسوں کے بہت بڑے ریوڑ موجود تھے، نیبراسکا کے میدانی علاقوں میں ایک چھوٹے بچے کی طرح، زمین کے نیچے، گارے اور گھاس پھوس سے بنے ایک گھر sod house میں رہتے تھے۔ ڈاکٹر جان آر رائس نے کچھ لوگوں کے بارے میں بتایا جو وہ جانتے تھے کہ وہ مغربی ٹیکساس کے ایک غار میں اس وقت رہتے تھے جب وہ ایک چھوٹا لڑکا تھے، کیونکہ انہوں نے ایک چھوٹا سا فارم خریدنے کے لیے ریزہ ریزہ جوڑ کر پیسے بچائے تھے۔ بہت سے مقامی امریکی پہاڑوں سے کھودے گئے غاروں اور گھروں میں رہتے تھے۔ بلاشبہ پوری تاریخ میں ایسے لوگ رہے ہیں جو غاروں اور زیر زمین مکانوں میں رہتے تھے۔
لیکن وہ نام نہاد ’’غاروں کے باسی‘‘آج کے انسانوں سے ذرا بھی مختلف نہیں تھے۔ ان کے جو باقیات (آثارِ متحجر) ملے ہیں، ان میں سے کچھ عجیب و غریب دکھائی دیتے ہیں۔ مگر میں نے لاس اینجلز کی سڑکوں پر رات کے وقت ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو عجیب لگتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ گنوار یا ناقص العقل ہیں۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے کچھ بیمار ہیں، کچھ جسمانی نقائص کا شکار ہیں اور کچھ بہت عمر رسیدہ ہیں۔ اگر ان کی ہڈیاں فوسل بن جائیں اور صدیوں بعد ملیں، تو کوئی بھی یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ کوئی دوسری نوع (نسل) تھے یا کوئی ’’گمشدہ کڑی‘‘ تھے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ جی ہاں، انسانی نسل میں ہمیشہ سے جسمانی نقائص اور انوکھی خصوصیات پائی جاتی رہی ہیں۔ ہاں، ہمیشہ ایسے لوگ بھی رہے ہیں جو پُلوں کے نیچے، غاروں یا زمین میں کھودے گئے گڑھوں میں رہتے ہیں۔ لیکن یہ ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کا ثبوت نہیں ہے۔ یہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ گناہ نے انسان کو، اور اس زمین کو جس پر وہ بستا ہے، شدید نقصان پہنچایا ہے۔
تو پھر ان ’’غاروں کی تصاویر‘‘ کا کیا معاملہ ہے جو فرانس اور دیگر مقامات پر غاروں کی دیواروں پر بنائی گئی تھیں؟ درحقیقت، یہ کوئی ایسی غیر معمولی چیز تو نہیں ہے، ہے نا؟ الجھن کا شکار اور اکثر نشے میں دھت نوجوان لاس اینجلز، شکاگو، نیویارک اور دنیا بھر کے دیگر کئی شہروں میں عمارتوں کی دیواروں پر ایسی ہی ’’علامتی تحریریں‘‘ (یا عجیب و غریب نقوش) بناتے رہتے ہیں۔ یہ لڑکے کوئی ’’غاروں کے باسی‘‘ نہیں ہیں، بلکہ محض گلیوں میں آوارہ پھرنے والے، نجات پائے جانے سے محروم بچے اور گنہگار ہیں – بالکل ان لوگوں کی طرح جو صدیوں سے دیواروں اور عمارتوں پر یا دیواروں پر بھدی سی آرائش [گرافٹی] کُنندہ کرتے رہے ہیں۔ فرانس کے کسی غار میں موجود تصاویر ’’غاروں کے باسیوں‘‘ کا اس سے زیادہ ثبوت نہیں دیتیں جتنا کہ مشرقی لاس اینجلس کی دیواروں پر بنی گرافٹی دیتی ہے! اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ فرانس کے کسی غار میں رہنے والے، یا شاید وہاں کھیلنے والے بچے، دیوار پر جانوروں کی تصاویر بنائیں۔ بچوں کو ہمیشہ سے جانوروں کی تصاویر بنانا پسند رہا ہے۔ یہ ’’گنوار یا ناقص العقل ہونے کا‘‘ یا ’’گمشدہ کڑیوں‘‘ کے طور پر ’’غاروں کے باسیوں‘‘ کا کوئی ’’ثبوت‘‘ نہیں ہے!
II۔ دوسری بات، ڈائینوسارز کے ساتھ کیا رونما ہوا؟
ڈاکٹر جان سی وھٹکومب Dr. John C. Whitcomb اور ڈاکٹر ہنری ایم مورس Henry M. Morris نے اپنی اہم تصنیف پیدائش کا سیلاب The Genesis Flood میں کہا،
ان طاقتور مخلوقات کا اچانک معدوم ہو جانا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے طویل عرصے تک زمین پر حکمرانی کی یکسان نظام فطرت کی ارضیاتی سائنس جو آثارِ متحجر [فوسلز] جانداروں اور ان سے متعلقہ باقیات کا مطالعہ کرتی ہے(uniformitarian paleontology) کے عظیم اسراروں میں سے ایک ہے۔ اس حوالے سے مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں، مثلاً آتش فشاں کے ذریعے تباہی، ماحولیاتی تبدیلیاں، ممالیہ جانوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا ڈائینوسار کے انڈے کھا جانا، یا ڈائینوسار میں کسی قسم کی وبائی بیماری کا پھیلنا وغیرہ۔ یہ وہ چند نظریات ہیں جو دنیا بھر میں ڈائینوسار کے اچانک معدوم ہونے کی وضاحت کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ اگرچہ ہر نظریہ کسی خاص مقام پر کچھ ڈائینوسار کی ہلاکت کی توجیہہ تو پیش کر سکتا ہے، لیکن ان میں سے کسی ایک یا کئی نظریات کے مجموعے کا اطلاق پوری دنیا میں ان کے معدوم ہونے کے واقعے پر کرنے کی کوششیں ناکام رہی ہیں... [تاہم] بائبل میں مذکور ’طوفانِ نوح‘ اس معاملے کا ایک نہایت مناسب حل پیش کرتا ہے... یہ عظیم الجثہ رینگنے والے جانور طوفان کے پانیوں کی نذر ہو گئے، ڈوب گئے اور ان پانیوں کے نیچے دب گئے (جان سی وھٹکومب ٹی ایچ ڈی اور ہنری ایم مورس پی ایچ ڈی، پیدائش کا سیلاب The Genesis Flood، بیکر کُتب گھر Baker Book House، 1983 ایڈیشن، صفحات 279-280)۔III۔ تیسری بات، طوفانِ نوح سے پہلے لوگ اتنی طویل عمر تک کیوں زندہ رہتے تھے؟
ڈاکٹر وھٹکومب اور ڈاکٹر مورس نے کہا،
ریکارڈز کے مطابق، طوفانِ نوح سے قبل انسان 900 سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ زندہ رہتا تھا! ان اعداد و شمار کی درستگی کے مضبوط ترین ثبوتوں میں سے ایک یہ حقیقت ہے کہ طوفان کے بعد، بزرگوں کی عمروں میں بتدریج لیکن مسلسل کمی واقع ہوتی گئی: نوح جو 950 سال زندہ رہا، سے لے کر عیبرEber 464 سال، ابراہیم جو 175 سال کی عمر میں وفات پا گیا، اور موسیٰ جو 120 سال کی عمر میں ضعیف العمری کے عالم میں رخصت ہوا، تک؛ اور بالآخر یہ عمر بائبل میں مذکور اس 70 سالہ دورانیے (زبور 90: 10) تک آ پہنچی جو آج ہماری موجودہ اوسط عمر کے بہت قریب ہے۔ طوفان کے بعد عمر کے دورانیے میں یہ کمی، طوفان کے دوران زمین کے گرد موجود حفاظتی غلاف کے ختم ہو جانے کے ہمارے تصور سے بالکل مطابقت رکھتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے غور کیا ہے، آبی بخارات پر مشتمل یہ غلاف... پوری دنیا میں ایک گرم، خوشگوار اور بظاہر صحت بخش ماحول فراہم کرتا تھا۔ شاید اس غلاف کا سب سے اہم اثر وہ حفاظتی کردار تھا جو اس نے خلا سے زمین پر پڑنے والی شدید تابکاری شعاعوں کے خلاف ادا کیا (حوالہ کا ذکر کیا گیا، صفحہ 399)۔
تابکاری کے جسمانی اور موروثی اثرات کے بارے میں جو معلومات دستیاب ہیں، ان کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کرنا یقیناً قرینِ قیاس ہے کہ طوفانِ نوح کے بعد گزرنے والی صدیوں کے دوران انسان پر… ان اثرات کے مجموعی جمع ہونے کے نتیجے میں بتدریج تنزلی اور عمر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ اثر خاص طور پر طوفان کے فوراً بعد کی صدیوں میں نمایاں رہا ہوگا، جس کی وجہ زمین کے گرد موجود بخارات کی اس تہہ کا ختم ہو کر برس جانا تھا جو اس سے قبل ماحول میں موجود تقریباً تمام تابکاری کو روک لیتی تھی... چنانچہ طوفان سے پہلے کے حالات جسمانی صحت اور طویل عمری کے لیے انتہائی سازگار تھے۔ درجہ حرارت کا اعتدال، ماحولیاتی تابکاری سے پاک ماحول، اور بخارات کی اس تہہ سے وابستہ دیگر عوامل، ان سب نے اس میں اپنا کردار ادا کیا... سیلاب کے بعد، غلاف کو بہت جلد ہی ختم کر دیا گیا، اس کے حفاظتی اثرات بڑے پیمانے پر ختم ہوگئے، اور عام صحت اور لمبی عمر میں، جزوی طور پر حالیہ دہائیوں میں طب میں پیشرفت کی وجہ سے طویل زوال شروع ہوا … اس زوال کی بڑی وجہ بلاشبہ زمین کی سطح اور اس کے باسیوں پر تابکاری کے اثرات میں ہونے والا زبردست اضافہ قرار دی جا سکتی ہے... یہ بات عیاں ہے کہ تابکاری میں اضافے کے ایسے کسی بھی دور نے یقیناً بڑے پیمانے پر حیاتیاتی تنزلی کا باعث بننا تھا۔ اور بائبل بھی درحقیقت بنی نوعِ انسان کی عمومی تاریخ کے بارے میں یہی تعلیم دیتی ہے (حوالے کا ذکر کیا گیا، صفحات 404-405)۔
IV۔ چوتھی بات، کشتی میں کیوں افزائش نسل نہیں ہوئی تھی؟
ظاہر ہے کہ ایک ہی واعظ میں طوفانِ نوح سے متعلق تمام سوالات کے جوابات نہیں دیے جا سکتے۔ اس موضوع پر مزید مطالعے کے لیے براہِ کرم حوالے میں دی گئی کتب کا مطالعہ کریں، پیدائش [کی کتاب میں نوح] کا سیلاب The Genesis Flood اور ڈاکٹر ہنری ایم مورس کی بائبل کا دفاع کرنے والوں کا مطالعہ The Defender’s Study Bible ورلڈ پبلشنگ، 1995 میں موجود غور طلب باتیں یعنی نوٹس؛ اور ڈاکٹر ایم آر ڈیحان کی کتاب نوح کا زمانہ The Days of Noah ژونڈروان پبلشنگ ہاؤس، 1963۔ وقت کی کمی کے پیشِ نظر، میں صرف ایک اور جواب پیش کروں گا۔ ڈاکٹر ایم آر ڈیحان نے اپنی بہترین مختصر کتاب نوح کا زمانہ The Days of Noah میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ کشتی کے اندر کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا،
ہم اپنی بات کا اختتام ایک انتہائی عملی مشاہدے پر کرتے ہیں۔ کشتی میں قیام کے پورے ایک سال کے دوران کسی بھی جانور، پرندے یا انسان کی اولاد کی پیدائش کا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا۔ جانور جوڑے جوڑے کی شکل میں اندر گئے تھے (سوائے ’پاک‘ جانوروں کے جو سات کی تعداد میں تھے) اور بظاہر وہ اسی طرح باہر بھی آئے۔ نوح کے بیٹوں کے ہاں کشتی کے اندر کوئی اولاد نہیں ہوئی، اور اس بات کا کوئی اشارہ بھی نہیں ملتا کہ جانوروں اور پرندوں کے معاملے میں صورتحال مختلف رہی ہو۔ پورے ایک سال تک نسل کی افزائش یا تعداد میں اضافے کا کوئی عمل نہیں ہوا۔ اس سے ملنے والا سبق واضح ہونا چاہیے۔ کشتی میں داخل ہونا ہر ایک کے لیے ذاتی [انتخاب] تھا۔ والدین اپنے بچوں کے لیے [انتخاب] نہیں کر سکتے۔ چونکہ مسیح نجات کی کشتی کی [تشبیہ پیش کرتا ہے]، اس لیے ہم سیکھتے ہیں کہ کسی کو اپنے باپ کے مذہب سے نہیں بچایا جا سکتا… وہ اپنے والدین کے مذہب یا پرہیزگاری یا مثال کی وجہ سے نہیں بچ سکتے، بغیر کسی ذاتی انتخاب کے [مسیح کے پاس آنے کے لیے]… میں آپ کو یسوع کے الفاظ یاد دلاتا ہوں،
’’میں تجھ سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جب تک کوئی نئے سرے سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی کو نہیں دیکھ سکتا‘‘ (یوحنا 3: 3) …میرے دوست، کشتی میں داخل ہونے والے بالغ افراد کی تعداد صرف آٹھ تھی، کیونکہ انہوں نے خدا کے وعدے پر یقین کیا اور اس کے مطابق عمل کیا [اور کشتی میں داخل ہوئے]۔ کوئی بھی شخص کشتی کے اندر قدرتی پیدائش کے ذریعے داخل نہیں ہوا تھا... آپ کا مذہب، آپ کے اعمال، آپ کی کلیسیا، آپ کے دوست اور آپ کے پیارے آپ کو نجات نہیں دلا سکتے۔ [آپ کا] خدا کے بیٹے پر ذاتی ایمان ہونا ضروری ہے (ایم آر ڈیحان، نوح کا زمانہ The Days of Noah، ژونڈروان پبلشنگ ہاؤس، 1963، صفحات 176-177)۔
اس حقیقت سے کہ کشتی میں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ محض گرجا گھر میں پیدا ہونے اور وہاں پرورش پا کر بڑھنے کی وجہ سے کوئی بھی نجات نہیں پاتا۔ آپ میں سے ہر ایک کو، خواہ آپ ”گرجا گھر میں پرورش پائے بچوں“ کے طور پر پلے بڑھے ہوں یا ہماری تبلیغی کوششوں کے ذریعے آپ گرجا گھر میں شامل ہوئے ہوں – ہر ایک کو اور آپ میں سے ہر کسی کو ذاتی طور پر مسیح کے پاس آنا ہوگا۔ جس طرح نوح، اُس کی بیوی اور اُن کے بیٹوں اور بہوؤں میں سے ہر ایک نے کشتی میں داخل ہونے کا فیصلہ خود کیا تھا، اُسی طرح آپ کو بھی خود مسیح میں داخل ہونے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ کوئی دوسرا شخص آپ کی جگہ یہ کام نہیں کر سکتا۔
جب آپ مسیح کے پاس آتے ہیں، تو آپ کے گناہ خدا کی نظروں سے مسیح کے قیمتی خون کے نیچے چھپ جاتے ہیں۔ ہم نے ابھی ایک پرانا گیت گایا تھا جو اس کیفیت کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ آپ کو خدا کے قہر اور عدالت سے بچنے کے لیے یسوع میں پناہ لینی چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے نوح خدا کے عذاب سے بچنے کے لیے کشتی میں پناہ گزین ہوا تھا۔
اُس چٹان کی پناہ میں جو مجھ سے بلند تر ہے،
میری روح اپنی کشمکش اور غموں میں پرواز کر کے پہنچے؛
گناہ گار اور تھکا ہارا، میں تیرا ہی ہو کر رہوں؛
اے مبارک ’’ازل سے ابد تک قائم چٹان‘‘، میں تجھ ہی میں پناہ لیتا ہوں۔
تجھ میں چھپنےسے، تجھ میں چھپنے سے،
تو بابرکت ہے ’’ازل سے ابد تک قائم چٹان،‘‘
میں تجھ میں چھپ رہا ہوں۔
(’’تجھے میں چھپنے سے Hiding in Thee ‘‘ شاعر ولیم او۔ کُشینگ William O. Cushing، 1823۔1902)۔
اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔
(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ
www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔
یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔