اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔
واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔
جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔
نوح کی کشتی کی معتبریت یا صداقت(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 43) ایمریٹس پادری جانب محترم ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے لکھا گیا ایک واعظ ’’زمین خدا کی نگاہ میں بگڑ چکی تھی، اور ظلم و تشدد سے بھری ہوئی تھی۔ خدا نے دیکھا کہ زمین بہت بگڑ چکی ہے کیونکہ زمین پر سب لوگوں نے اپنے طور طریقے بگاڑ لیے تھے۔ چنانچہ خدا نے نوح سے کہا، میں سب لوگوں کا خاتمہ کرنے کو ہوں کیونکہ زمین اُن لوگوں کی وجہ سے ظلم سے بھر گئی ہے۔ اس لیے میں یقیناً نوعِ انسان اور زمین دونوں کو تباہ کر ڈالوں گا۔ لہٰذا تو گوپھر کی لکڑی کی ایک کشتی بنا۔ اُس میں کمرے بنانا اور اُسے اندر اور باہر سے رال سے پوت دینا۔ تو ایسا کرنا کہ کشتی تین سو ہاتھ لمبی، پچاس ہاتھ چوڑی، اور تیس ہاتھ اونچی ہو۔ تو اُس کی چھت سے لیکر ہاتھ بھر نیچے تک روشن دان بنانا۔ کشتی کے اندر تین درجے بنانا نِچلا، درمیانی اور بالائی، اور کشتی کا دروازہ کشتی کے پہلو میں رکھنا۔ دیکھ میں زمین پر پانی کا طوفان لانے والا ہوں تاکہ آسمان کے نیچے کا ہر جاندار یعنی ہر وہ مخلوق جس میں زندگی کا دم ہے ہلاک ہو جائے۔ سب جو روئے زمین پر ہیں مر جائیں گے۔ لیکن تیرے ساتھ میں اپنا عہد باندھوں گا اور تو کشتی میں داخل ہو گا۔ تو اور تیرے ساتھ تیرے بیٹے اور تیری بیوی اور تیرے بیٹوں کی بیویاں۔ اور تُو تمام حیوانات میں سے دو دو کو جو نر اور مادہ ہوں، کشتی میں لے آنا تاکہ وہ تیرے ساتھ زندہ بچیں۔ ہر قسم کے پرندوں، جانوروں اور زمین پر رینگنے والے جانداروں میں سے دو دو تیرے پاس آئیں گے تاکہ وہ بھی زندہ بچیں۔ اور تو ہر طرح کی کھانے والی چیز لے کر اپنے پاس جمع کر لینا تاکہ وہ تیرے اور اُن کے لیے خوراک کا کام دے۔ ںوح نے ہر کام ٹھیک اُسی طرح کیا جیسا خدا نے اُسے حکم دیا تھا‘‘ (پیدائش 6: 11۔22)۔ |
یہ حوالہ آنے والے سیلاب کی وجوہات سے شروع ہوتا ہے۔ زمین بگڑ چکی تھی (عبرانی – ’’برباد‘‘) اور ظلم و تشدد سے بھری ہوئی تھی۔ پرانے عہد نامے کے عالم ڈاکٹر میرل ایف اُونگر نے کہا،
زمین کی بدکاری نوح کی خدا پرستی سے متصادم ہے۔ اس حصے میں لفظ ’’زمین‘‘ چھ بار آتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیلاب دنیا بھر میں ہونا تھا نہ کہ مقامی ہونا تھا۔ تین بار فعل ’’بدکاری کرنا‘‘ ہوتا ہے، جو بنی نوع انسان کے مکمل انحطاط پر زور دیتا ہے۔ دو بار لفظ ’’ظلم و تشدد‘‘ (حماس hāmās، ’’لاقانونیت lawlessness‘‘) پایا جاتا ہے، جو عالمی اخلاقی بدکاری کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے (میرل ایف انگر، پی ایچ ڈی Merrill F. Unger, Ph.D.، پرانے عہد نامے پر اُونگر کا تبصرہ Unger’s Commentary on the Old Testament، موڈی پریس، 1981، جلد اول، صفحہ 38)۔
خداوند یسوع مسیح نے کہا،
’’لیکن جیسا کہ نوح کے دِنوں میں ہوا تھا، اسی طرح ابنِ آدم کی آمد بھی ہوگی‘‘ (متی 24: 37)
۔اس لیے ہمیں آج ان مجروع یا خوفناک حالات کی تکرار پر حیران نہیں ہونا چاہیے۔
’’خدا کی نگاہ میں زمین بھی بگڑ چکی تھی اور زمین ظلم و تشدد سے بھر چکی تھی‘‘ (پیدائش 6: 11)۔
ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحان نے کہا،
یہ شورش، قتل و غارت گری اور بلا اشتعال قتل اور ظالمانہ جرائم کا دور تھا۔ کیا ہمیں یہاں تبصرہ کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا تاریخ میں کبھی کوئی ایسا دور آیا ہے جس میں آج سے زیادہ وحشیانہ، بلا اشتعال مظالم درج ہوں؟ یہ ایک افسوسناک دور ہے (ایم آر ڈیحان، ایم ڈی M. R. DeHaan, M.D.، نوح کا زمانہ The Days of Noah، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، 1963، صفحہ 48)۔
اپنی کتاب ڈارون سے ہٹلر تکFrom Darwin to Hitler: ارتقائیEvolutionary اخلاقیات Ethics، یوجینکس Eugenics[پیدا ہونے والی اولاد میں بہتری سے متعلق یا اس کا سبب بننا]، اور جرمنی میں نسل پرستیRacism in Germany ، (پالگریو میکملنPalgrave Macmillan، 2004، صفحہ 232-233) میں، ڈاکٹر رچرڈ وائیکارٹ Dr. Richard Weikart نے کہا، ’’ہٹلر پر ڈارون کے اثر کو جھٹلانا ہو گا … بے وقوفی، تاہم، خاص طور پر چونکہ نازاِزم Nazism [سوشلزم کی ایک شکل جس میں نسل پرستی اور توسیع پسندی اور ایک مضبوط رہنما کی اطاعت شامل ہے] کے تمام عالمین نے اس بات کو ختم کر دیا ہے۔ ڈارون ازم کے بغیر…نہ تو ہٹلر اور نہ ہی اس کے نازی پیروکاروں کے پاس اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو یہ باور کرانے کے لیے ضروری سائنسی بنیادیں حاصل ہوتیں کہ دنیا کے سب سے بڑے مظالم میں سے ایک واقعی اخلاقی طور پر قابل تعریف تھا‘‘ (رچرڈ وائیکارٹ، پی ایچ ڈی ، کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں جدید یورپی تاریخ کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں)۔ ڈاکٹر وائیکارٹ نے کہا، ’’[ڈارونزم] یہ بتانے میں بھی مدد کرتا ہے کہ کیوں بہت سے پڑھے لکھے جرمن نازیوں کے ساتھ تعاون کریں گے اور طبی عملے سمیت ہولوکاسٹ میں حصہ لیں گے۔ جب اس نے یوجینکس، معذوروں کے لیے آسانی سے دَم نکالنے کی موت، اور نسلی قتل و غارت کو اپنایا، تو ہٹلر اس بات کی طرف متوجہ ہو رہا تھا جو کہ [ڈارونیوں] کے درمیان خیالات میں وسیع پیمانے پر گردش کر رہی تھی‘‘ (گذشتہ بات کے تسلسل میں ibid.، صفحہ 232)۔
ڈاکٹر سی ایل کیگن نے نشاندہی کی ’’کہ ڈارون کی انسانیت پر تعلیم … بیسویں صدی کے دوران، اس فلسفیانہ نظام کے فاشزم، کمیونزم، اور اسقاط حمل کی تحریک پر اثرات کے ذریعے، 100 ملین سے زیادہ لوگوں کی موت کے لیے براہ راست یا بالواسطہ ذمہ دار تھی‘‘ (سی ایل کیگن پی ایچ ڈی۔ C. L. Cagan, Ph.D.، ڈاروِن سے ذہن سازی تک From Darwin to Design، وائٹیکر اشاعتی گھر Whitaker House Publishers، 2006، صفحہ 14)۔ ڈاکٹر ہنری ایم مورس نے ڈارونزم کے اثرات کی ایک اور بھی تفصیلی وضاحت کی جب اُنہوں نے کہا،
خاص طور پر پچھلی صدی کے دوران، اس مایوس کن نظریے سے کہ انسان محض ایک ارتقائی جانور ہے۔ نسل پرستی، معاشی سامراج، کمیونزم، نازی ازم، جنسی بے راہ روی اور بگاڑ، جارحانہ عسکریت پسندی، نوزائیدہ قتل، نسل کشی اور ہر طرح کی برائیوں کو کسی نہ کسی گروہ کی طرف سے اس بنیاد پر پروان چڑھایا گیا ہے کہ چونکہ وہ ارتقاء پر مبنی تھے، اس لیے وہ ’’سائنسی‘‘ تھے اور اس لیے طویل عرصے سے موروثیت کے پابند تھے۔ (ھنری ایم مورس، پی ایچ ڈی Henry M. Morris, Ph.D.، جدید سائنس کے لیے بائبل کی بنیاد The Biblical Basis for Modern Science، بیکر کتاب گھرBaker Book House، 1984، صفحہ 403)۔
ڈارونسٹوں کے ہاتھوں ساٹھ ملین سے زیادہ امریکی بچے اسقاط حمل سے مر چکے ہیں۔ اس نظریہ کے بالواسطہ یا براہ راست نتیجے کے طور پر، ڈارون کے ارتقاء کے سماجی مضمرات سے پیدا ہونے والی مختلف جنگوں اور تحریکوں کے ذریعے مزید ساٹھ ملین ہلاک ہوئے۔ جب ڈارون کے ارتقاء کے اثرات کا موازنہ کیا جائے تو عسکریت پسند اسلامی انتہا پسندوں کی طرف سے ہونے والا تشدد بہت کم ہے۔
’’خدا کی نگاہ میں زمین بھی بگڑ چکی تھی اور زمین ظلم و تشدد سے بھر چکی تھی‘‘ (پیدائش 6: 11)۔
جیسا کہ ڈاکٹر ڈیحان نے کہا،
یہ تشدد، قتل و غارت اور بلا اشتعال قتل اور ظالمانہ جرائم کا دور تھا۔ کیا ہمیں یہاں تبصرہ کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا تاریخ میں کبھی کوئی ایسا دور آیا ہے جس میں آج سے زیادہ وحشیانہ، بلا اشتعال مظالم درج ہوں؟ یہ ایک افسوسناک زمانہ ہے (ایم آر ڈیحان ایم ڈی M. R. DeHaan, M.D.، گذشتہ بات کے تسلسل میں ibid.)۔
ڈاکٹر ڈان بوائز نے کہا،
میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ ہٹلر نے 1939 میں ذہنی طور پر معذور افراد کو قتل کرکے اپنی قتل کی میراتھانوں کا آغاز کیا۔ اس کے بعد اس نے قیدیوں کو مار کر بھیڑ سے بھری جیلوں کا مسئلہ حل کیا اور پھر بزرگوں کی پناہ گاہوں میں بوڑھے لوگوں کا قتل شروع کیا گیا۔ 400,000 سے زیادہ بے بس لوگوں کو قتل کرنے کے بعد، ہٹلر نے یہودیوں پر حملہ شروع کیا… جان آر رائس نے [کہا] ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ جرمن [پادریوں] کی طرف سے [اِس سب پر] سوال اُٹھانے کے لیے صرف تین خطوط لکھے گئے تھے ۔ تب گرجا گھروں نے احتجاج نہیں کیا، اسی وجہ سے اب بہت سے امریکی گرجا گھر اسقاط حمل کے خلاف احتجاج نہیں کرتے ہیں۔ یہ فیشن نہیں ہے (ڈان بوائز، ای ڈی ایجوکیشن Don Boys, Ed. D.، لبرل ازم: ریت کی ایک رسی Liberalism: A Rope of Sand، سورڈ آف دی لارڈ پبلشرزSword of the Lord Publishers، 1979، صفحہ 18)۔
’’زمین خدا کی نگاہ میں بگڑ چکی تھی، اور ظلم و تشدد سے بھری ہوئی تھی۔ خدا نے دیکھا کہ زمین بہت بگڑ چکی ہے کیونکہ زمین پر سب لوگوں نے اپنے طور طریقے بگاڑ لیے تھے۔ چنانچہ خدا نے نوح سے کہا، میں سب لوگوں کا ختمہ کرنے کو ہوں کیونکہ زمین اُن لوگوں کی وجہ سے ظلم سے بھر گئی ہے۔ اس لیے میں یقیناً نوعِ انسان اور زمین دونوں کو تباہ کر ڈالوں گا‘‘ (پیدائش 6: 11۔13)۔
’’لیکن جیسا کہ نوح کے دِنوں میں ہوا تھا، اسی طرح ابنِ آدم کی آمد بھی ہوگی‘‘ (متی 24: 37)۔
لیکن خُدا نے نوح اور اُس کے خاندان کے لیے نجات کا راستہ فراہم کیا۔ براہِ کرم پیدائش 6: 14 کو بلند آواز سے پڑھیں۔
’’تو گوپھر کی لکڑی کی ایک کشتی بنا۔ اُس میں کمرے بنانا اور اُسے اندر اور باہر سے رال سے پوت دینا‘‘ (پیدائش 6: 14)۔
جس عبرانی لفظ نے ’’کشتی‘‘ کا ترجمہ کیا وہ ’’تباہ tebah‘‘ ہے۔ اس کا سیدھا مطلب ’’ٹوکرا‘‘ ہے۔ یہ پرانے عہد نامے میں صرف دو جگہوں پر استعمال ہوا ہے – نوح کی کشتی کو بیان کرنے کے لیے ہوا، اور یوکبد نے اپنے بچے موسیٰ کو دریا کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ حفاظت کے ساتھ لے جانے کے لیے بنایا تھا اسے بیان کرنے کے لیے ہوا (خروج 2: 3، 5)۔ نوح نے جو کشتی بنائی وہ کشتی نہیں تھی۔ یہ ’’گوپھر کی لکڑی‘‘ سے بنا ایک بہت بڑا ڈبہ تھا۔ ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’گوپھر کی لکڑی تقریباً ناقابلِ تباہی لکڑی ہے جیسے کیلیفورنیا میں ہماری ریڈ ووڈ‘‘ ہوتی ہے (جے ورنن میگی ٹی ایچ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن پبلیشرز Thomas Nelson Publishers، 1981، جلد اول، صفحہ 39)۔ ڈاکٹر میگی نے کہا،
کشتی کے بارے میں زیادہ تر لوگوں کا تاثر وہ ہے جو انھیں چھوٹے سنڈے سکول کی تصویروں نے دیا تھا جس کی وجہ سے یہ ایک بادبانی کشتی کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ یہ، میرے لیے، ایک بہت ہی مضحکہ خیز قسم کی تمسخرانہ نقل تھی۔ یہ کشتی کی تصویر کے بجائے اس کا تضحیکی خاکہ تھا جیسے کہ یہ اصل میں تھی (جے ورنن میگی ٹی ایچ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، گذشتہ بات کے تسلسل میں ibid.)۔
صندوق کی لکڑی کو واٹر پروف بنانے کے لیے ایک موٹی بٹومینس پچ [تارکول لُک] سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ میرے خیال میں ڈاکٹر ایم آر ڈیحان کی تفصیل درست ہے:
کیا آپ جانتے ہیں کہ صندوق کے بیرونی حصے کو رنگ کرنے کے لیے کون سا رنگ استعمال کیا جاتا تھا؟ یہ بالکل سیاہ تھا۔ اس عجیب و غریب جہاز پر کسی سجاوٹ یا علامت یا نام کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے۔ یہ صرف ایک بڑا کالا صندوق تھا، چونچ جیسے اگلے حصے کے بغیر یا گولائی جیسے عقبی حصے کے بغیر۔ یہ کشتی رانی کے لیے نہیں بنائی گئی تھی بلکہ محض تیرنے کے لیے بنائی گئی تھی، اس لیے اس میں کوئی بادبان، چپّو یا جسمانی حرکت کے دوسرے ذرائع نہیں تھے۔ تفصیل سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دونوں سرے مربع تھے اور اس کے پہلو میں صرف ایک دروازہ تھا، جبکہ زمین سے کھڑکی کہیں نظر نہیں آتی تھی۔ کھڑکی کو دیکھنے کے لیے زمین سے 45 فٹ اوپر اٹھنا ضروری ہے، اور وہاں صندوق کی چھت پر ایک … کھڑکی … تھی۔ یہ صندوق سمندر سے کئی میل دور خشک زمین پر بنایا گیا تھا۔ اس نے تماشائیوں کے سامنے ایک عجیب منظر پیش کیا ہوگا۔ یہاں ایک بہت بڑا صندوق تھا… سامنے والے حصے سے لیکر عقبی حصے تک کالا سیاہ… ہم آسانی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نوح کے زمانے کے لوگوں نے اس کی محنت کو کس حقارت سے دیکھا تھا۔ کتنا مضحکہ خیز، انہوں نے سوچا، ایک سیاہ صندوق کا بنانا جو ایک تابوت کی طرح نظر آتا تھا، اور پانی کے سیلاب کی پیشین گوئی کا کرنا جبکہ زمین پر ابھی تک کبھی بارش نہیں ہوئی تھی۔ یقیناً فطری انسان کی اِس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اُن کے پاس صرف خداوند کا کلام تھا، اور اگر اُنہوں نے اُسے رد کیا تو وہ بھٹک گئے۔ اگر وہ ظاہری شکلوں کے باوجود اس پر یقین کرتے تو وہ اندر داخل ہو سکتے تھے اور نجات پا سکتے تھے۔ یہ سب خُداوند یسوع کے بارے میں سچ تھا۔ اُس کے بارے میں، یسعیاہ کہتا ہے، ’’لوگوں نے اُسے حقیر جانا اور رد کر دیا، وہ ایک غمگین انسان تھا جو رنج سے آشنا تھا۔ اور اُس شخص کی مانند تھا جسے دیکھ کر لوگ مُنہ موڑ لیتے ہیں وہ حقیر سمجھا گیا اور ہم نے اُس کی کچھ قدر نہ کی،‘‘ یسعیاہ 53:3 (ایم آر ڈیحان، ایم ڈی M. R. DeHaan, M.D.، گذشتہ بات کے تسلسل میں ibid.، صفحات 172۔173)۔
پھر خدا نے کشتی کی جسامت اور شکل پیش کی۔ پیدائش 6: 15-16 آیات کو دیکھیں۔
’’تو ایسا کرنا کہ کشتی تین سو ہاتھ لمبی، پچاس ہاتھ چوڑی، اور تیس ہاتھ اونچی ہو۔ تو اُس کی چھت سے لیکر ہاتھ بھر نیچے تک روشن دان بنانا۔ کشتی کے اندر تین درجے بنانا نِچلا، درمیانی اور بالائی، اور کشتی کا دروازہ کشتی کے پہلو میں رکھنا‘‘ (پیدائش 6: 15۔16)۔
لمبائی 300 ہاتھ تھی۔ چوڑائی 50 ہاتھ تھی۔ اونچائی 30 ہاتھ تھی۔ ڈاکٹر ہنری ایم مورس نے کہا،
بہت محتاط طور پر، فرض کریں کہ ایک ہاتھ صرف 17.5 انچ ہے، جو کہ اب تک جیسا کہ معلوم ہے، تمام کیوبٹس [ایک ہاتھ پیمانوں] میں سب سے چھوٹا ہے۔ اس صورت میں، صندوق 438 فٹ لمبا، 72.9 فٹ چوڑا اور 43.8 فٹ اونچا ہوتا۔ یہ ہائیڈروڈینامک طور پر دکھایا جا سکتا ہے کہ اس طرح کے طول و عرض کا ایک بہت بڑا صندوق انتہائی مستحکم ہوگا، جس کا الٹنا تقریباً ناممکن ہے۔ بہت بڑی لہروں کے سمندر میں بھی، کشتی کو کسی بھی زاویے سے 90 ڈگری سے کم تک جھکایا جا سکتا ہے اور اس کے فوراً بعد خود ہی ٹھیک ہو جائے گی۔ مزید برآں، یہ خود کو بڑی لہر کی پیش قدمی کی سمت کے ساتھ متوازی سیدھ میں لاتی ہے اور اس طرح زیادہ تر وقت کم سے کم جھکاؤ کا شکار ہوتی ہے۔
[لمبائی، چوڑائی اُونچائی کی] وسعتوں کے حساب سے، کشتی کی کل حجمی صلاحیت تقریباً 1,400,000 کیوبک فٹ تھی، جو کہ جدید امریکی ریل روڈز پر استعمال ہونے والی 522 معیاری مویشیوں کی کاروں کی حجمی صلاحیت کے برابر ہے۔ چونکہ یہ معلوم ہے کہ ایک سٹاک کار میں تقریباً 240 بھیڑیں منتقل کی جا سکتی ہیں، اس لیے کشتی میں کل 125,000 بھیڑیں لے جائی جا سکتی تھیں (ہنری ایم مورس، پی ایچ ڈیHenry M. Morris, Ph.D.، پیدائش کا سیلابThe Genesis Flood ، بیکر کُتب گھر Baker Book House، 1986 ایڈیشن، صفحہ 181)۔
چونکہ، جیسا کہ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں، کشتی ایک لاکھ پچیس ہزار بھیڑیں لے جا سکتی تھی، اور چونکہ زمینی جانوروں کی اوسط جسامت یقیناً ایک بھیڑ سے کم ہے، اس لیے ظاہر ہے کہ اس کی صلاحیت کا 60 فیصد سے زیادہ جانوروں کے لیے استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔ درحقیقت، یہ اس سے کم ہوتا، کیوں کہ بائبل کی ’’قسم‘‘ شاید جدید حیاتیات کی من مانی ’’نسلوں‘‘ کے زمرے سے کافی وسیع ہے… اس طرح، کشتی کا مخصوص سائز ان جانوروں کے لیے مثالی طور پر مناسب معلوم ہوتا ہے جنہیں اسے لے جانا تھا (ہنری ایم مورس، پی ایچ ڈیHenry M. Morris, Ph.D.، گذشتہ بات کے تسلسل میں ibid.، صفحہ 185)۔
ڈاکٹر مورس نے مزید کہا کہ جانوروں کو جمع کرنے میں کوئی سنگین مسئلہ نہیں تھا کیونکہ زمین یکساں طور پر گرم تھی۔ اس کے علاوہ، جانور ایک دوسرے سے الگ نہیں تھے، جیسا کہ اب ہیں، کیونکہ دنیا کا جغرافیہ کم و بیش یکساں تھا۔ اس لیے انہیں سفر کرنے کے لیے کوئی زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔ خُدا نے نوح کو بتایا کہ جانور ’’تیرے پاس آئیں گے‘‘ (پیدائش 6: 20)۔ آنے والے طوفان کو محسوس کرتے ہوئے، جِنہیں محفوظ کیا جانا ہو گا، وہ فطری طور پر کشتی کی طرف ہجرت کر جائیں گے۔ ہجرت کی طرح ہائبرنیشن، شاید تخلیق کے وقت سے کچھ انفرادی جانوروں میں ایک پوشیدہ جینیاتی صلاحیت تھی۔ وہ جانور کشتی میں داخل ہوئے، اور سیلاب کے کم درجہ حرارت کے جواب میں، نیم نیند میں چلے گئے، انہیں بہت کم خوراک کی ضرورت تھی، جب تک کہ سیلاب ختم نہیں ہو گیا۔
وہ خدا جس نے کائنات کو تخلیق کیا وہ یقینی طور پر چند ہزار جانوروں کو کشتی میں منتقل کرنے کا سبب بن سکتا تھا! وہ خدا جس نے پہلا حیران کن پیچیدہ جاندار خلیہ تخلیق کیا وہ یقینی طور پر ان جانوروں کو، نیم ہائبرنیٹنگ حالت میں، سیلاب کے ذریعے کشتی میں زندہ رہنے کا سبب بن سکتا تھا! اس طرح، سوال پوچھا جانا چاہئے: کیا خدا یہ چیزیں کر سکتا ہے؟ بہت سے سائنس دان، تمام شعبوں میں، اب کہہ رہے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ بائبل میں دی گئی کشتی اور سیلاب کا بیان درست ہو۔ ان ماننے والے سائنسدانوں کی آواز علمی حلقوں میں ایک عرصے سے خاموش ہے۔ اب، بہت عرصے بعد، آخرکار کچھ حلقوں میں ان کی سنی جا رہی ہے۔ اب وقت ہو چکا ہے! ہم بہت طویل عرصے سے یکساں ارضیات اور ڈارون کے ارتقاء کے تسلط میں رہ رہے ہیں۔ انیسویں صدی کے ان پرانے وکٹورین نظریات کو اب بائبل پر یقین رکھنے والے ماہرین تعلیم کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ذریعہ چیلنج کیا جا رہا ہے، جیسے ڈاکٹر سی ایل کیگن، جنہوں نے UCLA سے ریاضی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ خدا کرے ان کی تعداد میں اضافہ ہو۔ خدا کرے وہ قائم رہیں۔ خدا کا نام کافروں کے درمیان جلال پائے۔ آمین۔
اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔
(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ
www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔
یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔