Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


بائبل کے مُناد

BIBLE DEACONS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
پادری ایمریٹس
by Dr. R. L. Hymers, Jr.
Pastor Emeritus

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک سبق
خُداوند کے دن کی دُوپہر، 10 جنوری، 2021
A lesson taught at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Afternoon, January 10, 2021

سبق سے پہلے حمدوثنا کا گیت گایا گیا: ’’مقدس بننے کے لیے وقت لوTake Time to be Holy‘‘
(شاعر ولیم ڈی لونگسٹاف William D. Longstaff، 1822 – 1894؛ بند 1، 2 اور 4)۔

آج کی دوپہر میں چاہتا ہوں کہ آپ دیکھیں خدا مُناد صاحبان کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ مہربانی سے اعمال6:1 – 7 آیات کھولیں۔

’’اور اُن دِنوں جب شاگردوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی تو یونانی یہودی مقامی یہودیوں کی شکایت کر کے کہنے لگے کہ روزمرّہ کے کھانے کی تقسیم کے وقت ہماری بیواؤں کی زیادہ پرواہ نہیں کی جاتی۔ یہ سُن کر بارہ رسولوں نے سارے شاگردوں کو جمع کیا اور کہا: ہمارے لیے مناسب نہیں کہ ہم خدا کے کلام کی منادی کرنا چھوڑ دیں اور کھانا تقسیم کرنے کا انتظام کرنے لگیں۔ اِس لیے اے بھائیو! اپنے میں سے سات نیک نام اشخاص کو چُن لو جو پاک روح اور دانائی سے معمور ہوں تاکہ ہم اُنہیں اِس کام کی ذمہ داری سونپ دیں۔ لیکن ہم تو دعا کرنے اور کلام سُنانے میں مشغول رہیں گے۔ اور یہ بات ساری جماعت کو پسند آئی اور اُنہیں نے ایک تو ستیفنُس کو جو ایمان اور پاک روح سے بھرا ہوا تھا چُنا اور دوسرے جن اشخاص کو چُنا وہ تھے: فِلپُّس، پرخرُس، نِیکا نور، یِیمون، پُرمِناس اور نیکالاؤس جو انطاکیہ کا ایک نومُرید یہودی تھا اور اُنہیں رسولوں کے حضور میں پیش کیا جنہوں نے اُن کے لیے دعا کی اور اُن پر ہاتھ رکھے۔ اِس طرح خدا کا کلام پھیلتا چلا گیا اور یروشلیم میں شاگردوں کی تعداد بہت ہی بڑھ گئی اور بہت سے کاہن بھی ایمان لائے اور مسیحی ہو گئے‘‘ (اعمال6:1۔7)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +
ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

لاس اینجلز کے بپتسمہ دینے والے پہلے چینی گرجا گھر کے میرے طویل مدت تک رہنے والے پادری ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin سارے مُناد اُمیدواران سے دس تقاضوں کو پورا کرنے کا عہد کرنے کو ضروری کہتے تھے:

’’گرجا گھر میں مناد اُمیدواران کے لیے دس ’ضروری باتیں‘‘‘۔

(1) ایک مُناد ہونے کی حیثیت سے خداوند کی خدمت کرنے کی خواہش اور ایک دوسرے کی عزت کرنے کی خواہش ہونی چاہیے۔

(2) پہلا تیموتاؤس 3:1 – 10 آیات میں تعائین شُدہ ضروریات پر عمل کرتے رہیں۔

(3) روزانہ دعا مانگیں اور بائبل کا مطالعہ کریں اور تسلسل اور خوشی کے ساتھ دیہہ یکی ادا کریں۔

(4) لازمی طور پر شادی شُدہ ہونے چاہیے اور بیوی کو چاہیے کہ ایک مناد کی حیثیت سے اپنے شوہر کی مدد اپنی تمام تر اہلیت کو بروئے کار لاتے ہوئے کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے۔

(5) سنڈے سکول میں تعلیم دینے کا اہل ہونا چاہیے۔

(6) کسی بھی حالت میں خداوند کی خدمت کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے، خصوصی طور پر لوگوں میں جا کر [خوشخبری پھیلانے کے لیے]۔

(7) تمام بنیادی اجلاسوں میں شرکت کرنی چاہیے، جیسا کہ ستائش کی عبادتیں، سنڈے سکول، دعائیہ اِجلاس، شکرانے کے اِجلاس اور کاروباری اِجلاس؛ اور گرجا گھر کی تمام تنظیموں اور منصوبوں کی حمایت کرنی چاہیے۔

(8) تربیتی مواقعوں میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے اور گرجا گھر کے تربیتی پروگراموں کے ذریعے سے اور دوسرے پروگراموں کے ذریعے سے دوسرے لوگوں کو تربیت دینی چاہیے۔

(9) نوجوان مسیحیوں کے سامنے ایک اچھی مثال قائم کرنی چاہیے۔ کبھی بھی اُن کے ساتھ تربیتی مقصد کے علاوہ بحث نہیں کرنی چاہیے یا اُن پر ناراض نہیں ہونا چاہیے۔

(10) پادری صاحبان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔
(ڈاکٹر ٹِموتھی لِن، گرجا گھر کی نشوونما کا رازThe Secret of Church Growth، صفحات 45، 46)۔

ڈاکٹر لِن سچے تھے۔ جو کچھ ڈاکٹر لِن نے کہا اگر مُناد صاحبان اُس کی پیروی کریں، تو وہ گرجا گھر میں پھوٹ ڈالنے کا سبب نہیں بنیں گے۔ لیکن آج کل ایسا ہو ہی نہیں رہا۔

ہمارے جیسے خودمختیار گرجا گھروں میں، مناد صاحبان، ہی سی زیادہ تر گرجا گھر میں پھوٹ ڈلنے کے سبب کا اِمکان ہوتا ہے۔ ہمارے گرجا گھروں میں پھوٹ ڈالنے کا 92 فیصد سبب مناد صاحبان ہیں۔ مغربی بپٹسٹ گرجا گھروں میں پھوٹ ڈلنے کا 93 فیصد سبب مناد صاحبان تھے۔ یہ شماریات ڈاکٹر رائے ایل براینسن Dr. Roy L. Branson کی تحریر گرجا گھر میں پھوٹChurch Split سے لی گئیں ہیں۔ ڈاکٹر براینسن کی کتاب گرجا گھر میں پھوٹ کے بارے میں ڈاکٹر ڈبلیو اے کرسویل Dr. W. A. Criswell نے کہا،

آپ کسی اور کتاب کو چاہے اِس سال بھول جائیں، مگر گرجا گھر میں پھوٹ کو مت بھولیے گا۔ یہ وہ [کتاب ہے] جیسے ہر پادری کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔

– ڈاکٹر ڈبلیو اے کرسویل
   ٹیکساس کے شہرڈِلاس میں بپتسمہ دینے والے
   پہلے گرجا گھر کے طویل مدت تک
   رہنے والے پادری صاحب۔

ڈاکٹر براینسن کی کتاب کے بارے میں ٹینیسی ٹیمپل یونیورسٹی Tennessee Temple University کے چانسلر ڈاکٹر لی رابرسن Dr. Lee Roberson نے کہا،

اِس کتاب کو پڑھنے سے قائدین اور پادری صاحبان فائدہ پائیں گے۔

ڈاکٹر براینسن نے کہا، ’’زیادہ تر مناد صاحبان خطرناک ہوتے ہیں کیوںکہ وہ ایک ایسی نوکری کرنے کی کوششیں کر رہے ہوتے ہیں جس کے لیے وہ اہلیت نہیں رکھتے ہیں‘‘ (براینسنBranson، صفحہ 51)۔

ہم مستقبل میں پھوٹ پڑنے سے کیسے پرھیز کر سکتے ہیں؟ ڈاکٹر برینسن کہتے ہیں کہ ہمیں پہلے والے اصولوں پر واپس لوٹنا چاہیے۔ ڈاکٹر برینسن کہتے ہیں کہ

الف۔ اُن کا پروگرام منادی کرنا، دعائیں کرنا، تعلیم دینا اور انجیلی بشارت کا پرچار کرنا تھا۔

ب۔ اُن کی سرپرستی اُن کے پادری صاحبان کے ذریعے سے ہوتی تھی۔

’’اُن کو یاد رکھیں جو آپ کی سرپرستی کرتے ہیں، جو آپ کے ساتھ خدا کے کلام پر بات کر چکے ہوتے ہیں: وہ کیسی زندگی گزار کر رخصت ہوئے اور اُن کا سا ایمان تم بھی حاصل کرو‘‘ (عبرانیوں13:7)۔

’’اپنے رہبروں کے فرمانبردار اور تابع رہو کیونکہ وہ تم لوگوں کے روحانی فائدہ کے لیے بیدار رہ کر اپنی خدمت سرانجام دیتے ہیں۔ اُنہیں اِس خدمت کا حساب خدا کو دینا ہوگا۔ اگر وہ اپنا کام خوشی سے کریں گے تو تمہیں فائدہ ہوگا لیکن اگر اُسے اپنے لیے تکلیف سمجھیں گے تو تمہیں کوئی فائدہ نہ ہو گا‘‘ (عبرانیوں 13:17)۔

الف۔ گمراہ لوگوں کو [مسیح کے لیے] جیتنا اور اُنہیں تعلیم دینا اُن کا جنون تھا۔

ب۔ ہر ایک بات کو سادہ طریقے سے پیش کرنا!

ہر ایک بات سے چھٹکارہ پا لینا ماسوائے منادی کرنے، دعا مانگنے، اور انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم دینے سے۔


1. مانانہ کاروباری اجلاسوں سے چھٹکارہ پانا۔

2. مُناد صاحبان کے اِجلاسوں سے چھٹکارہ پانا۔

3. وغیرہ وغیرہ۔ (صفحات 228، 229، 230 براینسن Branson)۔

4. کاروباری میٹینگز اور تمام بورڈز اور شوریٰ کی مجلسوں سے چھٹکارہ پا لینا۔


ڈاکٹر براینسن نے کہا، ’’بائبل میں واحد ’کاروباری اِجلاس‘ وہ تھے جب پادری صاحبان\ انبیاء کرام نے لوگوں کو اِکٹھا کیا اور روح رواں میں بات کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے کہا، ’یہ ہےجو ہم کرنے جا رہے ہیں،‘‘ اور لوگوں نے ردعمل کا اِظہار کیا، ’بہت خوب، ہم اِس کو کریں گے۔‘‘‘

ڈاکٹر براینسن نے کہا، ’’زیادہ تر مناد صاحبان خطرناک ہوتے ہیں کیوںکہ وہ ایک ایسی نوکری کرنے کی کوششیں کر رہے ہوتے ہیں جس کے لیے وہ اہلیت نہیں رکھتے ہیں‘‘ (صفحہ 51)۔

     مناد صاحبان کوئی سرپرست بورڈز نہیں ہوتے ہیں؛ اُنہیں بائبل میں کسی بھی قسم کا کوئی بھی فیصلہ صادر کرنے کا اِختیار نہیں دیا گیا ہے۔ گرجا گھر پر حکمرانی کا رُتبہ غیر مبہم طور پر یا صریحاً پادری صاحبان کو بخشا گیا ہے۔ خداوند کہتا ہے،

’’اپنے رہبروں کے فرمانبردار اور تابع رہو کیونکہ وہ تم لوگوں کے روحانی فائدہ کے لیے بیدار رہ کر اپنی خدمت سرانجام دیتے ہیں۔ اُنہیں اِس خدمت کا حساب خدا کو دینا ہوگا۔ اگر وہ اپنا کام خوشی سے کریں گے تو تمہیں فائدہ ہوگا لیکن اگر اُسے اپنے لیے تکلیف سمجھیں گے تو تمہیں کوئی فائدہ نہ ہو گا‘‘ (عبرانیوں 13:17)۔

مُناد صاحبان میں سے ایک نے پوچھا، ’’تو پھر آپ کے خیال میں مُناد صاحبان کو کرنا کیا چاہیے؟‘‘
     پادری صاحب نے اعمال6:1 – 6 آیات کھولیں۔ پھر پادری صاحب نے کہا، ’’یہاں وہ واحد نوکری ہے جو خصوصی طور پر بائبل میں پیش کی گئی ہے۔‘‘ اُس مناد نے کہا، ’’بائبل مُناد صاحبان کو اِس سے کہیں بہت زیادہ اِختیارات دیتی ہے!‘‘
     پھر ایک اور مناد نے کہا، ’’میں جانتا ہوں بائبل اِس سے کہیں بہت زیادہ مناد صاحبان کو کرنے کے لیے [اِختیارات] دیتی ہے۔‘‘
     پادری صاحب نے کہا، ’’اِس موضوع کے بارے میں یہی حتمی بات تھی جو ہم نے سُنی۔ کیوں؟ کیونکہ ڈھونڈنے کے لیے بائبل میں [اِس موضوع پر] اور کچھ بھی نہیں پایا جا سکتا۔‘‘

چونکہ مُناد صاحبان کو مسح کرنا مطلوب نہیں ہوتا اور اُنہیں پادری صاحبان کو کیا کرنا ہوتا ہے یا نہیں کرنا ہوتا کہنا نہیں ہوتا، اِس گرجا گھر کا بانی اور پادری ایمریٹس ہونے کی حیثیت سے، میں بالکل ابھی ہی اِس سال کے لیے تین لوگوں کی تقرری کروں گا۔ میں ایک سال کے لیے مُنادوں کی حیثیت سے مسٹر مینسیا Mr. Mencia، مسٹر نعان Mr. Ngann اور جان ویزلی ہائیمرز John Wesley Hymers کو مقرر کرتا ہوں، اور ڈاکٹر کیگن کو دو سالوں کے لیے مقرر کرتا ہوں۔

ہم ہر جنوری میں ایک کاروباری میٹینگ کریں گے، جس میں مُناد صاحبان کی ایک اور سال کے لیے تقرری کروں گا یا مُنادوں کی ایک اور سال کے لیے دوبارہ تقرری کروں گا، اگر مجھے ایسا کرنا مناسب لگا۔

میں افتتاحیہ حوالے کو ایک مرتبہ پھر سے پڑھوں گا۔ مہربانی سے اپنی بائبل میں سے میرے ساتھ اعمال6:1 – 7 آیات کھولیں۔

’’اور اُن دِنوں جب شاگردوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی تو یونانی یہودی مقامی یہودیوں کی شکایت کر کے کہنے لگے کہ روزمرّہ کے کھانے کی تقسیم کے وقت ہماری بیواؤں کی زیادہ پرواہ نہیں کی جاتی۔ یہ سُن کر بارہ رسولوں نے سارے شاگردوں کو جمع کیا اور کہا: ہمارے لیے مناسب نہیں کہ ہم خدا کے کلام کی منادی کرنا چھوڑ دیں اور کھانا تقسیم کرنے کا انتظام کرنے لگیں۔ اِس لیے اے بھائیو! اپنے میں سے سات نیک نام اشخاص کو چُن لو جو پاک روح اور دانائی سے معمور ہوں تاکہ ہم اُنہیں اِس کام کی ذمہ داری سونپ دیں۔ لیکن ہم تو دعا کرنے اور کلام سُنانے میں مشغول رہیں گے۔ اور یہ بات ساری جماعت کو پسند آئی اور اُنہیں نے ایک تو ستیفنُس کو جو ایمان اور پاک روح سے بھرا ہوا تھا چُنا اور دوسرے جن اشخاص کو چُنا وہ تھے: فِلپُّس، پرخرُس، نِیکا نور، یِیمون، پُرمِناس اور نیکالاؤس جو انطاکیہ کا ایک نومُرید یہودی تھا اور اُنہیں رسولوں کے حضور میں پیش کیا جنہوں نے اُن کے لیے دعا کی اور اُن پر ہاتھ رکھے۔ اِس طرح خدا کا کلام پھیلتا چلا گیا اور یروشلیم میں شاگردوں کی تعداد بہت ہی بڑھ گئی اور بہت سے کاہن بھی ایمان لائے اور مسیحی ہو گئے‘‘ (اعمال6:1۔7)۔

مہربانی سے کھڑے ہوں اور آج کے لیے ہمارا حمدوثنا کا گیت گائیں،

مقدس بننے کے لیے وقت لگائیں، اپنی خداوند کے ساتھ اکثر ہمکلام ہوں؛
   ہمیشہ اُسی میں بسے رہیں، اور اُس کے کلام کو خوراک بنائیں۔
خدا کے بچوں کو دوست بنائیں، جو کمزور ہیں اُن کی مدد کریں،
   کسی بھی بات میں اُس کی برکات کو ڈھونڈنا فراموش مت کریں۔
مقدس بننے کے لیے وقت لگائیں، دُنیا بھاگتی جا رہی ہے؛
   خفیہ طور پر تنہا یسوع کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں۔
یسوع کی جانب دیکھنے کے ذریعے سے آپ اُسی جیسے ہو جائیں گے؛
   آپ کے دوست آپ کے روئیے میں اُس کا عکس دیکھیں گے۔

مقدس بننے کے لیے وقت لگائیں، اپنی روح میں پُرسکون رہیں،
   ہر سوچ اور ہر تحریک اُن کے قابو کے میں ہوتا ہے۔
پس اُس کی روح کی رہنمائی کے وسیلے سے محبت کے چشموں تک پہنچیں،
   آپ جلد ہی عالم بالا پر خدمت کے لیے موزوں ہو جائیں گے۔
(’’مقدس بننے کے لیے وقت لگائیںTake Time to be Holy‘‘ شاعر ولیم ڈی لونگسٹاف William D. Longstaff، 1822 – 1894؛ بند 1، 2 اور 4)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔