Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


ابلیس کی چالبازیاں

THE WILES OF THE DEVIL
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونئیر کی جانب سے
پادری ایمریٹس
by Dr. R. L. Hymers, Jr.
Pastor Emeritus

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں پڑھایا گیا ایک سبق
خُداوند کے دِن کی دوپہر، 20 دسمبر، 2020
A lesson taught at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Afternoon, December 20, 2020

واعظ سے پہلے حمدوثنا کا گیت گایا گیا: ’’مسیحی، کیا تو اُنہیں دیکھ سکتا ہے؟Christian,
Dost Thou See Them?‘‘ (شاعر کریتے کا اینڈریوAndrew of Crete، 660 –
732؛ جان ایم نیل John M. Neale، 1818 – 1866 نے ’’بڑھتے چلو، مسیحی
سپاہیوOnward, Christian Soldiers‘‘ شاعرہ سابین بارنگ گوولڈ Sabine
Baring-Gould، 1834۔1924کی دُھن پر ترجمہ کیا؛ کورس ’’بڑھتے چلو،
مسیحی سپاہیو‘‘ کا ہے)

مہربانی سے کھڑے ہوں اور افسیوں 6:10 – 16 آیت کھولیں جبکہ میں اِسے پڑھتا ہوں۔

’’آخری بات یہ ہے کہ تُم خداوند میں اور اُس کی قوت سے معمور ہو کر مضبوط بن جاؤ۔ خدا کے دئیے ہُوئے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو جاؤ تاکہ تُم اِبلیس کے منصوبوں کا مقابلہ کر سکو۔ کیونکہ ہمیں خُون اور گوشت یعنی اِنسان سے نہیں بلکہ تاریکی کی دُنیا کے حاکموں، اِختیار والوں اور شرارت کی رُوحانی فوجوں سے لڑنا ہے جو آسمانی مقاموں میں ہیں۔ چنانچہ تُم خدا کے تمام ہتھیار باندھ کر تیار ہو جاؤ تاکہ جب اُن کے حملہ کرنے کا بُرا دِن آئے تو تُم اُن کا مقابلہ کر سکو اور اُنہیں پوری طرح شکست دے کر قائم بھی رہ سکو۔ اِس مقصد کے لیے تُم سچائی سے اپنی کمر کس لو، خدا کی راستبازی کا بکتر پہن لو۔ صُلح کی خُوشخبری کی تیاری کے جُوتے پہن کر تیار ہو جاؤ۔ اور اِن کے علاوہ ایمان کی سِپر اُٹھائے رکھو تاکہ اُس سے تُم شیطان کے سارے آتشین تیروں کو بجھا سکو‘‘ (افسیوں 6:10۔16).

میری تلاوت افسیوں6:11 آیت ہے،

’’خدا کے دئیے ہُوئے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو جاؤ تاکہ تُم اِبلیس کے منصوبوں کا مقابلہ کر سکو‘‘ (افسیوں 6:11).

وہ ابلیس اور اُس کے آسیب آپ کو چال میں پھنسانے کے لیے اور آپ کی مسیحی زندگی کو تباہ کرنے کے لیے موقع کی تاک میں ہیں۔

اور اِس کے باوجود مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آج کی دور میں ’’ابلیس کی چالبازیوں‘‘ کے بارے میں اِس قدر کم بتایا جاتا ہے۔ حمدوثنا کے زیادہ تر گیتوں میں صرف ایک ہی حمد و ثنا کا گیت ہے جو اِس موضوع پر ہے – اور اِس کو 7ویں صدی میں لکھا گیا تھا! آئیے اِس کو گائیں – ’’بڑھتے چلو مسیحی سپاہیو‘‘ کی دُھن پر۔ یہ حمدوثنا کا واحد گیت ہے جو ’’ابلیس اور اُس کے آسیبوں کی چالبازیوں‘‘ کو بیان کرتا ہے۔ کھڑے ہوں اور اِس کو گائیں!

مسیحی، کیا تو اُنہیں دیکھ سکتا ہے؟ مقدس سرزمین پر،
   کس طرح سے تیرے اردگرد تاریکی کی قوتوں نے گھیرا ڈالا ہوا ہے؟
مسیحی، اُٹھ اور اُنہیں مار، نقصان کو نہیں صرف فائدے کو گِنو،
   اُس قوت میں جو آتی ہے، مقدس صلیب کے وسیلے سے،
یسوع کے صلیب کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے۔

مسیحی، کیا تو اُنہیں محسوس کر سکتا ہے، وہ کیسے تجھ میں کام کرتے ہیں،
   جدوجہد کرتے ہوئے، آزمائشوں سے گزرتے ہوئے، جھانسوں کا شکار ہوتے ہوئے، گناہ کے لیے اُکسائے جاتے ہوئے؟
مسیحی، کبھی بھی کپکپانا مت، کبھی بھی مایوس مت ہونا؛
   جنگ کے لیے تیار رہو، چوکنے رہو اور دعا کرو اور روزے رکھو۔
بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، جیسے جنگ پر مارچ کرتے ہوئے جا رہے ہو،
   یسوع کے صلیب ساتھ جو آگے آگے چل رہی ہے۔

مسیحی، کیا تو اُنہیں سُن سکتا ہے، وہ کیسے تجھے اچھا کہتے ہیں،
   ’’ہمیشہ تیز اور چوکنے رہو، ہمیشہ چوکس رہو اور دعا مانگتے رہو۔‘‘
مسیحی، جرأت کے ساتھ جواب دیتا ہے، ’’جبکہ میں سانس لیتے ہوئے بھی دعا مانگتا ہوں۔‘‘
   امن جنگ کا تعاقب کرتا ہے، رات دن میں ختم ہو جائے گی۔
بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، جیسے جنگ پر مارچ کرتے ہوئے جا رہے ہو،
   یسوع کے صلیب ساتھ جو آگے آگے چل رہی ہے۔
        (’’مسیحی، کیا تو اُنہیں دیکھ سکتا ہے؟Christian, Dost Thou See Them?‘‘ (شاعر کریتے
         کا اینڈریوAndrew of Crete، 660 – 732؛ جان ایم نیل John M. Neale، 1818 – 1866
            نے ’’بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیوOnward, Christian Soldiers‘‘ شاعرہ سابین بارنگ
               گوولڈ Sabine Baring-Gould، 1834۔1924کی دُھن پر ترجمہ کیا؛ کورس ’’بڑھتے
               چلو، مسیحی سپاہیو‘‘ کا ہے)

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +
ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

وہ حمدوثنا کا ایک کاتھولک گیت ہے۔ میں کسی بھی ایک پروٹسٹنٹ حمدوثنا کے گیت کے بارے میں نہیں جانتا جو ابلیس کی چالبازیوں کے ساتھ ساتھ کریتے کے اینڈریو (660 – 732) کے لکھے ہوئے اِس حمدوثنا کے گیت کی بات کرتا ہو۔

ڈاکٹر اے ڈبلیو ٹوزر Dr. A. W. Tozer نے کہا،

ہم جب پہلی مرتبہ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوتے ہیں، خصوصی طور پر اگر کوئی غیر مسیحی پس منظر سے آتا ہے… دوسرے مسیحیوں میں ہمارا بھروسہ ممکنہ طور پر بے ہوتا ہے۔ کہ منافق ہو سکتے ہیں… کبھی بھی ایک مرتبہ بھی ہمارے ذہن میں نہیں آتا… گرجا گھر کے ایک دُنیاوی ممبر کے ساتھ ہمارا پہلا سامنا ہمارے حساس ذہنوں کے لیے ایک جھٹکے کی حیثیت سے ہوتا ہے۔ وہ مذہبی اپاہج بن جاتے ہیں۔ اُن کی نشوونما غیرکامل ہوتی ہے اور اُس لمحے سے اُن کی افادیت شدید طور پر رکاوٹ بن جاتی ہے‘‘ (روح کا سائز The Size of the Soul، صفحہ 57)۔

آپ میں سے کچھ سوچتے ہیں کہ میں چعین، والڈرِیپ اور جان کیگن کے ساتھ سختی سے پیش آتا رہا ہوں۔ لیکن میں ایسا نہیں سوچتا۔ اگر آپ کو گرجا گھر کی تقسیم میں سے گزرنا پڑے تو آپ اُسی میں ’’ابلیس کی چالبازیوں‘‘ سے آگاہ ہو جائیں گے۔

خود میں اپنی نجات پانے سے پہلے گرجا گھر کی ایک ہولناک تقسیم سے گزر چکا ہوں۔ میرے سنڈے سکول کے اُستاد نے گرجا گھر چھوڑ دیا، بندوق کی نوک پر پیسے چرائے، اور ایک بے اعتقادہ بن گیا۔ اِس نے مجھے دھچکا پہنچایا لیکن یہ مجھے روک نہیں پایا۔

میری بیوی، علیانہ، جب وہ ایک نئی نئی مسیحی تھی تو گرجا گھر کی ایک ناگوار تقسیم میں سے گزری۔ اُس تقسیم میں 80 سے زیادہ اُن کی قریب دوست چھوڑ کر چلے گئے لیکن یہ اُنہیں بالکل بھی نہ روک پائی۔

پادری ورمبرانڈ کے ایک مقدس بننے سے پہلے نازیوں نے اُنہیں جیل میں قید رکھا اور مار پیٹا۔ یہ اُنہیں نہ روک پائی۔

ڈاکٹر ٹوزر مایوسی کے حد تک اپنی غیر نجات یافتہ فیملی کے ذریعے سے خدا کا پیغمبر بننے سے پہلے تمسخر کا نشانہ بنے۔ یہ بات اُنہیں نہ روک پائی۔

ڈاکٹر کیگن کے ایک مقدس بننے سے پہلے اُن کے ساتھ اُن کے اُن ’’دوستوں‘‘ کے ذریعے سے جنہوں نے گرجا گھر کی تقسیم کی انتہائی بُرا سلوک کیا گیا۔ لیکن یہ بات اُنہیں اِس سے باز نہ رکھ پائی۔

مسز سلازار کی پٹائی اُن کے مقدس بننے سے پہلے اپنے بدکار شوہر کے ذریعے سے ہوئی تھی۔ لیکن یہ بات اُنہیں اِس سے باز نہ رکھ پائی۔ آج وہ غالباً ہمارے گرجا گھر کی سب سے مضبوط ترین مقدس ہیں۔ یہ بات اُنہیں باز نہ رکھ پائی۔

خُدا کے اِن مقدسین کو بے اعتقادوں کو منافقین کی مانند عمل کرتے دیکھ کر تقویت ملی۔ اِن نے اِن سب کو یہ احساس دلایا کہ ’’شیطان کی چالبازیاں‘‘ طاقتور تھیں – لہٰذا وہ مضبوط ترین مسیحی بنے۔

لیکن بہت سے دوسرے لوگ گرجا گھر کی تقسیموں کے ذریعے سے جو اُنہوں نے دیکھیں تباہ ہو گئے۔ لیکن وہ سب کے سب مستثنیات تھے۔ ہمارے گرجا گھر میں جو ہولناک جرائم اُن منافقین نے کیے تو زیادہ تر کمزور مسیحیوں نے جب اُنہیں دیکھا تو وہ ’’دنگ رہ گئے‘‘ تھے! یسوع نے کہا،

’’لیکن جو کوئی اِن چھوٹوں میں سے جو مجھ پر ایمان لائے ہیں کسی کے ٹھوکر کھانے کا باعث بنتا ہے تو اُس کے لیے یہی بہتر ہے کہ چکّی کا بھاری سا پاٹ اُس کی گردن سے لٹکا کر اُسے گہرے سمندر میں ڈبو دیا جائے‘‘ (متی 18:6).

ڈاکٹر ٹوزر نے کہا،

’’ایک کمزور مسیح کے ایمان کو خراب کرنے سے بہتر مرنا ہے۔ مسیح کا الفاظ کا شاید اِس سے زیادہ مطلب ہو سکتا ہے، لیکن اِن کا مطلب شاید ہی کم ہو پائے‘‘ (ibid.، صفحہ 58)۔

’’جو شخص فہم کی راہ سے بھٹک جاتا ہے اُسے مُردوں کی صحبت نصیب ہوتی ہے‘‘ (امثال 21:16).

ڈاکٹر جان آر رائس Dr. John R. Rice عظیم مقدسین میں سے ایک ہیں جنہیں میں مل چکا ہوں۔ درج ذیل اُن کا پسندیدہ حمدوثنا کا گیت ہے۔ یہ آپ کے گیتوں کے ورق پر نمبر 2 ہے۔ کھڑے ہوں اور اِسے گائیں!

یسوع، میں نے اپنی صلیب اُٹھا لی ہے، سب کچھ چھوڑنے اور تیری پیروی کرنے کے لیے؛
   مفلس، حقیر جانا گیا، اکیلا چھوڑا گیا، اب سے تجھ پر ہی میرا آسرا ہے:
ہر مہربان آرزو مر چکی ہے، وہ تمام جس کی میں نے کوشش کی اور اُمید کی اور جانا۔
   اِس کے باوجود میری حالت کتنی مالدار ہے، خُدا اور آسمان ابھی تک میرے اپنے ہیں!

دُنیا کو مجھے حقیر جاننے دو اور مجھے چھوڑ دینے دو، اُنہوں نے میرے نجات دہندہ کو بھی چھوڑ دیا تھا؛
   انسانی دِل اور چہرے مجھے دھوکہ دیتے ہیں؛ لوگوں کی مانند تیرا چہرہ جھوٹا نہیں ہے؛
اورجبکہ تو مجھ پر مسکرا رہا ہے، حکمت، محبت اور قوت کے خُدا،
   دشمن شاید نفرت کریں، اور دوست شاید مجھ سے اجتناب کریں؛ اپنا چہرہ دکھا اور تمام پُر نور ہے۔

لوگ شاید مجھے پریشان کریں اور مایوس کریں، یہ مجھے صرف تیرے سینے کی طرف ہی کھینچے گا؛
   زندگی شدید دشواریوں کے ساتھ شاید مجھے دبا دے، آسمان میرے لیے گداز اور میٹھی نیند لائے گا۔
مجھے نقصان پہنچانے کے لیے یہ ماتم کرنے والی بات نہیں ہے، جبکہ تیرا پیار میرے لیے موجود ہے؛
   اور وہ مجھے راغب کرنے کے لیے خوشی میں نہیں تھے، وہ خوشی تیرے ساتھ کس قدر خالص تھی۔

فضل سے جلال تک تم نے جلد پہنچے، ایمان سے لیس، اور دعا میں پرواز سے؛
   تمہارے سامنے آسمان کے دائمی دِن تھے، خُدا کا اپنا ہاتھ وہاں تمہاری رہنمائی کرے گا۔
جلد ہی تمہاری زمینی مشن ختم ہو جائے،تمہارے مسافرت کے دِن جلدی سے گزر جائیں گے،
   اُمید پُرمسرت نتیجے میں بدل جائے گی، نظارے کے لیے ایمان اور ستائش کے لیے دعا۔
(’’یسوع، میں نے اپنی صلیب اُٹھا لی ہے Jesus, I My Cross Have Taken‘‘ شاعر ھنری ایف۔ لائٹ Henry F. Lyte، 1793۔1847)۔

کھڑے رہیں اور اپنے گیتوں کے ورق پر سے نمبر 1 گائیں،

مسیحی، کیا تو اُنہیں محسوس کر سکتا ہے، وہ کیسے تجھ میں کام کرتے ہیں،
   جدوجہد کرتے ہوئے، آزمائشوں سے گزرتے ہوئے، جھانسوں کا شکار ہوتے ہوئے، گناہ کے لیے اُکسائے جاتے ہوئے؟
مسیحی، کبھی بھی کپکپانا مت، کبھی بھی مایوس مت ہونا؛
   جنگ کے لیے تیار رہو، چوکنے رہو اور دعا کرو اور روزے رکھو۔
بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، جیسے جنگ پر مارچ کرتے ہوئے جا رہے ہو،
   یسوع کے صلیب ساتھ جو آگے آگے چل رہی ہے۔

مسیحی، کیا تو اُنہیں سُن سکتا ہے، وہ کیسے تجھے اچھا کہتے ہیں،
   ’’ہمیشہ تیز اور چوکنے رہو، ہمیشہ چوکس رہو اور دعا مانگتے رہو۔‘‘
مسیحی، جرأت کے ساتھ جواب دیتا ہے، ’’جبکہ میں سانس لیتے ہوئے بھی دعا مانگتا ہوں۔‘‘
   امن جنگ کا تعاقب کرتا ہے، رات دن میں ختم ہو جائے گی۔
بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، جیسے جنگ پر مارچ کرتے ہوئے جا رہے ہو،
   یسوع کے صلیب ساتھ جو آگے آگے چل رہی ہے۔

پہلا پطرس 5:8 – 11 آیات کھولیں۔

’’ہوشیار اور خبردار رہو کیونکہ تمہارا دشمن اِبلیس دھاڑتے ہوئے شیر ببر کی مانند ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے۔ اُس کا مقابلہ کرو اور ایمان میں مضبوط رہو۔ مت بھولو کہ تمہارے مسیحی بھائی جو دُنیا میں ہیں وہ بھی ایسے ہی دُکھوں سے دو چار ہیں۔ خدا نے جو سارے فضل کا سرچشمہ ہے مسیح کے ذریعہ تمہیں اپنے دائمی جلال میں شریک ہونے کے لیے بُلایا ہے اور اگرچہ تُم تھوڑی مُدت تک دُکھ اُٹھاؤ گے لیکن بعد میں خدا آپ ہی تمہیں کامل کر کے قائم اور مضبوط کر دے گا۔ بادشاہی ہمیشہ تک اُسی کی ہے۔ آمین‘‘ (1۔ پطرس 5:8۔11).


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔