Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


سوالات کے جواب دینا # 2

ANSWERING QUESTIONS #2
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
پاسٹر ایمریٹس
by Dr. R. L. Hymers, Jr.,
Pastor Emeritus

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک سبق
خداوند کے دِن کی دوپہر، 11 اکتوبر، 2020
A lesson given at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Afternoon, October 11, 2020

سبق سے پہلے حمدوثنا کا گیت گایا:
      ’’ہائے ہزاروں زبانوں کے لیے O For a Thousand Tongues‘‘
      (شاعر چارلس ویزلی Charles Wesley، 1707۔1788)۔

’’اگر کوئی تم سے تمہاری اُمید کے بارے میں دریافت کرے تو اُسے جواب دینے کے لیے ہمیشہ تیار رہو لیکن نرم مزاجی اور احترام کے ساتھ‘‘ (1 پطرس15:3)۔

جب آپ خوشخبری کو پیش کرتے ہیں تو شیطان آپ کی پیشکش کو روکنے کے لیے اپنے آسیبوں کے ذریعے سے پوری کوشش کرے گا۔ دوسری طرف، جس شخص کے بارے میں آپ گواہی دے رہے ہیں اُسے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

عام سوالات

1. میں بائبل میں یقین نہیں رکھتا۔

پولوس رسول نے یونانیوں کو بائبل کا حوالہ دیا تھا جو اُس میں یقین نہیں رکھتے تھے۔ پولوس نے اُن لوگوں کو راضی کرنے کی کوشش نہیں کی تھی جن کی اُس نے گواہی دی تھی۔ ہمارے اہم کام کی گواہی دینا دفاع نہیں، اعلان ہوتا ہے۔

بائبل کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ کیسے ایک شخص دائمی زندگی پائے گا۔ آپ اِس بارے میں کیا سمجھتے ہیں کہ بائبل اِس موضوع پر کیا کہتی ہے؟

تقریباً 98 فیصد اوقات میں وہ کہیں گے، ’’دس احکامات کو ماننے – یا نیک بننے کی کوشش کرنے کے ذریعے سے۔‘‘

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +
ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

2. کیا اِرتقاء تخلیق کو غلط ثابت نہیں کرتا؟

ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر نے کہا، ’’ہم جو یقین رکھتے ہیں بائبل جانتی ہے کہ کائنات ایک تخلیق ہے۔ یہ دائمی نہیں ہے کیونکہ اِس کا ایک آغاز تھا۔ یہ خوشگوار اِتفاقات کے تسلسل کا نتیجہ نہیں ہے جس کے نتیجے میں ایک دوسرے سے اِتفاقی طور پر ملنے والے حصوں کی تعداد ایک دوسرے کے ساتھ مل گئی، ایک دوسرے کی جگہ پر بیٹھ گئی اور مصروفیت میں مگن ہو گئی۔ اُس پر یقین کرنے کے لیے اِعتبار کی ضرورت ہوگی جو چند ایک لوگوں کے پاس ہی ہے‘‘

ایک نوجوان شخص سے پوچھا گیا، ’’کس ثبوت نے تمہیں قائل کیا ہے کہ اِرتقاء سچا ہے؟‘‘ اُس نے جواب دیا، ’’لوگوں اور جانوروں کے درمیان مشہابتیں۔ میرے لیے، وہ بات اِرتقاء کو ثابت کرتی ہے۔‘‘

1950 کی دہائی میں ماضی میں جیمس واٹسن اور فرانسس کررِک نے زندگی کے کُلیدی مالیکیول، ڈی این اے DNA کو دریافت کیا – ایک دریافت جس کی وجہ سے اُنہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ انسانی جسم میں ایک ٹرلیئن سے بھی زیادہ مالیکیولز ہیں۔ یہ نہایت شاندارانہ طور پر ایک پیچیدہ نظام ہے۔

کررِک، جو کہ ایک دہریے اور نظریہ اِرتقاء کے ماننے والے ہیں، اُنہوں نے ڈی این اے DNA مالیکیول کے احتمال [اِمکان] کو ڈھونڈنے کا فیصلہ کیا جو اِرتقاء پسند کہتے ہیں کہ 4.6 بلین سالوں کے دوران بے ساختہ پیدا ہوا [اور] جو زمین کی زندگی ہے۔ زمین کی تاریخ میں ایک خُلیے کے ڈی این اے DNA مالیکیول کے کیا اِمکانات ہیں؟ کیا آپ کو اُن کے [جواب کا] نتیجہ معلوم ہے؟ صفر۔ حتّیٰ کہ 4.6 بلین سالوں میں بھی ایسا کبھی بھی ممکن نہیں ہو سکتا تھا!

تو کیا پھر فرانسس کررِک نے کہا کہ یہ خدا ہی ہونا چاہیے جس نے یہ کیا؟ اُنہوں نے نہیں کہا۔

کیا یہ عجیب نہیں لگتا کہ اِن سائنسدانوں میں سے کسی نے بھی یہ ثبوت پاتے ہوئے بھی، اقرار نہیں کیا کہ اُن کا نظریہ غلط تھا؟ اُن میں سے ایک نے بھی نہیں کہا، ’’ڈاروِن کے زمانے سے لیکر، ہم کچھ غلط سِکھاتے رہے ہیں۔ ہم نے آپ کو سِکھایا کہ زندگی کا آغاز قدیم کیچڑ سے ہوا جب امائینو ایسڈ اکٹھے ہو گئے اور ایک خُلیے کو تشکیل کیا۔ اور، بلین سالوں بعد، ہم یہاں پر کھڑے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ یہ ایسے ہی رونما ہوا تھا۔ لیکن ہمارا نظریہ غلط ثابت کیا جا چکا ہے۔ ہم معزرت خواہ ہیں کہ ہم نے آپ کی غلط رہنمائی کی۔‘‘

کیا آپ جانتے ہیں فرانسس کررِک نے کیا کِیا؟ وہ اِس سے بھی زیادہ ناممکن نظریہ کے ساتھ سامنے آئے۔ اُن کا نیا نظریہ یہ تھا کہ کسی دور دراز کے سیارے سے انسانوں کی ایک ترقی یافتہ نسل خلائی جہاز میں اپنے ساتھ جہاز میں اپنے نُطفوں کے ساتھ نکل پڑی اور مختلف سیاروں پر بیج بکھرے۔ اور یوں اِس طرح سے ہمارا وجود ہوا۔ یہ کچھ کچھ سٹار وارزStar Wars جیسا لگتا ہے!

زندگی بے جان سے نہیں آ سکتی۔ اِس ہی لیے بائبل کہتی ہے، ’’شروع میں خُدا نے زمین اور آسمان کو تخلیق کیا‘‘ (پیدائش1:1)۔

تین ثبوت جو خُدا کی وجودیت میں یقین کرنے میں میری مدد کر چکے ہیں:

(1) وجہ اور اثر کا قانون

     کیونکہ کائنات میں اسباب اور اثرات کو میں دیکھتا ہوں جو منطقی طور پر میری نشاندہی اُس عظیم نادیدہ سبب کی جانب کراتے ہیں جس میں میرا یقین ہے کہ وہ خُدا ہے۔

(2) ڈیزائن [تخلیق کے نمونے] کا ثبوت

     اگر آپ مریخ جاتے اور ایک کامل نمونے [ڈیزائن] کی گھڑی وہاں ملتی تو آپ منطقی طور پر نتیجہ اخذ کرتے کہ وہ گھڑی ایک گھڑی ساز کی جانب اشارہ کرتی تھی۔ لہٰذا ایک شائستہ طور پر ڈیزائن کی ہوئی دُنیا، دُنیا کے بنانے والے کی جانب اشارہ کرتی ہے، ایک ڈیزائنر جسے میں، خُدا بُلاتا ہوں۔

(3) شخصیت کا ثبوت

     ہم شُہرا آفاق [پینٹنگ] مصوری مونا لیزا پر نظر ڈالتے ہیں۔ ہم شخصیت کے ثبوت پر نظر ڈالتے ہیں۔ وہ مصوری کسی غیر ذاتی وجہ کا نتیجہ نہیں ہوسکتی۔ یہ تیسرا ثبوت اہم ہے کیونکہ ایک سبب سے قوت ہمیں ذمہ دار قرار نہیں دے گی، بلکہ ایک ہستی ہمیں ہمارے گناہوں کے لیے ذمہ دار ٹھہرا سکتی ہے۔

3. میرا خُدا اُس طرح کا نہیں ہے۔

جان ویزلی کی زندگی، جنہوں نے میتھوڈِسٹ کلیسیا کا آغاز کیا، نہایت واضح طور پر، نجات کے لیے تنہا یسوع مسیح میں بھروسہ کرنے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ پانچ سالوں کے لیے آکسفورڈ سیمنری میں گئے اور پھر انگلستان کے چرچ کے مذہبی خادم بن گئے، جہاں پر اُنہوں نے دس سالوں تک خدمت سرانجام دی۔ اُس دور کے آخر میں، تقریباً 1735 میں، وہ انگلستان سے جارجیا کے لیے ایک مشنری بن گئے۔

اپنی ساری کی ساری زندگی، وہ اپنی مذہبی خدمات میں کافی ناکامی کا شکار رہے، حالانکہ وہ جیسا کہ ہم لوگوں کو سمجھتے ہیں کافی متقی یا دیندار تھے۔ وہ صبح چار بجے اُٹھتے تھے اور دو گھنٹوں تک نماز پڑھتے تھے۔ اور جیلوں، قید خانوں اور ہسپتالوں میں ہر طرح کے لوگوں میں مذہبی خدمات سرانجام دینے کے لیے جانے سے پہلے وہ ایک گھنٹے تک بائبل کا مطالعہ کرتے۔ وہ جب تک رات نہ ہو جاتی تعلیم دیتے، دعا مانگتے اور دوسروں کی مدد کرتے۔ اُنہوں نے یہ سالوں تک کیا۔ درحقیقت، میتھوڈسٹ کلیسیا دینداری کی [اِسی] میتھوڈیکل طرز سے جسے ویزلی اور اُن کے دوستوں نے جیا اپنا نام پاتی ہے۔

امریکہ سے واپسی پر، سمندر میں بہت بُرا طوفان آ گیا۔ وہ چھوٹا سا بحری جہاز جس پر وہ سفر کر رہے تھے ڈوبنے کے قریب تھا۔ بڑی بڑی لہریں بحری جہاز کے عرشے پر تھپیڑے مار رہی تھیں اور ہوائیں بادبانوں کو تار تار کر رہی تھیں۔ ویزلی خوفزدہ تھے کہ وہ اُس لمحے یا گھڑی میں مرنے والے تھے اور وہ شدید خوف میں مبتلا تھے۔ اُن کے پاس کوئی یقین دہانی نہیں تھی کہ اُن کے ساتھ کیا ہوگا جب میں مر جاؤں گا۔ نیک بننے کی اُن کی تمام تر کوششوں کے باوجود، موت اُن کے لیے ایک بہت بڑا، سیاہ، خوف سے بھرپور سوالیہ نشان تھی۔

بحری جہاز کی دوسری جانب لوگوں کا ایک گروپ تھا جو حمدوثنا کے گیت گا رہا تھا۔ اُنہوں نے اُن لوگوں سے پوچھا، ’’تم کیسے گانے گا سکتے ہو جب کہ بالکل اِسی شب تم مرنے والے ہو؟‘‘ اُن لوگوں نے جواب دیا، ’’اگر یہ جہاز ڈوبتا ہے تو ہم ہمیشہ کے لیے خداوند کے پاس اُوپر چلے جائیں گے۔‘‘ ویزلی خود سے سوچتا اور اپنا سر دُھنتا ہوا پرے چلا گیا، ’’اُنہیں وہ کیسے معلوم ہو سکتا ہے؟ جو میں کر چکا ہوں اُس کے مقابلے میں وہ کتنا اور زیادہ کر چکے ہیں؟‘‘ پھر اُس نے اضافہ کیا، ’’میں کافروں کو مسیح میں ایمان دِلا کر تبدیل کرنے کے لیے آیا۔ آہ، لیکن مجھے کون تبدیل کرے گا؟‘‘

خُدا کی پروردگاری میں، بحری جہاز واپس انگلستان پہچنے میں کامیاب ہو گیا۔ ویزلی لندن چلے آئے اور ایلڈرگیٹ سٹریٹ کے لیے اور ایک چھوٹے گرجا گھر کے لیے اپنی راہ تلاش کی۔ وہاں اُنہوں نے ایک شخص کو ایک واعظ پڑھتے ہوئے سُنا جو دو صدیاں پہلے مارٹن لوتھر کی جانب سے تحریر کیا گیا تھا، جس کا عنوان ’’رومیوں کی کتاب کے لیے لوتھر کا دیباچہLuther’s Preface to the Book of Romans‘‘ تھا۔ اِس واعظ نے وضاحت کی کہ حقیقی ایمان کیا تھا۔ یہ نجات کے لیے صرف یسوع مسیح پر بھروسا کرنا تھا – اور ناکہ خود اپنے نیک کاموں میں۔

ویزلی کو اچانک احساس ہوا کہ وہ اپنی زندگی کی غلط راہ پر گامزن رہے تھے۔ اُس رات اُنہوں نے اپنی روز لکھی جانے والی ڈائری میں اِن الفاظ کو تحریر کیا: ’’تقریباً پونے نو بجے، جب وہ اُس تبدیلی کی وضاحت کر رہے تھے جو مسیح میں ایمان کے ذریعے سے خُدا دِل میں بِٹھاتا، میں نے عجیب طور پر اپنے دِل کو گرم ہوتا ہوا محسوس کیا۔ میں نے محسوس کیا میں واقعی میں مسیح پر بھروسا کیا، تنہا مسیح پر، نجات کے لیے اور مجھے ایک یقین دہانی بخشی گئی کہ اُس نے میرے گناہوں کو اُٹھا لیا تھا، یہاں تک کہ میرے، اور مجھے موت اور گناہ کی شریعت سے نجات دلائی تھی۔‘‘

یہ ہوا تھا۔ یہ نجات دلانے والا ایمان ہوتا ہے۔ اپنے گناہوں پر توبہ کرنا، اُس نے نجات کے لیے تنہا یسوع مسیح پر بھروسا کیا تھا۔ اب، کیا آپ کہیں گے کہ اِس رات سے پہلے ویزلی نے یسوع مسیح میں یقین نہیں کیا تھا؟ بیشک، اُس نے کیا تھا۔ وہ بائبل کا ایک عالم تھا اور انگریزی، لاطینی، یونانی، اور عبرانی میں مسیح کے بارے میں مطالعہ کیا تھا۔ اُس نے اِن تمام زبانوں میں مسیح میں یقین کیا تھا۔ لیکن اُس نے جان ویزلی میں اُس کی نجات کے لیے بھروسا کیا تھا۔

اِس کے بعد، وہ اٹھارویں صدی کے عظیم ترین مبلغ بنے تھے۔ لیکن یہ سب اُس وقت شروع ہوا تھا جب اُنہوں نے اپنی نجات کے لیے تنہا یسوع مسیح میں اپنا بھروسا قائم کیا تھا اور اُسے اپنے خداوند کی حیثیت سے قبول کیا تھا۔ (ڈاکٹر ڈی۔ جیمس کینیڈی Dr. D. James Kennedy، انجیلی بشارت کی تعلیم کے پرچار کا پھٹ پڑنا Evangelism Explosion، چوتھا ایڈیشن، ٹائینڈائل ہاؤس پبلیشرز Tyndale House Publishers، 1996، صفحات 183۔ 184)۔

نظریہ علم یا علمیات فلسفے کی وہ شاخ ہے جو سوال کے ساتھ نمٹتی ہے – ہم کیسے جانتےہیں؟ دو طریقے ہیں جن سے لوگ جو خدا کے بارے میں سوچتے ہیں اُس کا جواب دیتے ہیں۔

1. عقلیت پسندی۔ عقلیت پسندی کے استعمال نے بنی نوع انسان کو کچھ عجیب و غریب مذہبی راستوں پر گامزن کر دیا ہے۔

2. مکاشفہ یا وحی۔ اب، مسیحی کلیسیا ہمیشہ اِس بات پر قائم رہی ہے کہ خدا نے بائبل کے ذریعے سے خود کا منکشف کیا، اور بنیادی طور پر اپنے بیٹے، یسوع مسیح کے ذریعے سے۔ لہٰذا سوال اب یہ نہیں ہے کہ ہم دونوں میں سے کون کیا سوچتا ہے۔ سوال یہ ہے، ’’خُدا نے بائبل میں اور اپنے بیٹے یسوع مسیح کے ذریعے سے کیا کہا ہے؟‘‘

4. کیا کافر گمراہ ہیں؟

     کہو، ’’ہم یہاں پر کیا کر رہے ہیں اور اب ایک تھیالوجیکل مباحثے کو طے کرنے کے مقابلے میں کہیں بہت زیادہ بڑی فوری ضرورت ہے۔‘‘
     آپ شاید کہہ سکتے ہیں، ’’بوب، وہ ایک اچھا سوال ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم واقعی میں افریقہ میں موجود قوموں کو خُدا کے ہاتھ میں چھوڑ سکتے ہیں، جو نہایت ہی عظیم اور بہت مہربان ہے۔ آج میں چاہتا ہوں کہ آپ یقین کے ساتھ جان جائیں کہ آپ کے پاس دائمی زندگی ہے۔ شاید بعد میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خُدا نے اِن لوگوں کے بارے میں جو کچھ کہا جو کبھی بھی خوشخبری کو نہیں سُنتے… مسئلہ سوال کے گرد ہی گھومتا ہے، ’کیا خُدا اُن اقوام کو محض اُس مسیح پر یقین نہ کرنے کی خاطر دوزخ میں بھیج سکتا ہے جس کے بارے میں اُنہوں نے کبھی سُنا ہی نہیں تھا؟
     بائبل تعلیم دیتی ہے کہ مسیح اُن لوگوں کی مذمت کرنے کے لیے نہیں آیا تھا جن کی پہلے ہی سے مذمت کی جا چکی تھی۔ لوگوں کی صرف ایک ہی بات کے لیے مذمت کی جاتی ہے – اُن کے گناہ۔‘‘

5. میں موت کے بعد زندگی میں یقین نہیں رکھتا۔

(1) افلاطون۔ قدیم فلسفی افلاطون نے دکھایا کہ ایک بیج کو مذیدار پھلوں کے ساتھ ایک درخت کو اُگانے کے لیے پہلے ٹوٹنے اور مرنے کے عمل سے گزرنا پڑا۔ افلاطون نے نتیجہ اخذ کیا کہ انسانی جسم کو کسی دوسری دُنیا اور کسی زندگی میں ابھرنے سے پہلے مرنا ہوگا۔
     افلاطون نے مسیح اور پولوس رسول سے چار صدیاں پہلے زندگی بسر کی تھی۔ اِس کے باوجود اُس نے موت کے بعد زندگی کے اُسی ثبوت کی تعلیم دی تھی جس کی پولوس اور مسیح نے 1 کرنتھیوں15:35۔36 اور یوحنا12:24 میں نشاندہی کی۔

(2) فلسفی عمانیوئیل کانت نے مشاہدہ کیا کہ تمام انسان صحیح اور غلط کے بارے میں فکر مند ہیں جو اخلاقی ذمہ داری کا ایک احساس ہے۔ اُس نے کہا، ’’اگر انصاف مؤثر نہیں ہوتا ہے تو صحیح کام کیوں کیا جائے؟‘‘ دوسرے لفظوں میں، اُنہوں نے استدلال کیا کہ فرض کے معنی خیز ہونے کے لیے انصاف ہونا ضروری ہے کیونکہ اگر انصاف مؤثر نہیں ہوتا ہے تو صحیح کام کیوں کیا جائے؟ اُنہوں نے وجہ پیش کی کہ چونکہ اِس زندگی میں انصاف قائم نہیں رہتا تو ایک دوسری جگہ ہونی چاہیے جہاں پر وہ قائم ہو گا۔ دوسرے لفظوں میں، فلسفی کانت نے توجیہہ پیش کی کہ انصاف موت کے بعد زندگی کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ ویسا ہی لگتا ہے جو عبرانیوں9:27 میں بائبل بیان کرتی ہے۔
     پس عمانیوئیل کانت کے لیے عملی اخلاقیات کو موت کے بعد زندگی درکار اور ایک منصف درکار ہوتا ہے جو کافی حد تک بائبل کے خدا جیسا ہے۔

(3) تھرموڈائنیمکس [طبیعیات کی وہ شاخ جو توانائی کی مختلف شکلوں کے تبادلوں سے وابستہ ہے] کا پہلا قانوں، جیسا کہ آئنسٹائین نے ترتیب دیا تھا۔ یہ بیان کرتا ہے کہ توانائی اور مادے کو تخلیق یا تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر انسان وجود رکھنا چھوڑ دیتا ہے تو کائنات میں وہ واحد شے ہو گا جو یہ کرتا ہے۔ 1کرنتھیوں15:49۔51 میں بائبل وضاحت کرتی ہے کیسے مسیح جسم برداشت کرے گا۔ اِس طرح سے آئنسٹائین ایک مُلحد نہیں تھا۔

(4) مرتے ہوئے لوگوں کی آخری الفاظ۔
     اپنے بسترِ مرگ پر مُلحد گیبّن Gibbon چیخ پڑا، ’’سب کچھ تاریک ہے۔‘‘ ایڈیمز Adams نامی ایک اور مُلحد جب مر رہا تھا تو ’’اِس کمرے میں شیاطین ہیں اور وہ مجھے نیچے کھینچنا چاہتے ہیں‘‘ چیختے ہوئے سُنا گیا تھا۔
     اِس کے برعکس، مسیحی حمدکار ٹاپ لیڈی Toplady پکار اُٹھے، ’’ہر طرف نور، نور نور ہی ہے!‘‘ایوریٹEverett نے اپنے مرنے سے 25 منٹ پہلے کہا، ’’جلال، جلال، جلال۔‘‘ ہزاروں لوگوں کو وہ زندگی جس میں سے وہ گزر رہے تھے اُس میں کیا ہونے والا تھا دیکھنے کا موقع مل چکا ہے۔

6. دوبارہ زندگی بحال ہونے والے لوگوں کی یادیں۔

یہ بات جاننے کے لائق ہے کہ حال ہی میں بے شمار سائنسدانوں نے سائنسی دُنیا میں ہلچل مچا دی ہے کہ اُن کی تحقیقات کے نتائج اُن کی یقین دہانی کا سبب بنے ہیں کہ زندگی قبر سے آگے رواں رہتی ہے۔ میں نے اُن مشہور سائنسدانوں کے بارے میں سُنا ہے جن کو جنت یا دوزخ کی پیشن بینی کی گئی ہے۔ اِن تجربات سے کچھ سوالات کے جوابات باقی رہتے ہیں۔ لیکن یہ دلچسپ گواہی مہیا کرتے ہیں۔

الزبتھ کیوبلر راس بظاہر ایک مسیحی نہیں تھیں، لیکن یہ اُن کا بیان تھا، ’’اب اِس بات کا ثبوت حتمی شکل فراہم کرتا ہے۔ موت کے بعد زندگی ہوتی ہے۔‘‘ ڈاکٹر کیوبلر راس نے کہا کہ موت کے قریب تجربات کی سائنسی تصدیق کی گئی ہے۔ ’’ہم اِس کے بارے میں بس بات کرنے سے ڈرتے ہیں،‘‘ اُنہوں نے کہا۔

ڈاکٹر ریمنڈ موڈی نے کہا، ’’موت کے لمحے پر ایک گونج یا شوروغل سا ہوتا ہے۔‘‘ اُن تمام نے اپنے جسم میں سے باہر اُوپر کی جانب تیرتے ہوئے اور دوبارہ زندگی بحال کرنے والے کمرے میں تمام ڈاکٹروں پر نیچے دیکھنے کی اطلاع دی تھی۔ یہ کوئی چند ایک لوگ نہیں ہیں بلکہ پانچ سو سے زیادہ لوگ ہیں جنہیں ساری دُنیا میں سے لیا گیا تھا۔ اِن لوگوں میں سے ہر ایک نے ایک ایسے شخص کو دیکھنے کی اطلاع دی تھی جسے اُنہوں نے ایک مذہبی ہستی کی حیثیت سے بیان کیا۔ یہ بات خصوصی طور پر مُلحدوں کے بارے میں سچ تھی۔

ڈاکٹر کیوبلر راس نے سینکڑوں میڈیکل ڈاکٹروں سے جنہوں نے اُن کی باتیں سُنی کہا، ’’میں کہا کرتی تھی، ’میں موت کے بعد زندگی میں یقین رکھتی ہوں۔‘ لیکن اب میں جان گئی ہوں۔‘‘

ایک ہزار طبّی پیشہ ور افراد اور عالمین اِس ڈاکٹر کو اُس کی تقریر کے اختتام پر نعرہ ہائے تحسین پیش کرنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔

7. دوسرے جنم کے بارے میں کیا خیال ہے؟

یہ ہندو مت اور بُدھ مت میں اعتقاد ہے لیکن مسیحیت میں نہیں ہے! میں [اِس کا] جواب دیتا ہوں، ’’بائبل کہتی ہے، ’اِنسان کا ایک بار مرنا اور عدالت کا ہونا مقرر ہے‘‘‘ (عبرانیوں9:27)۔

یہ سارے کے سارے تصورات یسوع مسیح کے کفارے اور اُس کی کامل راستبازی کو نظر انداز کرتے ہیں۔ صلیب پر اپنی موت کے ذریعے سے اُس نے ایک ہی بار میں ہمارے سارے گناہ اُٹھا لیے۔ لہٰذا جب ہم یسوع پر بھروسا کرتے ہیں، تو ہم اُس خون کے وسیلے سے جو اُس نے صلیب پر بہایا پاک صاف ہو جاتے ہیں!

8. دوزخ حقیقی نہیں ہے۔

بعض اوقات ہمیں یہ کہنا معاون ثابت ہوتا ہے، ’’آپ جانتے ہیں، یہ نفسیات کی ایک حقیقت ہے کہ ہم اُن باتوں کا شدت سے انکار کرتے ہیں جن باتوں سے ہم انتہائی فوری طور پر خوفزدہ ہوتے ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اگر دوزخ میں آپ کے یقین نہ کرنے کی وجہ ہے کہ کہیں آپ روح کی گہرائی میں یہ خوف رکھتے ہیں کہ اگر ایسی کوئی جگہ ہے تو آپ شاید وہاں جائیں گے۔‘‘ اکثر اِس کا جواب ہوتا ہے، ’’میرے خیال میں آپ صحیح ہیں۔‘‘

لیکن آپ کو جاری رہتے ہوئے اپنے اِمکان کو بتانا ہوگا، ’’میں نہیں چاہتا کہ آپ دوزخ میں یقین کریں۔ آپ ایک بات یقینی طور پر جان سکتے ہیں کہ آپ دوزخ میں نہیں جا رہے ہیں۔ اِسی سب کچھ کے بارے میں ہی تو خوشخبری ہے۔ میں دوزخ میں یقین رکھتا ہوں، لیکن میں جانتا ہوں کہ میں وہاں نہیں جا رہا ہوں خُدا کے وعدے کی وجہ سے۔ وہ یہ بات کہنے سے کہیں درجہ بہتر ہے، ’میں جانتا ہوں میں دوزخ نہیں جا رہا ہوں کیونکہ میں یقین ہی نہیں رکھتا کہ ایسی کوئی جگہ ہے۔‘‘‘

9. ہمارے پاس یہاں زمین پر ہی ہماری دوزخ ہے۔

آپ جانتے ہیں آپ جزوی طور پر صحیح ہیں۔ میں منشیات کے عادی افراد کو جانتا ہوں جو زمین پر ہی ایک جیتی جاگتی دوزخ میں سے گزرے۔ میں ایسے شرابیوں کو جانتا ہوں جو شراب کے غلام تھے۔

پادری مارک بکلے نے منشیات کے استعمال اور اِس بات سے ایک پاگل خانے تک پہنچ جانے کے بارے میں بتایا۔ پادری بکلے یسوع پر بھروسا کرنے کی وجہ سے زمین پر ہی دوزخ سے بچ نکلے۔ یسوع نے پادری بکلے کو منشیات کی لت سے نجات دلائی – یسوع مسیح میں اُن کی زندگی بدل ڈالنے والی نجات۔ ایمازان ڈاٹ کام Amazon.com پر جائیں اور مارک کی کتاب کا آرڈر دیں۔ اِس کا عنوان ہے، ’’اندھیرے سے روشنی تک: میرا سفرFrom Darkness to Light: My Journey‘‘ مصنف پادری مارک بکلے Pastor Mark Buckley۔ اگر آپ پہلے چند ایک صفحات کا مطالعہ کر لیں تو آپ ساری کی ساری کتاب پڑھیں گے۔ میں خود اِسے حال ہی میں دو مرتبہ پڑھ چکا ہوں۔

ہم سبت مشن سے تعلق رکھنے والے [لوگ] نہیں ہیں، لیکن ہم پادری بکلے سے اِس بات پر متفق ہیں، جنہوں نے کہا،

’’جب ہم خدا پر بھروسا کرتے ہیں اور سکون کرتے ہیں، تو وہ ہمیں بصیرت اور فہم وفراست بخش سکتا ہے جو ہمیں طویل عرصے کے لیے مذید زیادہ نتیجہ خیز بنا دیتی ہے… میں روحانی قانون پرستی کی حمایت نہیں کر رہا ہوں۔ میں آپ کی حوصلہ افزائی کر رہا ہوں کہ آرام کے لیے ایک وقت طے کریں تاکہ آپ صحت مند رہیں‘‘ (’’اندھیرے سے روشنی تک: میرا سفرFrom Darkness to Light: My Journey‘‘ مصنف پادری مارک بکلے Pastor Mark Buckley)۔

مہربانی سے کھڑے ہوں اور حمدوثنا کا ہمارا گیت گائیں، ’’ہائے ہزاروں زبانوں کے لیے O For a Thousand Tongues‘‘

ہائے ہزاروں زبانوں کے لیے
   میرے عظیم نجات دہندہ کی ستائش،
میرے خداوندا اور بادشاہ کے جلال،
   اُس کے فضل کی فتوحات۔

میرے شفیق مالک اور میرے خُداوندا،
   اعلان کرنے کے لیے میری معاونت کر،
بیرون مُلک ساری دُںیا میں پھیلانا،
   تیرے نام کے اعزازات۔

یسوع! وہ نام جو ہمارے خوف کو دور کرتا ہے،
   جس سے ہمارے غم ختم ہو جاتے ہیں؛
یہ گنہگار کے کانوں میں موسیقی ہے،
   یہ زندگی، اور صحت اور امن ہے۔

وہ منسوخ گناہ کی قوت کو توڑ دیتا ہے،
   وہ قیدیوں کو رہائی بخشتا ہے؛
اس کا خون غلیظ ترین کو صاف کر ڈالتا ہے؛
   اُس کا خون میرے لیے فائدہ مند ہے۔
(’’ہائے ہزاروں زبانوں کے لیے O For a Thousand Tongues‘‘ شاعر چارلس ویزلی Charles Wesley، 1707۔ 1788)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب