Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


ڈاکٹر روئے برینسن کی جانب سے اسباق

LESSONS FROM DR. ROY BRANSON
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
پاسٹر ایمریٹس
by Dr. R. L. Hymers, Jr.,
Pastor Emeritus

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خداوند کے دِن کی دوپہر، 2 اگست، 2020
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Afternoon, August 2, 2020

واعظ سے پہلے حمدوثنا کا گیت گایا: ’’کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں؟ Am I a Soldier of the Cross?‘‘ (شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts، 1674۔1748)۔

خُدا کی بُلاہٹ

پاک کلام کہتا ہے، ’’جب تک وہ بھیجے نہ جائیں خوشخبری کیسے سُنائیں گے؟‘‘ (رومیوں10:15)۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ اُنہیں کلیسیا کی جانب سے بھیجا جاتا ہے۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ اُنہیں خُدا کی جانب سے بھیجا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر رائے برینسن نے کہا،

’’اگر آپ ایک مبلغ ہیں تو غالباً آپ کو نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

’’آپ کے گرجا گھر کی نگہبانی غالباً ایک ایسے بندے کے ذریعے سے کی جا رہی ہے جسے کچھ اور کرنا چاہیے۔‘‘

’’ بائبل پر یقین رکھنے والے دس میں سے کم از کم نو پادری صاحبان کو چھوڑ دینا چاہیے۔‘‘

’’بائبل پر یقین رکھنے والے دس میں سے نو گرجا گھروں کی کم از کم ایسے بندے نگہبانی کرتے ہیں جنہیں تبلیغ کرنے کا یا نگہبانی کرنے کا کوئی حق نہیں ہوتا ہے!‘‘

’’ایسے گرجا گھروں میں سے کم از کم بیس میں سے اُنیس کو ذرا سا بھی اندازہ نہیں ہے کہ ایک پادری صاحب میں کیا ڈھونڈنا چاہیے۔‘‘

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +
ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

ڈاکٹر برینسن اِس قسم کے سوالات کیسے پوچھ سکتے ہیں؟ وہ خود تقریباً پچاس سالوں تک ایک مبلغ رہ چکے ہیں۔ جب وہ ناقابلِ برداشت تکلیف کے بارے میں لکھتے ہیں، تو وہ تجربے کے وسیلے سے دکھاتے ہیں کہ وہ کس بارے میں بات کر رہے ہیں۔ وہ گرجا گھر کی ایک ہولناک تقسیم کا دُکھ اُٹھا چکے ہیں، جبکہ وہ ایک بہت بڑے گرجا گھر کی نگہبانی کر رہے تھے، اور ٹکڑے سمیٹنے کے لیے ٹھہر گئے تھے۔

ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویلDr. W. A. Criswell نے ڈاکٹر برینسن کی کتاب پیارے مبلغ، مہربانی سے چھوڑ جاؤDear Preacher, Please Quit کے بارے میں کہا، ’’ہر ایک مذہبی خادم کے لیے لازمی پڑھنا۔‘‘ ڈاکٹر جان راؤلنگز Dr. John Rawlings نے کہا، ’’میں ڈاکٹر برینسن کی اِن کی حیرت انگیز کوششوں پر تعریف کرتا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر لی رابرسن Dr. Lee Roberson نے کہا، ’’میں یقینی طور پر [ڈاکٹر برینسن کے] عمومی اصرار سے متفق ہوں۔‘‘ ڈاکٹر ڈیوڈ اُوٹِس فُلر Dr. David Otis Fuller نے کہا کہ اِن کی کتاب ’’عام فہم مشوروں سے بھری ہوئی ہے… پاک صحائف کا بے حد حوالہ دیا گیا ہے۔‘‘

بائبل کہتی ہے، ’’جب تک وہ بھیجے نہ جائیں خوشخبری کیسے سُنائیں گے؟‘‘ (رومیوں10:15)۔ ڈاکٹر برینسن نے کہا کہ خُدا ’’اپنی بُلاہٹ کو بےشمار طریقوں سے منکشف کرتا ہے۔ لیکن جب وہ ایک بندے کو بُلاتا ہے تو وہ بندہ اِس بات کو جان جائے گا اور اُسے یاد رکھے گا۔‘‘

ایک نوجوان شخص کی حیثیت سے مجھے جھنجھوڑ ڈالنے والی کوئی بُلاہٹ نہیں ہوئی تھی۔ میں اپنی زندگی کے ساتھ مجھے کیا کرنا چاہیے اِس بارے میں سوچ رہا تھا۔ میں ایک اداکار تھا۔ میں بے شمار ڈراموں میں اداکاری کر چکا تھا لیکن میں جانتا تھا کہ تھیٹر [کی دُنیا] میں ’’اِس میں آگے بڑھنے‘‘ کی بہت تھوڑی سی اُمید تھی۔ میں الطار سے بُلائے جانے پر آگے بڑھا تھا اور پادری صاحب کو بتایا تھا میں ایک مبلغ بننے جا رہا ہوں۔ بس یہی سب کچھ تھا۔ مجھے کئی سالوں تک کوئی بھی بہت زیادہ روحانی ’’بُلاہٹ نہ ہوئی ہوتی جب تک کہ میں ہر ایک بات میں ناکام نہ ہوا ہوتا اور ایک رات کے آخر میں جب میں ایک آزاد خیال سیمنری میں پڑھ رہا تھا جس سے مجھے نفرت تھی تو خُدا نے مجھے بُلا لیا۔

میری ’’بُلاہٹ‘‘ کو میرے گرجا گھر میں خوشی کے ساتھ قبول نہ کیا گیا۔ میرا پہلا واعظ ایک آفت تھا۔ میں نے پھردوبارہ کبھی بھی تبلیغ نہ کرنے کی قسم کھا لی۔ لیکن میں بس اُس قسم کو برقرار نہ رکھ پایا!

ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones کو بیسویں صدی کے عظیم ترین مبلغین میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا (اور میں نے یاداشت سے اُن کا حوالہ دیا ہے) کہ اپنی ’’بُلاہٹ‘‘ کا تعین کرنے کے طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ سُنو گرجا گھر میں دوسرے رہنما تمہارے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ وہ تمہیں بتائیں گے کہ آیا تم خُدا کی جانب سے بھیجے گئے ہو یا نہیں، اور آیا کہ تمہارے پاس تبلیغ کرنے کا تحفہ ہے یا نہیں۔ ڈاکٹر برینسن نے کہا، ’’[خُدا] شاید اپنی بُلاہٹ کو بے شمار مختلف طریقوں سے منکشف کرتا ہے۔‘‘

خُدا کی قوت

ڈاکٹر برینسن نے ایک میڈیکل ڈاکٹر کا حوالہ دیا جس نے ایک پادری صاحب سے کہا، ’’میں اُس بوجھ تلے جسے آپ اُٹھائے ہوئے ہیں کبھی کھڑا نہیں ہو پاؤں گا… مجھے تعجب ہوتا ہے کہ زیادہ مبلغین مختلف اقسام کی شکستیں تسلیم نہیں کرتے۔

ڈاکٹر برینسن نے کہا، ’’مبلغ کے الفاظ قبول کرنے والوں کے مقابلے میں بہروں پر زیادہ اثر کرتے ہیں۔ اُس کے متحرک زیادہ مشتبہ ہوتے ہیں، اور کسی اور کے مقابلے میں اکثر طور پر اُس سے غلط انداز میں منسوب کیے جاتے ہیں۔ اگر وہ بائبل کے مطابق ہوتا ہے تو بڑے پیمانے پر دُنیا کے ذریعے سے کسی دوسرے کو اتنی زیادہ نفرت نہیں ملتی۔ تاریخ کے کسی بھی طبقے کے لوگوں نے مبلغین کی حیثیت سے اِتنا ظلم، تعصب، زیادتی، طنز، مزاحمت اور قید برداشت نہیں کی۔ کوئی بھی مبلغین کی حیثیت سے بدکاری، گپ شپ، بہتان، جھوٹے الزامات اور نفرت کا موضوع نہیں رہ چکا۔ اُن کی تعداد کے تناسب سے، کسی نے بھی کسی مقصد کی خاطر اِس قدر بے شمار شہادتیں نہیں دیں۔ مارٹن لوتھر کے دِن سے پہلے پچاس ملین بپٹسٹ لوگوں کو شہید کر دیا گیا تھا۔ ہمیشہ یہ پادری صاحبان ہی ہوتے تھے جنہیں پہلے قید کیا جاتا تھا، اذیت دی جاتی تھی اور قتل کر دیا جاتا تھا۔ پادری کونسٹنٹین کو 690 بعد از مسیح سنگسار کر کے مارا گیا، اور اُن کے جانشین کو زندہ جلا دیا گیا۔ پادری گرہارڈ Gerhard کو 1100 ویں سال کے وسط میں انگلستان میں ظالمانہ طور پر سزا دی گئی تھی۔ جان وائکلیف John Wycliffe کی زندگی اُن کی 1384 میں موت تک مستقل طور پر خطرے میں تھی۔ 1415 میں جان ھَس John Huss کا کھبمے سے باندھ کر آلاؤ جلا کر مار ڈالا گیا۔ عظیم مبلغ ساوہنارولہ Savonarola کو اذیتیں دی گئیں اور 1498 میں قتل کر دیا گیا۔ جان بنیعن John Bunyan کو 12 سالوں تک ایک قید خانے میں بند رکھا گیا۔ اُن کا ’جرم‘ مسیح کی خوشخبری کی تبلیغ کرنا تھا۔ اُن کی اندھی بیٹی کو بھیک مانگنی پڑی تھی اور ماریں کھانی پڑی تھیں۔ اِس کے باوجود بنیعن نے کہا، ’مجھے منادی ضرور کرنی چاہیے۔ مجھے یہ ضرور کرنا چاہیے۔‘

راجر ولیمز Roger Williams، جان کلارک John Clarke اور بے شمار دوسرے مبلغین کو 1635 میں میساشوسیٹس Massachusetts سے جلاوطن کر دیا گیا تھا۔ پاسٹر جیمس آئرلینڈ کو تبلیغ کرنے کی وجہ سے ورجینیا میں قید کر دیا گیا تھا۔ جبکہ قید میں اُن کے دشمنوں نے بارود کے ساتھ اُنہیں اُڑانے کی کوشش کی، پھر اُن کی قید کی کھڑکی کے نیچے سلفر جلا کر اُن کا دَم گھوٹ کر مارنے کی کوشش کی۔ پھر اُنہوں نے ایک ڈاکٹر کو اُنہیں زہر دینے کے لیے تیار کر لیا۔

آخری سو سالوں میں لاکھوں مبلغیں کو خوشخبری کی منادی کرنے کی وجہ سے مار ڈالا یا قید کیا جا چکا ہے۔ جہاں کہیں پر بھی اشتراکیت پسندوں کو قوت ملی، مسیحی پادری صاحبان اذیتیں دینے اور مار دیے جانے کے لیے پہلے ہدف رہ چکے ہیں۔ پادری رچرڈ وورمبرانڈ Richard Wurmbrand کو چودہ سالوں تک ایک کیمیونسٹ قید خانے میں رہنے کے دوران زندگی بھر کے لیے داغ ڈالا گیا۔

اب امریکہ میں، مبلغین پہلے ہی سے حکومتی اور عوامی اذیتوں کا تجربہ کر رہے ہیں۔ پاسٹر ایوریٹ سِل ایون Everett Sileven نے اپنے سنڈے سکول میں بچوں کو بائبل کی تعلیمات دینے کی وجہ سے جیل میں 157 دِن گزارے۔ پاسٹر لیسٹر رولوف Lester Roloff کو قید میں ڈالا گیا اور ایک قومی میگزین کے سرورق پر اُن کے بارے میں جھوٹ بولا گیا۔ اُن کا ’جرم‘ نوجوان لوگوں کو منشیات سے دور ہونے میں مدد کرنا تھا۔‘‘

میں ڈاکٹر جے۔ گرےشام میکحن کی زندگی پر ایک کتاب پڑھتا رہا ہوں۔ وہ پرنسٹن یونیورسٹی میں ایک پروفیسر تھے۔ میں ٹوٹ پڑا تھا اور رو پڑا تھا جب میں نے پڑھا اِس عظیم عالم کے اور خُدا کے بندے کے ساتھ آزاد خیال [لوگوں] نے کیا سلوک کیا۔ 1922 میں ھیری ایمرسن فوسڈیک Harry Emerson Fosdick نے ایک ’’واعظ‘‘ جسے وہ ’’کیا بنیادپرستوں کو جیتنا چاہیے؟Shall the Fundamentalists Win?‘‘ کہتے تھے کی منادی کرنے کے لیے ڈاکٹر میکحن سے لڑنا شروع کیا۔ یاد رکھیں کہ فوسڈیک ہی نے ڈاکٹر جان سُنگ Dr. John Sung کو بائبل میں ایمان رکھنے کی وجہ سے ایک پاگل خانے میں داخل کروا دیا تھا۔ اب وہ ڈاکٹر میکحن کے پیچھے پڑا تھا۔ فوسڈیک نے بائبل کی الہٰامیت پر حملہ کیا تھا۔ اُس نے مسیح کی کنواری پیدائش پر حملہ کیا تھا۔ اُس نے مسیح کی آمدثانی پر حملہ کیا تھا۔ اُس نے خود ایمان پر حملہ کیا تھا – اِس کو تنگ ذہن اور بے وقعت بُلانے کے ذریعے سے۔

اپنے ’’واعظ‘‘ کے پانچویں صفحے پر فوسڈیک نے مسیحیت کے بنیادی عقائد کو ’’فرقہ وارانہ فرقہ واریت کے کچھ معمولی معاملات‘‘ کہا۔ اپنی تلخ تنقید کے اختتام پر، فوسڈیک نے ’’شریعت کے بھاری معاملات – کھلی ذہنیت، برداشت اور آزاد خیالی‘‘ پر زور دیا (صفحہ 5)۔

سُنیں کہ آزاد خیال [لوگوں] نے اب تک کے عظیم ترین مبلغین کے ساتھ کیا سلوک کیا۔

کرسوسٹوم کو جلاوطن کیا گیا۔
 لوتھر کو بے دخل کر دیا گیا۔
   بیکسٹر کو لندن کے ٹاور میں بند کر دیا گیا۔
      جان اور چارلس ویزلی کو اینجیلیکن گرجا گھر میں سے نکال باہر کیا گیا تھا۔
         وائٹ فلیڈ کو لندن کے ہر گرجا گھر سے دربدر کر دیا گیا تھا۔
            ایڈورڈز کو خود اُس کے اپنے ہی گرجا گھر میں سے زبردستی نکالا گیا اور گولی مار دی۔
               سپرجیئن کی بپٹسٹ یونین کی جانب سے مذمت کی گئی۔
                  میکحن کو پریسبائٹیرئین کلیسیا کی جانب سے پادری کے فرائض سے محروم کر دیا گیا۔

کیا یہ لوگ غلط تھے؟ جی نہیں! یہ ھیری ایمرسن فوسڈیک اور اُس جیسے لوگ ہیں جو غلط ہیں!!! مہربانی سے یوحنا15:19، 20 آیات کھولیں۔

’’اگر تم دُنیا کے ہوتے تو دُنیا تمہیں اپنوں کی طرح عزیز رکھتی لیکن اب تم دُنیا کے نہیں ہو کیونکہ میں نے تمہیں چُن کر دُنیا سے الگ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دُنیا تم سے دشمنی رکھتی ہے۔ میری یہ بات یاد رکھو کہ کوئی نوکر اپنے مالک سے بڑا نہیں ہوتا۔ اگر دُنیا والوں نے مجھے ستایا ہے تو وہ تمہیں بھی ستائیں گے۔ اگر اُنہوں نے میری بات پر عمل کیا تو وہ تمہاری بات پر بھی عمل کریں گے‘‘ (یوحنا15:19، 20)۔

اب یوحنا16:2 آیت کھولیں۔

’’وہ تمہیں عبادت خانوں سے خارج کر دیں گے۔ درحقیقت ایسا وقت آ رہا ہے کہ اگر کوئی تمہیں قتل کر ڈالے تو یہ سمجھے گا کہ وہ خُدا کی خدمت کر رہا ہے‘‘ (یوحنا16:2)۔

اور پھر، بائبل بھی کہتی ہے،

’’جتنے لوگ مسیح یسوع میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں وہ سب ستائے جائیں گے‘‘ (2 تیموتاؤس3:12)۔

ہم خُدا کی خدمت کو جاری رکھنے کے لیے کہاں سے قوت پاتے ہیں؟

خُداوند ترقی یافتہ اِقدام کے ذریعے سے قوت بخشتا ہے

ہم نے اُس بات کا مطالعہ گذشتہ ہفتے کیا تھا کہ یوسف نے خُدا پر بھروسہ کرنا سیکھا تھا اور اِمتحانات کے ایک سلسلے کے وسیلے سے قوت پائی۔ یہ بات کسی کے لیے بھی سچی ہے جو ایک غالب آنیوالا بننا چاہتا ہے – خصوصی طور پر ایک مبلغ، لیکن ہر کوئی بھی جو ایک غالب آنیوالا بننا چاہتا ہے۔

مجھ سے بے شمار مبلغین اور گرجا گھر کے اراکین پوچھ چکے ہیں کہ میں کیسے اِس قدر مضبوط ہو پاؤں گا۔ جواب یوں درج ہے:

ڈاکٹر برینسن کہتے ہیں، ’’خُدا ہمیں بڑے بڑے کاموں اور مشکلات میں ہمیں بے نقاب کرنے کے ذریعے سے تیار کرتا ہے، پہلے، [ہم سے] کمتر لوگوں میں۔ موسیٰ نے، خود بات کرنے سے پہلے، لوگوں کو مصر سے باہر نکالنے کے لیے رہنمائی کرنے سے پہلے، دُنیا کی سب سے زیادہ طاقتور فوج کا سامنا کرنے سے پہلے – بے خوف و خطر اپنی جگہ پر فرعون سے بات کرنے کے لیے ہارون کے ذریعے پیش قدمی کی۔‘‘

ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر Dr. A. W. Tozer نے کہا، ’’چند ایک ایسی باتیں ہیں جو کچھ اِس طرح سے ترس کھاتی ہیں جیسے ایک بیکار چھوٹے سے بندے کی نظر اپنے گِٹھے پن کو چُھپانے کی کوشش کرتی ہے۔‘‘ مجھے ایک گِٹھا آدمی دیکھنا یاد ہے جو کاؤبوائے کی کالی ٹوپی پہنے ہوئے تھا جو کہ اِس قدر بڑی تھی کہ اُس نے اُس کو ایک بونے جیسا بنا ڈالا تھا۔ مجھے میرے بیٹے کا ایک قدآور آدمی کو کاؤبوائے کے جوتوں کے ساتھ سٹیٹسن کاؤبوائے والی ٹوپی پہنے – گولائیتھ کی مانند نظر آنے کی کوشش کرتے ہوئے سڑک پر جاتے ہوئے دیکھنا بھی یاد ہے! حالانکہ اُس کا بدن بڑا تھا، میرا بیٹا اُس پر ہنسا تھا!!! ایک چھوٹا آدمی بڑا نظر آنے کی کوششیں کرتا ہوا! ایک بڑا بندہ چھوٹی سی جان کے ساتھ، اپنی اندرونی چھوٹائی کو چپھانے کی کوششوں میں!!

یہ دونوں ہی آدمی خود کو ’’مبلغین‘‘ کہلواتے تھے۔ لیکن وہ خُدا کی خاطر کچھ بہت بڑا کرنے کے لیے اندرونی طور پر کہیں بہت زیادہ چھوٹے تھے! کاؤبوائے کے جوتے اور کاؤبوائے کی ٹوپی انسان کو خُدا کے لیے بہت کچھ کرنے کے لیے اندرونی طور پر اِتنا بڑا نہیں بنا پاتی ہیں!

ایک مبلغ کو کیا کرنا چاہیے جب خُدا اُسے کچھ وہ کرنے کے لیے کہتا ہے جو وہ جانتا ہے کہ شاید اصل میں مسئلہ کھڑا کر دے اور شاید اُس کی کلیسیا کو بھی تقسیم کر دے؟ ٹھیک ہے، اُسے واقعی میں دعا کرنی چاہیے اور اُس معاملے میں خُدا سے رہنمائی لینی چاہیے۔

یہاں پر ایک بات ہے جو میرے ساتھ رونما ہوئی۔ ساری کہانی کو بتائے بغیر، میں بس صرف اِتنا کہوں گا کہ میں نے آہستہ آہستہ احساس کرنا شروع کر دیا کہ لاس اینجلز کے اندرون شہر میں ہمارے گرجا گھر میں لوگوں کی اکثریت بُری ثقافت سے آئی تھی۔ وہ بس اِتنا ہی کر پاتے تھے کہ اِتوار کے دِن گرجا گھر میں ہوں۔ اُن کے پاس کوئی تصور نہیں تھا کہ کیسے سچے طور پر ایک مسیحی گھر پائیں اور وہ یاد نہیں رکھ پاتے، یا اصل میں رکھ پاتے ہوں، منبر سے میرے ذریعے سے کیا تعلیم دی گئی تھی۔ میں آسانی سے ہار ماننے میں یقین نہیں رکھتا ہوں۔ لہٰذا میں نے منادی کرتے رہنا اور کلیسیا کی رہنمائی کرتے رہنا جاری رکھا۔ اِس کے باوجود ہر چند سالوں میں اندروں شہر سے سرکش لوگ گرجا گھر کی ایک اور تقسیم کا سبب بن جاتے – ایک کے بعد دوسرے۔ میں نے ایک طویل مدت تک کچھ بھی تبدیل نہیں کیا لیکن مسائل دور نہیں ہوئے تھے۔ بالاآخر خُداوند نے میری توجہ کلام پاک کی دو تلاوتوں کی جانب کروائی:

(1) متی 7:6 .

’’پاک چیز کُتّوں کو مت ڈال اور نا ہی اپنے موتی سؤروں کے آگے ڈال کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اُنہیں پاؤں سے روند کر پلٹیں اور تمہیں پھاڑ دیں گے‘‘ (متی7:6)۔

(2) لوقا 10:10۔11 .

’’اگر تم کسی ایسے شہر میں قدم رکھو جہاں کے لوگ تمہیں قبول نہیں کرتے تو اُس شہر کی گلیوں میں جا کر کہو کہ ہم تمہارے شہر کی گرد کو بھی جو ہمارے پاؤں میں لگی ہوئی ہے تمہارے لیے جھاڑ دیتے ہیں مگر یہ یاد رکھو کہ خُدا کی بادشاہی نزدیک آ پہنچی ہے‘‘ (لوقا10:10۔11)۔

میں خود اپنے باطن میں جانتا تھا کہ خدا چاہتا ہے ہمارا گرجا گھر تیسری دُنیا میں مبلغیں کی مدد کے لیے ہماری ویب سائٹ پر ایک مشنری رسائی حاصل کرے۔ لیکن ہمارے اندرون شہر گرجا گھر میں زیادہ تر لوگوں کی ثقافت (اُن کی ثقافت کی وجہ سے) کبھی بھی ایک گرجا گھر کی تعمیر کے قابل نہیں ہو پائے گی جو وہ کرنے کے لیے اِس قدر مضبوط ہو جسے میں جانتا ہوں خُدا ہم سے چاہتا ہے کہ وہ کریں۔

میں کبھی بھی مصیبت میں نہیں بھاگا۔ زبور 27 کئی سالوں تک میرا ذاتی زبور رہا ہے۔ آخری دو آیات مجھے اچھے اور بُرے حالات سے گزرنے میں مدد دیتی رہی ہیں۔ اُن دو آیات کو کھولیں اور کھڑے ہو جائیں جب میں اُنہیں پڑھوں – زبور 27:13، 14 .

’’مجھے اب اِس بات کا یقین ہے کہ میں زندوں کے زمین پر خداوند کے احسان کو دیکھ لوں گا۔ خداوند کا انتظار کر؛ مضبوط ہو اور حوصلہ رکھ اور خداوند کی آس رکھ‘‘ (زبور27:13، 14)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ یوں میں نے کبھی بھی جلدی میں فیصلے نہیں کیے۔ ’’میں کہتا ہوں خُدا کی آس رکھو‘‘ (27:14).

گزرتے ہوئے ہفتوں اور مہینوں میں، مَیں زبور 27:13۔14 آیات اور متی اور لوقا کے اُن دنوں آیات کے ساتھ جدوجہد کرتا رہا۔ بالاآخر میں نے اپنے لوگوں کو یہ سیکھانا شروع کر دیا کہ اب اندرون شہر کو چھوڑنے کا وقت آ چکا ہے اور ایک بہتر ثقافت سے تعلق رکھنے والے لوگوں، چینیوں اور دوسرے مشرقی لوگوں کے ساتھ ایک گرجا گھر شروع کریں جو لاس اینجلز کے مضافاتی علاقے میں رہتے تھے۔ جیسا کہ میں نے اِن چیزوں کو سیکھایا تھا میں جانتا تھا کہ یہ ہمارے گرجا گھر میں تقسیم کرے گا۔ میں جانتا تھا کہ ہمارے زیادہ تر لوگ اندرون شہر میں رہنا چاہیں گے۔ ایک گرجا گھر جو ایک سٹور کے سامنے والے حصے والے گرجا گھر سے بمشکل ہی بڑا تھا اُن کی ثقافت کو بہتر انداز میں قبول کر پائے گا۔ آپ خود سے دیکھ سکتے ہیں کہ اُن کی ثقافت ٹیلی ویژن پر خبریں دیکھنے سے تھا، اُس عَدم توازن اور فتنہ و فساد سے تھا جو وہاں پر ہر رات کو ہوتا ہے۔ میں جانتا تھا کہ ہمارے گرجا گھر کو ایک بڑی تقسیم سے گزرنا پڑے گا وہ کرنے کے لیے جو خُدا ہم سے کروانا چاہتا تھا۔

واہ واہ! جوں ہی ہم گرجا گھر کو دوسری جگہ لے جانے کے قریب آئے اگلی تقسیم شروع ہو گئی۔ ایک مناد نے ہمارے بے شمار لوگوں کے سامنے مجھ سے دھینگا مشتی کرنے کی کوشش کی۔ ایک دوسرے مناد نے اندرون شہر میں ایک گرجا گھر جسے وہ چاہتا تھا برقرار رکھنے کے لیے ’’خُفیہ ملاقاتیں‘‘ شروع کر دیں کہ لوگوں کو بھرتی کرے۔ ایک تیسرے مناد نے اپنی اور اپنی بیوی کی فحش تصاویر اُتاریں اور اُنہیں انٹرنیٹ پر ڈال دیا۔ گرجا گھر کا صبر ٹوٹ گیا اور اندرون شہر کے ہجوم نے ایسے طریقوں سے بغاوت کر دی جس کو بہتر ثقافت اور ماحول کے ایک مبلغ کے ذریعے سے مانا نہیں جاتا۔ مجھے وہ دِن یاد ہے جب بے شمار لوگوں نے چھوڑا جسے میرے نوجوان ’’مبلغ لڑکے‘‘ نے سوچا تھا کہ یہ گرجا گھر کا خاتمہ تھا – اور خود بھی چھوڑ کر چلا گیا۔ لیکن خُداوند نے مجھے کامل سکون بخشا کیونکہ میں وقت سے پہلے ہی جانتا تھا کیا ہوئے گا۔ اور پھر کورونا وائرس نے حملہ کر دیا! میرے بیٹے رابرٹ نے مرکزی علاقے میں ہماری عمارت کو فروخت کیا اور ڈاکٹر کیگن نے مضافات میں ایک دوسرا گرجا گھر ڈھونڈا جسے ہم نے خرید لیا۔

وہ دو بندے جنہوں نے بڑا نظر آنے کے لیے کاؤ بوائے والی ٹوپی پہنی تھی ہمارے دو تہائی لوگوں کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے، ویڈیوز پر منادی کے ساتھ، ہمیں گھروں میں ملاقاتیں کرنی پڑیں۔

عمر کے 80ویں برس میں، ایک نیا گرجا گھر شروع کرنا، یہ میرے جیسے ایک بندے کے لیے ایک انتہائی غیرمعمولی بات ہے۔ میں واقعی میں یہ نہ کر پایا ہوتا اگر ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan، میری پیاری بیوی اور میرے بیٹے ہمارے ساتھ نہ ہوتے۔ ’’مسیح جو مجھے طاقت بخشتا ہے اُس کی مدد سے میں سب کچھ کر سکتا ہوں‘‘ (فلپیوں4:13)۔

مہربانی سے کھڑیں ہوں جب میں زبور 23 پڑھوں۔

’’خداوند میرا چوپان ہے؛ مجھے کوئی کمی نہ ہو گی۔ وہ مجھے سبز و شاداب چراگاہوں میں بِٹھاتا ہے، وہ مجھے سکون بخش چشموں کے پاس لے جاتا ہے اور میری جان کو بحال کرتا ہے۔ وہ اپنے نام کی خاطر صادقت کی راہوں پر میری رہنمائی کرتا ہے۔ خواہ میں موت کی تاریک وادی میں سے ہو کر گزروں، میں کسی بلا سے نہ ڈروں گا کیونکہ تو میرے ساتھ ہے۔ تیرا عصا اور تیری لاٹھی مجھے تسلی بخشتے ہیں۔ تو میرے دشمنوں کے روبرو میرے لیے دسترخوان بچھاتا ہے۔ تو میرے سر پر تیل ملتا ہے؛ میرا پیالہ لبریز ہوتا ہے۔ یقیناً بھلائی اور رحمت عمر بھر میرے ساتھ ساتھ رہیں گی، اور میں ہمیشہ خداوند کے گھر میں سکونت کروں گا‘‘ (زبور23:1۔6)۔

مہربانی سے ہمارا حمدوثنا کا گیت دوبارہ گائیں!

کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں، برّے کے پیچھے چلنے والا،
اور کیا مجھے اُس کے مقصد کو اپنانے سے خوفزدہ ہونا چاہیے، یا اُس کا نام بولنے سے شرمندہ ہونا چاہیے؟

کیا مجھے آسمان پر سہولت کے پھولدار بستروں پر لے جایا جانا چاہیے،
جبکہ دوسرے انعام جیتنے کے لیے لڑیں، اور خونی سمندروں میں سے گزریں؟

کیا میرا سامنا کرنے کے لیے کوئی دشمن نہیں؟ کیا مجھے سیلاب میں شامل نہیں ہونا چاہیے؟
اِس غلیظ دُنیا میں ایک دوست کو فضل دلانے کے لیے، مجھے خُدا تک پہنچانے کے لیے؟

یقیناً مجھے لڑنا چاہیے، اگر مجھے حکومت کرنی ہے؛ خُداوندا! میرے حوصلے کو بڑھا،
میں سختیوں کو جھیلوں گا، درد کو برداشت کروں گا، تیرے کلام کے سہارے کے ذریعے سے۔
   (’’کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں؟Am I a Soldier of the Cross?‘‘ شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts، 1674۔1748)۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

اگر آپ نے ابھی تک نجات نہیں پائی ہے تو میں چاہتا ہوں آپ ابھی یسوع مسیح پر بھروسہ کریں۔ وہ آسمان سے نیچے آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کی خاطر صلیب پر قربان ہونے کے لیے آ گیا۔ جس لمحے آپ یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں، اُس کا خون آپ کو تمام گناہوں سے پاک صاف کر دے گا۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ ابھی یسوع پر بھروسہ کریں۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔