Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


خُداوند کی آنے والی بادشاہت میں عظمت!

GLORY IN GOD’S COMING KINGDOM!
(Urdu)

ٹِموتھی لِن کی جانب سے، پی ایچ۔ ڈی۔،
سابقہ پاسٹر، پروفیسر اور صدر سیمنری۔
یوجین میرِل، پی ایچ۔ ڈی۔ کی جانب سے تعارف،
پرانے عہدنامے کی مشہورومعروف پروفیسر
ڈلاس تھیالوجیکل سیمنری۔
by Timothy Lin, Ph.D.,
Former Pastor, Professor and Seminary President.
Introduction by Eugene Merrill, Ph.D.,
Distinguished Professor of Old Testament,
Dallas Theological Seminary.

پاسٹر ایمریٹس ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خداوند کے دِن کی دوپہر، 5 جولائی، 2020
A sermon preached by Dr. R. L. Hymers, Jr., Pastor Emeritus
at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Afternoon, July 5, 2020

واعظ سے پہلے حمدوثنا کا گیت گیا: ’’کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں؟Am I a Soldier of the Cross?‘‘ (شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts، 1674۔1748)۔
واعظ کے دوران کورس گایا گایا: اُوہ وہی تو جلال ہو گا O That Will be Glory‘‘
     (شاعر چارلس ایچ۔ گیبرئیل Charles H. Gabriel، 1856۔1932)۔

مہربانی سے بائبل میں سے پیدائش1:26 آیت کھولیں۔ کھڑے ہو جائیں جب میں اِسے پڑھوں۔

’’اور خُدا نے کہا، آؤ ہم انسان کو اپنا ہم شکل اور اپنی شبیہ پر بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں، ہوا کے پرندوں، مویشیوں اور ساری زمین پر اور اُن تمام جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اختیار رکھے‘‘ (پیدائش1:26)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +
ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin نے کہا، ’’یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ خُدا نے کیسے انسان کو بنایا اور کیوں اِنسان کو بنایا – اُس سب پر جسے [خُدا] نے تخلیق کیا حکمرانی کرنے کے لیے… یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ ہر ایک چیز جو خُدا نے بنائی انسان اُس پر حکمرانی کرنے کے لیے بنایا گیا تھا (دیکھیں عبرانیوں2:7۔8)۔‘‘

کہ ہر ایک چیز جو خُدا نے بنائی انسان اُس پر حکمرانی کرنے کے لیے بنایا گیا تھا بنیادی طور پر مستقبل کی بادشاہت سے تعلق رکھتی ہے جس کا اُس وقت احساس ہو گا جب [مسیح] قوت اور عظیم جلال کے ساتھ دوبارہ آئے گا۔ لیکن اگر وہ بادشاہت مستقبل ہے، تو پھر یسوع نے کیوں کہا، ’’خُداوند کی بادشاہت تمہارے درمیان ہی ہے‘‘ (لوقا17:21)؟

یہ بات بادشاہت کے وقت کے دو دورانیوں کا انکشاف کرتی ہے۔ جب یسوع نے کہا، ’’آسمان کی بادشاہت تمہارے درمیان ہے‘‘ (لوقا17:21) تو اُس نے تیاری کی بادشاہت کے بارے میں بات کی تھی، جو حالیہ طور پر تمام مسیحیوں کو اُس بادشاہت کا عملہ بننے کی تربیت پانے کا موقع پیش کرنے کے لیے وجود رکھتی ہے جس کو ہمارے لیے تیار کرنے کی خاطر مسیح گیا (یوحنا14:3)۔ دوسرے لفظوں میں خدا کی بادشاہت کا ایک تیاری کا وقت ہے اور ایک نتیجے کا وقت ہے۔ خُدا کی بادشاہت کے دو دورانیے ہیں: وہ موجودہ بادشاہت ہماری تیاری کی خاطر ہے، اور مستقبل کی بادشاہت ہو گی ہماری میراث پانے کے لیے جب مسیح لوٹے گا! یسوع انکشاف کرتا ہے کہ آنیوالی دائمی بادشاہت ابھی اِس دُنیا کی نہیں ہے (یوحنا18:33۔36)، اور کلیسیا تقریباً 2,000 سالوں سے دائمی بادشاہت کے آنے کے لیے دعائیں مانگتی رہی ہے۔ متی 6:10 آیت کھولیں۔

’’تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسے آسمان میں پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو‘‘ (متی6:10)۔

یقینی طور پر اُس جلالی واقعہ کا وقت پہلے سے بھی زیادہ قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔

خُدا کی اور شیطان کی دونوں بادشاہتیں اِس وقت
پہلو بہ پہلو وجود رکھتی ہیں

اشعیا14:12 آیت کھولیں اور کھڑے ہو جائیں جب میں اِسے پڑھوں۔ بابل کے بادشاہ کی بابت اشعیا نے کہا،

’’اے صبح کے ستارے، فجر کے بیٹے، اُو لوسیفر، تو کیسے آسمان سے گِر پڑا! تو جو کسی زمانے میں قوموں کو زیر کرتا تھا، خود بھی زمین پر پٹکا گیا! کیونکہ تو اپنے دِل میں کہتا تھا، میں آسمان پر چڑھ جاؤں گا اور اپنا تخت خُدا کے ستاروں سے بھی اُونچا کروں گا: میں اُس مقدس پہاڑ کی بالائی چوٹیوں پر جماعت کے پہاڑ پر تخت نشین ہوؤں گا: میں بادلوں کے سروں سے بھی اونچا چڑھ جاؤں گا؛ میں خدا تعالیٰ کی مانند بنوں گا۔ لیکن تو قبر میں اُتارا گیا بالکل پاتال کی تہہ میں‘‘ (اشعیا14:12۔15)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ واضح طور پر اشعیا مغرور بابلی سُلطان کا موازنہ شیطان کے گِرنے سے کر رہا ہے (لوقا10:18، مکاشفہ9:1، 11؛ 12:4)۔

شیطان کے نام کا مطلب ہوتا ہے ’’دشمن‘‘ (بنیادی طور پر خدا کا، اور دوسری طرف کلیسیا کا)۔ پاک صحائف ہمیں خبردار کرتے ہیں کہ ہمیں شیطان کی سکیموں سے لاعلمی نہیں برتنی چاہیے، اور احتیاط کرنی چاہیے کہیں وہ ہمارا فائدہ ہی نہ اُٹھا لے (2کرنتھیوں2:11)۔ بائبل کی اِس سچائی کی لاعلمی کی وجہ سے، کرھیٹن Kreighton نے کمزور اور سادہ لوح لوگوں کو عصریت پسندی [اینٹی مونیئن اِزم] کے مذہب کی گرفت میں لے لیا – اگر آپ میرے ساتھ آتے ہیں تو آپ جو بھی محسوس کرتے ہیں کر سکتے ہیں! کرھیٹن کے واعظوں کا مطالعہ کرنے کی وجہ سے میں اور ڈاکٹر کیگن یہ بات جانتے ہیں۔ وہ ڈاکٹر ہائیمرز اور ڈاکٹر کیگن کو بھیانک آدمیوں کے طور پر پیش کرتا ہے، جن سے وہ اُنہیں آزاد کروانے کے لیے آیا ہے! بِلاشبہ یہ شیطانی ہے!

شیطان تنہا کام نہیں کرتا ہے۔ اُس کے پاس اِخلاقی طور پر گِرے ہوئے دوسرے فرشتے ہیں جو اُس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ افسیوں6:12 انکشاف کرتی ہے کہ شیطان کے پاس اپنی قیادت میں بے شمار بدروحیں ہیں۔ افسیوں6:12 کھولیں۔ کھڑے ہو جائیں جب میں اِسے پڑھوں۔

’’کیونکہ ہمیں خون اور گوشت یعنی انسان سے نہیں بلکہ تاریکی کی دُنیا کے حاکموں اور اِختیار والوں اور شرارت کی روحانی فوجوں سے لڑنا ہے جو آسمانی مقاموں میں ہیں‘‘ (افسیوں6:12)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

شیطان کے کارندے مذہب کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ شیطان ’’راستبازی کے خادم‘‘ کی حیثیت سے بھیس بدلے ہوئے لوگوں کو منبر پر ہونے کو خصوصی طور پر پسند کرتا ہے (2کرنتھیوں11:15)۔ صرف اِس وجہ سے کہ ایک ’’پادری‘‘ نے مذہب میں ڈگری حاصل کی ہوئی ہے اِس کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ ’’دوبارہ جنم‘‘ لے چکا ہے یا کہ وہ یسوع مسیح کا خادم ہے۔ ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر Dr. A. W. Tozer نے کہا،

’’ایک آدمی کو علمِ الہیات سیکھنے کے لئے متقی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ واقعی، میں حیرت میں ہوں کہ آیا زمین کے کسی بھی مدرسے میں ایسا کچھ سکھایا جاسکتا ہے جو [قزاقوں] یا دھوکہ دہی کے ساتھ ساتھ کسی قدامت پسند مسیحی کے ذریعہ بھی نہیں سیکھا جاسکتا تھا۔‘‘ (’’وہ ناقابل یقین مسیحی ہےThat Incredible Christian،‘‘ صفحہ 56)۔

تیاری میں موجودہ بادشاہت

ایک مضبوط بادشاہت قائم کرنے کے لیے، تیاری کا ایک وقت درکار ہوتا ہے۔ خُدا نے داؤد کی بادشاہت کو قائم کرنے کے لیے کئی سال لیے تھے۔ خود خُدا کی اپنی بادشاہی بھی کوئی مختلف نہیں ہے۔ جب خدا نے انسان کو تخلیق کیا، اُس نے ہمارے لیے خواہش کی کہ جو کچھ وہ تخلیق کر چکا تھا اُس میں سے ہر چیز پر حکمرانی کریں۔ لیکن ہمارے پہلے والدین شیطان سے دھوکہ کھا گئے اور اپنے حکمرانی کے اِختیار کو کھو دیا۔ اِس کے باوجود خُدا نے شکست نہیں کھائی تھی اور اپنی آنے والی بادشاہی پر حکمرانی کرنے کے لیے ہمیں تیار کرتے رہنا جاری رکھا، جس کے بارے میں یسوع نے کہا ’’دُںیا کے بنائے جانے کے وقت سے ہمارے لیے تیار کی گئی تھی‘‘ (متی25:34)۔ ہمارے پاس اپنی مثالوں کے لیے ابراہام، اضحاق اور یعقوب ہیں، جنہیں پہلے تربیت دی گئی اور پھرخُدا کے وسیلے سے اُس کی بادشاہی میں اِفراد کار [عملے] کے لیے چُنے گئے۔ ہمارے پاس یہ اُمید بھی ہے کہ ایک دِن ہم اُن کے ساتھ خُدا کی بادشاہی میں ضیافت میں شامل ہوں گے (دیکھیں متی8:11)۔

زمین پر بادشاہی قائم کرنے کے لیے زمین، اِختیار اور لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اِن تینوں میں سے تیار کرنے کے لیے کونسی کلیسیا کے لیے چھوڑی گئی ہے؟ یہ لوگ ہیں، بادشاہی کے اہلکار یا عملہ ہیں، غالب آنے والے وہ لوگ جو اُس کی آنے والی بادشاہی میں مسیح کے ساتھ حکمرانی کرنے کے لیے اہل ہیں۔ جیسا کہ پاک کلام کہتا ہے، ’’وہ جو غالب آئے گا، میں اُسے اپنے ساتھ اپنے تخت پر بیٹھاؤں گا‘‘ (مکاشفہ3:21)۔

اِن آخری ایام میں کلیسیا کے اراکین کے پاس کلیسیا کا یا بادشاہی کا واضح تصّور نہیں ہو گا۔ کلیسیا کے لیے خُدا کا مقصد غالب آنے والوں [بادشاہی کے اہلکاروں] کی تربیت کرنا ہے۔ یہ بھلایا جا چکا ہے یا مکمل طور پر انجانا ہے۔ تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کہ آج کلیسیاؤں کی ایک بہت بڑی اکثریت پرانے وقتوں کے اسرائیل کی مانند ہے – بیابان میں دائروں میں آوارہ گردی کرتے پھرنا، وعدے کی سرزمین کنعان میں داخل ہونے کے لیے نا اہل۔ لیکن کلیسیا کو خُدا سکول ہونا چاہیے، غالب آنے والوں [بادشاہی کے اہلکاروں] کی تیاری کروانے کے لیے تربیتی مرکز۔ اگر گزرے سالوں میں کلیسیا یہ بات سمجھ چکی ہوتی، تو کلیسیا کے اراکین پہلے ہی سےتربیت یافتہ ہوتے اور اِمتحان دے چکے ہوتے اور میراث کی بادشاہی کافی عرصہ پہلے ہی آ چکی ہوتی۔

بادشاہت اہم کیوں ہے

گرجا گھروں کی ترقی نہ ہونے کی اہم وجوہات میں سے ایک یہ ہے کیونکہ اِراکین میں مستقبل میں شان و شوکت کی اُمید کی کمی ہے۔ چونکہ اُن کے پاس اُمید نہیں ہے، گرجا گھر کے بے شمار اراکین کی خُداوند یسوع کے لیے محبت سرسری ہے اور اُس [یسوع] کے لیے اُن کی عبادت غیرسنجیدہ ہے۔ اُمید، ایک شاندار مستقبل کی توقع، لوگوں کو آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اِس سے وہ برداشت اور خوشی کے ساتھ ساتھ اپنے مقصد کی طرف جدوجہد کرنے کے قابل بھی ہو جاتے ہیں۔ مستقبل کی شان وشوکت کی اُمید کی وجہ سے۔

خدا کا ارادہ ہے کہ بادشاہت کے وارث ہونے کی ہماری خواہش ہمیں فرمانبردار رہنے کی ترغیب دے گی، مستقبل کی حقیقت کو پانے کی خاطر، قربانی سے تعلق رکھنے والی زندگی ابھی گزاریں! پاک کلام کہتا ہے، ’’جو غالب آئے گا میں اُسے اپنے ساتھ اپنے تخت پر بیٹھاؤں گا، جس طرح میں غالب آیا اور اپنے باپ کے ساتھ اُس کے تخت پر بیٹھ گیا‘‘ (مکاشفہ3:21)۔

[ڈاکٹر لِن کے اِس اِصرار کی وجہ سے میں اُن کے گرجا گھر میں پہلے دس سالوں کے لیے ایک غالب آنے والا بن گیا۔ میرا منصوبہ دِن کے 16 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دِن مشکلوں سے گزرنا تھا، اور پھر خود میرے اپنے گھریلو گرجا گھر سے چینیوں کے لیے ایک مشنری بننا تھا۔ لیکن بعد میں مجھے پتا چلا کہ وہ مجھے کبھی بھی اپنے مشنری کے حیثیت سے نہیں بھیجیں گے کیونکہ میں ایک چینی نہیں تھا۔ اِس طرح سے میرے پاس کوئی فوری مقصد نہیں بچا، اور یوں میں کئی سالوں تک بھٹکتا پھرا، آخر کار اب جا کے کہیں میں چینیوں کے لیے اور ’’تیسری دُںیا‘‘ کے لیے اپنی ویب سائٹ کے ذریعے سے ایک مشنری ہونے کی اپنی بُلاہٹ کو پورا کرنے کے قابل ہوا ہوں۔]

ڈاکٹر لِن کی تعلیمات اپنے تیار کردہ بے شمار چینی پادری صاحبان کے لیے اچھی تھی۔ اور اِس نے مجھے ثابت قدمی کا درس دیا، بے شک اُن کے مشنری کی حیثیت سے نہیں۔ کچھ لوگ سوچتے ہیں میں نے چرچل سے ثابت قدم رہنا سیکھا ہے۔ لیکن یہ صرف جُزوی سچائی ہے۔ میرے ’’کبھی نہ ہارنے والے‘‘ رویے کا ماخذ حقیقی طور سے ڈاکٹر لِن کی غالب آنے والا بننے کی تعلیمات سے تھا! میں نے کبھی بھی ہمت نہیں ہاری کیونکہ مجھے میرے پیارے پادری صاحب ڈاکٹر ٹِموتھی لِن Dr. Timothy Lin کی طرف سے غالب آنے والا بننے کی تعلیم ملی تھی۔ ایک مشنری کی حیثیت سے مجھے بُلانے میں خُدا کے رحم کی حیثیت سے یہ مجھے صرف اب ہی دکھائی دیا ہے!

مسیح کی ابدی بادشاہی کی اہمیت پر زور دینے کی ضرورت ہے تاکہ مومنین کو خدا کی عظمت کے مطابق اپنی روز مرہ کی زندگی گزارنے کی زبردست اہمیت کی طرف راغب کیا جاسکے – نجات حاصل کرنے کے لئے نہیں، بلکہ مسیح کی آنے والی بادشاہی میں اپنا راج حاصل کرنے کے لیے، اور غالب آنے والوں کی حیثیت سے اِس میں اپنے مستقبل کے لیے۔

وہ بادشاہت انسان کی تخلیق کے لیے خُدا کا مقصد تھا

تمام مخلوقات کے ساتھ زمین کی تخلیق کر چکنے کے بعد، کلام پاک ہمیں بتاتا ہے کہ خُدا نے کہا، ’’آؤ ہم انسان کو اپنا ہم شکل اور اپنی شبیہ پر بنائیں اور اُنہیں حکمرانی کرنے دیں‘‘ (پیدائش1:26)۔ وہ آیت ہمیں دو باتیں سیکھاتی ہے: پہلی، خُدا نے انسان کو کیسے تخلیق کیا، اور دوسری، اُس نے کیوں انسان کو تخلیق کیا۔ جب خُدا نے باقی سب کچھ تخلیق کر لیا، ’’اُس نے حکم دیا اور وہ تخلیق ہو گئے‘‘ (زبور148:5)۔

خُدا کا انسان کو تخلیق کرنا، تاہم کہیں زیادہ پیچیدہ تھا۔ ’’آؤ ہم انسان کو بنائیں‘‘ تثلیث کی جانب حوالہ دیتا ہے۔ مارٹن لوتھر نے کہا کہ ’’ہم‘‘ تثلیث کے لیے حوالہ ہے۔ بائبل تعلیم دیتی ہے کہ انسان کو تثلیث میں ایک ہستی کی شکل اور شبیہ پر تخلیق کیا گیا ہے۔ پس، آدم اور حوّا [مسیح کی] منکشف بیرونی ہیت کے مطابق بنائے گئے تھے۔ آدم اور حوّا کو کافی خوش شکل تخلیق کیا گیا تھا کیونکہ بائبل کہتی ہے، ’’خُدا نے دیکھا کہ یہ اچھا تھا۔‘‘ ’’اچھا‘‘ کے لیے عبرانی لفظ کا مطلب ’’خوبصورت‘‘ ہوتا ہے جیسا کہ (پیدائش24:16) میں ربیکا اور موسیٰ چھوٹے بچے (خروج2:2) کو بیان کیا گیا ہے۔

آج نسل انسانی اور زمین اپنی ظاہری شکل میں بدصورت ہو چکے ہیں اور طرزِ عمل میں بغاوت کر رہے ہیں کیونکہ وہ گناہ کی وجہ سے خراب ہونے سے ٹوٹی ہوئی اشیا ہیں۔ انسان کا کمزور اور گناہ سے داغدار بدن اُس وقت بحال ہو جائے گا جب ’’خُداوند یسوع مسیح… ہمارے فانی بدن کی شکل کو بدل کر اُسے اپنے بدن کی طرح جلالی بنا دے گا‘‘ (فلپیوں3:20۔21)۔

وہ میرے لیے خوش خبری ہے! آنے والی بادشاہت میں مَیں یسوع کی مانند ہوؤں گا – میں تقریباً 33 سال کا ہوؤں گا، ایک مضبوط جسم کے ساتھ، گہرے بھورے بالوں کے ایک اچھے سر کےساتھ، اور میرے اپنے خود کے مکمل دانتوں کے ساتھ۔ میں یسوع ہی کی مانند ایک مضبوط شخص ہوؤں گا۔ بائبل کہتی ہے، ’’جب وہ ظاہر ہو گا تو ہم بھی اُسی کی مانند ہوں گے، کیونکہ ہم اُسے ویسا ہی دیکھیں گے جیسا وہ ہے‘‘ (1یوحنا3:2)۔

مذید یہ کہ، میں اب گرجا گھر کا عسکریت پسند نہیں رہوں گا۔ میں خُدا کی بادشاہی میں گرجا گھر کا فاتح ہوؤں گا! لڑنے کی مذید اور ضرورت نہیں رہی، اُس کے نام کی ستائش کریں! اور مسیح نے ہم غالب آنے والوں سے ایک عظیم وعدہ کیا تھا، مکاشفہ3:11۔13 آیات میں۔ کھڑے ہو جائیں جب میں اِسے پڑھوں۔

’’دیکھو، میں جلد آ رہا ہُوں۔ جو کچھ تیرے پاس ہے اُسے سنبھالے رکھ تاکہ تیرا تاج کوئی چھین نہ لے۔ جو غالب آئے گا، میں اُسے اپنے خدا کی ہیکل میں ایک ستون بنا دوں گا۔ وہ وہاں سے کبھی باہر نہ نکلے گا اور میں اُس پر اپنے خدا کا نام اور اپنے خدا کے شہر کا نام لکھوں گا یعنی نئے یروشلیم کا نام جو میرے خدا کی طرف سے آسمان سے اُترنے والا ہے اور میں اُس پر اپنا نیا نام بھی تحریر کروں گا۔ جس کے کان ہوں وہ سُنے کہ پاک رُوح کلیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے‘‘ (مکاشفہ 3:11۔13).

اب مکاشفہ5:9۔10 آیات کھولیں،

’’اور وہ یہ نیا گیت گانے لگے، تُو ہی اِس لائق ہے کہ اِس کتاب کو لے کر اُس کی مُہریں کھولے، کیونکہ تُو نے ذبح ہو کر اپنے خُون سے ہر قبیلہ، ہر زبان، ہر اُمّت اور ہر قوم سے لوگوں کو خدا کے واسطے خرید لیا۔ اور اُنہیں ہمارے خدا کے لیے ایک بادشاہی اور کاہن بنا دیا اور وہ زمین پر حکمرانی کریں گے‘‘ (مکاشفہ 5:9۔10).

’’ہم زمین پر حکمرانی کریں گے‘‘ (مکاشفہ5:10)۔ یہ ہے وہ بادشاہت جس پر ہم حکمرانی کریں گے – ’’زمین پر۔‘‘ مکاشفہ2:26 میں ایک اور وعدہ ہے۔ اِس پر نظر ڈالیں۔

’’اور وہ جو غالب آئے گا اور آخر تک میری مرضی کے مطابق عمل کرے گا، میں اُسے قوموں پر اِختیار دُوں گا۔ وہ لوہے کے عصا سے اُن پر حکومت کرے گا، اور وہ کمہار کے برتنوں کی مانند چِکنا چُور ہو جائیں گے۔ میں نے بھی اپنے باپ سے ایسا ہی اختیار پایا ہے۔ اور میں اُسے صبح کا ستارہ بھی دُوں گا۔ جس کے کان ہوں وہ سُنے کہ پاک روح کلیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے‘‘ (مکاشفہ 2:26۔29).

مسیح کی آنے والی بادشاہت میں سارے غالب آنے والے ہوں گے! اب مکاشفہ20:6 آیت کھولیں۔

’’مبارک اور مُقدّس ہیں وہ لوگ جو پہلی قیامت [ریپچر] میں شریک ہیں۔ اُن پر دُوسری مَوت کا کوئی اِختیار نہیں بلکہ وہ خُدا اور مسیح کے کاہن ہوں گے اور ہزار برس تک اُس کے ساتھ بادشاہی کرتے رہیں گے‘‘ (مکاشفہ 20:6).

غالب آنے والے لوگ مسیح کے ساتھ خُدا کی بادشاہت میں 1,000 سالوں تک حکمرانی کریں گے!

2 تیموتاؤس4:7۔8 آیات کھولیں۔ پولوس رسول نے کہا،

’’میں ایک اچھی کُشتی لڑ چُکا۔ میں نے دَوڑ کو ختم کر لیا ہے اور اپنے ایمان کو محفوظ رکھا ہے۔ اب راستبازی کا وہ تاج میرے لیے رکھا ہُوا ہے جو عادل اور مُنصف خدا مجھے جزا کے دِن عطا فرمائے گا۔ اور نہ صِرف مجھے بلکہ اُن سب کو بھی جو بڑے شوق سے اُس کے آنے کی راہ دیکھتے ہیں‘‘ (2۔ تیموتاؤس 4:7۔8).

ایک اور – 1کرنتھیوں15:51۔58 .

’’دیکھو، میں تمہیں ایک راز کی بات بتاتا ہُوں۔ ہم سب مَوت کی نیند نہیں سوئیں گے لیکن بدل ضرور جائیں گے۔ یہ پَلک جھپکتے ہی ہو جائے گا یعنی ایک دم جب آخری نرسنگا پھونکا جائے گا۔ کیونکہ سارے مُردے نرسنگے کے پھونکے جانے پر غیر فانی جِسم پاکر زندہ ہو جائیں گے اور ہم سب بدل جائیں گے۔ کیونکہ ہمارے فانی جِسم کو بَقا کے لباس کی ضرورت ہے تاکہ اِس مرنے والے جِسم کو حیاتِ ابدی مل جائے۔ اور جب فانی جِسم بَقا کا لباس پہن چُکے گا اور یہ مرنے والا جسم حیاتِ ابدی پالے گا تو پاک کلام کی یہ بات پوری ہوگی کہ مَوت فتح کا لُقمہ ہو گئی ہے۔ اَے موت، تیری فتح کہاں رہی؟ اَے مَوت! تیرا ڈنک کہاں رہا؟ مَوت کا ڈنک گناہ ہے اور گناہ کا زور شریعت ہے۔ مگر خدا کا شکر ہو کہ وہ ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہمیں فتح بخشتا ہے۔ اِس لیے میرے عزیز بھائیو! ثابت قدم رہو اور خداوند کی خدمت میں ہمیشہ سرگرم رہو۔ کیونکہ تُم جانتے ہو کہ خداوند میں تمہاری محنت بے فائدہ نہیں ہے‘‘ (1۔ کرنتھیوں 15:51۔58).

آمین! آپ تشریف رکھ سکتے ہیں!

میں ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر کی طرف سے ایک حوالے کے ساتھ اختتام کروں گا، جس کو ڈاکٹر لِن نے اپنی کتاب ’’خُدا کی بادشاہتThe Kingdom of God‘‘ کے سرورق پر ظاہر کرنے کے لیے چُنا تھا۔ ڈاکٹر ٹوزر نے کہا،

خُداوند آپ کو آپ کی روزمرہ کی مسیحی زندگی میں تیار کرنا چاہتا ہے تاکہ آپ بِلاشُبہ [مسیح کے ساتھ اُس کی آنے والی بادشاہت میں حکمرانی کرنے کے لیے] تیار ہو جائیں۔ ہم میں سے بے شمار [لوگ] کافی مدت سے [نجات] پا چکے ہیں۔ یاد رکھنا کہ خدا ہم انسانوں میں دن بہ دن، سال بہ سال کوئی خاص کام کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ کیوں؟ کیوںکہ [خُدا کا] مقصد بے شمار لڑکوں کو – اور لڑکیوں کو بھی – جلال میں لانا ہے! (ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر، اُن کے واعظ ’’ہمیں جلال کی طرف لانا Bringing Us to Glory‘‘ میں سے لیا گیا)۔

ختم کرتے ہوئے، مہربانی سے اعمال14:22 کھولیں۔ یہ ہے جو پولوس اور برنباس نے دُربے، لُسترہ اور اِکُنیُم میں نئے مسیحیوں کو تعلیم دی تھی:

’’وہ شاگردوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور اُنہیں نصیحت دیتے تھے کہ اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہو اور کہتے تھے کہ خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے بہت سی مصیبتوں کا سامنا کرنا لازم ہے‘‘ (اعمال 14:22).

یونانی لفظ نے ’’بہت سی مصیبتوں tribulation‘‘ کا ترجمہ ’’تھلِپسسthlipsis‘‘ کیا ہے – جس کا مطلب ’’دباؤpressure‘‘ ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں، ’’ہمیں خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے بہت سے [دباؤ] کا سامنا کرنا لازم ہے۔‘‘

ڈاکٹر ٹوزر نے کہا، ’’مسیح کو قبول کرنے کا مطلب… اُس کے دوستوں کو اپنے دوستوں کی حیثیت سے قبول کرنا، اُس کے دشمنوں کو اپنے دشمنوں کی حیثیت سے قبول کرنا، اُس کے تردید کیے جانے کو اپنی تردید قبول کرنا، اُس کی صلیب کو اپنی صلیب قبول کرنا، اُس کے مستقبل کو اپنا مستقبل قبول کرنا… مسیح کو قبول کرنا جو کچھ بھی اُس کے برعکس ہے اُس کی تردید کرنا ہوتا ہے۔‘‘ ایسا کرنے کے لیے درکار ہوتا ہے کہ آپ کو خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے بہت سے دباؤ کا سامنا کرنا چاہیے! وہ جو ’’دباؤ‘‘ میں سے گزرنے سے انکار کرتے ہیں خُدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتے! صرف دباؤ میں سے گزرنے کے ہی ذریعے سے آپ ہمارا کورس گانے کے قابل ہو جائیں گے۔

کھڑے ہو جائیں اور ہمارا کورس گائیں،

ہائے وہی میرے لیے جلال ہو گا،
   میرے لیے جلال، میرے لیے جلال۔
جب اُس کے فضل کے وسیلے سے میں اُس کے چہرے کو دیکھوں گا،
   وہی جلال ہو گا، میرے لیے جلال ہوگا۔
(’’ہائے وہی میرے لیے جلال ہو گا O That Will Be Glory‘‘ شاعر چارلس ایچ۔ گیبرئیل Charles H. Gabriel، 1856۔1932)۔

اِسے دوبارہ گائیں!

ہائے وہی میرے لیے جلال ہو گا،
   میرے لیے جلال، میرے لیے جلال۔
جب اُس کے فضل کے وسیلے سے میں اُس کے چہرے کو دیکھوں گا،
   وہی جلال ہو گا، میرے لیے جلال ہوگا۔

آمین!

اِس پیغام کو ٹموٹھی لِن Timothy Lin، پی ایچ۔ ڈی۔ سے لیا گیا تھا، خُدا کی بادشاہی The Kingdom of God، بائبلی مطالعجاتی مسنٹریز انٹرنیشینل Biblical Studies Ministries International، Inc.، www.bsmi.org، 820 بینّت کورٹ Bennet Court، کارمل Carmel، IN 46032، حق اشاعت 1998، نظرثانی شُدہ ایڈیشن، اکتوبر 2002۔

ڈاکٹر لِن کی جانب سے دوسری کتابیں: پیدائش – ایک بائبل کا علم الہٰیات Genesis – A Biblical Theology، پاک روح The Holy Spirit، کلیسیا کی نشو و نما کا راز The Secret of Church Growth۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔