Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


واعظ کے دوران کورس گایا گایا: ’’میں تمہیں اِنسانوں کا مچھیرا بناؤں گا I Will Make You Fishers of Men‘‘ (شاعر ھیری ڈی۔ کلارک Harry D. Clarke، 1888۔1957)۔

یوناہ – حیاتِ نو پر کتاب!

JONAH – THE BOOK ON REVIVAL!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
ایمیریٹس پادری صاحب
by Dr. R. L. Hymers, Jr.,
Pastor Emeritus

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی دوپہر، 21 جون، 2020
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Afternoon, June 21, 2020

یوناہ کی کتاب بائبل میں کیوں ہے؟ میں یقین کر چکا ہوں کہ یوناہ کی کتاب کا مرکزی مقصد حیاتِ نو کے بارے میں ہمیں تفصیل سے بتانا ہے۔ میں اِس بات کو کہنے سے شروع کروں گا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ مخصوص جسمانی مشکلات جس کا تجربہ انسان کرتا ہے حیاتِ نو کو ’’اُجاگر‘‘ کرتے ہیں۔ احمقانہ پن! یہ خُداوند ہے جو حیاتِ نو کو ’’اُجاگر‘‘ کرتا ہے۔ اِس کا جو کچھ ہم کرتے ہیں اُس سے بہت کم تعلق ہوتا ہے۔ ہم حیاتِ نو کو ’’اُجاگر‘‘ [چنگاری لگانا] نہیں کرتے ہیں! حیاتِ نو خداوند کے دِل میں شروع ہوتا ہے۔ یہ کسی بھی ایسی بات سے جو ہم کرتے ہیں نہیں شروع ہوتا ہے – حتّیٰ کہ ہماری دعاؤں میں بھی نہیں۔ میں یہاں پر آپ کو حیاتِ نو کو کیسے پانا ہے اُس کا کوئی کتابچہ نہیں پیش کر رہا ہوں۔ میں آپ کو پیش کر رہا ہوں جو خداوند حیاتِ نو میں کرتا ہے۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +
ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

I. پہلی بات، سچا حیاتِ نو خوف میں شروع ہوتا ہے۔

یوناہ 1:1۔3 آیات کھولیں۔ کھڑے ہو جائیں جب میں اِسے پڑھوں۔

’’خداوند کا کلام اَمتی کے بیٹے یوناہ پر نازل ہوا کہ تو بڑے شہر نینوہ کو جا اور اُس کے خلاف منادی کر کیونکہ اُس کی بدی میرے حضور تک آ پہنچی ہے۔ لیکن یوناہ خُدا کے حضور سے تُرسیس کی طرف بھاگا اور یافا پہنچا اور وہاں تُرسیس جانے والا جہاز ملا۔ وہ کرایہ دے کر اِس میں سوار ہوا تاکہ اُن کے ساتھ خداوند کی حضوری سے [دور] تُرسیس کو جائے‘‘ (یوناہ1:1۔3)۔

آئیں اِس کا سامنا کرتے ہیں۔ یوناہ خُداوند کی حضوری سے بھاگا تھا کیونکہ وہ خوفزدہ تھا۔ وہ نینوہ میں حیاتِ نو کی منادی کرنے سے خوفزدہ تھا۔

میں اپنی منادی [مذہبی خدمات] کے دوران چار مرتبہ خداوند کے نازل کیے ہوئے حیاتِ نو دیکھ چکا ہوں۔ ہر مرتبہ میں خوف سے بھر گیا تھا۔ پہلا حیاتِ نو جو میں نے دیکھا تھا وہ لاس اینجلز کے پہلے چینی بپتسمہ دینے والے گرجا گھر First Chinese Baptist Church of Los Angeles میں ہوا تھا۔ ڈاکٹر لِن Dr. Lin نے مجھے اِس حیاتِ نو میں انجیلی بشارت کے واعظوں کی تبلیغ کرنے کے لیے کہا تھا۔ کلیسیا کے سامنے کھڑے ہونے اور منادی کرنے نے مجھے خوف میں مبتلا کر دیا تھا۔ میں خوفزدہ تھا کہ غلط تبلیغ کرنے پر ڈاکٹر لِن میری بے عزتی کریں گے۔ لیکن ایک آیت جو میں نے زبانی یاد کی ہوئی تھی اُس نے مجھے خوف پر قابو پانے میں مدد دی تھی،

’’کیونکہ خدا نے ہمیں بزدلی کی روح نہیں دی بلکہ قوت، محبت اور نفس پر قابو رکھنے کی روح دی ہے‘‘ (2 تیموتاؤس1:7)۔

ہر مرتبہ جب بھی ڈاکٹر لِن نے مجھے تبلیغ کرنے کے لیے کہا میں نے اُس آیت کو خود کے لیے دُہرایا۔ اِس طرح سے میں نے اپنے خوف پر قابو پایا! میں بے عزتی کی جانے کے اپنے خوف کو بھول گیا اور جس قدر شدت کے ساتھ ممکن ہو سکا خوشخبری کی تبلیغ کی۔ اور خُداوند نے اُن انجیلی بشارت کے واعظوں کو درجنوں نوجوان چینی لوگوں کو مسیح کے پانے کے لیے استعمال کیا!

پھر میں سان فرانسسکو کے قریب بپٹسٹ سیمنری میں چلا گیا۔ جلد ہی میں حیاتِ نو – کی یسوع کی تحریک کے وسط میں تھا۔ لیکن وہاں پر میرے زیادہ تر واعظوں کو قیادت نے مسترد کر دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ میں شدید سخت تھا۔ لہٰذا میں بالاآخر لاس اینجلز واپس آ گیا، یہ محسوس کرتے ہوئے کہ میں ناکام ہوا تھا۔

یہاں پر میں نے ایک گرجا گھر شروع کیا۔ چونکہ یہاں پر میری ملامت کرنے کے لیے کوئی بھی نہیں تھا، میں نے خوشخبری کی شدید جوش وخروش کے ساتھ تبلیغ کی۔ لیکن اِس سے کوئی حیاتِ نو نہیں آیا۔

پھر مجھے فنڈامنٹالسٹ [بنیاد پسند] بپٹسٹ رہنماؤں کی طرف سے ایک کنونشن میں تبلیغ کرنے کی دعوت موصول ہوئی۔ اِس وقت تک میں ناکام ہونے کے خوف سے اِس قدر بھرا ہوا تھا کہ مجھے اِس قدر پسینہ آیا میرے سارے کپڑے تر ہو گئے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اتنے بڑے بڑے مبلغین کی جماعت کے سامنے کیا تبلیغ کرنی ہے۔ اِس لیے میں نے وہ چھوٹا سا واعظ لیا جو میرے پاس تھا اور اُس تمام قوت کے ساتھ جو مجھ میں تھی اُس کی منادی کی! واقعی میں اُس حیاتِ نو میں سینکڑوں لوگ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے!

پھر شمالی آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ میں ایک بہت بڑے گرجا گھر میں واعظ کے ایک سلسلے کی تبلیغ کے لیے مجھے مدعو کیا گیا۔ اِس دفعہ میں بُری طرح سے ناکام رہا تھا۔ میں نے بیلفاسٹ مکمل طور سے بدحالی میں چھوڑا۔

میں واپس لاس اینجلز میں اپنے گرجا گھرمیں آ گیا اور دوبارہ کوشش کی۔ لیکن اِس میں سے کوئی بھی حقیقی حیاتِ نو نہیں آیا۔ پھر مجھ پر کینسر اور جوڑوں کے درد کا حملہ ہوا۔ میں تبلیغ کرنے کے لیے کھڑا نہیں رہ سکتا تھا۔ اِس لیے میں نے اِتوار کی صبح کی عبادتوں میں میری جگہ پر سیمنری کے ایک طالب علم کو بولنے کے لیے کہا۔ لیکن آخرکار وہ چھوڑ کر چلا گیا اور ہم میں سچی مچی گرجا گھر کی ایک بہت ہولناک تقسیم ہوئی۔

اب میں کرسی میں بیٹھتا ہوں اور اُن لوگوں کو بائبل کی تعلیم دیتا ہوں جو گرجا گھر کی تقسیم میں نہیں گئے تھے۔ بائبل کا یہ مطالعہ [بائبل سٹڈی] اُن اسباق میں سے ایک ہے جو میں اپنے لوگوں کو دے رہا ہوں۔

پھر خداوند نے ایک شدید طوفان نازل کیا اور کافر ملاحوں کو پتا چلا کہ یوناہ ہی وہ شخص ہے جس کی وجہ سے وہ طوفان آیا تھا۔ یوناہ1:12 آیت کھولیں، جب میں اُس آیت کو پڑھوں۔

’’اور تب اُس نے اُنہیں کہا کہ مجھے اُٹھا کر سمندر میں پھینک دو تو سمندر تمہارے لیے ساکن ہو جائے گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ بڑا طوفان میری غلطی کے باعث تمہارے اوپر آیا ہے‘‘ (یوناہ1:12).

اب یوناہ1:15 آیت پرنظر ڈالیں۔

’’تب اُنہوں نے یوناہ کو اُٹھا کر سمندر میں پھینک دیا اور سمندر کی لہریں تھم گئیں‘‘ (یوناہ1:15)۔

II. دوسری بات، سچا حیاتِ نو ایک معجزہ ہوتا ہے۔

پہلا معجزہ وہ طوفان تھا۔ دوسرا معجزہ وہ بہت بڑی مچھلی تھی۔ یوناہ 1:17 آیت پر نظر ڈالیں۔

’’اب خداوںد نے یوناہ کو نگل جانے کے لیے ایک بہت بڑی مچھلی تیار کر رکھی تھی۔ اور یوناہ مچھلی کے پیٹ میں تین دِن اور تین راتیں رہا‘‘ (یوناہ1:17)۔

متی12:40 آیت میں وہ لفظ ’’وھیلwhale‘‘ ’’کیٹوس kētos‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب ’’ایک بہت بڑی مچھلی‘‘ ہوتا ہے۔ میں اب ڈاکٹر جے ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee کے ساتھ یقین رکھتا ہوں کہ یوناہ مچھلی کے پیٹ میں مُردہ تھا۔ یہیں ہے جہاں پر اِس وقت میں ہوں، اُس بہت بڑی مچھلی کے پیٹ میں!

میں اپنے 80 ویں سال میں ہوں۔ میرے بائیں گُھٹنے میں آرتھرائٹس کی وجہ سے اِس قدر شدید درد ہوتی ہے کہ میں تبلیغ کرنے کے لیے مذید اور کھڑا نہیں رہ سکتا۔ میں ایک جیتے جاگتے مُردہ آدمی جیسا محسوس کرتا ہوں۔

اُس حالت میں، میں ایک ہفتہ پہلے جب کہ ایک واعظ پر کام کر رہا تھا تو اُس نہانے کے ٹب میں پیچھے کی جانب [کمر کے بل] گِر پڑا تھا۔ میں ٹب میں پیچھے کی جانب گرا تھا میرے پاؤں سیدھے اوپر ہوا میں اٹکے ہوئے تھے۔ میرا 245 پاؤنڈ کا وزن میرے سر پر پڑا ہوا تھا۔ اِس بات نے سارے گھر کو دہلا دیا تھا۔ میں ٹب میں اُلٹا پھنسا ہوا تھا۔ میں نے سوچا میں اپنی گردن تُڑوا چکا ہوں اور ساری زندگی کے لیے مفلوج ہو جاؤں گا۔ لیکن پھر میں نے اپنے پیروں کے انگوٹھوں کو اِدھر اُدھر حرکت دی، جس سے مجھے پتا چلا کہ میں نے اپنی ریڑھ کی ہڈی نہیں تُڑوائی۔ جب میں وہاں پر اوندھا پڑا ہوا تھا، میں دراصل پانچ منٹوں تک کے لیے نیںد میں چلا گیا تھا۔ پھر اُسی آدھی نیند کی حالت میں مجھے کچھ ایسی بات کا احساس ہوا جس کے بارے میں مَیں نے پہلے کبھی بھی نہیں سوچا تھا – وہ [لوگ] جنہیں خُداوند نے حیاتِ نو میں استعمال کیا ہمیشہ حیاتِ نو کے آنے سے پہلے شدید مشکل دور میں سے گزرے تھے۔ ویزلی نے کہا۔ ایسا ہی میری مون سین نے کہا۔ ایسا ہی چین کے جاناتھن گوفورتھ نے کہا۔ بالاآخر میری بیوی اندر آئیں اور مجھے ٹب میں سے باہر کھینچنے کے لیے ویزلی کو آواز دی۔ جوں ہی میں ٹب میں سے باہر نکلا تو یوناہ2:9 سے ایک آیت یاد آ گئی، ’’نجات خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔‘‘

عجیب ہے نا جیسا کہ لگتا ہے، میں جان گیا کہ آخر کار ہم حیاتِ نو کو پا لیں گے!

’’اور خُداوند نے مچھلی کو حکم دیا اور اُس نے یوناہ کو خشک زمین پر اُگل دیا‘‘ (یوناہ2:10)۔

III. تیسری بات، دوسرے موقعے کا خُدا۔

مہربانی سے یوناہ3:1۔3 آیات کھولیں۔ کھڑے ہو جائیں جب میں اِسے پڑھوں۔

’’اور تب خُدا کا کلام دوسری بار یوناہ پر نازل ہوا، کہ اُٹھ، اِس بڑے شہر نینوہ کو جا اور جو پیغام میں تجھے دیتا ہوں اُس کی منادی کر۔ یوناہ خدا کےکلام کے مطابق نینوہ کو گیا۔ نینوہ تین دِن کی مسافت پر ایک بہت اہم شہر تھا‘‘ (یوناہ3:1۔3)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

خُداوند دوسرے موقعے کا خدا ہے۔ عظیم جان ویزلی جارجیہ کے لیے ایک مشنری کی حیثیت سے گئے۔ وہ بُری طرح سے ناکام رہے۔ وہ ایک شکست خوردہ شخص کی حیثیت سے واپس انگلستان لوٹ آئے۔ لیکن خُداوند نے مسٹر ویزلی کو ایک دوسرا موقعہ عنایت کیا۔ اُنہیں خُداوند کے ذریعے سے دوسری عظیم بیداری کا آغاز کرنے کے لیے استعمال کیا گیا جو ساری دُنیا تک پہنچ جائے گی، اور دورِ حاضرہ کے مشن کی تحریک کو جنم دے گی – جو دُنیا کے کونے کونے تک مسیح کی خوشخبری کو پھیلائے گی!

اب میں شاید کبھی بھی کھڑا ہونے اور اُس قوت کے ساتھ تبلیغ کرنے کے قابل نہ ہوں جو کبھی میرے پاس تھی۔ لیکن میں یقین کرتا ہوں کہ خداوند نے ابھی تک ہمیں نہیں چھوڑا ہے! وہ مجھے ساری دُنیا کے پادری صاحبان کو حیاتِ نو اور انجیلی بشارت کے عظیم اصولوں کی تعلیم کو سیکھانے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔

جس روز یسوع واپس آسمان میں اُٹھایا گیا تھا اُس نے اپنے شاگردوں سے کہا۔ اعمال1:8 آیت کھولیں اور کھڑے ہو جائیں جب میں اِسے پڑھوں۔

’’لیکن جب پاک روح تم پر نازل ہو گا تو تم قوت پاؤ گے اور یروشلیم اور تمام یہودیہ اور سامریہ میں بلکہ زمین کی انتہا تک میرے گواہ ہو گے۔ اِن باتوں کے بعد وہ اُن کے دیکھتے دیکھتے اُوپر اُٹھا لیا گیا اور بدلی نے اُسے اُن کی نظروں سے چُھپا لیا‘‘ (اعمال1:8، 9)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ یسوع نے دُنیا کی نجات ہمارے ہاتھوں میں چھوڑی ہے۔ یسوع نے کہا،

’’اِس لیے تم جاؤ اور ساری قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُنہیں باپ، بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ دو‘‘ (متی28:19)۔

جس طرح سے پیدائش کی کتاب میں اپنے دِنوں میں دُنیا کے لیے یوسف نجات دہندہ بنا تھا – اِسی طرح سے ہمیں یسوع کی طرف سے اپنے زمانے میں لوگوں کو بچانے کا حکم ملا ہے!

بشروں کو جیتنا کوئی انتخاب یا چناؤ نہیں ہے۔ یہ ہمارے لیے مسیح کا ایک حکم ہے۔ مہربانی سے کھڑے ہوں اور ’’میں تمہیں اِنسانوں کو پکڑنے والا بناؤں گا I Will Make You Fishers of Men‘‘ گائیں۔

میں تمہیں اِنسانوں کو پکڑنے والا بناؤں گا، اِنسانوں کو پکڑنے والا، اِنسانوں کو پکڑنے والا،
میں تمہیں اِنسانوں کو پکڑنے والا بناؤں گا، اگر تم میرے پیچھے ہو لو،
اگر تم میرے پیچھے ہولو، اگر تم میرے پیچھے ہو لو،
میں تمہیں اِنسانوں کو پکڑنے والا بناؤں گا، اگر تم میرے پیچھے ہو لو۔
   (’’میں تمہیں اِنسانوں کو پکڑنے والا بناؤں گا I Will Make You Fishers of Men‘‘ شاعر ھیری ڈی۔ کلارک Harry D. Clarke، 1888۔1957)۔

ہمارے ساتھ آئیں اور ہمارے گرجا گھر کو اِن آخری ایام میں ساری دُنیا میں جدوجہد کرتے ہوئے پادری صاحبان کی مدد کرنے کے لیے ایک روشنی کا مینار بنانے میں ہماری مدد کریں! آمین۔

IV. چوتھی بات، حیاتِ نو افسردگی یا مایوسی کا علاج نہیں کرتا۔

کھڑے ہوں اور یوناہ3:1۔10 آیات کھولیں جبکہ میں اِنہیں پڑھتا ہوں۔

’’اور تب خُدا کا کلام دوسری بار یوناہ پر نازل ہوا، کہ اُٹھ، اِس بڑے شہر نینوہ کو جا اور جو پیغام میں تجھے دیتا ہوں اُس کی منادی کر۔ یوناہ خدا کےکلام کے مطابق نینوہ کو گیا۔ نینوہ تین دِن کی مسافت پر ایک بہت اہم شہر تھا۔ پہلے روز جب یُوناہ نینوہ میں داخل ہونے کے لیے روانہ ہُوا تو اس نے منادی کی کہ چالیس دِن کے بعد نینوہ برباد کیا جائے گا۔ نینوہ کے باشندے خدا پر ایمان رکھتے تھے۔ اُنہوں نے روزہ رکھنے کا اعلان کیا اور بڑے سے چھوٹے تک سب نے ٹاٹ اوڑھا۔ جب نینوہ کے بادشاہ کو یہ خبر پہنچی تو وہ اپنے تخت سے اُٹھا، اپنا شاہی لباس اُتارا اور ٹاٹ اوڑھ کر خاک پر بیٹھ گیا۔ اور نینوہ میں اعلان کر دیا کہ بادشاہ اور اس کے سرداروں کی طرف سے حکم ہُوا ہے کہ کوئی اِنسان یا حیوان، گلّہ اور مویشی نہ کچھ کھائے اور نہ پئیے۔ بلکہ ہر اِنسان اور حیوان ٹاٹ اوڑھے اور فوراً خدا کو پُکارے۔ ہر شخص اپنی بُری روِش اور ظلم سے باز آئے۔ کون جانتا ہے کہ خدا کو ترس آئے اور وہ اپنے سخت قہر سے باز آئے اور ہم ہلاک نہ ہوں۔ جب خدا نے اُن کا یہ عمل دیکھا کہ وہ اپنی بُری روِش سے پھر گئے تو اسے ترس آیا اور اس غضب کو جو وہ ان کے اوپر لانے کو تھا، نازل نہ کیا‘‘ (یوناہ 3:1۔10).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

اب یوناہ کی افسردگی پر نظر ڈالیے۔ یہ 4:1۔5 آیات ہیں، جیسے جیسے میں اِسے پڑھوں۔

’’لیکن یُوناہ اس بات سے بہت ناخوش اور ناراض ہُوا۔ اس نے خدا سے دعا کی کہ اے خدا جب میں اپنے گھر پر تھا تو کیا میں نے یہی نہیں کہا تھا؟ اس لیے میں نے ترسیس کو بھاگنے میں جلدی کی تھی۔ میں جانتا تھا کہ تُو شفقت اور ترس کھانے والا خدا ہے۔ قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں بڑھ کر ہے۔ تُو ایسا خدا ہے جو عذاب نازل کرنے سے باز رہتا ہے۔ اب اے خدا تُو میری جان لے لے کیونکہ اس جینے سے مر جانا بہتر ہے۔ خدا نے فرمایا، کیا تجھے غُصّہ کرنے کا کوئی حق ہے؟ اور یُوناہ شہر سے باہر مشرق کی طرف جا بیٹھا۔ وہاں اپنے لیے ایک چھپر بنا کر اس کے سایہ میں بیٹھا اور دیکھنے لگا کہ شہر کا کیا حال ہوتا ہے‘‘ (یوناہ 4:1۔5).

یہاں پر میں آپ کو بتانے جا رہا ہوں کہ کیا ہوتا ہے جب خُداوند حیاتِ نو بھیجتا ہے۔ مبلغ اِس کے ذریعے سے بابرکت نہیں ہوتا ہے۔ دیکھا آپ نے، حیاتِ نو لوگوں کی اندرونی پریشانیوں کا علاج نہیں کرتا ہے۔ میں آپ کو یوناہ کی اُداسی کی وجوہات پیش کروں گا۔


1. یوناہ نینوہ کے لوگوں سے نفرت کرتا تھا۔ وہ لوگ اسرائیل اور یوناہ کے لوگوں کے خونی دشمن تھے۔ خُدا کیوں اِس طرح کے بدکار لوگوں کے لیے حیاتِ نو عطا کرے گا؟

2. یوناہ جانتا تھا کہ حیاتِ نو ہمیشہ کے لیے جاری نہیں رہے گا۔ نحوم نبی کا صرف ایک ہی موضوع تھا – نینوہ کی تباہی! حیاتِ نو کے 150 سال بعد نینوہ کے لوگ واپس اپنی بُری راہوں پر گامزن ہو گئے تھے! سُنیں کہ نحوم نبی نے نینوہ کے اِخلاقی طور پر گِرے ہوئے لوگوں کے بارے میں کیا کہا،

’’خونی شہر پر افسوس، وہ جھوٹ اور غارت گری سے بھرا ہُوا ہے وہ کبھی جُرم سے ناز نہیں رہتا! چابک کے چٹخنے کی آواز، پہیوں کی کھڑکھڑاہٹ، گھوڑوں کی ٹاپ اور رتھوں کے ہچکولوں کی آواز! حملہ آور لشکر، تلواروں کی چمک اور بھالوں کی جھلک! مقتولوں کے ڈھیر، لاشوں کے انبار، بے شمار لاشیں، جن سے لوگ ٹھوکریں کھاتے ہیں، یہ سب اس کسبی اور فاحشہ کی بدکاری کے سبب سے ہے، جس نے فاحشہ پن سے قوموں کو اور جادو سے لوگوں کو غلام بنا لیا ہے۔ خداوند فرماتا ہے کہ میں تیرا مخالف ہُوں۔ میں تجھے تیرے مُنہ تک ننگا کروں گا۔ اور قوموں کو تیرا ننگا پن دکھاؤں گا اور مملکتوں کو تیری برہنگی دکھاؤں گا۔ میں تیرے اوپر گندگی ڈالوں گا، میں نفرت کا سلوک کروں گا تجھے رسوا کروں گا‘‘ (ناحوم 3:1۔6).

یوناہ جانتا تھا کہ حیاتِ نو زیادہ عرصہ تک نہیں رہتے!


یوناہ جانتا تھا کہ حیاتِ نو ہمیشہ تک کے لیے جاری نہیں رہتے ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ جن لوگوں نے حیاتِ نو کا تجربہ کیا ہوتا ہے، چند ایک نسلوں کےبعد، واپس اپنی بُری راہوں پر لوٹ جاتے ہیں۔ یہی حیاتِ نو کا قانون ہوتا ہے – اور یوناہ یہ بات جانتا تھا!

کیا یہی امریکہ میں نہیں رونما ہوا؟ جوناتھن ایڈورڈز اور دوسروں کے بہت بڑے بڑے حیاتِ انواع آئے تھے جنہوں نے گرجا گھروں کو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے لوگوں سے بھر دیا تھا۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا چلا گیا، فنّی Finney جیسے جنونی لوگوں نے مسیح میں ایمان نہ لائے ہوئے لوگوں سے بھر دیا۔ امریکہ میں آخری عظیم حیاتِ نو 1859 میں آیا تھا۔ اُس کے بعد سے جنونی لوگ نئے ایونجلِسٹ بنتے گئے، اور اُن کے طریقوں نے گرجا گھروں کے بے اعتقادے لوگوں سے بھرنا شروع کر دیا۔ نئی انجیلی بشارت کی تعلیم محض آسانی سے پانی پلانے والی انجیلی بشارت کی تعلیم ہے۔ آج انتہائی چند ایک ہی ایونجیلیکل لوگ ہیں جو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے ہیں! یہی وجہ ہے کہ ہم آج بے اعتقادی کی ایک فضا میں زندگی بسر کر رہے ہیں!

گرجا گھر کی حالیہ تقسیم ظاہر کرتی ہے کہ وہ جو چھوڑ کر چلے گئے حقیقت میں کبھی بھی ہمارے ساتھ ہی نہیں تھے (1یوحنا2:19؛ یہوداہ19)۔ لہٰذا وہ اُس چھوٹے سے آدمی کے ساتھ چلے گئے جو اُنہیں نئی ایونجیلیکل ’’یخنی‘‘ میں کُلی طور پر جانے دیتا ہے۔ وہ بھول چکے ہیں کہ نئی انجیلی بشارت کی تعلیم نے کبھی بھی سچے حیاتِ نو کا تجربہ نہیں کیا ہوتا ہے – اور یہ کبھی کرے گی بھی نہیں!

آئیے ایک نئے آغاز کی جانب قدم بڑھائیں!


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب

یوناہ – حیاتِ نو پر کتاب!

JONAH – THE BOOK ON REVIVAL!

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
ایمیریٹس پادری صاحب
by Dr. R. L. Hymers, Jr.,
Pastor Emeritus

I.   پہلی بات، سچا حیاتِ نو خوف میں شروع ہوتا ہے، یوناہ 1:1۔3؛ 2۔ تیموتاؤس 1:7؛
یوناہ 1:12،15 ۔

II.  دوسری بات، سچا حیاتِ نو ایک معجزہ ہوتا ہے، یوناہ 1:17؛ 2:9، 10۔

III. تیسری بات، دوسرے موقعے کا خُدا، یوناہ 3:1۔3؛ اعمال 1:8، 9؛
متی 28:19۔

IV. چوتھی بات، حیاتِ نو افسردگی یا مایوسی کا علاج نہیں کرتا، یوناہ 3:1۔10؛ 4:1۔5؛ نحوم 3:1۔6۔