Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


یوناہ – حیاتِ نو کا نبی!

JONAH – THE PROPHET OF REVIVAL!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
ایمیریٹس پادری صاحب
by Dr. R. L. Hymers, Jr.,
Pastor Emeritus


لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی دوپہر، 14 جون، 2020
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Afternoon, June 14, 2020

’’خُداوند کا کلام امِتی کے بیٹے یُوناہ پر نازل ہُوا۔ کہ تُو بڑے شہر نینوہ کو جا اور اس کے خلاف منادی کر کیونکہ اس کی بدی میرے حضور تک آ پہنچی ہے‘‘ (یوناہ 1:1، 2).

یوناہ کی کتاب خود یوناہ نبی کے ذریعے سے ہی لکھی گئی تھی۔ میں یہ بات اِس لیے کہتا ہوں کیونکہ یہ یوناہ کے خیالات اور دعاؤں کا انکشاف کرتی ہے، جو کہ ما سوائے یوناہ کے کوئی بھی اور نہیں جانتا تھا۔ یوناہ کے تاریخی شخصیت ہونے کی حقیقت کو 2سلاطین14:24۔25 آیت میں پیش کیا گیا ہے جب بوڑھے ربیّوں نے اُسے ’’یوناہ بِن امِتّی، بنی جو جات حِضر کا تھا‘‘ کہہ کر بُلایا (2سلاطین14:25)۔ خود خداوند یسوع مسیح نے یوناہ کے بارے میں ایک حقیقی، تاریخی نبی کی حیثیت سے بات کی تھی۔ مہربانی سے متی12:39۔41 آیات کھولوَ۔ کھڑے ہو جائیں جب میں وہ پڑھوں جو یسوع نے یوناہ کے بارے میں کہا،

’’لیکن اُس نے جواب میں اُن سے کہا، اِس زمانہ کے بُرے اور حرامکار لوگ نشان دیکھنا چاہتے ہیں مگر اُنہیں یُوناہ نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان نہ دیا جائے گا۔ کیونکہ جس طرح یُوناہ تین دِن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہا اُسی طرح ابنِ آدم تین دِن اور تین رات زمین کے اندر رہے گا۔ نینوہ کے لوگ عدالت کے دِن اِس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اُنہیں مجرم ٹھہرائیں گے، اِس لیے کہ اُنہوں نے یُوناہ کی منادی کی وجہ سے توبہ کر لی تھی اور دیکھو یہاں وہ موجود ہے جو یُوناہ سے بھی بڑا ہے‘‘ (متی 12:39۔41).

کھڑے رہیے اور لوقا 11:29۔30 آیت کھولیں۔

’’جب بھیڑ زیادہ ہونے لگی تو یسوع نے کہا، اِس زمانہ کے لوگ بُرے ہیں جو مجھ سے نشان طلب کرتے ہیں مگر یُوناہ کے نشان کے سِوا کوئی اور نشان اُنہیں نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ جس طرح یُوناہ نینوہ کے باشندوں کے لیے نشان ٹھہرا اُسی طرح اِبن آدم بھی اِس زمانہ کے لوگوں کے لیے نشان ٹھہرے گا‘‘ (لوقا 11:29۔30).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

لہٰذا 2 سلاطین14:25 یوناہ کے بارے میں تاریخی معلومات پیش کرتی ہے۔ اور لوقا11:29۔30 آیات یوناہ کے بارے میں ایک علامت کی حیثیت سے یسوع مسیح کے تذکرے کو پیش کرتی ہے۔ اور متی12:39۔41 آیات یوناہ کے جی اُٹھنے کو خود اُس کی اپنی ہی تدفین کی ایک علامت کی حیثیت سے اور اُس کے تدفین کے بعد تیسرے دِن جی اُٹھنے کو پیش کرتی ہے۔ پس، پرانا عہد نامہ یوناہ کا اندراج ایک حقیقی شخصیت کی حیثیت سے کرتا ہے، اور خود مسیح ہمیں بتاتا ہے کہ یوناہ کی موت اور جی اُٹھنا خود مسیح کی موت اور جی اُٹھنے کے بارے میں ایک پیشن گوئی تھی۔

سر ونسٹن چرچل نے بخوبی کہا، ’’ہم پروفیسر گراڈگرینڈ Gradgrind اور ڈاکٹر ڈرائیاسڈسٹ Dryasdust کی [آزاد خیال] ضخیم کتاب سے متفق نہیں ہیں۔ ہمیں یقین ہو سکتا ہے کہ یہ ساری باتیں بالکل اُسی طرح سے رونما ہوئیں ہیں جیسے وہ مقدس حکم نامہ [پاک بائبل] کے مطابق ترتیب دی گئی ہیں۔‘‘ (ڈاکٹر جے۔ ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے حوالہ دیا، بائبل میں سے Thru the Bible، جلد سوئم، یوناہ پر غور طلب بات، تعارف، صفحہ 738)۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

I. پہلی بات، یوناہ کی بُلاہٹ۔

’’خُداوند کا کلام امِتی کے بیٹے یُوناہ پر نازل ہُوا۔ کہ تُو بڑے شہر نینوہ کو جا اور اس کے خلاف منادی کر…‘‘ (یوناہ 1:1، 2).

آیت 3

’’لیکن یوناہ خدا کے حضور سے … بھاگا‘‘ (یوناہ 1:3).

میں اِس شخص یوناہ کو سمجھتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ پرانے عہد نامے میں یوناہ کی چھوٹی سی کتاب میری پسندیدہ کتابوں میں سے ایک ہے۔ یوناہ خُداوند کی حضوری سے بھاگا تھا۔ میں نے یہ نہیں کیا تھا۔ میں ایک مشنری بننے کے لیے بُلایا گیا تھا اور یہ جانتا تھا۔ لیکن میں اِس قدر غریب طالب علم تھا کہ میں یہ بات جانتا تھا کہ میں کالج سے گریجوایشن نہیں کر پاؤں گا۔ میرے لیے ساؤتھرن بپٹسٹ مشنری بننے کے لیے کالج اور سیمنری کا ایک گریجوایٹ ہونا ضروری تھا۔ لیکن میں نے کسی نہ کسی طور یوناہ ہی کی مانند محسوس کیا تھا۔ میں جانتا تھا میں بُلایا گیا تھا، لیکن میں نے کالج میں فیل ہونے کے خوف سے خدا کی حضوری سے بھاگنے کی کوشش کی تھی۔ خُدا مجھے کچھ نہ کچھ ناممکن کرنے کے لیے بتا رہا تھا۔

سیمنری کے ایک نوجوان طالب علم نے مجھ سے کہا، ’’میں مذہبی خدمت میں نہیں جا سکتا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ میں ٹوٹ جاؤں گا اور ہار جاؤں گا۔‘‘ وہ مذہبی خدمت [منادی] میں ناکامی سے خوفزدہ تھا۔ میں نے اُس بارے میں سوچا تھا۔ پھر میں نے کہا، ’’میں پہلے ہی کئی مرتبہ ٹوٹ چکا ہوں اور ہار چکا ہوں کہ اب میں مذید اور اِس بات سے خوفزدہ نہیں ہوں۔‘‘

یہ خوف ہی ہوتا ہے جو خدا کی جانب سے بُلائے گئے ایک شخص کو مذہبی خدمت [منادی] سے دور رکھتا ہے۔ یہ کسی نہ کسی طرح سے ہمیشہ خوف ہی ہوتا ہے۔ یہ مخصوص نوجوان شخص ہر بات میں جو وہ کرتا تھا فاتح ہوتا تھا – لیکن وہ مذہبی خدمت [منادی] سے خوفزدہ تھا۔ اُس کے بارے میں اُس کے چھوٹے بھائی نے کہا، ’’میرا بھائی کچھ بھی کر سکتا ہے۔‘‘ لیکن وہ ’’ٹوٹنے اور تباہ ہونے‘‘ کے خوف سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ وہ چھ فٹ لمبا تھا، براہ راست ’’اے گریڈ‘‘ حاصل کرنے والا ایک طالب علم اور ایک ہونہار مبلغ تھا۔ لیکن چونکہ وہ خوفزدہ تھا اِس لیے خُداوند کی حضوری سے بھاگا تھا!

اب، نوجوان لوگو، مجھے آپ کو کچھ بتا لینے دیں جو میں نے زندگی میں سیکھا، ’’آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں جو خدا آپ کو کرنے کے لیے کہتا ہے – کچھ بھی!‘‘ بائبل کہتی ہے، ’’مسیح کی مدد سے جو مجھے طاقت بخشتا ہے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں‘‘ (فلپیوں4:13)۔ چونکہ میں اُس آیت کو ثابت کر چکا ہوں، میں جانتا ہوں یہ سچی ہے۔ یہاں میں اپنی زندگی کے 80 ویں سال میں ہوں، کینسر سے بچا ہوا ایک شخص، اپنے گھٹنوں میں جوڑوں کے درد اور سوزش میں مبتلا، لیکن میں خوفزدہ نہیں ہوں، حالانکہ دو مکار لوگوں نے ہمارے گرجا گھر کے تین چوتھائی لوگوں کو گرجا گھر کی ایک ہولناک تقسیم میں ہتھیا لیا۔ لیکن پھر بھی میں اِتنا ہی پُرسکون ہوں جتنا کہ ایک بچہ اپنی ماں کی گود میں ہوتا ہے۔ کیا میں خوفزدہ ہوں؟ ایمانداری سے کہوں، میں ذرہ برابر بھی خوفزدہ نہیں ہوں! میری نانی مجھے بتایا کرتی تھیں، ’’تمہیں خود خوف کے سِوا کسی سے بھی خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں،‘‘ جسے اُنہوں نے صدر فرینکلِن ڈی۔ روزویلٹ کو معیشت کے شدید ترین بحران [گریٹ ڈیپریشن] کے دوران کہتے ہوئے سُنا تھا۔ میں نے یہ پایا تھا کہ میری نانی دُرست تھیں!

میں نے یہ بھی پایا کہ آپ کبھی بھی ’’خداوند کی حضوری سے بھاگ‘‘ نہیں سکتے۔ کیوں؟ کیونکہ آپ جہاں کہیں بھی ہوتے ہیں خداوند آپ کے ساتھ ہی ہوتا ہے – اِسی ہی لیے! آپ جا سکتے ہیں، جیسے یوناہ نے کیا، تُرسس کی جانب۔ لیکن خُدا اُدھر بھی اُتنا ہی ہے جتنا وہ گھر پر تھا! اور خداوند کبھی بھی ایک مبلغ کو شدید جدوجہد کے بغیر نہیں جانے دے گا۔

میں کبھی ایک شخص کو جانتا تھا جو ایک شرابی تھا۔ مجھے بعد میں پتا چلا کہ وہ پیتا تھا کہ اپنے ذہن میں سے اِس بات کو نکال پائے کہ اُسے خُداوند نے بُلایا تھا، لیکن وہ خُداوند کی بُلاہٹ کی فرمانبرداری کرنے کے لیے انتہائی خوفزدہ ہو گیا تھا۔ لہٰذا اب وہ ہر روز رات کو نشے میں دھت ہو جاتا ہے کہ خوفزدہ ہونے سے دور رہ پائے۔ اُس کا نام جان بِرچ John Birch تھا (مذاق نہیں کر رہا!) اور وہ وہیں میرے ساتھ سیمنری ہی میں تھا، اجتماعی سونے کے ہال میں سے چوری چُھپے آتا اور جاتا تھا کیونکہ وہ نشے میں ہوتا تھا!

میں ایلن Alan نامی ایک اور شخص کو جانتا ہوں۔ میں نے ایلن کی مسیح تک رہنمائی کی تھی، لیکن وہ انتہائی مشکل تھا۔ کیوں؟ ایلن خوفزدہ تھا کہ اگر اُس نے نجات پا لی تو اُسے جنت میں جانا پڑے گا! وہ جنت میں جانے سے خوفزدہ کیوں تھا؟ اُس نے مجھے ایک دِن کہا، ’’مجھے اپنے والد کو دوبارہ ملنا پڑے گا اور وہ سیمنری نہ جانے اور اُن کی مانند ایک پریسبائیٹیرئین مبلغ نہ بننے کی وجہ سے مجھ سے سخت ناراض ہیں۔‘‘ ایلن ساٹھ سال سے زیادہ عمر کا تھا۔ وہ اِتوار کے روز ایک پرئسبائیٹیرئین گرجا گھر میں بیٹھا تھا، نجات پانے سے خوفزدہ کیونکہ اُوپر جنت میں اُس کا مُردہ والد اُس سے ناراض ہوگا! وہ چالیس سالوں تک اُس خیال کی وجہ سے اذیت میں مبتلا رہا تھا۔ لیکن میں اُسے قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا کہ اُس کے والد [محترم مسٹر بلیک] مسکرائیں گے اور اُسے گلے سے لگا لیں گے، جیسے کہ مصرف بیٹے کے باپ نے کیا تھا، جب اُس کا بیٹا واپس گھر آیا تھا۔ ایلن وہ پہلا شخص تھا جس کی رہنمائی میں نے مسیح کے لیے کی تھی!

جب میں سیمنری میں تھا، تو ہمارے اِجلاسوں میں سے ایک میں کالج کی عمر کی ایک لڑکی نے نجات پائی تھی۔ وہ ایک شرمیلی لڑکی تھی، لیکن میں نے غور کیا کہ وہ پریشانی میں تھی، لہٰذا میں اُس سے بات کرنے کے لیے گیا۔ اُس نے کہا، ’’میں اپنی ماں کو بتانے سے خوفزدہ ہوں کہ میں نے نجات پا لی ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’جاؤ اور اُسے بتاؤ۔ وہ غصے نہیں ہو گی۔‘‘ لیکن میں غلطی پر تھا۔ جب اُس کی ماں کو پتا چلا کہ اُس [لڑکی] نے نجات پا تھی تو اُس نے اُسے گھر سے باہر نکال دیا۔ میں نے لڑکی کو روتے ہوئے دیکھا۔ لہٰذا میں نے کہا، ’’آؤ میں چلتا ہوں اور تمہاری ماں سے بات کرتا ہوں۔‘‘ میں سوٹ اور ٹائی پہن کر اچھی طرح سے تیار ہوا اور اُس خاتون سے ملنے کے لیے نکل پڑا۔ جب اُسے پتا چلا میں کون تھا، تو وہ مجھ پر چِیخنا چلانا شروع ہو گئی۔ بالاآخر میں خاتوں کے مہمانوں کے بیٹھانے والے کمرے تک پہنچ گیا۔ میں نے کہا، ’’کیا آپ اپنی بیٹی کو گھر میں نہیں آنے دیں گی؟‘‘ اُس نے کہا، ’’میں اُس وقت برداشت کر جاتی جب وہ جنسی تعلقات کر رہی تھی اور منشیات لے رہی تھی۔ لیکن اب وہ ایک مسیحی ہے! اور میں اُسے دوبارہ پھر کبھی بھی اپنے گھر میں نہیں آنے دوں گی۔‘‘

وہ بیچاری لڑکی گرجا گھر میں کسی اور کے گھر میں چلی گئی اور ایک نوکری حاصل کی، اور اپنے کالج کی تعلیم مکمل کی۔ اُس نے بالاآخر ایک عمدہ مسیحی نوجوان سے شادی کی۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ اُس کی ماں نے شادی میں شرکت نہیں کی تھی۔ وہ نوجوان جوڑا یورپ میں مشنریوں کی حیثیت سے ایک مخصوص مُلک میں چلا گیا تھا۔ ہم ہر مہینے اُن کی مدد کرنے کے لیے پیسے بھیجا کرتے تھے۔

پھر ایک دِن مجھے پتا چلا کہ اُس کے ماں کے گھرکے دروازے پر اخبارات کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ پولیس دروازہ توڑ کر اندر گئی – فرش پر مُردہ – ماں کو پایا – اُس کے ہاتھوں نے آدھی خالی ایک واڈکا [شراب] کی بوتل جکڑی ہوئی تھی!

اوہ، کس قدر آنسوؤں اور درد سے اُس لڑکی کو ایک مسیحی اور ایک مشنری بننے کے لیے گزرنا پڑا تھا! لیکن وہ اپنے خوف پر قابو پانے اور مشن کے میدان میں خُداوند کی پیروی کرنے کے لیے یسوع سے کافی محبت کرتی تھی! وہ یسوع کی باتیں سُننے اور اُس کی باتوں کو ماننے کے لیے کافی حد تک روحانی ہو گئی تھی۔

کھڑے ہوں اور اپنی بائبل 10:34۔39 آیات کے لیے کھولیں۔

’’یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہُوں، صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہُوں۔ کیونکہ میں اِس لیے آیا ہُوں کہ بیٹے کو باپ سے، اور بیٹی کو ماں سے اور بہو کو ساس سے جدا کر دُوں۔ آدمی کے دشمن اُس کے اپنے گھر ہی کے لوگ ہونگے۔ جو کوئی اپنے باپ یا اپنی ماں کو مجھ سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ میرے لائق نہیں اور جو کوئی اپنے بیٹے یا بیٹی کو مجھ سے زیادہ پیار کرتا ہے میرے لائق نہیں۔ جو کوئی اپنی صلیب اُٹھا کر میرے پیچھے نہیں چلتا، میرے لائق نہیں۔ جو کوئی اپنی جان بچاتا ہے، اُسے کھوئے گا اور جو کوئی میرے لیے اپنی جان کھو دیتا ہے، اُسے سلامت پائے گا‘‘ (متی 10:34۔39).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے کچھ کے والدین ہیں جو اپنے طور پر پوری کوشش کریں گے کہ آپ ہمارے گرجا گھر کو چھوڑ جائیں۔ مہربانی سے اِس لڑکی کی جرأت کو یاد رکھیں اور اُس کی مثال کی پیروی کریں۔ اگر آپ کرتے ہیں تو وہ آپ کے ساتھ نہایت ناراض ہو جائیں گے – کچھ عرصہ کے لیے۔ لیکن جب وہ آپ کی اچھی زندگی کو دیکھیں گے، تو وہ بالاآخر – مستقبل میں – آپ کے ساتھ ہمارے گرجا گھر میں آئیں گے۔ لیکن آپ کے پاس مسیح کی پیروی کرنے کے لیے ایمان ہونا چاہیے، بیشک چاہے وہ پھر کبھی دوبارہ آپ کو قبول نہ کریں! یوناہ کی مانند مت بنیں اور خداوند کی حضوری سے بھاگنے کی کوشش مت کریں!!!

چینی گرجا گھر میں، میرے دو قریبی دوست تھے – بین Ben اور جیک Jack نامی۔ بین ڈاکٹر لن کے خلاف سرکش تھا۔ آخر کار وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ بھاگ گیا۔ میں نے اُسے پھر کبھی دوبارہ نہیں دیکھا۔ لیکن جیک نے دوا فروش بننے کی تربیت حاصل کی۔ اِس کے باوجود اُسے یہ پسند نہیں آئی، لہٰذا وہ ٹالبوٹ سیمنری میں چلا گیا اور ایک مبلغ بنا۔ وہ میرا ایک انتہائی قریبی دوست تھا۔ اُس کی شادی پر میں شڑبالا بنا تھا۔ اُس نے ہمارے اِجلاسوں میں سے ایک میں یسوع پر بھروسہ کیا تھا۔ اُس نے تب لکھا تھا، ’’کئی سالوں کے بعد میں نے اپنے والد اور والدہ کی نجات کا ثمر دیکھا… میں نے اپنے والد کی تربیت کا مشاہدہ کیا اور [اُنہیں] سنڈے سکول کے اُستاد کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے ہوئے دیکھا، اُنہوں نے اپنے طُلبہ کی زندگیوں کو متاثر کیا گرجا گھر کی نشوونما میں اہم کردار ادا کیا۔‘‘

II۔ دوسری بات، یوناہ کی مصیبت۔

’’لیکن یوناہ خدا کے حضور سے ترسیس کی طرف بھاگا اور یافا پہنچا۔ وہاں ترسیس کو جانے والا جہاز ملا۔ وہ کرایہ دے کر اس میں سوار ہُوا تاکہ ترسیس کو جائے۔ تب خداوند نے سمندر پر ایسی آندھی بھیجی کہ جہاز کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا‘‘ (یوناہ 1:3۔4).

اِدھر دیکھیں۔ یوناہ جانتا تھا کہ وہ طوفان خُداوند کی طرف سے تھا۔

’’اس نے جواب دیا کہ مجھ کو اُٹھا کر سمندر میں پھینک دو تو سمندر ساکن ہو جائے گا۔ میں جانتا ہُوں کہ یہ بڑا طوفان میری غلطی کے باعث تمہارے اوپر آیا ہے‘‘ (یوناہ 1:12).

آخر کار ملاحوں نے یوناہ کو اُٹھایا اور اُسے سنمدر میں پھینک دیا، اور سمندر اپنی طغیانی سے باز آ گیا۔

’’لیکن خدا نے یُوناہ کو نگل جانے کے لیے ایک بڑی مچھلی تیار کر رکھی تھی اور یوناہ تین دِن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا۔ یوناہ نبی نے مچھلی کے پیٹ کے اندر خداوند اپنے خدا سے دعا کی‘‘ (یوناہ 1:17۔2:1).

مجھے شروع شروع میں اِس پر یقین کرنے میں مشکل پیش آئی تھی۔ لیکن بعد میں میں نے دیکھا کہ یہ واقعہ تو یسوع جو صلیب پر قربان ہوا تھا، دفنایا گیا تھا، اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا اُس کی ایک تشبیہہ تھا۔

بعد میں یوناہ اور اُس بہت بڑی مچھلی کے بارے میں جو ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحان Dr. M. R. DeHaan نے جو کہا وہ میں نے پڑھا۔ ڈاکٹر ڈیحان نے کہا کہ یوناہ اُس بہت بڑی مچھلی کے اندر مر چکا تھا۔ ڈاکٹر جے۔ ورنن میگی نے کہا،

یہ کتاب دراصل مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی پیشن گوئی ہے۔ خود خداوند یسوع نے کہا کہ بالکل جیسے یوناہ نینوا کے لوگوں کے لیے ایک علامت تھا، وہ بھی مُردوں میں سے جی اُٹھنے میں اپنی نسل کے لیے ایک علامت ہوگا… یوناہ کی چھوٹی سی کتاب خداوند یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی عکاسی کرتی ہے اور تعلیم دیتی ہے (بائبل میں سے Thru the Bible، مُردوں میں سے یوناہ کے جی اُٹھنے پر غور طلب بات، جلد سوئم، صفحہ 739)۔

یوناہ 1:17 پر نظر ڈالیں۔

’’لیکن خدا نے یُوناہ کو نگل جانے کے لیے ایک بڑی مچھلی تیار کر رکھی تھی اور یوناہ تین دِن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا‘‘ (یوناہ 1:17).

اب یوناہ کی کتاب میں سب سے زیادہ اہم الفاظ پر نظر ڈالیں، یوناہ کی آخری پانچ الفاظ 2:9،

’’نجات خُدا کی طرف سے آتی ہے‘‘ (یوناہ 2:9ب).

مجھے یہیں پر رُکنے دیں اور اُس بہت بڑی مچھلی میں یوناہ کی مصیبت کے بارے میں خود میرے اپنے خیالات کو پیش کر لینے دیں۔

جب میں اگلی ہی رات یوناہ کی کتاب پڑھی تو مجھے ایسی بات کا سامنا کرنا پڑا جس کے بارے میں مَیں نے پہلے کبھی بھی نہیں سوچا تھا۔ یہ بات سوچنا عام ہے کہ حیاتِ نو بیرونی حالات کے سبب سے ’’اُجاگر‘‘ ہوتا ہے۔ بے شمار جانے مانے مبلغین کہہ رہے ہیں کہ کورنا وائرس ایک حیاتِ نو کو ’’اُجاگر‘‘ کرے گا۔ میں اُس میں سراسر یقین نہیں رکھتا!!! یہ فنّیFinney کی طرف سے ایک خیال ہے اور یہ بالکل بھی سچا نہیں ہے۔

لیکن یہاں پر حیاتِ نو کی ایک سچی حقیقت ہے – یہ ’’اُجاگر ہو چکا‘‘ ہے (مجھے جس لفظ کو آج کل نئے ایونجیلیکلز استعمال کر رہے ہیں اُس سے نفرت ہے) – خود خُدا کے وسیلے سے حیاتِ نو ’’اُجاگر ہو چکا‘‘ ہے، ’’نجات خُدا کی طرف سے آتی ہے‘‘ (یوناہ2:9 ب)۔

لیکن یہاں وہ ہے جو میں نے اگلی رات واضح طور پر دیکھا تھا – تاریخ کے عظیم حیاتِ انواع کا مطالعہ کرتے ہوئے، ہم دریافت کرتے ہیں کہ تمام کے تمام بڑے بڑے حیاتِ نو رہنماؤں کے مصیبتوں میں سے گزرنے کے ساتھ شروع ہوئے۔ میں اُن میں سے چند ایک کے نام جو ذہن میں آتے ہیں لوں گا۔

جان ویزلیJohn Wesley – میں صرف چند ایک مصیبتوں کے بارے ہی میں بتاؤں گا جن کا تجربہ اُنہوں نے پہلی عظیم بیداریٖFirst Great Awakening سے پہلے کیا تھا۔ وہ جارجیہ میں ایک مشنری کی حیثیت سے ناکام رہے تھے۔ اُنہیں آسیبوں کے ساتھ تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔ اُنہیں بُت کی شبیہہ میں جلایا گیا تھا۔ وہ تقریباً مر چکے تھے۔ اُن کے دوست جارج وائٹ فیلڈ نے اُن سے دوستی توڑ دی تھی۔ اُنہیں اپنے ہی فرقے کی جانب سے بدنامی ملی۔ اُن پر اُن کے والد ہی کے گرجا گھر میں بہتان لگایا گیا اور پادری صاحب کی جانب سے عشائے ربانی دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اُنہوں نے ایک ایسی خاتون سے شادی کی جنہوں نے اُن کے بال کھینچے اور اُنہیں چھوڑ دیا۔ پھر ویزلی نے خود اپنی ہی پینتیکوست کا تجربہ کیا۔ صرف تب ہی اُس نے خود اپنی پینتیکوست کا تجربہ کیا تھا! ہزاروں لوگ اُنہیں سُننے کے لیے یخ بستہ موسم میں کھڑے تھے۔ اُن کے زندگی اور کام کے بارے میں بادشاہ کے ماہرِ قانون نے کہا، ’’کسی بھی فرد واحد نے اِس قدر بے شمار لوگوں کو متاثر نہیں کیا۔ کسی بھی ایک آواز نے اِس قدر بے شمار دِلوں کو نہیں چھوا۔ کسی اور شخص نے انگلستان کے لیے زندگی کا ایسا کام نہیں کیا۔‘‘ حال ہی میں ایک پبلیشنگ ہاؤس نے کہا، کہ جان ویزلی رسولانہ زمانے سے لیکر اب تک سب سے زیادہ طاقتور ترین مبلغین میں سے ایک‘‘ تھے۔

ماری مونسینMarie Monsen – اُنہوں نے چین میں حیات نو کے لیے روزہ رکھنا اور دعا مانگنا شروع کی تھی۔ شیطان نے اُنہیں دبوچ کر زمین پر کھینچ لیا تھا اور ایک بہت بڑے سانپ کی مانند اُن کے جسم کے گرد کنڈلی مار لی تھی۔ اُنہوں نے بغیر کسی سہارے یا مدد کے، تن تنہا، کام کو جاری رکھا، ایک اکیلی مشنری خاتون جنہوں نے اُس عظیم حیات نو کے لیے دعا کو جاری رکھا چین کے گھریلو گرجا گھروں میں آج کے دِن تک جاری ہے۔

جاناتھن گوفورتھ Jonathan Goforth – وہ اور اُن کی بیوی چین چلے گئے تھے جہاں پر اُنہوں نے شدید دُکھوں کا سامنا کیا۔ اُن کے چار بچے مرے۔ خود مسٹر گوفورتھ تقریباً دو مرتبہ مرنے کے قریب ہوئے۔ اُنہیں اپنے مُردہ بچوں کو ایک ریڑھی میں 12 گھنٹوں کے مسافت پر مسیحی تدفین دینے کی خاطر لے جانا پڑا تھا۔ میری خواہش ہے میرے پاس آپ کو بتانے کے لیے وقت ہوتا کیسے مسز گوفورتھ اور اُن کے بچوں نے دُکھ برداشت کیے۔ جب اُن کا بچہ کونسٹانس Constance مرا تو ’’ہمارے چھوٹے کانسٹانس کا جسم اُس کی بہن کی قبر کے پہلو میں اُس کی سالگرہ کے دِن 13 اکتوبر، 1902 میں رکھا تھا۔‘‘
     صرف تب ہی خدا کی حیات نو کی آگ گوفورتھ کے جلسوں میں نازل ہوئی تھی۔ دعا مانگنے کے لیے ایک موقع فراہم کیا گیا تھا۔ مسز گوفورتھ نے کہا، ’’یہ یکایک اور برق و باراں کے ایک طوفان کی شورش کے ساتھ آیا تھا… لہٰذا یہ دعا کے طوفان کے ساتھ یہیں پر ہوا تھا۔ اِس کی کوئی روک تھام نہیں تھی، اور ایسا کرنے کے لیے کوئی اِقدام بھی نہیں کیا گیا… جیسے مرد اور عورتیں خُدا کی قوت کے تحت آ گئے تھے… کچھ جو خُدا سے بہت دور بھٹک چکے تھے اب کُھلم کُھلا اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے واپس آ گئے تھے… کوئی اُلجھن نہیں تھی۔ ساری کی ساری جماعت دعا میں متحد تھی… ہم سب براہ راست جلسوں میں اپنے گھٹنوں پر جاتے، اور، اوہ، اِس کی وہ خوشی اور جلال!... ہم صرف اپنے سروں کو جھکاتے اور خُدا کی آواز کو ہم سے کہتے ہوئے سُنتے، ’خاموش رہو اور جان لو کہ میں خُدا ہوں۔‘ اب ہم جان چکے تھے کہ یہ ’نا ہی قوت کے بل پر، نا ہی طاقت کے زور سے، بلکہ میری روح کے وسیلے سے، لشکروں کے خداوند نے فرمایا۔‘
     بہت بڑے بڑے ہجوم، 700 افراد سے بھی بہت زیادہ، اگلی قطاروں میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے کے لیے بِھیڑ لگا رہے تھے… جلسوں کو اِختتام پزیر کرنا مشکل ہوتا تھا۔ ہر جلسہ تقریباً تین تین گھنٹوں تک جاری رہتا۔ بِلاشُبہ، ہر اِجلاس سارا سارا دِن رہتا… گوفورتھ کے ذریعے سے ایک مختصر پیغام دیا گیا تھا اِس شروعات سے ہر فرد کے تجربے سے کچھ بہتر کی طرف جایا جائے۔ یہ کٹر پریسبائیٹیرئینز تھے، عام طور پر چوکس، خُدا سے رحم کے لیے پکارتے ہوئے… جان کی شدید اذیت میں سسکیاں بھرتے ہوئے ایک کٹر پریسبائیٹیرئین مبلغ کو بعد میں اپنے کمرے میں تنہا پایا گیا۔ مسز گوفورتھ نے کہا، ’’ایسی دعائیں – براہ راست اور سادگی کے ساتھ، یقین دہانی ساتھ! ایسے ماحول میں رہنا ایک الہٰام تھا!‘‘
     گورے مشنریوں نے بھی اپنے چینی بھائیوں کے ساتھ اپنے قصوروں اور گناہوں اور ناکامیوں کا اعتراف کرنے میں حصہ ڈالا۔ یہ سب کو اِکٹھا کرنے والا وقت تھا – چینی کے ساتھ چینی، مشنری کے ساتھ چینی، اور سب کیونکہ وہ مسیح میں اکٹھے متحد تھے۔ اور مسیح ہم سب سے کہہ رہا تھا، ’کہ وہ سب ایک ہونگے… میں اُن میں اور وہ مجھ میں، کہ وہ سب ایک ہی میں کامل ہو جائیں۔‘‘‘

ہمارے سابقہ گرجا گھر میں کچھ اِجلاس ہوئے تھے جو چین میں گوفورتھ کے ساتھ اِجلاسوں کی مانند ظاہری طور پر دکھائی دیتے تھے۔ میں نے ’’ظاہری طور پر‘‘ مقصداً کہا۔ کیونکہ ہمارے گرجا گھر میں زیادہ تر رہنماؤں نے خُدا کے ساتھ جب اُنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا تو جھوٹ بولا تھا۔ پس، جیسا کہ ڈاکٹر ٹوزر Dr.Tozer نے کہا، اُنہوں نے دو گناہوں کا اِرتکاب کیا – جھوٹ بولنے کا گناہ، اور خدا کے نام میں جھوٹ بولنے کا گناہ! ڈاکٹر کیگن سے ڈاکٹر کرھیٹن نے جھوٹ بولا جب اُنہوں نے کہا ’’تکمیل‘‘ کے لیے ’’تبلیغ‘‘ کی ضرورت نہیں تھی۔ اِس طرح سے یہ اُداس چھوٹا سا بندہ زیادہ تر یہوداہ کی مانند بن گیا، جس نے مسیح کو دھوکہ دیا تھا، ناکہ پطرس کی مانند جس نے خلوصِ دِل سے توبہ کی تھی۔

جاناتھن گوفورتھ کے تحت وہ حقیقی حیات نو بالکل اُس حقیقی حیات نو جیسا ہی تھا جسے میں نے ذاتی طور پر پہلے چینی بپٹسٹ گرجا گھر میں ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin کے تحت 1960 کی دہائی کے آخر میں دیکھا تھا، جہاں پر ’’روح کے تحفوں‘‘ کو کوئی زور نہیں ڈالا گیا تھا – بلکہ صرف مخلص توبہ اور دعائیں۔ افسوس کے ساتھ، مجھے یوں دکھائی دیتا ہے، کہ ’’سزایابی اور توبہ‘‘ صرف جذباتی تھے – اور مخلص نہیں تھے۔ یہ بات مجھے اب بھی حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے کہ کرھیٹن اور گریفتھ جیسے لوگوں کو لگتا ہے کہ اُن کے خیال میں وہ خُدا کو بیوقوف بنا پائیں گے!!! کیسا اندھا پن!!!

جب میں اِس واعظ کو چند ایک راتیں پیشتر ہمارے غسل خانے میں لکھ رہا تھا، میں ہمارے نہانے کے ٹب کے کنارے پر بیٹھا ہوا تھا۔ ایک موقع پر میں نہانے کے ٹب میں کمر کے بل گِر پڑا تھا، ہمارے ٹب کے پیندے میں اپنے سر کی ٹکر کے ساتھ۔ میں وہاں پر ٹانگیں سیدھی اُوپر کی جانب کیے پڑا تھا۔ میں نے آزاد ہونے کے لیے اِدھر اُدھر ہلنے کی کوشش کی۔ لیکن میں آزاد ہو نہ پایا۔ جب میں وہاں پر گِرا پڑا تھا، ٹب میں پھنسا ہوا، میں نے سوچا میں نے اپنی گردن توڑ لی ہے۔ لیکن میں اپنے پیروں کے انگوٹھوں کو ہِلا سکتا تھا، لہذا میں جان گیا کہ میری ریڑھ کی ہڈی نہیں ٹوٹی۔

جب میں وہاں اُس ہولناک صورتحال میں پڑا تھا، تو شیطان نے مجھے بتایا کہ ہم کبھی بھی حقیقی حیات نو نہیں حاصل کر پائیں گے۔ یہ اُسی وقت تھا جب خُدا نے مجھ پر ظاہر کر دیا کہ تاریخ میں عظیم ترین حیات نو ویزلی، ماری مون سین، اور جاناتھن گوفورتھ جیسے لوگوں کے بعد آئے تھے اور دوسرے لوگ جیسے جان سُنگ، جو شدید امتحانات کے تجربوں میں سے گزرے، جیسے یوناہ بہت بڑی مچھلی کے پیٹ میں، اِس سے پہلے کہ خُداوند اُس پر ایک ایسے حیات نو کے لیے بھروسہ کرتا پاتا۔ کیا ہم اب ایک حقیقی حیات نو پا سکتے ہیں؟ شاید۔ لیکن ہمیں انتہائی مخلص اور انتہائی سچا ہونا چاہیے، ورنہ خداوند حقیقی حیاتِ نو کو نازل نہیں کرے گا جس کے لیے اِس تمام سالوں کے دوران ہم میں سے کچھ لوگ دعائیں مانگتے رہے ہیں!

یوناہ کی مانند، ایک کیمونسٹ قید خانے میں پاسٹر رچرڈ وورمبرانڈ 14 سال تک کے لیے ایک مچھلی ہی کے پیٹ میں رہے تھے۔ اُنہوں نے اُن 14 سالوں میں سے تین سال قیدِ تنہائی میں گزارے تھے، کسی کو بھی دیکھنا نصیب نہیں ہوتا تھا ماسوائے اُنہیں اذیت دینے والوں کے۔ خُدا نے کیوں وورمبرانڈ کو اُس سب میں سے گزرنے دیا؟ اگر آپ اُن کی کتاب کا مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ خداوند نے اُن کے قیدخانے کو اُنہیں محبت کرنے والا اور مخلص بننا سیکھایا۔ میں کبھی بھی اتنے مخلص شخص سے جتنے رچرڈ وورمبرانڈ نہیں ملا۔ قید سے رہائی کے بعد اُنہوں نے ساری دُنیا سے مخلصی سے بات کرنا قید تنہائی ہی میں سیکھا تھا۔ کرھیٹن اور گریفتھ جیسے چھوٹے لوگ کبھی بھی مخلص نہیں تھے۔ اُنہوں نے تو خُدا تک کے ساتھ جھوٹ بولا۔ اُنہوں نے تو یہاں تک کہ اُن گناہوں کا بھی ’’اعتراف‘‘ کیا جو اُن کے لیے کبھی بھی اہمیت کے حامل نہیں تھے۔

یہ دیکھنا نہایت آسان سی بات ہے کہ جان ویزلی، ماری مون سین اور جاناتھن گوفورتھ سنجیدہ لوگ تھے، ناکہ غیرسنجیدہ۔ یوناہ بھی اُن جیسا ہی تھا!

ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر نے کہا، ’’اگر ہم اِس کو کرنے کے لیے اتنے ہی احمق ہیں تو ہم خدا کے پاس حیاتِ نو بھیجنے کے لیے بے جا سال گزار سکتے ہیں، جبکہ ہم آنکھیں بند کر کے اُس کی ضروریات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اُس کے قوانین کو توڑنا جاری رکھتے ہیں۔ یا ہم ابھی ہی سے فرمانبرداری کرنا شروع کر دیں اور تابعداری کی برکات کو جان لیں۔ خُداوند کا کلام ہمارے سامنے ہے۔ ہمیں صرف اِس کو پڑھنا اور جو وہاں پر لکھا ہے وہ کرنا ہے اور حیاتِ نو… اتنے ہی قدرتی طور پر آ جائے گا جتنے قدرتی طور پر بیج بونے اور اُگنے کے بعد فصل کی کاشت ہوتی ہے‘‘ (’’حیات نو کے بارے میں کیا خیال ہے؟ – حصہ اوّل What About Revival? – Part I‘‘)۔ مخلصی ہے جس کی خدا تلاش کر رہا ہے!


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب

یوناہ – حیاتِ نو کا نبی!

JONAH – THE PROPHET OF REVIVAL!

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’خُداوند کا کلام امِتی کے بیٹے یُوناہ پر نازل ہُوا۔ کہ تُو بڑے شہر نینوہ کو جا اور اس کے خلاف منادی کر کیونکہ اس کی بدی میرے حضور تک آ پہنچی ہے‘‘ (یوناہ 1:1، 2).

(2سلاطین14:25؛ متی12:39۔41؛ لوقا11:29۔30)

I۔   پہلی بات، یوناہ کی بُلاہٹ، یوناہ1:1، 2، 3؛ فلپیوں4:13؛ متی10:34۔39 .

II۔  دوسری بات، یوناہ کی آفت، یوناہ 1:3۔4، 12؛ 1:17۔2:1؛ 1:17؛ 2:9ب.