Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


واعظ سے پہلے حمدوثنا کا گیت گایا: ’’کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں؟ Am I a Soldier of the Cross?‘‘ (شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts، 1674۔1748)۔

ڈاکٹر ٹموتھی لِن آخری ایام میں کلیسیا کے بارے میں!

DR. TIMOTHY LIN ON THE CHURCH IN THE LAST DAYS!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
ایمیریٹس پادری صاحب
by Dr. R. L. Hymers, Jr.,
Pastor Emeritus

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی دوپہر، 19 اپریل، 2020
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Afternoon, April 19, 2020

’’اے صبح کے ستارے، اے لوسیفر! تو کیسے آسمان سے گِر پڑا! تُو جو کسی زمانے میں قوموں کو زیر کیا گرتا تھا، خود بھی زمین پر پٹکا گیا! کیونکہ تو اپنے دِل میں کہتا تھا، میں آسمان پر چڑھ جاؤں گا اور اپنا تخت خُدا کے ستاروں سے بھی اونچا کروں گا: میں جماعت کے پہاڑ پر تخت نشین ہوؤں گا، اُس مقدس پہاڑ کی بالائی چوٹیوں پر: میں بادلوں کے سروں سے بھی اُوپر چڑھ جاؤں گا؛ میں خُدا تعالیٰ کی مانند بنوں گا‘‘ (اشعیا14:12۔14)۔

مستند عالمِ اِلہٰیات ڈبلیو۔ جی۔ ٹی۔ شیڈ W. G. T. Shedd نے مُسلمہ طور پر کہا کہ گناہ بنیادی طور پر خودغرض ہے۔ اُنہوں نے کہا، ’’آدم نے خُدا کے بجائے پہلے اپنی ذات کی طرف جھکاؤ کیا۔‘‘ پس، خودغرضی گناہ کا روح رواں ہے۔ خُدا سے نافرمانی کرنے سے آدم نے اپنی خودغرضانہ نافرمانی میں لوسیفر کی پیروی کی۔ ڈاکٹر ھنری سی۔ تھائسن Dr. Henry C. Thiessen نے کہا، ’’ہمارے ہاں خودغرضی میں گناہ کا روح رواں ہوتا ہے۔‘‘

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

اور یہ بات ہمیں 2 تیموتاؤس، تین باب تک لے جاتی ہے۔

’’یہ بھی جان لو، کہ آخری زمانے میں بُرے دِن آئیں گے۔ لوگ خودغرضی … کو زیادہ پسند کرنے والے ہوں گے‘‘ (2 تیموتاؤس3:1،2)۔

ڈاکٹر ٹِموٹھی لِن Dr. Timothy Lin نے کہا، ’’2 تیموتاؤس کا تیسرا باب ایک واضح تنبیہہ کے ساتھ شروع ہوتا ہے: ’اِس بات کا احساس کر لو‘، ہمیں نصیحت کرتے ہوئے کیونکہ ’خطرناک دور آئے گا۔‘ وہ لفظ ’خطرناک perilous‘ کا نئے عہد نامے میں صرف دو مرتبہ استعمال ہوا۔ یہاں اور متی8:28 میں، جہاں پر یہ گدرینیوں کے شہر میں آسیب زدہ شخص کا بیان کرتا ہے… کلام پاک وضاحت کرتا ہے کہ اُس شخص میں بدروحوں کی ایک فوج بسی ہوئی تھی… آج کے دور کی کلیسیا میں چھپنے کے لحاظ سے، شیطان ہر قسم کے دھوکے کو استعمال کرتا ہے… اُن لوگوں کو جکڑنے کے لیے جو ایمان میں کمزور ہیں۔ وہ گرجا گھر جانے والوں کو قتل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، جیسا کہ اُس کا لاتعداد معاملات میں مظاہرہ ہو چکا ہے…‘‘

[آخری دِنوں کی] کلیسیا میں آسیبوں کی موجودگی کا مذید اور انکشاف 2 تیموتاؤس 3:3 میں پاک روح کے ذریعے سے اُس لفظ ڈایابولوdiabolo کے استعمال سے ہوتا ہے۔ حالانکہ ترجمہ ’جھوٹے الزام لگانے والے‘ کیا گیا ہے، ڈایابولو کا اصل میں مطلب ’ابلیس‘ کے بارے ہی میں ہے۔ اس سے سختی سے پتہ چلتا ہے کہ شیطانی طاقتیں ان تمام لاقانونیت ، ناانصافیوں ، جھوٹوں اور برے کاموں کو ابھارنے والوں پر قابو پالیں گی جو آخری دنوں میں [گرجا گھروں] کو متاثر کریں گی۔ اپنے درمیان شیطان کی موجودگی کو تسلیم نہ کرنا ، زیادہ تر لوگ آنکھیں بند کرکے اس کی تجاویز پر عمل کرتے ہیں اور خود انحرافی اور انحطاط کے ساتھ اپنے آپ کو ضائع کرتے ہیں… جو اُن کے احساس محرکہ کا مؤجب بنا…‘‘ (ڈاکٹر ٹموتھی لِن کے اِن حوالوں کو اُن کی کتاب خُدا کی بادشاہت The Kingdom of God سے لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر لِن کی کتاب کی توثیق میں ڈاکٹر یوجین Dr. Eugene، میرل Merrill، جو کہ ڈلاس تھیالوجیکل سیمنری میں پرانے عہد نامے کے نامی گرامی پروفیسرز ہیں نے کہا، ’’بادشاہت کی زندگی بسر کرنے کے لیے یہ کتاب عمل کرنے کی ایک تحریری دستاویز سے کم نہیں ہے‘‘)۔

دونوں ڈاکٹر جے ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee اور ڈاکٹر میرل ایف۔ اُونگر Dr. Merrill F. Unger ڈاکٹر لِن کے ساتھ متفق ہیں کہ 2 تیموتاؤس کا تیسرا باب مسیح کی آمد ثانی سے قبل، آخری زمانے میں کلیسیاؤں کی ایک عکاسی ہے۔

ڈاکٹر لِن نے پھر کہا، ’’کلام پاک ہمیں دکھاتا ہے کہ ابلیس پتلیوں [کا نچانے والا] آقا ہے جو اکثر دوسروں کو اپنے غدارانہ اور زہریلے منصوبوں کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جب ہابل کا قتل ہوا تھا تو شروع میں ہم نے سوچا تھا یہ قائین کا کام ہے۔ لیکن کلام پاک بعد میں ہمیں بتاتا ہے کہ دُنیا کا سب سے پہلا قتل دراصل شیطان کے ذریعے سے اُکسایا گیا تھا (1 یوحنا3:12)۔ ملکہ آتھالیہ داؤد کے گھرانے کو فنا کر دینا چاہتی تھی، لیکن در حقیقت، شیطان نے آتھالیہ کو زیادہ تر اُسی نسل کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جس سے مسیحا نے آنا تھا، جو نجات دہندہ کی پیدائش کو روکنے کی کوشش تھی۔ یہ اُس وقت بھی رونما ہوا تھا جب شیطان نے ہیرودیس بادشاہ کو بچہ یسوع کو قتل کرنے کے لیے متحرک کیا تھا… شیطان ایک شاندار تدبیر کار ہے۔ وہ نیک ساکھ، نیک اعمال اور متغیر حالات کے پیچھے تباہی پھیلانے کے لیے چھپ جاتا ہے، اور وہ خصوصی طور پر گرجا گھر میں چھپنا پسند کرتا ہے جہاں پر وہ پاک کلام کو اور روحانی اصطلاحات کو خود کے بچوں کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ شیطان کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ وہ خُدا کی مخالفت کریں، خود کو اور دوسروں کو دھوکہ دیں اور پس اُس کے جال میں اِس قدر گہرے کھینچ جائیں کہ وہ بے بسی کے ساتھ پھندے میں اُلجھ جائیں۔‘‘ (اِس موقع پر، ڈاکٹر لِن نے تائیوان میں ایک گرجا گھر میں دو عورتوں میں سے بدروحوں کے نکالے جانے کا ایک تصویری واقعہ پیش کیا)۔

ڈاکٹر لِن نے کہا، ’’یہ خُدا کی خواہش ہے کہ کلیسیا کو جلالی ہونا چاہیے، ’جس میں کوئی داغ یا جُھری یا کوئی اور نقص نہ ہو بلکہ وہ پاک اور بے عیب ہو‘ (افسیوں5:27)۔ اِس کے باوجود اِس آخری زمانے میں کلیسیا اپنے پاک خدا کی بے عزتی کے لیے بے انتہا تیزی کے ساتھ ناپاک ہو رہی ہے اور دُنیا کے طور طریقوں پر چلنے کی جانب راغب ہو رہی ہے اور اِس کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ حد سے زیادہ غیریقینی، لالچی اور ہوس پرست، نامزد کلیسیا خُدا کے خلاف خیالات کو پروان چڑھاتی ہے۔ وہ اپنے ضمیر اور استدلال کو روک کر اپنی روحانی تفہیم کو روکتی ہے… یہ آخری زمانے میں کلیسیا کی خصوصیت بنتی جائے گی۔ تعجب کی کوئی بات نہیں کہ پُرفضل خُداوند نے اُس سے کہا ہے، ’میں تجھے اپنے مُنہ سے اُگل دوں گا‘ (مکاشفہ3:16)۔

کیوں کلیسیا اِس طرح کی بدکار راہوں پر چل نکلی ہے؟ آخری دِنوں میں کلیسیا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے حساب سے دوبارہ 2 تیموتاؤس 3:1۔7 کو دیکھیں۔ آخری زمانے کی کلیسیا کی بے راہ روی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ ’خدا سے محبت کرنے والوں کے بجائے‘ خود سے محبت کرنی والی… بن گئی ہے۔

2 تیموتاؤس 3:1۔7 میں گناہوں کی فہرست ’خود سے محبت کرنے والوں‘ کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ پاک کلام کے محتاط مطالعے سے… آشکارہ ہوتا ہے کہ اِبتدا سے ہی انسان کے سارے کے سارے گناہ خود اُس کے اپنے ہی نفس سے پیدا ہوئے تھے…یہودی لوگوں یا کسی بھی فرد کے ذریعہ سے کیے گئے سارے گناہوں کا خلاصہ ایک ہی جملے میں کیا جا سکتا ہے ’ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی راہ لی ہے‘ (اشعیا53:6)۔ اِس طرح سے تمام گناہ کی وجہ کا خلاصہ دو چھوٹے چھوٹے لفظوں میں کیا جا سکتا ہے: ’اپنی ذات۔‘

اوہ، نفس، آپ کس قدر خوفزدہ ہیں! آپ کتنے گناہوں کو تخلیق کر چکے ہیں۔ آپ کس قدر زیادہ پریشانیاں کھڑی کر چکے ہیں۔ آپ بھائیوں کو ایک دوسرے کے خلاف اُکساتے ہیں، آپ شوہروں اور بیویوں کو الگ کرنے کا سبب بنتے ہیں، آپ دوست بناتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف ہو جاتے ہیں اور گرجا گھر کی تقسیم کا سبب بنتے ہیں۔

وہ ’خود نفسی‘ ہر روز زیادہ سے زیادہ اشتعال انگیز سرگرمیوں میں ملوث ہو رہی ہے۔ زمین اِن خود ساختہ مذہبی خادمین سے بھری ہوئی ہے جنہیں خُدا نے نہیں بھیجا ہے… خود راستباز بزرگوں کے ذریعے سے… کیا خُداوند کلیسیا میں اپنے تخت کو قائم کرے گا؟ وہ نہیں کرے گا! شیطان خلا کو پُر کرنے کے لیے داخل ہو جاتا ہے اور دشمن ’خود اپنی ذات‘ کی مدد سے [گرجا گھر] میں خاموشی سے داخل ہو جاتا ہے۔

’خود سے محبت کرنے والے‘ ہونے کا ظاہری مظہر۔ دوسرا تیموتاؤس3:1۔7 بہت سارے گناہوں کا انکشاف کرتا ہے جو ایک منبع سے نکلتے ہیں: ’خود سے محبت کرنے والے۔‘ اِس طرح سے، حوالے کا مرکزی نکتہ ہے کہ خود سے محبت ہر قسم کی برائی کی جانب لے جاتی ہے – آئیے ہم انفرادی طور پر اِن کو دیکھتے ہیں۔

1. زر دوست – پیسوں سے محبت کرنے والے۔ لوگ خُدا کی تنبیہ کو بھول جاتے ہیں – ’کیونکہ زر دوستی ہر قسم کی بُرائی کی جڑ ہے، اور بعض لوگوں نے دولت کے لالچ میں آ کر اپنا ایمان کھو دیا اور طرح طرح کے غموں سے اپنے آپ کو چھلنی کر دیا‘ (1تیموتاؤس6:10)۔ انفرادی مسیحی جو اپنے معاملات میں بے ایمانی کرتے ہیں اور اپنی روز مرّہ کی گواہی اور مذہبی خدمت میں خُدا کی قدرت کا تجربہ کیسے کر سکتے ہیں؟ بائبل کہتی ہے، ’خواہ تمہاری دولت بڑھ بھی جائے اِس پر اپنا دِل مت لگاؤ‘ (زبور62:10)۔

2. شیخی باز – مغرور افراد جنہیں خود انمولیت کا احساس ہوتا ہے۔ گھمنڈ والا شخص نہیں پہچانتا کہ اِس کے پاس جو کچھ بھی ہے یا جو کچھ وہ حاصل کر چکا ہے وہ اِس پر خدا کے فضل کا نتیجہ ہے۔ پاک کلام کہتا ہے، ’تیرے پاس کیا ہے جو تو نے [خُدا سے] نہیں پایا؟‘ (1کرنتھیوں4:7)۔ ’وہ نومُرید نہ ہو کر مغرور ہو جائے اور ابلیس کی سی سزا پائے‘ (1 تیموتاؤس3:6)۔

3. مغرور – متکبر۔ وہ شاید اندر سے محسوس کرتے ہوں کہ وہ اتنے اچھے نہیں ہیں جتنے کہ دوسرے ہیں۔ وہ اکثر احساس کمتری کو چُھپانے کے لیے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ خود کو دھوکہ دینا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، وہ بُرائی والا۔

4. بدگو – بے ادب۔ جو دوسروں کے بارے میں بُرائی کریں۔ مجھے کئی لوگ یاد ہیں جو میرے بارے میں بُرا بولتے ہیں کیوںکہ میں اُن لوگوں میں سے آیا ہوں جنہیں وہ ’بُرا گھرانہ‘ کہتے ہیں۔ لیکن اُنہوں نے دوسروں کی مدد کے بغیر مجھے خود کو اچھا کر لینے کا کوئی سہرا نہیں باندھا۔ یہی ’بے ادب‘ ہونے کا مطلب ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کے بارے میں بُرا بولتے ہیں۔

5. ماں باپ کے نافرمان – افسیوں6:3 کے مطابق دیندار باپ کے خلاف بغاوت سے زندگی مختصر ہو جائے گی۔ میرے پاس صدر ریگن کے بیٹے رون کی توہین کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اُس کے باپ نے اُسے سب کچھ دیا، لیکن وہ آج بھی اپنے باپ کے خلاف سرکشی کرتا ہے، اور کھلم کُھلا ایک مُلحد بن کر اپنے باپ کے خدا پر اعتقاد کا مذاق اُڑاتا ہے۔ حقیر! وہ ایک خشک زدہ پران تعصبی بن گیا ہے! ایک جھوٹے موٹے اور چالباز چہرے کے ساتھ! ہمارے گرجا گھر میں ہونے والا ہر وہ بچہ جو چھوڑ کر چلا جاتا ہے اپنے باپ اور ماں دونوں کی بدنامی کرتا ہے۔

6. ناشُکرے – احسان فراموش۔ قدیم چینی قول اِس کے برعکس ہے، ’ادائیگی کی توقع کیے بغیر ہمدردی یا مہربانی کا مظاہرہ کریں؛ لیکن جب آپ پر ہمدردی کی جاتی ہے تو کبھی بھی اِسے فراموش نہ کریں۔ میں نے اپنے ہی پیسوں سے ایک نوجوان کے لیے درزی کے سِلے ہوئے دو مہنگے ترین سوٹ خریدے اور اِس کے لیے افریقہ اور ہندوستان جانے کے لیے رقم اِکٹھی کی۔ لیکن وہ میرا شکریہ ادا کیے بغیر ہی چلا گیا۔ وہ ایک بُرا کردار ہے جسے خُدا برکت نہیں دے سکتا! میرے پادری صاحب نے میرے لیے اِس قسم کا کوئی بھی کام کبھی بھی نہیں کیا۔ اِس کے باوجود میں اُن کی تعظیم کرتا ہوں اور آج کے دِن تک اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میری والدہ نے مجھے شکر ادا کرنا سیکھایا۔ اُس کی ماں نے اُسے وہ نہیں سیکھایا تھا۔ میں نے اُسے اُس کی سالگرہ پر ایک مہنگا تحفہ بھیجا۔ اُس نے تو یہاں تک کہ میری سالگرہ پر مجھے سالگرہ مبارک کا کارڈ تک نہیں بھیجا! ناشکرا۔

7. ناپاک – اِس کا مطلب غلیظ اور بے دین ہوتا ہے۔ ایک ناپاک شخص صرف اپنے دِل کی خواہشوں کو پورا کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ مُنادوں کے ایک مخصوص چیئرمین نے اپنی اور ایک عورت کی فحش تصاویر لے کر اپنی ویب سائٹ پر ڈال دیں۔ اُوہ، ایک ناپاک شخص کا پاگل پن! ایک ناپاک شخص خُدا کے حکم کا تمسخر اُڑاتا ہے، ’پاک ہو جا، کیوںکہ میں پاک ہوں۔‘

8. قدرتی محبت سے خالی – محبت نہ کرنے والا۔ ایسے لوگ خُدا کے حکم ’ایک دوسرے سے پیار کرو‘ کی پیروی کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں، گرجا گھر بھی اکثر رسم و رواج کی ہیکل بن جاتا ہے، بجائے اِس کے کہ دِل سے محسوس ہونے والی محبت والا بن جائے۔ میں اور میری اہلیہ کسی اور ریاست میں ایک ’رفاقتی‘ اجلاس میں وقت اور پیسا خرچ کر کے گئے۔ کسی نے ہم سے بات نہ کی اور نہ ہی ہمارے ساتھ سلام دعا کی۔ میں نے اپنی اہلیہ سے کہا، ’چلو چلیں۔‘ ہم چلے آئے، اور پھر کبھی بھی کسی اور ’رفاقتی‘ اجلاس میں نہیں گئے – اور نہ ہی کبھی جائیں گے۔ وہ بس ہم سے پیسے مانگتے رہنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرتے۔ میں اُن کی درخواستوں کو کوڑے کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہوں!

9. عہدشکن یا جھگڑالو – صُلح نہ کرنے والے۔ جو صلح کرنے پر تیار ہی نہیں ہوتے۔ آپ اُس سے آپ کو معاف کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں، لیکن آپ ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتے جو اِس قسم کے لوگوں کو خوش کر سکے۔ یسوع نے کہا، ’اگر تم لوگوں کے قصور معاف نہیں کرو گے تو تمہارا باپ بھی تمہارے قصور معاف نہیں کرے گا‘ (متی6:15)۔

10. بدنام کرنے والے یا جھوٹا الزام لگانے والے – شیطان (واقعی میں بُرائی کرنے والا)۔ شیطان لوگوں میں بدنیتی پر مبنی گپ شپ کے ذریعہ سے آپس میں بگاڑ ڈالنے سے محبت کرتا ہے۔ مجھے ایک خاتون یاد آتی ہیں جن کا کہنا تھا کہ اُن کا پادری ’شاہانہ‘ طرز زندگی رکھتا تھا۔ وہ مکمل طور پر جھوٹ تھا۔ جب میں ایک نوعمر تھا تو اُس کا مجھے یہ کہنے کے بعد میرے دِل میں اُس کے لیے کبھی بھی احترام نہیں آیا۔

11. بے ضبط – اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی کے پاس اپنے ذلیل جذبات کو قابو کرنے کی طاقت نہ ہونا؛ خود نفسی کے بغیر۔ ایک معروف پادری صاحب جن کے بارے میں مَیں جانتا تھا وہ ایک خفیہ شرابی تھے۔ ایک رات یہ ’پادری‘ اِس قدر نشے میں تھے کہ اِنہوں نے اپنی گاڑی ایک سوئمنگ پول میں گُھسا دی۔ ہمارے گرجا گھر میں ایک مناد میں خود پر قابو پانے کی صلاحیت کم تھی اور ہمارے ہی گرجا گھر میں [اُس نے] بے شمار لوگوں کے سامنے میرے ساتھ مُکابازی کرنے کی کوشش کی تھی۔ افسوس کے ساتھ [یہ کہنا پڑتا ہے کہ] آخری زمانے میں گرجا گھر کے اراکین میں ’خودنفسی نا ہونا‘ ایک عام خصوصیت ہے۔

12. تُند مزاج – لغوعی طور پر ’سفاکانہ۔‘ یہ حد سے زیادہ جارحانہ رویے کی وضاحت کرتا ہے۔ یسوع کے دِل کو اِس طرح کے ہونے سے کس قدر غم ہونا چاہیے۔

13. نیکی کے دشمن – بہتر طور پر ترجمہ کیا جائے تو ’نیکی کے دشمن۔‘ آخری زمانے میں گرجا گھروں میں ’نیکی کے دشمن‘ بڑھ جائیں گے کیونکہ اراکین کی ایک بہت بڑی تعداد خود سے محبت کرنے والوں کی ہوگی۔ دو انتہائی بے دین لوگ جن کو میں جانتا ہوں وہ ڈاکٹر کیگنDr. Cagan کی واقعی میں تحقیر کرتے ہیں۔ کیوں؟ صرف اِس لیے کہ وہ خدا کے اِس قدر نیک اور وفادار شخص ہیں!

14. دغا باز – دھوکے باز۔ یہوداہ کے بارے میں کہا گیا، وہ شخص جس نے یسوع کے ساتھ دغا بازی کی۔ بالاآخر دغا باز اُس مقام تک پہنچ جائیں گے جہاں پر وہ توبہ بھی نہیں کر پائیں گے۔

15. بے حیا – بے پرواہ کا مطلب بے حیا ہوتا ہے۔

16. گھمنڈی – مطلب جو تکبر سے اندھے ہو چکے ہوتے ہیں۔

17. خُدا کی نسبت عیش و عشرت کو زیادہ پسند کرنے والے – آخری زمانے کے گرجا گھروں میں ایسے لوگ ہوں گے جو مزے لینے کو اپنا خدا بنا لیں گے۔ ہمیں اپنی زندگی میں اچھی باتوں کے مالک بننا چاہیے نہ کہ اُن کا غلام بنیں۔ بائبل کہتی ہے،

’’اے بھائیو، تم سے التماس کرتا ہوں کہ جو لوگ اُس تعلیم کی راہ میں جو تم نے پائی ہے روڑے اٹکاتے اور لوگوں میں پھوٹ ڈالتے ہیں، اُن سے ہوشیار رہو اور اُن سے دور ہی رہو۔ کیونکہ ایسے لوگ ہمارے خداوند مسیح کی نہیں بلکہ اپنے پیٹ کی خدمت کرتے ہیں اور چِکنی چُپڑی باتوں اور خوشامد سے سادہ دِلوں کو بہکاتے ہیں‘‘ (رومیوں16:17، 18)۔

18. جو دینداری کی سی وضع تو رکھیں مگر زندگی میں دینداری کا کوئی اثر قبول نہ کریں۔

     آخری زمانے میں بے شمار گرجا گھروں میں، ’خود نفس‘ خود حمکرانی کرتا ہے اور شیطان ہم آہنگی کرتا ہے۔ چونکہ اُن کے پاس کوئی حقیقی دینداری نہیں ہے، اِس لیے وہ ایک ظاہری ہیت اختیار کر کے سمجھوتہ کرتے ہیں، لیکن دینداری کی قوت غائب ہوتی ہے۔ اِیک شخص واعظ سے سے بولتا ہے، لیکن خدا کی جانب سے کوئی پیغام نہیں سُنا جاتا۔ اگر اُن کا دعائیہ اِجلاس ہوتا ہے، تو خُدا کی قوت کا کبھی بھی اِظہار نہیں ہو پاتا۔ اگر انجیل کی بات کی جاتی ہے تو بے اعتقادوں کے دِل کبھی بھی نہیں چھیدے جاتے۔ میں ہر ہفتے کرھیٹن Kreighton اور والڈرِیپ Waldrip کے ’واعظوں‘ کو پڑھتا ہوں۔ اُن کی باتوں میں چاہے وہ کچھ بھی بولیں قوت نہیں ہوتی ہے۔ وہ کچھ باتیں کہتے ہیں جو سچی ہوتی ہیں، لیکن وہ کھوکھلے الفاظ ہوتے ہیں۔ کسی کے بھی مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کی توقع نہیں کی جاتی ہے۔ کسی سے توقع نہیں کی جاتی کہ وہ اُن کی باتیں سُن کر کسی بات [عادت] کو اچھائی کی خاطر بدل لے گا۔ وہ جو کہتے ہیں وہ بات تو [مذہبی طور پر اپاہج] کاتھولک یا ایپسکو پیلئین کاہن کے ذریعے سے بھی سُنی جا سکتی ہے۔ ’وہ ایسے اُستاد بنا لیں گے تاکہ وہ وہی کچھ بتائیں جو اُن کے کانوں کا بھلا معلوم ہو‘ (2 تیموتاؤس4:3)۔ اِس طرح، ’وہ سیکھنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر کبھی اِس قابل نہیں ہو پاتے کہ حقیقت کو پہچان سکیں‘ (2 تیموتاؤس3:7)۔

19. یہ لوگ ’نکمی اور چھچھوری عورتوں‘ کو اپنے بس میں کر لیتے ہیں۔ ڈاکٹر لِن Dr. Lin نے کہا، ’کمزور عورتیں وہ ہیں جو مختلف جذبات سے دوچار ہیں، جن میں اخلاقی پردے اور نیک سمجھ کا فقدان ہوتا ہے۔ جب شیطان ہم پر اخلاقی نسبت پسندی کی ایک کے بعد دوسری لہر کا حملہ کر رہا ہوتا ہے، تو ہمیں اِس کے حربوں سے لاتعلق نہیں رہنا چاہیے۔‘ اگر آپ والڈِریپ یا چیعین کے جیسے مُردہ گرجا گھروں میں جاتے ہیں اور آپ کو دُکھ محسوس نہیں ہوتا، تو اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ میں روحانی سمجھ نہیں ہے!

آج گرجا گھر کے بے شمار اراکین خُدا کی آواز کو سُن نہیں سکتے کیونکہ وہ خود سے محبت کو باقی سب سے زیادہ سمجھتے ہیں، اور اُن کی زندگیاں جسمانی گناہوں سے بھری ہوتی ہیں۔ اگر آپ کا دِل غلاظت اور ناراستبازی سے لبریز ہے، تو ہمیشہ سیکھنا غم کی وجہ بنتا ہے اور وقت اور کوشش کا ضیاع ہے، کیونکہ حقیقت کے مکمل علم تک پہنچنے میں کوئی پیشرفت نہیں کی جاتی ہے۔ یہ تو پاک صاف دِل کا ہونا ہوتا ہے جو سمجھ کے ساتھ خُدا کو سُننے کے قابل بناتا ہے۔

کچھ لوگ تو ہر اُس اِجلاس میں شامل ہوتے ہیں جو ہوتا ہے، لیکن اُن کے دِل سخت ہو چکے ہیں، اور اِس لیے وہ جتنا زیادہ سیکھتے ہیں اُتنا ہی کم سیکھتے ہیں۔

بے شمار سوچتے ہیں کہ اُنہیں سب کچھ معلوم ہو چکا ہے جب کہ وہ درحقیقت بے شمار بنیادی سچائیوں سے لاعلم ہوتے ہیں۔ وہ آتے ہیں، دیکھتے ہیں اور سُنتے ہیں، لیکن وہ اِدارک [سمجھنے] سے قاصر رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ آخری زمانے کی کلیسیا میں ہونے والے گناہوں میں ملوث ہیں۔‘‘ (ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin، خُدا کی بادشاہیThe Kingdom of God

میں ایسٹر کے اِتوار کی صبح بہت ہی سویرے جاگ گیا تھا۔ میں نے ٹیلی ویژن لگایا اور پوپ کا ایسٹر کا پیغام سارے کا سارا سُنا۔ اُنہوں نے کورونا وائرس کے بارے میں چند الفاظ کہے۔ اُنہوں نے کہا پریشان نہیں ہونا۔ بس یہ ہی کہا! یہ والدرِیپ اور چیعین کے نام نہاد واعظوں سے بہتر نہیں تھا۔

ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر Dr. A. W. Tozer نے کہا، ’’شیطان اُس مبلغ کے لیے کسی قسم کی پریشانی کھڑی نہیں کرے گا جو تیس منٹوں تک بولے گا اور جو کچھ وہ کہے گا اُس کا خلاصہ ہو ’نیک بنو اور تم بہتر محسوس کرو گے۔‘

آپ اتنے ہی نیک ہو سکتے ہیں جتنا آپ چاہتے ہیں اور پھر بھی جہنم میں جائیں گے اگر آپ نے یسوع مسیح میں اپنا بھروسہ نہیں کیا! شیطان اُس مبلغ کے لیے کسی قسم کی پریشانی کھڑی نہیں کرے گا جس کا واحد پیغام ہے ’نیک بنو!‘‘‘

دوبارہ ڈاکٹر ٹوزر نے کہا، ’’فضل انسان کو نجات دلائے گا، لیکن وہ انسان اور اُس کے بُت کو نجات نہیں دلائے گا۔ مسیح کا خون تنہا پشیمان گنہگار کی ڈھال بنے گا، لیکن کبھی بھی گنہگار اور اُس کے بُت کی نہیں۔ ایمان گنہگار کا انصاف کرے گا، لیکن وہ کبھی بھی گنہگار اور اُس کے گناہ کا انصاف نہیں کرے گا‘‘ (’’انسان: خُدا کی بسیرے کی جگہ Man: The Dwelling Place of God،‘‘ صفحہ 90)۔

اور ایک آخری مرتبہ۔ ڈاکٹر ٹوزر نے کہا، ’’ایک اوسط گرجا گھر میں ہم سُنتے ہیں… وہی جانا مانا جملہ، مذہبی طرز، الفاظ میں اُن کا سطحی اور عارضی تاثر، لیکن عبادت گزار خُدا سے قریب تر نہیں ہے، اخلاقی طور پر بہتر نہیں ہے، اور جنت کے بارے میں اتنا پُریقین نہیں ہے جتنا وہ پہلے تھا‘‘ (’’آدھی رات کے بعد پیدا ہوا Born After Midnight،‘‘ صفحہ 89)۔

’’کہو، بیچارے دُنیا کے باسی، یہ ہو سکتا ہے
   کہ میرا دِل تجھ سے حسد کرے؟ ‘‘
   (جرہارڈ ٹرسٹیجن Gerhard Tersteegen، 1697۔1769)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔