Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


موروثی گناہ اور مکمل اِخلاقی زوال # 1

ORIGINAL SIN AND TOTAL DEPRAVITY # 1
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
ایمیریٹس پادری صاحب
by Dr. R. L. Hymers, Jr.,
Pastor Emeritus

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی دوپہر، 22 مارچ، 2020
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Afternoon, March 22, 2020

’’جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے۔ وہ نہ تو خُدا کی شریعت کے تابع ہے نہ ہو سکتی ہے‘‘ (رومیوں8:7)۔

یہ پاک کلام کی ایک انتہائی شدید اہم آیت ہے۔ ایک غیرنجات یافتہ شخص خُدا کو ایک دشمن کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ یہ بات سچ ہے چاہے وہ شخص انجیل کی منادی کو کئی سالوں تک سُنتا رہا ہو۔ مگر یہ شروع شروع میں واضح نہیں ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، چھوٹے بچے فرشتوں کی سی مانند دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن جب وہ بلوغت کی عمر تک پہنچتے ہیں تو وہ بغاوت کرتے ہیں اور اُن کی حقیقی فطرت ظاہر ہو جاتی ہے۔ پھر وہ خُدا کو اپنے دشمن کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے پادری صاحب کو بھی ایک دشمن کی حیثیت سے دیکھیں گے، اور اپنے دُنیاوی والدین کو دشمنوں کی حیثیت سے دیکھیں گے۔

گرجا گھر کی تقسیمیں ہمیشہ مکمل اِخلاقی زوال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ میں ذاتی طور پر گرجا گھر کی پانچ تقسیموں کو دیکھ چکا ہوں۔ وہ پانچوں کی پانچوں مکمل اِخلاقی زوال کے نتیجے میں رونما ہوئی تھیں۔ یہاں ایک کا ذکر کر رہا ہوں جس کے بارے میں شاید آپ نے نہ سُنا ہو۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

1925 میں اینڈریو گیہ Andrew Gih نے وہی تشکیل دیا جسے انہوں نے چین میں ’’بیتھل ورلڈ وائیڈ ایوینجلسٹک بینڈ‘‘ کہا تھا۔ کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر جان سُنگ Dr. John Sung کو اینڈریو گیہ نے اُن لوگوں کے ساتھ شامل ہونے کے لیے مدعو کیا۔ جلد ہی ڈاکٹر سُنگ ہزاروں مسیح میں ایمان لا کر تبیدل ہوئے لوگوں کے ساتھ اور قوت سے بھرپور کثیر تعداد میں حیاتِ نو کی ٹیم میں اہم مبشر بن چکے تھے۔ لیسلی لیعال نے جان سنگ کو ’’چین کا اب تک کا سب سے بڑا مبشر‘‘ مانی جانے والی ہستی کی حیثیت سے پیش کیا۔ اینڈریو گیہ بیتھل بینڈ کے رہنما تھے۔ وہ ایک استاد تھے جو ہمیشہ سہ پہر کے وقت پڑھایا کرتے تھے، جان سُنگ شام کے اوقات میں سننے کے لئے آئے ہوئے بڑے ہجوم کو انجیلی بشارت کے خطبوں کی تبلیغ کرتے تھے۔ کیا آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ کیا ہوا؟ 1934 میں اینڈریو گیہ نے "جان سُنگ کی شراکت سے بیت المقدس کے رہنماؤں کے بڑھتے ہوئے عدم اطمینان کی بات کرنا شروع کردی۔ گیہ نے شکایت کی کہ ڈاکٹر سُنگ گناہ کے خاتمے کے بارے میں تعلیم نہیں دیتے تھے، اور یہ کہ سنگ نے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے والے لوگوں کو اپنی طرف راغب کیا ، لہذا اُن کا کام زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہے گا۔‘‘ اُس رات ڈاکٹر سُنگ نے 1,000 طالب علموں سے بات کی تھی۔ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے سینکڑوں نوجوان لوگوں میں بہت زیادہ خوشی منائی گئی تھی۔

کچھ دن بعد اینڈریو گیہ کو ایک ٹیلیگرام دیا گیا۔ ٹیلیگرام میں اینڈریو گیہ سے کہا گیا کہ وہ ڈاکٹر سُنگ کو چھوڑیں اور دو نئے انجیلی بشارت کے بینڈز کا انتظام کریں۔ اینڈریو گیہ نے ڈاکٹر سُنگ کے ساتھ شراکت میں کام کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن انہوں نے ڈاکٹر سُنگ سے رفاقت توڑ دی اور وہاں سے چلے گئے۔ جان سنگ بہت افسوس کے ساتھ اینڈریو گیہ کو اسٹیشن چھوڑنے گئے۔ لیسلی لیعال نے کہا ، ’’جان سُنگ اور اینڈریو گیہ شاذ و نادر ہی دوبارہ ملے تھے" (لیسلی ٹی۔ لیعالLeslie T. Lyall، جان سُنگ کی ایک سوانح عمریA Biography of John Sung، صفحہ 147)۔ اگرچہ مسٹر لیعال نے ایسا نہیں کہا ، لیکن یہ ظاہر ہے کہ اینڈریو گیہ ڈاکٹر سُنگ کے انجیل بشارت کے تحائف سے رشک کرتے تھے۔

گلِتیوں 5: 19-21 میں ایک فہرست ملتی ہے جس میں مکمل اِخلاقی زوال کا بیان ہوتا ہے۔ میں اس فہرست کا ایک حصہ ESV ترجمہ سے صفائی یا وضاحت کے لیے جدید انگریزی میں واضح کروں گا۔

’’دشمنی، جھگڑا، حَسد، غُصہ، خودغرضی، تکرار، فرقہ پرستی، بُغض‘‘ (گلِتیوں5:19۔21)۔

1960 میں ذاتی طور پر میں نے ڈاکٹر اینڈریو گیہ سے ملاقات کی۔ وہ اب ایک بوڑھے شخص تھے۔ وہ پہلے بپتسمہ دینے والے پہلے چینی گرجا گھر میں پادری کی حیثیت سے نوکری کی تلاش میں آئے تھے۔ اُن کی منادی خشک اور بےجان تھی۔ مکمل اِخلاقی زوال نے اُن کی [اُن] برکات کو لوٹ لیا تھا جنہیں وہ جب ڈاکٹر جان سُنگ کے ساتھ [گرجا گھر] کی تقسیم کا سبب بنے تو کھو چکے تھے۔ شکر ہے کہ گرجا گھر نے اُنہیں پادری کی حیثیت سے نہیں بُلایا۔ ہم نے انتظار کیا تھا جب تک ڈاکٹر ٹیموتھی لِنDr. Timothy Lin کو بُلایا نہیں گیا۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے، ڈاکٹر لن نے مجھے بہت سے طریقوں سے، ڈاکٹر جان سُنگ کی یاد دلادی۔ ڈاکٹر لن نے ہمارے چھوٹے سے چینی گرجا گھر کی سب سے بڑے حیاتِ نو میں رہنمائی کی جس کا میں کبھی گواہ رہ چکا ہوں!

میں مکمل اِخلاقی زوال میں یقین رکھتا ہوں۔ مکمل اِخلاقی زوال کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہم اتنے ہی بُرے ہیں جتنا کہ ہمیں ہونا چاہیے۔ مکمل اِخلاقی زوال کا مطلب ہوتا ہے کہ ہم روحانی طور پر اور اخلاقی طور پر مکمل طور سے بدچلن ہیں۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ ہمارا کوئی بھی حصہ گناہ سے اَن چھوا نہیں ہوتا [ہر حصے کو گناہ نے چھوا ہوتا] ہے۔ میرا پہلی مرتبہ مکمل اِخلاقی زوال سے سامنا جب میں نوعمر تھا اُس وقت ہوا۔ میرے پڑوسی مجھے ایک بپتسمہ دینے والے گرجا گھر میں لے گئے تھے جب میں تیرہ برس کی عمر کا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ وہاں پر نوجوان لوگ مسیحی ہیں۔ مگر میں یہ جان کر بھونچکا رہ گیا تھا کہ وہ مکمل طور سے مسخ شُدہ تھے!

مکمل اِخلاقی زوال ہمیں آدم سے ملتا ہے۔ پولوس رسول نے کہا،

’’ایک آدمی کی نافرمانی سے بہت سے لوگ گنہگار ٹھہرے‘‘ (رومیوں5:19)۔

وہ آدمی آدم تھا۔ آدم کے گناہ کی حقیقت کو پیدائش3:4۔8 میں واضح کیا گیا ہے۔ بائبل کے اس خوفناک بوڑھے نقاد بروس میٹزگرBruce Metzger (1914-2007) کا مکروہ چہرہ تھا۔ ایک شخص جس نے تصویر میں اُس کے چہرے کو دیکھا اُس نے کہا، ’’وہ آسیب زدہ لگتا ہے۔‘‘ یہ مکمل طور پر مسخ شُدہ ایک گنہگار کا غصیلہ چہرہ ہے، جس نے خُدا سے نفرت کی اور ہر موقع پر خُدا کے کلام پر حملہ کیا! اپنی کتاب، سمجھ کے ساتھ بائبل کو کیسے پڑھا جائے How to Read the Bible with Understanding میں، میٹزگر نے کہا کہ آدم کے گناہ کے واقعے کو ’’تاریخ کی حیثیت سے نہیں پڑھنا چاہیے…. اور اِس کے ساتھ سختی سے تاریخی سلوک نہیں کیا جا سکتا‘‘ (میٹزگر Metzger، تنقیدی حاشیہ لکھنے والے آکسفورڈ کی نئی بائبل The New Oxford Annotated Bible)۔ بالکل یہی بکواس میں نے مغربی بپٹسٹ آزاد خیال سیمنری میں بھی سُنی تھی۔ مجھے حیرت نہیں ہوئی تھی جب مجھے پتا چلا کہ میٹزگر کی سوانح حیات کہیں پر بھی نجات کے ذاتی تجربے کا [اپنے لیے] کوئی حوالہ پیش نہیں کرتی۔ ڈیوڈ ڈبلیو۔ کلاؤڈ David W. Cloud نے اعلان کیا کہ ڈاکٹر رابرٹ ایل۔ سُمنر Dr. Robert L. Sumner نے کہا وہ ’’میٹزگر پر بھروسہ کرتے ہیں اور میٹزگر پر ایک آزاد خیال کا لیبل لگانے کے لیے [کلاؤڈ] کی مذمت کی‘‘ (اُو ٹِیموتھی O Timothy، جنوری2020، صفحہ 10)۔ ڈاکٹر سُمنر میرے دوست تھے۔ میں اُنہیں غلط ہونے کے لیے معاف کرتا ہوں کیونکہ اُنہیں غالباً میٹزگر کے بارے میں اتنی معلومات نہیں تھیں۔ لیکن کلاؤڈ دُرست تھے۔ میٹزگر کُلی طور سے آزاد خیال تھے جنہوں نے آدم کے گناہ اور گمراہی کے واقعے کو مسترد کیا تھا!

مگر پولوس رسول، پاک روح کے اِلہٰام کے تحت، آدم میں انسان کی گمراہی میں یقین کرتا تھا۔ پولوس نے کہا، ’’ایک آدمی کے ذریعے گناہ دُنیا میں داخل ہوا، اور گناہ کے سبب سے موت آئی، ویسے ہی موت سب انسانوں میں پھیل گئی…‘‘ (رومیوں5:12)۔ اور ’’ایک آدمی کے قصور کے سبب سے سب آدمیوں کے لیے موت کی سزا کا حکم ہوا‘‘ (رومیوں5:18) اور ’’ایک آدمی کی نافرمانی سے بہت سے لوگ گنہگار ٹھہرے‘‘ (رومیوں5:19)۔ میں یقین کرتا ہوں پولوس رسول نے کہا تھا ناکہ آسیب سے اندھا کیے ہوئے آزاد خیال بروس میٹزگر نے! کس طرح سے ساری کی ساری نسل انسانی خُدا کی دشمن بن گئی تھی؟ کس طرح سے ساری کی ساری نسل انسانی مکمل طور سے اِخلاقی زوال کا شکار ہو گئی؟ خُدا کس طرح سے رومیوں3:9۔19 میں کہہ سکا تھا،

’’ہم تو پہلے ہی ثابت کر چُکے ہیں کہ یہودی اور غیر یہودی سب کے سب گناہ کے قابو میں ہیں۔ جیسا کہ پاک کلام میں لکھا ہے، کوئی راستباز نہیں، ایک بھی نہیں؛ کوئی سمجھدار نہیں، کوئی خدا کا طالب نہیں۔ سب کے سب گمراہ ہو گئے، وہ کسی کام کے نہیں رہے؛ کوئی نہیں جو بھلائی کرتا ہو، ایک بھی نہیں۔ اُن کے حلق کھلی ہوئی قبروں کی مانند ہیں؛ اُن کی زبان سے دغابازی کی باتیں نکلتی ہیں۔ اُن کے ہونٹوں میں سانپوں کا زہر ہے۔ اُن کے مُنہ لعنت اور کڑواہٹ سے بھرے ہُوئے ہیں۔ اُن کے قدم خُون بہانے کے لیے تیز رفتار ہو جاتے ہیں؛ اُن کی راہوں میں تباہی اور بدحالی ہے، وہ سلامتی کی راہ سے واقف ہی نہیں۔ نہ ہی اُن کی آنکھوں میں خدا کا خوف ہے۔ اب ہم جانتے ہیں کہ شریعت جو کچھ کہتی ہے اُن سے کہتی ہے جو شریعت کے ماتحت ہیں تاکہ ہر مُنہ بند ہو جائے اور ساری دنیا خدا کے سامنے سزا کی مستحق ٹھہرے‘‘ (رومیوں 3:9۔19).

جی ہاں، کیسے خُدا کا کلام کہہ سکتا ہے، ’’ساری دُنیا خُدا کے سامنے سزا کی مستحق [بنی]‘‘ (رومیوں3:19)؟ کیسے ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر Dr. A. W. Tozer کہہ پائے،

’’وہ گمراہی ایک بُحران تھا [جس نے] انسان کی فطرت، اخلاق، ذہانت، نفسیاتی، روحانی اور جسمانی طور پر ہر حصے کو متاثر کیا… اُس کے دِل میں گناہ اُس کی کُل زندگی میں لبریز ہو چکا ہے، جو خُدا کے ساتھ اُس کے تعلق کو متاثر کر رہا ہے، اُس کے رفیق لوگوں کو اور ہر اُس بندے کو اور چیز کو جو اُسے چھوتی ہے متاثر کر رہا ہے‘‘؟ (’’آدھی رات کے بعد پیدا ہوا Born After Midnight‘‘)۔

کیسے عظیم عالم الہٰیات آگسٹین Augustine (354۔430) کہہ پائے کہ آدم کا پہلا گناہ تھا ’’خود کو خوش کرنے کے لیے وہ بدکار خواہش، اور کُھلا گناہ ماسوائے اُس کے نتیجے کے کچھ نہیں تھا‘‘؟ کیسے اعلیٰ درجے کے عالم الہٰیات ولیم جی۔ ٹی۔ شیڈ William G. T. Shedd کہہ پائے، ’’سارے لوگ آدم سے پھیلے ہیں اور اُس کے گناہ کو وراثت میں لیے ہوئے ہیں‘‘؟ کیسے آدم کے پہلے بیٹے قائین نے اپنے بھائی ہابل کو قتل کر دیا؟ یہ ساری کی ساری باتیں نوع اِنسانی کے مکمل اِخلاقی زوال سے آئی ہیں – جو پہلے گنہگار آدم سے وراثت میں ملی ہیں!!!

ایک شخص!

کیسے ساری نسل اِنسانی میں گناہ دیکھتا ہے، کوئی ایک بھی مبرّا نہیں؟ واحد جواب ہے – مکمل اِخلاقی زوال!!!

’’ایک آدمی کی نافرمانی سے بہت سے لوگ گنہگار ٹھہرے‘‘ (رومیوں5:19)۔

مکمل اِخلاقی زوال کے بغیر، کیسے جے۔ رچرڈ اُولیواس J. Richard Olivas نے اپنی ٹیوشن فیس اِس گرجا گھر سے ادا کروائی، اپنی گریجوایٹ کی ڈگری کرنے کے لیے، اور اپنی بیوی کو نرس بنانے کے لیے اِس گرجا گھر سے خرچہ لیا – اور پھر اِس گرجا گھر کو تقسیم کیا اور اِس کے تمام ممبران کو لے جانے کی کوشش کی؟

مکمل اِخلاقی زوال کے بغیر، کیسے ہماری اب تک کی دیکھی ہوئی سب سے زیادہ شیطانی گرجا گھر کی تقسیم کو کھڑا کرکے اس گرجا گھر کو تباہ کرنے کی سازش والڈریپ اور چن کریں گی؟

ایک دیندار پادری کا بیٹا ملحد کیوں ہوتا؟

کیوں خدا کا تحفہ دینے والا مبلغ قانونی کلرک بننے کے لئے اپنی زندگی کو دور کردے گا؟

چرچ کا ایک بہت ہی ذہین بیٹا کیوں سوچے گا کہ وہ واحد نجات دہندہ کے طور پر مسیح کی منادی کرتے ہوئے سینکڑوں انجیلی بشارت کے خطبات سن کر اپنی نجات حاصل کرسکتا ہے؟

کیوں ایک انتہائی ذہین عورت اپنے بنیادی بنیاد پرست چرچ کو کسی نئے بِلا روک ٹوک والے انجیلی بشارت [والے گرجا گھر] میں شریک ہونے کے لئے چھوڑ کر "خود کو بس کے نیچے پھینک دے گی"؟

کیوں؟ کیوں؟ کیوں؟

چین کے اب تک کے تیار کردہ سب سے بڑے مبشر کو دھوکہ دے کر اینڈریو گیہ نے اپنے تحائف کو کیوں پھینک دیا؟

کیوں؟ کیوں؟ کیوں؟

خدا کے خلاف آدم کی سرکشی کی وجہ سے - جس نے کل تباہی پیدا کی !!! اِس لیے!!!

مجھے مکمل اِخلاقی زوال میں یقین ہے۔ میں نے نوعمری میں ہی گرجا گھر میں اس پر یقین کرنا شروع کیا تھا۔ میرے پڑوسی مجھے ایک بپتسمہ دینے والے گرجا گھر میں لے گئے تھے جب میں تیرہ برس کی عمر کا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ وہاں پر نوجوان لوگ مسیحی ہیں۔ مگر میں یہ جان کر بھونچکا رہ گیا تھا کہ وہ مکمل طور سے مسخ شُدہ تھے!

مکمل اِخلاقی زوال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اتنے ہی خراب ہیں جتنے ہم ہوسکتے ہیں۔ مکمل اِخلاقی زوال کا مطلب یہ ہے کہ انسان اخلاقی اور روحانی طور پر مکمل طور پر خراب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے جسم کا کوئی بھی حصہ گناہ سے اَن چھوا نہیں ہے [بچا ہوا نہیں ہے]۔ ہمارا کوئی عمل اتنا اچھا نہیں جتنا ہونا چاہئے۔ انسان کے دل گناہ میں مر چکے ہیں۔ خدا کے کلام کے مطابق تمام انسان "گناہوں اور قصوروں میں مر چکے ہیں" (افسیوں 2: 1)۔ ان کی "سمجھ کو اندھیرے میں ڈال دیا گیا ہے ،" اور وہ ’’اپنے دل کے اندھے پن کی وجہ سے ، اپنے میں موجود جہالت کے ذریعہ خدا کی زندگی سے الگ ہوگئے ہیں‘‘ (افسیوں 4: 18)۔ بائبل کہتی ہے، ’’شریر پیدائش ہی سے گمراہ ہو جاتے ہیں: ماں کے پیٹ ہی سے وہ گمراہ اور جھوٹے پیدا ہوتے [ہیں]‘‘ (زبور58:3)۔ ’’کوئی نیکو کار نہیں، نہیں، ایک بھی نہیں‘‘ (زبور53:3)۔ ’’یقیناً میں اپنی پیدائش ہی سے گنہگار تھا؛ بلکہ اُس وقت سے گنہگار ہوں جب میں اپنی ماں کے رحم میں پڑا‘‘ (زبور51:5)۔ وہ ہے مکمل اِخلاقی زوال! یہ ہی وجہ ہے کہ ہم گمراہ ہیں!!!

نئے عہد نامے میں ہم مکمل اِخلاقی زوال کے اِسی پیغام کو پڑھتے ہیں۔ پولوس رسول نے کہا، ’’دونوں یہودی اور غیر یہودی… سب گناہ کے قابو میں ہیں۔ کوئی بھی راستباز نہیں، نہیں، ایک بھی نہیں: کوئی سمجھدار نہیں، کوئی خُدا کا طالب نہیں… کوئی نہیں جو بھلائی کرتا ہو، نہیں، ایک بھی نہیں… وہ سلامتی کی راہ سے واقف ہی نہیں۔ نہ ہی اُن کی آنکھوں میں خدا کا خوف ہے… ساری دُنیا خدا کے سامنے سزا کی مستحق ٹھہری‘‘ (رومیوں3:9۔19)۔ یہ ہے مکمل اِخلاقی زوال!

اور یہی تھا جو میں نے خود اپنی آنکھوں سے ایک بپٹسٹ گرجا گھر میں نوعمر بچوں کے درمیان دیکھا تھا – جب میں تیرہ برس کی عمر کا تھا! مکمل اِخلاقی زوال!!!

اور پھر میں نے وہاں پر گرجا گھر کی تقسیم کو دیکھا تھا!!! میں نے جو کچھ گرجا گھر کی اُس تقسیم میں دیکھا تھا وہ سچے طور پر ہولناک تھا! اِس کو گلِتیوں، 5 باب میں واضح کیا گیا ہے۔ میں اِس کا کچھ حصہ انگریزی کی معیاری بائبل (اُس کا ESV ترجمہ) میں سے یہاں پر پیش کر رہا ہوں، KJV کِنگ جیمس بائبل کو دُرست کرنے کے لیے، بلکہ صرف دورِ حاضرہ کی انگریزی میں صرف لفظوں کو پیش کرنے کے لیے۔

’’دشمنی، جھگڑا، حَسد، غُصہ، خودغرضی، تکرار، فرقہ پرستی، بُغض‘‘ (گلِتیوں5:19۔21 ESV)۔

میں نے اُس گرجا گھر کے بالغ اراکین کو ایک دوسرے پر حمدوثنا کی کتابیں پھینکتے ہوئے دیکھا! میں نے گرجا گھر کے دو منادوں کے ذریعے سے ایک شخص کو شدت کے ساتھ زدوکوب کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے دیندار پادری کو استیفعیٰ دیتے ہوئے اور اُس گرجا گھر سے بھاگتے ہوئے دیکھا۔ میں نے اُس گرجا گھر کی تکلیف دہ بغاوت کو دیکھا – مکمل اِخلاقی زوال میں!!! میں اُس گرجا گھر سے بھاگ نکلا اور کہا کہ جب تک میں زندہ رہوں گا کبھی بھی واپس نہیں جاؤں گا۔ اُن لوگوں کے مکمل اخلاقی زوال نے مجھے اُس سے غصے اور نفرت میں دور بھاگنے پر مجبور کر دیا!

لیکن ایک بات نے مجھے بچا لیا۔ خُداوند نے مجھے اپنے فضل کے وسیلے سے دکھایا کہ وہ حقیقی ہے۔ میں نے ابھی تک نجات نہیں پائی تھی، لیکن میں جانتا تھا، آرزومندانہ فضل کے وسیلے سے، کہ خُدا حقیقی تھا۔ ایک مرتبہ میں نے اپنی ماں سے پوچھا کیوں پادری صاحبان کا ایک گروہ مجھے پسند نہیں کرتا۔ ماں نے کہا، ’’یہ اِس لیے ہے کیوں کہ تم خُدا میں یقین رکھتے ہو۔‘‘ وہ فرق جانتی تھیں اور اِس ہی لیے اُنہوں نے بالاآخر نجات پا لی تھی!

خُدا کے آرزومندانہ فضل نے مجھے بُلا لیا اور مجھے اپنے سے دور نہیں ہونے دیا (آرزومندانہ فضل)۔ وہ اب بھی میرے پاس آتا ہے جب میں تنہا ہوتا ہوں۔ ’’میرا دِل تیرے متعلق کہتا ہے کہ اُس کے دیدار کا طالب ہو! اے خُداوند! میں تیرے دیدار کا طالب رہوں گا… اے خُداوند، مجھے اپنی راہ بتا اور مجھ پر ظلم ڈھانے والوں کے سبب سے مجھے راہِ راست پر چلا… مجھے اب بھی اِس بات کا یقین ہے کہ میں زندوں کے زمین پر خُداوند کے احسان کو دیکھ لوں گا‘‘ (زبور27:8، 11، 13)۔

میں کوئی خصوصی طور پر نیک لڑکا نہیں تھا۔ لیکن خُداوند کا فضل مجھے بپتسمہ دینے والے پہلے چینی گرجا گھر میں لے گیا۔ میں نے یسوع پر بھروسہ کیا، اُس کے خون کے وسیلے سے پاک صاف ہوا، اور میرے چینی پادری صاحب، ڈاکٹر ٹیموتھی لِن Dr. Timothy Lin نے بپتسمہ پایا – جو کہ خُداوند کے ایک سچے بندے تھے، جسے میں ’’ایک حقیقی معاملہ‘‘ کہتا ہوں۔ میں اپنے بارے میں ایک انتہائی اچھے شخص کی حیثیت سے نہیں سوچتا ہوں۔ لیکن میں خُداوند میں یقین رکھتا ہوں۔ میں خُداوند میں یقین رکھتا ہوں کیوں اُس نے اپنے فضل کے وسیلے سے خود کو مجھ پر آشکارہ کیا۔

میں مکمل طور پر جان نہیں سکتا کیوں خُداوند نے یہ میرے لیے کیا۔ میں اکثر سوچتا ہوں، ’’میں نے نجات کیسے پائی؟ میں کیوں اتنے سالوں تک گرجا گھر میں ٹِکا رہا؟ میں کیوں 62 سالوں کے بعد بھی ابھی تک انجیل کی منادی کر رہا ہوں؟ دوسرے کیوں چلے گئے جبکہ میں ابھی تک جاری ہوں؟‘‘ میں اِس سوالات کے جواب صرف چناؤ کے وسیلے سے دے سکتا ہوں۔ بائبل کہتی ہے، ’’خُداوند نے… نجات کے لیے تمہیں چُن لیا تھا‘‘ (2 تسالونیکیوں2:13)۔ مذہبی سُدھار کی مطالعہ بائبل The Reformation Study Bible کہتی ہے، ’’ہم صرف ابھی یقین کرتے ہیں کیونکہ ہم چُنے گئے تھے‘‘ (صفحہ1630)۔ ’’یہ تعجب کی بات ہے کہ خُداوند کو ہم میں سے کسی کو چُننا چاہیے‘‘ (ibid.)۔ جان نیوٹن John Newton (1725۔1807) حیرت زدہ رہ گیا تھا کہ خُداوند نے اُس جیسے گنہگار کو چُنا تھا۔ اُنہوں نے لکھا،

یہ فضل ہی تھا جس نے میرے دِل کو خوف کرنا سیکھایا،
   اور فضل نے ہی میرے تمام خوف ختم کیے؛
کس قدر قیمتی وہ فضل ظاہر ہوا تھا
   اُس لمحے میں جب میں نے پہلی مرتبہ یقین کیا تھا!
(’’حیرت انگیز فضلAmazing Grace ‘‘ شاعر جان نیوٹن John Newton ، 1725۔1807).

’’یہ تعجب کی بات ہے کہ [خُداوند کو] ہم میں سے کسی کو چُننا چاہیے‘‘!!!

’’ایک آدمی کی نافرمانی سے بہت سے لوگ گنہگار ٹھہرے‘‘ (رومیوں5:19)۔

آگسٹین Augustine (354۔430) نے کہا کہ آدم کا پہلا گناہ ’’خود کو خوش کرنے کے لیے تھا اور وہ کُھلا گناہ ماسوائے اُس کے نتیجے کے کچھ نہیں تھا‘‘ (خُداوند کا شہر City of God، جلد سوئم)۔ اور یوں، ’’موت سب لوگوں پر ٹھہری‘‘ (رومیوں5:12)۔ ڈاکٹر ولیم جی۔ ٹی۔ شیڈ Dr. William G. T. Shedd نے کہا، ’’سارے لوگ آدم سے پھیلے ہیں اور اُس کے گناہ کو وراثت میں لیے ہوئے ہیں۔‘‘ یہ اُس وقت ثابت ہو گیا تھا جب آدم کے پہلے بیٹے قائین نے اپنے بھائی ہابل کو قتل کر دیا۔ قائین کا اپنے بھائی کو قتل کرنے سے پہلے کوئی بھی قتل نہیں ہوا تھا۔ یہ اِس لیے رونما ہوا تھا کیوںکہ آدم کا گناہ اُس کے بیٹے قائین سے منسوب ہو گیا تھا! نیز ، تمام بنی نوع انسان میں بغیر کسی استثنا کے گناہ دیکھا جاتا ہے۔ اس طرح بنی نوع انسان بالکل مسخ شُدہ ہوگیا۔

     انسانیت کی اخلاقی اور روحانی فطرت میں ہونے والی بدکاری میں مکمل اِخلاقی زوال نظر آتا ہے۔ یہ خُدا کے بارے میں انسان کے ضمیر کو تباہ کر چکا ہے۔ بائبل کہتی ہے کہ لوگ ’’جان بوجھ کر یہ بھول جاتے ہیں‘‘ (2پطرس3:5)۔ لوگ بھول جانے کے لیے خواہش رکھتے ہیں۔ اُن کے ضمیر غلیظ ہوتے ہیں (1تیموتاؤس4:2)۔ اُن کے پاس ’’ایک اچھا ضمیر‘‘ نہیں ہوتا ہے (عبرانیوں13:18)۔ چرچ میں پرورش پانا کسی کے ضمیر کی ناپاک حرکت کو مٹانے کے لئے کچھ نہیں کرتا ہے۔ گرجا گھر کے بچے بدنامی کی حد تک باغی ہوتے ہیں۔ بلوغت تک پہنچتے ہی وہ جنسی گناہ اور فحاشی کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔
     ان کا فطری مسخ شُدہ ہونا اُنہیں خود کو پختہ مسیحیوں سے چھپانے کا سبب بنتا ہے۔ ان کے چرچ چھوڑنے اور کرھیٹنKreighton کے ساتھ جانے کے لئے متاثر ہونے کی تقریبا پوری وجہ ان کی خواہش پر مبنی تھی کہ وہ آزاد ہو کر جنسی خواہش میں مبتلا ہوجائیں۔ یہ تو عناد پرستی کا جوہر ہے – مکمل طور پر اِخلاقی زوال کے ہونے کا نتیجہ!
     مکمل طور پر اِخلاقی زوال میں ہونا خُدا کو اُن کا دشمن بنا ڈالتا ہے، ’’دُںیا سے دوستی کرنا خُدا سے دشمنی رکھنا ہوتا ہے‘‘ (یعقوب4:4)۔ وہ جو اچھا ہوتا ہے اُس سے نفرت کرتے ہیں اور جو فطری طور پر بُرا ہوتا ہے اُس سے محبت کرتے ہیں۔
     وہاں وہ لوگ ہیں جو ’’ہم ہی میں سے نکلے ہیں لیکن دِل سے ہمارے ساتھ نہیں تھے۔ اگر ہوتے تو ہمارے ساتھ ہی رہتے۔ اگر ہوتے تو ہمارے ساتھ ہی رہتے۔ اب جبکہ یہ لوگ ہم میں سے نکل گئے ہیں تو ظاہر ہو گیا کہ یہ لوگ دِل سے ہمارے ساتھ نہیں تھے‘‘ (1یوحنا2:19)۔ ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell نے کہا، ’’ان کی روانگی دراصل نجات دلانے والے ایمان کے مظاہرے کے لئے تھی اور اسی وجہ سے، حقیقی رفاقت غیر حاضر تھی‘‘ (کرسویل کا مطالعۂ بائبل Criswell Study Bible، 1یوحنا2:19 پر غور طلب بات)۔ روح کا نہ ہونا ہی روحانی زندگی کا نہ ہونا ہوتا ہے… دوسرے لفظوں میں ایک بے اعتقادہ ہونا ہوتا ہے‘‘ (میک آرتھر کا مطالعۂ بائبل The MacArthur Study Bible، یہودہ19 پر غور طلب بات)۔ بنیادی گرجا گھر کو چھوڑنا اور نئے انجیلی بشارت کے گرجا گھر میں جانا مکمل طور پر اِخلاقی زوال کی ایک یقینی علامت ہے۔


آدم کے اصل گناہ کے نتائج اس کی ساری نسل - تمام بنی نوع انسان پر نازل ہوئے ہیں – اِن نتائج میں شامل ہیں:


(1) سب ایک لعنت کے تحت ہیں ، گلتیوں 3:10

(2) سب ابلیس کے بچے ہیں، یوحنا8:44

(3) سب گناہ کے غلام ہیں، رومیوں6:17

(4) سب کے پاس گناہ سے بھرپور ایک دِل ہے، یرمیاہ17:9

(5) سب کے دِلوں پر اندھیرا چھا چکا ہے، رومیوں1:21

(6) سب خُدا کے دشمن ہیں، رومیوں8:7، 8

(7) سب قہر کے بچے ہیں، افسیوں2:3

(8) سب گناہ میں مُردہ ہیں، افسیوں2:1

(9) سب کے نصیب موت ہے، عبرانیوں9:27۔ ہر قبرستان دکھاتا ہے کہ بائبل سچی ہے – ’’لوگوں کے لیے ایک بار مرنا مقرر ہو چکا ہے‘‘ – مکمل اخلاقی زوال کی وجہ سے! یہ ہی وجہ ہے!


انسان کی موت کی تین تہیں ہیں،


(1) جسمانی موت، روح کا بدن سے جُدا ہونا۔

(2) روحانی موت، روح کا خُدا سے جدا ہونا۔

(3) دائمی موت، جسے ’’دوسری موت‘‘ کہا جاتا ہے – ڈاکٹر آر۔ اے۔ ٹورے Dr. R. A. Torrey نے کہا، ’’دوسری موت ضمیر اور کبھی نہ ختم ہونے والی اذیت کی ایک جگہ ہے۔‘‘ – ’’آگ اور گندھک کے عذاب میں مبتلا … اور اُن کے عذاب کا دھواں ابد تک اُٹھتا رہے گا اور اُنہیں دِن رات چین نہ ملے گا‘‘ (مکاشفہ14:10)۔


مکمل اَخلاقی زوال کا حتمی نتیجہ یوں ہی ہے!

لیکن صحیفوں میں کہا گیا ہے کہ خدا نے گناہ سے بھرپور انسان کو ایک طرح کا راستہ فراہم کیا کہ اسے اِخلاقی زوال کے خوفناک عذاب سے تبدیل کیا جا سکے۔

یسوع مسیح، خُداوند کا اِکلوتا بیٹا، ’’دُنیا میں گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا‘‘ (1 تیموتاؤس1:15)۔ اشعیا کا 53 واں باب ہماری جگہ پر یسوع کی موت، اُس کے کوڑے کھانے، اُس کی مصلوبیت کی ایک قوت سے بھرپور عکاسی پیش کرتا ہے۔ اُس نے ہمارے تمام گناہوں کو پاک صاف کرنے کے لیے اپنا خون بہایا (1یوحنا1:7)، ’’اُس کے بیٹے یسوع مسیح کا خون ہمیں تمام گناہ سے پاک صاف کرتا ہے۔‘‘ یہ ہماری جگہ پر یسوع کے اذیت سہنے اور موت کے ذریعے سے ہے کہ ہم گناہ کی لعنت سے بچائے جا سکیں، اور خدا کے ساتھ امن پائیں۔ یہ ہی واحد راہ ہے کہ تباہ شُدہ گنہگار نجات پا سکیں۔ ’’برباد گنہگاروں کو سُدھارنے کے لیے یا واپس حاصل کرنے کے لیے، ھیلیلویاہ، کیسا ایک نجات دہندہ!‘‘ یسوع مسیح نے کہا،

’’راہ، حق اور زندگی میں ہوں۔ میرے وسیلے کے بغیر کوئی باپ کے پاس نہیں آتا‘‘ (یوحنا14:6)۔

ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر نے کہا، ’’مسیحی گرجا گھر کے ہونے کی ایک ہی وجہ ہے۔ وہ ہے یسوع مسیح کی زندگی اور رحمت اور فضل کا مظاہرہ کرنا۔‘‘

شارلٹ ایلیٹCharlotte Elliott کا حمدوثنا کا زبردست گیت ایک ذریعہ رہا ہے جس کے ذریعہ بہت سے گنہگاروں کو یسوع نے بچایا ہے۔ کیا آپ نے اُن الفاظ کے بارے میں سوچنے کے لئے اِسے اکثر گایا ہے؟ مجھے اُمید نہیں۔

انتظار کیے بغیر، میں جیسا بھی ہوں، میری جان کو [گناہ کے] تاریک دھبے سے چُھڑانے کے لیے،
تیرے لیے جس کا خون ہر داغ مٹا سکتا ہے، اے خُدا کے برّے، میں آیا! میں آیا!

میں جیسا بھی ہوں، غریب، تباہ حال، اندھا؛ نظارے، دولت، ذہن کی شفایابی؛
جی ہاں، جس کی مجھے ضرورت ہے میں تجھ میں پاتا ہوں، اے خُدا کے برّے، میں آیا! میں آیا!
   (’’میں جیسا بھی ہوں Just As I Am‘‘ شاعرہ شارلٹ ایلیٹ Charlotte Elliott، 1789۔1871)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔