Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 42 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


ہر مسیحی منادی کر رہا ہے!

EVERY CHRISTIAN PREACHING!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 19 جنوری، 2020
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, January 19, 2020

’’کلیسیا کے لوگ بکھر جانے کے بعد جہاں جہاں گئے، کلام کی خُوشخبری سناتے پھرے۔ چنانچہ فِلپس سامریہ کے ایک شہر میں گیا اور وہاں مسیح کی منادی کرنے لگا‘‘ (اعمال 8:4،5).

اگر آپ اپنے لیے خُدا کی بُلاہٹ کا جواب نہیں دیتے، تو یہ ایک بہت بڑا المیہ اور ایک ہولناک گناہ ہے۔ اعمال کے آٹھویں باب میں یہ دو آیات ظاہر کرتی ہیں کہ خُدا کی بُلاہٹ دُنیا میں نئے سرے سے جنم لیے ہوئے ہر مسیحی کے لیے ہے۔

ابتدائی کلیسیا میں، ہر نیا ایماندار ایک بشر کو جیتنے والا کہلایا جاتا تھا۔ اِسی لیے وہ رُکے نہیں تھے جب ساؤل نے اُنہیں گرفتار کیا، اُنہیں قید میں ڈالا اور اُنہیں ’’دوسرے علاقوں میں پھیلا دیا۔‘‘ وہ جہاں کہیں پر بھی تھے اور اُن کے ساتھ جو کچھ بھی رونما ہوا، ’’کلیسیا کے لوگ بکھر جانے کے بعد جہاں جہاں گئے، کلام کی خوشخبری سُناتے پھرے۔‘‘ میں بائبل کے کچھ عالمین کو جانتا ہوں جو کہتے ہیں کہ ’’کلیسیا کا ’’تبلیغ کرنا‘‘ اور سامریہ میں فلپس کا ’’تبلیغ کرنا‘‘ دو مختلف باتیں تھیں – لیکن میں اُنہیں اِس طرح سے نہیں دیکھتا! اُن میں سے ہر ایک، کلیسیا سے لیکر فلپس مناد تک، گناہ سے تباہ و برباد ہوئی ایک دُنیا کے لیے مسیح کی خوشخبری کی منادی کر رہے تھے۔ ایک کلیسیا اور ایک مناد وہ تھے جنہیں شعلہ فشاں تھے، جہاں جہاں گئے – اور اُنہوں نے جو کچھ بھی کیا وہ مسیح کی خوشخبری پھیلاتے گئے۔ مسیح کی خوشخبری اُن کے دِلوں میں تھی اور اُن کے لبوں پر تھی – چاہے کچھ بھی ہوتا۔ ابتدائی کلیسیا ایک پُرجوش کلیسیا تھی، جو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے والے نئے لوگوں کے ساتھ گونج پیدا کر رہی تھی، کیونکہ کلیسیا کا ہر رُکن مسلسل گمراہ بشروں کی تلاش میں تھا۔ اور وہ لوگ مسلسل اُن لوگون کی تلاش میں رہتے تھے جن کے ساتھ نجات دہندہ خُداوند یسوع مسیح کے بارے میں بات چیت کر پاتے!!!

یہ آج کل کس قدر عجیب ہو چکا ہے۔ ایک سیمنری، جس کا فرض آپ کو منادی کے لیے اور گواہی دینے کے لیے لیس کرنا ہوتا ہے، اصل میں اُس کا اُلٹ کرتی ہے! میں قدامت پسند [جدید خیالات کی مخالف]، بائبل میں ایمان رکھنے والی سیمنریوں کے بارے میں بات کر رہا ہوں! میں نے ایک نوجوان شخص کو [جدید خیالات کی مخالف] ایک قدامت پسند سیمنری میں بھیجا۔ وہ اُدھر سے اِس بات پر غور کرتا ہوا چلا آیا کہ ہم اپنے گرجا گھر میں اُن سے مختلف ’’منادی‘‘ کرتے ہیں! میں اِس بات کو سراسر قبول کرنے کے لیے تیار تھا! میں اُن لڑکے کو بارہا بتا چکا تھا کہ ہمارے منادی کرنے کا طریقہ اعلیٰ درجے کا معیاری تھا – اور جو اِن نئے ایونجیلیکلز نے کیا سرے سے منادی کرنا تھا ہی نہیں!!! اِن نئے ایونجیلیکلز کو اِس نوجوان شخص کی منادی کو تباہ کرنے میں چند ایک سال ہی لگے! میں کبھی بھی کسی کو بھی اُس قدامت پسند [جدید خیالات کی مخالف] سیمنری میں جب تک میں زندہ ہوں نہیں بھیجوں گا!!!

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

پھر وہاں ’’بُلاہٹ کا ایک جھوٹا گمان یا خبط بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ کو بُلاہٹ کے لیے بُلایا ہوا ہونا چاہیے ورنہ آپ منادی نہیں کر سکتے۔ ایک مبلغ نے یہ لکھا، ’’ایک بُلاہٹ عمومی طور پر ضمیر میں کسی کی خود اپنی روح میں سے شروع ہوتی ہے…. یہ آپ پر لاگو کر دی جاتی ہے… آپ پر مسلسل اِس طرح سے زبردستی ڈال دی جاتی ہے۔‘‘ بدقسمتی سے ’’بُلاہٹ‘‘ کا وہ تصور بے شمار لوگوں کو تباہ کر چکا ہے، اور اُنہیں پُراثر مبلغ ہونے سے روک چکا ہے۔ میں ایسے نوجوان لوگوں کو جانتا ہوں جو مسلسل اِس قسم کے ’’احساس‘‘ کے تلاش میں تھے۔ جب اُنہوں نے بُلایا ہوا محسوس نہیں کیا تو اُنہوں نے فرض کر لیا کہ وہ خُدا کی طرح سے ’’بُلائے ہوئے‘‘ نہیں تھے۔ اب یہ اِسی شخص کا تجربہ تھا۔ وہ ایک سرجن تھا جو منادی کرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ اُس کے ساتھ ایک اندرونی ’’جنون‘‘ کے ذریعے ’’زبردستی‘‘ کرنا پڑی۔

لیکن وہ کلیسیا کی تاریخ کو اتنی بخوبی جانتا ہے کہ جارج وائٹ فیلڈ کو، جو تمام ادوار کے عظیم ترین مبلغین میں سے ایک ہیں، ’’مذہبی خادمین اور بزرگاں کے ذریعے سے یہ کرنے کے لیے قائل کیا گیا تھا۔‘‘ اُنہیں ایک مبلغ بننے سے خوف آتا تھا! حیرت ناک طور پر، جان بنیعئن John Bunyan، تمام ادوار کے عظیم ترین بپٹسٹ مبلغ ایک ’’اندرونی مجبوری‘‘ کی وجہ سے نہیں ’’بُلائے گئے‘‘ تھے۔ اُنہیں اپنی گواہی دینے کے لیے کہا گیا تھا۔ اُن کی منادی کرنے کی اہلیت ’’یکایک واضح ہو گئی تھی۔ اُسی دِن سے بنیعئن جان گئے تھے کہ اُنہیں منادی کے لیے ہی بُلایا جا چکا تھا‘‘ (پال چیپل Paul Chappell)۔

پھر یہاں جان نیوٹن John Newton تھے۔ وہ ایک خطرناک نوجوان شخص تھے جو ایک دہریے بن گئے تھے! لوگ یقین نہیں کرتے اِس قدر بُرا شخص بھی مبلغ ہو سکتا تھا۔ لیکن اُنہیں اپنی نجات کی گواہی دینے کا موقع فراہم کیا گیا تھا۔ ’’منادی کے لیے اُن کی بُلاہٹ سب پر واضح ہو گئی تھی‘‘ (پال چیپل)۔ جان نیوٹن ایک پادری بن گئے تھے۔ وہ حمدوثنا کے اپنے گیت ’’حیرت انگیز فضل Amazing Grace‘‘ کی وجہ سے بہت مشہور ہیں۔ نیوٹن لندن میں ایک اہم کلیسیا کی نگہبانی کے لیے چلے گئے۔ اُن کے مرنے سے تھوڑا عرصہ قبل، جان نیوٹن نے کہا، ’’میری یاداشت تقریباً جا چکی ہے، لیکن مجھے دو باتیں یاد ہیں: کہ میں ایک بہت بڑا گنہگار ہوں اور مسیح ایک عظیم نجات دہندہ ہے۔‘

پھر اِن کے بعد سی۔ ایچ۔ سپرجئین کو بھی یاد رکھیں۔ سولہ برس کی عمر میں، سپرجئین نے اپنے پہلے واعظ کی منادی کی تھی جو کہ سادہ سا نجات کا ایک پیغام تھا۔ ’’لیکن اُن کا اندازِ بیان واضح تھا، اور لوگوں کی دِلوں تک پہنچا تھا‘‘ (پال چیپل)۔ ہم کہاں پر منادی کرنے کے لیے سپرجیئن کے پُراِسرار بُلاہٹ کے بارے میں پڑھتے ہیں؟ یہ کہیں نہیں ملتی! ہمیں پڑھنے سے صرف اِتنا پتا چلتا ہے کہ 15 برس کی عمر میں، سپرجیئن ہفتے کے روز انجیل کے کتابچے بانٹا کرتے تھے، اور سنڈے سکول میں پڑھاتے تھے۔ اُنہیں قریبی گاؤں کے لوگوں کے لیے گرجا گھر کی منادی کرنے والی منسٹری کے مدد کرنے کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔ صرف 16 برس کی عمر میں سپرجیئن نے کسی کے گھر میں اپنے پہلے واعظ کی منادی کی تھی۔ جلد ہی وہ ہفتے میں کئی کئی بار منادی کر رہے تھے۔

یہ لیں یہ بھی آپ کو مِل گیا! جارج وائٹ فیلڈ کو منادی کے لیے ایک اندرونی، پُراِسرار تجربے کے ذریعے سے ’’بُلاہٹ‘‘ نہیں ہوئی تھی۔ نا ہی جان بنیعن کو ہوئی تھی! اور نا ہی جان نیوٹن کو ہوئی تھی اور نا ہی ’’مبلغین کے شہزادے‘‘ سی۔ ایچ۔ سپرجیئن کو ہوئی تھی۔ ان عظیم ترین مبلغین میں سے ہر ایک کو دوسروں کے ذریعے سے منادی کے لیے بھرتی کیا گیا تھا! اور پہلی صدی سے اب تک یہ اسی طرح سے رونما ہوا ہے۔

’’کلیسیا کے لوگ بکھر جانے کے بعد جہاں جہاں گئے، کلام کی خُوشخبری سناتے پھرے۔ چنانچہ فِلپس سامریہ کے ایک شہر میں گیا اور وہاں مسیح کی منادی کرنے لگا‘‘ (اعمال 8:4،5).

میں آپ کو بتا چُکا ہوں کہ ماضی کے عظیم ترین مبلغین جیسے کہ امبروز، وائیٹ فیلڈ، جان نیوٹن، بنیعئن اور سپرجیعئن سب کو دوسروں کے ذریعے سے بھرتی کیا گیا تھا اور جو سرے سے کسی بھی جذباتی ’’جنون‘‘ کے پیدا ہونے کے ذریعے سے ’’پُراسرار طور پر‘‘ بُلائے نہیں گئے تھے!

ابتدائی کلیسیا اُن لوگوں کے ساتھ لبریز تھی جو جہاں کہیں بھی گئے کلام کی منادی کرتے رہے۔ اُن میں سے کچھ جیسے کہ فلپس سامریہ میں ’’وہاں کے لوگوں کو مسیح کی خوشخبری‘‘ دینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ گاہے بگاہے بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ خُدا کی وفاداری ہے جو بشروں کے جیتنے والے پیدا کرتی ہے! کافی عرصہ پہلے بِلی گراہم نے کہا، ’’کیا آپ مسیح کی خاطر اپنی تمام تر قوت کو بروئے کار لانے کے لیے تیار ہیں؟ آپ کے پاس تحائف اور قدرتی صلاحیت کی ایک ورائٹی ہے جو دُنیا کو بدل سکتی ہے اگر مسیح کے ہاتھوں میں سونپ دی جائے۔‘‘ پھر گراہم نے کہا، ’’خُدا ہمیں ایک کُھلا دروازہ فراہم کر چکا ہے اور وہ ہمیں وہ اُوزار اور ٹیکنالوجی فراہم کر چکا ہے جو ساری دُنیا کو چھو سکتے ہیں اور آپ اور میں واقعی میں یہ کرنا چاہیں۔‘‘ ڈاکٹر گراہم کے کچھ کمزور پہلو ہیں۔ لیکن اُنہوں نے گنہگاروں کو مسیح کی منادی کرتے رہنا جاری رکھا جب تک وہ تقریباً 100 برس کے نہ ہو گئے!

احکامات کو برقرار رکھنے کی بات کریں تو وہ نوجوان مالدار حکمران وفادار تھا۔ لیکن وہ خود کو مسیح کے لیے کھلے طور پر وقف کرنے کے لیے رضامند نہیں تھا۔ آپ کو ایک چناؤ کرنا ہوتا ہے۔ کیوںکہ آپ جو کہ غیرنجات یافتہ ہیں یہ زندگی اور موت کے درمیان ایک چناؤ ہوتا ہے۔ کیا آپ مسیح کو ذاتی طور پر اپنے نجات دہندہ کی حیثیت سے جانتے ہیں؟ کیا آپ پُریقین ہیں کہ آپ کے گناہ اُسکے خون کے وسیلے سے جو صلیب پر آپ کے لیے بہایا گیا تھا دُھل کر پاک صاف ہو چکے ہیں؟

آپ کو اپنی گناہ سے بھرپور طرز زندگی سے توبہ کرنی چاہیے۔ آپ کو اپنا تمام وزن مسیح پر ڈال دینا چاہیے۔ آپ کو تنہا مسیح پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے – اور آپ کو کلیسیا کی رفاقت میں مسیح کے لیے وفادار ہونا چاہیے۔

ایکواڈور Ecuador میں انڈیئنز کے لیے جم ایلیٹ Jim Elliot ایک مشنری کی حیثیت سے گئے تھے۔ جب وہ انڈیئنز تک پہنچ گئے تو اُنہیں قتل کر دیا گیا۔ وہ یسوع کے لیے ایک شہید کی موت مرے۔ اپنے مرنے سے پہلے، اُنہوں نے لکھا، ’’وہ کوئی بیوقوف نہیں ہوتا جو وہ دے دیتا ہے جو وہ رکھ نہیں سکتا وہ پانے کے لیے جسے وہ کھو نہیں سکتا۔‘‘ کیا آپ پورے دِل کے ساتھ مسیح کی خدمت کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ ہماری کلیسیا مضبوط ہو پائے، ساری دُنیا میں خوشخبری کو لے جانے کے لیے؟ کیا آپ یسوع کے پاس ابھی آئیں گے؟ وہ اُس کے لیے جینے میں آپ کی مدد کرے گا۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ یسوع پر ابھی بھروسہ کریں گے۔ میں ایک حقیقی مسیحی بننا چاہتا ہوں۔ خُداوندا، بشروں کو جیتنے میں اور ہمیشہ تک تیرے خاطر جینے کے لیے میری مدد فرما! آمین۔

مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور جان نیوٹن کا حمدوثنا کا گیت گائیں۔ آپ کے گیتوں کے ورق پر یہ آخری گیت ہے، ’’حیرت انگیز فضل Amazing Grace۔‘‘

حیرت انگیز فضل! کس قدر میٹھی وہ آواز، جس نے مجھ جیسے تباہ حال کو بچایا!
میں جو کبھی کھو گیا تھا، لیکن اب مل گیا ہوں، اندھا تھا لیکن اب دیکھتا ہوں۔

یہ فضل ہی تھا جس نے میرے دِل کو خوف کرنا سیکھایا، اور فضل نے ہی میرے تمام خوف ختم کیے؛
کس قدر قیمتی وہ فضل ظاہر ہوا تھا اُس لمحے میں جب میں نے پہلی مرتبہ یقین کیا تھا!

بے شمار خطرات، مشقت اور شکنجوں میں سے، میں پہلے سے ہی گزر چکا ہوں؛
یہ فضل ہی مجھے حفاظت سے اتنی دور تک لایا، اور فضل ہی میری گھر تک رہنمائی کرے گا۔

جب ہم وہاں پر دس ہزار سالوں تک رہ چکے ہوں، دمکتے چمکتے سورج کی مانند
تو ہمارے پاس تب بھی خداوند کی ستائش میں گانے کے لیے اتنے کم دِن نہیں ہوں گے جتنے ہم نے جب شروع کیا تھا تب تھے۔
   (’’حیرت انگیز فضلAmazing Grace ‘‘ شاعر جان نیوٹن John Newton ، 1725۔1807).

اگر آپ یسوع پر بھروسہ کرنے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو مہربانی سے بالکل ابھی سامنے تشریف لے آئیں اور یہاں پر کھڑے ہو جائیں !


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔