Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 42 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


انجیلی بشارت جس نے ہزاروں کی کلیسیا کی تعمیر کی

EVANGELISM THAT BUILT A CHURCH OF THOUSANDS
(Urdu)

ڈاکٹر کرسٹوفر ایل۔ کیگن کی جانب سے
by Dr. Christopher L. Cagan

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 19 جنوری، 2020
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, January 19, 2020

’’اِدھر ساؤل نے کلیسیا کو تباہ کرنا شروع کر دیا، وہ گھر گھر جاتا اور مَردوں اور عورتوں کو باہر گھسیٹ کر قید کراتا۔ اِس لیے کلیسیا کے لوگ جہاں جہاں گئے کلام کی خوشخبری سُناتے پھرے‘‘

ابتدائی مسیحیوں کو اذیتیں دی گئی تھیں – خاص طور پر تُرسس کے ساؤل کی جانب سے جو ابھی تک ساؤل ہی تھا، پولوس رسول نہیں بنا تھا۔ اُنہوں نے کیا کیا؟ ’’وہ لوگ جہاں جہاں گئے کلام کی خوشخبری سُناتے پھرے۔‘‘ اُنہوں نے لوگوں کو یسوع کے بارے میں بتایا۔ اُنہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ اُن کے گناہوں کے لیے مرا اور مُردوں میں سے زندہ ہوا۔ اُنہوں نے یسوع کے لیے گواہی دی!

یہی ہے جو میں چاہتا ہوں آپ کریں – یسوع کے لیے گواہی دیں! اِس بات میں مت گھرے رہیں کہ کسی اور نے ہمارے ساتھ کیا کِیا۔ یسوع کے لیے گواہی دیں! آج میں آپ کو یسوع کی گواہی دینے کے لیے ایک راہ دکھاؤں گا۔ میں آپ کو ’’انجیلی بشارت کو تیز رفتاری سے بڑھانا‘‘ سیکھاؤں گا۔ انجیلی بشارت کو تیز رفتاری سے بڑھانا ڈاکٹر ڈی۔ جیمس کینیڈی سے شروع ہوا تھا۔ جب اُنہوں نے شروع کیا تو اُن کے گرجا گھر میں 17 لوگ تھے۔ وہی گرجا گھر انجیلی بشارت کو تیز رفتاری سے بڑھانے کو استعمال کرتے ہوئے ہزاروں [لوگوں] میں بڑھ گیا۔ انجیلی بشارت کو تیز رفتاری سے بڑھانے کے ذریعے سے خوشخبری لاکھوں لوگوں کو دی جا چکی ہے۔ اُن کے مواد کا ترجمہ 70 زبانوں میں ہو چکا ہے اور دُنیا کے ہر مُلک میں لے جایا جا چکا ہے۔ انجیلی بشارت کو تیز رفتاری کے ساتھ بڑھانے کے ذریعے سے، آپ خود سے خوشخبری کو دینا سیکھ سکتے ہیں۔ سُنیں جب میں آپ کو دکھاؤں کیسے ایک گمراہ شخص کو خوشخبری پیش کرنی چاہیے۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

I. پہلی بات، اُس سے اُس کے بارے میں پوچھیں۔ اُسے بولنے دیں۔

دوستانہ رہیں۔ اُس شخص سے اُس کے بارے میں پوچھیں اور اُسے بات کر لینے دیں۔ ایسے سوالات مت پوچھیں جن کا جواب وہ ’’ہاں‘‘ یا ’’نا‘‘ کے ساتھ دے۔ پھر گفتگو اُس کے جواب کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گی۔ ایسے سوالات پوچھیں جنہیں طویل جواب کی ضرورت پڑے۔ اگر وہ کالج میں ہے، تو اُس سے اُس کی وہاں کی زندگی کے بارے میں پوچھیں۔ اُس کے ساتھ گپ شپ لگائیں۔ اُس سے جو اُسے اچھا لگتا ہے اُس کے بارے میں بات کر لینے دیں۔ اُسے ٹوکیں مت یا اُسے تعلیم دینے کی کوشش مت کریں۔ اُسے مت بتائیں کہ وہ کچھ غلط کر رہا ہے، چاہے وہ [غلط] کر بھی رہا ہو۔ وہ آپ کی نہیں سُنے گا اگر آپ ایسا کریں گے۔ بس خاموش رہیں اور اُسے بولنے دیں۔ دوستانہ رہیں۔ پھر آپ کو بولنے کا وہ حق مل جائے گا۔ اُس کے ساتھ اچھی طرح پیش آئیں۔

اُس کے ساتھ دوستانہ اور مثبت باتیں کریں۔ آپ کہہ سکتے ہیں، ’’وہ واقعی میں دلچسپ ہے‘‘ یا ’’ مجھے اُس کے بارے میں مذید اور بتائیں۔‘‘ اُس کے بات کر چکنے کے بعد آپ کہہ سکتے ہیں، ’’کیا میں آپ سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟‘‘ خوشخبری کا تعارف یا پیش کیا جانا دو سوالات کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔

II. دوسری بات، اُس سے دو سوال پوچھیں۔

پہلا، ’’کیا آپ اپنی روحانی زندگی میں ایسے مقام تک پہنچے جہاں یقینی طور پر جان جاتے کہ اگر آپ مر جائیں تو آپ جنت میں جائیں گے، یا کہ یہ کچھ ایسا ہے جس پر آپ ابھی بھی کام کر رہے ہیں؟‘‘ وہ سوال احتیاط کے ساتھ پوچھا جاتا ہے۔ یہ لوگوں کو ٹھیس نہیں پہنچاتا۔ بے شمار لوگ اقرار کر لیں گے کہ وہ اپنی روحانی زندگی پر ’’ابھی تک کام کر رہے‘‘ ہیں۔ کچھ تو کہیں گے اُنہوں نے اُس کے بارے میں زیادہ سوچا ہی نہیں ہے۔

اُس شخص سے مت کہیں کہ وہ غلط ہے۔ چاہے وہ غلط ہی ہو۔ مت کہیں، ’’آپ کو بہتر طور پر سوچنا تھا کہ جب آپ مر جائیں گے تو کیا ہوتا ہے!‘‘ یہ اِس بات کو کہنے کا وقت نہیں ہے۔ گرجا گھر میں ایک واعظ اُس کو یہ بات بتا سکتا ہے، لیکن آپ ایسا اپنی شخصی گواہی میں مت کریں۔ جو وہ کہتا ہے اُس کو واپس اپنی زندگی سے جوڑیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں، ’’میں بھی اُس پر کام کر رہا تھا۔‘‘ یا آپ کہہ سکتے ہیں، ’’میں نے بھی ایک طویل مدت تک اِس کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔‘‘ آپ کہہ سکتے ہیں، ’’پھر مجھے کچھ بہت شاندار ملا۔ کیا میں آپ کو بتا سکتا ہوں کیسے مجھے یقینی طور پر پتا چلا کہ میں دائمی زندگی پا چکا ہوں؟‘‘

پھر ایک اور سوال پوچھیں، ’’فرض کریں آپ آج مر جاتے ہیں اور خُدا کی حضوری میں پیش ہوتے ہیں اور وہ آپ سے کہتا ہے، ’میں تمہیں کیوں اپنی جنت میں آنے دوں؟‘ آپ خُدا سے کہا کہیں گے؟‘‘ بہت سے لوگ کچھ اِس طرح کا کہیں گے، ’’میں ایک نیک شخص ہوں، ’’میں دس احکمات کی پاسداری کرتا ہوں،‘‘ ’’میں اپنے تئیں پوری کوشش کرتا ہوں،‘‘ یا ’’میں اِتنا ہی نیک ہوں جتنے زیادہ تر لوگ ہوتے ہیں،‘‘ یا کچھ لوگ کہیں گے، ’’میں نے اِس کے بارے میں کبھی اِتنا زیادہ نہیں سوچا،‘‘ ’’میں خدا میں یقین نہیں رکھتا ہوں،‘‘ یا ’’جب تم مر جاتے ہو، تو تم مُردہ ہوتے ہو۔‘‘ وہ جو کچھ بھی کہتا ہے، اُس کے ساتھ بحث مت کریں۔ اُسے مت بتائیں وہ کس طرح سے غلط ہے۔ بس کہیں، ’’میں یہی سوچا کرتا تھا۔‘‘

پھر کہیں، جب تم نے پہلے سوال کا جواب دیا تھا، میں نے سوچا تھا میرے پاس تمہیں بتانے کے لیے واقعی میں کوئی اچھی خبر تھی۔ لیکن میں جان گیا ہوں کہ میرے پاس [واقعی میں ایک اچھی خبر] ہے۔‘‘ وہ اچھی خبر یہ ہے، ’’جنت مفت ہوتی ہے۔‘‘ پھر آپ خوشخبری کو پیش کریں۔ تعارف میں پانچ نکات ہیں۔ ہر موضوع یا پوائنٹ کے دو حصے ہیں۔

III. تیسری بات، اُس کو فضل کے بارے میں بتائیں۔

1. جنت ایک مفت کا تحفہ ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’گناہ کی مزدوری موت ہے، خُدا کی بخشش ہمیشہ کی زندگی ہے‘‘ (رومیوں6:23z)۔ (’’رومیوں6:23‘‘ آیت مت بولیں۔ اُس کو بس بائبل کے الفاظ بتائیں۔)۔ جنت مفت ہے۔ یہ مفت کا ایک تحفہ ہے۔

2. اِس کو کمایا نہیں جاتا یا اِس کا مستحق نہیں ہوا جاتا۔ میں سوچا کرتا تھا کہ مجھے جنت میں جانے کے لیے کافی نیک ہونا پڑے گا، اِس کے لیے کام کرنا پڑے گا اور اِس کا مستحق بننا پڑے گا۔ لیکن مجھے پتا چلا کہ جنت ایک مفت تحفہ ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’تمہیں ایمان کے وسیلے سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری کوششوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ خدا کی بخشش ہے اور نہ ہی یہ تمہارے اعمال کا پھل ہے کہ کوئی فخر کر سکے‘‘ (افسیوں2:8۔9)۔ اگر کوئی آپ کو آپ کی سالگرہ پر تحفہ دیتا ہے اور آپ اِس کے لیے اُسے پیسے دیتے ہیں، تو پھر وہ تحفہ تو نہیں رہتا نا، کہ رہتا ہے؟ دائمی زندگی کا تحفہ مفت ہے۔ آپ کو اِس کو پانے کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی یا اِس کا مستحق نہیں بننا پڑتا۔

IV. چوتھی بات، اُس کو انسان کے بارے میں بتائیں۔

1. انسان گنہگار ہوتا ہے۔ بائبل تعلیم دیتی ہے کہ ہم سب نے گناہ کیا ہوتا ہے۔ یہ کہتی ہے، ’’سب نے گناہ کیا ہے اور خدا کے جلال سے محروم ہیں‘‘ (رومیوں3:23)۔ ہم سوچوں میں، باتوں میں، وہ کام جو ہم کرتے ہیں اُن میں خدا کے معیار پر پورے نہیں اُترتے ہیں۔ کچھ ایسے کام ہیں جو ہم نے کیے ہیں جنہیں ہمیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔ کچھ ایسی باتیں ہیں جو ہم نے نہیں کیں جو ہمیں کرنی چاہیے تھیں۔ (’’جان بوجھ کے گناہ‘‘ یا ’’بھول چوک کے گناہ‘‘ مت کہیں۔ آج کل بے شمار لوگوں کو نہیں معلوم ’’جان بوجھ کے‘‘ اور ’’بھول چوک کے‘‘ کا مطلب ہوتا کیا ہے۔)

2. انسان خود کو نجات نہیں دلا سکتا۔ کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو اِتنا اچھا ہو کہ جنت میں جا پائے۔ ہمیں ایسا کرنے کے لیے کامل ہونا پڑے گا۔ یسوع نے کہا، ’’تم کامل بنو جیسا کہ تمہارا آسمانی باپ کامل ہے‘‘ (متی5:48)۔ چلیں فرض کر لیتے ہیں کہ آپ عملی طور پر ایک فرشتے ہیں اور آپ نے ایک دِن میں صرف تین گناہ کیے ہیں – جو آپ نے کیا، جو آپ نے کہا، اور جو آپ نے سوچا اُس میں۔ اگر آپ کی عمر 70 برس تک کی ہوتی ہے، تو وہ 70,000 سے زیادہ گناہ ہو جائیں گے۔ کوئی بھی اُس قسم کے ریکارڈ کے ساتھ خدا کی حضوری میں آنا نہیں چاہے گا۔

V. پانچویں بات، اُسے خدا کے بارے میں بتائیں۔

1. خُدا رحمدل ہے۔ وہ ہمیں سزا دینا نہیں چاہتا ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’خدا محبت ہے‘‘ (1یوحنا4:8)۔ لیکن اِسی عرصے میں، خُدا منصف بھی ہے۔

2. خُدا منصف ہے۔ بائبل کہتی ہے خُدا ’’مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتا‘‘ (خروج34:7)۔ اُسے گناہ کو سزا دینا ہی ہوتی ہے۔ کیا ہو اگر کسی سے قتل سرزد ہوا ہو اور جج نے بس کہا، ’’میرے خیال میں مجھے تمہیں چھوڑ دینا چاہیے۔‘‘ وہ تو صحیح نہیں ہو گا۔ وہ تو انصاف نہیں ہو گا۔ خُدا کو گناہ کے ساتھ نمٹنا ہوتا ہے۔ اُسی وقت کے دوران، خُدا ہمیں سزا نہیں دینا چاہتا کیوں کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے۔ جواب کیا بنتا ہے؟
     خُدا نے، اپنی حکمت میں، ایک حل نکالا۔ خدا نے اِس مسئلے کا حل ایک ہستی یسوع میں رکھا۔

VI. چھٹی بات، اُسے یسوع کے بارے میں بتائیں۔

1. یسوع کون ہے۔ یسوع خُدا ہے، تثلث کی دوسری ہستی۔ وہ انسان بھی ہے۔ وہ انسان کے روپ میں خُدا ہے۔ بائبل کہتی ہے، یسوع کے بارے میں کلام کی حیثیت سے بات کرتے ہوئے، ’’ابتدا میں کلام تھا، اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا… اور کلام متجسم ہوا اور ہمارے درمیان خیمہ زن ہوا‘‘ (یوحنا1:1، 14)۔

2. یسوع نے کیا کِ`یا۔ وہ صلیب پر قربان ہوا اور مُردوں میں سے ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے جی اُٹھا اور جنت میں ہمارے لیے ایک جگہ خریدی۔ تصور کریں ہر وہ کام جو میں اب تک کر چکا ہوں، میرے سارے کے سارے گناہ، ہر کام جو میں نے کیا، یا سوچا، یا محسوس کیا – سب کا سب ایک کتاب میں لکھا جا چکا ہے۔ یہ ہے۔ بائبل کہتی ہے کسی ایک دِن وہ کتابیں کھولی جائیں گی ہر کسی کا انصاف اُس کتاب میں لکھی گئی باتوں کے ذریعے سے کیا جائے گا۔ گناہ کی وہ کتاب ہی میرا مسئلہ ہے۔ وہ مجھے جنت سے باہر رکھتی ہے۔
     یسوع نے مسئلے کو حل کر دیا۔ بائبل کہتی ہے، ’’ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے، ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی راہ لی اور خُداوند نے ہم سب کی بدکاری [گناہ] اُس [یسوع] پر ڈال دی‘‘(اشعیا53:6)۔ یسوع نے ہمارے سارے گناہ خود پر لاد دیے۔ وہ ہماری جگہ پر قربان ہوا۔ اُس نے ہمارے گناہوں کی ادائیگی کی۔ جب وہ مرا تو اُس کو ایک قبر میں دفنایا گیا لیکن ہمیں دائمی زندگی بخشنے کے لیے وہ تیسرے روز مُردوں میں سے زندہ ہو گیا۔ یسوع ہمیں جنت کا تحفہ مفت میں بخشتا ہے۔ ہمیں اِسے یسوع میں ایمان کے وسیلے سے – بھروسے کے ذریعے پاتے ہیں۔

VII. ساتویں بات، اُسے ایمان (بھروسے) کے بارے میں بتائیں۔

1. وہ کیا نہیں ہے۔ ایمان ذہنی رضامندی نہیں ہے (وہ الفاظ ’’عقلی قبولیت‘‘ انتہائی پیچیدہ ہیں)۔ بے شمار لوگ یسوع میں ایسے ہی یقین کرتے ہیں جیسے وہ جارج واشنگٹن میں کرتے ہیں۔ وہ یقین کرتے ہیں کہ یسوع نے تاریخ میں زندگی بسر کی تھی لیکن وہ اُس پر ابھی اُن کے لیے کچھ کرنے پر بھروسہ نہیں کر رہے ہیں۔ یہ صرف ایک ذہنی رضامندی ہے۔ بدروحیں یقین کرتی ہیں کہ یسوع نے زندگی بسر کی تھی – اور بدروحوں نے یقین کیا تھا کہ یسوع خُدا کا بیٹا ہے، لیکن اُنہوں نے نجات نہیں پائی تھی۔
     اِس زندگی میں ایک مسئلے کے ساتھ آپ کی مدد کرنے کے لیے ایمان کوئی عارضی بھروسہ نہیں ہے۔ بے شمار لوگ یسوع پر اُن کی صحت میں یا اُن کے پیسوں میں یا کسی دوسرے مسئلے میں مدد کرنے کے لیے بھروسہ کر چکے ہیں۔ لیکن وہ چیزیں جب آپ مر جائیں گے تو ختم ہو جائیں گے۔

2. وہ کیا ہے۔ ایمان کا مطلب تنہا یسوع مسیح پر آپ کے گناہوں کو معاف کرنے کے لیے اور آپ کو ہمیشہ کی زندگی بخشنے کے لیے بھروسہ کرنا ہوتا ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’خُداوند یسوع مسیح میں ایمان [بھروسہ رکھ] لا تو تو نجات پا لے گا‘‘ (اعمال16:31)۔
     لوگ خود پر بھروسہ کرتے ہیں، یا وہ یسوع میں بھروسہ کرتے ہیں۔ میں اُسی چیز میں بھروسہ کر رہا تھا جس میں آپ کر رہے تھے – خود اپنی ذات میں، ایک اچھی زندگی بسر کرنے کے لیے اپنی کوششوں میں۔ بھر مجھے احساس ہوا کہ مجھے خود پر بھروسہ کرنا چھوڑنے کی ضرورت تھی اور یسوع میں بھروسہ کرنا تھا۔
     آئیے مجھے آپ کو دکھا لینے دیں۔ (ایک خالی کرسی یا بینچ کی طرف اشارہ کریں۔ یہ خوشخبری کی پیشکش میں سب سے زیادہ اہم عکاسی ہے۔) آپ یقین رکھتے ہیں کہ یہ ایک کرسی ہے۔ کیا آپ یقین کرتے ہیں کہ اگر آپ اِس پر بیٹھیں گے تو یہ آپ کو قابو کرنے میں مدد دے گی؟ (جی ہاں)۔ لیکن یہ مجھے ابھی تو قابو نہیں کیے ہوئے ہے، کیونکہ میں اِس پر بیٹھا ہوا تو نہیں ہوں۔ میں کرسی پرکیسے بھروسہ کر سکتا ہوں؟ اُس پر بیٹھنے کے ذریعے سے۔ کافی مدت تک میں نے یقین کیا یسوع وجودیت رکھتا تھا لیکن میں کافی نیک ہونے کے لیے خود پر بھروسہ کر رہا تھا۔ آپ نے کہا، ’’میں جو بہترین کر سکتا ہوں کرنے کی کوشش کرتا ہوں (یا جو بھی اُس شخص نے کہا)۔‘‘ آپ کس پر بھروسہ کر رہے تھے؟ (خود پر)۔
     دائمی زندگی پانے کے لیے، آپ اپنے بھروسے کو خود سے ہٹا کر یسوع پر رکھتے ہیں۔ (کرسی میں بیٹھیں۔) اب میں کرسی میں بیٹھ رہا ہوں۔ اب میں کرسی پر مجھے قابو کرنے کے لیے بھروسہ کر رہا ہوں۔
     آپ نے ابھی ابھی وہ عظیم ترین کہانی جو کبھی بتائی گئی سُنی، سب سے عظیم ترین پیشکش کے بارے میں جو کبھی دی گئی اُس سب سے عظیم ہستی کی جانب سے جس نے کبھی زندگی بسر کی تھی۔
     کیا آپ ہمیشہ کی زندگی کا تحفہ قبول کرنا چاہیں گے؟ (اگر وہ شخص کہتا ہے ’’نہیں،‘‘ یا ’’میں اِس کے بارے میں سوچوں گا،‘‘ تو اُس کے ساتھ دوستانہ روئیہ اختیار کریں اور اُسے گرجا گھر آنے کی دعوت دیں۔ اُس کے نام اور فون نمبر حاصل کریں اگر آپ وہ پہلے ہی سے حاصل نہیں کر چکے ہیں۔)۔ اگر وہ شخص کہتا ہے ’’جی ہاں،‘‘ تو اُس کے لیے دعا مانگیں۔

VIII. آٹھویں بات، یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے اُس کی رہنمائی کریں۔

1. اُس کے لیے دعا مانگیں۔ ’’خداوندا، میں دعا مانگتا ہوں کہ تو [اُس کا نام لیں] کو ہمیشہ کی زندگی کا تحفہ بخشے گا۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ تو اُسے یسوع کی جانب کھینچ لائے گا۔ اِسے یسوع پر بھروسہ کرنے کے لے ایمان عطا کر۔ یسوع کے نام میں، آمین۔‘‘
     یسوع نے کہا، ’’جہاں دو یا تین میرے نام میں اکٹھے ہوں میں اُن کے درمیان میں موجود ہوں گا‘‘ (متی18:20)۔ یہاں پر ہم دو ہیں، اِس لیے یسوع یہاں پر ہمارے ساتھ ہمیں سُننے کے لیے موجود ہے۔ اب یسوع سے میرے ساتھ مِل کر دعا مانگیں۔

2. ایک وقت میں ایک ہی جملے کے ساتھ یسوع سے دعا مانگنے میں اُس کی رہنمائی کریں۔ اُس کے ہر جملے کو آپ کے کہنے کے بعد دہرانے کے لیے کہیں۔ یسوع سے صرف یہی دعا مانگیں جو میں کہتا ہوں، ’’یسوع، میں تجھ پربالکل ابھی ہی بھروسہ کرنا چاہتا ہوں۔ میں ایک گنہگار ہوں۔ میں خود پر اور اپنی خود کی نیکیوں پر بھروسہ کرتا رہا ہوں۔ اب میں خُداوند یسوع تجھ پر بھروسہ کرنا چاہتا ہوں۔ میں تجھ پر ابھی ہی بھروسہ کرتا ہوں۔ میں یقین کرتا ہوں کہ تو میرے گناہوں کی ادائیگی کے لیے قربان ہو گیا۔ میں خود اپنی اچھائیوں اور اپنے گناہوں سے مُنہ موڑتا ہوں۔ میں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ میں دائمی زندگی کے مفت تحفے کو قبول کرتا ہوں۔ آمین۔

3. اُس کے لیے دوبارہ دعا مانگیں۔ اب، میں آپ کے لیے دعا مانگوں گا۔ ’’یسوع تو وہ دعا سُن چکا ہے جو میرا دوست مانگ چکا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنی روح میں سُن پائے گا۔ تیری آواز کو کہتے ہوئے، ’تیرے گناہ معاف ہوئے۔‘ ’وہ جو مجھے میں ایمان لاتا ہے کبھی فنا نہیں ہو گا بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے گا۔‘ یسوع کے نام میں مَیں دعا مانگتا ہوں۔ آمین۔‘‘
     یسوع نے کہا، ’’وہ جو مجھ میں ایمان لائے گا ہمیشہ کی زندگی پائے گا‘‘ (یوحنا6:47)۔ اگر آپ نے یسوع پر بھروسہ کیا ہے تو وہ آپ کے گناہوں کو معاف کر چکا ہے اور آپ کے پاس بالکل ابھی ہی سے دائمی زندگی ہے۔
     (اُسے یوحنا کی انجیل دیں۔)۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ یوحنا کی انجیل کو پڑھیں، ہر روز ایک باب۔ کُل 21 باب ہیں۔ آپ ایک دِن میں ایک باب پڑھیں اور صرف تین ہفتوں میں آپ یوحنا کی انجیل پڑھ چکے ہوں گے۔
     اگر وہ گرجا گھر میں نہیں آتا ہے، تو اُسے بالکل اِسی وقت مدعو کریں۔ اُسے بتائیں کہ گرجا گھر میں کتنا اچھا ہوتا ہے اور آپ کس قدر چاہتے ہیں کہ اُسے وہاں پر دیکھیں۔ اگر آپ کے پاس اُس کا ایڈریس یا فون نمبر نہیں ہے تو وہ اُس سے لیں اور اُسے لکھ لیں۔ پھر اُسے دوبارہ کچھ دیر بعد دہرانے دیں اِس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ آپ نے دُرست لکھا ہے۔ اُس کے گرجا گھر آنے کے لیے سواری کا بندوبست کریں۔


ساری دُنیا میں یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے لوگوں کے رہنمائی کے لیے اِس طریقہ کار کو استعمال کیا جا چکا ہے۔ خداوند آپ کو برکت عطا فرمائے جب آپ خوشخبری کو بانٹیں۔ اِس مسودے کے بالکل آخر میں، میں آپ کو اِس پیغام کا لُبِ لُباب پیش کروں گا۔ اُس خاکے کی مدد سے نکات کو یاد رکھنا اور اُن کا مطالعہ کرنا آسان ہوتا ہے۔

آپ میں سے کچھ نے یسوع پر بھروسہ نہیں کیا ہے۔ آپ اُس خوشخبری کو سُن چکے ہیں کہ کیسے یسوع ہمارے گناہوں کی ادائیگی کے لیے صلیب پر قربان ہو گیا تھا۔ اگر آپ اُس پر بھروسہ کرتے ہیں، تو آپ نجات پا چکے ہیں اور آپ کے پاس دائمی زندگی ہے۔ اگر آپ یسوع پر بھروسہ کرنے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو مہربانی سے واعظ کے اختتام پر کمرے کے سامنے تشریف لے آئیں۔ آمین۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب

انجیلی بشارت جس نے ہزاروں کی کلیسیا کی تعمیر کی

EVANGELISM THAT BUILT A CHURCH OF THOUSANDS

ڈاکٹر کرسٹوفر ایل۔ کیگن کی جانب سے
by Dr. Christopher L. Cagan

I.     پہلی بات، اُس سے اُس کے بارے میں پوچھیں، اُسے بات کرنے دیں۔

II.    دوسری بات، اُس سے دو سوالات پوچھیں۔

1. کیا آپ کو یقین ہے آپ جنت میں جا رہے ہیں، یا کیا آپ ابھی تک اِس پر کام کر رہے ہیں؟

2. اگر آپ مر جاتے ہیں اور خُدا کی حضوری میں پیش ہوتے ہیں اور وہ آپ سے پوچھتا ہے، ’’میں تمہیں کیوں اپنی جنت میں آنے دوں؟‘‘ آپ خُداوند سے کیا کہیں گے؟

III.   تیسری بات، اُسے فضل کے بارے میں بتائیں۔

1. جنت مفت کا تحفہ ہے، رومیوں6:23 ۔

2. اِسے کمایا نہیں جا سکتا یا اِس کا مستحق نہیں بنا جا سکتا، افسیوں2:8۔9 .

IV.   چوتھی بات، اُسے انسان کے بارے میں بتائیں۔

1. انسان ایک گنہگار ہے، رومیوں3:23 .

2. انسان خود کو نجات نہیں دلا سکتا، متی5:48 ۔

V.    پانچویں بات، اُسے خُداوند کے بارے میں بتائیں۔

1. خُداوند رحم سے بھرپور ہے، 1یوحنا4:8 .

2. خُداوند منصف ہے، خروج34:7 .

VI.  چھٹی بات، اُسے یسوع کے بارے میں بتائیں۔

1. یسوع کون ہے، یوحنا1:1، 14 .

2. یسوع نے کیا کیا، اشعیا53:6 .

VII.  ساتویں بات، اُسے ایمان (بھروسے) کے بارے میں بتائیں۔

1. یہ کیا نہیں ہوتا ہے۔

2. یہ کیا ہے۔

VIII. آٹھویں بات، اُس کی یسوع پر بھروسہ کرنے میں رہنمائی کریں۔

1. اُس کے لیے دعا مانگیں، متی18:20 .

2. ایک وقت میں ایک جملے کے ذریعے سے یسوع سے دعا مانگنے کے لیے اُس کی رہنمائی کریں۔

3. اُس کے لیے دوبارہ دعا کریں، یوحنا6:47 .