Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 42 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


رسول حقیقی کرسمس کے بارے میں بتاتا ہے

THE APOSTLE SPEAKS OF THE REAL CHRISTMAS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خداوند کے دِن کی شام، 22 دسمبر، 2019
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, December 22, 2019

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا، جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (1تِیمُتھیُس1:15)۔

یہ پاک صحائف کی ایک انتہائی اہم آیت ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کیوں یسوع دُنیا میں آیا۔ ’’مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا۔‘‘ پہلے کرسمس پر اُس کی پیدائش ہمیں ایک اور چُھٹی دینے کے لیے نہیں ہوئی تھی۔ یہ کہنا کہ یسوع ہمیں ایک اور تعطیل دینے کے لیے پیدا ہوا تھا پاک صحائف کو گھما پھرا کر پیش کرنا ہے! وہ یہ سب کچھ کرنے کے لیے دُنیا میں نہیں آیا تھا! ’’مسیح یسوع گنہگارون کو نجات دلانے کے لیے دُنیا میں آیا تھا۔‘‘ وہ اِس لیے نہیں آیا تھا کہ پھر سے ایک اور ’’تعطیل‘‘ دے دے۔ حالانکہ اُس نے ایسا کیا، اگر ہم گرجا گھر میں کرسمس کو مناتے۔ لیکن مسیح یسوع ہمیں شراب پی کر نشے میں ہونے یا کسی دیوانی پارٹی میں جانے کا ایک بہانہ پیش کرنے کے لیے نہیں آیا تھا۔ ’’مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا۔‘‘ مسیح یسوع دُنیا میں کوئی بہت عظیم اُستاد بننے کے لیے ہیں آیا تھا، حالانکہ اُس نے ایسا کیا۔ ’’مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا۔‘‘ لیکن یہ اُس کا خاص مقصد نہیں تھا۔ مسیح یسوع دُنیا میں کوئی بہت عظیم اخلاقی مثال بننے کے لیے نہیں آیا تھا، حالانکہ اُس نے یہ بھی کیا۔ ’’مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا۔‘‘

کچھ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ میں خود کے بارے میں شیخیاں ماروں۔ مجھے ایسا کبھی بھی نہیں کرنا چاہیے۔ میں اِس لیے مشنری نہیں بنا تھا کہ میں ایک نیک لڑکا تھا۔ جب میں نے اپنی گواہی دی تو میں نے کبھی بھی اِس بات پر اِصرار نہیں کیا کہ میں کِتنا ’’نیک یا اچھا‘‘ تھا۔ میں ہمیشہ لوگوں کو بتانا شروع کرتا ہوں کہ میں کِتنا بُرا تھا۔ ڈاکٹر جے ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے کہا، ’’جب آپ گواہی دو تو اِس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ لوگوں کو یہ نہ بتائیں آپ کتنے شاندار ہیں یا جو کچھ بھی آپ حاصل کر چکے ہیں۔ اُنہیں بتائیں آپ کس وقت ایک گنہگار تھے اور کہ مسیح نے آپ کو نجات دلائی۔ یہ انتہائی اہم ہے‘‘ (1تِیمُتھیُس1:15)۔ ’’مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا، جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں۔‘‘

پہلے کرسمس پر ایک فرشتے نے یوسف کو بتایا، اور تو اُس کا نام یسوع رکھنا: کیونکہ وہ اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دلائے گا‘‘ (متی1:21)۔ اُس فرشتے نے یوسف کو بتایا تھا کہ اُسے مریم کے بیٹے کا نام ’’یسوع‘‘ رکھنا چاہیے، کیوںکہ یسوع کا مطلب ’’نجات دہندہ‘‘ ہوتا ہے۔ ہماری مرکزی تلاوت کہتی ہے، ’’مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا۔‘‘ اِس لیے، یسوع کا مطلب ’’نجات دہندہ‘‘ ہوتا ہے۔ لیکن پولوس رسول اُسے ’’مسیح یسوع‘‘ پکارتا ہے۔ ’’یسوع‘‘ کا مطلب نجات دہندہ ہوتا ہے، لیکن ’’مسیح‘‘ کا مطلب ’’مسح کیا ہوا‘‘ ہوتا ہے۔ ’’مسیح‘‘ یونانی میں مسیحا کا خطاب ہے۔ اِس لیے پولوس رسول ہمیں بتاتا ہے کہ ’’مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا‘‘ – یعنی کہ ’’مسیحا یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا‘‘ (1تِیمُتھیُس1:15)۔ یسوع نے زکائی کو بتایا تھا کہ وہ ’’گمشدہ کو ڈھونڈنے اور بچانے آیا ہے‘‘ (لوقا19:10)۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

مجھے چارلس ڈکنز کا کرسمس کا گیت A Christmas Carol پڑھنا بہت پسند ہے۔ لیکن جب میں اِسے پڑھتا ہوں، تو میں ہمیشہ تعجب کرتا ہوں کہ آیا ڈِکنز ایک حقیقی مسیحی تھا۔ کیوں؟ کیونکہ یہ ہمیں ایک جھوٹا تصور پیش کرتا ہے کہ کیسے ایک شخص نجات پاتا ہے۔ کنجوس بوڑھا ’’بچایا جاتا‘‘ ہے جب بے شمار فرشتے اُسے اُس کے بارے میں سچائی بتاتے ہیں۔ وہ حقیقی خوشخبری کی ایک گمراہی ہے۔ میں زندگی میں کوئی سے بھی ایسے لوگوں کو نہیں جانتا جُنہیں فرشتے کے ذریعے سے اُن کی گمراہ زندگیوں کے بارے میں سچائی دکھانے سے بچایا گیا ہو۔ جس کسی کو بھی میں جانتا ہوں، جو سچے طور پر بچایا گیا، اُسے ’’مسیح یسوع [جو] گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا‘‘ کے ذریعے سے بچایا گیا تھا، جیسا کہ پولوس رسول ہمیں ہماری تلاوت میں بتاتا ہے،

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا، جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (1تِیمُتھیُس1:15)۔

میں نے انتہائی شدید کوشش کی، ایک نیک لڑکا ہونے کے ذریعے سے نجات پانے کے لیے انتہائی ہی شدید کوشش کی۔ لیکن میں اپنے دِل میں جانتا تھا اِس سے کام نہیں بنا تھا۔ چاہے میں کِتنی ہی شدید کوشش کرتا، میں جانتا تھا میں نہیں کر پاؤں گا! کچھ نہ کچھ موجود نہیں تھا! میں یہاں تک کہ ایک مشنری بننے کے لیے بائبل کے کالج میں بھی پڑھنے کے لیے گیا! لیکن کچھ نہ کچھ موجود نہیں تھا، اور میں یہ بات جانتا تھا! کیا موجود نہیں تھا؟ مسیح یسوع موجود نہیں تھا!

میں بائبل کالج میں ناکام ہو رہا تھا اور میں یہ بات جانتا تھا۔ اِس سے بھی بڑھ کر، میں جانتا تھا کہ ایک مسیحی کی حیثیت سے میں بُری طرح سے ناکام رہا تھا۔ پھر ایک صبح میں نے ایک چھوٹے سے گرجا گھر میں صبح کی عبادتوں میں حاضر ہونا شروع کیا۔ ڈاکٹر چارلس جے۔ ووڈبریج Dr. Charles J. Woodbridge اُس چھوٹے سے گرجا گھر کی ساری عبادتوں میں منادی کیا کرتے تھے۔ ہر صبح اُن کے بولنے سے پہلے ہم چارلس ویزلی (1707۔1788) کا لکھا ہوا حمدوثنا کا ایک گیت گایا کرتے تھے۔ بار بار دہرائے جانے والے اُن آخری چند الفاظ نے نہ صرف میری توجہ اپنی جانب کھینچ لی بلکہ اُنہوں نے میری زندگی بھی بدل ڈالی۔ درج ذیل حمدوثنا کے اُس گیت کا کچھ ہے۔

کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ مجھے پانا چاہیے
   نجات دہندہ کے خون میں ایک منافع؟
وہ میرے لیے مرا، کون اُس کے دُکھ کا سبب بنا؟
   میرے لیے، کس نے اُس کو موت کے تعاقب میں ڈالا؟
حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا؟
حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا؟

یہ سب سے بڑا اسرار ہے! کہ لافانی مر جاتا ہے!
   کون اُس کے حیرت انگیز مقصد کی تحقیق کر سکتا ہے؟
بیکار میں پہلوٹھی فرشتانہ ہستی کوشش کرتی ہے
   کہ الہٰی محبت کی گہرائیوں کو جانچ سکے!
یہ ہی سارا رحم ہے! زمین کو اِس کی ستائش کر لینے دے،
   فرشتانہ ذہنوں کو مذید اور تفتیش نہ کرنے دے۔
حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا؟

اُس نے اپنے باپ کا تخت عالم بالا ہی میں چھوڑ دیا،
   اُس کا فضل اِس قدر آزاد، اِس قدر لا محدود؛
ماسوائے محبت کے خود کو تمام کے لیے خالی کر دیا،
   اور آدم کی بےبس نسل کے لیے خون بہایا؛
یہ تمام رحم، اِس قدر شدید اور مفت میں،
   کیونکہ اے میرے خُداوند، اِس نے مجھے ڈھونڈ لیا!
حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا۔

طویل مدت تک میری قید روح پڑی رہی
   گناہ اور فطرت کی تاریکی میں زبردست بندھی ہوئی۔
تیری آنکھ سے ایک تیز لپک پھیلی،
   میں جاگ اُٹھا، قید خانہ نور سے جگمگا اُٹھا۔
میری زنجیریں ٹوٹ گئیں، میرا دِل آزاد تھا،
   میں اُٹھا، آگے بڑھا، اور تیری پیروی کی۔
حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا۔
(’’ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ مجھے پانا چاہیے؟ And Can It Be That I Should Gain?‘‘ شاعر چارلس ویزلی Charles Wesley، 1707۔1788)۔

گانے کے اُن الفاظ سے سے جو بار بار گائے جاتے ہیں میں بیدار ہو گیا تھا۔

’’حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا؟‘‘

یسوع خُدا تھا! انسانی روپ میں خُدا! اور وہ ، انسانی روپ میں خُدا، میرے لیے قربان ہو گیا! میں نے اُن میں سے کچھ الفاظ کی نقل کو اپنے پاس لکھ کر رکھ لیا – اور لاس اینجلز کے مرکز میں ایک پارکنگ کی جگہ پر اپنی نوکری پر ہر دوپہر میں اُنہیں گاتا۔ یسوع نے میرے جیسے ایک گنہگار کو تمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے صلیب پر خون بہایا!

’’حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا؟‘‘

میں اِس کو بار بار گاتا، جب تک میرا دِل نہ بھر جاتا– آخرکار – میری جان کے لیے، رحم کی خوشخبری، مسیح یسوع کے کفاراتی خون کے ذریعے، میری آنکھوں میں آنسو اور امن لے آتی! میں ایک ایسا ہی منافق رہا تھا! اب میں ہر ایک چیز میں ناکام ہو چکا تھا۔ میں ایک قابلِ نفرت ناکامی تھا! میں بِلاشُبہ ایک گنہگار تھا!

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا، جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (1تِیمُتھیُس1:15)۔

میں مسیح یسوع کے خون کے وسیلے سے بچایا گیا تھا، جو میرے لیے صلیب پر بہایا گیا تھا!!! ’’میں اُٹھا، آگے بڑھا اور یسوع کی پیروی کی!‘‘ چند ایک ہفتوں کے بعد مجھے ڈاکٹر ٹموٹھی لِن Dr. Timothy Lin کے ذریعے سے لاس اینجلز کے چینی بپتسمہ دینے والے گرجا گھر میں بپتسمہ دیا گیا تھا!

’’حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا؟‘‘

’’میں ایک دوست ڈھونڈ چکا ہوں، ہائے کیسا ایک دوست!
   اُس نے خون بہایا۔ وہ مجھے بچانے کے لیے قربان ہو گیا؛
اور تنہا زندگی کا ہی تحفہ نہیں،
   بلکہ خود اپنا آپ اُس نے مجھے دے دیا۔
کچھ نہیں ہے کہ میں خود اپنی بُلاہٹ کو پا چکا ہوں،
   میں اِس کو بخشنے والے کے لیے تھامے ہوئے ہوں؛
کیوںکہ میں اُس خُداوند کا ہوں، اور وہ خداوند میرا ہے،
   ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے!‘‘
(’’میں ایک دوست ڈھونڈ چکا ہوں I’ve Found a Friend‘‘ شاعر جیمس جی۔ سمال James G. Small، 1817۔1888)۔

اُس وقت سے لیکر اب تک میں کئی قیمتی دوستوں کو گنوا چکا ہوں، کیونکہ میں صرف 19 برس کا تھا جب یسوع نے اپنے خون سے میرے گناہ کو دھو ڈالا تھا۔ لیکن میں نے یسوع کو کبھی بھی نہیں کھویا! خُداوند کا شکر ہو! وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میرا ہی ہے!!!

’’حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا؟‘‘

کیا میں ہماری تلاوت کو آپ کے لیے نئی انٹرنیشنل بائبل میں سے پیش کروں – جو کہ یونانی تلاوت کا دورِ حاضرہ کا ترجمہ ہے؟

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا، جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (1تِیمُتھیُس1:15)۔

پولوس رسول واقعی میں ایک ہولناک گنہگار تھا جب وہ جی اُٹھے مسیح کو ملا تھا اور اُس کے وسیلے سے اُس نے نجات پائی تھی، اوراُس پاک خون کے وسیلے سے جو نجات دہندہ نے صلیب پر بہایا پاک صاف ہوا تھا۔ اور اِس طرح، کرسمس کا وہی سچا مطلب ہوتا ہے!

’’مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا‘‘ (1تِیمُتھیُس1:15)۔

20ویں صدی کے پہلے حصے میں چین کے لیے مِس ماری مونسین ایک نارویجیئین مشنری تھیں۔ مِس موسین جانتی تھی کہ چینی گرجا گھر کے بے شمار اراکین اور یہاں تک کہ چینی گرجا گھروں کے پادری صاحبان بھی تقلید پسند لیکن بے جان تھے۔ اُنہوں نےزندگی کے نئے پن کا اصل میں تجربہ کیے بغیر مسیحیت کو ذہنی رضامندی بخشی۔

یہ کہانیوں میں سے صرف ایک ہے۔ وہ پادری ایک مہربان شخص تھا، ہمیشہ گرجا گھر کے کاموں میں مصروف رہتا تھا۔ وہ ایک اچھا مبلغ اور اپنے گرجا گھر کا ایک اچھا نگہبان تھا۔ بالاآخر مِس موسین نے اُس سے پوچھا، ’’کیا آپ نئے سرے سے جنم لیے ہوئے ہیں؟‘‘

انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اُنہوں نے جواب دیا، ’’میری خواہش ہے کاش میں جانتا ہوتا۔ وہ سوال ایک طویل مدت سے میرے لیے ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔‘‘ مِس مونسین نے اُس پادری سے کہا کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں اُسے بتائیں۔

اُس نے کہا، ’’مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے میں ایک بہت بڑے خالی گھر میں جس کی نا تو کھڑکیاں ہیں اور دروازے ہیں رہ رہا ہوں۔ میں ہمیشہ فرار ہونے کی راہ تلاش کرنے کی کوششوں میں دیواروں کو ٹٹول رہا ہوتا ہوں۔‘‘

مِس مونسین کو اِس پادری کو بتانا پڑا کہ وہ ایک نجات یافتہ شخص تھا!

اُس نے اُنہیں [موسین] کو کہا، ’’میں کبھی بھی ویسا گنہگار نہیں رہا جسے نجات دہندہ کی ضرورت پڑتی۔‘‘

مِس موسین نے اُسے بتایا، ’’تم اندھے لوگوں کے اندھے لیڈر رہے ہو۔‘‘

وہ چند ایک دِن کے بعد اُس سے بات کرنے کے لیے دوبارہ آیا۔ اُس نے کہا، ’’میں ایک منافق پادری رہا ہوں۔‘‘

مِس مونسین نے کہا، ’’وہ ایک گنہگار کی حیثیت سے رحم پانے کے تجربے میں داخل ہوا تھا، اور مسیح کے وسیلے سے آزاد ہو گیا تھا۔‘‘ اُس کے بعد اُس نے بے شمار اِجلاسوں میں شمولیت کی اور اپنے گناہ اور اُس رحم کی جو مسیح نے اُسے بخشا تھا گواہی دی۔ اُس نے بار بار کہا، ’’میں جو مکمل طور سے اندھا تھا اب دیکھا سکتا ہوں۔‘‘ اُس کی گواہی نے بے شمار دوسرے لوگوں کو وہ ڈھوندنے میں مدد دی۔

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا…‘‘

وہ، اور تنہا صرف وہ، ہی کرسمس کا حقیقی پیغام ہے! مہربانی سے کھڑے ہوں اور اپنے گیتوں کے ورق کے آخر میں منسلک آخری گیت کو گائیں، ’’ھیلیلویاہ، کیسا ایک نجات دہندہ! Hallelujah, What a Saviour!‘‘

’’رنج و الم کا انسان،‘‘ کیا ہی نام ہے خُدا کے بیٹے کے لیے جو آیا تھا
تباہ حال خستہ گنہگاروں کو بچانے کے لیے! ھیلیلویاہ! کیسا ایک نجات دہندہ!

بے عزتی اور بیہودہ مذاق کو برداشت کرتے ہوئے، میرے جگہ پر سزا پا کر وہ کھڑا تھا؛
اپنے خون سے میری معافی کو مہر لگائی؛ ھیلیلویاہ! کیسا نجات دہندہ ہے!

قصوروار، غلیظ اور بے بس، ہم؛ وہ خُدا کا بے داغ برہ تھا؛
’’مکمل کفارہ کیا یہ ہو سکتا ہے؟ ھیلیلویاہ! کیسا ایک نجات دہندہ!

مرنے کے لیے وہ اُٹھایا گیا، ’’یہ پورا ہوا ہے،‘‘ اُس کی چیخ تھی؛
اب آسمان میں اُونچے درجہ پر؛ ھیلیلویاہ! کیسا نجات دہندہ ہے!

جب وہ آئے گا، ہمارا جلالی بادشاہ، اپنے بخشے ہوئے تمام لوگوں کو گھر لانے کے لیے،
تب از سر نو ہم یہی گیت گائیں گے: ھیلیلویاہ! کیسا نجات دہندہ ہے!
   (’’ ھیلیلویاہ! کیسا ایک نجات دہندہ! Hallelujah, What a Saviour! ‘‘ شاعر فلپ پی۔ بِلس Philip P. Bliss، 1838۔1876)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔