Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 42 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


تین اہم مسیحیوں کی جانب سے مدد

HELP FROM THREE GREAT CHRISTIANS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خداوند کے دِن کی شام، یکم دسمبر، 2019
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, December 1, 2019

’’میں تم سے پھر کہتا ہوں کہ تم میں سے دو شخص اِتفاق کر کے جو کچھ چاہیں کہ ہو جائے میرے آسمانی باپ کی طرف سے اُن کے لیے ہو جائے گا۔ کیونکہ جہاں دو یا تین میرے نام سے اکٹھے ہوتے ہیں وہاں میں اُن کے درمیان موجود ہوتا ہوں‘‘ (متی18:19، 20)۔

پادری رچرڈ وورمبرانڈ نے 14 سال کیمونسٹ قید خانوں میں گزارے۔ اُن میں سے دو سال قید تنہائی میں گزارے۔ یہ ہے جو اُنہوں نے اُن دو سالوں کے بارے میں کہا:

     مجھے اِس قیدخانے میں دو سالوں کے لیے قید تنہائی میں رکھا گیا تھا۔ میرے پاس پڑھنے کے لیے یا لکھنے کے لیے کوئی بھی مواد نہیں ہوتا تھا۔ میرے پاس ساتھ دینے کے لیے صرف میرے خیالات ہوتے تھے، اور میں کوئی سوچ بچار میں پڑا رہنے والا شخص نہیں تھا، لیکن ایک ایسی جان تھا جس نے شاذ و نادر ہی خاموشی [سکون] کو جانا تھا۔ میرے پاس خُدا تھا۔ لیکن کیا میں نے واقعی میں خُدا کی خدمت میں زندگی بسر کی تھی – یا کیا وہ پادری ہونے کی حیثیت سے محض میرا پیشہ تھا؟
     کیا میں نے خُدا میں یقین رکھا؟ اب اِمتحان آ چکا تھا۔ میں تنہا تھا۔ وہاں کوئی تنخواہ ملنے والی نہیں تھی، کسی سہنری رائے پر غور کرنا نہیں تھا۔ خُداوند نے مجھے صرف تکلیفیں بخشیں تھی۔ کیا مجھے اُس سے پیار کرتے رہنا جاری رکھا ہوگا؟
     آہستہ آہستہ میں نے سیکھا کہ خاموشی کے درخت پر سکون کا پھل لٹکتا ہے۔ میں نے اپنی حقیقی شخصیت کا احساس کرنا شروع کیا اور اِس بات کو یقینی بنایا کہ میں مسیح کا ہوں۔ میں نے پایا کہ حتیٰ کہ یہاں [قید تنہائی میں] میرے خیالات اور احساسات خُدا کی جانب مڑ گئے تھے اور کہ میں ایک کے بعد دوسری رات دعا، روحانی مشق اور ستائش میں گزار سکتا تھا۔ اب میں جان گیا تھا کہ میں ڈرامہ نہیں کر رہا تھا۔ میں نے یقین کیا تھا! (پادری رچرڈ وورمبرانڈ Richard Wurmbrand، خُدا کے تہہ خانے میں In God’s Underground، لیونگ سیکریفائس بُکس Living Sacrifice Books، 2004، صفحہ 57)۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

خُدا کے فضل سے سالوں کا تشدد بھی پادری وورمبرانڈ کو نہ توڑ سکا۔ جب اُنہیں بالاآخر قید سے رہائی ملی تو وہ اپنی بیوی سبینہ اور اپنے بیٹے مائیکل کے ساتھ رہنے کے لیے گھر چلے گئے۔ مائیکل نے اُن سے کہا، ’’ابو، آپ اِس قدر زیادہ تکالیف میں سے گزرے۔ میں جاننا چاہتا ہوں آپ نے اپنی ساری تکلیفوں سے کیا سیکھا۔‘‘

میں نے اپنی بانہیں اُس کے گرد ڈٓالیں اور کہا، ’’مائیکل، میں اِس تمام عرصے میں بائبل کو تقریباً بھول ہی چکا تھا۔ لیکن چار باتیں میرے ذہن میں ہمیشہ ہوا کرتی تھیں۔ پہلی، خُدا ہوتا ہے۔ دوسری، مسیح ہمارا نجات دہندہ ہے۔ تیسری، دائمی زندگی ہوتی ہے۔ چوتھی، ساری باتوں میں سے بہترین ہمیشہ محبت ہوتی ہے۔‘‘

میرے بیٹے نے کہا، ’’یہی سب کچھ مجھے چاہیے تھا۔‘‘ بعد میں اُس نے مجھے بتایا کہ وہ پادری بننا چاہتا تھا۔ آج کے دِن تک مائیکل وورمبرانڈ ایک پادری ہیں جو رومانیہ میں اپنے والد کے کام کو پناہ گزینوں کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مائیکل نے چند ایک مہینے پہلے ہمارے گرجا گھر میں بات کی تھی۔ جب ہمارے گرجا گھر کی تقسیم ہوئی تھی، تومیں خوفزدہ تھا کہ شاید میں جاری نہ رکھ پاؤں۔ جیسا کہ آپ کو میری سوانح حیات سے معلوم ہے، مجھے بُرے حالات [روئیوں میں نچلے درجے کی تبدیلی] سے گزرنا پڑا تھا جومجھے اکثر ذہنی دباؤ کے اوقات میں کچل ڈالتے ہیں۔ جب میں قید تھا تو میں نے اپنی راتوں کو جیسا پادری وورمبرانڈ کیا کرتے تھے ویسے ہی گزارنے کا منصوبہ بنایا۔ رات کے تقریباً 1:00 بجے میں ہماری خوابگاہ کے قریب غسل خانے میں چلا جاتا۔ یہ ایک چھوٹا سا کمرہ ہے، تقریباً پادری وورمبرانڈ کے قیدخانے جتنا۔ میں ساری رات وہیں پر گزارتا، اپنے غسل خانے کے ’’قیدخانے‘‘ میں رات کے 1:00 بجے سے لیکر صبح 6:30 بجے تک۔ میں اپنا مراقبہ پادری وورمبرانڈ کی کتاب خُدا کے تہہ خانے میں پڑھنے کے ذریعے سے شروع کرتا۔ پھر میں ڈٓاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر کی خُدا اور انسان کے بارے میں Of God and Men (کرسچن پبلیکیشنز، 1960) نامی کتاب کو پڑھتا۔ جیسا کہ پادری وورمبرانڈ کی کتاب کے ساتھ کرتا ویسا ہی میں آہستہ آہستہ، بار بار ڈاکٹر ٹوزر کی کتاب کو بھی پڑھتا۔ پھر، اپنے ’’قید خانے‘‘ میں اِدھر اُدھر پھرتے ہوئے میں اُن لوگوں کے لیے دعا مانگتا جو ہمارے گرجا گھر کو چھوڑ کر جا چکے تھے۔ ڈاکٹر ٹوزر اور رچرڈ وورمبرانڈ میرے پادری بن چکے تھے۔ میں روئیوں میں بدلتے اُتار چڑھاؤ سے بکھرا نہیں تھا۔ میں اِتوار کی شام اور اِتوار کی صبح میں منادی کے قابل تھا، کئی مہینوں میں پہلی مرتبہ!

پھر میں نے چین سے ایک مشنری ماری مونسین Marie Monsen کی تحریریں پڑھنے کا اضافہ کیا۔ آج سارے چین میں اُس عظیم حیاتِ نو کا آغاز اِس ہی چھوٹی سی نارویجیئین مشنری کی دعا کے ساتھ ہوا تھا۔ میں اب اُنہی کی کتاب بیداری The Awakening میں سے کچھ چُنیدہ چُنیدہ چیزوں پڑھوں گا۔

وہ 1907 میں کوریا جا کر وہاں پر اُس حیاتِ نو کا تجربہ کرنا چاہتی تھیں جو وہاں پر شروع ہوا تھا۔ لیکن خُدا نے اُن سے دعا کے جواب میں کہا، ’’جو تمہیں [کوریا میں] چاہیے شاید یہیں [چین میں] ہی مل جائے جہاں پر تم ہو۔ مِس مونسین نے خُدا کے ساتھ ایک پُرخلوص یعنی سنجیدہ وعدہ کیا، ’’میں اُس وقت تک دعا مانگتی رہوں گی جب تک کہ مجھے مل نہیں جاتا۔‘‘

وہ کمرہ پار کر کے اپنی دعا کی جگہ پر جانے کے لیے اُٹھیں۔ اُنہیں شیطان نے روک لیا تھا۔ ’’یوں لگتا تھا جیسے کسی اژدھے نے میرے جسم کے اِرد گرد کُنڈلی مار لی تھی اور میرے جسم میں سے جان نچوڑ نچوڑ کر نکال رہا تھا… بالاآخر، جب میں ہانپتے ہوئے سانس لینے کی کوشش کر رہی تھی تو میں ایک لفظ بڑبڑانے میں کامیاب ہو گئی، یسوع! یسوع! یسوع! ہر مرتبہ جب میں تکلیف میں کراہتے ہوئے اُس نام کو پکارتی تو سانس لینا آسان ہوتا جاتا اور آخر میں وہ سانپ وہاں سے چلا گیا۔ میں وہاں پر مدہوش سی کھڑی تھی۔ پھر میں نے سوچا، ’تو دعا کا اِتنا مطلب ہوتا ہے جِتنا یہ تھا اور کہ میرے [حیاتِ نو کے لیے دعا مانگنے کے] وعدے کا مطلب بھی اِتنا ہی ہے جِتنا کہ وہ ہے!‘ اُس تجربے نے مجھے اُس حیات نو کے چھوٹے سے آغاز کے آثار سے پہلے بیس سال سے بھی زیادہ عرصے کو برداشت کے ساتھ گزارنے میں مدد دی تھی۔ سچے طور پر، خُدا جلدبازی سے کام نہیں کرتا۔‘‘

’’ایک روز میں متی18:19۔20 پڑھ رہا تھا، ’اگر تم میں سے دو شخص اِتفاق کر کے جو کچھ چاہیں کہ ہو جائے میرے آسمانی باپ کی طرف سے اُن کے لیے ہو جائے گا۔‘ وہ وعدہ اچانک اور واضح طور پر نزدیک ہو گیا تھا – یہ نئی بات تھی۔‘‘

اُنہوں نے دعا مانگنے والے ایک دوسرے ساتھی کی تلاش کی اور بالاآخر ایک دوسری خاتون کو تلاش کر لیا جنہیں حیاتِ نو کی چاہت تھی۔ مِس مونسین نے کہا، ’’میری مشنری زندگی میں وہ پہلا دِن جب ہم دونوں نے اکٹھے دعا مانگی تھی عظیم ترین دِن تھا۔‘‘ اُن دونوں خواتین نے اُس کے بعد ہر روز حیاتِ نو کے لیے دعا مانگی۔

پھر حیاتِ نو کا ایک لمس آیا جب بے شمار کافر خواتین گناہ کی گہری سزایابی کے تحت آئیں اور مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئیں۔ مِس مونسین نے کہا، ’’تمام فضل کے خدا کے لیے میرا دِل شکرگزاری کے ساتھ بھر گیا تھا… یہ ایک طویل انتظار کے بعد ہوا تھا، لیکن خُدا کی نظر میں دُرست وقت پر ہوا تھا۔‘‘

پھر ایک ایونجیلسٹ گناہ کی سزایابی کے تحت آیا اور مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوا۔ پھر ایک دیندار نظر آنے والے پادری نے مِس مونسین سے اعتراف کیا، ’’میں کبھی بھی ایک گنہگار نہیں رہا جسے نجات دہندہ کی ضرورت تھی۔‘‘ اُس نے کہا کہ وہ ’’اندھوں کا اندھا رہنما‘‘ بنا رہا تھا۔ میں ایک منافق پادری بنا رہا تھا۔‘‘ اُس نے فضل پانے کے تجربے میں ایک گنہگار کی حیثیت سے داخلہ کیا اور مسیح کے وسیلے سے آزاد کر دیا گیا۔ پھر اُس نے کہا، ’’میں جو مکمل طور اندھا تھا اب دیکھ سکتا ہوں۔‘‘ اُس کی نئی گواہی بے شمار لوگوں کے لیے ایک عظیم برکت تھی۔ اب، جہاں کہیں مِس مونسین جاتیں وہاں مسیح میں ایمان لانے کی حقیقی تبدیلی ہوتی تھیں – یہاں تک کہ مشنریوں کے درمیان بھی۔

مِس مونسین نے ایک دعائیہ ساتھی [خاتون] کے ساتھ 20 سالوں تک دعا مانگی تھی اِس سے پہلے کہ خُدا اُنہیں اُس حیاتِ نو میں اِستعمال کرتا جو سارے چین میں پھیل چکا ہے اور اب جس کے بارے میں ساری دُنیا میں باتیں ہوتی ہیں۔

لیزلی لیعال Leslie Lyall چینی حیاتِ نو اور چین میں گھریلو گرجا گھر کی تحریک پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ مسٹر لیعال ماری مونسین کو ’’حیاتِ نو کی تحریک کا بانی‘‘ پکارتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا، ’’نئے جنم کے واضح تجربے پر اُن کی خاموش توجہ نے دوسروں کو پیروی کرنے کے لیے ایک نمونہ قائم کیا۔‘‘

ہمارے گرجا گھر میں خُداوند اُن کی جانب دیکھ رہا ہے جو ماری مونسین کے ساتھ اُس چیلنج کو قبول کریں گے، ’’میں دعا مانگتا رہوں گا جب تک مجھے مِل نہیں جاتا۔‘‘

مِس مونسین نے کہا، ’’میں یقین رکھتی ہوں کہ اُن ’دو یا تین‘ کے لیے وقت آ چکا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو ڈھونڈ لیں اور ایمان کی دعا کو جاری کر دیں جب تک کہ جواب پیش نہیں ہو جاتا۔‘‘ دعا کے لیے موضوعات ہونگے:


1۔ کہ رہنما اور دوسرے ایماندار اُس تمام سے خالی ہو جائیں جو ذات کے بارے میں ہوتا ہے۔

2۔ کہ ہمیں دعائیہ حیاتِ نو ملے اور ضمیر کا حیاتِ نو ملے۔

3۔ کہ یسوع مسیح کے لیے اور بشروں کے لیے ہماری پہلی محبت بحال ہو جائے۔


یہاں امریکہ میں ہمارے چینی نوجوان لوگوں کے درمیان جہاں پر بے شمار لوگ شیطانی مادیت پرستی کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں ایک دعائیہ ساتھی تلاش کریں اور حیاتِ نو کے لیے اکھٹے دعا مانگنا شروع کر دیں۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ میں سے کچھ لوگ تو ایسا کریں گے اور ثابت قدم رہیں گے جب تک کہ جواب نہیں آ جاتا! یسوع نے کہا،

’’میں تم سے پھر کہتا ہوں کہ تم میں سے دو شخص اِتفاق کر کے جو کچھ چاہیں کہ ہو جائے میرے آسمانی باپ کی طرف سے اُن کے لیے ہو جائے گا۔ کیونکہ جہاں دو یا تین میرے نام سے اکٹھے ہوتے ہیں وہاں میں اُن کے درمیان موجود ہوتا ہوں‘‘ (متی18:19، 20)۔

ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر نے کہا، ’’اُس وقت تک بار بار دعا مانگتے رہو جب تک کہ جواب نہیں مل جاتا۔ اپنے لوگوں کی جانب سے اپنی قوتوں کا مظاہرہ دکھانے کے لیے مدعو کیے جانے کا خُدا انتظارکرتا ہے‘‘ (’’دعا میں کیسا نفع؟‘‘)۔ کھڑے ہو جائیں اور حمدوثنا کا گیت گائیں، ’’مجھے دعا کرنا سیکھا دے۔‘‘


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔