Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 42 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کا تیز رفتاری سی بڑھنا

THE EVANGELISM EXPLOSION
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 3 نومبر، 2019
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, November 3, 2019

’’کیونکہ تمہیں ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ خُدا کی بخشش ہے۔ اور نہ ہی یہ تمہارے اعمال کا پھل ہے کہ کوئی فخر کر سکے‘‘ (افسیوں2:8، 9).

گذشتہ جمعرات کی رات میں ہمارے گرجا گھر میں دعائیہ اجلاس کے لیے آیا۔ میں نے عبادت میں تبلیغ یا قیادت نہیں کی تھی۔ لیکن جب میں اجتماع گاہ کے آخر میں بیٹھا ہوا تھا تو مجھے ایک نوجوان شخص کے بارے میں آگاہی ہوئی جو گمراہ تھا۔ عبادت کے اختتام پر جب دوسرے لوگ کمرے سے باہر جا رہے تھے تو میں نے اُسے میرے پاس آنے اور میرے قریب بیٹھنے کے لیے کہا۔

میں ڈاکٹر ڈی۔ جیمس کینیڈی Dr. D. James Kennedy کی تحریر انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کا تیز رفتاری سے بڑھنا Evangelism Explosion کو پڑھتا رہا تھا۔ لہٰذا میں نے سوچا کیوں نہ اُس بارے میں اِس نوجوان شخص پر کوشش کروں جو ڈاکٹر کینیڈی نے کہا تھا۔ وہ اُس کے لیے انتہائی سادہ دکھائی دے رہا تھا۔ حالانکہ، وہ اپنی ساری زندگی ہمارے گرجا گھر میں آتا رہا تھا۔ اُس نے لاتعداد انجیلی بشارت کی پرچار کی تعلیم کے واعظوں کو سنا تھا۔ کیسے ڈاکٹر کینیڈی کے انتہائی سادہ سے خیالات اُسے کوئی ایسی چیز پیش کر سکتے ہیں جو وہ اُن تمام عظیم واعظوں میں جنہیں وہ پہلے ہی سُن چکا تھا سُن نہیں پایا؟ لیکن چونکہ ہر ایک بات جو ہم کہہ چکے تھے اُس کی نجات پانے میں مدد نہیں کر پائی تھی تو میں نے سوچا مجھے شاید ڈاکٹر کینیڈی کی وہ سادہ سی وضاحت بھی اُسے پیش کر دینی چاہیے۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

میں نے اُسے کہا، ’’اگر تم آج کی رات مر جاؤ، اور جنت کے پھاٹک پر خدا کے حضور میں پیش ہو – اور خُدا آپ سے کہے، ’میں تجھے جنت میں کیوں داخل ہونے دوں؟‘ تو تم خُدا سے کیا کہو گے؟‘‘ وہ کئی لمحے تک خاموش رہا۔ پھر اُس نے کہا، ’’میں خدا کو بتاؤں گا کہ میں ایک نیک لڑکا رہا چکا تھا۔‘‘

رومیوں6:23 کہتی ہے، ’’خُدا کا تحفہ دائمی زندگی ہوتا ہے۔‘‘ جنت ایک مفت کا تحفہ ہے۔ اِسے قیمت چکا کر خریدا نہیں جاتا یا اِس کا مستحق نہیں بنا جاتا۔ تب میں نے کہا، ’’کئی سالوں تک میں نے سوچا آپ کیا کرتے۔ مجھے بہت ہی زیادہ اچھا ہونا پڑتا، اور مجھے جنت کو ’قیمتاً پانا پڑتا‘ اور اِس کے لیے کام کرنا پڑتا۔‘‘

میں مشکلوں سے ہی یقین کر پایا جو اُس نے کہا۔ لہٰذا میں نے سوال کو دوبارہ دہرایا: ’’اگر خُدا آپ سے کہتا، ’میں تمہیں جنت میں کیوں داخل ہونے دوں؟‘ تو تم خُدا سے کیا کہو گے؟‘‘ اِس مرتبہ میں نے غور کیا اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ لیکن اُس نے وہی جواب دیا، ’’میں خُدا کو بتاؤں گا کہ میں ایک نیک لڑکا رہا تھا۔‘‘ یہاں پر ایک نوجوان شخص تھا اپنی بلوغت کی دہائی کے آخر میں جو اپنی ساری زندگی ہمارے گرجا گھر میں رہ چکا تھا – اِتوار کی صبح اور اِتوار کی شام کو، اور ہفتہ کے وسط میں دعائیہ اِجلاس میں بھی۔ اِس کے باوجود اُس کا جواب واضح تھا – وہ نیک کاموں کے وسیلہ سے نجات میں یقین رکھتا تھا۔ اور وہ افسیوں2:8، 9 میں یقین نہیں رکھتا تھا!!!

میں نے اُسے نہیں جِھڑکا۔ میں نے صرف کہا، ’’اگلے چند ایک منٹوں میں تمہیں میں ایک اتنی عظیم ترین خبر سناؤں گا جو تم نے اِس سے پہلے کبھی بھی نہیں سُنی ہوگی۔‘‘ پھر میں نے اُسے اپنی بائبل میں سے افسیوں2:8، 9 آیت کو خود سے دیکھنے اور پڑھنے دیا۔

’’کیونکہ تمہیں ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ خُدا کی بخشش ہے۔ اور نہ ہی یہ تمہارے اعمال کا پھل ہے کہ کوئی فخر کر سکے‘‘ (افسیوں2:8، 9).

پھر میں نے کہا، ’’آؤ بائبل میں اُن الفاظ کو ذرا اور قریب سے دیکھتے ہیں۔‘‘ یہ شروع ہوتے ہیں ’’فضل کے وسیلہ سے تمہیں نجات ملتی ہے۔‘‘ فضل ایک تحفہ ہے، ’’یہ خدا کا تحفہ ہوتا ہے۔‘‘ جنت ایک تحفہ ہے – دائمی زندگی کا تحفہ۔ پھر میں نے رومیوں6:23 کے دوسرے آدھے حصہ کا حوالہ دیا، ’’خُدا کا تحفہ دائمی زندگی ہوتا ہے۔‘‘ جنت ایک مفت کا تحفہ ہے۔ اِسے قیمت چکا کر یا اِس کا مسحتق بن کر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ تب میں نے کہا، ’’کئی سالوں تک میں نے سوچا تم کیا کرتے۔ مجھے کافی نیک ہوتا پڑتا، تاکہ میں جنت کو ’حاصل‘ کر سکوں اور اِس کے لیے کام کروں۔ پھر آخر کار مجھے دریافت ہوا کہ جنت تو مفت کا ایک تحفہ ہے – قطعی طور پر مفت میں! اُس بات نے مجھے حیرت میں مبتلا کردیا! بائبل کہتی ہے، ’ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے تم نے نجات پائی ہے – یہ تمہارے اعمال کا پھل نہیں ہے کہ کوئی فخر کر سکے‘ (افسیوں2:8،9)۔‘‘

پھر میں نے اُس بتایا کہ ’’گناہ سب نے کیا ہے اور خُدا کے جلال سے محروم ہیں‘‘ (رومیوں3:23)۔ ہم اپنے لفظوں میں، خیالات میں اور اعمال میں گناہ کر چکے ہیں۔ ہم میں سے کوئی ایک بھی جنت کو پانے کے لیے اِتنا نیک نہیں ہے۔ ہم انتہائی زیادہ کامل ہو ہی نہیں سکتے۔

لیکن خُدا رحم سے بھرپور ہے۔ وہ ہمیں سزا دینا نہیں چاہتا۔ لیکن خُدا منصف بھی ہے – اس لیے اُسے ہمیں سزا دینی چاہیے۔ خُداوند نے اپنی حکمت میں حل دیکھا۔ خُداوند نے ہمیں نجات دلانے کیے لیے اپنے بیٹے کو بھیجنے کے ذریعہ سے اِس مسئلہ کو سُلجھایا۔ یسوع کون ہے؟ یسوع انسان کی ہیت میں خدا ہے۔ بائبل کے مطابق یسوع مسیح خدا ہے، تثلیث کی دوسری ہستی۔ اور بائبل کہتی ہے کہ یسوع ’’مجسم ہوا اور ہمارے درمیان خیمہ زن ہوا‘‘ (یوحنا1:1، 14)۔ وہ انسان کی ہیّت میں خُدا، صلیب پر قربان ہوا اور ہمارے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مُردوں میں سے زندہ ہوا اور ہمیں جنت میں ابدی زندگی بخشی۔ یسوع نے صلیب پر خود ہمارے گناہوں کو لاد لیا۔ مسیح نے ’’خود اپنے بدن پر ہمارے گناہوں کو لاد لیا‘‘ (1پطرس2:24)۔ وہ تین دِنوں تک قبر میں دفن رہا تھا۔ لیکن وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا اور جنت میں چلا گیا، ہمارے لیے ایک جگہ تیار کرنے کی خاطر۔ اب یسوع جنت میں دائمی زندگی کی پیشکش کرتا ہے – ہمارے لیے ایک مفت تحفہ کے طور پر۔ ہم اِسے کیسے پائیں؟ ہم اُس تحفہ کو ایمان کے وسیلہ سے پاتے ہیں! ’’کیوںکہ تمہیں ایمان ہی کے وسیلہ سے فضل سے نجات ملی ہے‘‘ (افسیوں2:8)۔

یسوع میں ایمان جنت کے دروازوں کو کھولتا ہے۔ ایمان محض عقلی رضامندی نہیں ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ابلیس اور آسیب بھی یسوع کی الوہیت میں یقین رکھتے ہیں۔ لیکن اُنہوں نے نجات نہیں پائی۔ ایمان اِس زندگی میں صرف چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوتا ہے – جیسے صحت، پیسہ، تحفظ اور رہنمائی – وہ چیزیں جن کا اِس زندگی سے تعلق ہوتا ہے وہ گزر جاتی ہیں۔

ایمان، بائبل کے مطابق، تنہا یسوع میں بھروسہ کرنا ہوتا ہے۔ مسیح ہمیں جنت میں لے جانے کے لیے آیا تاکہ ہمیں ابدی زندگی حاصل ہو! بائبل کہتی ہے، ’’خُداوند یسوع مسیح پر ایمان لا تو تُو نجات پائے گا‘‘ (اعمال16:31)۔

لوگ دو باتوں میں سے ایک پر بھروسہ کرتے ہیں – یا تو خود پر یا یسوع مسیح پر۔ میں ایک کافی اچھی زندگی بسر کرنے کے لیے خود اپنی کوششوں میں بھروسہ کر رہا تھا۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ مجھے خود پر بھروسہ کرنے سے رُکنے کی ضرورت تھی اور اُس کے بجائے یسوع پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ میں نے وہی کیا – اور یسوع نے مجھے دائمی زندگی کا تحفہ بخشا۔ یہ ایک تحفہ تھا، ’’نا کہ اعمال کی وجہ سے۔‘‘

آئیے مجھے دکھانے دیں کیسے یہ اِس کُرسی کے ساتھ کام کرتا ہے۔ کیا آپ یقین رکھتے ہیں یہ کرسی آپ کو سہارا دے گی اگر آپ اِس پر بیٹھتے ہیں؟ (جی ہاں)۔

لیکن یہ مجھے اب سہارا نہیں دے رہی ہے – کیونکہ میں اِس پر بیٹھا ہوا نہیں ہوں۔ میں کیسے ثابت کر سکتا ہوں کہ میں واقعی میں اُس کرسی پر بھروسہ کرتا ہوں؟ یہ دُرست ہے، اُس پر بیٹھنے کے ذریعے سے!

یہی ہے جو ہمیں یسوع کے ساتھ کرنا چاہیے۔ آپ کو اپنے آپ کو جنت میں لے جانے کے لیے اُس [یسوع] پر انحصار کرنا چاہیے۔ آپ نے کہا، ’’میں خُدا سے کہوں گا کہ میں ایک نیک لڑکا تھا۔‘‘ آپ کے جواب میں واحد ہستی کون ہے؟ (آپ)۔

آپ کسی پر بھروسہ کر رہے تھے خود کو جنت میں لے جانے کے لیے جب آپ نے وہ کہا؟ (یہ دُرست ہے، خود پر

دائمی زندگی پانے کے لیے آپ کو خود پر بھروسہ کرنے سے رُکنا پڑے گا، اور اُس کے بجائے یسوع پر بھروسہ کرنا پڑے گا۔ (خالی کُرسی پر بیٹھیں)۔

کیا اُس سے آپ کی سمجھ میں کچھ آیا؟ اب خُدا آپ سے جو سوال پوچھ رہا ہے وہ یہ ہے – ’’کیا آپ بالکل ابھی ہی دائمی زندگی کا تحفہ پانا چاہیں گے؟‘‘ (جی ہاں، میں چاہوں گا)۔

میں اب دعا مانگوں گا، ’’میں دعا مانگتا ہوں کہ تو میرے دوست کو بالکل ابھی ہی دائمی زندگی کا تحفہ بخش دے۔‘‘

اب، یسوع یہیں پر ہے، اور وہ آپ کو سُن سکتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ یسوع کو بتائیں اگر آپ واقعی میں دائمی زندگی پانا چاہتے ہیں۔ اُن الفاظ کو دہرائیں جو میں بولوں، لیکن اُنہیں یسوع کو کہیں،

’’یسوع، میں تجھ پر بالکل ابھی ہی بھروسہ کرنا چاہتا ہوں۔ میں ایک گنہگار ہوں۔ میں خود پر اور خود اپنی اچھائیوں پر بھروسہ کرتا رہا ہوں۔ اب میں تجھ پر بھروسہ کرنا چاہتا ہوں خُداوند یسوع۔ میں تجھ پر ابھی بھروسہ کرتا ہوں۔ میں یقین کرتا ہوں کہ تو میرے گناہوں کی ادائیگی کے لیے قربان ہو گیا۔ میں تجھ پر ابھی ہی بھروسہ کرتا ہوں، یسوع۔ میں اپنی خود کی اچھائیوں اور اپنے گناہوں سے مُنہ موڑتا ہوں۔ میں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ میں دائمی زندگی کے مفت کے تحفے کو قبول کرتا ہوں۔ یسوع، تیرے ہی نام سے مانگتا ہوں۔ آمین۔‘‘

اب، میں آپ کے لیے دعا مانگوں گا۔ ’’یسوع، تو وہ دعا سُن چکا ہے جو میرے دوست نے مانگی ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنی روح میں اِس کو سُن لے گا، تیری آواز کہتی ہوئی، ’تیرے گناہ تجھے معاف ہوئے۔‘ ’وہ جو مجھ میں بھروسہ کرتا ہے کبھی بھی فنا نہیں ہو گا، بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے گا۔‘ یسوع کے نام میں مَیں دعا مانگتا ہوں، آمین۔‘‘

اب میں چاہوں گا کہ آپ یوحنا6:47 باآوازِ بُلند پڑھیں۔

’’میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کوئی ایمان لاتا ہے ہمیشہ کی زندگی اُس کی ہے۔‘‘

ایک احساس کی تلاش مت کریں۔ ایمان کے ایک سادہ سے عمل کے ذریعے سے آپ نے اپنا بھروسہ یسوع مسیح میں کیا ہے۔ کیا وہ دُرست ہے؟

اپنی نجات کے لیے آپ اب کس پر بھروسہ کر رہے ہیں؟ (یسوع مسیح)۔

نجات دلانے والے ایمان کا مطلب ہوتا ہے دائمی نجات کے لیے یسوع پر بھروسہ کرنا۔ کیا یہی ہے جو آپ نے ابھی ابھی کیا ہے؟ (جی ہاں)۔

یسوع کہتا ہے کہ کوئی بھی جو یہ کرتا ہے ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے۔ کیا آپ نے ابھی ابھی وہ کیا تھا؟ (جی ہاں)۔

اب اگر آپ آج کی رات سوتے میں مر جاتے ہیں اور خُدا آپ سے پوچھے وہ آپ کو کیوں جنت میں جانے دے تو آپ کیا کہیں گے؟ (میں دائمی زندگی کے لیے یسوع پر بھروسہ کر رہا ہوں)۔

دوست، اگر آپ کا واقعی میں وہی مطلب ہے جس کی آپ نے ابھی ابھی دعا مانگی تھی تو یسوع آپ کے گناہوں کو معاف کر چکا ہے اور آپ بالکل ابھی ابھی دائمی زندگی پا چکے ہیں!

میں چاہتا ہوں کہ آپ روزانہ یوحنا کی انجیل کا ایک باب پڑھیں۔ یوحنا کی انجیل میں 21 باب ہیں۔ آپ روز ایک باب پڑھیں، اور صرف تین ہفتوں میں آپ یوحنا کی انجیل پڑھ چکے ہوں گے۔

میں چاہتا ہوں کہ آپ ایک ہستی کو بتائیں آج کی رات آپ کے ساتھ کیا رونما ہوا۔ وہ ہستی کون ہوگی؟ (میرا بھائی)۔

کیا آپ اُسے بتائیں گے آپ نے آج کی رات یسوع پر بھروسہ کیا؟ (جی ہاں)۔

اب، میں اگلے اتوار کو آپ کو لینے کے لیے آنا چاہوں گا اور اپنے ساتھ آپ کو گرجا گھر لے جاؤں گا۔ کیا میں آپ کو اِتوار کی صبح میرے ساتھ جانے کے لیے لینے آؤں؟ (جی ہاں)۔ اگر اُس سے پہلے آپ مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں، تو مہربانی سے مجھے فون کریں۔ میرا فون نمبر یہاں ہے۔

اب، محض ایک لمحے کے لیے، کیا ہم آپ کی جانے بچانے اور آپ کو ابدی زندگی بخشنے کے لیے یسوع کو شکر ادا کریں؟ (دعا کریں)۔

اب، میں چاہوں گا آپ افسیوں2:8،9 باآوازِ بُلند پڑھیں۔

’’کیونکہ تمہیں ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ خُدا کی بخشش ہے۔ اور نہ ہی یہ تمہارے اعمال کا پھل ہے کہ کوئی فخر کر سکے‘‘ (افسیوں2:8، 9).

یاد رکھیں کہ ساری دُنیا میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اِس سادہ سے طریقۂ کار کے وسیلے سے سچے طور پر مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو چکے ہیں۔ باوجود اِس کے کہ وہ ابھی تک پُریقین نہیں ہیں، اپنے چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ ملاقات کا اِختتام کریں اور کم از کم اُن سے وعدہ لیں کہ وہ روز یوحنا کی انجیل کا ایک باب پڑھیں گے۔ اگر آپ اُنہیں ناراض نہیں کرتے تو آپ کو اُن کے ساتھ بات کرنے کا ایک اور موقعہ نصیب ہو جائے گا۔

اِس واعظ کو اپنے ساتھ گھر لے جائیں۔ اِس کو پھر سے پڑھیں جب تک آپ یاداشت کے سہارے خیالات کو پیش نہ کر پائیں۔ اِس کو بالکل اُسی وقت ایک دوست یا رشتہ دار پر آزمائیں۔ آپ شاید حیران رہ جائیں کہ وہ واقعی میں دلچسپی کا اظہار کریں گے اور آپ کے ساتھ گرجا گھر آئیں گے!


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔