Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 42 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


دُکھوں کے تجربوں کا علم

SUFFEROLOGY
(Urdu)

ڈاکٹر کرسٹوفر ایل۔ کیگن کی جانب سے
by Dr. Christopher L. Cagan

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 22 ستمبر، 2019
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, September 22, 2019

’’کیونکہ تم بھی اِسی قسم کے چال چلن کے لیے بُلائے گئے ہو کیونکہ مسیح نے تمہارے لئے دُکھ اُٹھا کر ایک مثال قائم کر دی تاکہ تم اُس کے نقشِ قدم کی پیروی کرو‘‘ (1۔پطرس2:21؛ صفحہ 1313 سیکوفلیڈ)۔

اِس واعظ کا عنوان ’’دُکھوں کے تجربوں کا علم‘‘ ہے۔ ’’suffer دُکھ‘‘ کا مطلب ہوتا ہے ’’درد کا تجربہ کرنا، اُداسی کو محسوس کرنا، ایک بُرے وقت میں سے گزرنا۔‘‘ ’’ology اُولوجی‘‘ کا مطلب ’’کی تعلیم یا علم جاننا‘‘ ہوتا ہے۔ انتھروپولوجی انسان کی سٹڈی ہوتی ہے۔ زواُولوجی جانوروں کی سٹڈی ہوتا ہے۔ اور ’’سفرولوجی sufferology‘‘ دُکھوں کے تجربوں کا علم ہوتا ہے۔

میں نے پہلی مرتبہ ’’سفرولوجی‘‘ کا لفظ پاسٹر وورمبرانڈ کی جانب سے ایک ٹیپ ریکارڈ کیے ہوئے واعظ میں سُنا تھا۔ پاسٹر وورمبرانڈ نے یسوع میں ایمان رکھنے کی وجہ سے رومانیہ میں کیمونسٹوں کی قید میں چودہ سال گزارے تھے۔ اُنہوں نے زیرزمین مسیحیوں کے بارے میں مسیح کے لیے اذیت سہی Tortured for Christ نامی ایک کتاب لکھی۔ پاسٹر وورمبرانڈ بیسویں صدی کے ایک بہت عظیم مسیحی تھے۔ اپنے واعظ میں، اُنہوں نے کہا کہ مستقبل میں دُکھوں کے لیے تیاری کرنے کی راہ ابھی دُکھوں میں سے گزرنا ہے۔ اُںہوں نے مجھے ’’سفرولوجی‘‘ سیکھنے کے لیے کہا۔

چین میں ایک حقیقی مسیحی کے لیے دُکھوں کا تجربہ کرنا زندگی کا ایک عام حصہ ہے۔ وہ اِس بارے میں نہیں سوچ رہے ہوتے ہیں کہ وہ کیسے خوش رہ سکتے ہیں یا وہ کیسے امیر ہو سکتے ہیں۔ اُنہیں کسی بھی وقت قید میں ڈالا جا سکتا ہے یا قتل کیا جا سکتا ہے۔ اِسی طرح سے یہ شمالی کوریہ اور کیمونسٹ ممالک میں ہوتا ہے۔ ایک سنجیدہ مسیحی ہونا کوئی تعطیل نہیں ہوتی ہے۔ یہ صلیب کو برداشت کرنے اور دُکھوں کو برداشت کرنے کی زندگی ہوتی ہے، جس میں مسیح کے نقشِ قدم پر چلنا ہوتا ہے۔

آج کل نئے ایونجیلیکلز شاذونادر ہی دُکھوں کے بارے میں کبھی بات کرتے ہیں۔ یہ اِس لیے ہے کیونکہ ہم ’’اِرتداد یعنی ایمان سے برگشتگیThe Apostasy‘‘ کے زمانے میں ہیں۔ بہت بڑے مصائب کے دور سے پہلے جب حقیقی مسیحیت سے ’’بہت بڑی برگشتگی‘‘ ہوگی۔ نئے ایونجیلیکلز صرف مثبت باتوں اور خوش کرنے والی باتوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ وہ خُدا کی محبت اور برکتوں کے بارے میں بات کرتے ہیں، لیکن کبھی بھی اُس کی سزا کے بارے میں بات نہیں کرتے۔ وہ جنت کے بارے میں بات کرتے ہیں، لیکن جہنم کے بارے میں بات نہیں کرتے۔ وہ بات کرتے ہیں کہ کیسے خُدا آپ کی زندگی کو بہترین اور خوشگوار کر سکتا ہے۔ جوئیل آسٹن Joel Osteen کی مشہور کتاب کا عنوان ’’آپ کی بہترین زندگی ابھی ہے Your Best Life Now: اپنی بھرپور توانائی کے ساتھ زندگی گزارنے کے 7 مرحلے.‘‘ اُس میں کہیں بھی دُکھوں کے تجربے نہیں ہیں! جھوٹے نبی کبھی بھی دُکھوں کے بارے میں بات نہیں کرتے!

آج نوجوان لوگ گرجا گھروں کو چھوڑ رہے ہیں۔ یہ اِس لیے ہے کیوں کہ ہم ’’ایمان سے برگشتگی‘‘ کے دور میں ہیں، لوگوں کا بہت بڑی تعداد میں برگشتہ ہونا۔ نوجوان لوگ اِس لیے گرجا گھر میں نہیں جاتے کیونکہ اِتنا ذرا سا بھی دُکھ سہنا نہیں چاہتے۔ وہ گرجا گھر جانے کے لیے اپنا وقت نکالنا نہیں چاہتے۔

مُرتد چعین Chan ہی کے بارے میں سوچ لیں۔ وہ وہ ہیں جو آرنلڈ شیوارژنیگر Arnold Schwarzenergger نے کہا ’’لڑکی نما آدمیgirly man۔‘‘ اُس کے لوگ وہاں اِس لیے گئے کیوںکہ وہ دُکھ اُٹھانا نہیں چاہتے۔ وہ کسی بھی چیز کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔ وہ ’’لڑکیوں جیسے لوگgirly men‘‘ ہیں۔ وہ اِس کو آسانی سے پانا چاہتے ہیں اور پھر بھی کہتے ہیں ہم گرجا گھر جاتے ہیں۔ وہ رفاقت رکھنا چاہتے ہیں اور ’’لڑکیوں جیسی لڑکیوں‘‘ کے ساتھ طے شُدہ ملاقاتوںdates پر جاتے ہیں۔ اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ دُکھ برداشت کرنے کے لیے حوصلہ مند مرد یا عورت ہیں؟ کیا آپ ایک مضبوط مسیحی ہونا چاہتے ہیں؟ اگر نہیں چاہتے ہیں، تو کیوں نہیں پھر دوسرے لڑکی نما لوگوں لڑکی نما لڑکیوں کے ساتھ چعین کے پاس چلے جاتے؟ لیکن میں تو یہیں رُکوں گا! اور میں آپ کو بھی یہیں رُکنے کے لیے للکارتا ہوں!

پاسٹر وورمبرانڈ بالکل صحیح تھے۔ اذیت سہنے کے لیے تیار رہنا – اور مسیحی زندگی میں ابھی ہی بڑھنا – آپ کو اصل میں دُکھوں کا تجربہ کرنے کے ذریعے سے ’’سفرولوجی‘‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ایک سہل زندگی کی جانب دوڑ مت لگائیں۔ دُکھوں میں سے گزریں اور آپ ایک عمدہ مسیحی بن جائیں گے، کسی بھی بات کے لیے تیار مسیحی۔ آج میں دُکھوں کے سہنے کے بارے میں چار نکات سامنے پیش کروں گا۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

I۔ پہلی بات، دُکھ سہنا خُدا کی جانب سے آپ کی بُلاہٹ ہے۔

ہماری تلاوت کہتی ہے،

’’کیونکہ تم بھی اِسی قسم کے چال چلن کے لیے بُلائے گئے ہو کیونکہ مسیح نے تمہارے لئے دُکھ اُٹھا کر ایک مثال قائم کر دی تاکہ تم اُس کے نقشِ قدم کی پیروی کرو‘‘ (1۔پطرس2:21؛ صفحہ 1313 سیکوفلیڈ)۔

مسیح نے ’’ہمارے لیے ایک مثال قائم کر دی تاکہ تم اُس کے نقشِ قدم کی پیروی کرو۔‘‘ یہ کہنے میں اچھا لگتا ہے، ’’میں مسیح کی پیروی کر رہا ہوں۔‘‘ بے شمار لوگ یہ کہتے ہیں۔ لیکن کیا وہ کرتے ہیں؟ کیا آپ کرتے ہیں؟

وہ مثال کیا ہے جو مسیح نے ہمارے لیے چھوڑی؟ یہ دُکھ سہنے کی مثال ہے۔ بائبل آپ کو حکم دیتی ہے کہ دُکھ سہنے میں مسیح کی پیروی کریں، ’’مسیح نے تمہارے لئے دُکھ اُٹھا کر ایک مثال قائم کر دی تاکہ تم اُس کے نقشِ قدم کی پیروی کرو۔‘‘ بائبل کہتی ہے کہ آپ دُکھ سہنے کے لیے ’’بُلائے گئے‘‘ ہیں، ’’کیونکہ تم بھی اِسی قسم کے چال چلن کے لیے بُلائے گئے ہو۔‘‘ آپ کو مسیح کے نقش قدم پر چلنے کے لیے بُلایا گیا ہے – دُکھ سہنے کے لیے۔ یہ ہی صلیب کی راہ ہے۔ یہ ہی صلیب کو برداشت کرنا ہے۔ یہ راہ صرف رسولوں ہی کے لیے نہیں ہے، بلکہ سارے مسیحیوں کے لیے ہے۔ یسوع نے کہا،

’’اگر کوئی آدمی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خود انکاری کرے اور روزانہ اپنی صلیب اُٹھائے اور میرے پیچھے ہو لے‘‘ (لوقا9:23؛ صفحہ 1086)۔

یسوع نے صرف رسولوں سے بات نہیں کی تھی۔ اُس نے کہا تھا، ’’کوئی آدمی۔‘‘ خالص یونانی میں واقعی میں اِس کا مطلب ’’کوئی بھی‘‘ کوئی بھی شخص۔ یہ عورتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر کوئی بھی یسوع کی پیروی کرنا چاہتا ہے تو اُسے خود انکاری کرنی چاہیے، اور اپنی صلیب کو روزانہ اُٹھانا چاہیے۔ ’’انکاری‘‘ کا مطلب ہوتا ہے ’’نہ کہنا۔‘‘ خود کو نہ کہیں! جو اچھا لگتا ہے اُس کو نہ کہیں! اِس دُنیا کو نہ کہیں! اور صلیب اُٹھا لیں – مسیحی زندگی کو اپنا لیں، اُس کی تکلیفوں کے ساتھ ساتھ اُس کی خوشیوں کو بھی اپنا لیں۔ یہ نئے ایونجیلیکلز کی راہ نہیں ہے۔ اُن کا ہدف ہوتا ہے، ’’اپنے آپ کو ہاں کہو۔‘‘ لیکن بائبل کہتی ہے، ’’اپنے آپ کو نہ کہو۔‘‘ آپ کے لیے یہ کیا ہوگا؟

پولوس رسول نے کہا، ’’مسیح یسوع کے اچھے سپاہی کی طرح دُکھ سہنے میں میرا شریک ہو‘‘ (2:3؛ صفحہ 1280)۔ یہ بائبل کی پہلی آیتوں میں سے ایک تھی جن پر تبلیغ کرتے ہوئے میں نے ڈاکٹر ہائیمرز کو سُنا تھا۔ اُنہوں نے ہمیں ڈاکٹر وورمبرانڈ کے بارے میں بتایا تھا۔ میں پاسٹر وورمبرانڈ کے کتاب کو پڑھ چکا ہوں۔ میں جانتا تھا میں درست گرجا گھر میں آیا تھا۔ وہ میرے لیے تھا!

یسوع نے کہا کہ صلیب کو برداشت کرنا تمام مسیحیوں کے لیےہوتا ہے۔ یہ سارے سچے مسیحیوں کے لیے ایک امتحان اور ثبوت ہوتا ہے۔ یسوع نے کہا، ’’جو کوئی اپنی صلیب اُٹھا کر میرے پیچھے نہیں چلتا، میرے لائق نہیں‘‘ (متی10:38؛ صفحہ1010)۔

دُکھ سہنے کی بے شمار مختلف اقسام ہیں۔ وہ اذیتیں ہیں جن کا چین میں مسیحی سامنا کر رہے ہیں، جہاں اُنہیں قید میں ڈال دیا جاتا ہے یا قتل کر دیا جاتا ہے۔ امریکہ میں آپ کو شاید لوگوں کی باتوں کے ذریعے سے ہلکی پھلکی اذیت کا تجربہ ہو جو آپ کے بارے میں بُرا بولتے ہیں کیوں کہ آپ ایک حقیقی مسیحی ہیں۔ بائبل کہتی ہے، ’’جتنے لوگ مسیح میں دیندار زندگی گزارنا چاہتے ہیں وہ سب ستائے جائیں گے‘‘ (2تموتاؤس3:12: صفحہ 1281)۔

پھر چیزوں کو ہاتھ سے کھو دینے کے دُکھ کو سہنا ہوتا ہے کیونکہ آپ ایک سنجیدہ مسیحی ہوتے ہیں۔ آپ کچھ دُنیاوی لطافتوں کو کھو دیتے ہیں۔ آپ ’’چند روزہ گناہ کا لطف‘‘ کھو دیں گے (عبرانیوں11:25؛ صفحہ1302). تب آپ شاید کم پیسہ کمائیں گے اگر آپ نے مسیح کی پیروی نہیں کی۔ آپ کو شاید اپنا لائحہ عمل چھوڑنا پڑے اور اپنے کچھ وقت کو دینا پڑے۔ وہ صرف محض نئے لوگوں کے لیے نہیں ہے۔ ہم سان گیبرئیل وادی میں ایک نیا گرجا گھر شروع کرنے جا رہے ہیں۔ کیا آپ ایک شخص کو گرجا گھر میں لانے کے لیے کام کریں گے؟ کیا آپ اِتنا سا کام کریں گے؟

یاد رکھیں کہ آپ اب مذید اور خود سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ بائبل کہتی ہے، ’’تم اپنے نہیں ہو… کیونکہ تم قیمت سے خریدے گئے ہو‘‘ (1کرنتھیوں6:19، 20: صفحہ 1217)۔ اگر آپ ایک مسیحی ہیں، تو یسوع آپ کو اپنے خون کے ساتھ خرید چکا ہے۔ آپ اپنے نہیں ہیں۔ آپ اُس کے ہو جاتے ہیں۔ یسوع کو اپنی راہ اپنی زندگی کے ساتھ اپنانے دیجیے!

جب دُکھ آئیں تو حیران مت ہو جائیے گا۔ یسوع نے کہا، ’’دُنیا میں تمہیں بہت مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘ (یوحنا16:33؛ صفحہ 1139)۔ پولوس رسول نے کہا، ’’خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لے بہت سے مصیبتوں کا سامنا کرنا لازم ہے‘‘ (اعمال14:22؛ صفحہ 1169)۔ پطرس رسول نے کہا،

’’عزیزو، مصیبت کی آگ جو تم میں بھڑک اُٹھی ہے وہ تمہاری آزمائش کے لیے ہے۔ اِس کی وجہ سے تم تعجب نہ کرو کہ تمہارے ساتھ کوئی انوکھی بات ہو رہی ہے۔ بلکہ خوشی کے ساتھ مسیح کے دُکھوں میں شریک ہوتے جاؤ‘‘ (1پطرس4:12، 13؛ صفحہ 1315)۔

وہ مصیبت اور درد جو آپ کے پاس آتا ہے کوئی عجیب نہیں ہوتا ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’جتنے لوگ مسیح میں دیندار زندگی گزارنا چاہتے ہیں وہ سب ستائے جائیں گے‘‘ (2تموتاؤس3:12: صفحہ 1281)۔ کیا آج دُکھ اور اذیتیں موجود ہیں؟ آپ کو اِس بات پر بہتر طور سے یقین کر لینا چاہیے!

ماروِن روزنتھال نے کلیسیا کا قہر والا قبل ازیں ریپچر The Pre-Wrath Rapture of the Church نامی کتاب لکھی۔ اُس کتاب میں اُنہوں نے بائبل میں سے دکھایا کیسے ریپچر سے پہلے وہ بہت بڑی مصیبتوں کا نظریہ جو کہتا ہے مسیحی مشکلوں اور دُکھوں سے بچ جائیں گے غلط ہے۔ وہ دُرست تھے۔ لیکن اُنہیں اِس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑی۔ روزنتھال ایک یہودی ایماندار ہیں۔ وہ ایک تنظیم کے لیے کام کرتے ہیں جو یہودانہ ایونجیل اِزم [انجیلی بشارت کی تبلیغ] کرتی تھی۔ لیکن وہ بہت بڑے مصائب سے پہلے کے ریپچر پر اصرار کرتے تھے۔ روزنتھال نے کسی نہ کسی طرح آواز بُلند کی! اِس کی قیمت اُنہیں اپنی نوکری کھو کر چکانی پڑی۔ اُن کے بارے میں سوچیں۔ اُن کے پاس تو ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی نہیں تھی۔ اُن کا کوئی وجود نہیں تھا جو کہیں جانے کے قابل ہوتا۔ وہ اپنی آمدنی کھو چکے تھے۔ وہ اپنے دوست کھو چکے تھے۔ وہ محض ایک چھوٹے سے یہودی تھے، جن کا مذاق ایونجیلیکلز نے اُڑایا۔ لیکن روزنتھال کسی نہ کسی طرح ڈٹے رہے۔ وہ حوصلہ ہے! کیا آپ اُن کی مانند اتنے مضبوط ہیں؟ کیا آپ اتنے ہی مضبوط مرد یا عورت ہیں کہ اُس مسیحی زندگی میں ڈٹے رہیں چاہے اِس میں دشواریاں ہی کیوں نہ ہوں؟ میں یہ کرنے کے لیے آپ کو للکارتا ہوں!

بائبل میں وہ مسیحی زندگی امریکہ میں نئے مُرتد ایونجیلیکلز کے اُس نام نہاد کہلائی جانے والی مسیحی زندگی سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔ اُن کے لیے ’’مسیحی زندگی‘‘ لطافتوں کی ایک زندگی ہوتی ہے۔ وہ خود کی تکمیل کی ایک زندگی ہوتی ہے۔ وہی نئے ایونجیلیکلز کی زندگی ہے – جس میں چعین اور اُن کے لوگ شامل ہیں۔ وہی وہ سب کچھ ہیں، محض نئے ایونجیلیکلز۔

حقیقی مسیحی زندگی سنجیدہ ہوتی ہے۔ یہ زندگی کو بدل ڈالنے والی ہوتی ہے۔ زمین پر زندگی کے مقابلے میں مسیحی کی حیثیت سے زندگی زیادہ اہم ہوتی ہے۔ یہ حقیقی دعائیہ زندگی ہوتی ہے۔ یہ وہ زندگی ہوتی ہے جو بائبل کی فرمانبرداری کرتی ہے۔ یہ وہ زندگی ہوتی ہے جو بشروں کو جیتنے کی کوششیں کرتی ہے۔ یہ وہ زندگی ہوتی ہے جو مقامی کلیسیا کے لیے وقف ہوتی ہے۔ یہ وہ زندگی ہوتی ہے جو دُکھ سہتی ہے، اور دُکھوں کو سہنے کی توقع رکھتی ہے – اور برداشت کرتی ہے، کیونکہ اِس دُنیا میں اور کچھ بھی لائق نہیں ہے۔ وہی چین میں مسیحیوں کی زندگی ہے! وہی رچرڈ وورمبرانڈ کی زندگی تھی! وہی ماروِن روزنتھال کی زندگی تھی! وہی میری زندگی ہے! خُدا کرے آپ کی بھی یہی زندگی ہو!

II۔ دوسری بات، دُکھ سہنا آپ کی پاکیزگی کو جنم دیتا ہے۔

اُس لفظ ’’پاکیزگی‘‘ کا مطلب ہوتا ہے ’’مقدس ہونا، خالص ہونا، ایک بہتر مسیحی ہونا۔‘‘ دُکھ سہنا آپ کی پاکیزگی کو جنم دیتا ہے۔ جب آپ اپنی زندگی میں دُکھوں سے گزرتے ہیں اور زندگی میں دباؤ سے گزرتے ہیں تو یہ بات آپ کو ایک بہتر مسیحی بناتی ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’[دباؤ] مصیبت سے صبر پیدا ہوتا ہے؛ اور صبر سے مستقل مزاجی اور مستقل مزاجی سے اُمید پیدا ہوتی ہے‘‘ (رومیوں5:3، 4؛ صفحہ 1197)۔ آپ ایک بہتر مسیحی ہونگے۔ بائبل کہتی ہے مسیح کے لیے دُکھ سہنا ایک تحفہ ہوتا ہے،

’’کیونکہ مسیح کی خاطر تم پر یہ فضل ہوا ہے کہ نہ فقط اُس پر ایمان لاؤ بلکہ اُس کی خاطر دُکھ بھی سہو‘‘ (فلپیوں1:29؛ صفحہ 1258)۔

ایمان سے برگشتگی کے اِس دور میں فیصلہ ساز دُکھ سہنا نہیں چاہتے۔ وہ ’’فوری مسیحیت‘‘ چاہتے ہیں۔ اگر آپ گنہگاروں کی ایک دعا مانگتے ہیں، تو یہ سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ اور کچھ کرنے کے لیے باقی نہیں بچتا ماسوائے ساتھ ساتھ گھسٹتے رہیں جب تک کہ آپ کو [مسیح کے استقبال کے لیے بادلوں میں اُٹھا نہیں لیا جاتا] ریپچر نہیں کر دیا جاتا۔ لیکن وہ غلط ہیں! ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر نے کہا،

فوری مسیحیت کے وکیل نشوونما کے قانون کو فخر سے دکھاتے ہیں جو تمام فطرت میں دوڑتا ہے۔ وہ دُکھوں کو سہنے کے پاکیزہ اثرات اور عملی فرمانبرداری کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ وہ روحانی تربیت کی ضرورت کے قریب سے گزر جاتے ہیں، جو کہ دُرست روحانی عادات کو بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہے اور دُنیا کے، ابلیس کے اور انسانوں کے خلاف ڈٹے رہنے کے لیے ضروری ہوتی ہے (اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر A. W. Tozer، ’’’فوری مسیحیت‘ کی قلت‘‘، اُس شاندار مسیحی That Incredible Christian میں، موڈی پبلیشرز، دوبارہ اشاعت 2018)۔

نئے ایونجیلیکلز ’’دُکھوں اور عملی فرمانبرداری‘‘ میں سے گزرنا نہیں چاہتے۔ نا ہی چعین Chanاور اُس کے لوگ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جو وہ اب ہیں اُس کے مقابلے میں وہ کبھی بھی بہتر نہیں ہوں پائیں گے۔ درحقیقت، وہ اِس سے بھی بدتر ہو جائیں گے، جوں جوں وہ ایمان سے برگشتگی کی ڈھلوان پر نیچے کی جانب پھسلتے جائیں گے۔

کیسے آپ صرف ایک بہتر مسیحی بن سکتے ہیں؟ پینتیکوست مشن والے اور کرشماتی مشن والے کہتے ہیں یہ [ایک بہتر مسیحی بننا] بہت بڑے بڑے احساسات اور تجربات میں سے گزرنے سے رونما ہوتا ہے۔ لیکن آپ اپنی ساری زندگی جھٹکتے رہیں، کودتے اور محسوس کرتے اور چیختے چِلاتے رہیں، اور ایک ذرہ بھی نہ بڑھیں – اگر آپ سرے سے نجات یافتہ ہوتے ہیں۔ نئے ایونجیلیکلز سوچتے ہیں کہ آپ بائبل کے مطالعے کے ذریعے سے ایک عظیم مسیحی بن سکتے ہیں۔ جی ہاں، بائبل کو پڑھنا دُرست ہوتا ہے۔ لیکن وہی کافی نہیں ہوتا ہے۔ میں خود اپنی زندگی پر ماضی میں نظر ڈالتا ہوں۔ میں بائبل کی تعلیم دینے والے ایک گرجا گھر میں گیا تھا اور ایک سال تک ہر اِتوار کو تفسیراتی واعظوں کو سُنا تھا – اور یہاں تک کہ نجات بھی نہیں پائی! میرے مسیح پر ایمان لا چکنے کے بعد، مجھے یہ سوچنا یاد ہے میں مطالعہ کر سکتا ہوں اور مذید اور زیادہ سیکھ سکتا ہوں اور کبھی بھی دھیمی یا مدھم، وسط درجے کے مذہب سے پرے نہیں جا سکتا – اور میں دُرست تھا۔

پھر میری ملاقات ڈاکٹر ہائیمرز سے ہوئی۔ اُنہوں نے کچھ ایسی تبلیغ کی تھی جو میں نے پہلے کبھی بھی کہیں پر بھی نہیں سُنی تھی، کچھ ایسا جو آپ تقریباً کہیں پر بھی آج امریکہ میں نہیں سُن سکتے۔ اُنہوں نے تبلیغ کی تھی کہ مسیحی زندگی ساری کی ساری جدوجہد کا سامنا کرنے، خود کو کام میں جھونک دینے، جنگ کو لڑنے میں بڑھتے جانے کے بارے میں ہوتی ہے۔ اُنہوں نے تبلیغ کی تھی کہ مسیحی نشوونما دراصل جدوجہد میں رہنے کے ذریعے سے ہوتی ہے، کبھی کبھار زخمی ہونے اور چوٹ سہنے سے ہوتی ہے، لیکن سونے کی مانند نکھر جاتی ہے۔ اُنہوں نے تبلیغ کی تھی کہ نشوونما تجربات کے سکول میں سے گزرنے کے ذریعے سے ہوتی ہے، جو مسیحی زندگی کا سکول ہے۔ اُنہوں نے تبلیغ دی تھی کہ مسیحی زندگی سفرولوجی [دُکھوں کے تجربوں کا علم] اور زندگی کو بسر کرنے کے ذریعے سے ہوتی ہے۔ وہ تبلیغ ایک قیمتی خزانہ ہے! میں ڈاکٹر ہائیمرز کے لیے خداوند کا شکر ادا کرتا ہوں!

وہی مسیحی زندگی میں بڑھنے کی راہ ہے – ناکہ اُس چیز کو تلاش کرنا جو آپ کے لیے آسان ہو، بلکہ خونی سمندروں میں جہاز رانی کرنے کے ذریعے سے، جیسا کہ حمدوثنا کا ایک گیت اِس کو تحریر کرتا ہے۔ اگر آپ زندگی کو سفرولوجی میں سے گزر کر زندگی بسر کرتے ہیں تو آپ ایک مضبوط اور بہتر مسیحی ہو جائیں گے! آپ مسیح کے تاج میں ایک نگینہ ہوں گے۔ جب مسیح اپنی بادشاہت کو قائم کرنے کے لیے آئے گا، تو وہ آپ کو سونے اور چاندی سے بڑھ کر انعام دے گا! آپ مسیح کی بُلاہٹ کو سُن پائیں گے؟ کیا آپ اُس [مسیح یسوع] میں ڈٹے رہیں گے اور نشوونما پائیں گے؟ کیا آپ یہ کریں گے؟ کاش ایسا ہی ہو!

III۔ تیسری بات، دُکھوں کو سہنا آپ کو برداشت کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔

زندگی بسر کرنے کے لیے یہ اچھا دور نہیں ہے۔ ہم ایمان سے برگشتگی the Apostasy کے دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں، جب سچے مسیحی ایمان سے لوگ دور چلے جاتے ہیں۔ اِس کو ’’بہت بڑی برگشتگی یا گمراہی‘‘ کہتے ہیں – hē apostasia – وہی ایمان سے برگشتگی (II۔تھسلنیکیوں2:3؛ صفحہ 1272)۔ ہم اُس دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں جب ’’بدکار اور دھوکہ باز لوگ فریب دیتے ہیں اور فریب کھاتے کھاتے بگڑ جاتے ہیں‘‘ (2 تیموتاؤس3:13؛ صفحہ 1281)۔ ہم اب ایک ایسے دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں جب ’’بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘ (متی24:12؛ صفحہ 1033)۔ ہم اُس دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں جب گرجا گھروں کی ممبرشپ کم ہوتی جا رہی ہے اور حتّیٰ کہ وہ اپنے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ ہم ’’ایمان سے برگشتگی‘‘ کے دورمیں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

دشوار دور ہمارے آگے کھڑا ہے، امریکہ کے لیے اور کلیسیاؤں کے لیے۔ اِس کے باوجود ایونجیلیکلز ایک خوش فہم برتاؤ سے دوسرے کی جانب بڑھتے جا رہے ہیں۔ وہ مجھے بلشیزار بادشاہ King Belshazzar اور اُس کے لوگوں کی یاد دلاتے ہیں جو میڈیس Medes اور فارسیوں کے ہاتھوں بابل کی شکست سے ایک رات پہلے شراب پینے اور دعوتیں منانے میں مصروف تھے! (دیکھیں دانی ایل 5 باب)۔ بائبل کہتی ہے،

’’تم خُدا کے تمام ہتھیار باندھ کر تیار ہو جاؤ، تاکہ جب اُن کے حملہ کرنے کا بُرا دِن آئے تو تم اُن کا مقابلہ کر سکو، اور اُنہیں پوری طرح شکست دے کر قائم بھی رہ سکو‘‘ (افسیوں6:13؛ صفحہ 1255)۔

اُس آیت کا مطلب ہے، ’’خود کو تیار کر لو، ورنہ تم ڈٹے رہنے کے قابل نہیں رہو گے!‘‘ ایتھلیٹس اپنے کھیل کی مشق کرتے ہیں، کیا وہ نہیں کرتے؟ اگر وہ مشق نہیں کریں گے، تو وہ جیتیں گے نہیں۔ ہر کوئی اِس بات کو جانتا ہے – ماسوائے ایونجیلیکلز کے!

کیسے نئے ایونجیلیکلز کی زندگی کوئی سمجھ فراہم نہیں کرتی! اُن میں سے زیادہ تر تو سرے سے مسیحی ہوتے ہی نہیں۔ اُن میں سے چند ایک ہی مضبوط مسیحی ہوتے ہیں، کیونکہ وہ خود تو لطف اندوز ہو چکے ہوتے ہیں اور کبھی بھی دُکھوں کی آگ میں سے شیطان کے خلاف جنگ کے اِمتحان میں سے گزرے نہیں ہوتے۔ وہ اُس باکسر کی مانند دھڑم سے گر جاتے ہیں جو ایک مقابلے میں بغیر پریکٹس کے گِرتا ہے! جب مصیبتیں آتی ہیں، وہ ڈٹے نہیں رہتے۔ اگر وہ [دجال] دشمنِ مسیح کا سامنا کریں، تو وہ اُس کے نشان کو اپنا لیں گے اور جب وہ ایسا کریں گے تو اُس کا بہانہ بنا لیں گے۔ آپ کے خیال میں چعینChan اور اُس کے لوگ کیا کریں گے؟ وہ ابھی دُکھ نہیں اُٹھائیں گے، لہٰذا اور بعد میں بھی دُکھ نہیں اُٹھائیں۔ وہ ہتھیار ڈال دیں گے! بائبل کہتی ہے، ’’اگر تو نے لوگوں کے ساتھ پیدل دوڑ لگائی ہو اور اُنہوں نے تجھے تھکا دیا ہو تو پھر تو گھوڑوں سے بازی کیسے لے گا؟‘‘ (یرمیاہ12:5: صفحہ 758)۔ جب یہ آسان ہوتا ہے اور اگر آپ اِس کو سنبھال نہیں سکتے، تو آپ کیا کریں گے جب یہ مشکل ہو جاتا ہے؟ اچھا سوال ہے!

میں نے 42 سال پہلے یسوع پر بھروسہ کیا۔ میں نے ابتدائی مسیحیوں کے بارے میں پڑھائی کی – مسیح کا انکارکرنے کے مقابلے میں کیسے لوگ دُکھ سہیں گے اور مر جائیں گے۔ میں نے رچرڈ وورمبرانڈ کی کتاب پڑھی – مسیح کا انکارکرنے کے مقابلے میں کیسے لوگ دُکھ سہیں گے اور مر جائیں گے۔ پھر میں نے اپنے اِردگرد دیکھا۔ میں نے ایونجیلیکلز کو لطف اندوزیوں میں جکڑے ہوئے دیکھا۔ میں نے لوگوں کو اپنے گردن کے گرد صلیب لٹکائے ہوئے دیکھا، لیکن اُن کی زندگی میں کوئی صلیب نہیں تھی۔ میں نے ایک غیرحقیقی دُنیا کو دیکھا۔ جو میں نے دیکھا اُس کے بارے میں مَیں نے سوچا۔ پھر میں نے شہیدوں اور پاسٹر وورمبرانڈ کے بارے میں سوچا۔ یہ ایسا لگا تھا جیسے دو مختلف دُنیائیں اور دو مختلف مذاہب تھے۔ مجھے دکھائی نہیں دیا کیسے ایونجیلیکلز اذیتوں کے تحت ڈٹے رہیں گے۔ میں پُریقین نہیں تھا کہ آیا میں ڈٹا رہوں گا! [کیا آپ ڈٹے رہیں گے؟ کیا آپ کو یقین ہے؟ مجھے نہیں تھا۔] میں نے تربیت پانے کے لیے ایک جگہ کی تلاش کی۔ میں نے اِس گرجا گھر کو ڈھونڈ لیا اور اِسی میں ٹِکا رہا۔ ہمارے گرجا گھر کے لیے خُداوند کا شکر ہو!

آئیے مجھے اِس بات کو اتنے واضح طور پر لینے دیجیے جتنے واضح طور پر میں کہہ سکتا ہوں: اگر آپ اُس بات کو سنبھال نہیں سکتے جس میں سے آپ ابھی گزر رہے ہیں، تو آپ اُس وقت کامیاب نہیں ہو سکتے جب حالات مشکل تر ہو جاتے ہیں۔ چعینChan اور اُس کے لوگ اِس کو نہیں کر پائیں گے۔ وہ اِس کو ابھی سہل چاہتے ہیں، اور وہ بھاگ جائیں گے جب یہ دشوار ہو جائے گا۔ اُن کی مانند مت بنیں! سفرولوجی کے سکول میں سے گزریں۔ اِس کے ساتھ چمٹیں رہیں۔ مشکل باتوں [حالات] سے مت چھپیں۔ صحیح بات کو کریں چاہے اُس میں کوئی مزہ نہ بھی ہو۔ دُرست بات کو کریں چاہے دوسرے اُسے نہ کرتے ہوں۔ صحیح کام کو کریں چاہے وہ آپ کی راہ میں ایک رکاوٹ ہی کیوں نہ ہو۔ دُرست بات کو کریں چاہے اِس سے تکلیف ہی ہو۔ آپ دشوار ٹھوکروں اور دُکھوں سے گزر جائیں گے، لیکن وہ تو کھڑے رہنے اور ڈٹے رہنے کی راہ ہے جب اصل امتحان ہوتا ہے۔

کیا آپ یہ کرنے کے لیے کافی مضبوط ہیں؟ کیا آپ دُکھوں کو سہنے میں سے گزرنے کے لیے مضبوط آدمی ہیں؟ کیا آپ مضبوط عورت ہیں؟ میں آپ کو یہ کرنے کے لیے للکارتا ہوں!

IV۔ چوتھی بات، دُکھ سہنا آپ کے لیے انعام لاتا ہے۔

اگر آپ ایک مسیحی کی حیثیت سے دُکھ سہتے ہیں تو آپ کو مسیح کی بادشاہت میں انعام ملے گا۔ بائبل کہتی ہے، ’’اگر ہم دُکھ اُٹھائیں گے تو ہم اُس [یسوع] کے ساتھ حکمرانی بھی کریں گے‘‘ (2 تیموتاؤس2:12؛ صفحہ 1280)۔ دوبارہ بائبل کہتی ہے، ’’ہماری یہ معمولی سی مصیبت جو کہ عارضی ہے ہمارے لیے ایسا ابدی جلال پیدا کر رہی ہے جو ہمارے قیاس سے باہر ہے‘‘ (2کرنتھیوں4:17؛ صفحہ 1233)۔ وہ دُکھ جو ہم ابھی سہہ رہے ہیں کچھ بھی نہیں ہیں اگر اُن کا موازنہ اُس عظیم انعام سے کیا جائے جو مسیح ہمیں دے گا!

سو سال سے کچھ زیادہ عرصہ پہلے صدر تھیوڈور روزویلٹ افریقہ سے ایک شکاری سفر سے واپس لوٹے۔ اُنہیں دیکھنے کے لیے ایک بہت بڑا ہجوم آیا۔ جب وہ بحری جہاز سے نیچے اُترے، لوگوں نے شور مچایا اور تالیاں بجائیں۔ پھر وہ ہجوم چلا گیا۔ لیکن وہاں ایک اور شخص تھا جو اُسی بحری جہاز سے آیا تھا۔ ھنری موریسن افریقہ کے لیے چالیس سالوں تک مشنری رہ چکے تھے۔ جب وہ اور اُن کی بیوی جہاز تک آنے جانے کے لیے ایک عارضی پُل کے تختے تک پہنچے، کسی نے بھی اُن کے لیے تالیاں نہیں بجائیں۔ کوئی ایک بھی شخص اُنہیں مبارکباد دینے کے لیے نہیں آیا۔

موریسن دُکھی تھے۔ اُنہوں نے اپنی بیوی سے کہا، ’’ہر کسی نے صدر کو خوش آمدید کہا۔ ہم نے مشنری کام میں چالیس سال گزار دیے اور کوئی بھی پرواہ کرتا ہوا محسوس نہیں ہوا۔‘‘ اُن کی بیوی نے کہا، ’’دوسرے کمرے میں جاؤ اور خُدا کے ساتھ معاملہ طے کرو۔‘‘ وہ کمرے میں چلے گئے۔ بعد میں موریسن باہر آئے۔ وہ مذید اور دُکھی نہیں تھے۔ اُنہوں نے کہا، ’’میں نے خُدا کے ساتھ معاملہ طے کر لیا ہے۔‘‘ پھر اُنہوں نے اپنی بیوی کو بتایا، ’’خُدا نے مجھے کہا، ’تم ابھی تک گھر نہیں پہنچے ہو۔‘‘‘

موریسن اب جنت میں ہیں۔ وہ لوگ جو اُن سے پہلے مرے تھے جنہیں اُنہوں نے مسیح کے لیے جیتا تھا اُنہوں نے اُن کا استقبال کیا۔ مسیح نے اُن کا اِستقبال کیا۔ ’’موریسن یہاں ہیں! موریسن یہاں ہیں!‘‘ اُنہوں نے ضرور پکارا ہوگا۔ اور اُس شاندار انعام کے بارے میں سوچیں جو یسوع نے اُنہیں بادشاہت میں بخشا ہوگا! تاج اور شہر اور عزت اور جلال! وہ دُکھ بُھلائے جا چکے ہونگے جیسے ہی موریسن نے اپنا تاج پایا ہوگا! وہ درد بُھلایا جا چکا ہوتا ہے۔ میں مقدسین اور فرشتوں کو پکارتا ہوا تصور کر سکتا ہوں، ’’موریسن! موریسن!‘‘ اب وہاں صرف جلال ہے!

آپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ صلیب کی راہ اپنائیں گے؟ میں کہتا ہوں، ’’نئے ایونجیلیکلز کی لڑکی نما آدمیوں والی مسیحیت سے دور ہو جائیں! چعینChan کے لڑکی نما آدمیوں والے مذھب سے دور ہو جائیں!‘‘ مرد بنیں! عورت بنیں! ہمارے ساتھ آئیں۔ ہمارے ساتھ ٹھہریں! مسیح کے لیے زندگی کو بسر کریں! ایک دِن درد بُھلایا جا چکا ہوگا۔ آپ کو شاندار انعام ملے گا۔ میں مقدسین اور فرشتوں کو آپ کے لیے گاتے ہوئے تصور کر سکتا ہوں۔ آپ کے لیے، وہاں صرف جلال ہوگا!

مہربانی سے کھڑیں ہوں اور ’’کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں Am I a Soldier of the Cross?‘‘ کا بند نمبر 1، 2 اور 4 گائیں۔

کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں، برّے کے پیچھے چلنے والا،
اور کیا مجھے اُس کے مقصد کو اپنانے سے خوفزدہ ہونا چاہیے، یا اُس کا نام بولنے سے شرمندہ ہونا چاہیے؟

کیا مجھے آسمان پر سہولت کے پھولدار بستروں پر لے جایا جانا چاہیے،
جبکہ دوسرے انعام جیتنے کے لیے لڑیں، اور خونی سمندروں میں سے گزریں؟

یقیناً مجھے لڑنا چاہیے، اگر مجھے حکومت کرنی ہے؛ خُداوندا! میرے حوصلے کو بڑھا،
میں سختیوں کو جھیلوں گا، درد کو برداشت کروں گا، تیرے کلام کے سہارے کے ذریعے سے۔
   (’’کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں؟Am I a Soldier of the Cross?‘‘ شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts، 1674۔1748)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب

دُکھوں کے تجربوں کا علم

SUFFEROLOGY

ڈاکٹر کرسٹوفر ایل۔ کیگن کی جانب سے
by Dr. Christopher L. Cagan

’’کیونکہ تم بھی اِسی قسم کے چال چلن کے لیے بُلائے گئے ہو کیونکہ مسیح نے تمہارے لئے دُکھ اُٹھا کر ایک مثال قائم کر دی تاکہ تم اُس کے نقشِ قدم کی پیروی کرو‘‘ (1۔پطرس2:21؛ صفحہ 1313 سیکوفلیڈ)۔

I. پہلی بات، دُکھ سہنا خُدا کی جانب سے آپ کی بُلاہٹ ہے، لوقا 9:23؛ 2۔ تیموتاؤس 2:3؛ متی 10:38؛ 2۔ تیموتاؤس 3:12؛ عبرانیوں 11:25؛ 1۔ کرنتھیوں 6:19؛ یوحنا 16:33؛ اعمال 14:22؛ 1۔ پطرس 4:12، 13؛ 2۔ تیموتاؤس 3:12۔

II. دوسری بات، دُکھ سہنا آپ کی پاکیزگی کو جنم دیتا ہے، رومیوں 5:3، 4؛ فلپیوں 1:29؛ اعمال 5:41 .

III. تیسری بات، دُکھوں کو سہنا آپ کو برداشت کرنے کے لیے تیار کرتا ہے، 2۔تھسلنیکیوں 2:3؛ 2۔ تیموتاؤس 3:13؛ متی 24:12؛ افسیوں 6:13؛ یرمیاہ 12:5۔

IV. چوتھی بات، دُکھ سہنا آپ کے لیے انعام لاتا ہے، 2۔ تیموتاؤس 2:12؛ 2۔ کرنتھیوں 4:17۔