Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 42 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


مصلوبیت کے ہفتے میں وہ چند ایک اور وہ بے شمار

THE MANY AND THE FEW IN CRUCIFIXION WEEK
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 17 مارچ، 2019
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, March 17, 2019

’’کیونکہ بُلائے ہوئے تو بہت ہیں مگر چُنے ہوئے کم ہیں‘‘ (متی22:14)۔

تقریباً دو سال پہلے ہمارے گرجا گھر نے مجھے خوشخبری کی منادی کرنے کے لیے انڈیا بھیجا تھا۔ میں غریب گاؤں اور بڑے بڑے شہروں میں گیا۔ وہ جگہ پُرہجوم تھی! ریاست ہائے متحدہ کی ایک تہائی زمین میں جتنے لوگ ہوتے ہیں انڈیا میں اُس کے چار گُنا زیادہ لوگ ہیں – لہٰذا یہ ہمارے مُلک سے بارہ گُنا زیادہ پُرہجوم ہے۔ شہروں میں، مَیں نے ایک کے بعد ایک سڑک، میل در میل، لوگوں کو تین یا چار فٹ کے فاصلے سے کھڑے ہوئے یا بیٹھے ہوئے دیکھا اور دُکانیں صرف دس یا بارہ فٹ چوڑی تھیں۔

یہ لاتعداد لاکھوں لوگ روحانی تاریکی میں جیتے اور مر جاتے ہیں۔ میں نے غریب لوگوں کو ننگے پاؤں ہندو بُتوں کو چاول اور پھل نذر چڑھانے کے لیے جاتے ہوئے دیکھا۔ ایک شہر میں مَیں ایک مینار پر چڑھا۔ میں نے نیچے نظر دوڑائی اور سینکڑوں ہزاروں لوگوں کو ایک وسیع انسانی چونٹیوں کے گھروندے کی مانند دیکھا۔ اُن میں سے کتنے کم لوگوں نے مسیح پر بھروسہ کیا! لاکھوں اِس راہ یا اُس راہ پر دوڑے – ابلیس کے ذریعے سے روحانی دھوکے میں جکڑے ہوئے – سب کے سب مسیح کے بغیر۔

میں افریقہ میں تین ممالک میں گیا۔ یہ کوئی مختلف نہیں تھا۔ وہاں پر لاکھوں لوگ جلد بازی میں تھے اور دوڑتے پھرتے تھے – لیکن کتنے کم لوگ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل شُدہ تھے! سالوں پہلے میں کاروبار کے سلسلے میں نیویارک شہر گیا تھا۔ کیا وہ مختلف تھا؟ دوبارہ میں نے ان گنت ہزاروں لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رگڑ کھاتے ہوئے، بغیر باتیں کرتے ہوئے سڑکوں پر جاتے ہوئے دیکھا، جو دولت کے جھوٹے خُدا کو ڈُھونڈ رہے تھے۔ کچھ نام کے کاتھولک اور پروٹسٹنٹ تھے – لیکن کتنے کم لوگوں نے نجات پائی ہوئی تھی!

تقریباً بیس سال پہلے ہمارے گرجا گھر نے مجھے اسرائیل بھیجا تھا۔ میں یروشلیم کے شہر کو دیکھنے گیا۔ کیا وہ مختلف تھا؟ جی نہیں۔ دوبارہ وہی ایک وسیع انسانی چونٹیوں کا گھروندا تھا جہاں لوگ اِس راہ یا اُس راہ پر تیزی سے آ جا رہے تھے۔ اُن میں سے بے شمار مذہبی تھے۔ کچھ سیاہ لباس زیب تن کیے ہوئے تھے۔ وہ ہر ہفتے، عادتاً مذہبی جلسوں میں جاتے تھے۔ اُن میں سے کتنے کم لوگوں کی زندگی دائمی تھی!

سال کے اِن اوقات میں، جس کو کاتھولک ’’روزہ‘‘ کہتے ہیں جو ایسٹر تک چلتا ہے، ہم یسوع کے مرنے سے ایک ہفتے پہلے کو یاد کرتے ہیں، خصوصی طور پر اُس کی موت اور مُردوں میں سے دوبارہ جی اُٹھنا۔ یروشلیم میں دو ہزار سال قبل، کیا اِس سے مختلف تھا؟ جی نہیں، وہ مختلف نہیں تھا۔ انسانی فطرت ہمیشہ کی طرح ایسی ہی تھی – گمشدہ اور مسخ شُدہ۔ وہ ایسی کیوں نہ ہوتی؟ یروشلیم میں انسانیت نے – یہاں تک کہ اپنی بہترین سطح پر – اپنی بہترین ذات کو ظاہر کیا، اور خُدا کے بیٹے کو مصلوب کر دیا۔ وہاں جو کچھ ہوا ہم پر دو اہم باتیں ظاہر کرتا ہے۔

I۔ پہلی بات، بے شمار لوگوں نے مسیح کو مسترد کر دیا۔

لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے نجات کے بغیر ہی زندگی بسر کی اور مر گئے۔ بائبل کہتی ہے، ’’کوئی راستباز نہیں، نہیں، ایک بھی نہیں: کوئی بھی سمجھدار نہیں ہے، کوئی خُدا کا طالب نہیں، سب کے سب گمراہ ہو گئے، وہ کسی کام کے نہیں رہے؛ کوئی نہیں جو بھلائی کرتا ہو، ایک بھی نہیں‘‘ (رومیوں3:10۔12)۔ دوبارہ بائبل کہتی ہے، ’’وہ تمام کے تمام گناہ کے قابو میں ہیں‘‘ (رومیوں3:9)۔ سب آدم کی اولاد ہیں، جو خُدا کے خلاف بغاوت اور خودغرضی میں ایک دِل کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ آپ آدم کے ایک بچے ہیں، جو گناہ میں ایک دِل کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ کوئی شاید سوچے، ’’ یہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ اِس قدر زیادہ لوگ گمشدہ ہیں۔‘‘ تو جواب ہے، ’’سارے گمشدہ ہیں اور سزا کے مستحق ہیں۔ یہ فضل کا ایک معجزہ ہے کہ کوئی نجات پا چکا ہے۔‘‘ صرف چُنیدہ لوگ ہی اُس فضل کو پاتے ہیں اور نجات یافتہ ہیں۔ ہماری تلاوت کہتی ہے، ’’کیونکہ بُلائے ہوئے تو بہت ہیں لیکن چُنیدہ کم ہیں۔‘‘ لوگوں کی ایک بہت کثیر تعداد مسیح پر بھروسہ کیے بغیر ہی زندگی بسر کرتی اور مر جاتی ہے۔ اُس ہفتے میں یروشلیم میں لوگوں کے بارے میں سوچیں۔

پہلے، وہاں پر وہ ہجوم تھے۔ یقین دہانی کے لیے، جب کجھوروں کے اِتوار کو یروشلیم میں وہ سواری کرتا ہوا داخل ہوا۔ جذبات سے لبریز دیوانہ وار وہ چلائے تھے، ’’ابنِ داؤد کو ہوشعنا: مبارک ہے وہ جو خُداوند کے نام سے آتا ہے؛ عالم بالا پر ہوشعنا‘‘ (متی21:9)۔ لیکن کیا اُنہوں نے نجات دہندہ پر بھروسہ کیا تھا؟ جی نہیں، وہ صرف جذبات میں آ کر چلائے تھے، بالکل جیسے آج ہجوموں میں لوگ کرتے ہیں۔ آخر کو، یسوع اُس لمحے کی معزز ہستی تھا۔ وہ مبلغ تھا جس نے بیماروں کو شفا دی تھی اور مُردوں کو زندہ کیا تھا۔ شاید وہ اسرائیل کو رومیوں سے آزاد کروا دے۔ اُنہوں نے حوصلہ افزائی کی اور خوشی سے نعرے لگائے، جیسے کہ لوگ آج کل مشہور ہستیوں اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ لیکن پانچ دِن بعد، جب مسیح پیلاطُوس کے سامنے کھڑا تھا، ’’وہی لوگ یہ کہتے ہوئے چلائے، اِسے صلیب دو، اِسے صلیب دو‘‘ (لوقا23:21)۔ یہ سب جذبہ تھا، مسیح میں بھروسہ نہیں تھا۔ ہجوم نے نجات دہندہ کی موت کے لیے چیخیں ماری تھیں۔

پھر وہاں پر رومی تھے۔ وہ تلوار کے زور پر اسرائیل پر حمکرانی کرتے تھے۔ کوئی بھی اُس کے خلاف اپنے ہاتھ بُلند نہیں کر سکتا تھا۔ کوئی بھی اپنے آپ کو بادشاہ نہیں کہلا سکتا تھا اور اِس کی سزا سے بچ نہیں سکتا تھا۔ اور اِس لیے اُنہوں ںے مسیح کو مصلوب کر دیا تھا، اپنے گورنر، پینطُس پیلاطُس کے احکامات پر۔ اُنہوں نے اُسے ایک سخت کوڑے کے ساتھ کوڑے مارے اور جب تک کہ وہ ادھموا نہیں ہو گیا اُس کی کھال کے چیتھڑے اُڑائے۔ اُنہوں نے یسوع کے ہاتھوں اور پیروں میں بھاری کیل ٹھوکے، اُسے ایک صلیب پر کیلوں کے ساتھ لٹکا دیا۔ وہاں اُنہوں نے اُسے اذیت میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔

ہم رومیوں کے بارے میں ظالم اور کمینوں کی حیثیت سے سوچتے ہیں، اور وہ ایسے ہی تھے۔ لیکن میں نے کہا تھا کہ وہ انسانیت کی بہترین سطح تھی جس نے خُدا کے بیٹے کو مصلوب کیا تھا، اور وہ ایسی ہی تھی۔ رومیوں نے ایک سلطنت قائم کی تھی جس نے صدیوں تک حکمرانی کی تھی۔ لوگ آج بھی اِس کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔ روم کا شہر اپنے زوال سے پہلے آٹھ سو سالوں تک قائم رہا تھا۔ وہ زمین پر عظیم ترین طاقت تھا۔ اور اِس کے باوجود اُس عظیم روم نے مسیح کو ایک باغی غلام کی سی سزا دی، شرمندگی اور خون میں صلیب پر ننگا لٹکا ہوا۔ یہ تھی انسانیت کی وہ بہترین سطح جس نے یسوع کے ساتھ یہ کیا۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

اب سینہیڈرن Sanhedrin کا سوچیں۔ یہ ربّیوں (اساتذہ، عالمینِ بائبل) کی وہ عدالت تھی جو یہودی لوگوں کے مذہبی معاملات کو سنبھالتی تھی، جس کی قیادت سردار کاہن کائیفا کرتا تھا۔ وہ انسانیت کے بارے میں بہترین لوگ تھے۔ وہ سچے خُدا میں یقین رکھتے تھے۔ اُن کے درمیان کوئی بھی بُت پرست؛ زنا کار، یا شرابی نہیں تھے۔ وہ مذہب کی ہر تفصیل کی سختی سے پابندی کرتے تھے۔ اُنہوں نے پرانے عہد نامے کے صحائف کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہوا تھا، جن میں مسیحا کے بارے میں پیشنگوئیاں بھی تھیں۔ اُن میں سے بے شمار کو توریت (بائبل کی پہلی پانچ کتابیں) زبانی یاد تھی۔ اِس کے باوجود اِن عالم فاضل، مذہبی لوگوں نے مسیح کو مسترد کر دیا کیونکہ اُنہیں اپنا اعلیٰ مرتبہ کھونے کا خوف تھا۔ اُنہوں نے مسیح کو گتسمنی میں گرفتار کروایا۔ اُنہوں نے اُس پر ایک غیرقانونی مقدمے میں سزا نافذ کی۔ یہ صرف اِس لیے تھا کیونکہ اُن کے پاس ایک شخص کو مارنے کے لیے کوئی اِختیار نہیں تھا کہ وہ یسوع کو رومی گورنر کے پاس لے گئے تھے۔ وہاں اُنہوں نے شدید غصے کے عالم میں پیلاطوس سے تقاضا کیا، ’’اِسے مصلوب کیا جائے۔ اِسے مصلوب کیا جائے‘‘ (متی27:22، 23)۔ سینہیڈرن کے ذریعے سے، انسانیت کی بہترین سطح اپنے خدا کی موت کے لیے چلائی تھی۔

آپ کہتے ہیں، ’’میں اُن لوگوں کے جیسا نہیں ہوں۔ میں نے تو یسوع کے ہاتھوں میں کیل نہیں ٹھوکے تھے۔ میں تو اُس کی موت کے لیے نہیں چلایا تھا۔‘‘ لیکن آپ نے بھی تو اُنہی کی طرح اُس کو مسترد کر دیا۔ اپنی ذاتی جدوجہد کے ذریعے سے، آپ نے مسیح کی جانب سے اپنا مُنہ موڑ لیا۔ آپ شاید سوچتے ہیں کہ آپ کا معاملہ خصوصی ہے، ایک مستثنیٰ قرار دیے جانے والا عمل ہے، اور کہ آپ کے پاس ایک اچھا بہانہ ہے۔ لیکن اپنی جدوجہد میں، آپ آخر میں اُس یسوع کے خلاف ہو جاتے ہیں۔

دو مخصوص لوگوں کے بارے میں سوچیں۔ واضح معاملہ یہوداہ کے بارے میں ہے۔ وہ یسوع کے ساتھ تین سالوں تک تھا۔ وہ شاگردوں کی رقوم کا خیال رکھتا تھا، کیونکہ اُس ’’کے پاس تھیلی‘‘ تھی (یوحنا12:6)۔ مسیح کے پیچھے پیچھے چلنا اُس کا سبب تھا۔ وہ خود کے لیے پیسے نکالتا تھا، کیونکہ وہ ’’ایک چور تھا‘‘ (یوحنا12:6)۔ ایک روز اُس نے ایک عورت کو تھوڑے سے خالص اور بہت قیمتی عِطر کے ساتھ یسوع کے پیروں کو دھوتے ہوئے دیکھا۔ یہوداہ نے یہ کہتے ہوئے اِعتراض کیا، ’’یہ عِطر اگر بیچ دیا جاتا تو تین سو دینار وصول ہوتے جو غریبوں میں تقسیم کیے جا سکتے تھے؟‘‘ (یوحنا12:5)۔ یہ بِلاشُبہ قیمتی تھا، کیونکہ ایک ’’دینار‘‘ ایک مزدور کی ایک دِن کی کمائی تھی۔ تین سو دینار تقریباً ایک سال کی کمائی تھی۔ یہوداہ اِس قدر زیادہ پیسے کے ضیائع کو برادشت نہیں کر پایا تھا۔ وہ چاہتا کہ وہ پیسہ اُس کی تھیلی میں آ جاتا کہ وہ اُسے استعمال میں لاتا اور اُس میں سے چوری کر پاتا۔ چیزیں اُس طرح سے نہیں چل رہی تھیں جیسے اُس نے اُمید کی تھی۔ یوں دکھائی دیتا تھا کہ بالاآخر وہ کبھی بھی امیر نہیں ہو پائے گا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزر پایا تھا کہ چاندی کے تیس سِکّوں کے عوث یسوع کے ساتھ دھوکہ کرنے کے لیے راضی ہو گیا تھا۔ جی ہاں، یہوداہ یسوع کے ساتھ چلتا تھا، لیکن آخر میں اُس نے پیسے کو چُنا تھا اور نجات دہندہ کو مسترد کر دیا تھا۔

اب رومی گورنر پینطس پیلاطوس کے بارے میں سوچیں۔ وہ ایک سخت گیر شخص تھا جو امن برقرار رکھنے کے لیے طاقت کا استعمال کرتا تھا۔ اُس نے کئی لوگوں کو موت کی سزا سُنائی تھی۔ لیکن اُس کی اپنی ایک اندرونی جدوجہد تھی۔ ایک گورنر کی حیثیت سے، وہ جانتا تھا کہ یسوع کا پُرجوش استقبال کیا گیا تھا جب وہ پانچ روز قبل ایک گدھے پر سوار ہو کر یروشلیم میں داخل ہوا تھا۔ اُس کی بیوی نے اُسے بتایا تھا، ’’اُس نیک آدمی کے ساتھ تو کچھ مت کرنا‘‘ (متی27:19)۔ جب شرعی عالمین [سینہیڈرن] نے تقاضا کیا کہ وہ مسیح کو موت کی سزا سُنائے تو پیلاطُوس نے تعجب کیا۔ اُس نے یسوع کا اِنٹرویو لیا اور یہ کہتے ہوئے اُسے باہر لایا، ’’میں تو اِسے مجرم نہیں سمجھتا‘‘ (یوحنا18:38)۔ وہ یسوع کو مصلوب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اِس کے بجائے، اُس نے یسوع کو کوڑے لگوائے جانے کے لیے بھیج دیا۔ اُس نے سوچا تھا اِس سے اِلزام لگانے والوں کو تسلی مل جائے گی اور یسوع کو مرنا نہیں پڑے گا۔ اُن کوڑوں کے لگوائے جانے کے بعد پیلاطوس نے دوبارہ کہا، ’’میں کسی بِنا پر بھی اِس پر فردِ جرم عائد نہیں کر سکتا‘‘ (یوحنا19:4)۔

پیلاطوس ایک اندرونی جدوجہد میں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یسوع بے گناہ ہے۔ وہ اُسے مصلوب کرنا نہیں چاہتا تھا۔ بائبل کہتی ہے، ’’پیلاطوس نے یسوع کو چھوڑ دینے کی کوشش کی‘‘ (یوحنا19:12)۔ اُس نے یسوع کو آزاد کیوں نہیں چلے جانے دیا؟ اُس کے اپنے دِل میں، اُس کے جرم کے احساس اور معصومیت سے بالاتر، اُس کی نوکری داؤ پر تھی، اُس کا اعلیٰ رُتبہ داؤ پر تھا۔ وہ اُس کے خُدا تھے، اور عالمینِ شریعت [سینہیڈرن] کو یہ بات پتا تھی۔ وہ چیخے تھے، ’’اگر تو اِس شخص کو چھوڑے گا تو تُو قیصر کا خیرخواہ نہیں‘‘ (یوحنا19:15)۔ وہ پیلاطوس کے بارے میں روم میں شہنشاہ کو شکایت لگا سکتے تھے۔ وہ کہہ سکتے تھے کہ اِس نے ایک شخص کو آزاد چھوڑ دیا جو خود کو بادشاہ کہلاتا ہے (حالانکہ مسیح کی بادشاہی ’’اِس دُنیا کی نہیں‘‘ تھی، یوحنا18:36، اور پیلاطوس یہ بات جانتا تھا)۔ قیصر گورنر کے ساتھ ناراض ہو سکتا تھا، اور پیلاطوس اپنا رُتبہ کھو سکتا تھا، یہاں تک کہ اپنا سر بھی گنوا سکتا تھا۔ پیلاطوس نے اُس چیز کو چُنا جو اُس کے لیے زیادہ اہمیت رکھتی تھی، اور بے گناہ خُدا کے بیٹے کو مصلوب کر دیا۔

کیا آپ کوئی بہتر ہیں؟ آپ کی خود کی اپنی جدوجہد ہوتی ہے۔ آپ کی اپنی وجوہات ہوتی ہیں۔ آپ کہتے ہیں، ’’میرے پاس گرجا گھر میں آنے کے لیے وقت نہیں ہے۔ مجھے کرنے کے لیے اور دوسرے کام ہیں۔‘‘ آپ سوچتے ہیں وہ ایک اچھا بہانہ ہے۔ آپ سوچتے ہیں کہ آپ مستثنیٰ قرار دیے جانے کے لیے خاص بندے ہیں۔ لیکن آپ بھی ہر کسی کی طرح ایسے ہی ہیں۔ ہر کوئی ’’خود اِنکاری کرنے کے لیے اور روزانہ اپنی صلیب اُٹھانے کے لیے اور یسوع کی پیروی کرنے کے لیے‘‘ بُلایا گیا ہے (لوقا9:23)۔ آپ خُدا کو سُننے سے انکار کرتے ہیں اور مسیح کو مسترد کر دیتے ہیں۔

آپ کہتے ہیں، ’’میں یہاں پر اِتنا خوش محسوس نہیں کرتا جتنا میں چاہتا ہوں۔ کچھ لوگ چھوڑ کر چلے گئے اور میں بُرا محسوس کرتا ہوں۔ اور میرا یہ والا یا وہ والا مسئلہ ہے۔ میری ایک اندرونی جدوجہد ہوتی ہے۔ میں مسیح پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔‘‘ آپ سوچتے ہیں کہ مستثنیٰ قرار دیے جانے کے لیے آپ ایک خاص بندے ہیں۔ آپ بھی ویسے ہی ہیں جیسے کوئی بھی دوسرے لوگ ہوں جو خود کو پہلے رکھتے ہیں۔ آپ بالکل پیلاطوس اور یہوداہ کی مانند ہیں، اور اگر توبہ نہیں کرتے اور مسیح پر بھروسہ نہیں کرتے، تو آپ اُنہی کے ساتھ جہنم میں جائیں گے۔

II۔ دوسری بات، خُدا چند ایک کو ہی مسیح کی جانب کھینچتا ہے۔

یسوع نے کہا، ’’میرے پاس کوئی نہیں آتا، جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا6:44)۔ خدا کچھ لوگوں کو مسیح کی جانب کھینچتا ہے۔ وہی، اور صرف وہی، بچائے جاتے ہیں۔

پطرس کے بارے میں سوچیں۔ اُس نے یسوع کا تین مرتبہ انکار کیا۔ اُس سے پوچھا گیا، ’’کیا تو بھی اُس کے شاگردوں میں سے ہے؟‘‘ لیکن پطرس نے ’’انکار کیا اور کہا، میں نہیں ہوں‘‘ (یوحنا18:25)۔ ایک عورت کو اُس نے کہا، ’’اے عورت، میں اُسے نہیں جانتا‘‘ (لوقا22:57)۔ اُس رات پطرس نے مسیح کو مسترد کیا تھا، اُس کا تین مرتبہ اِنکار کرنے سے۔ اگر مسیح نے اُس کو اُسی حالت میں چھوڑ دیا ہوتا تو وہ اپنی زندگی گزارتا اور جہنم میں جا چکا ہوتا۔ لیکن پطرس چُنیدہ لوگوں میں سے ایک تھا، چُنے ہوئے لوگوں میں سے ایک۔ پطرس نے دائمی زندگی کے لیے خود کو پیش نہیں کیا تھا۔ نا ہی دوسرے شاگردوں نے کیا تھا۔ یسوع نے یہ اُنہیں پیش کی تھی۔ مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد اُس نے ’’اُن پر پھونکا اور کہا پاک روح پاؤ‘‘ (یوحنا20:22)۔ جیسا کہ ریڈیو پر بائبل کے عظیم اُستاد ڈاکٹر جے۔ ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے کہا، ’’اِن لوگوں کو نئی احیاء [دوبارہ جنم] ملی تھی۔ اِس سے پہلے، اُن میں خُدا کا پاک روح بسا ہوا نہیں تھا‘‘ (جے ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن پبلیشرز، جلد چہارم، صفحہ 498؛ یوحنا20:21 پر غور طلب بات)۔

اُس رات توما رسول وہاں پر نہیں تھا۔ وہ یسوع کے پاس نہیں آیا تھا۔ اُس نے یہ یقین کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ یسوع مُردوں میں سے زندہ ہو چکا تھا۔ توما نے کہا، ’’جب تک میں کیلوں کے سوراخ اُس کے ہاتھوں میں دیکھ کر اپنی انگلی اُن میں نہ ڈال لوں اور اپنے ہاتھ سے اُس کی پسلی نہ چھو لوں، تب تک یقین نہ کروں گا‘‘ (یوحنا20:25)۔ ایک ہفتے بعد مسیح آتا ہے، ’’دروازے بند تھے‘‘ (یوحنا20:26)۔ توما یسوع کے پیچھے نہیں گیا تھا۔ مسیح اُس کے پاس آیا تھا، بند دروازوں اور دیواروں میں سے! اور یسوع نے توما سے کہا، ’’اپنی اُنگلی لا اور میرے ہاتھوں کو دیکھ، اور اپنا ہاتھ بڑھا اور میری پسلی کو چھو، شک مت کر بلکہ اعتقاد رکھ‘‘ (یوحنا20:27)۔ توما نے یسوع پر بھروسہ کیا اور مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو گیا! لیکن اِس کا سہرا توما کے سر نہیں جاتا۔ جی نہیں، سارے کا سارا سہرا مسیح کے سر جاتا ہے، جو بند دروازوں میں سے گیا، توما کے پاس آیا، اور اُس کو خود اپنے ہاتھ اور پیر [دیکھنے کے لیے] پیش کیے!

میں مسیح کے شاگردوں کے بارے میں بات کر چکا ہوں۔ اب مجھے خُدا کا ایک اور شخص کو کھینچ کر لانے کے بارے میں آپ کو بتا لینے دیجیے۔ میں رومی سپہ سالار کے بارے میں بات کر رہا ہوں، جو سو سپاہی کا کمانڈر تھا۔ اُس نے لوگوں کو قتل ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ اُس نے خود لوگوں کو قتل کیا تھا۔ وہ اِس قدر بے شمار مصلوبیّتوں کو دیکھ چکا تھا کہ یہ اُس کے لیے معمول بن چکی تھیں۔ لیکن اُس نے یسوع کے بارے میں کچھ مختلف دیکھا تھا۔ مسیح کے مرنے کے بعد، سپاہی نے کہا، ’’یہ شخص درحقیقت خُدا کا بیٹا ہے‘‘ (مرقس15:39)۔ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ وہ شخص ایک مسیح بن گیا تھا۔ جب وہ اُس صبح سُو کر اُٹھا تھا تو وہ مسیح کی تلاش نہیں کر رہا تھا۔ وہ یسوع پر بھروسہ کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہا تھا۔ یہ مسیح تھا جس نے اُس پر ظاہر کیا کہ وہ حقیقت میں کیا تھا۔ جی ہاں، خُدا کُچھ کی چھانٹی کرتا ہے، اکثر انتہائی غیرمتوقع لوگوں کی، اور بچائے جانے کے لیے مسیح کی جانب کھینچتا ہے۔

اب میں ایک اور شخص کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جس کا تذکرہ بائبل میں نہیں کیا گیا تھا اور یہ تذکرہ بعد میں کیا گیا۔ وہ سب لوگوں میں سے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے والا سب سے زیادہ غیرمتوقع، جی ہاں ناممکن بندہ تھا۔ اور اِس کے باوجود وہ سب لوگوں میں سب سے زیادہ عظیم مسیحی تھا۔ میں تُرسُس کے ساؤل کی بات کر رہا ہوں، جو پولوس رسول بنا تھا۔ اُس کا نام چاروں اناجیل کے واقعات میں پیش نہیں کیا گیا، اِس کے باوجود یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ وہاں پر تھا۔ ساؤل ایک انتہائی سخت اور مذہبی بندہ تھا، ’’شریعت کے اِعتبار سے ایک فریسی‘‘ (فِلپیوں3:5)۔ اُس کی تربیت اِسی شہر [یروشلیم] میں عظیم اُستاد گملی ایل کے قدموں میں ہوئی تھی‘‘ (اعمال22:3)۔ اُس نے اِس قدر شدید محنت اور مطالعہ کیا تھا کہ وہ دوسرے نوجوان لوگوں سے آگے نکل گیا تھا (دیکھیں گلِتیوں1:14) کیونکہ وہ ’’اپنے آباؤاِجداد کی روایات پر انتہائی سرگرمی سے عمل کرتا تھا‘‘ (گلِتیوں1:14)۔ بے شمار عالمین سوچتے تھے کہ ساؤل خود شینہیڈرن [شریعت کے عالمین] کے اراکین میں سے ایک تھا۔

اُس نے اپنی زندگی یروشلیم میں بسر کی تھی۔ حتّیٰ کہ اگر وہ کہیں دور بھی ہوتا تو فسح کو منانے کے لیے یقینی طور پر واپس آ جاتا تھا۔ جی ہاں، وہ یروشلیم میں ہی تھا جب مسیح شہر میں داخل ہوا، جب یسوع نے منادی کی اور جب اُس کو مصلوب کیا گیا تھا۔ وہ شخص کیا سوچ رہا تھا؟ وہ اپنے تمام دِل و دماغ کے ساتھ یسوع کے خلاف تھا۔ اُس نے نجات دہندہ کے مصلوب کیے جانے کی منظوری دی تھی۔ ہم جانتے ہیں وہ کیسا تھا، کیونکہ وہ وہیں پر تھا جب ستیفنس کو مسیح کی منادی کرنے پر سنگسار کیا گیا تھا۔ وہ لوگ جنہوں نے اُسے سنگسار کیا تھا ’’اُنہوں نے اپنے چوغے اُتار کر ایک نوجوان شخص کے قدموں میں رکھ دیے تھے، جس کا نام ساؤل تھا‘‘ (اعمال7:58)۔ اور ساؤل اُس کی موت پر رضامندی ظاہر کر رہا تھا‘‘ (اعمال8:1)۔ ساؤل اِستیفانس کے قتل کرنے کی حمایت میں تھا۔ پھر وہ مسیحیوں کے پیچھے اور بھی زوروشور سے پڑ گیا تھا۔ ’’ساؤل نے کلیسیا کو تباہ کرنا شروع کر دیا، وہ گھر گھر جاتا تھا اور مردوں اور عورتوں کو قید کراتا تھا‘‘ (اعمال8:3)۔ وہ اپنی تمام تر قوت و طاقت کے ساتھ مسیحیوں کے پیچھے پڑ گیا تھا، گھروں میں گُھستا تھا، لوگوں کو کھینچ کھینچ کر باہر نکالتا اور اُنہیں قیدخانوں میں پھینک دیتا تھا۔ پھر ’’ساؤل اِس دوران جو خُداوند کے شاگردوں کو مار ڈالنے کی دھمکیاں دیتا رہتا تھا سردار کاہن کے پاس گیا اور اُس سے دمشق کے عبادتخانوں کے لیے ایسے خطوط مانگے جو اُسے اِختیار دیں کہ اگر وہ کسی اور کو اِس طریق پر چلتا ہوا پائے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت تو اُنہیں گرفتار کر کے یروشلیم لے آئے‘‘ (اعمال9:1، 2)۔ وہ ایک دوسرے شہر میں وہاں کے مسیحیوں پر حملہ کرنے کی غرض سے راہ میں تھا۔

ساؤل مسیح کا ایک بہت بڑا دشمن تھا۔ وہ نفرت سے بھرا پڑا تھا اور غیرمعمولی ولولے کے ساتھ ایمانداروں کو اذیتیں دیتا تھا۔ وہ یسوع کی تلاش میں نہیں تھا۔ اُسے یسوع نہیں چاہیے تھا۔ اُسے یسوع سے نفرت تھی۔ اِس کے باوجود وہ کچھ عرصے کے بعد مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو گیا تھا۔ وہ خُدا کے چُنیدہ لوگوں میں سے ایک تھا۔ خُدا نے اُس کو نجات کے لیے چُنا تھا۔ خُدا نے اُسے یسوع کی جانب اُس وقت کھینچا تھا جب وہی آخری بات تھی جو وہ چاہتا تھا۔

ساؤل یسوع کے پاس نہیں آیا تھا۔ یسوع اُس کے پاس آیا تھا! مسیح نے دمشق کی راہ پر ساؤل سے بات کی تھی، ’’میں یسوع ہوں جسے تو ستا رہا ہے‘‘ (اعمال9:5)۔ ساؤل اُسی وقت وہیں پر بیدار ہو گیا تھا۔ وہ چند ایک دِن بعد مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو گیا تھا اور پولوس رسول بنا تھا۔

پولوس نے اپنی مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی کا سہرا اپنے سر نہیں لیا تھا۔ اُس نے کبھی بھی خود اپنے بھروسے کی عظمت یا اپنے دِل کی شریف النفسی کے بارے میں بات نہیں کی تھی۔ اِس کے بالکل متضاد! چند ایک سال بعد میں پولوس نے لکھا، ’’خُدا نے مجھے میرے پیدا ہونے سے قبل ہی چُن لیا اور جب اُس کی مرضی ہوئی اُس نے اپنے فضل سے مجھے اپنی خدمت کے لیے بُلا لیا تاکہ وہ اپنے بیٹے یسوع مسیح کا عرفان مجھے بخشے اور میں غیر یہودیوں کو اُس کی خوشخبری سُناؤں‘‘ (گلِتیوں1:15، 16)۔ اُن چند لفظوں میں پولوس نے سارا جلال خُدا کو دیا۔ خُدا نے اُسے اُس کی ماں کے رحم سے علیحدہ کر دیا تھا۔ یعنی کہ، خُدا نے اُسے اُس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی چُن لیا تھا۔ خُدا نے [اُسے] اپنے فضل کے وسیلے سے بُلایا۔‘‘ پولوس یسوع پر بھروسہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ خُدا نے اُسے فضل کے وسیلے سے بُلایا تھا۔ پولوس نے نہیں سیکھا تھا یسوع پر کیسے بھروسہ کیا جائے یا نجات پانے کے لیے اپنے طریقے کا مطالعہ کیا۔ اُس نے کہا یہ خُدا کا فضل تھا ’’کہ اپنے بیٹے کا عرفان مجھے بخشے۔‘‘ یہ سب کا سب خُدا کے وسیلے سے تھا، فضل سے تھا!

خُدا چند ایک کو نجات دینے کے لیے چُن چکا ہے۔ اُن میں سے کُچھ وہ لوگ ہیں جن کی کوئی توقع بھی نہیں کرے گا کہ وہ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو جائیں گے، جیسے کہ پولوس۔ لیکن وہ چُنیدہ تھے اور مسیح میں ایمان لا کر وہ تبدیل ہو گئے تھے۔ میں اُن میں سے ایک تھا۔ میں ایک خودغرض، لالچی بے اعتقادہ تھا۔ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونا وہ آخری بات تھی جو میں چاہتا تھا۔ اِس کے باوجود خُدا مجھ تک پہنچا اور مجھے مسیح کی جانب کھینچا، اور آج میں یہاں پر ہوں۔ اور شاید ایسا ہی آپ کے لیے بھی ہو۔ آپ چاہے کوئی بھی ہوں، چاہے آپ نے کوئی سا بھی گناہ سرزد کیا ہو، اگر آپ یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں تو آپ ہمیشہ کے لیے نجات پا جائیں گے۔ مسیح آپ کے گناہ کی ادائیگی کے لیے صلیب پر مرا تھا۔ اُس نے آپ کے گناہ کو دھونے کے لیے اپنا خون بہایا تھا۔ آپ کو زندگی بخشنے اور موت پر ہمیشہ کے لیے فتح پانے کی خاطر وہ مُردوں میں سے زندہ ہو گیا تھا۔ اگر آپ یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں تو آپ آج ہی نجات پا جائیں گے! اگر آپ مسیح پر بھروسہ کرنے کے بارے میں میرے ساتھ بات چیت کرنا چاہیں، تو مہربانی سے تشریف لائیں اور پہلی دو قطاروں میں تشریف رکھیں۔ آمین۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تنہا گیت گایا گیا:
’’کیا تمہارے لیے یہ کچھ نہیں ہے؟ Is It Nothing To You?‘‘
(شاعر جین ای۔ ھال Jane E. Hall، 19 ویں صدی؛ بند 1 اور 3)۔

لُبِ لُباب

مصلوبیت کے ہفتے میں وہ چند ایک اور وہ بے شمار

THE MANY AND THE FEW IN CRUCIFIXION WEEK

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’کیونکہ بُلائے ہوئے تو بہت ہیں مگر چُنے ہوئے کم ہیں‘‘ (متی22:14)

۔

I.    پہلی بات، بے شمار لوگوں نے مسیح کو مسترد کر دیا، رومیوں 3:10۔12،9؛
 متی 21:9؛ لوقا 23:21؛ متی 27:22، 23؛ یوحنا 12:6، 5؛ متی 27:19؛
یوحنا 18:38؛ 19:4، 12، 15؛ لوقا 9:23۔

II.   دوسری بات، خُدا چند ایک کو ہی مسیح کی جانب کھینچتا ہے، یوحنا 6:44؛ 18:25؛
لوقا 22:57؛ یوحنا 20:22، 25، 26، 27؛ مرقس 15:39؛
فلپیوں 3:5؛ اعمال 22:3؛ گِلتیوں 1:14؛ اعمال 7:58؛
اعمال 8:1، 3؛ 9:1، 2، 5؛ گِلتیوں 1:15، 16۔