Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 42 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


صلیب کی راہ پر مسیح کا دِل

THE HEART OF CHRIST ON THE WAY TO THE CROSS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 10 مارچ، 2019
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, March 10, 2019

’’اُس کے بعد یسوع نے اپنے شاگردوں پر ظاہر کرنا شروع کر دیا کہ اُس کا یروشلیم جانا لازمی ہے تاکہ وہ بزرگوں، سردار کاہنوں، شریعت کے عالموں کے ہاتھوں بہت دُکھ اُٹھائے، قتل کیا جائے اور تیسرے دِن جی اُٹھے‘‘ (متی16:21)۔

ہم اب اُس وقت میں جس کو کاتھولک ’’روزہ Lent‘‘ کہتے ہیں۔ یہ ایسٹر سے پہلے چالیس دِن کا دورانیہ ہوتا ہے۔ یہ گذشتہ بُدھ کو شروع ہوا تھا، جس کو کچھ لوگ ’’راکھ کا بُدھ‘‘ کہتے ہیں۔ 19 اپریل کے دِن ہم پاک جمعہ کے دِن یسوع کی مصلوبیت کو یاد کریں گے۔ 21 اپریل ایسٹر کا اِتوار ہوگا، وہ دِن جب مسیح مُردوں میں سے زندہ ہو گیا تھا۔

بائبل زمین پر مسیح کی زندگی کے آخری ہفتے کو، اُس کی موت کو اور اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کو بہت زیادہ جگہ دیتی ہے۔ متی کی انجیل کے 28 ابواب ہیں۔ اُن میں سے آٹھ اِس مختصر سے وقت کے بارے میں بتاتے ہیں۔ تمام تاریخ میں مسیح کی موت اور اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا سب سے زیادہ اہم واقعات ہیں۔ اُن کے بغیر کوئی بھی نجات نہیں پا سکتا۔

یسوع اور اُس کی مصلوبیت کے بارے میں سوچنا درست ہے۔ مسیح نے ہمیشہ اپنی مصلوبیت کے بارے میں سوچا۔ یہ ہمیشہ اُس کے ذہن میں رہی تھی۔ صلیب پر جانے سے کافی عرصہ پہلے اُس نے اپنے شاگردوں سے کہا۔ ہماری تلاوت کہتی ہے، ’’اُس کے بعد یسوع نے اپنے شاگردوں پر ظاہر کرنا شروع کر دیا کہ اُس کا یروشلیم جانا لازمی ہے تاکہ وہ بزرگوں، سردار کاہنوں، شریعت کے عالموں کے ہاتھوں بہت دُکھ اُٹھائے، قتل کیا جائے اور تیسرے دِن جی اُٹھے‘‘ (متی16:21)۔

یسوع سالوں سے صلیب کی راہ پر گامزن تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ زمین پر آیا تھا۔ یہاں تک کہ آسمان میں، اُس کے بیت اللحم میں پیدا ہونے سے پہلے، وہ ہمیشہ سے ہی صلیب کی راہ پر گامزن تھا۔ یہ اُس کا دِل ظاہر کرتا ہے۔ آج میں مسیح کے دِل کے بارے میں بات کروں گا۔ لیکن اُس سے پہلے مجھے آپ کو اُس کے گمراہ شاگردوں کے دِل کے بارے میں بتانا چاہیے۔

I۔ پہلی بات، صلیب کی راہ پر گمراہ شاگردوں کا دِل۔

پطرس شاگردوں میں سے سب سے پہلا تھا۔ لیکن پطرس کے پاس مسیح کا دِل نہیں تھا۔ پطرس سمجھ نہیں پایا تھا کیوں یسوع صلیب کے لیے گیا۔ جب مسیح نے کہا تھا کہ اُسے ’’یروشلیم لازمی جانا ہے… بہت دُکھ اُٹھائے اور قتل کیا جائے‘‘ (متی16:21)۔

’’پطرس اُسے الگ لے گیا اور اُسے ملامت کرنے لگا کہ خُدا ہرگز نہیں! تیرے ساتھ ایسا کبھی نہ ہو گا‘‘ (متی16:22)۔

پطرس نے خُدا کے بیٹے کی ملامت کی تھی! پطرس کو صلیب کا دِل نہیں چاہیے تھا۔ یسوع نے پطرس کو جواب دیا،

’’اے شیطان: میرے سامنے سے دور ہو جا، تو میرے راستے میں رکاوٹ بن رہا ہے، تجھے خُدا کی باتوں کا نہیں بلکہ آدمیوں کی باتوں کا خیال ہے‘‘ (متی16:23)۔

پطرس کے پاس یسوع کا دِل اور ذہن نہیں تھا۔ پطرس کے پاس ایک گمراہ شخص کا دِل اور ذہن تھا۔ وہ دِل اُس شیطان کا دِل تھا۔ مسیح نے اُس سے کہا تھا، ’’ اے شیطان، میرے سامنے سے دور ہو جا۔‘‘ ’’پطرس، تو ابلیس کی طرح باتیں کر رہا ہے۔ تو وہی کہہ رہا ہے جو ابلیس کہتا ہے،‘‘

پطرس نے یسوع کے ساتھ اِتفاق نہیں کیا تھا۔ وہ مسیح کی اُس بات کے خلاف تھا جو اُس نے اپنی مصلوبیت کے بارے میں کہی تھی۔ اُس کے پاس مسیح کا دِل اور ذہن نہیں تھا۔ اُس کے پاس بس صرف ایک گمراہ اور گناہ سے بھرپور شخص کا دِل اور ذہن تھا، کیوں کہ وہ ابھی تک مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوا تھا۔ بائبل کے عظیم اُستاد ڈاکٹر جے۔ ورنن میگی نے کہا شاگرد اُس وقت تک مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوئے تھے جب تک کہ مسیح مُردوں میں سے زندہ نہیں ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’میں ذاتی طور پر یقین کرتا ہوں کہ جس لمحے مسیح نے اُن پر پھونکا تھا [اُس کے جی اُٹھنے کے بعد، یوحنا20:22] اِن لوگوں نے ایک نئی احیاء پائی تھی [دوبارہ جنم لیا تھا]۔ اِس سے پہلے، اُن میں خُدا کا روح نہیں بستا رہا تھا‘‘ (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Through the Bible، تھامس نیلسن پبلیشرز، جلد چہارم، صفحہ 498؛ یوحنا20:21 پر غور طلب بات)۔ اُس سے پہلے، پطرس نے کسی گمراہ شخص ہی کی سی مانند سوچا تھا۔ وہ کیسے سوچتے تھے؟

مسیح میں ایمان نہ لائے ہوئے غیر تبدیل شُدہ لوگ آگے بڑھنے میں یقین رکھتے تھے۔ وہ ایسا قوت اور زبردستی اور دماغ لڑا کر اور اہلیت کی بِنا پر کرتے تھے۔ اُن میں سے کُچھ جھوٹ بول کر اور کچھ دھوکہ دے کر ایسا کرتے تھے۔ گمراہ شخص کے لیے، سب سے اعلیٰ ترجیح پیسہ اور کامیابی اور دوسروں پر سبقت پانا تھی۔ اُن کے بارے میں بائبل کہتی ہے، ’’اُس کے سارے خیالوں میں خُدا نہیں ہے‘‘ (زبور10:4)۔

کیا آپ نے کبھی کسی کو ’’بے حد طاقت والے ڈالر‘‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے سُنا ہے؟ وہ روپوں کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں۔ پیسہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی کامیابی کو بنائے رکھتے ہیں – اِس ہی کے ذریعے سے وہ اپنی قیمت کا تعین کرتے ہیں۔ کھلاڑیوں کے لیے، کتنے پوائنٹ ہیں جو وہ بناتے ہیں۔ کچھ اور لوگوں کے لیے، یہ پوائنٹ کتنے لڑکوں یا لڑکیوں سے اُن کی یاری ہے اُس سے بناتے ہیں۔ لیکن جب آپ مریں گے تو خُدا کہے گا، ’’اے نادان! اِسی رات تیری جان تجھ سے طلب کر لی جائے گی‘‘ (لوقا12:20)۔ آپ کے اعلیٰ اسکور تب آپ کی مدد نہیں کریں گے۔

خود سے ترقی کرنا دُنیا کا وطیرہ ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’سب اپنی اپنی باتوں کی فکر میں ہیں‘‘ (فلپیوں2:21)۔ بائبل کہتی ہے، ’’کوئی خُدا کا طالب نہیں ہے‘‘ (رومیوں3:11)۔ لیکن ہر کوئی ’’اپنی اپنی فکر میں‘‘ ہے۔ آپ اپنی فکر میں ہیں، بڑے بڑے گودام تعمیر کرنے کی کوششوں۔ لیکن جب آپ مریں گے، ’’آپ کی جان آپ سے طلب کر لی جائے گی۔‘‘

’’سب اپنی اپنی فکر میں ہیں۔‘‘ ہر کوئی خود اپنی فکر میں ہے۔ یہ تھا جو پطرس اور دوسرے شاگرد سوچ رہے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ یسوع صلیب کے لیے جائے۔ وہ اُس سے چاہتے تھے کہ بالکل اُسی وقت وہ خود کو بادشاہ کی حیثیت سے قائم کر لے۔ پھر وہ اُس کے ساتھ حکمرانی کر پائیں گے۔ وہ طاقتور اور اہم ہو جائیں گے۔ اُنہیں ’’اُن کی چاہت‘‘ مل جائے گی۔ مسیح نے اپنے شاگردوں کو تعلیم دی تھی، ’’اِبنِ آدم لوگوں کے حوالے کیا جائے گا اور وہ اُسے مار ڈالیں گے۔ لیکن وہ اپنی موت کے تین دِن بعد پھر زندہ ہو جائے گا۔ تو شاگرد یسوع کا مطلب نہ سمجھ سکے اور اُس سے پوچھتے بھی ڈرتے تھے‘‘ (مرقس9:31، 32)۔ شاگرد اِس سے کافی مختلف باتوں کے بارے میں باتیں کرتے رہے تھے، ’’کیونکہ راستے میں وہ آپس میں یہ بحث کر رہے تھے کہ اُن میں بڑا کون ہے‘‘ (مرقس9:34)۔ تھوڑی ہی دیر بعد یسوع نے یعقوب اور یوحنا سے پوچھا تھا، ’’بتاؤ میں تمہارے لیے کیا کروں؟‘‘ (مرقس10:36)۔ ’’تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہارے لیے کیا کروں؟‘‘ اُنہوں نے کہا، ’’ہم پر یہ مہربانی کر کہ جب تیری بادشاہی قائم ہو تو ہم میں سے ایک تیرے دائیں ہاتھ اور دوسرا تیرے بائیں ہاتھ بیٹھے‘‘ (مرقس10:37)۔

شاگردوں کے پاس دُنیاوی دِل تھا۔ ’’سب اپنی اپنی فکر میں تھے۔‘‘ اُنہوں نے یسوع کو معجزات کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ مسیحا تھا، خُدا کا مسیح تھا۔ شاگردوں نے سوچا تھا کہ مسیح اپنی بادشاہت بنائے گا اور بالکل اُسی وقت زمین پر حکمرانی کرے گا۔ وہ اُس کے ساتھ حکمرانی کرنے کی توقع رکھتے تھے۔ جب مسیح کو گرفتار کیا گیا تھا، تو یوں لگتا تھا جیسے وہ اُمید ختم ہو گئی تھی۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ’’سارے شاگرد اُسے چھوڑ کر بھاگ گئے‘‘ (متی26:56)۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

ہمارے واعظ اب آپ کے سیل فون پر دستیاب ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں
لفظ ’’ایپ APP‘‘ کے ساتھ سبز بٹن پرکلِک کریں۔
اُن ہدایات پر عمل کریں جو سامنے آئیں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

یہوداہ کا بھی ویسا ہی دِل تھا۔ وہ مسیح کے لیے اور دوسرے شاگردوں کے لیے پیسوں کو سنبھالتا تھا۔ بائبل کہتی ہے کہ یہوداہ ’’کے پاس تھیلی‘‘ رہتی تھی (یوحنا12:6)۔ لیکن یہوداہ ایک چور تھا۔ وہ اپنے لیے پیسے نکالتا تھا۔ وہ یسوع کے ساتھ رہا تھا کیوںکہ اُس نے سوچا تھا کہ مسیح بادشاہ کی حیثیت سے حکمرانی کرے گا، اور وہ، یہوداہ، سارے پیسوں کا انچارج ہوگا۔ تب وہ واقعی میں امیر ہو جائے گا! لیکن یسوع مصلوب کیے جانے کے بارے میں باتیں کرتا تھا۔ یروشلیم میں اُس نے کاہنوں اور فریسیوں کے خلاف منادی کی تھی۔ یہوداہ نے سوچا تھا کہ تائید کرنے کے لیے یسوع غلط بندہ تھا۔ وہ کبھی بھی بادشاہ نہیں بنے گا۔ وہ مصیبت میں پڑ جائے گا۔ یہوداہ کشتی کے ڈوبنے سے پہلے اُس میں سے اُتر جانا چاہتا تھا۔ اور اُس نے [تھیلی] میں سے پیسے نکالے۔ اُس نے ’’چاندی کے تیس سکّوں‘‘ کے بدلے مسیح کو دھوکہ دیا (متی26:15)۔

گرجا گھر میں گمراہ لوگوں کا بھی یہوداہ اور پطرس ہی کے جیسا ذہن ہوتا ہے۔ جتنے عرصے تک اُنہیں اِس میں سے کچھ نہ کچھ مل رہا ہوتا ہے، اور یوں لگتا ہے کہ اُنہیں اور مل جائے گا – دوستی، تفریح، احترام، ایک لڑکے یا لڑکی سے دوستی – وہ روکے رہتے ہیں۔ لیکن وہ کشتی میں سے اُتر جاتے ہیں جب کوئی طوفان آ جاتا ہے، یا یوں لگتا ہے کہ کشتی ڈوب جائے گی۔ اُن کے پاس مسیح کا دِل نہیں ہوتا ہے۔’’سب اپنی اپنی فکر میں ہوتے ہیں۔‘‘

جب گمراہ لوگ مذہبی ہوتے ہیں، تو اُن کا تب بھی ایسا ہی دِل ہوتا ہے، ’’سارے اپنی اپنی فکر میں ہوتے ہیں۔‘‘ دوسرا کونسا دِل اُن کے پاس ہو سکتا ہے؟ وہ اپنا دِل دکھاتے ہیں جب وہ اپنی اچھائیوں کے ذریعے سے جنت میں جانے کے لیے کوشش کرتے ہیں، ناکہ مسیح میں خُدا کی معافی کے ذریعے سے۔ اُن کے لیے، مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونا خود اُن کی اپنی اچھائیوں اور سمجھ کا عمل ہوتا ہے۔ تکبر اور خود سے محبت اُنہیں ترغیب دیتی ہے۔ وہ اندر سے ایک حقیقی مسیحی ہوئے بغیر ایک طویل عرصہ گرجا گھر میں گزار سکتے ہیں۔

گمراہ لوگوں کے پاس مسیح کا دِل نہیں ہوتا ہے۔ یہ ایسا نہیں تھا کہ بس اُن شاگردوں کو سمجھ نہیں آیا تھا۔ اُنہیں تعلیم کے ذریعے سے دُرست کیا جا سکتا تھا۔ پطرس اور دوسرے مسیح کے صلیب کے لیے جانے کے خلاف تھے۔ جب مسیح نے اِس کے بارے میں بات کی تھی تو، پطرس نے یسوع کو ’’ملامت کرنا شروع کر دیا‘‘ تھا (متی16:22)۔ شاگرد یسوع سے چاہتے تھے کہ وہ ایک بادشاہ کی حیثیت سے حکمرانی کرے اور اُنہیں اپنے ساتھ لے کر چلے۔ صلیب ہر اُس بات کے خلاف تھی جس کے لیے اُنہوں نے اپنی زندگی گزاری تھی۔

بائبل ’’صلیب کے بارے میں دِل شکنی‘‘ کی بات کرتی ہے (گلِتیوں5:11)۔ صلیب اُس کے لیے دِل شکنی کا باعث تھی۔ یونانی لفظ نے ’’دِل شکنی offence‘‘ کا ترجمہ اسکینڈالونskandalon کیا ہے۔ ہمیں اِس سے لفظ ’’اسکینڈل‘‘ ملتا ہے۔ مسیح، جو ایک الوہی ہستی تھا، مصلوب کیا گیا تھا، جو کہ رومی دُنیا میں سب سے زیادہ دردناک موت تھی – اور گنہگاروں کے لیے تھی۔ کیسا اسکینڈل! مغرور مذہبی لوگوں کے لیے، صلیب ہر اُس بات کے خلاف جاتی ہے جو وہ جانتے ہیں۔ اُن کے لیے صلیب دِل شکنی کا باعث ہوتی ہے۔

پطرس نے کیوں جارحیت [دِل شکنی] کا مظاہرہ کیا تھا؟ واحد یہ چیز تھی جو وہ کر سکتا تھا! اُس کے پاس یسوع جیسا دِل اور ذہن نہیں تھا۔ اُس کے پاس بس صرف مسیح میں ایمان نہ لایا ہوا ایک غیر تبدیل شُدہ جسمانی نیت والا ذہن تھا، جس کے بارے میں بائبل کہتی ہے کہ یہ ’’خُدا کی مخالفت‘‘ ہے (رومیوں8:7)۔ وہ گمراہ شخص ’’نہ تو خُدا کی شریعت کے تابع ہے نہ ہو سکتا ہے‘‘ (رومیوں8:7)۔ وہ مسیح کا دِل نہیں پا سکتا۔

اور آپ کے پاس مسیح کا دِل نہیں ہے۔ آپ ایک گنہگار ہیں۔ آپ کے پاس صرف گناہ ہوتا ہے۔ آپ صرف گنہگار ہوتے ہیں۔ آپ صرف اپنی فکر کرتے ہیں۔ آپ اِس ہی طرح کے ہوتے ہیں۔

حتّیٰ کہ جب آپ ’’نجات پانے‘‘ کی کوشش کرتے ہیں تو آپ نہیں پا سکتے۔ آپ کے لیے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونا آپ کی ’’بہت بڑی کامیابی ہوتی‘‘ ہے، جیسے سکول میں اچھے گریڈز حاصل کرنا یا پیسے کمانا۔ لیکن آپ اب بھی نجات پائے ہوئے نہیں ہوتے۔ آپ گرجا گھر میں آ سکتے ہیں۔ آپ خود کو ایک احساس پانے کے لیے مجبور کر سکتے ہیں – یا ابلیس کی طرف سے ایک احساس کے لیے انتظار کر سکتے ہیں۔ آپ مسیح کے بارے میں کسی عقیدے پر یقین کرنے کے لیے تناؤ یا زور ڈال سکتے ہیں – ’’کہ‘‘ وہ آپ کے لیے مرا تھا – اور کسی احساس کو نہ پانے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ لیکن آپ اب بھی خودغرض ہیں، خود کے لیے ’’اِس کو صحیح کرنے‘‘ کے لیے کوششیں کرتے ہیں۔ آپ خود کو ایک کراہت آمیز، لُٹا ہوا، اخلاقی زوال میں گرے ہوئے، مسخ شُدہ گنہگار کی حیثیت سے نہیں دیکھتے، جو ماسوائے خود کو مسیح کے حوالے کرنے کے کچھ اور نہیں کر سکتا۔

آپ شاید اُس محصول لینے والے کے الفاظ کہہ سکتے ہیں، ’’خُداوندا، مجھ گنہگار پر رحم کر‘‘ (لوقا18:13) لیکن آپ کے پاس اُس کے دِل جیسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ آپ شاید ایک دعا مانگ سکتے ہیں لیکن باطن میں اِس کا مطلب کیا ہوتا ہے اُس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جان پاتے۔ آپ ایک گمراہ مرد یا عورت ہیں جو سمجھ نہیں سکتا۔ اندرونی طور پر، یہ آپ کے لیے ایک اسکینڈل ہوتا ہے کہ آپ نجات یافتہ نہیں ہوئے ہیں، اور کہ دوسرے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو چکے ہیں جنہوں نے کہ آپ سے بھی زیادہ گناہ کیے تھے، جو آپ کے مقابلے میں گرجا گھر میں کم وقت کے لیے آئے تھے، جو آپ کے مقابلے میں کم جانتے تھے۔ آپ کے پاس اگر کچھ ہے تو وہ آپ کی گمراہ، خودغرض مسیح میں غیرتبدیل شُدہ ذات ہے۔ آپ کے پاس مسیح کا دِل اور ذہن نہیں ہوتا ہے۔ اور یہ بات مجھے دوسرے موضوع پر لے آتی۔

II۔ دوسری بات، صلیب کی راہ پر مسیح کا دِل۔

مسیح بجا طور پر جانتا تھا وہ کیا کر رہا تھا۔ وہ حادثاتی طور پر مصلوب نہیں کیا گیا تھا۔ اُس نے مرنے کو چُنا تھا۔ وہ کسی بھی وقت آزادی کے ساتھ دور ہو سکتا تھا۔ صلیب پر اُس نے کہا تھا، ’’تُجھے پتہ نہیں کہ میں اگر اپنے باپ سے مدد مانگوں تو وہ اِسی وقت فرشتوں کے بارہ لشکر بلکہ اُن سے بھی زیادہ میرے پاس بھیج دے گا؟‘‘ (متی26:53)۔ یسوع صلیب پر مقصداً گیا تھا۔ ہماری تلاوت کہتی ہے،

’’اُس کے بعد یسوع نے اپنے شاگردوں پر ظاہر کرنا شروع کر دیا کہ اُس کا یروشلیم جانا لازمی ہے تاکہ وہ بزرگوں، سردار کاہنوں، شریعت کے عالموں کے ہاتھوں بہت دُکھ اُٹھائے، قتل کیا جائے اور تیسرے دِن جی اُٹھے‘‘ (متی16:21)۔

مصلوب کیے جانے کے لیے مسیح کا اِرادہ پکا تھا۔ بائبل کہتی ہے، ’’اُس نے پُختہ اِرادے کے ساتھ یروشلیم کا رُخ کیا تھا‘‘ (لوقا9:51)۔ اُس نے اندریاس اور فلپس کو کہا،

’’اب میرا دِل گھبراتا ہے؛ تو کیا میں یہ کہوں اے باپ مجھے اِس گھڑی سے بچا؟ ہرگز نہیں، کیونکہ اِسی لیے تو میں آیا ہوں کہ اِس گھڑی تک پہنچوں‘‘ (یوحنا12:27)

دورِ حاضرہ کی انگریزی میں، ’’کیا مجھے باپ سے پوچھنا چاہیے کہ مجھے اِس گھڑی سے بچا لے؟ جی نہیں، اِسی لیے تو میں یہاں آیا ہوں!‘‘ یسوع نے صلیب تک جانے اور مرنے کا پختہ اِرادہ کیا تھا۔

لیکن اُس کے دِل میں کیا تھا؟ مسیح کو زمین پر آنے اور مرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یسوع فرض یا ذمہ داری کی وجہ سے نہیں آیا تھا۔ اُس کا خود اپنا کوئی گناہ نہیں تھا۔ اُس کو آنے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ رضامندانہ طور پر آیا تھا۔ اُس کے دِل میں کیا تھا؟ بائبل کہتی ہے،

’’تمہارا مزاج بھی ویسا ہی ہو جیسا مسیح یسوع کا تھا: اگرچہ وہ خُدا کی صورت پر تھا، پھر بھی اُس نے خُدا کی برابری کو اپنے قبضہ میں رکھنے کی چیز نہ سمجھا‘‘ (فلپیوں2:5، 6)۔

خُدا بیٹے کی حیثیت سے، وہ اِتنا ہی خُدا تھا جتنا کہ باپ تھا۔ وہ آسمان ہی میں ٹھہر چکا ہوتا۔ اُس کا کوئی گناہ نہیں تھا۔ زمین پر گنہگار سزا دیے جانے کے مستحق تھے۔ مسیح کامل اور منصفانہ طور پر آسمان میں رُکنے کے لیے صحیح تھا۔ لیکن اُس کے دِل میں کیا تھا؟ اُس نے ’’خُدا کی برابری کو اپنے قبضے میں رکھنے کی چیز نہ سمجھا‘‘ (فلپیوں2:6)۔ ایک جدید ترجمہ کہتا ہے، ’’وہ جو حالانکہ خُدا کی ہیّت میں وجود رکھتا تھا، اُس نے خُدا کی برابری کو گرفت میں کرنے کی حیثیت سے نہیں لیا تھا‘‘ (NASB)۔ یسوع کے لیے، آسمان میں ہونا، باپ کے ساتھ اپنے باپ ہونے کی برابری میں ہونا، گرفت میں لینے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ کچھ ایسا نہیں تھا جس کے ساتھ چمٹے رہنا ہوتا ہے۔ مسیح نے اپنی آسمانی جلالت کو حوالے کیا تھا اور زمین پر آ گیا تھا، حکمرانی کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک مجرم کی حیثیت سے مرنے کے لیے، اِس لیے نہیں کہ اُس نے کوئی جرم کیا تھا، بلکہ دوسروں کے گناہ کی خاطر۔ بائبل کہتی ہے کہ اس نے

’’اُس نے اپنی کوئی ساکھ نہ رکھی [اُس نے اپنے آپ کو خالی کر دیا]، اور غلام کی صورت اختیار کر کے انسانوں کے مشابہ ہو گیا: اُس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر اپنے آپ کو فروتن کر دیا، اور موت بلکہ صلیبی موت تک فرمانبردار رہا‘‘ (فلپیوں2:7، 8)۔

مسیح کو آنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اُس نے محبت میں – زمین پر آنے کو چُنا تھا۔ جیسا کہ جوزف ہارٹ نے لکھا،

اور کیوں، پیارے نجات دہندہ، مجھے بتا کیوں تو ایک خون بہاتے ہوئے تکلیف زدہ کی مانند پڑا ہے؟
وہ کونسا جذبہ تھا جس نے تجھے تحریک دی تھی؟ وہ مقصد واضح ہے – یہ سب محبت کے لیے تھا!
     (’’گتسمنی، زیتون کی چکی! Gethsemane, The Olive-Press!‘‘ شاعر جوزف ہارٹ Joseph Hart، 1712۔1768؛
 بطرز ’’’اِس شام زیتون کی صلیب پر Tis Midnight, and on Olive’s Brow‘‘)۔

مسیح ایک بادشاہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک مصیب ذدہ خادم کی حیثیت سے آیا تھا۔ وہ خدمت کروانے کے لیے نہیں آیا تھا، بلکہ خدمت کرنے کے لیے آیا تھا۔ یسوع نے کہا،

اِبنِ آدم اِس لیے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اِس لیے کہ خدمت کرے اور اپنی جان فدیہ میں دے کر بُہتیروں کو چُھڑا لے‘‘ (مرقس10:45)۔

یہ اُس کا مقصد تھا۔ یہ اُس کا دِل تھا۔ اِس ہی وجہ سے وہ آیا تھا۔ پولوس رسول نے کہا، ’’مسیح دُنیا میں گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا‘‘ (1تیموتاؤس1:15) کیوںکہ وہ آپ سے محبت کرتا ہے۔

وہ اُن لوگوں کو تعلیم دینے کے لیے نہیں آیا تھا جو سوچتے تھے کہ وہ پہلے ہی سے نجات یافتہ تھے۔ وہ گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا تھا۔ جب گنہگار زکائی نے نجات پائی تھی، مسیح نے کہا تھا، ’’اِبنِ آدم گمشدہ کو ڈھونڈنے اور اُسے بچانے آیا ہے‘‘ (لوقا19:10)۔ دوبارہ، یسوع نے کہا، ’’میں راستبازوں کو نہیں بلکہ گنہگاروں کو توبہ کرنے کے لیے بُلانے آیا ہوں‘‘ (لوقا5:32)۔ جیسا کہ مسٹر نعان Mr. Ngann نے واعظ سے پہلے گایا تھا،

راستباز نہیں، راستباز نہیں، یسوع تو گنہگاروں کو بلانے کے لیے آیا تھا!
راستباز نہیں، راستباز نہیں، یسوع تو گنہگاروں کو بلانے کے لیے آیا تھا!
     (’’آؤ، اے گنہگاروںCome, Ye Sinners ‘‘ شاعر جوزف ہارٹ Joseph Hart ، 1712۔1768).

اگر آپ ایک راستباز شخص کی حیثیت سے آئیں ہیں تو آپ نجات نہیں پائیں گے۔ لیکن اگر آپ خود کو ایک گمشدہ اور بے بس گنہگار کی حیثیت سے دیکھتے ہیں تو آپ شاید مسیح کے پاس آ سکتے ہیں۔ آپ اُسے آپ کو اپنانے اور معاف کرنے کے لیے تیار پائیں گے – بالکل ابھی۔ یسوع کے آس پاس دو ڈاکوؤں کو مصلوب کیا گیا تھا، ایک کو دائیں جانب اور دوسرے کو بائیں جانب۔ اُن میں سے ایک نے یسوع سے بات کی تھی۔ وہ زیادہ نہیں جانتا تھا۔ لیکن اُس نے بھروسے سے کہا، ’’اے خُداوندا، جب تو بادشاہ بن کر آئے تو مجھے بھی یاد کرنا‘‘ (لوقا23:42)۔ اُس ڈاکو نے فوراً نجات پائی تھی۔ یسوع نے اُسے جواب دیا تھا، ’’تو آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہوگا‘‘ (لوقا23:43)۔ ڈاکٹر ہائیمرز اِس بارے میں بتا چکے ہیں کہ کیسے لوگوں نے اِس طرح سے جدوجہد کی تھی اور کہ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے بغیر جدوجہد کی تھی۔ جب وہ بالاآخر مسیح میں سادہ ایمان کے ذریعے سے نجات پا چکے، تو اُنہوں نے اکثر کہا، ’’کیا یہی سب تھا جو تو چاہتا تھا؟‘‘ جی ہاں، یہی سب ہے جو ہم چاہتے ہیں! یسوع پر بھروسہ کریں! یہ آسان اور سادہ ہے – لیکن وہ مسیح جس پر آپ بھروسہ کریں گے آپ کو ہمیشہ کے لیے نجات دلا دے گا! جیسا کہ مسٹر نعان نے گایا،

آؤ، اے گنہگارو، غریب اور خستہ حال، کمزور اور زخمی، بیمار اور دُکھی؛
یسوع تمہیں بچانے کے لیے تیار کھڑا ہے، ہمدردی، محبت اور قوت سے بھرپور؛
وہ لائق ہے، وہ لائق ہے، وہ رضامند ہے، مذید اور شک مت کرو!
وہ لائق ہے، وہ لائق ہے، وہ رضامند ہے، مذید اور شک مت کرو!
(’’آؤ، اے گنہگاروںCome, Ye Sinners ‘‘ شاعر جوزف ہارٹ Joseph Hart ، 1712۔1768).

یسوع نے مجھے نجات دلائی، ایک خودغرض، لالچی، مذاق اُڑانے والے بے اعتقادے کو۔ اُس نے پطرس کو نجات دی جو بزدل اور غدار تھا۔ اُس نے قاتل موسیٰ کو نجات دی تھی۔ اُس نے پولوس اذیت دینے والے کو نجات دی تھی۔ مسیح آپ کو بھی نجات دے گا اگر آپ اُس پر بھروسہ کریں گے۔ اُس کا خون آپ کے گناہوں کو دھو ڈالے گا۔ اگر آپ یسوع پر بھروسہ کرنے کے بارے میں بات کرنا اور دعا مانگنا چاہتے ہیں تو مہربانی سے آئیں اور اگلی دو قطاروں میں تشریف رکھیں۔ آمین۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تنہا گیت گایا گیا:
’’آؤ، اے گنہگاروںCome, Ye Sinners ‘‘
(شاعر جوزف ہارٹ Joseph Hart ، 1712۔1768).

لُبِ لُباب

صلیب کی راہ پر مسیح کا دِل

THE HEART OF CHRIST ON THE WAY TO THE CROSS

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اُس کے بعد یسوع نے اپنے شاگردوں پر ظاہر کرنا شروع کر دیا کہ اُس کا یروشلیم جانا لازمی ہے تاکہ وہ بزرگوں، سردار کاہنوں، شریعت کے عالموں کے ہاتھوں بہت دُکھ اُٹھائے، قتل کیا جائے اور تیسرے دِن جی اُٹھے‘‘ (متی16:21)۔

I.   پہلی بات، صلیب کی راہ پر گمراہ شاگردوں کا دِل،
متی 16:22، 23؛ زبور 10:4؛ لوقا 12:20؛
فلپیوں 2:21؛ رومیوں 3:11؛ مرقس 9:31، 32، 34؛
مرقس 10:36، 37؛ متی 26:56؛ یوحنا 12:6؛ متی 26:15؛
متی 16:22؛ گلتیوں 5:11؛ رومیوں 8:7؛ لوقا 18:13۔

II.  دوسری بات، صلیب کی راہ پر مسیح کا دِل،
متی 26:53؛ لوقا 9:51؛ یوحنا 12:27؛ فلپیوں 2:5، 6؛
فلپیوں 2:7، 8؛ مرقس 10:45؛ 1۔ تیموتاؤس 1:5؛ لوقا 19:10؛
لوقا 5:32؛ لوقا 23:42، 43۔