Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


آخری دِنوں کی نشانیاں

SIGNS OF THE LAST DAYS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دن کی شام، 9 ستمبر، 2018
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, September 9, 2018

شاگرد جاننا چاہتے تھے دُنیا کا خاتمہ کب ہو گا۔ اُنہوں نے کہا، ’’تیری آمد اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے؟‘‘ (متی24:3)۔ اُنہوں نے مسیح سے اُنہیں نشانی بتانے کے لیے کہا۔ اُس نے اُنہیں بے شمار نشانیاں بتائیں، جو متی 24 باب میں درج ہیں، اور اُس کے متماثل لوقا21 باب کے حوالے میں درج ہیں۔ متی 24 باب بے شمار نشانیوں کو پیش کرتا ہے۔ اور لوقا 21 اُن میں مذید اور کو پیش کرتا ہے۔ ہم آج کی رات زیادہ تر لوقا 21 کو سُنیں گے۔ ’’تیری آمد اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے؟‘‘ مسیح نے لوقا21 باب میں اُن نشانیوں میں سے بے شمار کو پیش کیا، لیکن پہلے 2 پطرس کھولیں۔

2پطرس، تین باب، آیت 3 کو کھولیں۔ یہ سیکوفیلڈ مطالعۂ بائبل کے صفحہ 1319 پر ہے۔ یہ کہتی ہے،

’’سب سے پہلے تمہیں یہ جان لینا چاہیے کہ آخری دِنوں میں ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی گزاریں گے اور تمہاری ہنسی اُڑائیں گے‘‘ (2پطرس3:3)۔

آج کی رات میں ’’آخری دِنوں کی نشانیوں‘‘ کے موضوع پر بات کروں گا، کیوںکہ ہم لوگ بالکل اِسی وقت آخری دِنوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وقت مختصر ہے۔

2پطرس3:3 میں اُس تاثر پر غور کریں، ’’آخری دِنوں میں ایسے لوگ آئیں گے۔‘‘ اُن الفاظ ’’آخری دِنوں‘‘ پر غور کریں۔ آپ کو وہ تاثر اور تصور بائبل میں بار بار ملے گا۔

بائبل تعلیم دیتی ہے کہ تاریخ میں ایک ایسا نکتہ ہے جو آخری دِنوں کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ بائبل کے بے شمار اِساتذہ کہتے ہیں کہ ہم ابھی اُسی زمانے میں ہیں۔ میرے خیال میں وہ دُرست ہیں۔ بائبل تاریخیں طے کرنے کے بارے میں خبردار کرتی ہے۔ لیکن وقت کا ایک ایسا زمانہ ہے جو ’’آخری دِنوں‘‘ کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ ہر علامت نشاندہی کرتی ہے کہ ہم بالکل اِسی وقت اُسی عمومی دورانیہ میں ہیں۔ لیونارڈ ریونحل Leonard Ravenhill نے کہا، ’’یہ آخری اِیام ہیں۔‘‘

2پطرس3:3 میں اگلا لفظ ’’ہنسی اُڑانے والے‘‘ ہے۔ یہ لوگ مسیح کی آمد ثانی اور دُنیا کے خاتمہ کے آئیڈیے کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ وہ نقل اُتارتے، مذاق اُڑاتے اور ہنسی اُڑاتے ہیں۔ وہ طعنہ زن اور بے اعتقادے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’ہم خُدا کو کہیں پر بھی نہیں پاتے۔ ہمارا نہیں خیال کہ خُدا دُنیا کا خاتمہ کرنے جا رہا ہے۔ ہمیں تو اِس بات کا بھی یقین نہیں ہے کہ ایک خُدا ہے۔‘‘ وہ مستقبل میں ہونے والے انصاف کے تصور کا مذاق اُڑاتے اور ہنستے ہیں، وہ ایک دوسری وسعت سے، آسمان سے اِس زمین پر یسوع مسیح کے واپس آنے کے تصور کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ وہ خدا کے غضب ناک قہر میں دُنیا کے خاتمے کے سارے تصور پر ہنستے ہیں۔

’’سب سے پہلے تمہیں یہ جان لینا چاہیے کہ آخری دِنوں میں ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی گزاریں گے اور تمہاری ہنسی اُڑائیں گے‘‘ (2پطرس3:3)۔

وہ کیوں مذاق اُڑاتے اور ہنستے ہیں؟ اگلے چند الفاظ ہمیں بتاتے ہیں، ’’اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں‘‘ یا ’’اپنی خود کی نفسانی خواہشات کے تعاقب میں ہیں۔‘‘ وہ گناہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اِسی لیے وہ نہیں چاہتے کہ مسیح آئے اور اُن کے گناہ سے بھرپور طرزِ زندگی میں مداخلت کرے۔ اُنہیں اپنی نفسانی خواہشات سے پیار ہے، اُنہیں اپنے گناہ سے اِسقدر محبت ہے کہ وہ نہیں چاہتے مسیح آئے اور اِسی لیے وہ خُدا کے انصاف کے بارے میں جو بائبل تعلیم دیتی ہے اُس کو مسترد کرتے ہیں! وہ محبت کا ایک خُدا ہے، لیکن وہ قہر اور انصاف کا بھی ایک خُدا ہے۔ وہ گناہ اور بدکاری کے خلاف غصے کا ایک خُدا ہے۔ یہ مذاق اُڑانے والے منافقین ثبوت کا معائنہ نہیں کرتے۔ وہ بائبل کو نہیں پڑھتے۔ وہ سچائی کے بارے میں جاننا نہیں چاہتے – کیونکہ وہ منافقین ہیں۔ وہ مذاق اُڑانے والے ہیں، جو اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں!

پھر اگلی آیت کہتی ہے، ’’وہ جان بوجھ کر یہ بات بھول جاتے ہیں کہ آسمان خدا کے حکم کے مطابق زمانۂ قدیم… (7ویں آیت کو دیکھیں)۔ ’’لیکن وہ آسمان اور زمین جو ابھی ہیں، اُسی کلام کے وسیلے سے محفوظ کیے گئے ہیں، جو آگ میں جلائے جانے کے لیے بیدینوں کے عدالت اور ہلاکت کے دِن تک باقی رہیں گے‘‘ (2پطرس3:3۔7)۔

اب دسویں آیت پر نظر ڈالیں:

’’لیکن خُداوند کا دن رات میں چور کی مانند آ جائے گا؛ اُس دِن آسمان بڑے شوروغُل کے ساتھ غائب ہو جائیں گے اور اجرام فلکی شدید حرارت کے ساتھ پگھل کر رہ جائیں گے اور زمین اور اُس پر کی تمام چیزیں جل جائیں گی۔‘‘

کلام پاک کا یہ حوالہ کہتا ہے کہ انصاف کا ایک دِن آنے والا ہے۔ ساری کی ساری گناہ سے بھرپور دُنیا کو ایک نہ ایک دِن خُدا کے انصاف کی عدالت میں کھڑا ہونا ہی پڑے گا۔ اگر آپ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوئے ہیں تو اُس دِن آپ خُدا کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ آپ کو آپ کے گناہوں کے لیے سزا دی جائے گی اگر آپ نے نجات نہیں پائی ہے۔

اور شاگرد اُسی آنے والے دِن کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ اُنہوں نے کہا، ’’تیری آمد اور دُنیا کے خاتمہ کی نشانی کیا ہوگی؟‘‘ (متی24:3)۔

اب مسیح نے اُنہیں بے شمار نشانیاں بتائیں، اور میں اُن میں سے چند ایک کو پیش کرنے جا رہا ہوں۔

I۔ پہلی نشانی، ماحولیاتی نشانیاں ہوں گی جو ظاہر کریں گی کہ خاتمہ قریب ہے۔

یسوع نے کہا کہ ایسا ہوگا

’’جگہ جگہ بڑے بڑے بھونچال آئیں گے، قحط پڑیں گے اور وبائیں پھیلیں گی؛ دہشتناک واقعات رونما ہوں گے اور آسمان پر عظیم نشانات ظاہر ہوں گے۔ سورج، چاند اور ستاروں میں نشان ظاہر ہونگے اور زمین پر قوموں کو اذیت پہنچے گی کیونکہ سمندر اور اُس کی لہروں کا زوروشور اُنہیں خوفزدہ کر دے گا؛ ڈر کے مارے اور آنے والی مصیبتوں کا انتظار کرتے کرتے اُن کے ہوش و حواس باقی نہ رہیں گے‘‘ (لوقا21:11، 25۔26)۔

اِس کے بارے میں سوچیں! یسوع نے کہا کہ لوگوں کے دِل ہوش و حواس کھو دیں گے جب وہ دیکھیں گے کہ ’’زمین پر‘‘ کیا رونما ہو رہا ہے۔ اُس نے کہا کہ مایوسی اور رنج اور شدید کوفت اور انتہائی خوف ہوگا ’’اُن باتوں کی وجہ سے جو زمین پر رونما ہونے جا رہی ہیں۔‘‘

زیادہ عرصہ نہیں گزرا سائنسدانوں نے قُطب شمالی کے اُوپر اُوزون کی تہہ میں اِتنا ہی بڑا جتنی کہ مائین Maine کی ریاست ہے سوراخ پایا ہے۔ ٹائمTime میگزین کے پاس ایک خبر کی کہانی ہے – جو سرورق پر پیش کی گئی – ’’وہ بہت بڑی نیوکلیائی دھماکے جیسی تباہی The Big Meltdown‘‘ جوں جوں آرکٹک Arctic میں درجہ حرارت بڑھتا ہے، تو یہ سیارے کے اِرد گرد ایک ٹھنڈک بھیجتا ہے۔‘‘ (ٹائم میگزین، 4 ستمبر، 2000، صفحات 52۔56)۔ ٹائم [میگزین] نے کہا، ’’حتّٰی کہ برف کا جُزوی سا پگھلنا بھی شمالی کُرّے کے موسم کو تباہ کر ڈالے گا۔‘‘ بے شمار سائنسدانوں کو خوف ہے کہ ہم شاید ایک نئے برفانی زمانے میں داخل ہونے جا رہے ہیں۔ ٹائم کے آرٹیکل میں، ڈاکٹر رچرڈ آلے Dr. Richard Alley، جو کہ پین سٹیٹ یونیورسٹی Penn State University میں ایک جیوفزسسٹ ہیں، اُنہوں نے بتایا کہ ’’لکھی ہوئی تاریخ میں جن گرتے ہوئے درجہ حرارتوں نے انسانوں میں تبدیلیوں کو متاثر کیا اُن کے مقابلے میں درجہ حرارت کا گِرنا کہیں (انتہائی شدید طور پر) بہت زیادہ ہے۔‘‘ کیا یہ انسانی نسل کا خاتمہ ہو گا؟ ڈاکٹر آلے کہتے ہیں، ’’جی نہیں، لیکن یہ نسل انسانی کے لیے ایک تکلیف دہ زمانہ ہو گا۔ انتہائی تکلیف دہ۔‘‘

زندگی بندوقوں اور جنگ سے بھری پڑی تھی،
   اور ہر کوئی فرش پر روندا جا چکا تھا۔
میں خواہش کرتا ہوں کہ ہم سب تیار ہوتے۔
   (’’ میں خواہش کرتا ہوں ہم تمام تیار ہوئے ہوتے I Wish We’d All Been Ready‘‘ شاعر لیری نارمن Larry Norman، 1947۔2008)۔

کیا آپ تیار ہیں؟

ڈاکٹر آلے جیسے سائنسدان خوف کے ساتھ اذیت میں مبتلا رہتے ہیں

’’اور آنے والی مصیبتوں کا انتظار کرتے کرتے اُن کے ہوش و حواس باقی نہ رہیں گے‘‘ (لوقا21:26)۔

جب آپ قطب شمالی کے پگھلنے اور برف کے زمانے پر نظر ڈالتے ہیں جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں یکدم آ جائے گا، اگلے 25 سالوں میں، تو یہ خوف میں مبتلا کر دینے والی بات ہوتی ہے۔ جب آپ کو احساس ہوتا ہے کہ ایڈز AIDS کی وباء افریقہ کو تباہ کر رہی ہے، جس کا ختم ہونا نظر ہی نہیں آتا – تو یہ خوف میں مبتلا کر دینے والی بات ہوتی ہے۔ جب آپ اینٹی بائیوٹک مزاحمت، ٹیوبرکیلوسس اور دوسری نئی ’’بلاؤں‘‘ جیسی بیماریوں کی تجدید پر نظر ڈالتے ہیں جو کسی بھی جانی جانے والی دوائی سے ٹھیک نہیں ہوتیں – تو یہ بات خوف میں مبتلا کر دینے والی ہوتی ہے۔

تعجب کی کوئی بات نہیں اگر اِس قدر زیادہ نوجوان لوگوں میں مستقبل کے بارے میں خوف ہوتا ہے۔ حالیہ رائے شماری ظاہر کرتی ہے کہ آج کے دور کے بلوغت کی جانب بڑھتے ہوئے 80 فیصد نوجوان سوچتے ہی نہیں کہ اُن کے پاس کوئی اچھا مستقبل ہے۔ وہ رائے شماری ظاہر کرتی ہے کہ بلوغت کی جانب بڑھتے ہوئے یہ نوجوان اکثر ماحول میں مسائل کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں، جیسا کہ قطبِ شمالی کا پگھلنا اور برف کا زمانہ یا پانی کی وہ دُنیا جو یہ پیدا کر دے گا۔

نوجوان لوگوں کو جبلّتی طور پر پتا چل جاتا ہے کہ ہماری دُنیا بدترین ہوتی جا رہی ہے۔ اور یہ بات اُنہیں خوف میں مبتلا کر دیتی ہے۔ آپ کیا کر سکتے ہیں جب مغربی کیلیفورنیا میں سارا سال یخ بستہ سردی ہو؟

’’اور ڈر کے مارے اور آنے والی مصیبتوں کا انتظار کرتے کرتے اُن کے ہوش و حواس باقی نہ رہیں گے‘‘ (لوقا21:26)۔

نوجوان لوگ شدت کے ساتھ خوفزدہ ہیں کہ نسل انسانی ہمارے سیارے کو تباہ کر رہی ہے۔ اور میں اُن کی فکر میں شامل ہوں – مکمل طور پر!

میری بیوی اور میں اپنے صحن میں کھڑے تھے، میں نے اُن سے پوچھا، ’’آخری مرتبہ کب آپ نے ایک مونارک تتلی دیکھی تھی؟ وہ آخری مرتبہ کب تھی جب آپ نے ایک مینڈک کو دیکھا تھا؟ وہ ختم ہو چکے ہیں – یا نہایت جلد ختم ہونے والے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے مجھے کہا، ’’جی ہاں، ہم واقعی میں اپنے ماحول کا ستیاناس کر چکے ہیں۔‘‘ ایک شخص نے مجھ سے کہا، ’’ہم اپنے گھونسلے کو آلودہ کر چکے ہیں اور دُنیا کو تباہ کر رہے ہیں۔‘‘ افسوسناک طور پر، مجھے اتفاق کرنا پڑا۔ وہ قطعی طور پر دُرست تھے۔

اور ماحولیاتی مطالعہ میں جو خوف میں مبتلا کر ڈالنے والی باتیں دیکھتے ہیں، جس کا تزکرہ ہر روز اخبارات میں ہوتا ہے، وہ نشانیاں ہیں کہ دُنیا کا خاتمہ اور مسیح کی دوسری آمد انتہائی قریب ہیں۔ بائبل کہتی ہے، ’’اپنے خُدا سے ملنے کے لیے تیار رہ۔‘‘ آپ کے پاس تیار ہونے کے لیے زیادہ وقت نہیں رہ گیا! لیری نارمن نے کہا،

زندگی بندوقوں اور جنگ سے بھری پڑی تھی،
   اور ہر کوئی فرش پر روندا جا چکا تھا۔
میں خواہش کرتا ہوں کہ ہم سب تیار ہوتے۔

کیا آپ تیار ہیں؟

یہی وجہ ہے کہ آپ کو گرجا گھر میں آنے اور ابھی ہی مسیح کو ڈھونڈنے کی ضرورت ہے! ہماری دُنیا میں سے وقت ختم ہو رہا ہے۔ آپ کو مسیح کو تلاش کرنے کے لیے جلدی کرنے کی ضرورت ہے، مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو جائیں، اور سزا کے نازل ہونے سے پہلے اِس گرجا گھر میں شدت کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ جب آپ مسیح میں ہوتے ہیں، خُدا آپ کی حفاظت کرنے اور آپ کو نقصان سے محفوظ رکھنے کا وعدہ کرتا ہے۔

مجھے چُھپا لے، اے میرے نجات دہندہ، چُھپا لے،
   جب تک کہ زندگی کا طوفان گزر نہ جائے؛
حفاطت کے ساتھ محفوظ ٹھکانے کی رہنمائی کر،
   آخر کار میری روح کو قبول کر لے!
(’’یسوع، میری روح کے عاشق Jesus, Lover of My Soul‘‘ شاعر چارلس ویزلی Charles Wesley، 1707۔1788)۔

II۔ لیکن دوسری نشانی، نسلیاتی نشانیاں ہونگی جو ظاہر کریں گی کہ خاتمہ نزدیک ہے۔

لوقا21:20 اِس کے بارے میں بتاتی ہے،

’’تب اُس نے اُن سے کہا، ایک قوم (یونانی میں ایتھنوسethnos یا تہذیبی گروہ) دُوسری قوم (تہذیبی گروہ) کے خلاف اور ایک سلطنت (بیزیلینBasilean = قومی گروہ) دُوسری سلطنت (قومی گروہ) کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوگی‘‘
(لوقا 21:10).

یہی ہے جو ہم آج کل دیکھ رہے ہیں۔ ہماری تمام تر ٹیکنالوجی اور سائنس کے ساتھ ہم نسلوں کے درمیان تہذیبی اختلاف اور قوموں کے درمیان جنگوں کو روکنے کے قابل نہیں ہیں۔ ہر صدر یہودیوں اور عربیوں کے درمیان امن لانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ہمارے تمام کے تمام صدر ناکام ہو جاتے ہیں! صرف جب مسیح آئے گا تو تمام قبیلوں اور تہذیبی گروہوں کے درمیان امن آئے گا! صرف جب مسیح واپس آئے گا تو وہ تمام قوموں اور نسلوں کے درمیان امن لائے گا۔ کوئی بھی دوسرا یہ نہیں کر سکتا – حتّٰی کہ آنے والا دجال(مخالف مسیح) بھی مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو گا۔ صرف یسوع مسیح ہی مختلف نسلوں اور تہذیبی گروہوں اور قوموں کے درمیان امن لا سکتا ہے – جب وہ واپس زمین پر آئے گا (اور صرف تب ہی) زمین پر حقیقی امن ہوگا اور تمام لوگوں پر سلامتی ہوگی!

زندگی بندوقوں اور جنگ سے بھری پڑی تھی،
   اور ہر کوئی فرش پر روندا جا چکا تھا۔
میں خواہش کرتا ہوں کہ ہم سب تیار ہوتے۔

کیا آپ آج کی رات تیار ہیں؟

III۔ تب، تیسری نشانی، ہمارے اردگرد ہر طرف یہودیوں سے مخالفت کی نشانیاں ہوں گی، جو ظاہر کریں گی کہ خاتمہ قریب ہے۔

بے شمار بیوقوف لوگ یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں، جو زمین پر خُدا کے چُنیدہ لوگ ہیں۔ لوقا 21 باب میں حوالہ کہتا ہے:

’’اور جب یروشلیم کو فوجوں کو محاصرہ (گھیرے) میں دیکھو تو جان لینا کہ اُس کی ویرانی کے دِن نزدیک آ گئے ہیں‘‘ (لوقا 21:20).

اینٹی سیمِٹ اِزم anti-Semitism (یہودیوں سے مخالفت)، یہودیوں سے نفرت، آخری دِنوں میں اِس قدر شدید ہو جائے گی، کہ غیرقوموں کی بڑی بڑی فوجیں یروشلم میں یہودی لوگوں کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوں گی اور اُنہیں تباہ کرنے کی تاک میں ہوں گی، جیسے دوسری جنگ عظیم میں ھٹلر نے کیا تھا۔ لیکن یہودی زمین پر خُدا کے چُنے ہوئے لوگ ہیں، بائبل کے مطابق، بائبل کہتی ہے،

’’ہمارے آباؤ اجداد کی وجہ سے وہ خدا کے عزیز ہیں‘‘ (رومیوں 11:28).

اگر یہ ابراہام، موسیٰ اور انبیاء کی وجہ سے نہ ہوتا تو آپ آج کی رات یہاں پر ہوتے ہی نا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بائبل پر یقین رکھنے والے بپٹسٹ اسرائیل کے بہت بڑی حمایتیوں میں سے ہیں۔

لیکن بائبل تعلیم دیتی ہے کہ آخری دِنوں میں گناہ سے بھرپور دُنیا یہودیوں کے خلاف ہو جائے گی۔ خُدا کہتا ہے:

’’میں یروشلیم کو ساری قوموں کے لیے جنبش نہ کھانے والی چٹان بنا دوں گا‘‘
(زکریاہ 12:3).

یہ ہی بالکل ابھی رونما ہو رہا ہے۔ یہ ایک علامت ہے کہ ہم ابھی آخری دِنوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

زندگی بندوقوں اور جنگ سے بھری پڑی تھی،
   اور ہر کوئی فرش پر روندا جا چکا تھا۔
میں خواہش کرتا ہوں کہ ہم سب تیار ہوتے۔

کیا آپ تیار ہیں؟

IV۔ اور تب، چوتھی نشانی، مذہبی نشانیاں ہوں گی – جھوٹے مذاہب میں دھوکہ بازی کی نشانیاں، جو ظاہر کریں گی کہ خاتمہ نزدیک ہے۔

’’اور اُس نے کہا، خبردار، گُمراہ نہ ہوجانا کیونکہ کئی لوگ میرے نام سے آئیں گے … تُم اُن کے پیچھے نہ چلے جانا‘‘ (لوقا 21:8).

اور مسیح نے کہا:

’’جھوٹے میسح اور جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے بڑے نشان اور عجیب عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو چُنے ہوئے لوگوں کو بھی گمراہ کر دیں‘‘ (متی 24:24).

TBN پرجو آپ دیکھتے ہیں اُس میں سے زیادہ تر – اِس علاقے میں آپ جو کچھ چینل 17 پر دیکھتے ہیں – ایک فریب ہے۔ بینی ھِن ایک دھوکہ باز ہے۔ جوئیل آسٹن ایک دھوکہ باز ہے۔ زیادہ تر ایونجیلیکل ریڈیو اور ٹیلی وژن ایک دھوکہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں صرف ڈاکٹر میگی Dr. McGee کی تجویز دیتا ہوں، اور کسی بھی دوسرے کی نہیں! میں نئے نئے نرم خو ایونجیلیکلز پر بھروسہ نہیں کرتا ہوں!

’’کیونکہ ایسا وقت آ رہا ہے کہ جب لوگ صحیح تعلیم کی برداشت نہیں کریں گے بلکہ اپنی نفسانی خواہشوں کے مطابق بہت سے اُستاد بنا لیں گے تاکہ وہ وہی کچھ بتائیں جو اُن کے کانوں کو بھلا معلوم ہو‘‘ (2۔ تیموتاؤس 4:3).

وہ نشانی بالکل ابھی رونما ہو رہی ہے! خاتمہ قریب ہے!

V۔ پانچویں، مذہبی ایذا رسانیوں کی نشانیاں ہوں گی، جو ظاہر کریں گی کہ خاتمہ قریب ہے۔

ساری دُنیا میں بے مثل شرع سے مسیحیوں پر ایذا رسانیاں ہو رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، کیمونسٹ چین میں بے شمار مسیحیوں کو خُفیہ طور پر ملنا پڑتا ہے۔ لاس اینجلز ٹائمز Los Angeles Times نے بشروں کو جیتنے والی تین ہستیوں کے بارے میں یہ خبر پیش کی جنہیں چین سے خوشخبری کو بانٹنے کی وجہ سے مُلک بدر کر دیا گیا:

چین میں، ریاست ہائے متحدہ U.S. کے تین مبشران (بشروں کو جیتنے والے) کو وسطی چائنہ میں پروٹسٹنٹ عبادت گزاروں کے ایک زیر زمین تہہ خانے میں اکٹھا روکے رکھنے کے بعد ملک بدر کر چکا ہے، حقوق کے ایک گروہ نے خبر دی۔ وہ رپورٹ… اِن خبروں کے ہمراہ پیش کی گئی تھی کہ درجنوں چینی عبادت گزاروں کو جنہیں اُن کے ساتھ روکے رکھا گیا تھا جیل بھیجا جا چکا ہے۔ چین میں ہانگ کانگ کی بنیاد پر مشتمل انسانی حقوق اور جمہوری تحریک کے اطلاعی سنٹر کی خبر کے مطابق اضافی پچاس پیروکاروں کے… تین صوبوں میں پروٹسٹنٹ رفاقتوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یسوع نے مسیحیوں پر کی جانے والی ایذا رسانیوں کے بارے میں پیشن گوئی کی تھی جو ہم آج ہوتی ہوئی دیکھ رہے ہیں۔ اُس نے کہا،

’’وہ تمہیں محض میرے نام کی وجہ سے گرفتار کریں گے، ستائیں گے، عبادت خانوں کی عدالتوں میں حاضر کریں گے، قید خانوں میں ڈلوائیں گے‘‘ (لوقا 21:12).

پھر اُس نے کہا کہ یہاں تک کہ والدین اور رشتہ دار بھی آپ کو اذیتیں پہنچائیں گے اگر آپ ایک حقیقی مسیحی بن جاتے ہیں۔ ہم یہ بار بار بالکل یہیں لاس اینجلز میں رونما ہوتا ہوا دیکھ چکے ہیں۔ مسیح نے کہا:

’’اور تمہارے والدین، بھائی، رشتہ دار اور دوست تُم سے بے وفائی کریں گے… اور میرے نام کی وجہ سے سارے لوگ تُم سے نفرت کرنے لگیں گے‘‘ (لوقا 21:16۔17).

مسیح نے کہا کہ بے شمار والدین اور دوست آپ سے اصل میں نفرت کرنے لگیں گے اگر آپ ایک حقیقی مسیح بن جاتے ہیں۔ ھنسیں مت۔ یہ بات ساری دُنیا میں پہلے ہی سے سچی ہو چکی ہے۔ وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں، ہمیں قتل کرتے ہیں، اور آج کی رات دُنیا میں زیادہ تر ہمیں قید میں ڈال دیتے ہیں۔

پہلے تو وہ اپنے طور پر کوشش کرتے ہیں کہ آپ کو اِس گرجا گھر میں واپس آنے سے اور نجات پانے سے روکیں۔ لیکن اگر آپ یہاں گرجا کرنے کے لیے آتے رہنا جاری رکھتے ہیں اور اگر آپ نجات پا جاتے ہیں، تو وہ شاید آپ کے خلاف ہو جائیں اور یہاں تک کہ آپ سے نفرت کریں۔ وہ عام طور پر کئی مہنیوں کے بعد اِس پر قابو پا لیتے ہیں، جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کو روک نہیں سکتے۔

لیکن قیمت کو شمار کریں! کسی کو یہ بات پسند نہیں آتی اگر آپ ایک حقیقی مسیحی بن جاتے ہیں! کوئی آپ کے خلاف آئے گا! ایک تاریک دور میں ایک حقیقی مسیحی بننے کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ یہ نشانی ہے کہ ہم آخری دِنوں میں ہیں۔

زندگی بندوقوں اور جنگ سے بھری پڑی تھی،
   اور ہر کوئی فرش پر روندا جا چکا تھا۔
میں خواہش کرتا ہوں کہ ہم سب تیار ہوتے۔

کیا آپ تیار ہیں؟

VI۔ اور بالاآخر، مسیح ہمیں ایک چھٹی نشانی پیش کرتا ہے ہم پر یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ ہم خاتمہ کے قریب ہیں۔ میں اِس کو ’’نفسیاتی نشانی‘‘ بُلاتا ہوں۔

مسیح نے کہا:

’’تُم خبردار رہو (توجہ دو)، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے دل شکم پُری اور شراب نوشی اور اِس زندگی کی فکروں (پریشانیوں) سے سُست پڑ جائیں (بوجھل ہوں یا بوجھل کر دیے جائیں) اور وہ دِن تُم پر پھندے کی طرح ناگہاں آ پڑے۔ کیونکہ وہ روئے زمین پر موجود تمام لوگوں پر اِسی طرح آ پڑے گا‘‘ (لوقا 21:34۔35).

ایک نوجوان شخص جو چند ایک مرتبہ گرجے کے لیے آیا اُس نے کہا، ’’میں اگلے اِتوار کو نہیں آ سکتا۔ مجھے اپنی خالہ کی نقل مکانی کروانے میں مدد کرنی ہے۔‘‘ اُس کے پاس ایسا کرنے کے لیے چھ دِن تھے، لیکن اِس بات کو اِتوار کی صبح ہی رونما ’’ہونا تھا‘‘۔ وہ زندگی کے مسائل سے بوجھل ہو چکا ہے۔ آج لوگ سرسری اور احمقانہ وجوہات کے لیے گرجا گھر آنے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ وہ اِس زندگی کی دیکھ بھال کے ساتھ بوجھل ہو جاتے ہیں۔ اور خُدا کی سزا کا دِن اُن پر ناآگہی میں آ جائے گا – جو وہ اُس کی بالکل بھی توقع نہیں کر رہے ہوں گے، تو خاتمہ آ جائے گا!

زندگی بندوقوں اور جنگ سے بھری پڑی تھی،
   اور ہر کوئی فرش پر روندا جا چکا تھا۔
میں خواہش کرتا ہوں کہ ہم سب تیار ہوتے۔

کیا آپ تیار ہیں؟

آپ منشیات اور جنس سے تو کنی کترا سکتے ہیں، لیکن خاندانی مسائل کے ساتھ جو آپ کو اندر ہی اندر چوس لیتی ہیں بوجھل ہو جاتے ہیں یا دب جاتے ہیں۔ میں گزرے سالوں میں بے شمار نوجوان جوڑوں کے ساتھ وہ رونما ہوتا ہوا دیکھ چکا ہوں۔

اور تب یسوع نے کہا:

’’پس ہر وقت بیدار رہو اور دعا میں لگے رہو، تاکہ تُم اِن سب باتوں سے جو ہونے والی ہیں، بچ کر اِبنِ آدم کے حضور میں کھڑے ہونے کے لائق ٹھہرو‘‘ (لوقا 21:36).

اور دنیا کے خاتمہ اور آنے والی سزا کے لیے تیار ہونے کے لیے یہی ہے جس کو آپ کو کرنے کی ضرورت ہے۔ تین باتیں ہیں جن کی آپ کو کرنے کی ضرورت ہے:

(1) اِس گرجا گھر میں آئیں۔ باقی کچھ بھی اور آپ کی مدد نہیں کرے گا اگر آپ ایسا نہیں کرتے۔

(2) مسیح کے پاس آئیں۔ وہ آپ کے گناہوں کے لیے مر گیا۔ وہ واقعی میں اور جسمانی طور پر مُردوں میں سے زندہ ہو گیا۔ وہ بالکل ابھی خُدا کے داہنے ہاتھ پر زندہ بیٹھا ہے۔ وہ وہاں پر ابھی آپ کے لیے موجود ہے۔ اُس کے پاس آئیں۔ یسوع پر بھروسہ کریں اور نجات پائیں!

(3) آپ کو ناصرف اِس گرجا گھر میں آنے کی ضرورت ہے، آپ کو ناصرف مسیح کے پاس آنے کی ضرورت ہے، بلکہ آپ کو دعا مانگنے کی بھی ضرورت ہے۔ یسوع نے کہا کہ آخری دِنوں میں ایک کامیاب مسیحی زندگی بسر کرنے کے لیے دعا ہی وہ ایک چابی ہے۔


آپ آنے والی سزا سے کیسے فرار ہونے جا رہے ہیں؟ بائبل کہتی ہے، ’’[مسیح نے] صلیب پر خود اپنے ہی بدن پر ہمارے گناہوں کا بوجھ برداشت کیا‘‘ – صلیب پر۔ مسیح آپ کا متبادل ہو سکتا ہے۔ اُس کو آپ کی جگہ پر سزا دی گئی تھی، صلیب پر آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے! مسیح نے اُس صلیب پر اپنے قیمتی خون کو بہایا تھا۔ اُس کا خون آپ کے تمام گناہوں کو دھو سکتا ہے – اور آپ تیار ہوں گے جب خاتمہ ہو گا! میں آپ سے آج کی رات ہی یسوع مسیح پر بھروسہ کرنے کے لیے کہہ رہا ہوں! چارلس ویزلی نے کہا،

مجھے چُھپا لے، اے میرے نجات دہندہ، چُھپا لے،
   جب تک کہ زندگی کا طوفان گزر نہ جائے؛
حفاطت کے ساتھ محفوظ ٹھکانے کی رہنمائی کر،
   آخر کار میری روح کو قبول کر لے!

خوشخبری کا ایک گیت کہتا ہے،

آج دُںیا کے لیے یسوع ہی وہ جواب ہے،
اُس سے بالا اور کوئی نہیں ہے، یسوع ہی وہ راہ ہے!

یسوع پر آج کی رات ہی بھروسہ کریں اور وہ آپ کو نجات دے گا! آمین۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تنہا گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ میں خواہش کرتا ہوں ہم تمام تیار ہوئے ہوتے I Wish We’d All Been Ready‘‘
(شاعر لیری نارمن Larry Norman، 1947۔2008؛ پادری نے ترمیم کیا)۔

لُبِ لُباب

آخری دِنوں کی نشانیاں

SIGNS OF THE LAST DAYS

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’سب سے پہلے تمہیں یہ جان لینا چاہیے کہ آخری دِنوں میں ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی گزاریں گے اور تمہاری ہنسی اُڑائیں گے‘‘ (2پطرس3:3)۔

I.   پہلی نشانی، ماحولیاتی نشانیاں ہوں گی جو ظاہر کریں گی کہ خاتمہ قریب ہے، لوقا21:11، 25۔26 .

II.  دوسری نشانی، نسلیاتی نشانیاں ہونگی جو ظاہر کریں گی کہ خاتمہ نزدیک ہے، لوقا21:10۔

III. تیسری نشانی، ہمارے اردگرد ہر طرف یہودیوں سے مخالفت کی نشانیاں ہوں گی، جو ظاہر کریں گی کہ خاتمہ قریب ہے، لوقا21:20؛ رومیوں11:28؛ زکریا12:3 .

IV.  چوتھی نشانی، مذہبی نشانیاں ہوں گی – جھوٹے مذاہب میں دھوکہ بازی کی نشانیاں، جو ظاہر کریں گی کہ خاتمہ نزدیک ہے، لوقا21:8؛ متی24:24؛ 2۔تیموتاؤس4:2۔3 .

V.   پانچویں نشانی، مذہبی ایذا رسانیوں کی نشانیاں ہوں گی، جو ظاہر کریں گی کہ خاتمہ قریب ہے، لوقا21:12، 16۔17 .

VI.  چھٹی نشانی، یہاں پر ’’نفسیاتی علامات‘‘ ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ خاتمہ قریب ہے، لوقا21:34۔36 .