Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


اُن آسیبوں پر قابو پانا جو ہمیں کمزور کرتے ہیں! –
’’اِس قسم کی بدروح‘‘!

- OVERCOMING THE DEMONS THAT WEAKEN US
!“THIS KIND”
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خداوند کے دن کی شام، 5 اگست، 2018
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, August 5, 2018

’’جب وہ گھر میں داخل ہوا تو اُس کے شاگردوں نے چپکے سے اُس سے پوچھا: ہم اِس بدروح کو کیوں نہیں نکال سکے؟ اور اُس نے اُن سے کہا، اِس قسم کی بدروح دعا اور روزہ کے سِوا کسی اور طریقہ سے نہیں نکل سکتی‘‘ (مرقس9:26۔29)۔

آج کی شام میں آسیبوں اور شیطان پر بات کرنے جا رہا ہوں، اور جو ڈاکٹر جے۔ آئی۔ پیکر Dr. J. I. Packer نے کہا ’’موجودہ دور کی کلیسیا کی خستہ حال صورتحال،‘‘ اور وہ وجہ کہ 1859 سے لیکر اب تک امریکہ میں کوئی بہت بڑا قومی حیاتِ نو نہیں آیا۔ میں ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونزDr. Martyn Lloyd-Jones کے لکھے ہوئے واعظ کے خاکے پر انحصار کر رہا ہوں۔ بنیادی مرکزی موضوع اور خُلاصہ ڈاکٹر لائیڈ جونز کی جانب سے ہیں۔

’’جب وہ گھر میں داخل ہوا تو اُس کے شاگردوں نے چپکے سے اُس سے پوچھا: ہم اِس بدروح کو کیوں نہیں نکال سکے؟ اور اُس نے اُن سے کہا، اِس قسم کی بدروح دعا اور روزہ کے سِوا کسی اور طریقہ سے نہیں نکل سکتی‘‘ (مرقس9:26۔29)۔

میں چاہتا ہوں کہ آپ دو آیتوں کے بارے میں سوچیں۔ میں اِن آیات کو امریکہ میں ’’خستہ حال‘‘ گرجا گھروں اور مغربی دُنیا کی چیختی چِلاتی اور پکارتی ہوئی ضرورت کے لیے لاگو کرنے جا رہا ہوں – جن میں کچھ نکات ہمارے گرجا گھر کے لیے رہنمائی کرتے ہیں۔

میں جانتا ہوں کہ وہ انتہائی نام ’’حیاتِ نو‘‘ آج لوگوں کا موڈ خراب کر دیتا ہے۔ وہ اِس کے بارے میں سُننا ہی نہیں چاہتے۔ لیکن وہ وجہ جو وہ اِس طرح سے محسوس کرتے ہیں شیطانی ہے! یہ وہ موضوع ہے جس کے بارے میں شیطان نہیں چاہتا کہ لوگ سوچیں۔ اِس لیے میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ بھرپور احتیاط کے ساتھ اِس کو سُنیں گے جب میں ہمارے گرجا گھر اور دوسرے تمام گرجا گھروں میں اِس اشد ضرورت پر بات کروں۔

یہ وہ موضوع ہے جس سے ہم میں سے ہر ایک کو شدت کے ساتھ دلچسپی ہونی چاہیے۔ جب تک ہم آج گرجا گھروں کی حالت کے بارے میں شدید فکر کے بارے میں محسوس نہیں کرتے ہم انتہائی بیچارے یا لاچار مسیحی ہوتے ہیں۔ درحقیقت، اگر آپ کو حقیقی حیاتِ نو میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ہے تو آپ کو سوال کرنا چاہیے آیا آپ سرے سے مسیحی ہیں بھی یا نہیں! اگر آپ کو ہمارے گرجا گھر اور دوسرے گرجا گھروں کے لیے کوئی فکر نہیں ہوتی ہے تو آپ یقیناً ایک جوشیلے مسیحی نہیں ہیں! میں دہراتا ہوں، حقیقی حیاتِ نو کو کچھ نہ کچھ ایسا ہونا چاہیے کہ ہم میں سے ہر ایک کو اِس سے شدید طور پر دلچسپی ہونی چاہیے۔

تو آئیے مرقس کے نویں باب میں اِس واقعے کے بارے میں ہم یہ سوچنے سے آغاز کریں۔ یہ ایک انتہائی اہم واقعہ ہے، کیونکہ چاروں میں سے تین اناجیل متی، مرقس اور لوقا میں اِن واقعات کو ہمیں پیش کرنے کے لیے پاک روح نے بہت زیادہ احتیاط کی ہے۔ میں مرقس میں دیے گئے واقعہ میں سے دو آیات پڑھ رہا ہوں۔ باب کے ابتدائی حصے میں مرقس ہمیں بتاتا ہے کہ مسیح نے پطرس، یعقوب اور یوحنا کو لیا تھا اور تبدیلی کی پہاڑی پر چلا گیا تھا جہاں اُنہوں نے ایک حیرت انگیز واقعہ کو دیکھا تھا۔ لیکن، جب وہ پہاڑ سے نیچے آئے تو اُنہوں نے ایک بہت بڑے ہجوم کو باقی شاگردوں کے اردگرد اور اُن کے ساتھ بحث کرتے ہوئے پایا! وہ تین جو یسوع کے ساتھ نیچے آئے تھے سمجھ نہ پائے یہ سب کچھ کس بارے میں تھا۔ پھر ہجوم میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور یسوع کو بتایا کہ اُس کے بیٹے کو ایک بدروح نے قبضے میں کیا ہوا تھا جس سے اُس کے مُنہ سے جھاگ نکلتا ہے اور وہ اپنے دانت پیستا ہے۔ پھر اُس آدمی نے کہا، ’’میں اُسے تیرے شاگردوں کے پاس لایا تھا کہ وہ اُس میں سے بدروح کو نکال دیں لیکن وہ نہ نکال پائے‘‘ (مرقس9:18)۔ اُنہوں نے کوشش کی تھی لیکن وہ ناکام رہے تھے۔

یسوع نے اُس شخص سے چند ایک سوالات پوچھے۔ پھر اُس نے جلد ہی اُس لڑکے میں سے بدروح کو نکال دیا۔ پھر مسیح گھر میں چلا گیا، اور شاگرد اُس کے ساتھ گئے۔ گھر میں داخل ہو جانے کے بعد شاگردوں نے اُس سے پوچھا، ’’ہم اُسے کیوں نہیں نکال پائے؟‘‘ (مرقس9:28)۔ اُنہوں نے یہ کرنے کی سخت کوشش کی تھی۔ وہ اِس سے پہلے کئی مرتبہ کامیاب رہ چکے تھے۔ لیکن اِس مرتبہ وہ مکلمل طور پر ناکام ہوئے تھے۔ اِس کے باوجود مسیح نے سادگی سے کہا، ’’اُس میں سے باہر نکل جا‘‘ اور لڑکے نے شفا پائی تھی۔ اُنہوں نے کہا، ’’ہم اُسے کیوں نہ باہر نکال پائے؟‘‘ مسیح نے جواب دیا، ’’اِس قسم کی بدروح دعا اور روزے کے سوا کسی اور طریقہ سے نہیں نکل سکتی‘‘ (مرقس9:29)۔

اب میں اِس واقعے کو استعمال کر کے آج ہمارے گرجا گھروں میں مسئلے کو ظاہر کرنے جا رہا ہوں۔ یہ لڑکا دورِ حاضرہ کی دنیا میں نوجوان لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ شاگرد آج ہمارے گرجا گھروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کیا یہ بات واضح نہیں ہے کہ ہمارے گرجا گھر نوجوان لوگوں کی مدد کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں؟ جارج برنا ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم خود اپنے نوجوان لوگوں کو جو گرجا گھر میں پرورش پاتے ہیں 88 % کھو دیتے ہیں۔ اور ہم دُنیا میں سے انتہائی چند ایک نوجوان لوگوں کو، شدید چند لوگوں کو جیت رہے ہیں۔ ہمارے گرجا گھر مُرجھاتے جا رہے ہیں اور تیزی سے ناکام ہو رہے ہیں۔ مغربی بپٹسٹ اب ہر سال تقریباً 1,000 گرجا گھروں کو کھو رہے ہیں! یہ خود اُن کی اپنی تعداد ہے! اور ہمارے خود مختیار گرجا گھر بھی کوئی بہتر نہیں کر رہے ہیں۔ کوئی بھی جو اُن نمبروں پر نظر ڈالتا ہے دیکھ سکتا ہے کہ ہمارے گرجا گھر آدھے بھی اتنے مضبوط نہیں ہیں جتنے وہ سو سال پہلے ہوا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر جے۔ آئی۔ پیکر Dr. J. I. Packer نے ’’موجودہ دور کے گرجا گھروں کی خستہ حالی‘‘ کے بارے میں بات کی تھی۔

ہمارے گرجا گھر شاگردوں ہی کی مانند، وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو وہ کر سکتے ہیں، اور اِس کے باوجود وہ ناکام ہو رہے ہیں۔ وہ اِسی بُری طرح سے ناکام ہو رہے جتنی بُری طرح سے شاگرد ناکام ہوئے تھے جب اُنہوں نے اُس نوجوان شخص کی مدد کرنے کی کوشش کی تھی۔ جو سوال ہمیں کرنا چاہیے وہ یہ ہے ’’ہم کیوں نہیں اُسے نکال پائے؟‘‘ اِس ناکامی کا سبب کیا ہے؟

یہاں، مرقس کے نویں باب میں، ہمیں یوں دکھائی دیتا ہے کہ مسیح اُسی انتہائی سوال کے ساتھ نمٹ رہا ہے۔ اور جو جواب مسیح نے پیش کیا ہے وہ آج بھی اِسی قدر اہم ہے جتنا وہ اُس وقت تھا۔

’’اُس کے شاگردوں نے چپکے سے اُس سے پوچھا، ہم اُس بدروح کو کیوں نہیں نکال سکے؟ اور اُس نے اُن سے کہا، اِس قسم کی بدروح دعا اور روزہ کے سِوا کسی اور طریقہ سے نہیں نکل سکتی‘‘ (مرقس9:28۔29)۔

اِس تلاوت کو تین سادہ نکات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

I۔ وہ پہلا نکتہ ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ ہے۔

وہ کیوں نہ اُس بدروح کو نکال پائے؟ مسیح نے کہا، ’’اِس قسم کی بدروح دعا اور روزہ کے سوا کسی اور طریقہ سے نہیں نکل سکتی۔‘‘ اُس نے اُنہیں بتایا کہ ایک معاملے اور دوسرے معاملے، دونوں کے درمیان فرق ہوتے ہیں۔ ماضی میں مسیح اُنہیں منادی کرنے اور بدروحوں کو نکالنے کے لیے بھیج چکا تھا – اور وہ گئے تھے اورمنادی کی تھی اور بے شمار بدروحوں کو نکالا تھا۔ وہ خوشی مناتے ہوئے واپس آئے تھے۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ آسیبوں نے اُن کی تابعداری کی تھی۔

لہٰذا جب یہ شخص اپنے بیٹے کو اُن کے پاس لایا تو وہ پُریقین تھے کہ اُس کی مدد وہی کچھ کرنے سے جو وہ اِس سے پہلے کر چکے تھے کر پائیں گے۔ اِس کے باوجود اِس مرتبہ وہ مکمل طور پر ناکام ہو گئے تھے۔ اُن کی تمام تر کوششوں کے باوجود لڑکے کی بالکل بھی کوئی مدد نہیں ہو پائی تھی، اور اُنہوں نے تعجب کیا تھا کہ کیوں۔ پھر مسیح نے ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ کے بارے میں بتایا تھا۔ ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ اور جس قسم کے ساتھ وہ پہلے نمٹ چکے تھے اُن کے درمیان ایک فرق ہے۔

ایک طرح سے، مسئلہ ہمیشہ ایک سا ہی ہے۔ گرجا گھر کا کام نوجوان لوگوں کو شیطان کی قوت اور اُس کے آسیبوں سے چُھٹکارہ دلانا ہوتا ہے، ’’اُنہیں تاریکی سے روشنی میں لانا ہوتا ہے اور شیطان کے اختیار سے نکال کر خُدا کی طرف پھیرنا ہوتا ہے‘‘ (اعمال26:18)۔ وہ ہر عمر اور ہر تہذیب میں ہمیشہ ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ گرجا گھروں کو ہمیشہ ہی سی شیطان اور اُس کے آسیبوں کے ساتھ نمٹنا ہوتا ہے۔ لیکن آسیبوں کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ وہ سارے ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں۔ پولوس رسول نے کہا کہ ’’ہمیں خون اور گوشت یعنی انسان سے نہیں بلکہ تاریکی کی دُنیا کے حاکموں، اختیار والوں اور شرارت کی روحانی فوجوں سے لڑنا ہے جو آسمانی مقاموں میں ہیں‘‘ (افسیوں6:12)۔ اُس نے ہمیں بتایا کہ آسیبوں کے مختلف درجات ہوتے ہیں اور اُن کا رہنما خود شیطان ہوتا ہے، ’’ہوا کی عملداری کا حاکم، جس کی روح اب تک نافرمان لوگوں میں تاثیر کرتی ہے‘‘ (افسیوں2:2)۔ شیطان اپنی تمام قوت میں زندہ ہے۔ لیکن اُس کے تحت یہ نچلے طبقے کی آسیبی قوتیں ہوتی ہیں۔ شاگرد آسانی کے ساتھ کمزور بدروحوں کو نکال سکتے ہیں۔ لیکن یہاں، اُس لڑکے میں، ایک بہت بڑی قوت کی بدروح تھی۔ ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ مختلف ہوتی ہے، اور اِسی لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہوتی ہے۔ پہلی بات جو ہمیں تلاش کرنی چاہیے وہ یہ ہے کہ ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ ہے کیا جس کے ساتھ ہمیں آج نمٹنا چاہیے۔

جب ہم اُن الفاظ ’’اِس قسم‘‘ پر نظر ڈالتے ہیں تو مجھے تعجب ہوتا ہے آیا انتہائی بے شمار پادری صاحبان کو یہاں تک احساس بھی ہے کہ جو جنگ ہم لڑ رہے ہیں وہ ایک روحانی جنگ ہے۔ میں پُریقین ہوں کہ زیادہ تر پادری صاحبان کبھی بھی نہیں سوچتے کہ اُن کا کام شیطان اور اُس کی بُری بدروحوں کے ساتھ ایک جنگ ہے۔ سیمنریاں اور یہاں تک کہ بائبل کے کالج انسانی طریقہ کاروں پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔ لیکن وہ مبلغوں کو تعلیم نہیں دیتے کہ اُن کے مرکزی مسائل روحانی سلطنت میں پنہاں ہیں۔

اِس لیے وہ مخصوص طریقوں پر چلتے رہتے ہیں جو ماضی میں کامیاب ہوا کرتے تھے۔ وہ احساس نہیں کرتے کہ وہ پرانے طریقے آج ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ کے ساتھ نہیں نمٹ سکتے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ یہاں ایک ضرورت ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے – وہ ضرورت بجا طور پر ہے کیا؟ جب تک ہم اُس عینی ضرورت سے آج آگاہ نہیں ہو جاتے، ہم اُتنے ہی ناکام ہونگے جتنے کہ شاگرد اُس لڑکے کے ساتھ ہوئے تھے۔

آج ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ کیا ہے؟ ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ وجودیت سے تعلق رکھنے والا ایک آسیب ہے۔ وجودیت کہتی ہے کہ کوئی چیز اُسی وقت حقیقی ہوتی ہے اگر آپ اُس کا تجربہ کرتے ہیں – صرف اگر آپ اِسے محسوس کرتے ہیں۔ آج لوگوں کے ذہنوں کو ’’محسوس کرنے کے آسیب‘‘ کے ذریعے سے اندھا کیا جاتا ہے۔ احساس کی وجودیت کا آسیب کہتا ہے کہ آپ کو قبض کُشا یعنی دست آور تجربہ ہونا چاہیے – یقین دہانی کا ایک احساس۔ وہ آسیب کہتا ہے کہ اگر آپ کے پاس وہ احساس ہوتا ہے تو یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ نجات پا چکے ہیں۔

یہ اندھے لوگ انصاف کے خُدا میں یقین نہیں رکھتے ہیں۔ وہ صرف احساسات پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ اُن کے پاس نجات پانے کے لیے ایک احساس ہونا چاہیے۔ اُنہیں یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ نجات پا چکے ہیں ’’یقین دہانی‘‘ کے ایک احساس کی ضرورت پڑتی ہے۔ اُن کی ’’یقین دہانی‘‘ ایک بُت ہوتا ہے! وہ اپنے احساسات پر بھروسہ کرتے ہیں ناکہ یسوع مسیح پر! ہم لوگوں سے پوچھتے ہیں، ’’کیا آپ نے مسیح پر بھروسہ کیا؟‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’نہیں۔‘‘ وہ نہیں کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اُن کے پاس دُرست احساس نہیں ہوتا ہے! وہ اپنے احساس پر بھروسہ کرتے ہیں مسیح پر نہیں! اُن آسیبوں نے اُن کے ذہنوں کو اندھا کر دیا ہوتا ہے۔ ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ کے آسیب کو صرف دعا اور روزہ سے ہی شکست دی جا سکتی ہے! ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ کی گرفت کو توڑنے کے لیے ہمیں روزہ رکھنا چاہیے!

II۔ دوسرا نکتہ طریقے ہوتے ہیں جو ناکام ہو چکے ہیں۔

میں ہمارے گرجا گھروں کو وہ کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں جا ماضی میں بہت مدد گار ہوا کرتے تھے، لیکن ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ پر مذید کوئی خاص اثر انداز نہیں ہوتے۔ اور چونکہ ہم پرانے طریقوں پر انحصار کرتے ہیں، ہم تقریباً اپنے سارے ہی نوجوان لوگوں کو کھو دیتے ہیں، اور ہم دُنیا میں سے مشکل ہی سے کسی کو مسیح میں ایمان دلا کر تبدیل کر پاتے ہیں۔ غلط سمجھے جانے کا خطرہ مول لیتے ہوئے، میں سنڈے سکول کو اُسی زمرے میں ڈالوں گا۔ یہ ایک سو پچیس سال پہلے انتہائی مؤثر تھا۔ لیکن میرے خیال میں اِس کی آج بہت تھوڑی قدر ہوتی ہے۔ میں یہی بات نجات کے کتابچوں کے بارے میں کہوں گا۔ کسی دور میں لوگ واقعی میں اُنہیں پڑھتے تھے اور گرجا گھر چلے آتے تھے۔ مگر میں سادگی کے ساتھ کسی بھی پادری صاحب سے پوچھوں گا، ’’کیا آپ کے گرجا گھر میں کوئی نوجوان لوگ ہیں جو کتابچہ پڑھنے کی وجہ سے گرجا گھر میں آئے اور نجات پائی؟‘‘ میرے خیال میں یہ بات واضح ہے کہ ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ ہمارے دور میں اُن طریقوں کا جو ہم ماضی میں استعمال کرتے تھے بخوبی ردعمل ظاہر نہیں کرتی۔ میں اُس زمرے میں گھر گھر جانے کو بھی ڈالوں گا۔ یہ ماضی میں بھرپور قوت کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، لیکن نوجوان لوگوں کو گرجا گھر میں لانے کے لیے اب مدد نہیں کرتا ہے جب ہم ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ کے ساتھ نمٹ رہے ہیں۔

کچھ مخصوص باتیں ہیں جو آج کے دور میں بیکار ہیں، جب اُن کا ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ پر اِطلاق کیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، مسیح مؤثر طور پر کہہ رہا ہے، ’’تم اِس معاملے میں ناکام ہو چکے ہو کیونکہ جو قوت تمارے پاس تھی، جو دوسرے معاملوں کے لیے کافی تھی اُس کی یہاں پر کوئی قدر نہیں ہے۔ یہ آپ کو لڑکے کی مدد کرنے کے لیے بے بس چھوڑ دیتی ہے جو ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ کی قوت کے تحت ہوتا ہے۔

میں جانتا ہوں کہ ایسے پادری صاحبان ہیں جو احساس کرتے ہیں کہ بے شمار باتیں ہیں جنہیں ہم ماضی میں کیا کرتے تھے آج بیکار ہیں۔ لیکن اُنہیں شیطان کی ’’چالبازیوں‘‘ (2کرنتھیوں2:11) کے بجائے طریقیات کے بارے میں سوچنے کے لیے تربیت دی گئی ہے – لہٰذا وہ بُری طرح سے نئے طریقوں میں پڑے رہتے ہیں جو پرانوں کے مقابلے میں کوئی بہتر نہیں ہوتے – یعنی کہ، اگر ہم نوجوان لوگوں کو گرجا گھر کے مضبوط رُکن بنانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ مخصوص لوگ ہوتے ہیں جو ہمیں کہتے ہیں کہ اِس کا حل ہوتا ہے نوجوان لوگوں کو ’’ثابت کرنا‘‘ کہ پیدائش میں تخلیق کا واقعہ سچا ہے اور کہ ارتقاء جھوٹ ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ نوجوان لوگ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو جائیں گے، اور دوسرے لوگ دُنیا میں سے گرجا گھر آئیں گے، اگر ہم ارتقاء کو غلط ثابت کر سکتے ہیں اور اُنہیں پیدائش کی کتاب میں سے جواب ڈھونڈنے کے لیے تیار کر لیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ اِس طریقہ سے ہم موجودہ صورتحال سے نمٹ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر لائیڈ جونز Dr. Lloyd-Jones نے کہا، ’’اٹھارویں صدی کے شروع میں بالکل ایسے طریقے ہی سے تھا، جب لوگ اپنے ایمان کو [معافی چاہنے] پر گھمائے رکھتے تھے۔ یہ ہیں وہ باتیں جن کی وہ ہمیں تعلیم دیتے تھے کہ وہ مسیحیت کی سچائی کو ظاہر کریں گی، لیکن وہ ایسا کرتے نہیں تھے۔ ’اِس قسم کی بدروح‘ اُس طریقے سے کچھ بھی نہ کرنے سے آگے بڑھ سکتی ہے۔‘‘

ایک دوسرا طریقہ جو ناکام ہو چکا ہے وہ دورِ حاضرہ کے تراجم کے استعمال سے ہے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ نوجوان لوگوں کو کنگ جیمس بائبل سمجھ میں نہیں آتی۔ ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ جدید زبان میں بائبل ہے۔ پھر نوجوان لوگ اِس کو پڑھیں گے۔ تب وہ کہیں گے، ’’یہ مسیحیت ہے‘‘ – اور وہ ہجوم در ہجوم ہمارے گرجا گھر میں چلے آئیں گے۔ لیکن وہ رونما نہیں ہوا۔ درحقیقت، اُس کا بالکل متضاد رونما ہوا۔ میں ساٹھ سالوں سے نوجوان لوگوں کے ساتھ لگ بھگ مکمل طور سے کام کرتا رہا ہوں۔ مجھے یہ حقیقت معلوم ہے کہ یہ جدید تراجم نوجوان لوگوں میں بالکل بھی دلچسپی پیدا نہیں کرتے۔ درحقیقت، میں اُن میں سے کئی لوگوں کو کہتے ہوئے سُنتا ہوں، ’’یہ صحیح لگتا نہیں ہے۔ یہ بائبل کی مانند نہیں لگتا ہے۔‘‘

میں نے کبھی بھی جدید ترجمے سے منادی نہیں کی، اور میں کبھی کروں گا بھی نہیں۔ اور ہم سارا وقت نوجوان لوگوں کو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوتا ہوا دیکھتے رہتے ہیں، دونوں ہمارے گرجا گھر میں اور دُنیا میں سے بھی۔ اِس جدید ترجموں کی کوئی بھی قدر یا قیمت ہو، وہ مسئلے کو حل نہیں کریں گے۔ وہ ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ کے ساتھ نہیں نمٹتے۔

اور کس چیز کی وہ کوششیں کر رہے ہیں؟ اوہ، سب سے بڑی جدید موسیقی ہے! ہمیں موسیقی کو دُرست کرنا ہی ہوگا اور پھر وہ گرجا گھر میں آئیں گے اور مسیحی بنیں گے۔‘‘ یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ کیا مجھے واقعی میں اِس پر رائے دینے کی ضرورت ہے؟ ایک مغربی بپٹسٹ گرجا گھر ہے جو لاس اینجلز میں کرائے کی عمارتوں میں لگتا ہے۔ پادری صاحب ایک ٹی شرٹ پہنتے ہیں اور ایک سٹول پر بیٹھتے ہیں۔ اپنی بات پیش کرنے سے پہلے، راک موسیقی تقریباً ایک گھنٹے تک بجتی ہے۔ ہمارے لوگوں میں سے ایک اِس کی جانچ کے لیے گیا۔ وہ مجروع ہو گیا تھا۔ اُس نے کہا کہ عبادت تاریک اور قابل افسوس تھی، اور روحانی بالکل بھی نہیں تھی۔ اُس نے کہا وہ لوگ بشروں کو جیتتے نہیں ہیں، اور وہ اُنہیں جیسے ہمارے نوجوان لوگ دعا مانگتے ہیں ایک گھنٹہ بھی دعا مانگتے دیکھنے کا تصور نہیں کر سکتا۔ ایک گھنٹہ ماسوائے دعا کے اور کچھ نہ ہو؟ بھول جائیں اِس کو! لہٰذا، ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ پر قابو پانے میں جدید راک موسیقی بھی ناکام ہو چکی ہے۔

III۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ ہمیں کسی نہ کسی ایسی چیز کی ضرورت ہے جو اُس بدکار قوت سے نیچے جا سکتی ہو اور اُسے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتی ہو، اور صرف ایک ہی چیز ہے جو یہ کر سکتی ہے، اور وہ ہے خُدا کی قوت!

ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا، ’’ہمیں اِس بات کا احساس کر لینا چاہیے کہ کتنی ہی بڑی ’اِس قسم کی بدروح‘ کیوں نہ ہو، خُدا کی قوت لامحدود طور پر بہت بڑی ہے، کہ جس چیز کی ہمیں ضرورت ہے وہ مذید اور زیادہ علم، سمجھ، مذید اور زیادہ سمجھوتے، [نئے ترجمے، یا راک موسیقی] نہیں ہے – جی نہیں، ہمیں ایک ایسی قوت کی ضرورت ہے جو لوگوں کی روحوں میں داخل ہو سکتی ہو اور اُنہیں توڑ دے اور اُنہیں کُچل ڈالے اور اُنہیں حلیم بنا ڈالے اور پھر اُنہیں بالکل نیا بنا ڈالے۔ اور وہ ہے زندہ خُدا کی قوت۔‘‘ اور یہ بات ہمیں واپس تلاوت کی جانب لے جاتی ہے،

’’ہم اُس بدروح کو کیوں نہیں نکال سکے؟ اور اُس نے اُن سے کہا، اِس قسم کی بدروح دعا اور روزہ کے سِوا کسی اور طریقہ سے نہیں نکل سکتی‘‘ (مرقس9:28۔29)۔

دعا اور روزہ رکھنا۔ کچھ بھی اور ہمارے گرجا گھروں کی ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ کے شیطانی حملوں پر قابو پانے میں مدد نہیں کر سکتا۔ ہمارے گرجا گھر آج نوجوان لوگوں کے دِلوں تک نہیں پہنچ رہے ہیں۔ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ’’اِس قسم کی بدروح دعا اور روزہ کے سوا کسی اور طریقہ سے نہیں نکل سکتی۔‘‘

کچھ ’’عالمین‘‘ کہیں گے، ’’سب سے بہترین مسوّدے نہیں کہتے ’اور روزہ رکھو۔‘‘‘ لیکن اُس ’’عالم‘‘ کو آسیبوں کے بارے میں کیا پتا ہے؟ وہ سڑکوں پر سے ہمارے شہرکے کالجوں کے کیمپسوں میں سے کافروں کو مسیح میں ایمان دلا کر بدلنے کے بارے میں کیا جانتا ہے؟ وہ حیاتِ نو کے بارے میں کیا جانتا ہے – حیاتِ نو جس کا کہ وہ بالکل اِسی وقت چین میں تجربہ کر رہے ہیں؟ وہ اُن باتوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ہے۔ میں اپنی زندگی میں گناہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینے والے تین حیات نو کا چشم دید گواہ رہ چکا ہوں۔ میں یہ سوچ کر خوشی سے لبریز ہو جاتا ہوں کہ مجھے اِس قدر شدت کے ساتھ اُن تینوں حیات نو میں منادی کرنی کی سعادت نصیب ہوئی۔ وہ مبشراتی اِجلاس نہیں تھے۔ یہ وہ دور تھے جب خُدا کی قوت لوگوں کی دِلوں میں گھر کر لیتی تھی، اور اُنہیں توڑ ڈالتی تھی، اور اُنہیں کُچل ڈالتی تھی، اور اُنہیں حلیم بنا ڈالتی تھی، اور مسیح یسوع میں اُنہیں ایک نیا مخلوق بنا ڈالتی تھی!

لہٰذا، ہم اُن دو پرانے مسوّدوں کی پیروی نہیں کر رہے ہیں جنہوں نے لفظ ’’روزہ رکھنا‘‘ کو حذف کر دیا تھا۔ گنوسٹک فرقہ روزہ رکھنے پر زور دیتا ہے۔ یوں جن لوگوں نے سانائی ٹیکس مسوّدوں کی نقل کی تھی اُنہوں نے اُس آیت کو گنوسٹک فرقہ کے ذریعے سے استمعال کیے جانے سے محفوظ رکھنے کے لیے اُن الفاظ ’’اور روزہ رکھنا‘‘ کو ہٹا دیا۔ ’’گنوسٹک فرقہ فاقے کی حد تک روزہ رکھنے کے ماہر تھے‘‘ (ولیم آر۔ ہارنے William R. Horne، ٹرینٹی ایونجیلیکل سیمنری Trinity Evangelical Seminary، ’’کلیسیا کی تاریخ میں روزہ رکھنے کی مشق The Practice of Fasting in Church History،‘‘ صفحہ 3)۔ دورِحاضرہ کے ’’عالمین‘‘ ہمیں بتاتے ہیں کہ نقل کرنے والوں نے اُن الفاظ کا اضافہ کیا تھا۔ لیکن زیادہ امکان یہ ہے کہ اُنہوں نے اُن الفاظ کو ہٹا دیا تھا۔ (دیکھیں گنوسٹکس کی خُفیہ تاریخ: اُن کے پاک صحائف، اعتقادات اور روایات The Secret History of the Gnostics: Their Scriptures, Beliefs and Traditions، مصنف اینڈریو فلپ سمتھ Andrew Phillip Smith، باب 5، صفحہ 1)۔ ہم جانتے ہیں کہ مسیح نے کہا، ’’اور روزہ رکھو۔‘‘ ہم یہ بات کیسے جانتے ہیں؟ ہمیں یہ بات دو وجوہات کی بِنا پر معلوم ہے۔ پہلی، شاگردوں نے یقینی طور پر دعا مانگی تھی جب اُنہوں نے اِس سے پہلے بدروحوں کو نکالا تھا۔ لہٰذا کسی اور بات کا اضافہ ہونا ضروری تھا۔ کچھ نہ کچھ اور چاہیے تھا – روزہ رکھنا! تنہا دعا ہی کافی نہیں تھی۔ ہم یہ بات تجربے سے بھی جانتے ہیں۔ کیوں کہ ہم روزہ رکھ چکے ہیں اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں کہ خُدا کیا کر سکتا ہے جب ہم روزہ رکھنے اور دعا مانگنے میں اپنے دِلوں کو اُنڈیلتے ہیں۔

اب میں ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز کی جانب سے ایک دوسرے حوالے کے ساتھ اختتام کروں گا۔ کتنے شاندار مبلغ! کتنی بصیرت! میں کس قدر زیادہ خُدا کا اُن کے لیے شکر ادا کرتا ہوں۔ ایک دوسری جگہ پر اُنہوں نے کہا،

میں تعجب کرتا ہوں کہ آیا ہم پر کبھی یہ ظاہر ہوا ہے کہ ہمیں روزہ رکھنے کے سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے؟ حقیقت یہی ہے، کیا یہ نہیں ہے، کہ یہ سارے کا سارا موضوع ہماری زندگیوں میں سے اور ہماری ساری مسیحی سوچوں میں سے بالکل باہر نکلتا ہوا دکھائی دیتا ہے؟

اور وہ، غالباً کسی بھی اور بات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ پر قابو کرنے کی قابل نہیں ہوئے ہیں۔

میں ہمارے گرجا گھر میں روزہ رکھنے کے لیے ایک عمومی پُکار دینے جا رہا ہوں۔ میں اِس کے بارے میں آپ کو بعد میں مذید اور بتاؤں گا۔ میں آپ کو بتاؤں گا ہم کب روزہ رکھ رہے ہیں۔ میں آپ کو بتاؤں گا کہ روزہ کیسے رکھنا ہے، اور اپنے روزہ کو ختم کیسے کرنا ہوتا ہے۔

اُس وقت ہم یہاں گرجا گھر میں آئیں گے اور ایک دعائیہ اِجلاس سے پہلے کھانا کھائیں گے۔ فون کرنے والوں میں سے چند ایک کو ڈاکٹر کیگن کچھ عرصہ بعد فون کرنے کے لیے ہدایت دیں گے۔ ہم میں سے باقی دعا مانگیں گے، اور ڈاکٹر کیگن اور میں سوالات کے جواب دیں گے۔


1.  ہم اپنے نئے پروگرام کی کامیابی کے لیے دعا مانگیں گے اور روزہ رکھیں گے۔

2.  ہم لڑکوں کی ایک نئی ’’پودpod‘‘ اور لڑکیوں کی ایک نئی ’’پودpod‘‘ کے لیے دعا مانگیں گے اور روزہ رکھیں گے۔ ’’پود‘‘ پانچ یا چھ لوگ ہوتے ہیں جو ہفتہ، اِتوار کی صبح، اور اِتوار کی شام کو آتے ہیں اور جو شاگرد بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں.

3.  ہم اپنے گرجا گھر میں مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے والے لوگوں کے لیے بھی دعا مانگیں گے اور روزہ رکھیں گے۔ ہم خصوصی طور پر ’’اِس قسم کی بدروح‘‘ پر توجہ مرکوز کریں گے – وہ آسیب جو ایک ہستی کو غلام بنا ڈالتے ہیں کہ وہ احساسات کی تلاش کرتی ہے۔


اب مجھے اِس اِجلاس کا یسوع کے بارے میں بات کیے بغیر اختتام نہیں کرنا چاہیے۔ وہ سب جو ہمیں چاہیے اُسی میں ملتا ہے۔ عبرانیوں کی کتاب کہتی ہے،

’’ہم یسوع کو دیکھتے ہیں جسے فرشتوں سے کچھ ہی کمتر کیا گیا تاکہ وہ خُدا کے فضل سے ہر انسان کے لیے اپنی جان دے اور چونکہ یسوع نے موت کا دُکھ سہا اِس لیے اُسے جلال اور عزت کا تاج پہنایا گیا‘‘ (عبرانیوں2:9)۔

یسوع، خُدا کا بیٹا، گنہگاروں کے جگہ پر قربان ہو گیا، گنہگار کے متبادل کی حیثیت سے۔ یسوع گوشت اور ہڈیوں سمیت یعنی جسمانی طور پر آپ کو زندگی بخشنے کے لیے مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ جس لمحے آپ خود کو یسوع کے حوالے کرتے ہیں تو آپ کے گناہ صلیب پر اُس کی موت کے وسیلے سے منسوخ کر دیے جاتے ہیں۔ جس لمحے آپ خود کو نجات دہندہ کے سپرد کرتے ہیں، تو آپ کے گناہ مسیح کے قیمتی خون کے وسیلے سے ہمیشہ کے لیے خُدا کے ریکارڈ میں سے دُھل جاتے ہیں۔ ہم کس قدر دعا مانگتے ہیں کہ آپ خُداوند یسوع مسیح پر بھروسہ کریں گے اور اُس کے وسیلے سے گناہ سے نجات پائیں گے۔ آمین اور آمین۔ مہربانی سے کھڑیں ہوں اور اپنے گیتوں کے ورق پر سے حمدوثنا کا گیت نمبر 4 گائیں۔

خُداوند ہمارا عظیم قلعہ ہے، ایک دفاعی مورچہ جو کبھی ہارتا نہیں،
   ہمارا مددگار، وہ بڑھتی ہوئی فانی بُرائیوں کےسیلاب کے بیچ میں تھا۔
کہ ابھی تک ہمارا قدیم دشمن ہماری بدقسمتی کی طرف تلاش جاری رکھتا ہے؛
   اُس کی کاری گری اور قوت بہت بڑی ہے، اور ظالم نفرت سے لیس ہے،
زمین پر اُس کی برابری کوئی نہیں کر سکتا۔

کیا ہم نے خود اپنی ہی قوت پر بھروسہ نہیں کیا، ہماری جدوجہد ہارنے والی ہوگی،
   کیا ہماری طرف دُرست لوگ نہیں تھے، جنہیں خُود خداوند ہی نے چُنا۔
مت پوچھیں وہ کون ہونگے؟ یسوع مسیح، یہ ہے وہ؛
   خُداوند صبااُوتھ ہے اُس کا نام، زمانے سے یہی رہا ہے،
اور اُسی کو جنگ جیتنی چاہیے۔
   (’’خُداوند ہمارا قوی قلعہ ہےA Mighty Fortress Is Our God ‘‘ شاعر مارٹن لوتھر Martin Luther، 1483۔1546)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تنہا گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
نے گایا تھا: ’’پرانے زمانے کی قوتOld-Time Power‘‘
(شاعر پال ریڈر Paul Rader، 1878۔1938)۔

لُبِ لُباب

اُن آسیبوں پر قابو پانا جو ہمیں کمزور کرتے ہیں! –
’’اِس قسم کی بدروح‘‘!

- OVERCOMING THE DEMONS THAT WEAKEN US
!"THIS KIND"

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’جب وہ گھر میں داخل ہوا تو اُس کے شاگردوں نے چپکے سے اُس سے پوچھا: ہم اِس بدروح کو کیوں نہیں نکال سکے؟ اور اُس نے اُن سے کہا، اِس قسم کی بدروح دعا اور روزہ کے سِوا کسی اور طریقہ سے نہیں نکل سکتی‘‘ (مرقس9:26۔29)۔

(مرقس9:18)

I.    پہلا نکتہ ہے ’’اِس قسم کی بدروح،‘‘ اعمال26:18؛ افسیوں6:12؛ 2:2 .

II.   دوسرا نکتہ ہے وہ طریقے جو ناکام ہو چکے ہیں، 2کرنتھیوں2:11 .

III.  تیسرا نکتہ یہ ہے کہ ہمیں کسی نہ کسی ایسی چیز کی ضرورت ہے جو اُس بدکار قوت سے نیچے جا سکتی ہو اور اُسے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتی ہو، اور صرف ایک ہی چیز ہے جو یہ کر سکتی ہے، اور وہ ہے خُدا کی قوت! عبرانیوں2:9 .