Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


مسیح کا شاگرد بنانے کا طریقہ

CHRIST’S METHOD OF MAKING DISCIPLES
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 15 جولائی، 2018
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, July 15, 2018

مہربانی سے متی10:1 کھولیں۔ یہ سیکوفیلڈ بائبل میں صفحہ 1008 پر ہے۔ پہلی آیت کے پہلے حصے پر نظر ڈالیں۔

’’اور پھر اُس نے اپنے بارہ شاگردوں کو پاس بُلایا…‘‘

اُس لفظ ’’شاگرد disciple‘‘ کا ترجمہ یونانی لفظ ’’میٹھیٹیس mathétés‘‘ سے لیا گیا ہے۔ نئے عہد نامے میں وہ لفظ ایک ایسے شخص کی جانب نشاندہی کرتا ہے جو ایک اُستاد سے سیکھتا ہے اور اُس اُستاد کی پیروی کرتا ہے۔ اِس کا اِطلاق اُن بارہ لوگوں پر ہوتا ہے جنہوں نے یسوع کی پیروی کی تھی۔

یہ میرا مقصد ہے کہ آپ پر ظاہر کروں کیسے مسیح نے اُن بارہ لوگوں کو بُلایا تھا، اور کیسے اُنہیں اُن کے دوبارہ جنم لینے سے پہلے تربیت دی تھی۔ اِس طریقے سے آج ہمارے زیادہ تر گرجا گھروں میں نہیں ہوتا ہے۔ غیرمرائی زبانیں بولنے والے پینتیکوسٹل فرقے سے لیکر بنیاد پرست بائبل کے اِساتذہ تک – اُن سب کو جنہیں میں جانتا ہوں ایک ہی بات ذرا سا بدل کر کرتے ہیں۔ وہ عموماً ایک نئے بندے کو پھنساتے ہیں اور کچھ اِس طرح کی بات کرتے ہیں، ’’کیا آپ جنت میں جانا چاہتے ہیں؟‘‘ وہ نئے بندے کو اُس وقت تک دباؤ میں ڈالے رکھتے ہیں جب تک اُن میں سے زیادہ تر کہہ نہیں دیتے، ’’ہاں، میں چاہتا ہوں۔‘‘ تب بشر کو جیتنے والا کہتا ہے، ’’اِن لفظوں سے میرے ساتھ دعا مانگو۔‘‘ وہ مضطرب نیا بندہ اُنہی الفاظ کو بُڑبُراتا ہے جو ’’بشر جیتنے والا‘‘ کہتا ہے – جو کُچھ ایسی بات کرتا ہے جیسے جوئیل آسٹن اپنے واعظوں کے اختتام پر کرتا ہے، ’’ہم یقین رکھتے ہیں کہ اگر آپ نے وہ الفاظ کہہ دیے، تو آپ نے بالکل ابھی ہی دوبارہ جنم لیا ہے۔‘‘ بہتر گرجا گھروں میں وہ اُن لوگوں کے نام اور فون نمبر لکھ لیتے ہیں جن کے ساتھ اُنہوں نے دعا مانگی تھی – اور پھر، کچھ دِنوں کے بعد وہ اُس نام نہاد کہلائے جانے والے تبدیل ہوئے بندے کے پاس ’’ مقصد کو کامیابی سے تکمیل تک پہنچانے‘‘ کے لیے کسی نہ کسی کو بھیجتے ہیں۔ میرے تجربے میں یہ مشکلوں سے ہی کبھی کوئی حقیقی مسیحی پیدا کرتا ہے۔ وہ شخص جس کے ساتھ اُنہوں نے دعا مانگی تھی عام طور پر مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوا شخص نہیں ہوتا ہے۔ وہ اکثر یا تو ’’بشر کو جیتنے والے‘‘ سے چُھپتے پھرتے ہیں یا وہ اُس پر ’’دور چلے جانے‘‘ کے لیے چِلاتے ہیں! جب آپ ’’ مقصد کو کامیابی سے تکمیل تک پہنچانے‘‘ کی کوشش کے لیے اُن کے پاس جاتے ہیں تو وہ بہتر طریقے سے ردعمل کا اِظہار نہیں کرتے!

اِس طریقے میں غلطی کیا ہے؟ یہ عموماً کام نہیں کرتا ہے! درحقیقت یہ مشکلوں سے ہی کبھی کام کرتا ہے۔ میں ساٹھ سالوں سے ایک بپتسمہ دینے والا مبلغ رہا ہوں اور یہ میرا تجربہ ہے۔ یہ ’’کام‘‘ کیوں نہیں کرتا ہے؟ یہ شاگردوں کو پیدا کیوں نہیں کرتا ہے؟ یہ اِس لیے ہوتا ہے کیونکہ ہم میں سے زیادہ تر نے اِس پر اُس طریقے سے زیادہ دھیان نہیں دیا ہوتا جیسے یسوع نے شاگردوں کو دھیان دینے پر مجبور کیا تھا! وجہ یہ ہے!

آپ شاید سوچیں میں ’’آقائیت کی نجاتLordship Salavation‘‘ کی تعلیم دے رہا ہوں، لیکن میں نہیں دے رہا۔ میں وہ تعلیم نہیں دے رہا ہوں جو جان میک آرتھر یا پال واشر دیتے ہیں۔ یہ جاننے کے لیے کہ کیوں میں’’آقائیت کی نجاتLordship Salavation‘‘ کو مسترد کرتا ہوں، مہربانی سے وہ پڑھیں جو میں نے اِس کے بارے میں ہماری کتاب ’’مرتی ہوئی قوم سے تبلیغ Preaching to a Dying Nation صفحہ 117۔119 میں کہا۔ وہ ساری کی ساری کتاب مفت میں ہماری ویب سائٹ www.sermonsfortheworld.com پر پڑھی جا سکتی ہے۔ نجات یسوع پر بھروسہ کرنے سے اور اُس کے خون کے وسیلے سے پاک صاف ہونے کے ذریعے سے ملتی ہے۔

لیکن چاروں اناجیل میں مجھے ایک مقام دکھا دیں جہاں پر یسوع نے لوگوں کو رہنمائی ’’گنہگاروں کی دعا‘‘ کہنے کے لیے کی ہو، اور پھر ’’مقصد کی کامیابی سے تکمیل کے لیے‘‘ اُن کے پیچھے گیا ہو۔ آپ مجھے ایک بھی جگہ نہیں دکھا سکتے جہاں پر یسوع نے ایسے کیا ہو! اُس نے ہمیشہ ’’مقصد کی کامیابی سے تکمیل کے لیے‘‘ پہلے کام کیا۔ اُس نے پہلے اُنہیں جان لینے دیا وہ کس کام کو کرنے پہلے جا رہے تھے!

اِس طریقے سے یسوع مسیح نے اپنے لوگوں کو تبدیل کیا تھا! وہ جانتا تھا کہ اُنہیں پہلے شاگردی کی سخت سچائیوں کو سُننے کی ضرورت تھی – اِس سے پہلے کہ وہ اُس پر سچے طور سے بھروسہ کرتے اور نجات پاتے!

’’لیکن،‘‘ شاید کوئی کہتا، ’’سخت سچائیاں اُنہیں خوفزدہ کر کے بھاگا دیتی۔‘‘ بے شک! وہ سخت سچائیاں اُن میں سے زیادہ تر کو خوفزدہ کر کے بھاگا ڈالتی! مسیح کے بے شمار شاگردوں نے اُس کو چھوڑ دیا تھا۔ اُس نے اُن سے ٹھہرنے کے لیے التجا نہیں کی تھی۔ اُس نے بارہ سے کہا تھا، ’’کیا تم بھی مجھے چھوڑ کر جانا چاہتے ہو؟‘‘ (یوحنا6:67)۔ سب چھوڑ کر نہیں گئے تھے! وہ جو ٹھہرے رہے اور تعلیم پائی مسیح کے چٹان کی طرح مضبوط شاگرد، اور صلیب کے سپاہی بنے!

ڈاکٹر آئزک واٹز نے 18ویں صدی میں مبشران کی پرانے زمانے کی قسم سے کہا تھا۔ آئزک واٹز نے کہا،

کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں، برّے کے پیچھے چلنے والا،
اور کیا مجھے اُس کے مقصد کو اپنانے سے خوفزدہ ہونا چاہیے، یا اُس کا نام بولنے سے شرمندہ ہونا چاہیے؟

یقیناً مجھے لڑنا چاہیے، اگر مجھے حکومت کرنی ہے؛ خُداوندا! میرے حوصلے کو بڑھا،
میں سختیوں کو جھیلوں گا، درد کو برداشت کروں گا، تیرے کلام کے سہارے کے ذریعے سے۔
     (’’کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں؟Am I a Soldier of the Cross?‘‘ شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts، 1674۔1748)۔

ہم نئے لوگوں سے توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ مسیح کے لیے خونی جنگ میں پہلے سر کے بل کُود پڑیں۔ یہ سادہ ترین ہوتا اگر وہ کرتے۔ لیکن میں اُس طرح سے مسیحی نہیں بنا تھا۔ مجھے پہلے سیکھنا پڑا تھا کہ صلیب کو برداشت کرنے والا مسیح ہی وہ سچا مسیحی تھا۔ مجھے کچھ سخت شاگردی میں سے گزرنا پڑا تھا اِس سے پہلے کہ میں یسوع پر بھروسہ کرتا، اِس سے پہلے کہ میں صلیب کا ایک سپاہی بنتا۔ اور ایسا ہی آپ کو کرنا چاہیے!

جو میں نے بالکل ابھی کہا وہ آج ہمارے زیادہ تر گرجا گھروں میں عملی طور پر نہیں کیا جاتا! اِس کے باوجود، یہ سچ نہیں ہے۔ ’’یقیناً مجھے لڑنا چاہیے، اگر مجھے حکومت کرنی ہے، خُداوندا، میرے حوصلے کو بڑھا۔‘‘ یہ تھا جو 18ویں صدی کے عظیم مبشراتی حمدوثنا کے مصنف نے تحریر کیا تھا۔ اور یہی تھا جو ہزاروں لاکھوں لوگوں نے ٹخنوں تک برف میں دھنسے ہوئے جارج وائٹ فیلڈ اور جان ویزلی کی منادی سے پہلے گایا تھا! لیکن آپ اُس حمدوثنا کے گیت کو آج انتہائی بے شمار عبادتوں میں گایا جاتا ہوا نہیں سُنیں گے! میرے خیال میں شاید اسی لیے جو گیتوں کی کتابیں ہم اب استعمال کرتے ہیں اُن میں عموماً ’’مسیحی جنگ‘‘ پر اِس قدر کم حمدوثنا کے گیت ہوتے ہیں۔ مسیحی جنگ اور سنجیدہ شاگردی کے لیے بُلائے جانے والے گیت اب کے مقابلے میں انتہائی کم مشہور ہیں جتنے وہ اُس وقت 18ویں صدی میں تھے جب آئزک واٹز نے ’’کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں؟‘‘ لکھا تھا۔

یہ بات ہمیں خود انجیل کے پیغام کی جانب لے جاتی ہے۔ مسیح نے اپنے شاگردوں کو خوشخبری کی تعلیم کب دینی شروع کی تھی؟ 1 کرنتھیوں15:3،4 خوشخبری کے بنیادی حقائق کو پیش کرتی ہیں:

’’کیونکہ ایک بڑی اہم بات جو مجھ تک پہنچی اور میں نے تمہیں سنائی یہ ہے کہ کتابِ مُقدّس کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کے لیے قُربان ہُوا، دفن ہُوا اور کتابِ مُقدّس کے مطابق تیسرے دِن زندہ ہو گیا‘‘ (1۔ کرنتھیوں 15:3،4).

یسوع نے اپنے شاگردوں کو خوشخبری تقریباً اُن کے اُس کی پیروی کرنے کے ایک سال بعد پیش کرنی شروع کی تھی۔ یہ متی16:21، 22 میں درج ہے،

’’اُس کے بعد یسوع نے اپنے شاگردوں پر ظاہر کرنا شروع کر دیا کہ اُس کا یروشلیم جانا لازمی ہے تاکہ وہ بزرگوں، سردار کاہنوں اور شریعت کے عالموں کے ہاتھوں بہت دکھ اُٹھائے، قتل کیا جائے اور تیسرے دِن جی اُٹھے۔ تب پطرس اُسے الگ لے گیا اور ملامت کرنے لگا کہ خداوند! ہر گز نہیں، تیرے ساتھ ایسا کبھی نہ ہو گا‘‘ (متی 16:21، 22).

پطرس یسوع کی تقریباً ایک سال سے پیروی کر رہا تھا۔ اِس کے باوجود پطرس نے یسوع کی یہ کہنے کے لیے کہ وہ ’’قتل کیا جائے اور تیسرے روز دوبارہ جی اُٹھے گا‘‘ ملامت کی تھی (متی16:21)۔ یہ بات واضح ہے کہ پطرس کو اب بھی خوشخبری کی سمجھ نہیں آئی تھی کم از کم اُس کو یسوع کا شاگرد بننے کے ایک سال بعد بھی۔

بعد میں اُسی سال یسوع نے دوبارہ شاگردوں کو وہ خوشخبری پیش کی،

’’اور جب وہ گلیل میں جمع ہُوئے تو یسوع نے اُن سے کہا ، ابنِ آدم آدمیوں کے حوالہ کیا جائے گا۔ وہ اُسے قتل کر ڈالیں گے اور وہ تیسرے دِن جی اُٹھے گا۔ اور شاگرد یہ سُن کر نہایت ہی غمگین ہُوئے‘‘ (متی 17:22، 23).

غور کریں کہ وہ یسوع کی پہلے ہی ظاہری شکل تبدیل ہوتے ہوئے دیکھ چکے تھے۔ یسوع کی شکل کے تبدیل ہونے کے دیکھنے کے بعد شاگرد ایک نوجوان شخص میں سے بدروح کو نہیں نکال پائے تھے۔ جب اُنہوں نے یسوع سے پوچھا وہ کیوں نہیں بدروح کو نکال پائے، یسوع نے کہا، ’’تمہاری بے اعتقادی کی وجہ سے‘‘ (متی17:20)۔ تب یسوع نے دوبارہ اُنہیں خوشخبری سُنائی، ’’وہ اُسے [یسوع کو] قتل کریں گے، اور تیسرے دِن وہ [یسوع] جی اُٹھے گا۔ اور وہ [شاگرد] یہ سُن کا نہایت غمگین ہوئے‘‘ (متی17:23 NKJV)۔ شاگردوں کو اب بھی خوشخبری کی سمجھ نہیں آئی تھی!

تیسری مرتبہ یسوع نے شاگردوں کو خوشخبری سُنائی وہ متی20:17۔19 میں پیش کی گئی ہے۔ اُس کی مماثلت میں حوالہ لوقا18:31۔34 میں ہے۔

’’یسوع نے بارہ شاگردوں کو اپنے ساتھ لیا اور اُن سے کہنے لگا، دیکھو، ہم یروشلیم جا رہے ہیں اور نبیوں نے جو کچھ اِبنِ آدم کے بارے میں لکھا ہے وہ پُورا ہوگا۔ وہ غیر یہودی لوگوں کے حوالہ کیا جائے گا۔ وہ اُسے ٹھٹھوں میں اُڑائیں گے، بے عزت کریں گے اور اُس پر تھوکیں گے۔ اُسے کوڑوں سے ماریں گے اور قتل کر ڈالیں گے۔ لیکن تیسرے دِن وہ پھر زندہ ہو جائے گا۔ یہ باتیں اُن کی سمجھ میں نہ آ سکیں اور یسوع کا یہ قول اور اُس کا مطلب اُن سے پوشیدہ رہا‘‘ (لوقا 18:31۔34).

یسوع کا اُنہیں اِس کی دو سالوں تک تعلیم دینے کے بعد بھی شاگردوں کو اب بھی خوشخبری کی سمجھ نہیں آئی تھی،

’’اور یہ باتیں اُن کی سمجھ میں نہ آ سکیں اور یسوع کا یہ قول اور اُس کا مطلب اُن سے پوشیدہ رہا‘‘ (لوقا 18:34).

حتیٰ کہ بے شمار مرتبہ خوشخبری سُننے کے بعد بھی، شاگرد اب بھی سمجھ نہیں پائے تھے یسوع کس بارے میں باتیں کر رہا تھا!

لیکن یسوع نے اُنہیں دوبارہ بتایا، ’’تمہیں پتا ہے کہ دو دِن کے بعد عید فسح ہے اور اِبنِ آدم [یسوع] کو پکڑوایا جائے گا تاکہ وہ مصلوب کیا جائے‘‘ (متی26:2)۔

اب، خوشخبری کو بار بار سُن چکنے کے بعد، شاگردوں میں سے ایک، یہوداہ، نے سردار کاہنوں کے لیے یسوع کو دھوکہ دینے کا فیصلہ کیا! (متی26:14، 15)۔

ایک مرتبہ پھر دوبارہ یسوع نے اُنہیں خوشخبری سُنائی (متی26:31، 32)۔ پطرس اور دوسرے شاگرد گتسمنی کے باغ میں سو گئے تھے۔ جب پہرےدار یسوع کو گرفتار کرنے کے لیے آئے، پطرس نے اپنی تلوار میان میں سے نکالی اور پہرے داروں کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ ’’تب سارے شاگرد اُسے [یسوع کو] چھوڑ کر بھاگ نکلے‘‘ (متی26:56)۔

اب ہم، بالاآخر، نئے جنم کی جانب بڑھتے ہیں، گیارہ شاگردوں کا مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونا۔ یہوداہ پہلے ہی اپنے آپ کو پھانسی دے چکا تھا اور کبھی بھی نئے جنم کا تجربہ نہ کر پایا۔ جی اُٹھا مسیح دوسرے شاگردوں کو ملا۔ اُس نے اُنہیں اپنے زخم دکھائے،

’’تب اُس نے اُن کا ذہن کھولا تاکہ وہ پاک کلام کو سمجھ سکیں‘‘ (لوقا24:45).

اُن کے نئے جنم کا آغاز یہاں رونما ہوا تھا، جب یسوع نے خوشخبری سے تعلق رکھتے ہوئے ’’اُن کے ذہن کو کھولا تاکہ وہ پاک کلام کو سمجھ سکیں‘‘ (لوقا24:46)۔

اب یوحنا20:21۔22 کھولیں۔ یہاں پر شاگردوں کو نیا جنم ہوتا ہے۔ جی اُٹھا یسوع اُن کے پاس آتا ہے،

’’یسوع نے پھر سے کہا، تُم پر سلام، جیسے باپ نے مجھے بھیجا ہے ویسے ہی میں تمہیں بھیج رہا ہُوں۔ اور جب وہ یہ کہہ چکا تو یہ کہہ کر اُس نے اُن پر پھونکا اور کہا، پاک رُوح پاؤ‘‘ (یوحنا 20:21، 22).

اُنہوں نے پاک روح کو پایا، اور بالاآخر اُنہوں نے دوبارہ جنم لے لیا!

پرانے تبصرہ نگار اُس بات کے ساتھ متفق ہیں۔ آپ کو میتھیو ھنری اور خصوصی طور پر جان چارلس ایلیکوٹ کو لوقا24:45 پر پڑھنا چاہیے۔ ڈاکٹر جان ورنن میگی نے کہا، ’’میں ذاتی طور پر یقین رکھتا ہوں کہ جس لمحے ہمارے خداوند نے اُن پر پھونکا اور کہا، ’تم پاک روح پاؤ،‘ اِن لوگوں نے احیاء [نیا جنم] پایا تھا۔ اِس سے پہلے وہ خُدا کے روح کے وسیلے سے لبریز نہیں ہوئے تھے… یسوع مسیح نے اِن لوگوں میں دائمی زندگی کو پھونکا تھا‘‘ (جے۔ ورنن میگی، بائبل میں سے Thru the Bible، یوحنا20:22 پر غور طلب بات)۔

ڈاکٹر تھامس ھیل نے بھی اِس بات کو انتہائی واضح کیا، ’’شاگردوں کی زندگی میں پاک روح کا دیا جانا سب سے زیادہ اہم واقعہ تھا۔ کیونکہ یہ اُسی وقت ہوا تھا کہ اُنہوں نے دوبارہ نیا جنم لیا تھا… یہ ہے جب اُنہوں نے سچا اور مکمل ایمان پایا تھا۔ یہ ہے جب اُنہوں نے روحانی زندگی پائی تھی‘‘ (تھامس ھیل، ایم۔ڈی۔ Thomas Hale, M.D.، اِطلاق شُدہ نئے عہد نامے کا تبصرہ The Applied New Testament Commentary، یوحنا20:22 پر غور طلب بات، صفحہ 448)۔

میں نے مسیح کے شاگردوں کے نئے جنم پر یہ مطالعہ، آپ کو چند ایک وجوہات کی بِنا پر پیش کیا۔

1. یہ پہلے نئے جنم کے دورِ حاضرہ کے تصور کو دُرست کرتا ہے، جس کے بعد شاگردی آتی ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے جس کو واقعی میں آج ہمارے سارے گرجا گھر قائم کیے ہوئے ہیں۔

2. یہ ہمیں شاگرد بنانے کے لیے مسیح کا طریقہ پیش کرتا ہے: پہلے آپ اُنہیں تعلیم دیں، اور پھر آپ اُن کے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کے لیے کام کریں۔ یہ اُس کا اُلٹ ہے جو جہازرانوں کے ذریعے سے ایک کتاب شاگرد بنانے کا کھویا ہوا فن The Lost Art of Disciple Making میں پیش کیا گیا ہے۔ میری رائے میں یہ کتاب غلط ہے۔ یسوع نے اُنہیں نیا جنم لینے سے پہلے شاگرد ہونے کی تعلیم دی تھی۔


مسیح نے عظیم مقصد (متی28:19، 20 NASB) میں ہمیں ’’شاگرد بنانے‘‘ کے لیے حکم دیا۔

’’اِس لیے تُم جاؤ اور [ساری قوموں کو، NASB] شاگرد بناؤ اور اُنہیں باپ، بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ دو، اور اُنہیں یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جن کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے اور دیکھو، میں دنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہُوں۔ آمین‘‘ (متی 28:19، 20).

میرے عالم فاضل پادری صاحب، ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin نے کہا،

’’صرف وہ فعل ’شاگرد بناؤ‘ فعل لازم کی اصطلاح میں ہے… دوسرے لفظوں میں ’جاؤ go‘ [یہاں پر] کوئی حکم نہیں ہے، لیکن ’شاگرد بناؤ‘ حکم ہے۔ یہ عظیم مقصد کا اہم مرکزی موضوع ہے‘‘ (کلیسیا کی نشونما کا راز The Secret of the Church Growth، صفحہ 57)۔

یسوع ہمیں ’’تمام قوموں کو تعلیم‘‘ دینے کا حکم دیتا ہے – زیادہ واجبی طور پر ترجمہ یوں ہے ’’شاگرد بناؤ‘‘ – ڈبلیو اے کرسویل۔ درحقیت نئی امریکہ معیاری بائبل اِس کا اِس ہی طرح سے ترجمہ کرتی ہے، ’’شاگرد بناؤ۔‘‘

یہ پہلے تین سو سالوں میں جماعتوں میں کیا گیا تھا، جہاں پر نئے لوگوں کو اُن کو بپتسمہ دینے سے پہلے شاگردی کی تعلیم دی جاتی تھی۔ ڈاکٹر فلپ شیعف Dr. Philip Schaff، جو ایک مسیحی تاریخ نگار ہیں، اُنہوں نے کہا، ’’اِس ہدایت کا [دورانیہ] مقررہ تھا کبھی دو سالوں پر، کبھی کبھار تین سالوں پر۔‘‘ ہیپولائیٹس Hippolytus 217بعد از مسیح سے لیکر 235 بعد از مسیح تک روم کے بشپ تھے۔ ہیپو لائیٹس نے کہا، ’’[اُنہیں] پاک کلام کے سُننے والوں کی حیثیت سے تین سالوں تک گزار لینے دو‘‘ (ہیپولائیٹس کا رسولی رواج The Apostolic Tradition of Hippolytus، حصہ دوئم)۔

شاگردی کا یہ دورانیہ بپتسمہ لینے سے پہلے آتا ہے۔ اعمال کی کتاب میں پولوس رسول نو مسیحیوں کو تعلیم دیتا ہے اِس کے بارے میں کم از کم دو مثالیں ہیں۔ برنباس پولوس کو انطاکیہ لایا۔

’’اور وہ دونوں سال بھر کلیسیا میں رہ کر بہت سے لوگوں کو تعلیم دیتے رہے‘‘ (اعمال 11:26).

پولوس نے یہی سب کچھ لیسٹرا Lystra، آئی کونیئم Iconium، اور دوبارہ، انطاکیہ میں کیا تھا،

’’وہ شاگردوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور اُنہیں نصیحت دیتے تھے کہ اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہو اور کہتے تھے کہ ہم پرخدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے بہت سی مصیبتوں کا سامنا کرنا لازم ہے‘‘ (اعمال 14:22).

ڈاکٹر شیف نے کہا، ’’کلیسا ایک کافرانہ دُنیا کے وسط میں تھی… اُس نے [لوگوں کو] مخصوص اِساتذہ کے ذریعے سے بپتسمہ دینے کے لیے تیار کرنے کی ضرورت کو دیکھ لیا تھا… [وہ جماعتیں]… کلیسا کے لیے دُنیا میں سے ایک پُل تھیں… جو نوسیکھیوں کو پُختگی کی جانب رہنمائی کرتی تھیں۔ اُن [سیکھنے والوں] کو بے اعتقادوں کی حیثیت سے نہیں لیا جاتا تھا، بلکہ نصف مسیحیوں [جو ابھی تک شاگرد نہیں بنے تھے] کی حیثیت سے لیا جاتا تھا‘‘ (مسیحی کلیسیا کی تاریخ History of the Christian Church، جلد دوئم، صفحہ 256)۔

ہم اپنی صبح کی عبادت کو شاگردی کی ایک جماعت میں تبدیل کرنے جا رہے ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ خود ہمارے اپنے بچوں کو رکھنے کے لیے ہمارے گرجا گھروں کی ناکامی، اور دُنیا میں سے نوجوان لوگوں کو بھرتی کرنے کے لیے ہماری ناکامی، اُس حقیقت کے لیے سُراغ لگا سکتی ہے کہ گرجا گھروں کو احساس نہیں ہوتا کہ آج نوجوان لوگ خُدا کو نہ ماننے والے ہیں، وہ کافر جنہیں شاگرد بنانا چاہیے اِس سے پہلے کہ وہ نئے جنم کا تجربہ کریں، اور مسیحی زندگی کو بسر کریں۔ مغربی بپٹسٹ ہر سال 200,000 ممبران کو کھو دیتے ہیں جو صرف ’’نصف مسیحی‘‘ ہوتے ہیں – شاگرد کبھی نہیں بنے ہوتے! جان ایس ڈِکرسن John S. Dickerson نے کہا کہ نوجوان مسیحیوں کی مبشراتی آبادی ’’موجودہ امریکیوں کی تقریباً7 فیصد سے گر کر تقریباً 4 فیصد یا کم ہو جائے گی – جب تک کہ نئے شاگردوں کو جنم نہیں دیا جاتا‘‘ (بہت بڑی مبشراتی کساد بازاری The Great Evangelical Recession، صفحہ 314)۔

یہ ہمارا مقصد ہے! ہمارا مقصد نوجوان لوگوں کی اُن کی بُلند ترین استعداد تک پہنچنے میں مدد کرنا ہے۔ ہم یہاں پر نوجوان لوگوں کی ہمارے گرجا گھر میں آنے کے لیے، یسوع کے شاگرد بننے کے لیے، دوبارہ نیا جنم لینے کے لیے اور دوسروں کو یسوع سے سیکھنے، اُس پر بھروسا کرنے اور دوبارہ جنم لینے کے لیے ہمارے گرجا گھر میں لانے کے لیے کام کرنے میں مدد کرنے کے لیے ہیں

نوجوان لوگ، جو چُنیدہ ہیں، کچھ نہ کچھ دشوار گزار اور چیلنج کر ڈالنے والا ہوتا ہے اُس کے لیے تیار ہونگے۔ وہ جو حقیقی مسیحیت کے چیلنج میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں خود کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکیں گے۔ ہم خواہش کرتے ہیں وہ ایسا نہ کریں، لیکن ہم تجربے سے جانتے ہیں کہ وہ ایسا کریں گے! آئیے اپنے دِلوں کو پریشان مت ہونے دیجیے جب وہ چلے جاتے ہیں۔ یاد رکھیں یسوع نے کہا، ’’بُلائے ہوئے تو بُہتیرے ہیں، لیکن چُنیدہ کم ہیں۔‘‘ صرف سچے شاگرد جنہوں نے دوبارہ جنم لیا ہوتا ہے ڈٹے رہیں گے!

آئیے اکٹھے آگے بڑھیں اور دُنیا پر ثابت کریں کہ ہمارا خُداوند اب بھی زندہ اور قوت سے بھرپور ہے۔ ہم نے ماضی میں غلطیاں کیں۔ لیکن ہم نے اپنی غلطیوں اور تجربوں سے سبق سیکھا۔ ہم نے اپنی ناکامیوں کو کامیابیوں میں بدلا۔ ہم مذید اور زیادہ اور بہت بڑی کامیابی دیکھیں گے جب ہم آج کے اِرتداد کی کمزوری میں شاگردوں کا ایک مضبوط گرجا گھر تخلیق کرنے کی جانب اگلا قدم بڑھائیں گے۔ یاد رکھیں، ہم کبھی بھی نہیں رُکیں گے، کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، اور کبھی بھی ہمت نہیں ہاریں گے۔ ہم کبھی بھی نہیں رُکیں گے جب تک کہ ہمارا پیارا سا گرجا گھر ایک عظیم گرجا گھر نہیں بن جاتا – یہ بات نوجوان لوگوں کو للکارتی ہے اور اُن میں شاگردوں کی ایک قوی فوج کو تخلیق کرتی ہے جنہوں نے ایک نیا جنم لیا ہوتا ہے! کھڑے ہو جائیں اور اپنے گیتوں کے ورق میں سے نمبر چھ گائیں، ’’کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں؟‘‘ شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts (1674۔1748)۔

کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں، برّے کے پیچھے چلنے والا،
اور کیا مجھے اُس کے مقصد کو اپنانے سے خوفزدہ ہونا چاہیے، یا اُس کا نام بولنے سے شرمندہ ہونا چاہیے؟

کیا مجھے آسمان پر سہولت کے پھولدار بستروں پر لے جایا جانا چاہیے،
جبکہ دوسرے انعام جیتنے کے لیے لڑیں، اور خونی سمندروں میں سے گزریں؟

کیا میرا سامنا کرنے کے لیے کوئی دشمن نہیں؟ کیا مجھے سیلاب میں شامل نہیں ہونا چاہیے؟
اِس غلیظ دُنیا میں ایک دوست کو فضل دلانے کے لیے، مجھے خُدا تک پہنچانے کے لیے؟

یقیناً مجھے لڑنا چاہیے، اگر مجھے حکومت کرنی ہے؛ خُداوندا! میرے حوصلے کو بڑھا،
میں سختیوں کو جھیلوں گا، درد کو برداشت کروں گا، تیرے کلام کے سہارے کے ذریعے سے۔

(’’کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں؟Am I a Soldier of the Cross?‘‘ شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts، 1674۔1748)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تنہا گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں؟Am I a Soldier of the Cross?‘‘
(شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts، 1674۔1748)۔