Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


رومی فوج کے افسر کی گواہی –
دوبارہ زندہ ہونے پر ایک واعظ

THE CENTURION’S TESTIMONY –
A RESURRECTION SERMON
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز جونیئر کی جانب سے تحریر کیا گیا ایک واعظ
اور جس کی تبلیغ ڈاکٹر سی۔ ایل۔ کیگن نے
لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں کی
خُداوند کے دِن کی دوپہر، یکم اپریل، 2018
A sermon written by Dr. R. L. Hymers, Jr.
and preached by Dr. C. L. Cagan
at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Afternoon, April 1, 2018

’’لیکن یسوع نے بڑے زور سے چلا کر جان دے دی۔ اور ہیکل کا پردہ اوپر سے نیچے تک پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔ اور رومی فوج کا ایک افسر جو یسوع کے سامنے کھڑا تھا، یہ دیکھ کر کہ یسوع نے کس طرح جان دی ہے، پُکار اُٹھا، یہ شخص درحقیقت خدا کا بیٹا تھا‘‘ (مرقس 15:37۔39).

یسوع کو صبح 9:00 بجے مصلوب کیا گیا تھا۔ وہ دوپہر 3:00 بجے مر گیا تھا۔ یہ کسی کے لیے غیرمعمولی تھا کہ اِس قدر مختصر مدت میں مصلوب کیے جانے سے مر جائے۔ اِس کے باوجود اِس بات سے ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے۔ آخر کو، اُن تمام میں سے زیادہ تر کے برعکس جنہیں مصلوب کیا گیا تھا، یسوع کو دِن کے شروع میں تقریباً مرنے کی حد تک پیٹا گیا تھا۔ اُس کے مصلوب کیے جانے سے پیشتر، پیلاطوس کو اُمید تھی کہ وہ یسوع کو شدید کوڑے لگوانے کے ذریعے سے ہجوم کو ایسا [یسوع کو مصلوب] نہ کرنے کے لیے قائل کر لے گا۔ ’’درحقیقت، کوڑے لگنا کوئی ہلکی سزا نہیں تھی۔ رومی پہلے ملزم کو ننگا کرتے تھے اور اُس کے ہاتھ کو سر سے اوپر کر کے ایک کھمبے کے ساتھ باندھ دیتے تھے۔ چھانٹا چمڑے کی کئی رسیوں سے بنا ہوتا تھا جن کے آخری سرے پر ہڈیوں اور سیسے کے ٹکڑے لگے ہوتے تھے۔ ملزم کے دونوں طرف دو آدمی عموماً کوڑے مارا کرتے تھے‘‘ (فرینک ای۔ گیبلیئین، ڈی۔ڈی۔ Frank E. Gaebelein, D.D.، جنرل ایڈیٹر؛ تفسیر کرنے والے کا بائبل پر تبصرہ The Expositor’s Bible Commentary، ژونڈروان پبلیشنگ ہاؤس، 1984، جلد ہشتم، صفحہ775؛ مرقس15:15)۔

درجِ ذیل کوڑے لگنے کے جسمانی اثرات کی ایک وضاحت اور تفصیل ہے – جو ایک میڈیکل کے ڈاکٹر نے لکھی ہے،

اُس وزنی کوڑے کو پوری قوت کے ساتھ بار بار یسوع کے کاندھوں، کمر اور ٹانگوں پر مارا جاتا تھا۔ شروع شروع میں وہ دُرّہ یا کوڑا صرف کھال چیرتا تھا۔ پھر، جب ضربیں جاری رہتی تھیں، تو وہ ضربیں زیادہ گہرائی میں جلد کے نیچے کے ریشوں کو پھاڑتی تھیں، جو شروع شروع میں تو کھال کی شریانوں اور رگوں میں سے خون کا رِسنا پیدا کرتی تھیں، اور بالاآخر گہرائی میں پٹھوں کی نسوں میں سے شریانی خون تیزی سے نکلنا شروع ہو جاتا تھا… آخر میں کمر کی کھال لمبے لمبے چھیتھڑوں میں لٹک رہی ہوتی ہے اور [کمر کا] سارا حصہ ناقابل شناخت پھٹا اور خون میں لتھڑا ہوا عضو بن جاتا ہے (سی۔ ٹرومین ڈیوس، ایم۔ ڈی۔ C. Truman Davis, M.D.، ’’یسوع کی مصلوبیت: طبّی نقطۂ نظر سے ایک جنون The Crucifixion of Jesus: The Passion from a Medical Point of View،‘‘ ایریزونا میڈیسن Arizona Medicine، 22، نمبر3 [مارچ 1965]: صفحہ 185)۔

ڈاکٹر گیبلیئین کے تبصرے نے بتایا، ’’یہ کوئی حیرت کی بات نہیں تھی کہ رومیوں کے کوڑے کھانے والے ملزم شاذونادر ہی بچتے تھے‘‘ (گیبلیئین، ibid.)۔ رومی سپاہیوں کا وہ افسر اور اُس کے سپاہیوں کا گروہ – جو اُس مصلوبیت کا انچارج تھا – اِس حقیقت سے حیرت زدہ نہیں ہوئے تھے کہ یسوع ہر اذیت کو سہہ چکنے کے بعد چند ہی گھنٹوں میں مر گیا تھا۔ جس بات نے اُنہیں حیرت زدہ کیا تھا وہ اُس کے مرنے کا طریقہ تھا!

جب یسوع مرا، بے شمار باتیں رونما ہوئی تھیں۔ تین گھنٹوں تک ’’ساری زمین پر تاریکی چھائی رہی تھی‘‘ (متی27:45)۔ اُس کے مر چکنے کے چند لمحوں کے بعد، ایک شدید زلزلہ آیا تھا جس نے ہیکل کے بہت بڑے پردے کو ’’اوپر سے لیکر نیچے تک پھاڑ ڈالا تھا؛ اور زلزلے سے زمین لرز گئی تھی اور چٹانیں پھٹ گئی تھیں‘‘ (متی27:51)۔ زلزلے اور تاریکی نے ضرور اُن پر ایک شدید تاثر چھوڑا تھا، کیونکہ متی کہتا ہے،

’’تب اُس فوجی افسر نے اور اُس کے ساتھیوں نے جو یسوع کی نگہبانی کر رہے تھے زلزلہ اور سارا واقعہ دیکھا تو خوفزدہ ہو گئے اور کہنے لگے، یہ شخص یقیناً خدا کا بیٹا تھا‘‘ (متی 27:54).

آزاد خیال تبصرہ نگار ہمیں بتاتے ہیں کہ رومی افسر صرف یہ کہہ رہا تھا کہ یسوع اُس کے کافرانہ مذہب کے بے شمار خُداؤں میں سے ایک تھا۔ لیکن وہ اِس بات کا تزکرہ کرنے میں ناکام رہے کہ اُس رومی افسر نے کاہن سردار اور اُس کے ہم عمر گروہ کے لوگوں اور اُس کے ساتھ ساتھ ڈاکوؤں کو بھی کہتے ہوئے سُنا تھا،

’’اِس کا توکل خدا پر ہے۔ اگر خدا اِسے چاہتا ہے تو اب بھی اِسے بچا لے۔ کیونکہ اِس نے کہا تھا کہ میں خدا کا بیٹا ہُوں۔ اِسی طرح وہ ڈاکو بھی جو اُس کے ساتھ مصلوب ہُوئے تھے، اُسے بُرا بھلا کہتے تھے‘‘ (متی 27:43۔44).

لہٰذا، اُس رومی افسر اور اُس کے لوگوں نے سردار کاہن اور یہودی چوروں یا ڈاکوؤں کو بار بار کہتے ہوئے سُنا تھا، ’’اُس نے کہا تھا، میں خُدا کا بیٹا ہوں‘‘ (متی27:43)۔ اُس رومی افسر اور اُس کے لوگوں کے پاس اِس بارے میں سوچنے اور بحث کرنے کے لیے سارا دِن تھا کہ اُن یہودیوں کا ’’خُدا کا بیٹا‘‘ کہنے کا مطلب کیا تھا۔ درحقیقت، گذشتہ سارا ہفتہ یروشلم میں رہ چکنے کے بعد، اُنہوں نے بِلا شک و شُبہ اُس اصطلاح ’’خُدا کا بیٹا‘‘ کو کم از کم کئی دِنوں تک بار بار باتوں میں سُنا تھا۔ ڈاکٹر لینسکی Dr. Lenski نے بخوبی کہا،

عقلیت پسند اور جدید سوچ سے تعلق رکھنے والے بائبل کے تاویلی تنقید نگار رومی افسر کے اعتراف کو یسوع کے الہوہی ہونے کی سچائی کی حیثیت سے نہیں مانتے، کیونکہ عقلیت پسندی اور جِدّت پسندی اِس الہوہیت سے انکاری کرتی ہیں۔ [اُن کے] تمام [دلائل] اِس طرح شدت سے حاکمانہ یا اصولی و عقیدیاتی ہو جاتے ہیں… [دورِ حاضرہ کے لوگ کہتے ہیں کہ رومی افسر کا] جواب پھر کافرانہ روایتی قصے کہانیوں سے اخذ کیا گیا ہے۔ کیا انجیل نویسوں کو اِس رومی افسر کے اعتراف کا علم تھا اور اِس کے باوجود بھی اُنہوں نے اِس کا اندراج کیا جب کہ سچے ایمانداروں کے لیے اِس کا واقعی میں کوئی معنی ہی نہیں تھا؟… یقیناً، انجیل نویسوں نے اپنے پڑھنے والوں کے ساتھ چالبازی نہیں کی تھی (آر۔ سی۔ ایچ۔ لینسکی، ڈی۔ڈی۔ R. C. H. Lenski, D.D.، مقدس مرقس کی انجیل کی تفسیر The Interpretation of St. Mark’s Gospel، اوگسبرگ اشاعت گھر Augsburg Publishing House، 1946، صفحات726۔727؛ مرقس15:39 پر غور طلب بات)۔

جس طریقے سے یسوع مرا اُس کے بارے میں کوئی اور بات بھی تھی جس نے رومی افسر کو قائل کر دیا تھا کہ اُس [یسوع] کے دشمن غلطی پر تھے – اور کہ وہ واقعی میں ’’خُدا کا بیٹا‘‘ تھا۔ مرقس15:37 اور 39 آیت کو انتہائی غور سے سُنیں،

’’اور یسوع نے بڑے زور سے چلا کر جان دے دی‘‘ (متی 15:37).

’’رومی فوج کا ایک افسر جو یسوع کے سامنے کھڑا تھا، یہ دیکھ کر کہ یسوع نے کس طرح جان دی ہے، پُکار اُٹھا، یہ شخص درحقیقت خدا کا بیٹا تھا‘‘ (مرقس 15:39).

یسوع نے اپنے مرنے سے بالکل پہلے ’’بُلند آواز میں پُکارا تھا۔‘‘ ’’اور جب رومی افسر نے… دیکھا کہ وہ اِس طرح پکار اُٹھا تھا [ایک بُلند آواز میں] اُس نے کہا، یہ شخص درحقیقت خُدا کا بیٹا تھا‘‘ (مرقس15:39)۔ کیوں یسوع کی ’’بُلند پکار‘‘ نے رومی افسر کو یہ کہنے پر مجبور کیا تھا، ’’یہ شخص درحقیقت خُدا کا بیٹا تھا‘‘؟ ڈاکٹر گیبلیئین کے تبصرے کو سُنیں،

یسوع کی بُلند پکار غیرمعمولی ہے کیونکہ مصلوبیت کے شکار لوگوں کے پاس عام طور پر کوئی طاقت بچتی ہی نہیں ہے، خصوصاً موت کے بالکل قریب۔ لیکن یسوع کی موت کوئی عام موت نہیں تھی، نا ہی اُس کی وہ پکار ایک مرتے ہوئے شخص کی آخری ہچکی تھی۔ وہ فتح کی ایک بُلند پکار تھی… (گیبلیئین Gaebelein، ibid.، صفحہ 783؛ مرقس15:37 پر غور طلب بات)۔

اُس رومی افسر نے یہ سب کچھ دیکھا تھا۔ مصلوبیت کے شروع میں وہ ایک بے اعتقادہ تھا۔ لیکن اُس نے یسوع کو اُس کے لیے دعا مانگتے ہوئے سُنا تھا،

’’اَے باپ، اِنہیں معاف کر کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کر رہے ہیں‘‘ (لوقا 23:34).

اُس نے زمین کے چہرے پر تاریکی کو پھیلتے ہوئے دیکھا تھا۔ اُس نے زلزلے کو دیکھا تھا۔ وہ ’’شدید خوفزدہ ہو گیا تھا‘‘ (متی27:54)۔ اور اب اُس نے یسوع کو مرتے ہوئے دیکھا ایسے اُس نے کبھی بھی کسی دوسرے مصلوب ہونے والے شخص کو مرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا! باقی تمام دوسرے اِس قدر کمزور ہو جاتے تھے کہ وہ سانس بھی نہیں لے پاتے تھے – اور خاموشی میں مر جاتے تھے۔ لیکن یسوع ’’بُلند آواز کے ساتھ پُکارا تھا‘‘! اُس کے پاس ایسا کرنے کے لیے قوت کہاں سے آئی تھی؟ یہ رومی افسر بے شمار مصلوبیتوں کو دیکھ چکا تھا۔ لیکن کوئی بھی دوسرا شخص ’’فتح کی بُلند پکار‘‘ کے ساتھ نہیں مرا تھا۔ وہ رومی افسر قائل ہو چکا تھا۔ مسیح کے دُشمن غلطی پر تھے! وہ خود غلطی پر تھا! صلیب پر یسوع کے مُردہ بدن کی جانب اوپر دیکھتے ہوئے اُس نے کہا،

’’یہ شخص درحقیقت خدا کا بیٹا تھا‘‘ (مرقس 15:39).

کیا وہ رومی افسر مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو گیا تھا؟ میرے خیال میں ہوا تھا اور وجہ یہ ہے – وہ ایک بے اعتقادہ رہا تھا – لیکن اب وہ کہتا ہے، ’’یہ شخص درحقیقت خُدا کا بیٹا ہے‘‘ (مرقس15:39)۔ یہ یقینی طور پر اتنا ہی اچھا ہے جتنا کہ پطرس کا اعتراف! یسوع نے پطرس سے پوچھا تھا ’’تو مجھے کیا کہتا ہے؟‘‘ (متی16:15)۔ پطرس نے جواب دیا، ’’زندہ خُدا کا بیٹا‘‘ (متی16:16)۔ یسوع نے کہا،

’’یہ بات کسی اِنسان نے نہیں بلکہ میرے آسمانی باپ نے تجھ پر ظاہر کی ہے‘‘ (متی 16:17).

اُس رومی افسر کا یقینی طور پر اتنا ہی ایمان تھا جتنا کہ پطرس کا تھا! اگر یسوع کے بارے میں پطرس کی گواہی کہ یسوع ’’زندہ خُدا کا بیٹا ہے‘‘ باپ کی جانب سے بصیرت تھی تو اُس رومی افسر کی گواہی کو بھی اُسی منبع سے ہونا چاہیے!

’’یہ بات کسی اِنسان نے نہیں بلکہ میرے آسمانی باپ نے تجھ پر ظاہر کی ہے‘‘ (متی 16:17).

اور پطرس کے اعتراف کرنے کے مقابلے میں اُس رومی افسر نے یسوع میں اپنے ایمان کا ایک بہترین اعتراف کیا تھا! پطرس نے یسوع کو چھوڑ دیا تھا اور بھاگ گیا تھا۔ وہ رومی افسر مسیح کے دشمنوں کے مکمل سامنے رہا تھا – اور بے خوفی کے ساتھ گواہی دی تھی،

’’یہ شخص درحقیقت خدا کا بیٹا تھا‘‘ (مرقس 15:39).

لیکن اُس رومی افسر نے کوئی اور بات بھی برابر اہمیت کی کہی تھی۔ لوقا ہمیں بتاتا ہے کہ اُس نے یہ بھی کہا تھا،

’’یہ آدمی واقعی راستباز تھا‘‘ (لوقا 23:47).

یہ شاید اِتنا اہم نظر نہ آئے، لیکن یہ اہم ہے۔ ڈاکٹر لینسکی ہمیں بتاتے ہیں کہ اُس نے دونوں باتیں کہی تھیں: ’’یہ شخص خُدا کا بیٹا ہے؛ یہ آدمی واقعی راستباز تھا۔‘‘ یہ وہی بات تھی جو مرتے ہوئے ڈاکو نے کہی تھی، جب وہ یسوع کے قریب صلیب پر اُس پر ایمان لا کر تبدیل ہوا تھا،

’’اِس نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے‘‘ (لوقا 23:41).

اُس رومی افسر نے یسوع میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے ڈاکو کو کہتے ہوئے سُنا تھا۔ اُس نے اِس سے پہلے یقین نہیں کیا تھا۔ اُس نے اِس سے پہلے مسیح کا مذاق اُڑایا تھا – بالکل جیسے ڈاکو نے اُڑایا تھا! (لوقا23:36؛ مرقس27:44)۔ لیکن اب، مسیح میں ایمان لانے کی اپنی تبدیلیوں میں، وہ ڈاکو اور وہ رومی افسر متفق تھے،

’’اِس نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔‘‘

’’یہ آدمی واقعی راستباز تھا۔‘‘

الٰہی بصیرت کے ذریعے سے، دونوں اُس ڈاکو اور اُس رومی افسر نے دیکھا کہ مسیح قصوروار نہیں تھا۔ اِس سے بڑھ کر – اُنہوں نے اُس کی بابرکت راستبازی کو دیکھا! کیا وہ اور زیادہ جانتے تھے؟ کلام پاک خاموش ہے۔ لیکن یہ کہنے کے لیے اُن کا اتنا جاننا ہی کافی تھا کہ یسوع بے گناہ تھا، اُن نام نہاد کہلائے جانے والے ’’جرائم‘‘ سے بے خطا تھا جن کی وجہ سے اُس کے دشمنوں نے اُسے مصلوب کیا تھا۔ اُس کو ’’خُداوند‘‘ کہنے کے لیے ڈاکو کا اِتنا جاننا ہی کافی تھا۔ اُس رومی افسر کا یہ کہنے کے لیے اِتنا جاننا ہی کافی تھا،

’’یہ شخص درحقیقت خدا کا بیٹا تھا۔‘‘

ہم یقین کرتے ہیں کہ وہ ڈاکو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو گیا تھا۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ ہمیں بھی اُس رومی افسر کے بارے میں اِس ہی طرح سے سوچنا چاہیے۔

میں روایت میں اِس قدر اہمیت نہیں دیتا، کیونکہ یہ شاید توہم پرستی سے داغدار ہو۔ اور اِس کے باوجود میں اِس واعظ کو اُس کو یہ بتائے بغیر بھی ختم نہیں کر سکتا کہ ایک انتہائی قدیم روایت کہتی ہے یہ شخص مسیحی ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر لینسکی نے کہا،

اِس غیر یہودی نے، روایت میں لانگینس Longinus کہا، جو مُردہ نجات دہندہ کی صلیب تلے ایمان سے ملتا ہے۔ اُس کا اعتراف نہایت مضبوط ہے اپنی ’’سچائی‘‘αληθως [alaythos] کی وجہ سے۔ اِس فعل متعلق adverb کو یہودی بے اعتقادی اور تضحیک کے خلاف قائم کیا گیا ہے۔ [وہ] چاہے جو بھی کہیں، اُس رومی افسر نے یسوع کے خُدا کا بیٹا ہونے کی الٰہی سچائی کو دیکھا ہے (لینسکیLenski، ibid.، متی27:54 پر غور طلب بات)۔

کچھ لوگ ایک کاتھولک روایت کی نشاندہی کرنے پر شاید تنقید کریں۔ پھر بھی یہ بات کاتھولک اِزم سے کئی پرانی دکھائی دیتی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ روایت سچی ہے یا جھوٹی ہے۔ یہ ممکنہ طور پر سچائی میں جڑیں نکالتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، کیونکہ انجیل نویسوں نے اِس رومی افسر کے بارے میں کافی کچھ کہا اور مجھے شک ہے کہ وہ اُس وقت تک نہ کہہ پاتے جب تک کہ وہ اُس کو بعد میں ایک مسیح کی حیثیت سے نہ جانتے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اُس رومی افسر کا مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونا ایک پروٹسٹنٹ کی مانند ہے۔ اِس میں کہیں بھی کوئی کاتھولک اِزم نہیں ہے – کوئی بپٹسٹ اِزم نہیں ہے، کوئی کفارہ نہیں، کوئی ساکرامنٹس نہیں ہیں۔ محض یسوع میں ایمان ہے! اور اِس ہی طرح سے مسیح ہر اُس شخص کو نجات دیتا ہے جو اُس کے پاس آتا ہے! آپ روایت کے بارے میں چاہے کچھ بھی سوچیں، اِس شخص کی مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی بالکل اُسی طرح کی تھی جیسی ایک پروٹسٹنٹ یا ایک بپٹسٹ کی تھی! اِس کے بارے میں کہیں بھی کچھ بھی کاتھولک نہیں ہے!

اب اِس سب کچھ سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ میرے خیال میں کلام پاک سبق کو سادہ کر دیتا ہے – دو لوگ، ایمان لانے والا ڈاکو اور اعتراف کرنے والا رومی افسر، صلیب پر مسیح کا مذاق اُڑانے سے شروع ہوتے ہیں، جیسا کہ باقی کے تمام ہجوم نے کیا تھا۔ لیکن یسوع کو مرتا ہوا دیکھ چکنے کے بعد، یہی دونوں آدمی، وہ ڈاکو اور وہ رومی افسر، یسوع میں ایمان لائے۔ لیکن دو دوسرے آدمی، وہ سردار کاہن اور وہ بے اعتقادہ ڈاکو، اُنہوں نے بھی اِنہی واقعات کو دیکھا اور بے اعتقادے ہی رہے۔ وہ، میرے خیال میں، وہ سبق ہے جو خُداوند چاہتا ہے کہ ہم کلام پاک میں سے سیکھیں۔ اُن دونوں ڈاکوؤں نے ایک ہی بات کو دیکھا – لیکن ایک مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو گیا جبکہ دوسرا نہیں ہوا۔ دو آدمی ایک ہی بات کو دیکھ پائے، لیکن سردار کاہن بے اعتقادہ ہی رہا جبکہ وہ رومی افسر ایمان لایا۔ دو لوگ ایک ہی خوشخبری کو سُن سکتے ہیں – اور ایک مسیح میں ایمان لا سکتا ہے جبکہ دوسرا بے اعتقادی ہی میں رہتا ہے۔

آپ کتنی مرتبہ انجیل کو پڑھ چکے ہیں؟ آپ کتنی مرتبہ انجیل کی تبلیغ کو سُن چکے ہیں؟ دوسرے یسوع کے پاس آ چکے ہیں اور نجات پا چکے ہیں۔ یہ کیسے ہے کہ آپ گمراہ رہتے ہیں؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ یسوع کے پاس نہ آئیں اور نجات نہ پائیں؟ آپ اور کتنا زیادہ انتظار کریں گے؟ یسوع آپ سے کہتا ہے،

’’اَے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو، میرے پاس آؤ، اور میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:28).

یسوع آپ کی جگہ پر قربان ہو گیا، آپ کے گناہوں کا مکمل کفارہ ادا کرنے کے لیے۔ وہ آپ کو زندگی بخشنے کے لیے مُردوں میں سے زندہ ہوا۔ آپ کیوں نہیں یسوع کے پاس آتے؟ آپ کیوں انتظار کرتے ہیں؟ کیوں نہ خُدا کے بیٹے کے پاس آیا جائے؟

یسوع نے ڈاکو سے اِتنی محبت کی کہ موت کے انتہائی دروازے پر اُس کو نجات دلائی۔ یسوع اُس رومی افسر سے اِتنی محبت کرتا ہے کہ اُس کو ایمان بخشتا ہے، حالانکہ اِسی شخص نے یسوع کی مصلوبیت کی نگرانی کی تھی اور اُس کو انجام دیا تھا، اور اُس ملعون صلیب پر اُس یسوع کے ہاتھوں اور پیروں میں کیل ٹھونکنے کا حکم جاری کیا تھا! اور، میرے پیارے دوست، یسوع آپ کو معاف کرنے اور آج کی رات آپ کی جان کو نجات دلانے کے لیے اتنی ہی محبت کرتا ہے – چاہے آپ سے کوئی بھی گناہ سرزد ہوئے ہوں – چاہے آپ کتنی ہی دیر اُس سے دور رہے ہوں۔ اُس کے پاس آئیں جو آپ سے محبت کرتا ہے، اور وہ آپ کے گناہوں کو اپنے قیمتی خون میں دھو ڈالے گا!

میں نے ایک شخص کو صلیب پر لٹکے ہوئےدیکھا
   اذیت اور خون میں تر؛
اُس نے اپنی ناتواں [درد سے بھری] آنکھیں مجھ پر ٹکائی ہوئی تھیں
   جب میں اُس کی صلیب کے قریب کھڑا تھا۔

ایک دوسری نظر اُس نے ڈالی، جس نے کہا،
   ’’میں نے سب کو مرضی سے معاف کیا:
یہ خون تیرے فدیے میں ادا کیا تھا؛
   میں مرا تاکہ تو زندہ رہ پائے۔‘‘
(’’وہ میرے لیے مرا تھا He Died For Me‘‘ شاعر جان نیوٹن John Newton، 1725۔ 1807
      O Set Ye Open Unto Me کی طرز پر)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔