Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


خدا آپ کو دہ یکی دینے کا حکم دیتا ہے

GOD COMMANDS YOU TO TITHE
(Urdu)

ڈاکٹر کرسٹوفر ایل کیگن کی جانب سے ایک سبق
لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں پیش کیا گیا
خداوند کے دِن کی دوپہر، 4 مارچ، 2018
A lesson by Dr. Christopher L. Cagan
given at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Afternoon, March 4, 2018

’’زمین سے پیدا ہونے والی ہر چیز کی دہ یکی خواہ وہ زمین سے اناج کی یا درختوں سے پھلوں کی پیداوار ہو، خداوند کی ہے اور وہ خداوند کے لیے پاک ہے۔ گلّے اور ریوڑ کی دہ یکی یعنی ہر دسواں جانور جو چرواہے کی لاٹھی کے نیچے سے گزرتا ہے خداوند کے لیے پاک ہو گا‘‘ (احبار27: 30، 32)۔

خدا نے اسرائیل کو بتایا کہ ان کی زمین میں اگنے والی فصلوں اور پھلوں کا دسواں حصہ اسی کا ہے۔ خدا نے کہا کہ جانوروں کے ریوڑ اور ریوڑ کا دسواں حصہ اسی کا ہے۔ ’’دسواں حصہ خداوند کا ہے‘‘ (احبار27: 30)۔ خُدا نے اُنہیں حکم دیا کہ وہ اپنا دسواں حصہ اُس کو دیں۔ آج میں دہ یکی کے بارے میں چند نکات سامنے لانا چاہتا ہوں۔

I۔ پہلی بات، دہ یکی کیا ہے۔

دسواں حصہ دہ یکی ہوتا ہے۔ ہماری تلاوت اِس بات کو واضح کرتی ہے،

’’اور گلّے اور ریوڑ کی دہ یکی یعنی ہر دسواں جانور جو چرواہے کی لاٹھی کے نیچے سے گزرتا ہے [اِس سے تعلق رکھتے ہوئے] خداوند کے لیے پاک ہو گا‘‘ (احبار27: 30، 32)۔

خدا نے اسی آیت میں لفظ ’’دہ یکی‘‘ اور لفظ ’’دسواں‘‘ دیا ہے۔ دونوں الفاظ ایک ہی چیز کی بات کرتے ہیں۔ دہ یکی دسواں حصہ ہے۔

یہ بات خود ان الفاظ سے واضح ہے۔ لفظ ’’دہ یکی‘‘ کا تعلق لفظ ’’دس‘‘ سے ہے۔ اگر آپ کسی چیز کو چار حصوں میں تقسیم کرتے ہیں تو ہر حصہ پورے کا چوتھا حصہ ہوتا ہے۔ اگر آپ اسے پانچ حصوں میں تقسیم کرتے ہیں، تو ہر حصہ پورے کا پانچواں حصہ ہے۔ اگر آپ اسے دس حصوں میں تقسیم کرتے ہیں، تو ہر حصہ پورے کا دسواں حصہ ہے – دسواں حصہ۔ یہ نہ صرف انگریزی میں سچ ہے۔ یہ دوسری زبانوں میں بھی سچ ہے۔ ’’دہ یکی‘‘ کے لیے ہسپانوی لفظ ’’ڈیزموdiezmo‘‘ ہے، جو لفظ ’’ڈیزdiez‘‘ سے آیا ہے، جس کا مطلب ہے ’’دس‘‘۔ ’’دہ یکی‘‘ کا فرانسیسی لفظ ’’ڈائمdime‘‘ ہے جو لفظ ڈکسdix‘‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے ’’دس‘‘۔ ہمارا ’’ڈائمdime‘‘ اسی لفظ سے آتا ہے۔ دس ڈائمِز ایک ڈالر بناتے ہیں۔ ایک ڈائم ایک ڈالر کا دسواں – دسواں حصہ ہے۔ دہ یکی دسواں حصہ ہے۔ آپ کی آمدنی کا دسواں حصہ آپ کی آمدنی کا دسواں حصہ ہے۔ دسواں حصہ خدا کا ہے۔

II۔ دوسری بات، پرانے عہدنامے میں دہ یکی۔

موسیٰ کی شریعت کے دیے جانے سے پہلے، جو لوگ اسرائیل کے خدا پر بھروسہ کرتے تھے وہ دسواں حصہ ادا کرتے تھے۔ ابراہام سالم کے بادشاہ ملِک صدق کے پاس گیا، ’’اعلیٰ ترین خدا کا کاہن‘‘ (پیدائش14: 18)۔ اور ابراہام نے ’’اسے سب کا دسواں حصہ دیا‘‘ (پیدائش14: 20)۔

موسیٰ کے زمانے میں، خدا نے اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ اپنی دہ یکی اسے دیں۔ ’’دہ یکی خداوند کی ہے۔‘‘ انہوں نے ایسا کیسے کیا؟ ابراہام اپنی دہ یکی ملِک صدق کے پاس لایا، جو کہ ”اعلیٰ ترین خدا کا کاہن“ ہے۔ بنی اسرائیل اپنی دہ یکی لاویوں کے پاس لائے، وہ لوگ جنہیں خدا نے خیمہ گاہ کا انچارج بننے کے لیے چنا تھا۔ خدا نے کہا،

’’لیکن اسرائیل کے بچوں کی دہ یکی جو وہ خداوند کے حضور پیش کرتے ہیں، میں نے لاویوں کی میراث قرار دیا ہے‘‘ (گنتی18: 24)۔

تب خداوند نے لاویوں کو دہ یکی دینے کے لیے کہا۔ اُس نے اُنہیں جو کچھ وہ حاصل کرتے ہیں اُس کا دسواں حصہ اُسے دینے کےلیے کہا۔ بائبل کہتی ہے،

’’جب تم بنی اسرائیل سے وہ دہ یکی لو جسے میں تمہیں میراث میں دیتا ہوں تب تم اُس دہ یکی کا دسواں حصہ خداوند کے حضور میں اُٹھانے کی قربانی کے طور پر گزراننا‘‘ (گنتی18: 26)۔

لاویوں کو بتایا گیا تھا کہ وہ دہ یکی جسے وہ لیتے ہں اُس کا دسواں حصہ پیش کریں – دہ یکی کا دسواں حصہ۔

دہ یکی کو دینے سے انکار کرنا ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ دہ یکی نہ دینا ’’خداوند کو ٹھگنا‘‘ کہلاتا ہے – خدا سے چوری کرنا۔ بائبل کہتی ہے،

’’کیا کوئی آدمی خدا کو ٹھگے گا؟ لیکن تم مجھے ٹھگتے ہو اور پوچھتے ہو کہ ہم کس بات میں تجھے ٹھگتے ہیں؟ دہ یکیوں اور ہدیوں میں؟‘‘ (ملاکی3: 8)۔

وہ گناہ لوگوں پر خدا کی لعنت لے کر آیا۔ بائبل کہتی ہے،

’’تمہیں لعنت کے ساتھ معلون کیا گیا ہے: کیونکہ تم نے مجھے ٹھگا ہے، یہاں تک کہ تمہاری پوری قوم معلون ہے‘‘ (ملاکی3: 9)۔

خدا کی برکات کو واپس پانے کی واحد راہ اُس کی فرمانبرداری کرنا اور دہ یکی ادا کرنا تھا۔ خداوند نے کہا،

’’وہ ساری دہ یکی ذخیرہ خانے میں لاؤ تاکہ میرے گھر میں خوراک ہو، اور اِس بات میں مجھے آزما کے دیکھو۔ خداوند خدا فرماتا ہے، اور دیکھو میں آسمان کے دریچوں کو کھول کر اِس قدر برکتیں برساؤں گا کہ تمہارے پاس رکھنے کو جگہ نہ رہے گی‘‘ (ملاکی 3: 10)۔

جن لوگوں نے دہ یکی دینے سے انکار کیا خداوند نے اُنہیں ملعون قرار دیا۔ اور اُس نے اُن کے لیے برکات کا وعدہ کیا جو اُس کے حضور میں دہ یکی پیش کرتے ہیں۔ میں خوشحالی کی علم الہٰیات کی تعلیم نہیں دے رہا ہوں۔ میں نے کبھی بھی نہیں کہا کہ آپ امیر ہو جائیں گے اگر دہ یکی ادا کریں گے۔ لیکن میں نے یہ ضرور کہا ہے کہ جو لوگ دہ یکی دیتے ہیں خداوند نے اُن کے ساتھ برکات دینے کا وعدہ کیا ہے۔

وہ اپنی دہ یکی کہاں سے لائے؟ موسیٰ کے زمانے میں، وہ اپنی دہ یکی خیمہ گاہ [عبادت گاہ] میں لائے، وہ جگہ جہاں خدا نے اپنے لوگوں کی عبادت اور قربانیوں کو قبول کیا۔ ملاکی کے زمانے میں، یروشلم میں خدا کا ذخیرہ خانہ ہیکل تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں لوگ اپنی دہ یکی لاتے تھے۔

III۔ تیسری بات، نئے عہد نامے میں دہ یکی

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ دہ یکی صرف پرانے عہدنامے کے لیے تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ آج مسیحیوں کو دہ یکی دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ لیکن وہ غلط ہیں۔ نئے عہدنامے میں، خود یسوع نے لوگوں کو دہ یکی دینے کے لیے کہا، مسیح نے فریسیوں سے کہا،

’’اے شریعت کے عالمو اور فریسیوں، اے ریاکارو! تم پر افسوس، کیونکہ تم پودینہ، سونف اور زیرہ کا دسواں حصہ تو خدا کے نام پر دیتے ہو لیکن شریعت کی زیادہ وزنی باتوں یعنی انصاف، رحمدلی اور ایمان کو فراموش کر بیٹھے ہو۔ تمہیں لازم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے‘‘ (متی23: 23)۔

مسیح نے کہا کہ فریسیوں نے ’’انصاف، رحمدلی اور ایمان‘‘ پر عمل نہیں کیا تھا۔ لیکن اُس نے اُن سے یہ بھی کہا کہ ’’دوسری [دہ یکی!] کو ادھورا نہ چھوڑیں۔‘‘ نیا عہد نامہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ’’دوسری کو ادھورا نہیں چھوڑنا‘‘ – دہ یکی ترک نہیں کرنی۔

ہم اپنی دہ یکی کہاں سے لائیں؟ کلیسیا کے زمانے میں خدا کا گھر مقامی گرجا گھر ہے۔ بائبل ’’خُدا کے گھر کے بارے میں بات کرتی ہے، جو زندہ خُدا کی کلیسیا ہے، سچائی کا ستون اور بنیاد ہے‘‘ (1 تیمتھیس3: 15)۔ افسیوں کی کتاب کلیسیا کو ایک گھر کے طور پر بیان کرتی ہے، ’’جو رسولوں اور نبیوں کی بنیاد پر تعمیر کی گئی ہے، یسوع مسیح خود اُس بنیاد کا اہم ترین پتھر ہے؛ اُسی میں یہ ساری عمارت باہم پیوست ہو کر خداوند کے لیے پاک مقدِس بنتی جا رہی ہے‘‘ (افسیوں2: 20، 21)۔ مقامی گرجہ گھر میں اپنی دہ یکی لے کر آئیں!

IV۔ چوتھی بات، کس کو دہ یکی دینی چاہیے؟

مسیح کے ہر شاگرد کو دہ یکی دینے کا حکم ہوا ہے – یہاں تک کہ اگر آپ ابھی تک مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں بھی ہوئے ہوں۔ رسولوں نے مسیح کی اپنے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے سے پہلے پیروی کی تھی۔ وہ نجات پائے جانے سے پہلے ہی مسیح کے شاگرد بن چکے تھے۔ بائبل اُن کے بارے میں کہتی ہے،

’’اِن بارہ کو یسوع نے روانہ کیا اور اُنہیں یہ کہتے ہوئے حکم دیا…. منادی کرو، منادی کرنا کہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔ بیماروں کو شفا دینا، کوڑھیوں کو کوڑھ سے پاک صاف کرنا، مُردوں کو زندہ کرنا، بدروحوں کو نکالنا‘‘ (متی10: 5۔8)۔

مسیح نے ان کے مسیح پر ایمان لا کے تبدیل ہونے سے پہلے منادی کرنے کے لیے انہیں باہر بھیجا – یہاں تک کہ غدار یہوداہ کو بھی۔ یہوداہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے یسوع نے شاگردوں سے کہا، ’’تم میں سے ایک شیطان ہے‘‘ (یوحنا6: 70)۔ اور ’’شیطان‘‘ یہوداہ انجیلی بشارت اور منادی کے لیے نکلا۔

آخرکار، کیا آپ کو نجات پانے سے پہلے گرجا گھر سے دور رہنا چاہیے؟ کیا آپ کو کہنا چاہئے، ’’میں گھر رہوں گا۔ میں تب تک انتظار کروں گا جب تک میں مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی نہیں کر لیتا، اور پھر میں گرجا گھر آؤں گا‘‘؟ ہرگز نہیں! فوراً گرجا گھر آئیں، اور آتے رہیں جب تک کہ آپ نجات نہ پا لیں۔ پھر آپ آئیں گے کیونکہ آپ نجات پا چکے ہیں۔ کیا آپ کو نجات پا لینے کے بعد تک لوگوں کو گرجا گھر میں مدعو کرنے سے انکار کر دینا چاہیے؟ ہرگز نہیں! کیا آپ کو دوبارہ جنم لینے اور گرجا گھر کا رکن بننے تک دہ یکی دینے کا انتظار کرنا چاہئے؟ ہرگز نہیں! ابھی ہی آپ ایک شاگرد بنیں، اس سے پہلے کہ آپ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو جائیں۔ گرجا گھر آئیں۔ انجیلی بشارت کریں۔ اور دہ یکی دیں!

کوئی کہتا ہے، ’’ہم زائرین سے کہتے ہیں کہ پیسے نہ دیں۔ سو میں نہیں دوں گا۔‘‘ ہاں، ہم زائرین سے کہتے ہیں کہ پیسے نہ دیں۔ ان میں سے کچھ سوچ سکتے ہیں کہ گرجا گھر صرف ان کے روپوؤں سے چلتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ مسیح اور کلیسیا کے بارے میں سوچیں، اس لیے ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ نہ دیں۔

جب آپ گرجا گھر میں آنا شروع کرتے ہیں، تو آپ تشریف لا رہے ہوتے ہیں۔ آپ ہمارے مہمان ہوتے ہیں۔ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ نذرانے کی پلیٹ میں کوئی رقم نہ ڈالیں۔ لیکن اگر آپ گرجا گھر کے بپتسمہ یافتہ رکن ہیں، یا اگر آپ بپتسمہ یافتہ رکن بننے کے لیے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، یا اگر آپ ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے سے شرکت کر رہے ہیں، تو دہ یکی ادا کریں! اپنی آمدنی کا دسواں حصہ گرجا گھر کو دیں۔ یہ کرنا صحیح کام ہے!

V۔ پانچویں بات، چاہے آپ دہ یکی ادا کریں [یہ] دکھائیں کہ آپ کا دِل کہاں پر ہے۔

آپ اپنے پیسوں سے کیا کرتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کا دل کہاں ہے۔ یہ اتنا ہی آسان ہے جتنا ہو سکتا ہے۔ کیا آپ کے دلکش الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ کا دل کہاں ہے؟ نہیں، آپ اپنے پیسے سے کیا کرتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کا دل کہاں ہے! یہ اتنا ہی آسان ہے۔ ایسا کس نے کہا؟ یسوع نے ایسا کہا! اس نے کہا،

’’جہاں تیرا مال [تیرا پیسہ] ہے، وہیں تیرا دِل بھی ہوگا‘‘ (متی6: 21)۔

آپ اپنے پیسوں سے کیا کرتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کا دل کہاں ہے۔ اگر آپ اپنے پیسے سے خدا کی اطاعت کرتے ہیں، تو یہ آپ کے دل کے بارے میں کچھ ظاہر کرتا ہے۔ اگر آپ اپنے پیسوں سے خدا کی نافرمانی کرتے ہیں تو یہ آپ کے دل کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ایک بار پھر، مسیح نے کہا،

’’تم خدا اور دولت [پیسہ] دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے‘‘ (متی6: 24)۔

جو کچھ آپ اپنے پیسوں سے کرتے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آیا آپ مسیح سے محبت کرتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ اگر پیسہ آپ کا خدا ہے، تو آپ حقیقی خدا کی خدمت نہیں کر سکتے۔

کوئی کہہ سکتا ہے، ’’پیسہ نجات نہیں خرید سکتا۔ اس لیے میں انتظار کروں گا جب تک کہ میں دہ یکی دینے سے پہلے نجات نہیں پا لیتا۔ دہ یکی دینا آپ کی نجات نہیں خرید سکتا۔ ہمارے گرجا گھر میں کسی نے نہیں کہا کہ ایسا ہو گا۔ لیکن کیا دہ یکی دینے سے انکار کرنے سے آپ کو نجات مل جائے گی؟ نہیں، یہ ایک رکاوٹ ہوگی۔ اگر آپ گرجا گھر آنے سے انکار کرتے ہیں، تو یہ آپ کو نجات پانے میں مدد نہیں کرے گا؛ یہ آپ کو نجات پانے سے دور رکھے گا۔ اگر آپ انجیلی بشارت کرنے سے انکار کرتے ہیں، تو یہ آپ کو نجات پانے میں مدد نہیں کرے گا۔ اور اگر آپ دہ یکی دینے سے انکار کرتے ہیں، تو وہ خود غرضانہ انکار آپ کو بچائے جانے سے روک سکتا ہے، کیونکہ یہ آپ کے دل میں خودغرضانہ انکار اور بغاوت کو ظاہر کرتا ہے۔

میرا ایک قول ہے: ’’پیسہ وہ زبان ہے جسے ہر کوئی سمجھتا ہے۔‘‘ ہر کوئی انگریزی نہیں سمجھتا۔ کچھ لوگ انگریزی نہیں بلکہ ہسپانوی بولتے ہیں۔ کچھ لوگ انگریزی نہیں بلکہ چینی بولتے ہیں۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ پیسہ کیا ہے۔

پیسہ اس بات کا امتحان ہے کہ آیا آپ خدا سے محبت کرتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ کچھ لوگ خوبصورت الفاظ کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ یسوع سے محبت کرتے ہیں۔ لیکن جب آپ ان سے دہ یکی مانگتے ہیں تو وہ بہانہ بناتے ہیں۔ یہ لوگ خدا سے بالکل محبت نہیں کرتے۔ وہ من پسند باتیں کرتے ہیں۔ لیکن جب آپ ان سے پیسے کی زبان میں بات کرتے ہیں – جسے ہر کوئی سمجھتا ہے – تو وہ بہانے بنا کر بھاگ جاتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قسم کے لوگ ہیں۔ یسوع نے کہا، ’’جہاں تمہارا خزانہ ہے، وہاں تمہارا دل بھی ہو گا۔‘‘ تمہارا دل کہاں ہے؟

VI۔ چھٹی بات، آپ کو دہ یکی کیسے دینی چاہیے؟

یہ آسان سی بات ہے. بائبل کہتی ہے، ’’تمام دہ یکی ذخیرہ خانے میں لے آؤ‘‘ (ملاکی3: 10)۔ ہر ہفتے، آپ کو ملنے والی رقم (آپ کی آمدنی) کا دسواں حصہ الگ کر دیں۔ اسے ذخیرہ خانے میں لے آئیں – گرجا گھر – اور جب ہم دی یکیاں لیں تو اسے ٹوکری میں ڈال دیں۔ اگر آپ کو ہر دو ہفتے یا مہینے میں ایک بار ادائیگی ملتی ہے، تو دہ یکی تقسیم کریں تاکہ آپ ہر ہفتے اتنی ہی رقم دے سکیں۔ اگر آپ طالب علم ہیں اور آپ کی آمدنی کم ہے، تو آپ جو کچھ حاصل کرتے ہیں اس کی دہ یکی دیں۔ اگر آپ کو ہفتے میں دس ڈالر ملتے ہیں، تو آپ کا دسواں حصہ ہفتے میں ایک ڈالر ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں، ’’میں مزید پیسے کمانے تک انتظار کروں گا۔‘‘ لیکن یسوع نے کہا، ’’جو چھوٹی میں بھی دیانت دار ہے وہ زیادہ میں بھی وفادار ہے‘‘ (لوقا16: 10)۔ اگر آپ نوجوان ہوتے ہیں اور دہ یکی دینے میں وفادار ہیں اور آپ کی آمدنی کم ہے، تو بعد میں جب آپ کے پاس نوکری ہوگی اور آپ زیادہ پیسہ کمائیں گے، تو آپ بھی وفادار رہیں گے۔ آپ اس کے عادی ہو جائیں گے۔

اور ایک اور بات ہے۔ دہ یکی بیشک نہ دیں، نذرانہ دیں! خُدا نے کہا کہ لوگوں نے اُسے ’’دہ یکی اور نذرانے میں لوٹا‘‘ (ملاکی3: 8)۔

نذرانہ کیا ہے؟ ہدیہ ایک خاص مقصد کے لیے دہ یکی سے بالا تر ایک تحفہ ہے، جیسے مشنز۔ ہمارے گرجا گھر میں، ہم مہینے میں ایک بار مشنز کے لیے ہدیہ لیتے ہیں۔ ہم دوسرے مقاصد کے لیے ہدیے لیتے ہیں۔ ہاں، دہ یکی سے شروع کریں۔ دہ یکی میں سے کبھی نہ چھینیں۔ لیکن پھر، دہ یکی بڑھ کر ہدیات دیں۔

آیا آپ خدا کی فرمانبرداری کرتے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کا دل کہاں ہے۔ آپ اپنے پیسوں سے کیا کرتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کا دل کہاں ہے۔ بائبل [پر ایمان رکھنے والا] ایک مسیحی اپنے مقامی گرجا گھر کو دہ یکی اور نذرانہ دیتا ہے۔ خدا آپ کو برکت دے جیسا کہ آپ کرتے ہیں۔ آمین۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب

خدا آپ کو دہ یکی دینے کا حکم دیتا ہے

GOD COMMANDS YOU TO TITHE

ڈاکٹر کرسٹوفر ایل کیگن وَلّوں
By Dr. Christopher L. Cagan

’’زمین سے پیدا ہونے والی ہر چیز کی دہ یکی خواہ وہ زمین سے اناج کی یا درختوں سے پھلوں کی پیداوار ہو، خداوند کی ہے اور وہ خداوند کے لیے پاک ہے۔ گلّے اور ریوڑ کی دہ یکی یعنی ہر دسواں جانور جو چرواہے کی لاٹھی کے نیچے سے گزرتا ہے خداوند کے لیے پاک ہو گا‘‘ (احبار27: 30، 32)۔

I۔   پہلی گل، دہ یکی کی اے، احبار27: 32 .

II۔  دوجی گل، پرانے عہدنامے وِچ دہ یکی، پیدائش14: 18، 20 ؛
گنتی18: 24، 26؛ ملاکی3: 8۔10 .

III۔ تیجی گل، نئے عہدنامے وِچ دہ یکی، متی23: 23؛ 1تیمتِھیس3: 15؛
افسیوں2: 20، 21 .

IV۔  چوتھی گل، کیہنوں دہ یکی دینی چائیدی اے؟ متی10: 5۔8؛ یوحنا6: 70 .

V۔   پانجویں گل، پاویں تُسی دہ یکی ادا کرو [ایہہ] وکھاؤ کہ تہاڈا دِل کیتھے اے، متی6: 21، 24۔

VI۔  چھٹی گل، تہانوں دہ یکی کیویں ادا کرنی چائیدی اے؟ ملاکی3: 10؛ لوقا16: 10؛ ملاکی3: 8 .