Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 42 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


گتسمنی کے دُکھ

THE SORROW OF GETHSEMANE
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتے کی شام، 18 مارچ، 2017
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, March 18, 2017

’’یسوع نے ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے دِنوں میں پُکار پُکار کر اور آنسو بہا بہا کر خُدا سے دعائیں اور اِلتجائیں کیں جو اُسے موت سے بچا سکتا تھا اور اُس کی خُدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی‘‘ (عبرانیوں5:7)۔

یسوع کے صلیب پرمرنے سے ایک رات پہلے وہ اپنے شاگردوں کو گتسمنی کے باغ کی تاریکی میں لے گیا تھا۔ آدھی رات کا وقت تھا، بہت دیر ہو چکی تھی۔ یسوع نے شاگردوں میں سے آٹھ کو باغ کے کنارے پر چھوڑا۔ وہ پطرس، یعقوب اور یوحنا کو مذید اندر گتسمنی میں لے گیا۔ وہ ’’بہت پریشان [شدید بے چین] اور انتہائی شدید بیقرار [انتشار انگیز]ہونے لگا‘‘ (مرقس14:33)۔ اُس نے اُن تین شاگردوں سے کہا، ’’غم کی [انتہائی دُکھ کی] شدت سے میری جان نکلی جا رہی [مرنے کے قریب] ہے‘‘ (مرقس14:34)۔ وہ چند قدم آگے تک گیا اور زمین پر گر گیا۔ اُس نے اذیت میں مبتلا ہو کر دعا مانگی کہ اگر ممکن ہو تو ’’وہ گھڑی اُس سے ٹل جائے‘‘ (مرقس14:35)۔ گتسمنی کے باغ میں دعا کا کُل وقت تقریباً ایک گھنٹے کے قریب تھا – کیونکہ یسوع نے اُن سے کہا تھا، جب اُس نے اُنہیں سوتے ہوئے پایا تھا، ’’کیا تم گھنٹہ بھر بھی میرے ساتھ بیدار نہ رہ سکے؟‘‘ (متی26:40)۔

یسوع کے ساتھ کچھ ہولناک ہوا تھا – آدھی رات کو گتسمنی کے باغ میں یسوع نے کہا، ’’غم کی شدت سے میری جان نکلی جا رہی ہے‘‘ (متی26:38)۔ یونانی لفظ ’’پیریلوپوسperilupos‘‘ کا مطلب ہوتا ہے ’’دُکھوں سے گھرے ہونا۔‘‘ وہ زبور نویس کے ساتھ کہہ سکتا تھا، ’’پاتال کی اذیت مجھ پر آ پڑی‘‘ (زبور116:3)۔ دُکھ کی لہریں اور ہوائیں اُس سے گزر گئیں۔ اُس کے اوپر سے، اُس کے نیچے سے، اُس کے اردگرد سے، اُس کے باہر سے، اور اُس کے باطن سے – سب کچھ غم تھا – یہاں تک کہ موت میں بھی – اسقدر دُکھ کہ وہ تقریبا اِس کی وجہ سے مارا ہی گیا تھا! درد سے کوئی فرار نہیں تھا! اِس کے مقابلے میں کوئی غم بدتر نہیں رہا ہوگا! وہ اِس کی ہولناکی سے اِس قدر کُچلا گیا تھا کہ ’’اُس کا خون زمین پر بڑی بڑی بوندوں کی مانند ٹپک رہا تھا‘‘ (لوقا22:44)۔

یہ آدھی رات کا وقت ہے اور زیتون کی صلیب پر
   وہ ستارہ بھی مدھم پڑ چکا ہے جو بعد میں چمکتا تھا؛
اب باغ میں آدھی رات کا وقت ہو چکا ہے،
   مصائب زدہ نجات دہندہ تنہا دعا مانگتا ہے۔

یہ آدھی رات کا وقت ہے؛ اور سب سے جدا ہو کر،
   نجات دہندہ تنہا ہی خوف سے لڑتا ہے؛
یہاں تک کہ وہ شاگرد جن سے اُس نے محبت کی
   اپنے آقا کے دُکھ اور آنسوؤں پر توجہ نہیں دیتے۔
(’’یہ آدھی رات کا وقت ہے؛ اور زیتون کی صلیب پر ‘Tis Midnight; and on Olive’s Brow‘‘ شاعر ولیم بی۔ ٹیپان William B. Tappan، 1794۔1849)۔

بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ یسوع ’’ایک غمگین انسان تھا جو غم سے آشنا تھا‘‘ (اشعیا53:3)۔ لیکن وہ ہر وقت ادھر اُدھر مُنہ لٹکا کر اُداس غمگین چہرے کے ساتھ نہیں پھرتا تھا۔ وہ غم سے آشنا تھا۔ اُس کو دُکھ کا پتا تھا۔ لیکن زیادہ تر وقت یسوع ایک پُرامن اور خوشگوار شخص تھا۔ وہ اِس قدر زیادہ دعوتوں میں گیا تھا کہ فریسیوں نے شکایت کی تھی۔ اُنہوں نے کہا تھا، ’’وہ محصول لینے والوں اور گنہگاروں کے ساتھ کھاتا پیتا ہے‘‘ (متی11:19، وغیرہ وغیرہ)۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ حقیقی مسیحیوں کو زیادہ تر اوقات خوش رہنا چاہیے۔ کبھی کبھار ہم ذہنی دباؤ کے دورانیے سے گزرتے ہیں۔ لیکن ہم سکون کا تجربہ دوبارہ کر سکتے ہیں جب ہم یاد کریں کہ یسوع موت پر فتح پا کر مُردوں میں سے زندہ ہو گیا تھا!

لیکن گتسمنی کے باغ میں سب بدل چکا ہے۔ اُس کا امن جا چکا ہے۔ اُس کی خوشی کھلبلی والے غم میں بدل چکی ہے۔ ’’پیریلوپوسperilupos‘‘ – دُکھ سے گھرا ہوا؛ اِس سے کُچل کر ادھموا ہوا! یہ اُس غم کی تھوڑی سی تصویر ہے جس کا تجربہ گناہ کی سزایابی میں ہوتا ہے۔

یسوع نے اپنی ساری زندگی کے دوران شاید ہی غم یا ذہنی دباؤ کے بارے میں ایک بھی لفظ کہا ہو۔ لیکن اب، اُس باغ میں، سب کچھ بدل چکا ہے۔ وہ خُدا سے پکار کر کہتا ہے، ’’اگر ممکن ہو تو یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے‘‘ (متی26:39)۔ اُس نے پہلے کبھی بھی شکایت نہیں کی تھی۔ لیکن اب ’’وہ درد و کرب میں مبتلا ہو کر اور بھی دلسوزی کے ساتھ دعا کرنے لگا: اور اُس کا پسینہ خون کی بوندوں کی مانند زمین پر ٹپکنے لگا‘‘ (لوقا22:44)۔ کیوں؟ کیوں؟ یسوع، کیا بات تیرے دُکھوں کا سبب بنی ہے؟

ڈاکٹر جان گل Dr. John Gill نے کہا یہ اِس لیے تھا کیونکہ شیطان باغ میں آ گیا تھا۔ ہمارے دور میں میل گبیسن Mel Gibson نے اپنی فلم، ’’مسیح کی چاہت The Passion of Christ‘‘ میں شیطان کو ایک سانپ کی حیثیت سے باغ میں آتے ہوئے دکھایا ہے، کہ تاریکی میں یسوع کو اذیت پہنچائے۔ لیکن ڈاکٹر گِل اور میل گبیسن اِس موضوع پر غلط ہیں۔ شیطان گتسمنی کے باغ میں نہیں تھا۔ اُس میں سے کچھ بھی بائبل میں نہیں ہے۔ کُچھ لوگ لوقا22:53 کا حوالہ دیتے ہیں، جب یسوع نے اُن سپاہیوں سے باغ میں کہا تھا جو باغ میں اُسے گرفتار کرنے کے لیے آئے تھے، ’’یہ تمہارے اور تاریکی کے اختیار کا وقت ہے‘‘ (لوقا22:53)۔ وہ یہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ یہ شیطان کی جانب نشاندہی کرتا ہے۔ لیکن غور کریں کہ یہ بات یسوع نے اُن سپاہیوں سے کہی تھی جو اُس کو اُس کے گتسمنی میں دعا مانگنے اور خونی پسینہ بہانے کے بعد گرفتار کرنے کے لیے آئے تھے۔ باغ میں اپنی اذیت کے آخیر میں، اُس نے سپاہیوں سے کہا تھا، ’’یہ تمہارا وقت ہے [گتسمنی میں وقت نہیں]، اور تاریکی کے اِختیار کا وقت ہے۔‘‘ لہٰذا شیطان باغ میں مسیح کی اذیت کے بعد آیا تھا۔ یہوداہ، کچھ دِن قبل آسیب زدہ ہو چکا تھا (دراصل، شیطان زدہ ہو چکا تھا)۔ ہمیں لوقا22:3 میں بتایا گیا ہے، ’’تب شیطان یہوداہ میں سما گیا۔‘‘شیطان باغ میں مسیح کی ہولناک جدوجہد کے بعد داخل ہوا تھا، یہوداہ کو قبضے میں لیے ہوئے اور یسوع کے گرفتار کرنے کے لیے اور اُسکے ساتھ شرمناک سلوک کرنے کے لیے سپاہیوں کو لیتا ہوا آیا تھا۔

لہٰذا، ہم اب بھی تعجب ہی کر رہے ہیں کیوں یسوع اِسقدر اذیت میں مبتلا تھا کہ جب اُس نے مخلصی کے لیے دعا مانگی تو اُس نے خونی پسینہ بہایا۔ میں قائل ہوں کہ اِس کا جواب ہماری تلاوت میں پیش کیا گیا ہے۔ باغ میں، یسوع ’’نے یہ کہتے ہوئے دعا مانگی تھی ، اے میرے باپ، اگر ممکن ہو تو اِس پیالے کو مجھ سے ٹال دے‘‘ (متی26:39)۔ وہ ’’پیالہ‘‘ کیا تھا؟ اگر وہ اگلے دِن صلیب پر اُس کا دُکھ اُٹھانا تھا تو اُس کی دعا کا جواب نہیں ملا تھا۔ اگر وہ ’’پیالہ‘‘ اُس رات شیطان سے چُھٹکارے کا تھا، تو اُس کی دعا کا جواب نہیں ملا تھا، کیوںکہ آسیب زدہ لوگ اُسے مصلوب کرنے کے لیے کھینچ کر لے گئے تھے۔ عبرانیوں5:7 میں ہماری تلاوت جواب پیش کرتی ہے۔ مہربانی سے کھڑیں ہو جائیں اور اِس کو باآوازِ بُلند پڑھیں۔

’’یسوع نے ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے دِنوں میں پُکار پُکار کر اور آنسو بہا بہا کر خُدا سے دعائیں اور اِلتجائیں کیں جو اُسے موت سے بچا سکتا تھا اور اُس کی خُدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی‘‘ (عبرانیوں5:7)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ اب، وہ تلاوت ہمیں بتاتی ہے کہ یسوع نے یہ دعا ’’ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے دِنوں میں‘‘ مانگی تھی – یعنی کہ، ابھی جبکہ وہ زمین ہی پر زندگی بسر کر رہا تھا۔ اُس نے موت سے بچائے جانے کے لیے ’’پُکار پُکار کر اور آنسو بہا بہا کر‘‘ دعا مانگی تھی – اِس لیے یہ دعا اُس کے مصلوب کیے جانے سے پہلے مانگی گئی تھی۔ آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ اُس کی دعا سُنی گئی تھی، اور خُدا نے گتسمنی کے باغ میں اُسے موت سے بچا لیا تھا! ڈاکٹر جے۔ اُولیور بُسویل Dr. J. Oliver Buswell، جو ایک مشہور عالم الہٰیات ہیں، اُنہوں نے یہ کہا،

انتہائی شدید کثرت کے ساتھ پسینے کا اِخراج جیسا کہ لوقا نے بیان کیا [گتسمنی کے باغ میں] صدمے کی حالت کی وہ خصوصیت ہے جس میں دُکھ اُٹھانے والا بے ہوش ہونے اور یہاں تک کہ خطرناک حد تک مرنے کے قریب ہوتا ہے… ہمارے خداوند یسوع مسیح نے، خود کو اِس قدر شدید صدمے کی جسمانی حالت میں پا کر، باغ میں موت سے بچنے کے لیے مانگی تھی، اِس لیے تاکہ وہ صلیب پر اپنا مقصد تکمیل کو پورا کر پائے (جے۔ اُولیور بُسویل، پی ایچ۔ ڈی۔ J. Oliver Buswell, Ph.D.، مسیحی مذہب کا درجہ بہ درجہ علم الہٰیات Systematic Theology of the Christian Religion، ژونڈروان اشاعت گھر، 1971، حصہ سوئم، صفحہ 62)۔

ڈاکٹر جان آر۔ رائس نے بھی بالکل یہی بات کہی تھی،

یسوع غمگین اور رنجیدہ تھا اور اُس کی جان ’’موت کی حد تک غموں سے چور چور‘‘ تھی، یعنی کہ، وہ واقعی میں غم سے مر رہا تھا… یسوع نے دعا مانگی تھی کہ اُس رات موت کا وہ پیالہ اُس سے ٹل جائے تاکہ وہ اگلے دِن صلیب پر مرنے کے لیے زندہ رہ پائے (جان آر۔ رائس، ڈی۔ڈی۔ John R. Rice, D.D.، انجیل بمطابق متی The Gospel According to Mathew، خُداوند کی تلوار Sword of the Lord، 1980، صفحہ 441)۔

ڈاکٹر بُسویل نے کہا،

یہ تاویل عبرانیوں5:7 سے ہم آھنگ ہوتی ہے، اور یہ مجھے وہ واحد تاویل دکھائی دیتی ہے جو کہ یوں ہی موافق ہو گی (ibid.)۔

ڈاکٹر رائس نے کہا،

یہ عبرانیوں5:7 میں واضح کیا گیا ہے جہاں پر ہمیں بتایا گیا ہے کہ یسوع نے ’’پُکار پُکار کر اور آنسو بہا بہا کر خُدا سے دعائیں اور اِلتجائیں کیں جو اُسے موت سے بچا سکتا تھا اور اُس کی خُدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی۔‘‘ گتسمنی کے باغ میں مرنے کے قریب، یسوع نے دعا مانگی کہ موت کا پیالہ اُس رات اُس سے ٹل جائے تاکہ اگلے دِن صلیب پر مرنے تک کے لیے وہ زندہ رہ پائے۔ کلام پاک کہتا ہے کہ ’’اُس کی سُنی گئی تھی‘‘! خُدا نے اُس کی دعا کا جواب دیا تھا (ibid.)۔

’’یسوع نے ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے دِنوں میں پُکار پُکار کر اور آنسو بہا بہا کر خُدا سے دعائیں اور اِلتجائیں کیں جو اُسے موت سے بچا سکتا تھا اور اُس کی خُدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی‘‘ (عبرانیوں5:7)۔

خُدا کے تکلیف زدہ بیٹے کو دیکھو،
   ہانپتا، کراہتا، خون پسینے کی مانند بہاتا ہوا!
الٰہی پیار کی لا محدود گہرائیاں!
   یسوع، تیرا پیار کیسا تھا!
(’’تیرے انجانے مصائب Thine Unknown Sufferings‘‘ شاعر جوزف ہارٹJoseph Hart، 1712۔1768)۔

لیکن ہمیں اب بھی وضاحت کرنی ہے کیوں یسوع نے اُس رات اِس قدر زیادہ تکلیف برداشت کی تھی۔ یہ ہے جو میں یقین کرتا ہوں یسوع کے ساتھ اُس باغ میں رونما ہوا تھا۔ میں یقین کرتا ہوں کہ یہ وہیں ہوا تھا کہ

’’خُداوند نے … ہم سب کی بدکاری اُس پر لاد دی تھی‘‘ (اشعیا53:6)۔

’’یقیناً اُس نے ہماری بیماریاں برداشت کیں، اور ہمارے غم اُٹھا لیے‘‘ (اشعیا53:4)۔

لیکن اُس نے کب اُنہیں اُٹھایا؟ اُس نے اُنہیں گتسمنی میں اُٹھایا، اور اگلی صبح اُنہیں صلیب تک اُٹھا کر لے گیا۔

’’وہ خود اپنے ہی بدن پر ہمارے گناہوں کا بوجھ لئے ہوئے صلیب پر چڑھ گیا‘‘ (1پطرس 2:24)۔

لیکن گتسمنی کے باغ میں، ایک رات پہلے ہمارے گناہ ’’خود اُس کے اپنے بدن پر‘‘ لاد دیے گئے تھے۔ اُس نے ہمارے گناہوں کو گتسمنی سے صلیب تک اُٹھایا تھا! اُس نے خُدا کے قہر کی تشفی کی تھی۔ اُس نے اِس کو [قہر کو] جذب کر لیا تھا۔

وہ تنہائی تھی جہاں نجات دہندہ نے دعا کی تاریک گتسمنی میں؛
   تنہا ہی اُس نے وہ کڑوا پیالہ پی کر خالی کیا، اور وہاں پر میرے لیے دُکھ اُٹھایا؛
تنہا، تنہا، اُس نے تنہا یہ سب کچھ برداشت کیا؛
   اُس نے خود کو پیش کردیا اپنوں کو بچانے کے لیے؛
اُس نے دُکھ اُٹھائے، خون بہایا، اور مرگیا، تنہا، تنہا۔
   (’’تنہا Alone‘‘ شاعر بعن ایچ۔ پرائس Ben H. Price، 1914)۔

عظیم ڈاکٹر جان گِل (1697۔1771) نے بجا طور پر کہا،

اب وہ مجروح ہو چکا ہے، اور اپنے باپ کے ذریعے سے غم میں ڈالا جا چکا ہے: اُس کے دُکھ اب شروع ہوتے ہیں، کیونکہ اُن کا خاتمہ یہیں پر نہیں ہوتا ہے، بلکہ صلیب پر ہوتا ہے، … اور انتہائی شدید غمگین ہونے سے؛ اپنے لوگوں کے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ، اور الہٰی قہر کے احساس سے، جس کے ساتھ وہ اِس قدر زیادہ کُچلا جا چکا تھا اور ڈُوب چکا تھا، کہ اُس کی روح تقریبا پرواز ہی کر چکی تھی؛ وہ بے ہوشی، ڈوبنے اور مرنے کے لیے تیار تھا؛ اُس کے دِل نے اُس کو ناکام کیا تھا… اپنے لوگوں کے گناہوں کے ساتھ اُس کی جان ہراساں تھی؛ اِنہوں نے اُسے جکڑا ہوا تھا، اور اُسے گھیرے ہوئے تھے… موت اور جہنم کے دُکھوں نے اُسے ہر طرف سے گھیرا ہوا تھا، اِس قدر زیادہ کہ سکون کا کم سے کم درجہ بھی اُس کو مہیا نہیں ہوا تھا… کہ اُس کی جان غم سے لبریز ہو گئی تھی؛ اُس کا عظیم دِل ٹوٹنے کے لیے تیار تھا؛ اُسے اِس حد تک لایا گیا جیسے موت کی خاک میں ملا دیا گیا ہو؛ نا ہی اُس کے غم اُس کو چھوڑ پائے، جب تک کہ اُس کا جسم اور جان ایک دوسرے سے جُدا نہ ہو گئے (جان گِل، ڈی۔ ڈی۔ John Gill, D.D.، نئے عہد نامے کی ایک تفسیر An Exposition of the New Testament، دی بپٹسٹ سٹینڈرڈ بیئرر The Baptist Standard Bearer، جلد اوّل، صفحہ 334)۔

پس ہم سیکھتے ہیں یسوع نے ہمیں خُدا کے قہر سے، ہمارے گناہوں کی سزا سے، اور جہنم میں دائمی سزا سے بچانے کے لیے کیا کیا۔ اُس نے ہماری جگہ پر، ہمارے متبادل کی حیثیت سے دُکھ اُٹھائے۔ اُس کے متبادلیاتی مصائب، آپ کی جگہ پر، گتسمنی کے باغ ہی میں شروع ہو گئے تھے، جہاں پر اُس نے آپ کے دُکھوں کو قبول کیا اور اگلی صبح صلیب کے لیے اُنہیں اُٹھا کر لے گیا۔

میرے دوستوں، ہم ایسٹر سنڈے کی جانب بڑھ رہے ہیں، وہ دِن جب یسوع قبر میں سے جی اُٹھا تھا۔ لیکن مُردوں میں سے اُس کا جی اُٹھنا آپ کے لیے اُس وقت تک کوئی معنی نہیں رکھے گا جب تک آپ یہ احساس نہ کریں کہ اُس نے گتسمنی کے باغ میں اور صلیب پر آپ کو آپ کے گناہوں کی سزا سے بچانے کے لیے ہولناک دُکھ برداشت کیے۔ آپ کو یسوع کے لیے آپ کا متبادل بننے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ آپ کو اُس کے قدموں میں گرنا چاہیے اور اُس پر بھروسہ کرنا چاہیے!

جب میں حیرت انگیز صلیب کا جائزہ لیتا ہوں،
   جب جلال کا شہزادہ مرا تھا،
اپنا سب سے زیادہ منافع میں گنتا ہوں مگر نقصان میں ہوں،
   اور میرے تمام غرور پر حقارت اُنڈل جاتی ہے۔

اِسے روک دے، اے خداوند، کہ میں بڑائی ظاہر کروں،
   ماسوائے مسیح کی موت میں، میرے خداوند؛
وہ تمام بے مقصد باتیں جو مجھے سب سے زیادہ دلکش لگتی تھیں،
   میں اُن کو اُس کے خون کے لیے قربان کرتا ہوں۔

دیکھو، اُس کے سر، ہاتھوں، اور اُس کے پیروں سے،
   دُکھ اور محبت باہم مل کر نیچے بہتے ہیں:
کیا کبھی ایسے، محبت اور دُکھ ملے ہیں،
   یا کانٹوں نے اِس قدر اعلٰی تاج بنایا ہو؟

کیا قدرت کی تمام سلطنت میری ہے،
   وہ ایک اِس قدر چھوٹا سا تحفہ تھا؛
محبت اِس قدر حیرت انگیز، اِس قدر الہٰی،
   میری جان، میری زندگی، میرے سب کچھ کا تقاضہ کرتی ہے۔
(جب میں حیرت انگیز صلیب کا جائزہ لیتا ہوں When I Survey the Wondrous Cross‘‘ شاعر آئزک واٹز، ڈی۔ ڈی۔ Isaac Watts, D. D.، 1674۔1748)۔

یسوع پر آج ہی کی رات بھروسہ کریں اور اُس کے دُکھ اُٹھانے اور آپ کی جگہ – صلیب پر مرنے کی وجہ سے آپ کے گناہ کی ادائیگی ہو جائے گی۔ جس لمحے آپ اُس پر بھروسہ کریں گے اُسی لمحے میں اُس کا خون آپ کے گناہ دھو ڈالے گا!


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تنہا گیت گایا گیا:
’’’اِس شام زیتون کی صلیب پر Tis Midnight, and on Olive’s Brow‘‘ (شاعر ولیم بی۔ ٹیپان William B. Tappan، 1774۔1849)۔