Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

زمانوں کی علامتیں

SIGNS OF THE TIMES
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 27 دسمبر، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, December 27, 2015

’’ اے منافقوں، تُم آسمان کا رنگ دیکھ کر موسم کا اندازہ لگانا تو جانتے ہو لیکن زمانوں کی علامتیں نہیں پہچان سکتے‘‘ (متی 16:3).

مسیح کے زمانے میں فریسی اور صدوقی دو اہم مذھبی گروہ تھے۔ اُنہوں نے آسمان سے ایک خصوصی نشانی کا تقاضا کیا۔ مگر اُن پر پہلے ہی ایک کے بعد دوسرا نشان نازل ہو چکا تھا – جو ثابت کر رہا تھا کہ مسیح ہی اُن کا مسیحا تھا۔ اُس نے پانچ ہزار لوگوں کو کھانا کھلایا – معجزانہ طور سے پانچ روٹی کے ٹکڑوں اور دو مچھلیوں کو زیادہ کر دینے سے (متی14:15۔21)۔ وہ گلیل کی جھیل میں پانی پر چلا تھا (متی14:22۔33)۔ اُس نے لوگوں کی اُس بڑی تعداد کو شفا بخشی تھی جس نے اُس کو چھوا تھا (متی14:36)۔ اُس نے کعنانی کے بیٹی کو شفا بخشی تھی (متی15:21۔28)۔ اُس نے اندھی، بہری، اور زخمی لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو اور ’’دوسرے بے شمار لوگوں کو‘‘ شفا دی تھی (متی15:29۔31)۔ اُس نے ایک دوسرے معجزے کے ذریعے سے چار ہزار لوگوں کو کھانا کھِلایا تھا – سات روٹیوں اور ’’چند مچھلیوں‘‘ کو زیادہ کرنے کے ذریعے سے (متی15:32۔39)۔

اُن کو بارہا مرتبہ نشانیاں پیش کی جا چکی تھیں – جو اُنہیں پر ظاہر کر رہی تھیں کہ یسوع ہی اُن کا مسیحا تھا۔ مگر اب اُنہوں نے ایک بار پھر سے دوسری نشانی مانگی تھی۔ میتھیو ھنری Mathew Henry، جو ایک عظیم تبصرہ نگار ہیں، اُنہوں نے کہا کہ وہ ’’آسمان سے ایک نشانی‘‘ چاہتے تھے، اِس لیے نہیں کیونکہ وہ اُس [یسوع] میں یقین کرنا چاہتے تھے۔ وہ ’’آسمان سے‘‘ ایک نشانی چاہتے تھے تاکہ وہ ’’ہوا کی قوت کے شہزادے‘‘ شیطان سے اِس کو منسوب کر سکیں۔ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ یسوع شیطان کے لیے کام کر رہا تھا، خُدا کے لیے نہیں (میتھیو ھنری کا تمام بائبل پر تبصرہ Mathew Henry’s Commentary on the Whole Bible، ھینڈریکسن پبلیشرز Hendrickson Publishers، دوبارہ اشاعت1991، جلد پنجم، صفحہ182)۔

اور مسیح نے اُنہیں بتایا،

’’اِس زمانہ کے بدکار اور زِناکار لوگ نشان طلب کرتے ہیں لیکن اُنہیں یُوناہ نبی کے نشان کے سِوا کوئی اور نشان نہ دیا جائے گا …‘‘ (متی 16:4).

یوناہ نبی کا نشان، مسیح کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا تھا۔

’’کیونکہ جس طرح یُوناہ تین دِن اور تین رات مچھلی کے پیٹ [’’سمندری عفریت کے پیٹ‘‘] میں رہا اُسی طرح ابنِ آدم تین دِن اور تین رات زمین کے اندر رہے گا‘‘ (متی 12:40).

جس طرح یوناہ اُس سمندری عفریت کے پیٹ میں سے بچ نکلا تھا، ویسے ہی مسیح قبر میں سے جسمانی طور سے جی اُٹھے گا (حوالہ دیکھیں جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن پبلیشرز، 1983، جلد چہارم، صفحہ69؛ متی12:40 پر غور طلب بات)۔ مسیح کے مُردہ جسم کا جی اُٹھنا ہی وہ واحد علامت تھی جو اُس نے اُن کو پیش کی تھی۔

اب ہم خود تلاوت کے الفاظ پر آتے ہیں،

’’اے منافقوں، تُم آسمان کا رنگ دیکھ کر موسم کا اندازہ لگانا تو جانتے ہو لیکن زمانوں کی علامتیں نہیں پہچان سکتے‘‘ (متی 16:3).

وہ آسمان پر نظر ڈالنے سے ہی بتا سکتے تھے کہ کل موسم کیسا ہوگا۔ مگر وہ روحانی طور پر ضرورت سے زیادہ ہی اندھے ہو چکے تھے کہ اُن نشانیوں، اُن معجزات کو سمجھ پاتے جو مسیح نے اُن کے درمیان دکھائے۔

اور ایسا ہی آج بھی ہے۔ ہمارے اِردگرد نشانیاں ہیں جو اُس حقیقت کی جانب نشاندہی کر رہی ہیں کہ ہم اِس دُنیا کے جسے ہم جانتے ہیں انتہائی خاتمے کے قریب زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مسیح کی آمد ثانی اور دُنیا کا خاتمہ تیزی سے قریب آ رہے ہیں۔ خاتمہ قریب ہے۔ حیرت ناک طور پر، اِس موضوع پر ہمارے ہاں بہت ہی کم منادی ہوتی ہے – مشکل سے ہی کہیں ہوتی ہو! یہ بہت سالوں تک ایک مشہور موضوع رہا تھا۔ بلی گراہم Billy Graham نے اپنی مذہبی جنگوں میں سے ہر ایک کو اُن نشانیوں پر ایک واعظ کے ساتھ ختم کیا تھا۔

لیکن بہت کم مبلغین اب وہ کرتے ہیں۔ میں نے اُن سے وہی سوال پوچھا تھا جو یسوع نے پوچھا تھا،

’’کیا تُم زمانوں کی علامتیں نہیں پہچان سکتے؟ ‘‘ (متی 16:3).

تم زمانوں کی علامتیں کیوں نہیں دیکھ سکتے؟ وہ کیا بات ہے جو تمہیں یہ دیکھنے سے دور رکھتی ہے کہ ہماری دُنیا کا خاتمہ انتہائی قریب ہے؟ ہر نشانی اُس حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ وقت گزر چکا ہے۔ تمام نسل انسانی کے لیے خاتمہ قریب ہے۔

’’کیا تُم زمانوں کی علامتیں نہیں پہچان سکتے؟ ‘‘ (متی 16:3).

I۔ پہلی نشانی کہ خاتمہ قریب ہے وہ آج کافریت کا بڑھنا اور مغربی دُنیا میں اور دوسری جگہوں میں مسیح کی جانب سے لوگوں کا مُنہ موڑ لینا ہے۔

یو ایس اے روزانہ USA Today نے ’’جائزہ: زیادہ امریکی مذھب سے دور ہو رہے ہیںSurvey: More Americans Move Away From Religion‘‘ (USA Today، 7 مارچ، 2002 ، صفحات 1A ، 1D ، 7D ، کے عنوان سے سرورق کی ایک کہانی چھاپی۔ یہاں ریاست ہائے متحدہ میں لوگ سنجیدہ مسیحیت کو چھوڑ رہے ہیں جیسا کہ وہ یونائٹیڈ کنگڈم اور یورپ اور کچھ دوسری جگہوں پر چھوڑ رہے ہیں۔ یہاں وہ فیصد درج ہیں اُن سات ریاستوں میں، جو کہتی ہیں اُن کے ’’پاس کوئی مذہب نہیں‘‘:

Washington واشنگٹن   25 %
Vermont ورمونٹ       22 %
Colorado کولوراڈو     21 %
Oregon اُوریگون        21 %
Nevada نی وا ڈا         20 %
Wyoming یومنگ       20 %
California کیلیفورنیا     19 %

جو یہ واقعی میں ظاہر کر رہا ہے وہ بوڑھے ہپّی ہیں – وجود میں آنے کے لیے دُرست – جو کُھلم کُھلا گرجہ گھر میں ہونے کے بجائے خود اپنی ہی پرستش کر رہے ہیں، جیسا کہ بائبل عبرانیوں10:25 میں تعلیم دیتی ہے۔ وہ ’’خالق کے مقابلے میں مخلوق کی‘‘ پرستش اور خدمت کرتے ہیں (رومیوں1:25)۔ ’’وہ عقلمند ہونے کا دعویٰ کرتے تھے [ہپّیوں کی زیادہ تر نسل]… لیکن بیوقوف نکلے‘‘ (رومیوں1:22)۔

مسیح نے ہمیں بتایا تھا کہ مسیحی محبت مغربی دُنیا میں غائب ہو جائے گی جوں جوں خاتمہ قریب آتا جائے گا:

’’اور کیونکہ بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘ (متی 24:12).

وہ بوڑھی ہپّیوں کی نسل 51 اور 71 کی عمروں کے درمیان ہے۔ اُن بوڑھے ہپّیوں نے آپ نوجوان لوگوں سے جھوٹ بولا تھا۔ اُنہوں نے آپ کو بتایا تھا کہ آپ باہر جا سکتے ہیں اور قدرت کے ساتھ مل کر رہ سکتے ہیں اور آپ کو گرجہ گھر جانے کی ضرورت نہیں۔ اُن نشے میں دُھت ذہنیت والے بوڑھے ہپّیوں نے آپ سے جھوٹ بولا تھا! یہ ایک جھوٹ ہے! یہ ایک جھوٹ ہے! یہ ایک جھوٹ ہے! ’’اگر آپ کے پاس اپنی ماں کی حیثیت سے گرجہ گھر نہیں ہے تو آپ خُدا کو اپنے باپ کی حیثیت سے نہیں پا سکتے!‘‘ اُنہیں بتائیں سپریئینCyprian نے وہ تیسری صدی (200۔258 بعد از مسیح) میں کہا تھا! اُنہیں بتائیں میں سپریئین کے ساتھ متفق ہوں! عظیم مذھبی سُدھار والے جان کیلوِن John Calvin نے بھی یہی بات کہی تھی! اگر آپ کے پاس اپنی ماں کی حیثیت سے ایک مقامی گرجہ گھر نہیں ہے تو آپ خُدا کو اپنے باپ کی حیثیت سے نہیں پا سکتے!

سپرئین زندگی میں بہت دیر سے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے تھے۔ وہ افریقہ میں، کارتھیج Carthage کے شہر میں ایک بہت بڑے گرجہ گھر کے پادری صاحب کی حیثیت سے چُنے گئے تھے۔ اُن کا روم کے بشپ کے ساتھ تمام رہنما پادری صاحبان کے برابری کے اختیار کے لیے بحث پرجھڑپ ہو گئی تھی۔ اسٹیفن جو روم کے پوپ تھے اُنہوں نے سپریئین کو اُن کے گرجہ گھر پر شدید نظریات کے لیے گرجہ گھر میں سے باہر کر دینے کی دھمکی دی تھی۔ بے شمار لوگ رومی اذیتوں کے تحت گرجہ گھروں کو چھوڑ چکے تھے۔ سپریئین نے بحث کی تھی کہ اُنہیں چھوڑ چُکنے کے بعد شدید کفارہ ادا کیے بغیر یا شدید توبہ کیے بغیرگرجہ گھروں میں دوبارہ واپس نہیں لینا چاہیے۔ پوپ اسٹیفن نے اُن کے لیے جنہوں نے اذیتوں کی وجہ سے گرجہ گھروں کو چھوڑا تھا دوبارہ سے آسان واپسی کے لیے بحث کی تھی۔ سپریئین نے بحث کی تھی کہ اُن کی سرے سے ہی باآسان دوبارہ واپسی ہونی ہی نہیں چاہیے۔ جب روم کے پوپ نے سپریئین کو مذھبی خدمات سے خارج کرنے کی دھمکی دی تھی تو وہ کافروں کے ذریعے سے قتل کیے جانے پر شہید ہونے کی بِنا سے مذھبی خدمات سے خارج ہونے سے بچ گئے۔ اُنہیں گرجہ گھر کے نظم و ضبط پر اُن کے ٹھوس نقطۂ نظر کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ سپریئین نے گرجہ گھر کو مقامی گرجہ گھر کی حیثیت سے بہت نزدیک سے شناخت بھی کروایا، جس کو وہ ’’نظر آنے والا گرجہ گھر‘‘ کہتے تھے۔ اُنہوں نے محسوس کیا تھا کہ جو نظر آنے والے مقامی گرجہ گھر کو اذیتوں کے تحت چھوڑ چکے تھے اُنہیں اُن کے مقامی گرجہ گھر میں دوبارہ واپس شامل ہونے سے پہلے معائنے اور کفارے سے گزرنا چاہیے۔ ایک طرح سے دیکھا جائے، تو سپریئین اِس نقطۂ نظر پر ابتدائی پروٹسٹنٹز کی مانند تھے۔ اگر پوپ اسٹیفن نے اُن کی بات سُن لی ہوتی تو آج کاتھولک کلیسیا چھوٹی ہوتی مگر جتنی وہ ہے اِس سے کئی گُنا مضبوط ہوتی۔

میں قائل ہو چکا ہوں کہ ہمیں بپتسمہ دینے والے نئے نسل کے اُن مبلغین کی ضرورت ہے جو اتنے ہی سخت ہیں جتنے کہ گرجہ گھر کے نظم و ضبط کے معاملے پر یہ ابتدائی پادری صاحب تھے۔ اور میں، سپریئین اور جان کلیوِن کے الفاظ میں کہتا ہوں، ’’وہ جس کے پاس اپنی ماں کی حیثیت سے گرجہ گھر نہیں ہے وہ خُدا کو اپنے باپ کی حیثیت سے نہیں رکھ سکتا‘‘ (حوالہ دیکھیں جے۔ ڈی۔ ڈگلِس J. D. Douglas، کون مسیحی تاریخ میں کون ہے Who’s Who in Christian History، ٹائینڈیل ہاؤس Tyndale House، 1992، صفحات186۔187)۔ کسی کو بھی بتائیں میں سپریئین کے ساتھ متفق ہوں۔ وہ ایمان کا ایک شہید تھا۔ میں اُس کے ساتھ متفق ہوں کہ آپ کو اپنے مقامی گرجہ گھر کے ساتھ وفادار رہنا چاہیے۔ میں اُس کے اور مذھبی سُدھار والے جان کیلوِن کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں۔ وہ لوگ جو آپ سے کہتے ہیں آپ کو اپنا گرجہ گھر چھوڑ دینا چاہیے جھوٹے ہیں۔ وہ لوگ جو اِتوار کے روز گرجہ گھر جائے بغیر آپ سے کہتے ہیں وہ مسیحی ہیں تو وہ جھوٹے ہیں۔ ’’مقامی گرجہ گھر کے ساتھ وابستگی کے بغیر ’’مسیحیت‘‘ آخری ایام کی نشانی ہے۔ یہ شیطان کی طرف سے ایک جھوٹ ہے!

’’کیا تُم زمانوں کی علامتیں نہیں پہچان سکتے؟ ‘‘ (متی 16:3).

II۔ خاتمے کی دوسری نشانی وہ ذہنی ابتری ہے جو منشیات، ناقابلِ اختتام ٹیلی ویژن دیکھنے، گھنٹوں بھر ویڈیو گیمز کھیلنے، ’’نیٹ پردیکھتے رہنے،‘‘ اور فحش فلمیں دیکھنے سے آتی ہے۔

بائبل کہتی ہے کہ آخری ایام میں لوگ اپنے گناہ کے وجہ سے جانوروں سے بھی بدتر ہو جائیں گے۔ بائبل کہتی ہے،

’’یہ بھی یاد رہے کہ آخری زمانہ میں بُرے دِن آئیں گے۔ کیونکہ لوگ محبت سے خالی… تُند مزاج، نیکی کے دشمن ہو جائیں گے‘‘ (2۔تیموتاؤس3:1،3).

وہ یونانی لفظ جس نے ’’تُندمزاج یا خطرناک perilous‘‘ کا ترجمہ کیا وہ نئے عہد نامے میں صرف ایک دوسری جگہ پر پایا گیا جو گدرا کے آسیب زدہ آدمی کے واقعہ میں ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ ’’تُند مزاج یا خطرناک‘‘ تھے (متی 8:28)۔ یونانی لفظ نے وہاں ’’تُند مزاج یا خطرناک fierce‘‘ کا جو ترجمہ کیا وہی ترجمہ 2تیموتاؤس3:1 میں ’’تُندمزاج یا خطرناک perilous‘‘ لفظ کا کیا۔ وہ لفظ ’’چیلیپوس chalepos‘‘ ہے، اور اِس کا مطلب ہوتا ہے ’’خطرناک، خونخوار یا غضبناک، تُند مزاج‘‘ (Strong’s)۔ لوگوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد ویسی ہوتی جا رہی ہے – ’’خطرناک، خونخوار یا غضبناک، تُند مزاج۔‘‘ ہم وہ ہر روز خبروں میں دیکھتے ہیں۔

کیا آپ کو ٹیکساس کی فورٹ وارتھ Fort Worth والی اُس عورت کی نیوز رپورٹ یاد ہے؟ وہ ایک نرس کی ماتحت تھی۔ وہ نشے کی ’’بیخودی ecstasy‘‘ میں تھی۔ اُس نے اپنی گاڑی سے ایک آدمی کو ٹکر ماری اور اپنی ٹوٹی ہوئی وِنڈ سکرین میں اُس آدمی کے پھنسے ہوئے سر کے ساتھ ہی گھر تک گاڑی چلا کر لے گئی۔ وہ اپنے گیراج تک گاڑی لے گئی اور دروازہ بند کر دیا۔ وہ آدمی اُس کی وِنڈ سکرین میں تین دِنوں تک پھنسا رہا، یوں وہ خون کے بہہ جانے کی وجہ سے آہستہ آہستہ مر گیا۔ دِن میں کئی مرتبہ وہ دیکھنے کے لیے جاتی کہ آیا وہ ابھی تک مرا ہے کہ نہیں۔ جب وہ بالاآخر تین دِن بعد مر گیا، تو اُس نے اُس کے جسم کو اپنے گاڑی کی ڈکی میں ٹھونسا اور اُس کو ایک پارک میں پھینک دیا۔ ٹیکساس کی ٹیرنٹ کاؤنٹی کے مدعی کے وکیل نے صریحاً بیان دیا، ’’ظالم کہہ دینا ہی کافی نہیں ہے۔ بے دِل؟ غیرانسانی؟ شاید ہم نے ابھی ابھی سفاکانہ بربریت کی نئی تعریف بیان کی ہے‘‘ (لاس اینجلز ڈیلی نیوز Los Angeles Daily News، 8 مارچ، 2002، صفحہ 1)۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ عورت ایک نرس کی ماتحت مددگار تھی۔ اِس بات کو بھی دھیان میں رکھیں کہ اِس عورت نے خود کو ایک مسیحی سمجھا تھا۔ اب ہمارے پاس سفاک قاتل بھی ہیں جو خود کو مسیحی کہتے ہیں! کیا آپ اِس بات پر یقین نہیں کرتے! حقیقی مسیحی اِس طرح سے ردعمل نہیں کرتے!

آپ ’’بیخودیecstasy‘‘ کا یا کوئی دوسرا نشہ ایک مرتبہ بھی آسیب زدہ ہونے کے اِمکان کے بغیر نہیں لے سکتے۔ آسیب زدہ لوگ غضبناک، خطرناک اور بے قابو ہوتے ہیں۔ آج سڑکیں آسیب زدہ لوگوں سے بھری پڑی ہیں۔ وہ ٹیلی ویژن اور فلموں میں ہر جگہ موجود ہیں۔ فلمیں خون چوسنے والی بلاؤں، زندہ مُردوںzombies، قاتل و غارت گری، تشدد، خون اور جرأتوں سے بھری پڑی ہیں۔ یہ ہر سال بدترین ہوتا جا رہا ہے! امریکی قدیم رومیوں کی مانند خون کے پیاسے ہوتے جا رہے ہیں – جنہوں نے مسیحیوں کو شیروں کے آگے پھینک دیا – اور اکھاڑوں میں خوشی سے تالیاں بجاتے تھے جب مسیحیوں کو چیر کر چیتھڑے چیٹھرے کیا جاتا تھا! ایک پوری نسل اب بدروحوں اور آسیبوں سے متاثر ہو چکی ہے۔ آسیب زدہ اِن لوگوں میں سے بے شمار لوگ وہ سب کچھ کریں گے جو وہ آپ سے آپ کا مقامی گرجہ گھر چھڑوانے کے لیے کر سکتے ہیں۔ اُن لوگوں میں سے بے شمار لوگ جنہوں نے بیس سال پہلے ہمارے گرجہ گھر کو چھوڑا تھا اور ہم پر انٹرنیٹ پر حملہ کیا تھا، یوں عمل کر رہے تھے جیسے ہو آسیب زدہ تھے۔ میں قائل ہوں کہ اُن میں سے کچھ براہ راست شیطان کے قابو میں تھے۔ ہمیں اُن کے حملے روکنے کے لیے اُن لوگوں کو ایف بی آئی FBI کے حوالے کرنا پڑا تھا! اُن میں خُدا کا کوئی خوف نہیں تھا۔ مگر FBI نے اُنہیں روکا تھا! خُداوند کی ستائش ہو! بائبل کہتی ہے،

’’اپنے آپ کو اس گمراہ قوم [خود سر، دغاباز، جھوٹ گھڑنے والی، Strong’s] سے بچائے رکھو‘‘ (اعمال 2:40).

آج بے شمار لوگوں کی ذہنی ناپائیداری اور آسیبی غضبناکی اِس بات کی نشانی ہے کہ خاتمہ قریب ہی ہے۔

’’کیا تُم زمانوں کی علامتیں نہیں پہچان سکتے؟ ‘‘ (متی 16:3).

III۔ خاتمہ کی تیسری نشانی ساری دُنیا میں بڑھتی ہوئی دھشتگردی ہے۔

ٹائمTime میگزین نے کہا:

نیویارک شہر میں ایک 10۔ کِلوٹن کا [نیوکلئیر] ہتھیار دھماکے سے اُڑنے والا تھا؟ یہ واقعہ رونما نہیں ہوا۔ مگر یہ ہو سکتا ہے۔

11 ستمبر کے حملے کے چھ ماہ بعد، امریکہ مایوس کُن ٹامک ٹوئیاں مارتا رہا [تھا] ایک دوسرے حملے کے ہونے سے پہلے ٹوٹے ہوئے نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے۔ جب ہمارے جاسوس جال کا گھیرا تنگ کرنےکی کوشش کر رہے تھے، ٹائم کی تفتیش نے پوچھا، کیا ہم دوسرے حملے کو روک سکتے ہیں؟ (11 مارچ، 2002، صفحات24۔25)۔

ٹائم پُریقین نہیں تھا کہ ہم خود اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔ اُس آرٹیکل کا اختتام اِن الفاظ کے ساتھ ہوا، ’’ہم اب جارحیت پر اُتر چکے ہیں۔ بڑا سوال یہ ہے کہ آیا ہم نے یہ وقت پر کی تھی‘‘ (ibid.، صفحہ 37)۔ ٹائم میگزین ہمیں بتاتے ہوئے جاری رہتا ہے،

ماہرین کہتے ہیں دھشتگرد ریاست ہائے متحدہ کو نقصان پہنچانے کے لیے راستے ڈھونڈنے کے لیے کام پر لگے ہوئے ہیں، جو کہ اب بھی وہ سب کچھ نہیں کر رہا جو وہ خود کو حملے سے روکنے کے لیے کر سکتا ہے۔

[دھشتگرد بنا رہے ہیں] یورینیئم میں پیک کیے ہوئے آلات جو ایک بہت وسیع علاقے میں تابکاری پھیلا سکتے ہیں اور خوف و ہراس کا سبب بن سکتے ہیں (ibid.، صفحات 26۔27)

۔

کیا انتہا پسند نیویارک میں یا لاس اینجلز میں تھرمونیوکلیائی بم کا دھماکا کریں گے؟ ٹائم میگزین سوچتا ہے وہ غالباً کریں گے۔ ریوٹرز Reuters، جو برطانوی خبروں کی ایجنسی ہے اُنہوں نے ایک خوفزدہ کر دینے والے رپورٹ دی جس کا عنوان تھا، ’’حقائق ظاہر کرتے ہیں دُنیا چُرائے ہوئے نیوکلیائی مادوں میں ڈوبے گیData Shows World Awash in Stolen Nuclear Material‘‘ (6 مارچ، 2002، www.reuters.com

سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر یودمیلا ژائٹسیوا Dr. Lyudmila Zaitseva نے کہا، ’’یہ سچے طور سے خوفزدہ کر دینے والی بات ہے۔‘‘ انٹرنیشنل کھوج لگانے والے جو وہ کہتے ہیں اُس کو مُرتب کر چکے ہیں کہ گم شُدہ، چُرائے ہوئے اور کھوئے ہوئے نیوکلیائی مادوں کے بارے میں دُنیا کا سب سے مکمل متعلقہ معلومات کا ذخیرہ ہے – جو اِس بات کی منظر کشی کرتا ہے کہ دُنیا ایسے ہتھیاروں سے جو یورینیئم اور پلوٹونیئم کے درجے میں آتے ہیں ڈوب چکی ہیں کہ جن کے بارے میں کوئی بھی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ ریوٹر کی خبررساں سروس نے کہا، ’’حقائق ڈراؤنے ہیں‘‘ (ibid.)۔ کون دھشتگردوں کو روکے گا؟ اُوباما یا ھیلیری کلِنٹن نہیں روکیں گے! اُس قسم کی قیادت کے ساتھ ہم آج ایک خطرناک صورتحال میں ہیں!

کیا دُنیا ایک تھرمونیوکلیائی آگ کے طوفان میں دھماکے سے پھٹ جائے گی؟ بائبل کہتی ہے:

’’پھر چوتھے فرشتہ نے اپنا پیالہ سورج پر اُنڈیل دیا اور سورج کو اِختیار دیا گیا کہ وہ لوگوں کو آگ سے جھلس ڈالے۔ اور وہ حرارت کی شِدّت کے باعث جُھلس گئے…‘‘ (مکاشفہ 16:8۔9).

کیا ہو اگر اُس قسم کے آتشی طوفان کو چالو کرنے کے لیے خُدا دھشتگردوں کو اجازت دے دے؟ اگر لاس اینجلز ایک غضبناک نیوکلیائی خونریزی میں جل جاتا ہے، تو آپ کا کیا حال ہوگا؟ آپ کیا کریں گے جب دُنیا میں آگ لگی ہو گی؟ آپ کہاں پر چُھپیں گے جب ہم پر نیوکلیائی بموں کے ساتھ حملہ ہوتا ہے؟

اپنے جوانی کے دِنوں میں بلی گراھم Billy Graham نے آنے والی آگ کی سزا سے تعلق رکھتے ہوئے یہ بیان دیا تھا:

جب انبیاء نے دُنیا کی سزا میں آگ کے بارے میں بات کی، یا جب پطرس نے زمانے کے خاتمہ پر آگ کا تزکرہ کرتا ہے، تو اِس بات کا اِمکان نہیں ہے کہ وہ آکسیجن کے ساتھ کسی مادے کے ری ایکشن میں آگ لگنے کے لیے حوالہ دے رہا تھا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ نیوکلیائی فیشن ری ایکشن کی آگ ہو، جو ایٹم کے تقسیم ہونے کی وجہ سے ایٹمی قوت کو خارج کرتا ہے… یقینی طور پر یہ بدکار دُنیا پر سزا کی ہی آگ ہوگی (بلی گراھم Billy Graham، دُنیا شعلوں میں World Aflame، ڈبل ڈے Doubleday، 1965، صفحات246۔247)۔

جب لاس اینجلز پر آگ نازل ہونے سے خُدا کی سزا کی غضبناکی ہوگی تو آپ بچنے کے لیے کیا کریں گے؟ جب انتہاپسند ہمارے شہروں میں ’’گندے‘‘ نیوکلیائی بموں کے دھماکے کریں گے اور اُن کو واقعی میں جہنمی سوراخ بنا دیں گے تب آپ کہاں پر چُھپیں گے؟

مسیح میں ایمان نہ لایا ہوا کوئی بھی شخص اُس آگ کے لیے تیار نہیں ہے جو خُدا آخری ایام میں زمین پر بھیجے گا۔ تیار رہنے کے لیے واحد راہ اِس قسم کے ایک بائبل پر ایمان رکھنے والے گرجہ گھر میں آنا اور ہر عبادت میں حاضر ہونا ہے۔ واعظوں کو یوں سُنیں جیسے کہ آپ کی زندگی کا دارومُدار اِنہی پر ہے۔ تب، اِس بات کو یقینی بنائیں، کُلی طور پر یقینی بنائیں، کہ آپ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو چکے ہیں – اور نا کہ گرجہ گھر کے کھوئے ہوئے کوئی دوسرے رُکن ہیں۔

یہ ہی وجہ ہے کہ آپ کو براہ راست یسوع مسیح کے پاس آنے کی ضرورت ہے جو گناہ سے بھر پور انسان اور ایک پاک خُدا کے درمیان ثالثی ہے۔ آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مسیح صلیب پر ایک ہولناک موت مرا تھا۔ اُس نے اُس صلیب پر اپنا خون بہایا تھا تاکہ آپ کے گناہ دُھل جائیں۔ پھر مسیح جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھا اور آسمان میں واپس اُٹھا لیا گیا، جہاں پر وہ خُدا کے داھنے ہاتھ پر ابھی بیٹھا ہوا ہے۔ نجات پانے کے لیے آپ کو خود مسیح کے پاس جانا چاہیے۔ آپ کو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کے لیے مسیح پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اور پھر اِس نئے عہد نامے کے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر کے مکمل رفاقت میں آنا چاہیے اور بپتسمہ لے کر اِس کی رُکنیت میں آنا چاہیے۔ صرف جب آپ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو چکے ہونگے تو جب سزا کی آگ اِس بدکار شہر کو جلائے گی تو آپ بچا لیے جائیں گے۔ مسیح پر بھروسہ کریں۔ اِس کو ابھی کریں – جب کہ ابھی وقت ہے! آمین۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومMr. Abel Prudhomme نے کی تھی: متی16:1۔4 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
          ’’ایسے وقتوں کے دورانIn Times Like These‘‘ (شاعرہ رُوتھ کائی جونزRuth Caye Jones، 1902۔1972)۔

لُبِ لُباب

زمانوں کی علامتیں

SIGNS OF THE TIMES

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’ اے منافقوں، تُم آسمان کا رنگ دیکھ کر موسم کا اندازہ لگانا تو جانتے ہو لیکن زمانوں کی علامتیں نہیں پہچان سکتے‘‘ (متی 16:3).

I.    پہلی نشانی کہ خاتمہ قریب ہے – وہ آج کافریت کا بڑھنا اور مغربی دُنیا میں اور دوسری جگہوں میں مسیح کی جانب سے لوگوں کا مُنہ موڑ لینا ہے، عبرانیوں10:25؛ رومیوں1:25، 22؛ متی24:12 .

II.   دوسری نشانی کہ خاتمہ قریب ہے – وہ ذہنی ابتری ہے جو منشیات، ناقابلِ اختتام ٹیلی ویژن دیکھنے، گھنٹوں بھر ویڈیو گیمز کھیلنے، ’’نیٹ پردیکھتے رہنے،‘‘ اور فحش فلمیں دیکھنے سے آتی ہے، 2 تیموتاؤس3:1، 3؛ متی8:28؛ اعمال2:40 .

III.  تیسری نشانی کہ خاتمہ قریب ہے – ساری دُنیا میں بڑھتی ہوئی دھشتگردی ہے، مکاشفہ16:8۔9 .