Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

عالمگیری لعنت

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 31)
THE UNIVERSAL CURSE
(SERMON #31 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 11نومبر، 2007
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, November 11, 2007

’’زمین تیرے سبب سے ملعُون ٹھہری‘‘ (پیدائش 3:17).

آجکل غیر متوازن ماحولیات کے مطالعے اور عالمی گرمی کے بارے میں بہت زیادہ باتیں ہوتی ہیں۔ جب سابقہ نائب صدر آل گورے Al Gore عالمی گرمی کے بارے میں بات کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ وہ متی کے تیل اور دوسرے آثارِ متحجری ایندھن کے جلنے سے تعلق رکھنے والی کسی چیز کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو 1940 اور 50 کی دہائی سے جل رہے ہیں۔ مگر مسئلہ دراصل ماضی میں نہایت قدیم زمانے تک چلا جاتا ہے، جب انسان نے پہلی مرتبہ باغِ عدن میں گناہ کیا تھا اور خُدا نے کہا،

’’زمین تیرے سبب سے ملعُون ٹھہری‘‘ (پیدائش 3:17).

پیدائش3:17 پر جینیوا کی بائبل کی غور طلب بات کہتی ہے، ’’خُدا کے حکم کی خلاف ورزی وہ سبب تھا کہ دونوں نسل انسانی اور دوسری مخلوقات اِس لعنت کی زد میں تھے‘‘ (جینیوا بائبل The Geneva Bible، 1599 ایڈیشن، ٹولے لیگی پریس Tolle Lege Press، دوبارہ اشاعت 2006، پیدائش3:17 پر غور طلب بات)۔

’’زمین تیرے سبب سے ملعُون ٹھہری‘‘ (پیدائش 3:17).

عالمی گرمی، غیرمتوازن ماحولیات، بڑھتی ہوئی آبادی، قحط سالی، موذی امراض، سیلاب، زلزلے، بیماریاں، اموات اور تاریخ کے اِس لمحے میں نسل انسانی کے سامنے دوسرے تمام مسائل کی سچی وجہ یہ لعنت ہے۔

’’زمین تیرے سبب سے ملعُون ٹھہری‘‘ (پیدائش 3:17).

لوتھر نے کہا، ’’آدم کے گناہ کی وجہ سے خُدا نے پہلے زمین کو لعنتی ٹھہرایا تاکہ جیسا مقدس پولوس رومیوں8:20، 21 میں لکھتا ہے، مخلوق [تخلیق] کو باطل کے تابع کر دیا گیا… یہ خُدا کی لعنت کے تحت ہے‘‘ (مارٹن لوتھر، ٹی ایچ۔ ڈی۔ Martin Luther, Th.D.، پیدائش پر لوتھر کا تبصرہ Luther’s Commentary on Genesis، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، دوبارہ اشاعت 1958، جلد اوّل، صفحہ 83)۔ آج کی رات ہم اُس لعنت کے منفی پہلوؤں اور پھر خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے اُن کے اِسترداد [اُلٹ کر دینے کے عمل] پر توجہ مرکوز کریں گے۔

I۔ پہلی بات، خود وہ لعنت۔

’’زمین تیرے سبب سے ملعُون ٹھہری‘‘ (پیدائش 3:17).

اُس لعنت کا دوسرا نام ’’تھرموڈائنیمکس کا دوسرا قانون‘‘ ہے – بے قاعدگی یا بے ترکیبی کا قانون۔ چار مرتبہ پولیٹائزر انعام جیتنے والے Pulitzer Prize-winning شاعر رابرٹ فراسٹ Robert Frost نے بالکل صحیح طور سے اُس قانون کی اپنی شہرت یافتہ نظم ’’کچھ بھی سونا نہیں رہ سکتا Nothing Gold Can Stay‘‘ میں مثال پیش کی۔

قدرت کا پہلا سبزہ سونا ہے،
قائم کرنے کے لیے سب سے مشکل ترین رنگت۔
اُس کی ابتدائی پتی ایک پھول ہے؛
مگر صرف گھنٹہ بھر کے لیے۔
پھر پتی پتے پر ختم ہو جاتی ہے۔
تو عدن غم میں ڈوب گیا،
یوں ہی طلوع آفتاب دِن میں ڈھل جاتا ہے،
کچھ بھی سونا نہیں رہ سکتا۔
   (رابرٹ فراسٹ Robert Frost، ’’کچھ بھی سونا نہیں رہ سکتا Nothing Gold Can Stay‘‘ رابرٹ فراسٹ کی نظمیں Robert Frost’s Poems، واشنگٹن سکوائر پریس Washington Square Press، 1971، صفحہ227)۔

وہ تھرموڈائنیمکس کے دوسرے قانون کی شاعرانہ وضاحت ہے – کارآمد توانائی اور خود زندگی کا سنگدلانہ اور کبھی نہ ختم ہونے والا نقصان۔

’’زمین تیرے سبب سے ملعُون ٹھہری‘‘ (پیدائش 3:17).

ڈاکٹر ھنری ایم۔ مورس Dr. Henry M. Morris نے کہا،

یوں، تمام کی تمام ’’مخلوق [تخلیق] کو باطل کے تابع کر دیا گیا‘‘ [رومیوں8:20]۔ زمین ’’پوشاک کی مانند پرانی ہونا‘‘ شروع ہو جائے گی [زبور102:26] اور بالاآخر ’’فنا ہو جائے گی‘‘ [عبرانیوں1:11]۔ چونکہ تمام جسم زمین کے مادی عناصر سے بنا ہوا ہے یہ بھی سڑنے اور مرنے کے قانون کے تابع ہے… یہ عالمگیری تجربہ ہے کہ تمام چیزیں، جاندار اور بے جان، آخر کار فرسودہ یا گِھس جائیں گی، خرچ ہو جائیں گی، بوڑھی ہو جائیں گی، سڑ جائیں گی اور مٹی میں بدل جائیں گی۔
     یہ حالت اِس قدر عالمگیری ہے کہ یہ تقریباً سو سال پہلے جائز قرار دی گئی تھی… ایک بنیادی سائنسی قانون میں، جس کو اب تھرموڈائنیمکس کا دوسرا قانون کہتے ہیں۔ یہ قانون کہتا ہے کہ تمام [چیزیں]… بدچلن اور غیر منطقی ہو جائیں گی… [اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ تمام مادی اشیاء] چاہے گھڑیاں ہوں یا سورج ہوں، بالاآخر ٹوٹ جائیں گے۔ ہستیاں بوڑھی ہو جائیں گی اور مر جائیں گی… بے شمار صورتوں میں [نسلیں] خود نسلوں کی فنا پزیری یا بدتری کا نتیجہ ہو چکی ہیں… ماحول کی بدتری اکثر نسلوں کی فنا پزیری کا مؤجب بن چکی ہے۔
     یہ، پھر، سڑنے اور بے ترکیبی کے عجیب قانون کی سچی ابتداء ہے، جو عالمگیری طور سے قابلِ اطلاق ہے، سب سے اہم تھرموڈائنیمکس کا دوسرا قانون۔ یہاں اِس بات میں دُنیا میں جو کچھ بھی غلط ہے اُس کا سارا راز ہے۔ انسان نے [گناہ کیا، اور اُس کا گناہ] زمین پر خُدا کی لعنت لایا (ھنری ایم۔ مورس، پی ایچ۔ ڈی۔ Henry M. Morris, Ph.D.، پیدائش کا سیلاب The Genesis Flood، بیکر کُتب گھر Baker Book House، اشاعت 1986، صفحات126۔127)۔

’’زمین تیرے سبب سے ملعُون ٹھہری‘‘ (پیدائش 3:17).

اگر آدم گناہ میں برگشتہ نہ ہوا ہوتا، ڈاکٹر مورس کہتے ہیں، ’’جانوروں کی زندگی مسلسل مستقل رہتی… اب، تاہم، خُدا کی ذاتی موجودگی نے کنارہ کشی اختیار کر لی [تھی]… گواہی میں مذید اور اضافہ کرتے ہوئے کہ دُنیا [اب درِ زہ میں] تکلیف میں ہوگی، اپنے آنے والے نجات دہندہ کے انتظار میں‘‘ (مورس، ibid.، صفحہ 126)۔

مگر کائنات ’’مستقل‘‘ نہیں رہی۔ باغِ عدن میں انسان کی برگشتگی پر، تھرموڈائنیمکس کے دوسرے قانون نے کام کرنا شروع کر دیا تھا، اور تمام کی تمام تخلیق کی ہوئی کائنات، جس میں دُنیا شامل ہے، ختم ہونا شروع ہو گئی اور اِس رُجحان کو اُلٹا کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر سی۔ ایل۔ کیگن Dr. C. L. Cagan نے نشاندہی کی کہ جرمنی کے طبیعات دان لوڈوِگ بولٹژمین Ludwig Boltzmann (1844۔1906) نے تھرموڈائنیمکس کے دوسرے قانون سے نتیجہ اخذ کیا، ’’کہ کسی دِن [کائنات] میں کوئی توانائی مہیا نہیں ہوگی۔ تمام کے تمام ستارے ایٹمی راکھ میں جل جائیں گے اور زندگی ناممکن ہو جائے گی۔ تمام کی تمام کائنات ایک خالی خلا ہو گی، جو صرف ایک انتہائی قلیل مردہ مادے کے انتشار اور بھٹکتے ذرات پر مشتمل ہوگی۔ یہ بے جان حالت ہمیشہ کے لیے جاری رہے گی، کیونکہ کچھ بھی اِس کی خالی اور راکھ والی کُہر آلودگی میں زیادہ دیر تک زندہ رہنے کے قابل نہیں ہوگا‘‘ (سی۔ ایل۔ کیگن، پی ایچ۔ ڈی۔ C. L. Cagan, Ph.D.، ڈاروِن سے ڈیزائن تک From Darwin to Design، وائٹیکر ہاؤس Whitaker House، 2006، صفحہ95)۔

ڈاکٹر بولٹژمین نے تھرموڈائنیمکس کے دوسرے قانون کے تکنیکی پہلوؤں کا مطالعہ کرنے میں دہائیاں صرف کر دیں۔ وہ اِس نتیجے پر پہنچے کہ کائنات کی بدنصیبی ایک ایسے مقدر کے لیے ہے جس کو اُنہوں نے ’’حدتِ موت‘‘ کہا۔ اُن کا نظریہ اب زیادہ تر سائنسدانوں نے قبول کر لیا ہے۔ ڈاکٹر کیگن نے کہا،

چونکہ بولٹژمین ایک مسیحی نہیں تھا، وہ [تھرموڈائنیمکس کے دوسرے قانون کے اثرات] سے فرار کا کوئی طریقہ نہ دیکھ پائے۔ اُنہیں آنے والے زمانے تک کے لیے… کوئی اُمید نظر نہیں آئی۔ وہ اِس بات پر اِس قدر ذہنی دباؤ میں آ گئے کہ اُنہوں نے بالاآخر خود کشی کر لی (ibid.)۔

جب ہم تھرموڈائنیمکس کے دوسرے قانون کے حتمی نتائج پر غور کرتے ہیں، تو ہم محض پگھلتے ہوئے برفانی تودوں اور برفانی ریچھوں اور پینگوئین [بحری جانور] کے بارے ہی میں نہیں سوچ رہے ہوتے۔ جب ہم زمین اور نظام شمشی میں تھرموڈائنیمکس کے دوسرے قانون کے اثرات کو بے لچک طور پر کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہم تمام کائنات کے خاتمے کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں۔ بائبل تعلیم دیتی ہے کہ اِس تمام سڑنے کی جڑ انسان کی برگشتگی میں پنہاں ہے جو پیدائش کی تیسرے باب میں درج ہے۔

’’زمین تیرے سبب سے ملعُون ٹھہری‘‘ (پیدائش 3:17).

آخر میں، بائبل تعلیم دیتی ہے کہ اِس لعنت کا نتیجہ کائناتی تباہی میں ہوگا،

’’لیکن خدا کا دِن چور کی طرح آجائے گا۔ اُس دِن آسمان بڑے شوروغُل کے ساتھ غائب ہو جائیں گے اور اجرامِ فلکی شدید حرارت سے پگھل کر رہ جائیں گے اور زمین اور اُس پر کی تمام چیزیں جل جائیں گی‘‘ (2۔ پطرس 3:10).

ڈاکٹر مورس نے کہا،

ممکنہ طور پر یہ ایک عالمی ایٹمی فیشن ری ایکشن ہو گا (2پطرس3:11 میں لفظ ’’تحلیل dissolved‘‘ پر غور کریں)، یا پھر تحلیلیت کا ایک بہت وسیع دھماکہ جس میں عناصر کی کیمیائی توانائی کی حِدت، روشنی کی توانائی اور آواز کی توانائی کی عمدہ تبدیلی شامل ہوگی (ھنری ایم۔ مورس، پی ایچ۔ ڈی۔ Henry M. Morris, Ph.D.، مطالعۂ بائبل کا دفاع کرنے والے The Defender’s Study Bible، عالمی اشاعتی خانے World Publishing، 1995، 2پطرس3:10 پر غور طلب بات)۔

کیا کائنات ایک سرد غیرمزروعہ یا بنجر زمین میں یا ایک انگارے جیسی بے قابو آگ میں ختم ہو جائے گی؟ شاعر رابرٹ فراسٹ اِس بات کا جواب اِس طرح سے دیتے ہیں،

کچھ کہتے ہیں کہ دُنیا آگ سے ختم ہو جائے گی،
کچھ برف سے کہتے ہیں۔
جہاں تک میں نے خواہش کو جانا ہے
میں اُن کے ساتھ ہوں جو آگ کی حمایت ...
   (رابرٹ فراسٹ Robert Frost، ’’آگ اور برف Fire and Ice‘‘ ibid.، صفحہ242)۔

بائبل رابرٹ فراسٹ کی بات پر اُترتی ہے۔ کائنات کا خاتمہ ہوگا۔ تمام زندگی جیسے کہ ہم جانتے ہیں ختم ہو جائے گی۔ اور یہ سب کا سب آدم کے گناہ، انسان کی برگشتگی کا براہ راست یا بالواسطہ نتیجہ ہے، جس کے بارے میں خُدا نے کہا،

’’زمین تیرے سبب سے ملعُون ٹھہری‘‘ (پیدائش 3:17).

مگر بائبل وہیں پر ختم نہیں ہو جاتی اور یہ بات اِس واعظ کی دوسرے نکتے کی جانب ہماری رہنمائی کرتی ہے۔

II۔ دوسری بات، مسیح کے ذریعے سے اُس لعنت کا پلٹایا جانا۔

جینیوا بائبل نے کہا، ’’خُدا کے حکم کی خلاف ورزی وہ سبب تھا کہ دونوں نسل انسانی اور دوسری مخلوقات اِس لعنت کی زد میں تھے‘‘ (ibid.)۔ مگر یہیں ہے جہاں پر یسوع مسیح منظر میں نظر آتا ہے۔ مسیح کی بائبلی توجیح ’’خوشخبریGospel‘‘ کہلاتی ہے – جس کا لفظی مطلب ہوتا ہے ’’اچھی خبرgood news‘‘! یہ جاننا کہ یسوع مسیح ایک تباہ دُنیا کو جو تباہ ہوئے لوگوں کے ساتھ بھری پڑی تھی، بچانے کے لیے آیا ایک ’’اچھی خبر‘‘ ہے!

بائبل تعلیم دیتی ہے کہ مسیح انسان کو اُس لعنت سے مخلصی دلا سکتا ہے، اُس کے گناہ کو صلیب پر اُٹھانے کے ذریعے سے۔ کلام پاک کہتا ہے،

’’مسیح نے جو ہمارے لیے لعنتی بنا، ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑا لیا کیونکہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے‘‘ (گلتیوں 3:13).

مسیح نے لعنت کو خود پر لاد لیا جب وہ اذیت اور خون میں صلیب پر مرا تھا۔ ڈاکٹر مورس نے کہا،

مسیح… ہمارے لیے لعنت قرار دیا گیا (گِلیتیوں3:13)۔ وہ ’’غموں کا ایک انسان‘‘ تھا (اشعیا53:3)؛ کسی دوسرے انسان کے مقابلے میں غموں کے ستھ بہت زیادہ آشنا، وہ ہمارے لیے گھائل کیا گیا، زخمی کیا گیا، اور ہماری بداعمالی کے باعث کُچلا گیا (اشعیا53:5)، اور بِلا شُبہ ہمارے لیے لعنت کے انتہائی کانٹوں کو اپنے تاج کی حیثیت سے پہنا (مرقس15:17)؛ اپنی اذیت کی مشقت میں، اُس نے پسینہ یوں بہایا جیسے خون کی بوندیں ہوتی ہیں (لوقا22:44)، اور ’’پکار پکار کر اور آنسو بہا بہا کر خُدا سے دعائیں اور التجائیں کیں‘‘ (عبرانیوں5:7)۔ اور، بالاآخر، خُدا اُس کو ’’موت کی مٹی‘‘ میں لے آیا (زبور22:15)۔ اِس لیے، چونکہ اُس نے ہمارے لیے ساری لعنت کو خود برداشت کیا [جب ہم مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوتے ہیں، تو ہمارے پاس جنت کی اُمید ہوتی ہے]… ’’اور وہاں لعنت کبھی نہ ہوگی: خُدا اور برّہ کا تخت اُس میں ہونگے، اور اُس کے بندے اُس کی عبادت کریں گے،‘‘ مکاشفہ22:3 (مورس، ibid.، صفحہ127)۔

مسیح نے ناصرف انسان کے گناہ کی لعنت کو اُٹھانے کے ذریعے سے کفارہ ادا کیا – وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا – لعنت پر فتح یاب ہو کر!

’’لیکن خدا نے اُسے مَوت کے شکنجہ سے چھُڑا کر زندہ کر دیا کیونکہ یہ ناممکن تھا کہ وہ مَوت کے قبضہ میں رہتا‘‘ (اعمال 2:24).

اور بائبل تعلیم دیتی ہے کہ مسیح دوبارہ آ رہا ہے! آمدِ ثانی پر، مسیح آدم کے گناہ کو پلٹ دے گا، اور اُس یسوع کے وسیلے سے دُںیا دوبارہ نئی ہو جائے گی!

کرسمس کے موقع پر، چند ایک ہی لوگ ڈاکٹر واٹز Dr. Watts کے مشہور حمدوثنا کے گیت ’’دُںیا کے لیے مسرت Joy to the World‘‘ کے تیسرے بند کے مطلب کے بارے میں سوچتے ہیں۔

مذید اور غموں اور گناہوں کو بڑھنے نہ دیں،
نا ہی کانٹوں کو زمین میں کثیر تعداد میں آنے دیں؛
وہ اپنی برکات کو بہانے کے لیے آتا ہے
دور جہاں تک لعنت پائی جاتی ہے،
دور جہاں تک لعنت پائی جاتی ہے،
دور جہاں تک، دور جہاں تک لعنت پائی جاتی ہے۔
   (’’دُنیا کے لیے مُسرت! Joy to the World!‘‘ شاعر آئزک واٹز، ڈی۔ ڈی۔ Isaac Watts, D.D.، 1674۔1748)۔

مگر مجھے اُمید ہے آپ اُن الفاظ پر توجہ دیں گے۔ مجھے اُمید ہے کہ آپ مسیح کے پاس آئیں گے تاکہ آپ سے لعنت کو ہٹایا جا سکے؛ تاکہ خُدا کے قہرو غضب کو تشفی اور تسلی مل پائے؛ تاکہ یسوع کے وسیلے سے آپ کی جان کو فیصلے اور جہنم سے بچایا جا سکے!

کاش اُس یسوع کے پاس ایمان کے وسیلے سے آپ آئیں! یسوع مسیح کے وسیلے سے کاش آپ لعنت کے گناہ کو ہٹائیں! اُس یسوع کے پاک نام کے ذریعے سے آپ زندگی پائیں! آمین۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: پیدائش3:14۔19 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
     ’’دُنیا کے لیے مُسرت! Joy to the World!‘‘ (شاعر آئزک واٹز، ڈی۔ ڈی۔ Isaac Watts, D.D.، 1674۔1748)۔

لُبِ لُباب

عالمگیری لعنت

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 31)
THE UNIVERSAL CURSE
(SERMON #31 ON THE BOOK OF GENESIS)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’زمین تیرے سبب سے ملعُون ٹھہری‘‘ (پیدائش 3:17).

I.   پہلی بات، وہ لعنت خود، رومیوں8:20؛ زبور102:26؛
عبرانیوں11:1؛ 2پطرس3:10 .

II.  دوسری بات، مسیح کے ذریعے سے لعنت کا پلٹایا جانا،
گلِیتیوں3:13؛ اشعیا53:3، 5؛ مرقس15:17؛ لوقا22:44؛
عبرانیوں5:7؛ زبور22:15؛ مکاشفہ22:3؛ اعمال2:24 .