Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

غیر مطلوب نسل

THE UNWANTED GENERATION
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 16 اگست، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, August 16, 2015

’’کسی نے تجھ پر نظر کرم نہ کی، نہ اِس قدر رحم ہی کیا کہ تیری خاطر اِن میں سے کچھ کرتا؛ بلکہ تجھے کھلے میدان میں پھینکا گیا کیونکہ جس دِن تُو پیدا ہُوئی اسی روز تُو حقیر ٹھہری۔ اور جب میں تیرے پاس سے گزرا اور تجھے اپنے خون میں لوٹتے ہُوئے دیکھا اور جیسے تُو اپنے خون میں لوٹ رہی تھی میں نے تجھ سے کہا، جیتی رہ‘‘ (حزقی ایل 16:5۔6).

بے شمار نوجوان لوگ آج تنہا محسوس کرتے ہیں۔ آپ میں سے بے شمار لوگوں کے والدین ہیں جو اِس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ اُن کے پاس آپ کے لیے وقت نہیں ہوتا ہے۔ سماجی زندگی ختم ہو چکی ہے۔ خاندان کی اکائی ختم ہو چکی ہے یا ٹوٹ چکی ہے۔ آپ کی نسل کے ستاون ملین بچوں کو اِسقاط حمل کی ’’سہولت‘‘ سے قتل کیا گیا۔ یہ بس اُن کو جنم دینا ’’مناسب‘‘ نہیں تھا – اِس لیے اُنہوں نے اُنہیں پیدا ہونے سے پہلے ہی قتل کر دیا۔ آپ میں سے چند ایک جو بچ گئے تنہا چھوڑ دیے گئے – اُن والدین کی وجہ سے جو آپ کو ایک محبت بھرا گھر مہیا کرنے میں شدید مصرف تھے۔ کوئی تعجب کی بات نہیں اگر ماہرِ عمرانیات اور نفسیات کہتے ہیں کہ آج نوجوان لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ تنہائی ہے۔ اُس تنہائی کا چند ایک سال قبل گرین ڈے Green Day نے اپنے گیت ’’ٹوٹے ہوئے خوابوں کی گزرگاہ Boulevard of Broken Dreams‘‘ میں اظہار کیا تھا۔

میں تنہا راہ پر گامزن ہوں
وہ واحد شخص جس کو میں نے کبھی جانا تھا
نہیں جانتا یہ کہاں جاتا ہے
مگر یہ میرے لیے گھر ہے اور میں تنہا چلتا ہوں
میں اِس خالی سڑک پر چلتا ہوں
ٹوٹے ہوئے خوابوں کی گزرگاہ پر
جہاں پر شہر سو جاتا ہے
اور واحد میں ہی تنہا ہوں اور میں تنہا ہی چلتا ہوں…
میں تنہا چلتا ہوں۔ میں تنہا چلتا ہوں۔ میں تنہا چلتا ہوں۔
   (سبز دِن Green Day، ’’ٹوٹے ہوئے خوابوں کی گزرگاہ Boulevard of Broken Dreams،‘‘ 2004)۔

یہ ایک گیت ہے جس نے سارے امریکہ میں – اور تمام دُنیا میں نوجوان لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ ہم اِس کو اب بھی ریڈیو پر سُنتے ہیں۔ میں اِس کی تجویز نہیں دیتا – لیکن یہ ہے تو سہی – ایک گیت جو آپ کی نسل کی تشریح کرتا ہے، ’’میں تنہا چلتا ہوں… میں اِس خالی سڑک پر چلتا ہوں، ٹوٹے ہوئے خوابوں کی گزرگاہ پر۔‘‘

کیا آپ نے کبھی بھی ایسا محسوس کیا ہے؟ کیا آپ نے کبھی بھی غیرمطلوب اور تنہا محسوس کیا ہے؟ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے! آپ میں سے ستاون ملین امریکہ آپ کے پیدا ہونے سے بھی پہلے اسقاطِ حمل کی ’’سہولت‘‘ کی وجہ سے قتل کیے جا چکے ہیں۔ آپ میں سے چند ایک جو زندہ بچے تنہا چھوڑ دیے گئے – جو رات کو سڑکوں پر آوارہ گردی کرتے ہیں، ’’جن پر دروازے بند کر دیے گئے ہوں latch-key‘‘ وہ والے بچے – ٹوٹے ہوئے خوابوں کی گزرگاہ پر‘‘ تنہا۔

اور یہ بات بائبل حزقی ایل کے سولہویں باب میں بیان کرتی ہے:

’’کسی نے تجھ پر نظر کرم نہ کی، نہ اِس قدر رحم ہی کیا کہ تیری خاطر اِن میں سے کچھ کرتا بلکہ تجھے کھلے میدان میں پھینکا گیا کیونکہ جس دِن تُو پیدا ہُوئی اسی روز تُو حقیر ٹھہری‘‘ (حزقی ایل 16:5).

عظیم سپرجیئن، جو مبلغین کے شہزادے ہیں، اُنہوں نے اِس آیت پر ایک واعظ دیا تھا۔ یہ ’’حزقی ایل کا متروکہ نوزائیدہ بچہ Ezekiel’s Deserted Infant‘‘ (میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ Metropolitan Tabernacle Pulpit، 7 ستمبر، 1862)۔ سپرجیئن نے کہا،

آیت ہمارے سامنے مرنے کے لیے چھوڑے گئے ایک نوزائیدہ بچے کو پیش کرتی ہے… اُس کی بے حِس والدین نے اُس کو کُھلے میدان میں باہر لیٹا دیا تھا، اِس کے لیے اُن کے دِل میں کوئی بھی ملال نہیں تھا؛ اور وہاں یہ ہماری آنکھوں کے سامنے پڑا ہوتا ہے، خون میں لت پت، جنگلی درندوں کے کھانے کے لیے کھلم کُھلا دعوت، فاقے سے مرتا ہوا، [مرنے کے لیے] تیار۔ بے شمار کافر قوموں کے درمیان بچوں کو [مرنے کے لیے] جنگلوں یا میدانوں میں … اِس قسم کا وحشیانہ رواج وجود رکھتا تھا (ibid.)۔

اگلے اِتوار کی صبح میں اِس موضوع پر دوبارہ منادی کروں گا۔ یہ نوجوان لوگوں کے لیے ایک خصوصی پیغام ہوگا۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اگلے اِتوار کی صبح اُس واعظ کو سُننے کے لیے واپس آئیں۔ اگلے اِتوار کی صبح ایک دوست کو لیتے آئیں۔ آئیے اِس گرجہ گھر کو نوجوان لوگوں سے کھچا کھچ بھر دیں! اُس بچے کو جو کالج کی عمر کا یا ہائی سکول کی عمر کا ہے جسے آپ جانتے ہوں۔ آئیے اُنہیں بتائیں کہ ’’ٹوٹے ہوئے خوابوں کی گزرگاہ‘‘ کے لیے ایک جواب موجود ہے۔ آئیے اُنہیں بتائیں کہ اُن کی تنہائی کے لیے ایک جواب موجود ہے! آئیے اُنہیں اپنا مرکزی موضوع بتائیں – ’’تنہا کیوں رہا جائے؟ گھر چلے آئیں – گرجہ گھر میں! گمراہ کیوں رہیں؟ گھر چلے آئیں – خُدا کے بیٹے یسوع مسیح کے پاس!‘‘ لیکن آج کی صبح، میں ہماری تلاوت میں سے تین سادہ سے نکات اخذ کروں گا۔

I۔ پہلی بات، آپ کھوئے ہوئے گمراہ اور تنہا محسوس کرتے ہیں۔

مجھے اِس بات کو مستند کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں بے شمار سالوں سے، لاتعداد نوجوان لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی وجہ سے جانتا ہوں کہ آپ تنہا محسوس کرتے ہیں۔ اور آپ تنہا کیوں محسوس کرتے ہیں؟ جواب ہماری تلاوت میں پیش کیا گیا ہے۔ اِس کے بارے میں دوبارہ سوچیں۔

’’کسی نے تجھ پر نظر کرم نہ کی، نہ اِس قدر رحم ہی کیا کہ تیری خاطر اِن میں سے کچھ کرتا بلکہ تجھے کھلے میدان میں پھینکا گیا…‘‘ (حزقی ایل 16:5).

کیا ایسا ہی نہیں ہے جو آپ زیادہ تر اوقات محسوس کرتے ہیں؟ آپ سکول جاتے ہیں۔ آپ کے اِردگرد نوجوان لوگوں کا ایک جم غفیر ہوتا ہے – لیکن آپ تنہا محسوس کرتے ہیں – ہجوم میں تنہا۔ آپ بازار میں جاتے ہیں۔ آپ کے اِردگرد لوگوں کا ایک ہجوم ہوتا ہے – لیکن آپ اب بھی تنہا ہی محسوس کرتے ہیں۔ آپ گھر آ جاتے ہیں – مگر کوئی بھی آپ کی بات سُننے کے لیے وقت دیتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ آپ تنہا چلتے ہیں۔ کیا آپ کبھی کبھار اِسی طرح محسوس نہیں کرتے ہیں؟

’’کسی نے تجھ پر نظر کرم نہ کی، نہ اِس قدر رحم ہی کیا کہ تیری خاطر اِن میں سے کچھ کرتا بلکہ تجھے کھلے میدان میں پھینکا گیا…‘‘ (حزقی ایل 16:5).

کیا ایسا ہی آپ رات میں محسوس نہیں کرتے جب آپ تنہا پیدل چلتے ہیں – ٹوٹے ہوئے خوابوں کی گزرگاہ‘‘ پر جاتے ہوئے؟ اِسی طرح سے داؤد نے محسوس کیا تھا جب اُس نے کہا،

’’کوئی میری جان کی فکر نہیں کرتا‘‘ (زبُور 142 :4).

اِس ہی طرح یسوع نے اُس رات کو محسوس کیا تھا جب اُس کو گرفتار کیا گیا تھا، اور

’’سارے شاگرد اُسے چھوڑ کر بھاگ نکلے‘‘ (متی 26:56).

اِس ہی طرح پولوس نے محسوس کیا تھا جب اُس نے کہا،

’’سب نے مجھے چھوڑ دیا‘‘ (2۔ تیموتاؤس 4:16).

اور ہماری تلاوت کہتی ہے،

’’کسی نے تجھ پر نظر کرم نہ کی، نہ اِس قدر رحم ہی کیا…‘‘ (حزقی ایل 16:5).

میں تنہا راہ پر گامزن ہوں
وہ واحد راہ جس کو میں کبھی جانتا تھا۔
جانتا نہیں ہوں یہ کہاں جاتی ہے
لیکن یہ میرے لیے گھر ہے اور میں تنہا چلتا ہوں۔

II۔ دوسری بات، خُدا نہیں چاہتا کہ آپ کھوئے ہوئے گمراہ اور تنہا ہوں۔

حزقی ایل 16:6 کو سُنیے۔ یہاں ہے جو ُخُدا نے اسرائیل سے کہا اور جو آج وہ آپ سے کہتا ہے۔ اُس تلاوت کو دوبارہ سُنیں،

’’اور جب میں تیرے پاس سے گزرا اور تجھے اپنے خون میں لوٹتے ہُوئے دیکھا اور جیسے تُو اپنے خون میں لوٹ رہی تھی میں نے تجھ سے کہا، جیتی رہ‘‘ (حزقی ایل 16:6).

اُس آیت پر ڈاکٹر جان ایف۔ والوورد Dr. John F. Walvoord نے یہ تبصرہ پیش کیا:

جب خُدا نے ایک جدوجہد کرتے ہوئے نوزائید بچے کو بے بسی کے ساتھ لُوٹتے ہوئے دیکھا (اپنے خون میں لت پت ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے)، وہ اُس کی مدد کے لیے آیا۔ اُس بچے کی زندگی ترازو میں لٹکی ہوئی تھی جب تک کہ خُدا نے اُس کی بقا کا فرمان جاری نہ کیا: میں نے [تجھ سے کہا جب تو اپنے خون میں لوٹ رہی تھی، جیتی رہ]؛ (جان ایف۔ والوورد اور رائے بی۔ زک John F. Walvoord and Roy B. Zuck، بائبل کے علم پر تبصرہ، پرانا عہد نامہ The Bible Knowledge Commentary, Old Testament، وکٹر کُتب Victor Books، 1985، صفحہ 1255)۔

یہ آیت یکدم مجھے اُس تمثیل کی یاد دلا دیتی ہے جو مسیح نے پیش کی تھی۔ مسٹر پردھوم Mr. Prudhomme نے اِس کی چند ایک منٹ پہلے تلاوت کی تھی۔ اُنہوں نے ایک شخص کے بارے میں بتایا تھا جو کہ ڈاکوؤں نے لوٹ لیا تھا، وہ زخمی حالت میں تھا اور یریحو جانے والے راستے پر تنہا، ادھموا مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔ ایک کاہن اُس کے پاس سے گزرا تھا، لیکن

’’وہ گزرگاہ سے کترا کر چلا گیا‘‘ (لوقا 10:31).

اُس راہ سے ایک اور شخص کا گزر ہوا

’’اور اُس پر نظر ڈالی اور اُسے دیکھ کر کترا کر چلا گیا‘‘ (لوقا 10:32).

آخر کار، کافی دیر کے بعد،

’’پھر ایک سامری جو سفر کررہا تھا وہاں آ نکلا۔ اور جب اُس نے اُسے دیکھا تو زخمی کو دیکھ کر اُسے بڑا ترس آیا‘‘ (لوقا 10:33).

اور اُس کو بچا لیا۔ خُدا نہیں چاہتا تھا کہ وہ زخمی شخص تن تنہا سڑک کے کنارے پر مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا۔ اور خُدا نہیں چاہتا کہ آپ اپنے گناہ میں مر جائیں جہنم میں ہمیشہ تک تنہا اپنی زندگی گزاریں۔ خُدا نہیں چاہتا کہ آپ تنہا اور گمراہ ہوں۔

’’خداوند … نہیں چاہتا کہ کوئی شخص ہلاک ہو بلکہ چاہتا ہے کہ سب لوگوں کو توبہ کرنے کا موقع ملے‘‘ (2۔ پطرس 3:9).

خُدا نہیں چاہتا کہ آپ تنہا اور گمراہ ہوں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مسیح آیا – گمراہ گنہگاروں کو بچانے کے لیے!

III۔ تیسری بات، خُدا نے اپنے بیٹے کو آپ کو گناہ اور تنہائی میں سے باہر نکالنے کے لیے بھیجا۔

خُدا نے کہا،

’’جب میں تیرے پاس سے گزرا اور تجھے اپنے خون میں لوٹتے ہُوئے دیکھا اور جیسے تُو اپنے خون میں لوٹ رہی تھی میں نے تجھ سے کہا، جیتی رہ‘‘ (حزقی ایل 16:6).

اُس آیت پر بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell نے کہا،

اسرائیل اُس بچے کی مانند تھا، جو آلودہ اور بیکار ہونے کی حیثیت سے باہر نکالا گیا، یقینی طور پر فنا ہو چکا ہوتا اگر خُدا پاس سے نہ گزرا ہوتا اور فضل اور رحم سے اُس کے پاس نہ گیا ہوتا (کرسویل کا مطالعہ بائبلThe Criswell Study Bible، حزقی ایل 16:6 پر غور طلب بات)۔

اور بالکل یہی ہے جو خُدا نے آپ کو بچانے کے لیے کیا! بائبل میں سب سے زیادہ مشہور و معروف آیت اِس بات کو واضح کرتی ہے:

’’کیونکہ خدا نے دنیا سے اِس قدر محبت کی کہ اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے‘‘ (یوحنا 3:16).

خُدا نے یسوع کو صلیب پر مرنے کے لیے بھیجا – آپ کے گناہ کا کفارا ادا کرنے کے لیے اور آپ کو فیصلے سے بچانے کے لیے۔ آپ گناہ میں ’’آلودہ‘‘ تھے،

’’خدا کی دی ہوئی زندگی [سے جُدا، کٹے ہوئے] میں اُن کا کوئی حِصہ نہیں‘‘ (افسیوں 4:18).

مگر خُدا نے یسوع کو آپ کو بچانے کے لیے بھیجا۔ کیوں؟ کیونکہ وہ آپ سے محبت کرتا ہے۔ اور آپ باقی سب کچھ بھول جائیں جو میں نے آج صبح کہا تو یہ یاد رکھیں – خُدا آپ سے محبت کرتا ہے! اُس نے کہا، ’’میں نے تم سے اِس قدر محبت کی کہ تمہیں تنہائی، گناہ اور جہنم سے بچانے کے لیے میں نے اپنا بیٹا صلیب پر مرنے کے لیے بھیج دیا۔‘‘ خُدا آپ سے محبت کرتا ہے! مسیح آپ سے محبت کرتا ہے! اور ہم بھی، یہاں گرجہ گھر میں، آپ سے محبت کرتے ہیں!

ہم باہر کالجوں میں، بازاروں اور سڑکوں پر گئے اور ہم نے آپ کو آج کی صبح گرجہ گھر میں آنے کی دعوت دی۔ ہم نے آپ کو آنے کے لیے کیوں کہا؟ کیونکہ مسیح نے ہمیں ایسا کرنے کے لیے کہا تھا۔ اُس نے کہا،

’’راستوں اور کھیتوں کی باڑوں کی طرف نکل جا اور لوگوں کو مجبور کر کہ وہ آئیں تاکہ میرا گھر بھر جائے‘‘ (لوقا 14:23).

اور آج کی صبح یہ ہی ہمارا آپ کے لیے پیغام ہے: ’’تنہا کیوں رہا جائے؟ گھر چلے آئیں – گرجہ گھر میں! گمراہ کیوں رہیں؟ گھر چلے آئیں – خُدا کے بیٹے یسوع مسیح کے پاس!‘‘

دھیمے اور نرمی سے یسوع بُلا رہا ہے، آپ کو اور مجھے بُلا رہا ہے،
دیکھیں، پھاٹکوں پر وہ دیکھ رہا اور انتظار کر رہا ہے، آپ کو اور مجھے دیکھ رہا ہے؛
گھر چلے آؤ، گھر چلے آؤ، تم جو تھکے ماندے ہو، گھر چلے آؤ؛
سنجیدگی سے، نرمی سے، یسوع بُلا رہا ہے، اے گنہگار، بُلا رہا ہے، گھر چلے آؤ!
(’’ دھیمے اور نرمی سے یسوع بُلا رہا ہے Softly and Tenderly Jesus is Calling‘‘ شاعر وِل ایل۔ تھامپسن Will L. Thompson، 1847-1909)۔

گرجہ گھر میں آنا اور ہمارے ساتھ ہونا یہ بہت زیادہ اچھا صاف سُتھرا شُغل ہے۔ کیوں نہ واپس آیا جائے اور آج کی رات ہمارے ساتھ 6:15 پر کھانا کھایا جائے؟ کیوں نہیں؟ کیوں نہ اگلے اِتوار دوبارہ واپس آیا جائے؟ ’’تنہا کیوں رہا جائے؟ گھر چلے آئیں – گرجہ گھر میں! گمراہ کیوں رہیں؟ گھر چلے آئیں –یسوع کے پاس، جو اپنے تمام دِل سے آپ کو چاہتا ہے!‘‘ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی کریں۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو مہربانی سے ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای۔میل بھیجیں اور اُنھیں بتائیں – (یہاں پر کلک کریں) rlhymersjr@sbcglobal.net۔ آپ کسی بھی زبان میں ڈاکٹر ہائیمرز کو خط لکھ سکتے ہیں، مگر اگر آپ سے ہو سکے تو انگریزی میں لکھیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظ www.realconversion.com یا
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پردھومMr. Abel Prudhomme نے کی تھی: لوقا10:30۔34.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
نے گایا تھا: ’’ٹوٹے ہوئے خوابوں کی گزرگاہ Boulevard of Broken Dreams‘‘ (شاعر گرین ڈے Green Day، 2004)\
’’ دھیمے اور نرمی سے یسوع بُلا رہا ہے Softly and Tenderly Jesus is Calling‘‘ (شاعر وِل ایل۔ تھامپسن Will L. Thompson، 1847-1909)۔

لُبِ لُباب

غیر مطلوب نسل

THE UNWANTED GENERATION

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’کسی نے تجھ پر نظر کرم نہ کی، نہ اِس قدر رحم ہی کیا کہ تیری خاطر اِن میں سے کچھ کرتا؛ بلکہ تجھے کھلے میدان میں پھینکا گیا کیونکہ جس دِن تُو پیدا ہُوئی اسی روز تُو حقیر ٹھہری۔ اور جب میں تیرے پاس سے گزرا اور تجھے اپنے خون میں لوٹتے ہُوئے دیکھا اور جیسے تُو اپنے خون میں لوٹ رہی تھی میں نے تجھ سے کہا، جیتی رہ‘‘ (حزقی ایل 16:5۔6).

I.    پہلی بات، آپ کھوئے ہوئے گمراہ اور تنہا محسوس کرتے ہیں، حزقی ایل16:5؛
زبور142:4؛ متی26:56؛ 2۔تیموتاؤس4:16 .

II.   دوسری بات، خُدا نہیں چاہتا کہ آپ کھوئے ہوئے گمراہ اور تنہا ہوں،
حزقی ایل16:6؛ لوقا10:31۔33؛ 2پطرس3:9 .

III.  تیسری بات، خُدا نے اپنے بیٹے کو آپ کو گناہ اور تنہائی میں سے باہر نکالنے کے
لیے بھیجا، حزقی ایل16:6؛ یوحنا3:16؛ افسیوں4:18؛ لوقا14:23 .