Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

شاگرد کیسے بنائے جائیں!
ایک منصوبہ جو دراصل کام کرتا ہے!

HOW TO MAKE DISCIPLES!
A PLAN THAT ACTUALLY WORKS!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی ایک شام، 5 جولائی، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, July 5, 2015

’’اِس لیے تُم جاؤ اور ساری قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُنہیں باپ، بیٹے اور پاک رُوح کے نام سے بپتسمہ دو، اور اُنہیں یہ تعلیم دو کہ ان سب باتوں پر عمل کریں جن کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے اور دیکھو! میں دنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہُوں‘‘ (متی 28:19۔20).

کافی عرصہ پہلے مجھے مقامی گرجہ گھر کی مرکزیت اور افضلیت کے بارے میں تعلیم دی گئی تھی۔ مجھے صحیح طور پر تو یاد نہیں ہے کہ میں نے کب یہ بات سُنی تھی – لیکن یہ بہت عرصہ پہلے کی بات رہی ہوگی کیونکہ مجھے وہ وقت یاد نہیں رہا جب میں نے اِس پر یقین نہیں کیا تھا۔ نئے عہد نامے میں ہر ایک بات مقامی کلیسیاؤں میں مرکوز ہے۔ جیم جینٹ Jim Gent نے کہا، لفظ ’’کلیسیا‘‘ نئے عہد نامے میں تقریباً 100 مرتبہ استعمال ہوا ہے… کلیسیا خُدا کا کوئی بعد میں آنے والا خیال نہیں ہے… ابتدائی مسیحیوں کے لیے، مقامی کلیسیا ہی الہٰی طور پر مذھبی عہدے پر فائز کی گئی اکائی تھی جس کے ذریعے سے خُدا کام کرنا چُنتا تھا، اور یہ اِس طرح کی واحد اکائی تھی‘‘ (جیم جینٹ Jim Gent، مقامی کلیسیا: سیارہ زمین کے لیے خُدا کا منصوبہ The Local Church: God’s Plan for Planet Earth، سیمرنہ اشاعت خانے Smyrna Publications، 1994، صفحات81، 83، 84)۔

وہ یونانی لفظ جس نے ’’کلیسیاchurch‘‘ کا ترجمہ کیا ’’ایکلسیاekklesia‘‘ ہے – اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ بُلائے ہوؤں کا اجتماع – اُن لوگوں کا اِکٹھا کیا ہوا ریوڑ جنہیں خُدا نے دُنیا میں سے بُلایا، اور اپنے روح کے وسیلے سے مسیح میں اکٹھا جوڑا۔ بجا طور پر بات کی جائے تو، ہم ’’گرجہ گھر کے لیے نہیں جاتے۔‘‘ ہم جو بچائے گئے ہیں ہم ہی کلیسیا یعنی گرجہ گھر ہیں! مسیح نے ہمیں متی 16:17، 18 میں کلیسیا کی بنیاد رکھنے کے بارے میں بتایا۔ پھر اُس نے ہمیں متی18:15۔20 میں ایک کلیسیا کے اختیار اور نظم و ضبط کے بارے میں بتایا۔ لیکن یہ بات اُس عظیم مقصد میں ہے جو مسیح ہمیں بتاتا ہے کہ ایک کلیسا کے لیے کیا کرنا فرض ہے، اُس کا مقصد اور مشن کیا ہے۔ مرقس16:15 میں مسیح نے کہا،

’’تم ساری دنیا میں جاکر تمام لوگوں میں انجیل کی منادی کرو‘‘ (مرقس16:15).

یہ حکم کہ ساری دُنیا میں جاؤ بار بار دہرایا گیا ہے۔ مگر متی 28:19، 20 میں یہ عظیم مقصد کا اہم موضوع نہیں ہے۔ ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell نے کہا، ’’ہر ایک دور میں کلیسیا… یسوع کا مقصد تھا۔ مقصد میں ناگزیر لفظ ’’تمام قوموں کو تعلیم دینا‘‘ ہے، زیادہ واضح طور پرکہا جائے تو ’شاگرد بنانا‘ پیش کیا گیا ہے‘‘ (کرسویل کا مطالعۂ بائبل The Criswell Study Bible، تھامس نیلسن پبلیشرز Thomas Nelson Publishers، 1979؛ متی 28:19۔20)۔

کچھ لوگ تو کہہ چکے ہیں کہ یہ حکم تو صرف شاگردوں کو دیا گیا تھا۔ یہ ایک غلط نظریہ ہے۔ ہمیں صرف اعمال کی کتاب پڑھنی ہے یہ دیکھنے کے لیے کہ نئے عہد نامے کی تمام کلیسیائیں اِس پر ایک حکم کی حیثیت سے یقین کرتی تھیں جو اُنھیں دیا گیا تھا – اور تمام کلیسیاؤں کو۔ اور ڈاکٹر کرسویل نے اِس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ’’تمام قوموں کو تعلیم دینا‘‘ لازمی موڈ میں اور واقعی میں ’’شاگرد بنانے‘‘ کے معنی میں ہے۔ میری دیرینہ پادری ڈاکٹر ٹموٹھی لِن Dr. Timothy Lin نئی امریکی معیاری بائبل کے ترجمانوں میں سے ایک تھے۔ اُنہوں نے ٹالبوٹ علم الہٰیات کی سیمنری Talbot Theological Seminary میں تعلیم دی تھی اور چینی انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والی سیمنری China Evangelical Seminary میں صدر بننے کے لیے چلے گئے تھے۔ ڈاکٹر لِن نے متی28:19۔20 کے یہ وضاحت پیش کی۔

عظیم مقصد میں چار افعال ہیں: ’’جاؤ go،‘‘ ’’شاگرد بناؤmake disciples،‘‘ ’’بپتسمہ دو baptize،‘‘ اور ’’تعلیم دو teach۔‘‘ صرف فعل ’’شاگرد بناؤ‘‘ لازمی موڈ میں ہے؛ باقی کے تمام تین صِفت فعلی یا لفظی صفت ہیں۔ اِس لیے، بالکل صحیح ترجمہ یوں ہونا چاہیے:

اِس لیے تمہیں جانا چاہیے اور ساری قوموں میں سے شاگرد بنانے چاہیے، اُنہیں خُدا باپ، بیٹے اور پاک روح کے نام میں بپتسمہ دینا چاہیے، اُس تمام کی پیروی کرنے کی تعلیم دینی چاہیے جس کا میں نے تمہیں حکم دیا؛ اور دیکھو، میں دُنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔

دوسرے لفظوں میں [یہاں] ’’جاؤ‘‘ ایک حکم نہیں ہے، مگر ’’شاگرد بنانا‘‘ ہے، اور یہ عظیم مقصد کا اہم موضوع بھی ہے (ٹموٹھی لِن، ایس۔ ٹی۔ ایم۔، پی ایچ۔ ڈی۔، Timothy Lin, S.T.M., Ph.D.، کلیسیا کی نشوونما کا راز The Secret of Church Growth، FCBC، 192، صفحہ59)۔

البرٹ بارنز Albert Barnes نے یہی بات کہی، ’’لفظ [تعلیم دینا] کا بجا طور پر مطلب ہوتا ہے ’شاگرد‘ یا شاگردوں کو بنانے کے بارے میں‘‘‘ (نئے عہد نامے پر بارنز کی غور طلب باتیں Barnes’ Notes on the New Testament، بیکر کُتب گھر Baker Book House، 1983 ایڈیشن؛ متی 28:19 پر غور طلب بات)۔ نئی انٹرنیشنل بائبل اِس کا ترجمہ یوں کرتی ہے ’’شاگرد بنانا‘‘ (NIV، متی 28:19)۔ ڈاکٹر آر۔ سی۔ ایچ۔ لینسکی Dr. R. C. H. Lenski، جو لوتھرن تبصرہ نگار ہیں، وہ بھی اِس کا اِس طرح سے ترجمہ کرتے ہیں، ’’اِس لیے، جاؤ، ساری قوموں کو شاگرد بناؤ‘‘ (مقدس متی کی انجیل کی تفسیر The Interpretation of St. Mathew’s Gospel، اُوگسبرگ اشاعتی گھر Augsburg Publishing House، 1961 ایڈیشن، صفحہ 1170)۔ چارلس جان ایلیکوٹ Charles John Ellicott اور جان پیٹر لینجJohn Peter Lange کے ذریعےسے بھی ’’شاگرد بناؤ‘‘ کا ترجمہ اُس کے تبصروں میں پیش کیا گیا۔ ولیم ھینڈریکسن William Hendriksen نے کہا، ’’’اِس لیے تم جاؤ، اور شاگرد بناؤ‘ خود اپنے آپ میں لازمی ہے۔ یہ ایک تیزطرار حکم ہے، ایک فرمان ہے‘‘ (متی کی انجیل The Gospel of Mathew، بیکر کُتب گھر Baker Book House، 1981 ایڈیشن، صفحہ 999)۔ اِس لیے عظیم مقصد کا مرکزی موضوع ایک مقامی کلیسیا کا مقصد اور مشن ہے۔ ہر ایک کام جو ہم مقامی گرجہ گھر یا کلیسیا میں کرتے ہیں اُس کو نکلنے یعنی جانےاور لوگوں کو شاگرد بنانے، پھر اُنہیں بپتسمہ دینے اور پھر اُن تمام باتوں کو ماننے کی تعلیم دینے کے اردگرد ہونا چاہیے جس کا مسیح نے حکم دیا۔ ’’ساری قوموں کے شاگرد بنانے‘‘ کے لیے مقامی گرجہ گھر کو ایک تربیتی سنٹر ہونا چاہیے۔ ہر ایک جو میرے واعظوں پر پوری توجہ دیتا ہے یہ بات جانتا ہے کہ میں کس قدر زیادہ ڈاکٹر جان آر رائس Dr. John R. Rice کو سراھاتا ہوں۔

میں اُن کے ساتھ ہر بات پر متفق نہیں ہوتا، مگر میں اُن کے بشروں کے جیتنے پر زور دینے کے ساتھ شدت سے متفق ہوں۔ متی 28:19، 20 کے عظیم مقصد کو وضاحت کے ساتھ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر رائس کو سُنیے۔ ڈاکٹر رائس نے کہا،

تقریباً ہر کوئی متفق ہو جائے کہ نجات دہندہ کے ذریعے سے عظیم مقصد کا بنایا گیا منصوبہ تقاضا کرتا ہے کہ بشروں کو جیتنے کو ترجحیح ملنی چاہیے، کہ بشروں کو جیتنا مسیحیوں، پادریوں اور کلیسیاؤں یعنی گرجہ گھروں کا اہم ترین کام ہونا چاہیے… [اِس لیے جاؤ، اور تمام قوموں کو تعلیم دو‘‘] غور کریں کہ یہاں پر ’’تعلیم دینا‘‘ کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ مسیحیوں کو کلام مقدس کی وضاحت کرنا۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ ’’شاگرد بنانا‘‘ … اِسی لیے، عظیم مقصد میں سب سے پہلے دی گئی تعلیم میں شاگرد بنانے کے لیے حکم دیا گیا (جان آر۔ رائس، ڈی۔ ڈی۔، لِٹریچر ڈی۔ John R. Rice, D.D., Litt.D.، کیوں ہمارے گرجہ گھر بشروں کو نہیں جیتتے Why Our Churches Do Not Win Souls، خُداوند کی تلوار پبلیشرز Sword of the Lord Publishers، 1966، صفحہ 22)۔

ڈبلیو۔ ای۔ وائن W. E. Vine کے ذریعے سے اُس یونانی لفظ ’’شاگرد‘‘ کا ترجمہ بالکل صحیح طریقے سے بیان کیا گیا ہے – ’’ایک شاگرد صرف ایک طالب علم [شاگرد] ہی نہیں ہوتا، بلکہ ایک پیروکار [بھی] ہوتا ہے؛ اِس لیے اُن کے بارے میں اپنے اُستادوں کے نقال کے طور پر بات کی جاتی ہے‘‘ (ڈبلیو۔ ای۔ وائن W. E. Vine، نئے عہد نامے کے الفاظ کی ایک تفسیراتی لُغت An Expository Dictionary of New Testament Words، فیلیمنگ ایچ۔ ریول اشاعت خانے Fleming H. Revell Publishers، 1966 ایڈیشن، صفحہ 316)۔

لیکن سوال اُٹھتا ہے – ہم کیسے نئے شاگردوں کو شامل کریں؟ میرے خیال میں ہمارے زمانے میں یہ ایک نازک سوال ہے۔ ہم پرانے بے شمار طریقوں کو آزما چکے ہیں، جنہوں نے شاید ماضی میں تو کام کیا ہو، مگر آج مقامی گرجہ گھر میں نئے لوگوں کو نہیں لاتے۔ وہ بس کام ہی نہیں کرتے! کِتابچے بانٹ دینے سے گرجہ گھر میں نئے شاگرد شامل نہیں ہوتے۔ دروازوں کے کُنڈوں پر دعوت نامے لٹکا دینے سے کام نہیں چلتا۔ در در جا کر لوگوں کے ساتھ نام نہاد کہلائی جانے والی ’’گنہگار کی دعا‘‘ پڑھنے سے کام نہیں بنتا۔ ہر کوئی جو اِن پرانے طریقوں کو سنجیدگی سے آزماتا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ نئے شاگردوں کو گرجہ گھر میں لے کر نہیں آتے۔

جب میں پہلے ایمان لا کر مسیح میں تبدیل ہوا تھا تو میں جان ویزلیJohn Wesley کا جریدہ پڑھ رہا تھا۔ یہ جان ویزلی کا طریقہ تھا کہ وہ باہر نکل جاتا اور میدانوں میں منادی کرتا۔ تب کچھ لوگ اُس کے پاس آتے اور وہ اُن کو چھوٹے گروہ میں تقسیم کر دیتا۔ میں نے سوچا تھا انجیلی بشارت کا پرچار کرنے کا وہی طریقہ تھا۔ اِس لیے ہر روز کام کے بعد لاس اینجلز کے مرکز میں میں سڑکوں پر جاتا اور منادی کرتا۔ مگر بہت کم نتائج نکلتے۔ میں ایک بوڑھے جوڑے کو اُن کے گھر میں اُمید کی بھرپوری کے ساتھ مسیح کے لیے رہنمائی کرنے کا اہل ہوا شوہر کے مجھے سڑک پر منادی کرتے ہوئے سُننے کے بعد۔ مگر وہ دو لوگ ہی واحد پھل تھے دو سالوں تک سڑکوں پر منادی کر چکنے کے بعد!

اُس کے بعد میں نے کتابچے بانٹنے کی کوشش کی۔ جب ہم نے اِس گرجہ گھر کا آغاز کیا تھا تو ہم نے مسلسل کتابچے بانٹے تھے۔ میں نے اندازہ لگایا کہ ہم نے تقریباً آدھا ملین نجات کے کتابچے تقسیم کیے۔ وہ ہمارے خود کے کتابچے تھے گرجہ گھر کے نام اور فون نمبر کے ساتھ۔ لیکن، کئی سالوں کے بعد، اور ہزاروں لاکھوں کتابچے بانٹ چکنے کے بعد ہمیں یہاں تک کہ ایک بھی شخص ہمارے گرجہ گھر کے لیے نہیں ملا! ایک بھی نہیں!

پھر ہم نے در در جانے کی کوشش کی اور نجات کے منصوبے کی تعلیم دینے کی کوشش کی۔ بالاآخر میں نے ایک ٹیپ کی ریکارڈنگ تیار کی، جو بچائے جانے کی تفصیل بیان کرتی تھی۔ ہمارے لوگوں نے اُس ٹیپ ریکارڈنگ کو ہزاروں کی تعداد میں گمراہ لوگوں کو بجا کر سُنایا۔ انتہائی کم لوگ، تقریباً کوئی بھی نہیں گرجہ گھر میں آیا! اُن میں سے جو آئے تھے کوئی بھی نوجوان نہیں تھا۔ میں کم از کم کسی ایک کا بھی نہیں سوچ سکتا جو ہمارے ساتھ رُکا ہو!

آخر کار ہم نے سادگی سے مدعو کرنا شروع کیا۔ ہم نے بائبل یا کتابچے یا کوئی اور لِٹریچر ساتھ نہیں لیا۔ ہم نے اپنے لوگوں کو بازاروں، کالجوں اور کچھ چُنیدہ چوراہوں پر باہر بھیجنا شروع کیا۔ وہ لوگوں سے ملتے اور اُن کے ساتھ عمومی سی گفتگو کرتے۔ وہ لوگوں کو ہمارے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں ایک دعوت کے لیے مدعو کرتے۔ وہ پھر اُس شخص سے اُن کا پہلا نام اور فون نمبر مانگتے۔ ہم نوجوان لوگوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔ ڈاکٹر ٹموتھی لِن نے کہا، ’’شماریات کے مطابق، چالیس سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی شرع جو مسیح کو پاتے ہیں انتہائی کم ہے، خصوصی طور سے چینیوں میں‘‘ (ibid.، صفحہ 73)۔ دراصل، تاہم، یہ تو حتٰی کہ غیر چینیوں میں اِس سے بھی کم ہے! دوسری شماریات ظاہر کرتی ہیں کہ تقریباً ساری تبدیلیاں (90 % یا زیادہ) 30 سال کی عمر سے پہلے ہوتی ہیں۔ یہ بات مجھے حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے کہ آخری ایام میں بے شمار مبلغین بشروں کو جیتنے کی اپنی تقریباً تمام کی تمام کوششیں بوڑھے لوگوں پر صرف کرتے ہیں۔ جب کہ تمام مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ مزاحمت کرنے والا عمر کا گروہ ہے! ڈاکٹر لِن نے کہا کہ ہمیں اپنی سب سے زیادہ کوششیں نوجوان لوگوں کو شاگرد بنانے میں کرنی چاہیے۔ اِس لیے ہم اُن کو ہدف بناتے ہیں جو 16 اور 25 سال کی عمر کے درمیان ہوتے ہیں۔ آخری ایام میں بے شمار مبلغین فوری نتائج چاہتے ہیں۔ اِس لیے وہ ہر ممکن طور سے ’’تیار شُدہ‘‘ مسیحیوں کو دوسرے گرجہ گھروں سے حاصل کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کو اُن کے پرانے گرجہ گھروں کو چھوڑنے اور اُن کے ساتھ چلنے کے لیے رضا مند کرتے ہیں۔ ڈاکٹر جیمس ڈابسن Dr. James Dobson نے کہا تقریباً ہمارے تمام گرجہ گھروں میں اِضافہ منتقل ہونے کی وجہ سے ہے۔ یہ ایک المناک صورتحال ہے۔ مبلغین ایسا کرنے کے لیے مجبور ہوتے ہیں کیوںکہ وہ نہیں جانتے کہ گمراہ دُنیا میں سے کیسے نئے شاگردوں کو حاصل کیا جائے۔ بے شمار مبلغین کو اندازہ ہی نہیں کہ کیسے گمراہ لوگوں کو متوجہ کیا جائے اور اُنہیں شاگرد بنایا جائے اور مسیح میں ایمان دلا کر تبدیل کیا جائے۔ اُنہیں کوئی اندازہ نہیں کہ کیا کریں! وہ صرف دوسرے گرجہ گھروں سے ’’بھیڑیں چُرا‘‘ سکتے ہیں! کوئی تعجب نہیں کہ کوئی حیاتِ نو نہیں ہوتا!

جب ہمارے لوگ ’’انجیلی بشارت کا پرچار‘‘ کر کے واپس آتے ہیں تو وہ اُن فون نمبروں اور ناموں کو جو اُنہوں نے حاصل کیے ہوتے ہیں فون کرنے والوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ فون کرنے والے لوگ سیکھ چکے ہیں کہ کیسے اِن لوگوں کو فون کیا جائے اور اُنہیں ہمارے ساتھ ہونے کے لیے مدعو کیا جائے۔ ہم اُنہیں بالکل صحیح طور پر بتاتے ہیں کہ وہ کس لیے آ رہے ہیں – میں بات کروں گا، پھر ایک سالگرہ کی دعوت منائیں گے اور ایک کھانا اکٹھا کھائیں گے۔ کوئی نہ کوئی ایسا ہوتا ہی ہے جس کی چند ایک دِنوں میں سالگرہ آ رہی ہوتی ہے! نئے لوگوں کے کچھ ہفتوں تک آ چکنے کے بعد ہم اُنہیں انجیلی بشارت کا پرچار کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ہم اُن کے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کا انتظار نہیں کرتے۔ ہم یسوع کی مثال کی پیروی کرتے ہیں۔ اُس نے شمعون پطرس کو بُلایا، شکی تھوما کو بُلایا اور دوسروں کو اس کی شاگرد ہونے کی حیثیت سے اُس کی پیروی کرنے کے لیے بُلایا تھا اِس سے پہلے کہ وہ خوشخبری کو سمجھتے اور مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوتے۔ یہوداہ تین سالوں تک میسح میں ایمان نہ لا کر کبھی بھی تبدیل نہ ہوئے بغیر ہی شاگرد رہا تھا۔ یوں، وہ شاگرد بن چکے تھے اُن کے بچائے جانے سے پہلے ہی! یہ طریقہ تھا جو یسوع نے استعمال کیا۔ اور یہ ہی واحد طریقہ ہے جس کی میں کوشش کر چکا ہوں جو کام کرتا ہے!

اِس کے علاوہ، یسوع نے اُن کو شاگردی میں آنے میں کوئی ’’لچک‘‘ نہیں مہیا کی تھی۔ جی نہیں! اُس نے اُن کو اِس میں جکڑ لیا تھا! غور کریں کیسے اُس نے پہلے شاگردوں کو بلایا۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ یسوع نے شمعون پطرس اور اندریاس کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھا تھا۔ یسوع نے اُن سے کہا، ’’میرے پیچھے آؤ‘‘ اور انھوں نے فوراً اپنے جال چھوڑے اور اُس کے پیچھے چل دیے(دیکھیں متی 4:19،20). پھر یسوع نے یعقوب اور یوحنا کو ایک چھوٹی کشتی میں دیکھا۔ اُس نے اُنھیں بلایا۔ ’’اور انھوں نے فوراً کشتی چھوڑ دی… اور اُس کے پیچھے چل دیے‘‘ (متی 4:21،22). انھیں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ وہ کون تھا۔ انھوں نے کہا، ’’یہ کس قسم کا آدمی ہے؟‘‘ (متی 8:27). اُس وقت تک اُس کے آٹھ شاگرد ہو چکے تھے۔ انھیں ابھی تک معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کون تھا۔ یسوع نے کیا کِیا تھا؟ اُس نے انھیں دو دو کر کے خوش خبری کا پرچار کرنے کے لیے بھیجا تھا!

پھر اُس نے انھیں فریسیوں کے ساتھ ایک کے بعد دوسرے تنازعے میں رہنمائی کی۔ وہ امیر نوجوان حکمران سے ملے۔ اُس نے یسوع سے پوچھا دائمی زندگی پانے کے لیے اُسے کیا کرنا چاہیے۔ یسوع نے کہا، ’’اپنا سب کچھ بیچ کرغریبوں کی مدد کر تو تجھے آسمان پر خزانہ ملے گا اور آ کر میرے پیچھے ہو لے‘‘ (حوالہ دیکھیں متی 19:21). امیر نوجوان آدمی غمگین ہو کر چلا گیا۔ وہ شاگرد نہیں بنا تھا۔

پھر یسوع نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ وہ مصلوب ہونے کے لیے یروشلیم جا رہا تھا۔ انھیں کوئی اندازہ نہیں تھا اُس کا [یسوع] کیا مطلب تھا۔ تقریباً تین سال گزر چکے تھے اور وہ ابھی تک خوش خبری کو سمجھ نہیں پائے تھے! انھوں نے نئے سِرے سے جنم لینے سے پہلے ہی شاگرد بننا سیکھ لیا تھا! جب یسوع گرفتار کیا گیا تھا اور مصلوب کرنے کے لیے لے جایا گیا تھا تو وہ سب بھاگ گئے تھے اور آخر کار ایک بالا خانے میں چِھپ گئے تھے۔ پاشکا کے اتوار کی شام جی اٹھا یسوع اُن کے پاس آیا تھا وہ خوشی سے لبریز ہو گئے تھے جب انھوں نے اُسے زندہ دیکھا! پھر اُس نے اُن پر پھونکا، اور کہا، ’’تم پاک روح پاؤ‘‘ (یوحنا 20:22). ڈاکٹر جے۔ ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے کہا، ’’میں ذاتی طور پر یقین کرتا ہوں کہ جس لمحے ہمارے خداوند نے اُن پر پھونکا اور کہا، ’تُم پاک روح پاؤ،‘ یہ لوگ نئے ہو گئے تھے [دوبارہ جنم لیا تھا]۔ اُس سے قبل وہ خدا کی روح کے ذریعے سے بسائے نہیں گئے تھے‘‘ (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔، J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، جِلد چہارم، صفحہ۔ 498؛ یوحنا 20:22 پر غور طلب بات(۔

میرے خیال میں ڈاکٹر میگی بالکل درست تھے۔ لیکن اگر آپ اُن کے ساتھ مکمل طور پر اُس آکر نقطے پر متفق نہیں بھی ہوتے تو یہ بات واضح ہے کہ مسیح نے رسولوں کو ایک بالکل ہی مختلف انداز میں شاگرد بنایا تھا جس طرح سے آج ہمارے گرجا گھر کرتے ہیں۔ اُس نے کسی بھی اور بات سے پہلے اُنھیں شاگرد بنایا تھا۔

گزشتہ سو سالوں سے ہم لوگوں کو مسیح کے پاس پہلے ’’لانے کی‘‘ کوشش کر چکے ہیں۔ اور پھر بعد میں ہم اُن پر ’’کسی نتیجے پر‘‘ پہنچتے ہیں۔ مسیح نے اِس کا بالکل اُلٹ کیا تھا۔ یہ میری اُمید ہے کہ کچھ نہ کچھ اُس ناکام طریقے سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے – اور واپس اُس ہی طریقے پر چلے جائیں گے جس سے یسوع نے شاگرد بنائے تھے۔ اور اگر آپ یہاں پر ہمارے ساتھ ہیں، تو میں آپ سے یسوع مسیح کے شاگرد بننے کے لیے پوچھ رہا ہوں۔ تمام راستہ طے کر کے ہمارے گرجہ گھر میں شمولیت اختیار کریں! صلیب اُٹھا لیں اور یسوع کے پیچھے چل دیں! اتوار کی صبح اور اِتوار کی شام کو آئیں! اور ہفتے کی شام کو دعائیہ اجلاس میں بھی تشریف لائیں!ایک سنجیدہ مسیحی زندگی کو گزارنا سیکھیں۔ پھر یسوع پر بھروسہ کریں اور نئے سرے سے جنم لیں – اور اُس کے خون کے وسیلے سے تمام گناہ سے پاک صاف ہو جائیں۔ آمین۔

میں آپ سے ہمارے ساتھ چلنے کے لیے پوچھ رہا ہوں۔ میں آپ سے مسیح کے شاگرد بننے کے لیے پوچھ رہا ہوں – وہ جو اُس سے سیکھتا ہے اور اُس کے پیچھے چلتا ہے۔ میں آپ کو ہر راہ سے گزر کر ہمارے گرجہ گھر میں آنے کے لیے کہہ رہا ہوں، اِتوار کی صبح کو اور اِتوار کی رات کو – اور ہفتے کی رات کو دعا مانگنے اور انجیلی بشارت کا پرچار کرنے کے لیے۔ ہمارے ساتھ آئیں اور مسیح آپ کو ’’آدمیوں کا مچھیرا‘‘ بنا دے گا! وہ آپ کو بشروں کو جیتنے والا بنا دے گا – آدمیوں کا مچھیرا! یسوع نے کہا، میرے پیچھے آ، اور میں تجھے آدمیوں کا مچھیرا بنا دوں گا‘‘ (متی4:19)۔ اُس کورس کو میرے ساتھ گائیں!

میں تمہیں اِنسانوں کو پکڑنے والا بناؤں گا،
   اِنسانوں کو پکڑنے والا، اِنسانوں کو پکڑنے والا،
میں تمہیں اِنسانوں کو پکڑنے والا بناؤں گا
   اگر تم میرے پیچھے ہو لو۔
اگر تم میرے پیچھے ہولو، اگر تم میرے پیچھے ہو لو،
   میں تمہیں اِنسانوں کو پکڑنے والا بناؤں گا
اگر تم میرے پیچھے ہو لو!
(’’میں تمہیں اِنسانوں کو پکڑنے والا بناؤں گا I Will Make You Fishers of Men‘‘ شاعر ھیری ڈی۔ کلارک Harry D. Clarke، 1888۔1957)۔

اُنہیں اندر لے کر آئیں، اُنہیں اندر لے کر آئیں،
   اُنہیں گناہ کے میدانوں میں سے اندر لے کر آئیں؛
اُنہیں اندر لے کر آئیں، اُنہیں اندر لے کر آئیں،
   آوارہ گردی کرتے ہوؤں کو یسوع کے پاس لائیں۔
(’’اُنہیں اندر لے کر آئیںBring Them In‘‘ شاعر ایلیکسزینہ تھامس Alexcenah Thomas، 19ویں صدی)۔

مسیح آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر مرا تھا۔ اُس نے آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے اپنے قیمتی خون کو بہایا۔ آپ کو دائمی زندگی بخشنے کے لیے وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ یسوع پر بھروسہ کریں اور وہ آپ کو بچا لے گا۔ ہمارے ساتھ لوگوں کو جیتنے کے لیے آئیں۔ آمین۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو مہربانی سے ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای۔میل بھیجیں اور اُنھیں بتائیں – (یہاں پر کلک کریں) rlhymersjr@sbcglobal.net۔ آپ کسی بھی زبان میں ڈاکٹر ہائیمرز کو خط لکھ سکتے ہیں، مگر اگر آپ سے ہو سکے تو انگریزی میں لکھیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: 1کرنتھیوں26۔31.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
     نے گایا تھا: ’’اُنہیں اندر لے کر آئیںBring Them In‘‘ (شاعر ایلیکسزینہ تھامس Alexcenah Thomas، 19ویں صدی)۔