Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

وہ آپ کو مضبوطی سے تھامے رہے گا!

HE WILL HOLD YOU FAST!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 28 جون، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, June 28, 2015

’’میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہُوں۔ وہ کبھی ہلاک نہ ہوں گے اور کوئی آدمی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا‘‘ (یوحنا 10:28).

مجھے ایک مبلغ کو وہ کہتے ہوئے سُننا یاد ہے کہ اِس وعدے کی کبھی بھی کافروں کے لیے منادی نہیں کرنی چاہیے۔ اُس نے کہا کہ گمراہ لوگ مغرور ہو جائیں گے۔ یہ اُنہیں گناہ کی جانب رہنمائی کرے گا۔ اُنہیں ایک بے چین حالت میں ہی رکھنا چاہیے، کبھی بھی یقین نہیں کرنے دینا چاہیے کہ وہ خاتمے تک ’’قائم رہ‘‘ پانے کے قابل ہونگے۔ چند لمحوں کے لیے میں نے اِس پر یقین کر لیا۔ میں جانتا ہوں کہ بے شمار مخلص مسیحی اُس نظریے پر قائم ہیں۔ وہ مبلغین جو اِس پر یقین کرتے ہیں اکثر اِس تلاوت سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔

لیکن ہمیں اُن لوگوں پر نظر ڈالنی چاہیے جنہوں نے مسیح کو پہلی جگہ پر اِس بات کی منادی کرتے ہوئے سُنا تھا۔ آیت 31 کے مطابق اُنہوں نے ’’پتھر دوبارہ اُس کو سنگسار کرنے کے لیے اُٹھا لیے‘‘ (یوحنا10:31)۔ یہ بات کہنے کے لیے اُنہوں نے مسیح سے نفرت کی تھی۔ مسیح نے اِس حوالے کی منادی کافروں کو دی تھی۔ میں پُریقین ہوں کہ یہاں پر ہمارے درمیان کچھ کافر موجود ہیں۔ ہم ہر عبادت میں غیرنجات یافتہ لوگوں کے یہاں ہونے کے لیے سخت محنت کرتے ہیں اور بہت زیادہ دعا مانگتے ہیں۔ میں آپ سے بھی وہی بات کہوں گا جو یسوع نے اُن غیرنجات یافتہ لوگوں کے غضیلے ہجوم سے کہی تھی،

’’میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہُوں۔ وہ کبھی ہلاک نہ ہوں گے اور کوئی آدمی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا‘‘ (یوحنا 10:28).

’’میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہوں۔‘‘ سیاق و سباق ہمیں بتاتا ہے کہ ’’اُنہیں‘‘ مسیح کی بھیڑوں کی جانب حوالہ دیتا ہے۔ ’’میری بھیڑیں میری آواز سُنتی ہیں، اور میں اُنہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے پیچھے چلتی ہیں‘‘ (یوحنا10:27)۔ ’’میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہوں۔‘‘ ہم یہ بتانے کے لیے لوگوں کا ذہن نہیں پڑھ سکتے کہ آیا وہ مسیح کی بھیڑیں ہیں یا نہیں۔ مگر ہماری تلاوت سے پہلے جو آیت ہے وہ ہمیں بتاتی ہے کہ کیسے جانا جائے کون خُدا کے لوگ ہیں۔ ’’میری بھیڑیں میری آواز سُنتی ہیں، اور میں اُنہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔‘‘ سچے مسیحیوں کی علامتیں یہ ہیں – وہ مسیح کی سُنتے ہیں، وہ اُس کو جانتے ہیں اور یسوع اُنہیں جانتا ہے، اور وہ اُس کی فرمانبرداری میں اُس کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں۔ یہ ایک حقیقی مسیحی کی نشانیاں ہیں۔ اور یہ اُنہی کے بارے میں ہے کہ یسوع بتاتا ہے۔

’’میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہُوں۔ وہ کبھی ہلاک نہ ہوں گے اور کوئی آدمی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا‘‘ (یوحنا 10:28).

’’ایمان جو محبت کے ذریعہ اثر کرتا ہے‘‘ (گلِتیوں5:6) مسیح کی سچی بھیڑ کی نشانی ہے۔ یہ اُنہی کے لیے ہے جو یسوع کہتا ہے، ’’میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہوں اور وہ کبھی ہلاک نہ ہوں گے اور کوئی آدمی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا۔‘‘ ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز نے کہا، ’’مسیح میں ہم امتحان کی حالت میں نہیں ہوتے اور فضل سے ہمارے گمراہ ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا‘‘ (یقین دہانی Assurance (رومیوں5)، دی بینر اور ٹرتھ ٹرسٹ The Banner of Truth Trust، 1971، صفحہ236)۔

کوئی شاید کہے، ’’میں انجیل کے شکنجے میں ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ مجھے مسیح کے پاس ضرور آنا چاہیے اور اُسی دوران میں جانتا ہوں کہ میں نہیں آ سکتا۔ مجھے آنا چاہیے مگر میں نہیں آ سکتا۔ مجھے کیا کرنا چاہیے؟‘‘ اِس کا جواب سادہ سا ہے، مسیح کے آگے سرنگوں ہو جائیں۔ اُس کو پکاریں۔ وہ آپ کے تمام سوالوں کے جواب دے گا۔ وہ انجیل کے شکنجے کو ہتھوڑی کے ساتھ توڑ دے گا اور آپ کی جان کو بچا لے گا۔ آپ کہتے ہیں، ’’میں اِس بات کو نہیں سمجھ سکتا۔‘‘ بے شک نہیں سمجھ سکتے۔ یہ ایک بھید ہے۔ یونانی لفظ ’’مسٹیرین musterion‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے کچھ ایسا جس کو انسان کا ذہن سمجھ نہیں سکتا، مگر جو بائبل میں اِس کے باوجود بھی سچا ہے۔ پولوس رسول نے کہا، ’’ہم خُدا کی وہ حکمت پیش کرتے ہیں جو کسی وقت ایک بھید کی طرح پوشیدہ تھی۔ لیکن اب ظاہر کی گئی ہے اور جسے خُدا نے زمانے کے آغاز سے پہلے ہی ہمارے جلال پانے کے لیے مقرر کر دیا تھا‘‘ (1کرنتھیوں2:7)۔ خود کو مسیح کے حوالے کر دیں۔ اُس پر بھروسہ کریں۔ اُسی میں آپ کے تمام سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔ وہ آپ کے اپنے خون اور راستبازی کے وسیلے سے بچا لے گا۔ اور وہ آپ کو اپنے سے کبھی جُدا نہیں ہونے دے گا۔ وہ آپ کو اِس سب میں سے گزرنے کے لیے اپنے ساتھ رکھے گا۔ آپ مسیح کی بھیڑوں میں سے ایک ہونگے!

’’میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہُوں۔ وہ کبھی ہلاک نہ ہوں گے اور کوئی آدمی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا‘‘ (یوحنا 10:28).

ہماری تلاوت کے تین جملے مسیح کی بھیڑ کی دائمی حفاظت میں یقین رکھنے کے لیے تین وجوہات پیش کرتی ہے

I۔ پہلی بات، یہاں پر مسیح کا تحفہ ہے۔

پہلی بات وہ نجات دہندہ کہتا ہے، ’’میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہوں۔‘‘ دائمی زندگی ہم میں سے ہر ایک کے پاس ایک تحفے کی حیثیت سے ملتی ہے۔ جب ہم پیدا ہوئے تھے تو دائمی زندگی کے مختیار نہیں تھے۔ ہم آدم کے بچوں کی حیثیت سے پیدا ہوئے تھے۔ ہم مرنے کے لیے پیدا ہوئے تھے۔ ہم نے اِس کو کسی عمل کے ذریعے سے حاصل نہیں کیا تھا۔ ہم اِس کو کوئی نیکی کرنے سے بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ ہم اِس کو بائبل کی آیت سیکھنے سے بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ ہم دعا کے الفاظ ادا کرنے سے بھی اِس کو نہیں پا سکتے۔ یہ ایک تحفہ ہے۔ چونکہ یہ ایک تحفہ ہے اِس لیے اِس کو کمایا نہیں جا سکتا۔ جب ایک ہستی کو اُس کی جان میں دائمی زندگی ملتی ہے تو یہ ایک مفت تحفہ ہوتی ہے۔ ہم اِس کو ایک انعام کی حیثیت سے نہیں پاتے ہیں۔ یہ ایک مفت کا تحفہ ہوتی ہے۔

خُدا خاتمے کو ابتدا سے ہی جانتا ہے۔ جب وہ ایک آدمی کو دائمی زندگی بخشتا ہے تو وہ انسان میں ہر ایک ادُھورے پن اور ناکامی کو جانتا ہے۔ وہ پہلے سے ہی جانتا ہے کہ کیسے کبھی کبھار انسان ناکام ہو جاتا ہے۔ وہ کبھی بھی انسان کو دائمی زندگی نہ بخشتا اور پھر اِس کو کسی ناکامی کی وجہ واپس لے لیتا – کیونکہ وہ انسان کو تحفہ بخشنے سے پہلے ہی جانتا ہے کہ اُس کوکن ناکامیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔

یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ آپ کو دائمی زندگی بخشی جائے اور پھر آپ مر جائیں؟ جب یسوع ’’دائمی‘‘ کہتا ہے تو اُس کا مطلب ہوتا ہے ’’دائمی۔‘‘ سپرجیئن Spurgeon نے کہا، ’’کسی بھی طور سے جو کچھ بھی ہے میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ گناہ کر کے اُس روحانی زندگی کو کھو دوں۔‘‘ یہ ’’دائمی زندگی‘‘ ہے۔

جب مسیح نے کنویں پر عورت سے بات کی تھی تو اُس نے کہا،

’’لیکن جو کوئی وہ پانی پیتا ہے جو میں دیتا ہُوں وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جو پانی میں دُوں گا وہ اُس میں زندگی کا چشمہ بن جائے گا اور ہمیشہ جاری رہے گا‘‘ (یوحنا 4:14).

اصلاحی مطالعہ بائبل The Reformation Study Bible کہتا ہے، ’’پرانے عہد نامے میں زندگی کا چشمہ بہتے پانی [کی بات کرتا] ہے – جو کہ تلاوت کے معنوں میں [خُدا کی] سرگرمی کے حوالے سے استعمال کیا گیا۔‘‘ چشمہ کا پھوٹ پڑنا‘‘ اُس کی لبریزیت کو ظاہر کرتا ہے؛ ’’دائمی زندگی‘‘ کبھی نہ ختم ہونے والی ہوتی ہے اور فراوانی کے ساتھ ہمیشہ تک رہتی ہے! یہ انسان کی جان میں باطن میں خُدا کی انتہائی زندگی ہوتی ہے! یسوع اپنی بھیڑوں کو اُن کے دِلوں میں خُدا کی کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی بخشتا ہے – جو ہمیشہ جاری رہے گی – کبھی بھی ختم نہیں ہوگی – ہمیشہ رواں رہے گی! یہ ایک تحفہ ہے۔ اِس کو کمایا نہیں جا سکتا۔ یہ مسیح کی جانب سے ایک تحفہ ہے۔ وہ کبھی بھی جو بخشتا ہے اُس کو واپس نہیں لیتا!

کوئی نہ کوئی کہتا ہے، ’’مگر کیا ہو اگر میں ثابت قدم نہ رہوں؟ کیا ہو اگر میں ہمت ہار جاؤں؟ ہائے، دوست، آپ ابھی بھی قرون وسطیٰ کے ایک کاتھولک کی مانند سوچ رہے ہیں! یہ آپ کے ذریعے سے کمائی نہیں جا سکتی! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ تو ’’گناہوں میں مُردہ‘‘ ہوتے ہیں۔ کیسے ایک مُردہ شخص ثابت قدم رہ پائے گا؟ کیسے ایک مُردہ شخص نجات کو حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر پائے گا؟ خُداوند کا شُکر ہو، بائبل کہتی ہے،

’’اُس نے [خُدا نے] ہمیں جب کہ ہم اپنے قصوروں کے باعث مُردہ تھے مسیح کے ساتھ[ہمیں زندہ] کیا، (اُسی کے فضل سے تمہیں نجات ملی ہے؛)‘‘ (افسیوں 2:5).

دائمی زندگی ایک مُردہ جان کو بخشی جاتی ہے۔ دائمی زندگی ایک تحفہ ہے، جو اُن مردوں اور عورتوں کو بخشا جاتا ہے جو گناہ میں مُردہ ہوتے ہیں! یہ انجیل کی خوشخبری ہے! خُداوند کی ستائش ہو! ’’میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہوں؛ اور وہ کبھی ہلاک نہ ہوں گے‘‘ (یوحنا10:28)۔

وہ میری جان کو گمراہ نہیں ہونے دے گا، وہ مجھے مضبوطی سے تھامے رہے گا؛
   اِس قدر بھاری قیمت چکا کر اُس نے خریدا، وہ مجھے مضبوطی سے تھامے رہے گا۔
وہ مجھے مضبوطی سے تھامے رہے گا، وہ مجھے مضبوطی سے تھامے رہے گا؛
   کیونکہ میرا نجات دہندہ مجھے اِسی قدر پیار کرتا ہے، وہ مجھے مضبوطی سے تھامے رہے گا۔
(’’وہ مجھے مضبوطی سے تھامے رہے گاHe Will Hold Me Fast ‘‘ شاعر ایڈا آر۔ ہیبرشون Ada R. Habershon، 1861۔1918)۔

سپرجیئن نے کہا، ’’ہم ایماندار سے توقع کرتے ہیں کہ وہ آخر تک ثابت قدم رہے، کیونکہ جو زندگی خُداوند نے اُس کے باطن میں ثابت کر دی ہے وہ اُس قدرت کی ہوتی ہے کہ اُس کو اپنی وجودیت جاری رکھنی چاہیے، تمام مشکلات کو فتح کرنا ہوتا ہے، پختۂ کار ہونا چاہیے… اُس کو دائمی جلال میں لانا چاہیے‘‘ (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن، ’’مفروضے کے بغیر ثابت قدمی،‘‘ MPT، نمبر 1,055)۔ اِسے ہونا چاہیے! اِسے ہونا چاہیے! اِسے آپ کو دائمی جلال میں لانا چاہیے! یہ ایک تحفہ ہے! یہ یسوع مسیح کا ایک تحفہ ہے! وہ کہتا ہے، ’’میں اُنہیں دائمی زندگی دیتا ہوں۔‘‘ اُس کے پاک نام کو جلال ہو! وہ ہمیں دائمی زندگی بخشتا ہے! ہم اِس کے لیے کوئی بھی ادائیگی نہیں کرتے۔ یسوع نے صلیب پر اپنی موت کے ذریعے سے اِس کی قیمت چکائی! اُس نے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وسیلے سے اِس کو ہمارے لیے حاصل کیا!

ھیلیلویاہ، یہ ہو چکا ہے! میں بیٹے پر یقین رکھتا ہوں؛
میں مصلوب کیے گئے کے خون کے وسیلے سے بچایا گیا ہوں!
   (’’ھیلیلویاہ! کیسا ایک نجات دہندہ! Hallelujah, What a Saviour! ‘‘ شاعر فلپ پی۔ بِلس Philip P. Bliss، 1838۔1876)۔

’’میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہُوں۔ وہ کبھی ہلاک نہ ہوں گے اور کوئی آدمی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا‘‘ (یوحنا 10:28).

دائمی زندگی مسیح کا تحفہ ہے۔

II۔ دوسری بات، یہاں مسیح کا وعدہ ہے۔

میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہوں؛ اور کبھی بھی ہلاک نہ ہوں گے…‘‘ وہ کہتا ہے، ’’میں یہ کرتا ہوں۔‘‘ کتنا شاندار ایک وعدہ! ’’وہ کبھی بھی ہلاک نہ ہوں گے۔‘‘ میں خوش ہوں کہ اُس نے وہ کہا۔ کچھ لوگ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ خود اپنے فیصلوں کے ذریعے سے شاید باہر جاتے ہیں۔ وہ شاید اُس کے پاس سے دور جانے کے لیے تعین کر سکتے ہیں۔ مگر یہ جملہ اُس تصور کی منافی کر دیتا ہے – ’’وہ کبھی بھی ہلاک نہ ہوں گے۔‘‘ اِس میں سارے زمانے شامل ہیں۔ ’’وہ کبھی بھی ہلاک نہ ہوں گے۔‘‘ کیا یہ نوجوان ایماندار ہوتے ہیں جن کے پاس کم علم ہوتا ہے؟ کیا اُن کا ایمان چھوٹا ہوتا کیوںکہ وہ ابھی نئے نئے ہی مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے ہوتے ہیں؟ ’’وہ کبھی بھی ہلاک نہ ہوں گے۔‘‘ جب وہ بوڑھے ہوتے ہیں اور زمانے کے مسائل اُن کے ابتدائی ایمان کو دبا دیتے ہیں، تو کہ وہ دُنیاوی بن جائیں گے اور اپنے ایمان کو کھو دیں گے؟ ’’وہ کبھی بھی ہلاک نہ ہوں گے۔‘‘ وہ ہلاک ہو جائیں گے اگر دُنیا داری اُنہیں تباہ کر پائے۔ وہ ہلاک ہو جائیں گے اگر بدی اُنہیں دوبارہ غلامی میں لے لے، مگر ایسا ہو گا نہیں۔ ’’وہ کبھی بھی ہلاک نہ ہوں گے۔‘‘ سارے زمانے لفظ ’’کبھی بھی نہیں‘‘ سے بند کر دیے جاتے ہیں۔ کیا ہو اگر اُنہیں شدت کے ساتھ آزمایا جاتا ہے؟ ’’وہ کبھی بھی ہلاک نہ ہوں گے۔‘‘ کیا ہو اگر وہ اِس قدر سرد مہر بن جائیں کہ اُن کی محبت اور جوش غائب ہو جائے؟ ’’وہ کبھی بھی ہلاک نہ ہوں گے۔‘‘ گناہ پھر کبھی دوبارہ اُن پر مکمل طور سے قابو نہیں کر پائے گا۔ ’’وہ کبھی بھی ہلاک نہ ہوں گے۔‘‘

میں چوّن سالوں سے ایک مسیحی ہوں۔ ایسے دور بھی تھے جب خُدا بہت دور دکھائی دیتا تھا۔ حتّیٰ کہ کچھ ایسے دور بھی تھے جب میں نے خود اپنی ہی نجات پر شک کیا تھا۔ ایسے دور تھے جب میں نے سوچا میرا پاؤں پھسل جائے گا اور میں ہمیشہ کے لیے گمراہ ہو جاؤں گا۔ مگر یسوع نے ہمیشہ مجھے اِن سب میں سے گزار کر لے آیا۔ یسوع ہمیشہ ہی مجھے مایوسی کے دھانے سے واپس کھینچ کر لے آیا۔ میں نے ایک مسیحی گھرانے میں پرورش نہیں پائی تھی۔ میرے پاس پیروی کرنے کے لیے کوئی اچھی مثالیں نہیں تھیں۔ میرے اِرد گرد دھشت کی ہوائیں گردش کرتی تھیں۔ میں تقریبا اُڑ ہی چکا تھا۔ میں بے شمار دوسرے لوگوں کو گمراہ ہوتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔ میں نے محسوس کیا تھا کہ میں بھی اُن ہی کے ساتھ نگلا جاؤں گا۔ میں جاری رہنے کے لیے نہایت ہی کمزور تھا۔ میں نے ایک برادری سے نکالے ہوئے شخص کی مانند محسوس کیا تھا۔ میں نے داؤد کی مانند محسوس کیا تھا جب وہ ایک غار میں، اپنے دشمن شاؤل بادشاہ سے چھپا ہوا تھا۔

’’میں نے اپنی داہنی طرف نگاہ کی اور دیکھا کسی کو میری پروا نہیں ہے۔ اور میرے لیے کوئی جائے پناہ نہیں؛ اور کوئی میری جان کی فکر نہیں کرتا‘‘ (زبور 142:4).

’’جب میں نے کہا کہ میرا پاؤں پھسل رہا ہے، تب اَے خداوند تیری شفقت نے مجھے سنبھال لیا‘‘ (زبُور 94:18).

میں یہ تجربے سے جان گیا تھا۔ ’’جب میں نے کہا کہ میرا پاؤں پھسل رہا ہے، تب اَے خُداوند تیری شفقت نے مجھے سنبھال لیا۔‘‘ میں تجربے سے جان گیا تھا کہ یسوع نے سچ کہا تھا۔ ’’وہ کبھی بھی ہلاک نہ ہوں گے، اور کوئی آدمی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا۔‘‘ میرے لیے اب یہ صرف ایک عقیدہ ہی نہیں رہ گیا تھا۔ یہ ایک زندہ سچ تھا – خُداوند یسوع مسیح کے منہ سے۔ ’’میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہوں، اور وہ کبھی بھی ہلاک نہ ہوں گے۔‘‘

وہ میری جان کو گمراہ نہیں ہونے دے گا، وہ مجھے مضبوطی سے تھامے رہے گا؛
   اِس قدر بھاری قیمت چکا کر اُس نے خریدا، وہ مجھے مضبوطی سے تھامے رہے گا۔
وہ مجھے مضبوطی سے تھامے رہے گا، وہ مجھے مضبوطی سے تھامے رہے گا؛
   کیونکہ میرا نجات دہندہ مجھے اِسی قدر پیار کرتا ہے، وہ مجھے مضبوطی سے تھامے رہے گا۔

نوجوان لوگوں، میں نوجوان رہ چکا ہوں اور اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ یسوع کا وعدہ سچا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ بات میری ہڈیوں کے انتہائی گودے تک میں سچی ہے! ’’جب میں نے کہا، ’’میرا پاؤں پھسل رہا ہے، تب اَے خُداوند تیری شفقت نے مجھے سنبھال لیا۔‘‘ میں جانتا ہوں کہ یسوع نے سچ کہا تھا،

’’میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہُوں۔ وہ کبھی ہلاک نہ ہوں گے اور کوئی آدمی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا‘‘ (یوحنا 10:28).

وہ مجھے تھام چکا ہے۔ اُس نے مجھے مضبوطی سے تھاما ہوا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ وہ ایسا ہی آپ کے لیے بھی کر سکتا ہے! یہی وجہ ہے کہ میں جرأت کے ساتھ آپ سے کہہ سکتا ہوں میرے نجات دہندہ یسوع پر بھروسہ کریں۔ میں نے اُس پر کافی سالوں پہلے بھروسہ کیا تھا، اور میں کبھی بھی ہلاک نہیں ہوا۔ اگر آپ اُس پر بھروسہ کرتے ہیں، تو وہ آپ کو بھی کبھی بھی ہلاک نہیں ہونے دے گا! وہ یسوع بخود کا وعدہ ہے!

III۔ تیسری بات، یہاں مسیح کی قوت ہے۔

’’کوئی آدمی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا‘‘ (یوحنا10:28 ب)۔ غور کریں کہ لفظ ’’آدمی‘‘ کنگ جیمس بائبل کے ترجمے میں ترچھی طباعت میں ہے۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ کنگ جیمس بائبل کے ترجمانوں نے لفظ ’’آدمی‘‘ لگایا ہے – کیونکہ یہ یونانی تلاوت میں نہیں ہے۔ یونانی لفظ ’’ٹِسtis‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے ’’کوئی بھی‘‘ (جارج رائیکر بیری George Ricker Berry) یا ’’کوئی شخص یا چیز‘‘ (سٹرانگ Strong)۔ یوں عظیم یونانی عالم اے۔ ٹی۔ رابرٹسنA. T. Robertson اِس آیت کے بارے میں کہتے ہیں، ’’بھیڑیں شاید محفوظ محسوس کریں… کوئی بھیڑیا، کوئی چور، کوئی لُٹیرا، کوئی کرائے پر کام کرنے والا، کوئی آسیب، یہاں تک کہ شیطان بھی میرے ہاتھ سے بھیڑوں کو [اغوا] چھین نہیں سکتا‘‘ (تصاویر کلام Word Pictures؛ یوحنا10:28 پر غور طلب بات)۔ ڈاکٹر رابرٹسن یوحنا6:39 کے لیے ایک حوالہ پیش کرتے ہیں،

’’اور جس نے مجھے بھیجا ہے اُس کی مرضی یہ ہے کہ میں اُن میں سے کسی کو ہاتھ سے نہ جانے دُوں جنہیں اُس نے مجھے دیا ہے بلکہ سب کو آخری دِن پھر سے زندہ کر دُوں‘‘ (یوحنا 6:39).

دوبارہ، ڈاکٹر رابرٹسن نے یوحنا17:12 کے لیے حوالہ پیش کیا، ’’میں نے اُن کی حفاظت کی اور اُنہیں تیرے دیئے ہوئے نام کے ذریعے بچائے رکھا۔ اُن میں سے کوئی ہلاک نہیں ہوا…‘‘ اور دوبارہ وہ کُلسیوں 3:3 میں حوالہ پیش کرتے ہیں، ’’تمہاری زندگی خُدا کے ساتھ مسیح میں محفوظ ہے۔‘‘ نئی کنگ جیمس بائبل میں یہ ہے، ’’نا ہی کوئی بھی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین پائے گا۔‘‘

سپرجیئن نے کہا، آپ جانتے ہیں کہ ہمارے سامنے موجود تلاوت میں ہمیں لفظ ’آدمی‘ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ اصلی [یونانی] میں نہیں ہے… اور اِس طرح سے ہم اِس کو یوں پڑھ سکتے ہیں – ’نا ہی کوئی بھی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین پائے گا۔‘ نا صرف – کوئی ’آدمی،‘‘ بالکہ کوئی بھی ابلیس ہی… اِس میں محض لوگ ہی شامل نہیں ہوتے ہیں جو کہ کبھی کبھار ہمارے بدترین [دشمن] ہوتے ہیں… اِس میں گمراہ روحیں بھی شامل ہیں؛ مگر کوئی ایک بھی ہمیں اُس کے ہاتھ سے چھین نہیں پائے گا۔ ممکنات میں سے کوئی بھی نہیں کہ کوئی اِس قابل ہو، اُن کی کسی بھی عیاری سے، ہمیں اُس کی ملیکت، اُس کے پیارے بیٹے، اُس کے محفوظ بچے… ہونے سے ہٹانا۔ ہائے، کیسا ایک بابرکت وعدہ!‘‘ (ibid.)۔

پادری ورمبرانڈ Pastor Wurmbrand کو یاد رکھیں۔ شاید آپ تعجب کریں میں نے اُن کی کتاب مسیح کے لیے اذیت سہی Tortured for Christ بارہا کیوں پڑھی۔ آپ شاید تعجب کریں مجھے اِس قدر ناخوشگوار کتاب کرنے سے محبت کیوں ہے۔ وجہ یہ ہے۔ میں اِس کو کسی بیماری سے متاثر دلچسپی کی وجہ سے نہیں پڑھتا ہوں، یا قتل و خون خرابے سے محبت کی وجہ سے۔ میں نے اُن کی کتابیں پڑھیں کیوںکہ اُنہوں نے مجھے اپنی جانب متوجہ اُس قوت کو ظاہر کرنے کی وجہ سے کیا جو یسوع کو اپنا وعدہ پورا کرنے کے لیے ظاہر کرنی پڑی۔ اُن اشتراکیت پسند جنونیوں نے خوشخبری کی منادی کرنے کے لیے پادری ورمبرانڈ کو اذیت دی۔ اُنہوں نے اُن کے پیروں کے تلووں کو اِس قدر پیٹا کہ وہ منادی کرنے کے لیے کھڑے ہونے کے قابل نہ رہ پائیں۔ جب اُنہوں نے یہاں ہمارے گرجہ گھر میں گفتگو کی تھی تو اُنہیں اپنے پیروں سے جوتے اُتارنے پڑے تھے اور کُرسی پر بیٹھنا پڑا تھا کیوںکہ اُن کے پیروں میں گہرے گھاؤ تھے۔ اُنہوں نے تپتے لوہے سے اُن کے بدن میں اٹھارہ گہرے سوراخ ڈالے۔ اُنہوں نے اُنہیں کئی کئی گھنٹوں تک کھڑے رکھا۔ اُنہوں نے اُنہیں بھوکا رکھا۔ اُنہوں نے اُنہیں چوہوں سے متاثرہ قید والے کمرے میں بند کیے رکھا۔ اُنہوں نے اُنہیں قید تنہائی میں رکھا جہاں اُنہوں نے مہینوں تک کسی انسان کی آواز تک نہ سُنی۔ اِس کے باوجود وہ اِس تمام میں سے گزر گئے – اور ہمارے گرجہ گھر میں بے شمار مرتبہ واعظ دیے۔ آپ کہتے ہیں، اُن کے پاس ضرور آہنی عصاب یا مرضی تھی۔‘‘ جی نہیں، آپ کو بتانے کے لیے کہ وہ انتہائی کمزور انسان تھے وہ پہلے شخص ہونگے۔ وہ اُس تمام اذیت میں سے گزر گئے کیوںکہ مسیح کا وعدہ سچا ہے!

’’میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہُوں۔ وہ کبھی ہلاک نہ ہوں گے اور کوئی آدمی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا‘‘ (یوحنا 10:28).

میں جانتا ہوں کہ یہ سچ ہے، کیوںکہ میں خود بھی اپنی زندگی کی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں میں اِس کی سچائی کا تجربہ کر چکا ہوں۔ یسوع میں قائم رہیں اور آپ ہمیشہ کی زندگی پائیں گے۔ یسوع جھوٹ نہیں بول سکتا۔

اب مجھے عظیم سپرجیئن کی بات کا دوبارہ حوالہ دیتے ہوئے اختتام کر دینا چاہیے، ’’جب میں ابھی [نوجوان] ہی تھا تو میں نے وعدے کرنے والے بے شمار لڑکوں کو جنہوں نے شروع ہی میں بڑے بڑے [گناہوں اور] شکنجوں میں گِرنے کے ذریعے سے اپنی زندگیوں کو مکمل غرق شُدہ کشتیاں بنا ڈالا تھا۔ میں نے اپنی جان میں اُن گناہوں کا سُن کر جن کا اُنہوں نے اِرتکاب کیا تھا نفرت محسوس کی۔ میں اُن سے [اپنے والدین کی وجہ سے] دور رہا تھا۔ اِس کے باوجود میں نے خوف کیا کہ جن گناہوں سے یہ نوجوان لوگ گزر چکے ہیں کہیں مجھ میں نہ سما جائیں۔ خود میرے اپنے دِل کے اِخلاقی زوال نے اندیشوں میں میری رہنمائی کی۔ میں قائل ہو چکا تھا کہ جب تک میں مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہو جاتا، دوبارہ جنم نہیں لے لیتا، اور ایک نئی زندگی کو پا نہیں لیتا، میری کوئی حفاظت نہیں تھی۔ وگرنہ میں شیطان کا شکار کرنے کا چارہ چکھ لیتا۔ میں خوفزدہ تھا کہ میں اخلاقی طور پر خود ہی کو رُسوا و ذلیل نہ کر لوں، جیسا کہ کچھ لڑکوں نے جنہیں میں جانتا تھا کیا۔ اُس سوچ نے مجھے دھشت ذدہ کر دیا۔ لیکن جب میں نے سُنا کہ یسوع مجھے گمراہ ہونے سے روک سکتا ہے تو اُس عقیدے نے مجھے حیرت میں مبتلا کر دیا اور مجھے اُمید دلائی کہ وہ مجھے بچا پائے گا۔ میں نے سوچا، ’اگر میں یسوع کے پاس جاؤں اور اُس سے ایک نیا دِل لے لوں اور ایک دُرست روح لے لوں، تو میں اُس گناہ سے بچ جاؤں گا جس میں دوسرے گِر چکے تھے؛ میں اُس کے وسیلے سے محفوظ رہوں گا۔‘ اُس سوچ نے مجھے مسیح پر بھروسہ کرنے کے لیے متاثر کیا۔ مجھے سُن کر خوشی ہوئی تھی کہ یسوع اُن تمام کا جو اُس کے ساتھ مخلص تھے ایک وفادار رکھوالا تھا؛ کہ وہ اہل تھا اور ایک نوجوان شخص کو اپنانے کے لیے رضامند تھا اور اُس کو اُس کی راہ کے لیے پاک صاف کرنے اور یہاں تک کہ اُس کو آخر تک رکھنے کے لیے راضی تھا۔ ہائے نوجوان لوگوں، یسوع مسیح میں ایمان رکھنے جیسی زندگی کی اور کوئی ضمانت نہیں ہے‘‘ (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon، ibid.، دورِ حاضرہ کے سُننے والوں کے لیے ڈاکٹر ہائیمرز کی جانب سے کچھ نہ کچھ سادہ کیا گیا)۔

’’میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہُوں۔ وہ کبھی ہلاک نہ ہوں گے اور کوئی آدمی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا‘‘ (یوحنا 10:28).

ایک اور سوچ شاید آپ کے ذہن میں آ جائے۔ میں نے کہا کہ کوئی بھی انسانی دشمن یا کوئی آسیب آپ کو نجات دہندہ کے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا۔ ’’لیکن،‘‘ آپ کہتے ہیں، ’’کیا ہو اگر میں خود ہی یسوع کی جانب سے اپنا منہ موڑ لوں؟ کیا ہو اگر میں خود ہی گرجہ گھر کو چھوڑ دوں اور دُنیا میں واپس چلا جاؤں؟‘‘ پیارے دوست، ’’میں خود‘‘ اُس لفظ ’’کوئی بھی‘‘ میں شامل ہوتا ہے۔ میں جانتا ہوں کے بے شمار دوسرے جن کی مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی جھوٹی تھی وہ چھوڑ گئے اور دُنیا داری میں واپس چلے گئے۔ مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اُن کے پاس کبھی بھی مسیح کی بھیڑ ہونے کے نشان نہیں تھے۔ اُنہوں نے کبھی بھی اُس کی آواز کو نہیں سُنا۔ وہ کبھی بھی اُس کے وسیلے سے جانے نہیں گئے۔ اُنہوں نے کبھی بھی اُس کی پیروی نہیں کی۔ اُنہوں نے محض ایک سرسری سا سطحی سا فیصلہ لیا، اور پھر اُسے واپس بدل دیا۔ مگر میں آپ کو ایسا کرنے کے لیے نہیں کہہ رہا۔ میں آپ کو یسوع ناصری، خُدا کے بیٹے کے پاس آنے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ میں آپ سے اُس پر بھروسہ کرنے اور اُس پر قائم رہنے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ سپرجیئن نے کہا، ’’اوہ! گنہگار، خُدا کرے آج ہی تیری رہنمائی یسوع اور صرف یسوع پر قائم رہنے میں ہو، اور پھر تلاوت کو اپناؤ۔ اِس سے خوفزدہ مت ہو – ’میں اپنی بھیڑوں کو ہمیشہ کی زندگی دیتا ہوں؛ اور وہ کبھی بھی ہلاک نہ ہوں گی، نا ہی کوئی اُنہیں میرے ہاتھوں سے چھین سکتا ہے‘‘‘ (ibid.)۔

وہ مجھے مضبوطی سے تھامے رہے گا، وہ مجھے مضبوطی سے تھامے رہے گا؛
   کیونکہ میرا نجات دہندہ مجھے اِسی قدر پیار کرتا ہے، وہ مجھے مضبوطی سے تھامے رہے گا۔

اَے باپ، میں دعا مانگتا ہوں کہ کوئی نہ کوئی جو اِس واعظ کو سُنے یا پڑھے یسوع پر بھروسہ کرنے کے وسیلے سے امن پائے، جو اُنہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہے۔ اُسی کے نام میں، آمین۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو مہربانی سے ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای۔میل بھیجیں اور اُنھیں بتائیں – (یہاں پر کلک کریں) rlhymersjr@sbcglobal.net۔ آپ کسی بھی زبان میں ڈاکٹر ہائیمرز کو خط لکھ سکتے ہیں، مگر اگر آپ سے ہو سکے تو انگریزی میں لکھیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: یوحنا10:22۔29.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر جیک نین Mr. Jack Ngann
     نے گایا تھا: ’’وہ مجھے مضبوطی سے تھامے رہے گا
           He Will Hold Me Fast ‘‘ (شاعر ایڈا آر۔ ہیبرشون Ada R. Habershon، 1861۔1918)۔

لُبِ لُباب

وہ آپ کو مضبوطی سے تھامے رہے گا!

HE WILL HOLD YOU FAST!

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہُوں۔ وہ کبھی ہلاک نہ ہوں گے اور کوئی آدمی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا‘‘(یوحنا 10:28).

(یوحنا10:31، 27؛ گلِتیوں5:6؛ 1۔کرنتھیوں2:7)

I.   پہلی بات، یہاں پر مسیح کا تحفہ ہے، یوحنا10:28 الف؛ 4:14؛ افسیوں2:5 .

II.  دوسری بات، یہاں مسیح کا وعدہ ہے، یوحنا10:28الف؛ زبور142:4؛
زبور94:18 .

III. تیسری بات، یہاں مسیح کی قوت ہے، یوحنا10:28ب؛ 6:39؛ 17:12؛
کُلسیوں3:3 .