Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

اکٹھے ہم مضبوط ہیں! تنہا ہم کمزور ہیں!

TOGETHER WE ARE STRONG! ALONE WE ARE WEAK!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 21 جون، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, June 21, 2015

’’اور ہم محبت اور نیک کام کرنے کی ترغیب دینے کے لیے ایک دُوسرے کا لحاظ کریں۔ باہم جمع ہونا نہ چھوڑیں جیسا بعض لوگ کرتے ہیں بلکہ ہم ایک دُوسرے کو نصیحت کریں۔ تُم جس قدر خداوند کی دوبارہ آمد کے دِن کو نزدیک ہوتے ہُوئے دیکھتے ہو اُسی قدر زیادہ اِن باتوں پر عمل کیا کرو‘‘ (عبرانیوں 10:24۔25).

میرے بے شمار واعظوں کی مانند، یہ والا ایک مبہم بےقراری کی حیثیت سے شروع ہوا۔ میں نے سُنا کہ دو نئی لڑکیوں نے ہمارے نوجوان لوگوں کو پسند کیا۔ ’’وہ اِس قدر دوستانہ ہیں!‘‘ اُنہوں نے کہا۔ مگر اُنہوں نے مجھے پسند نہیں کیا۔ میں اُس بارے میں سوچ رہا تھا، اُس پر اپنے ذہن میں غوروفکر کر رہا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ میرے واعظ بور کر دینے والے تھے۔ میں واقعی میں اُنہیں دلچسپ بنانے کے لیے سخت محنت کرتا ہوں۔ نوجوان لوگ تو عام طور پر جب میں منادی کر رہا ہوتا ہوں تو اپنے منہ تھوڑے تھوڑے کُھلے اور اپنی نظریں مجھ پر جمائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ نا ہی یہ میری شخصیت تھی۔ میں نوجوان لوگوں کے ساتھ ہونا پسند کرتا ہوں۔ اور وہ بتا سکتے ہیں کہ میں ایسا کرتا ہوں۔ میرے خیال میں جس بات نے اُن دو لڑکیوں کو پریشان کیا وہ کچھ نہ کچھ وہ بات ہے جو میں تقریباً ہر واعظ کے اختتام پر کرتا ہوں۔ میں ایک چھوٹی سی دعا پیش کرتا ہوں۔ پھر میں ٹی۔وی کیمرہ کے نزدیک جاتا ہوں۔ میں یوٹیوب اور ہماری ویب سائٹ پر سُننے والوں سے بات کر رہا ہوتا ہوں۔ میں کچھ اِس طرح کی بات جو لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں اُن سے کہتا ہوں – اور جو کچھ چاہے آپ کریں، ایک بائبل کی منادی کرنے والے گرجہ گھرمیں جائیں، ترجیحاً وہ جس میں اِتوار کی شام کو عبادت ہوتی ہو۔ ہر مرتبہ جب دروازہ کھلا ہو وہاں پر موجود ہوں۔‘‘ میں نے آخری چند الفاط جیری فالوےJerry Falwell سے لیے، جیسے وہ اپنے ٹی۔ وی پروگرامز کو ختم کرتا ہے۔ ’’ہر مرتبہ جب دروازہ کُھلا ہو وہاں پر ہوں۔‘‘ پھر میں اکثر کہتا ہوں، ’’ایک سے دوسرے گرجہ گھر کو بدلتے مت پھریں۔‘‘ یہ وہ الفاظ تھے، میرے واعظوں کے اختتام پر، جو اُن دو نئی لڑکیوں کو پسند نہیں آئے۔ درحقیقت، اُنہوں نے اِسی بات پر گرجہ گھر کو چھوڑ دیا۔

کیا میں وہ کہنا چھوڑ رہا ہوں؟ جی نہیں – میں وہ کہتا رہنا جاری رکھوں گا۔ کیوں؟ کیونکہ بالکل یہی ہے جس کی نوجوان لوگوں کو کرنے کی ضرورت ہے – یہی وجہ ہے! ہمارے گرجہ گھر کی تعداد میں اضافہ لگ بھگ مکمل طور پر اُن مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے والے لوگوں کو جمع کرنے سے ہوتا ہے جو اپنی بلوغت کے آخر اور بیس کی پٹی کی عمر کے ابتدا میں ہوتے ہیں۔ یہ بات نایاب ہے۔ زیادہ تر گرجہ گھر اپنے 88 % نوجوان لوگوں کو گنوا بیٹھتے ہیں۔ مگر یہ بات کسی دوسرے واعظ کے لیے ہے۔ ہماری تعداد میں اضافہ پختہ نوجوان لوگوں کو جمع کرنے سے ہوتا ہے جن کا تعلق بالکل اُسی عمر کے گروہ سے ہوتا ہے جس کو زیادہ تر گرجہ گھر گنوا بیٹھتے ہیں۔ ہم ایسا زورزبردستی سے نہیں کرتے ہیں – یا اُن سے ’’میٹھی میٹھی باتیں‘‘ کرنے کی کوششوں سے۔ آج کل کے بچے اِس قسم کی حکمت عملی کی منافقت کو تاڑنے میں کافی حد تک ہوشیار ہیں۔ میں اُن کے ساتھ سیدھی بات کرتا ہوں۔ میں کہتا ہوں، ’’یہ ہے جس کی تمہیں ضرورت ہے – اور یہ وجہ ہے جس کے لیے تمہیں اِس کی ضرورت ہے۔‘‘ کوئی کھیل تماشہ نہیں! سیدھا تعلیم دینا! اپناؤ یا چھوڑ دو! اگر وہ چھوڑ بھی دیتے ہیں تو اُنہیں پتا چل جائے گا کہ میں اُن کے ساتھ مخلص تھا! میں آپ کو اپنی مانند بنانے کی کوشش نہیں کر رہا ہوں! میں آپ کو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میرا مقصد آپ کو ایک حقیقی مسیحی اور گرجہ گھر کا ایک پختہ رُکن بننے کے لیے مدد کرنا ہے!

آپ کہتے ہیں، ’’مجھے اِس قدر شدت کے ساتھ کیوں اِس ہی گرجہ گھر کی ضرورت ہے؟‘‘ میں آپ کو بتاتا ہوں کیوں؟ کیوںکہ بغیر گرجہ گھر کے آپ کے پاس کچھ بھی مستقلاً نہیں ہے، یہی وجہ ہے! ایلوِن ٹوفلر Alvin Toffler نے اُس کے بارے میں مستقبل کا دھچکا Future Shock میں لکھا۔ اُنہوں نے ’’مستقل ہونے کی حالت کی موت،‘‘ ’’ناپئیداری کا تصور،‘‘ ’’مستقبل میں دوستیاں،‘‘ ’’معاشرتی شادیوں،‘‘ اور دوستوں کو کیسے کھویا جائے‘‘ کے بارے میں بتایا۔ تبدیلی، تبدیلی، تبدیلی۔ نقل و حرکت اور تبدیلی ہمیں ایک مستقل گھر، مستقل دوست اور مستقل تعلقات فراہم نہیں کرتیں! ہر ایک بات اور ہر ایک شخص جسے ہم جانتے ہیں صرف عارضی ہوتا ہے! یہ نوجوان لوگوں کو مستقبل کا دھچکا پہنچاتی ہے! ٹوفلر نے اُس کتاب کو 1970 میں لکھا۔ جب میں نے اُس کو گذشتہ جمعرات کو دوبارہ پڑھا تو میں نے سوچا اِس کو تو چھ ماہ قبل لکھا جانا چاہیے تھا۔ ہر کوئی اِس قدر زیادہ نقل و حرکت کرتا ہے اور اِس قدر اکثر بدل جاتا ہے کہ نوجوان لوگ سڑک چھاپ لوگوں کی مانند باہر نکلتے ہیں، جو ہر رات ایک مختلف گتّے کے ڈبے تلے بستے ہیں، ایک مختلف گلی میں۔ کوئی تعجب نہیں کہ بے شمار بچے کسی نہ کسی قسم کی دوائی پر زندگی گزار رہے ہیں! دُنیا اُن کے قریب سے گردش کرتی جا رہی ہے – اِس قدر تیزی سے کہ وہ زندگی کو قابلِ برداشت بنانے کے لیے گولیوں کی ضرورت کے لیے سوچتے ہیں۔ یہ بات ہمیشہ مجھے بھونچکا دیتی ہے جب میں بچوں کو ’’دوستوں‘‘ کے بارے میں بات کرتا ہوں سُنتا ہوں جن کو وہ صرف ایک یا دو گھنٹے پہلے ہی ملے ہوتے ہیں۔ میں غلطیاں تلاش نہیں کر رہا ہوں۔ میں صرف مشاہدہ کر رہا ہوں۔ مجھے یوں دکھائی دیتا ہے کہ آج کل کے بچے ’’دوستوں‘‘ کو اتنی ہی جلدی بدل ڈالتے ہیں جتنی جلدی ہم اپنے زیریں جامے بدلنے کے عادی تھے!

پال میک کارٹنی Paul McCartney میرے سے بالکل ایک سال چھوٹا تھا۔ وہ ایک ہپّی بننے کے لیے بمشکل ہی نوجوان تھا۔ دوسرے بے شمار ہپّیوں کی مانند، بیٹلزBeatles کا پال میک کارٹنی اپنی تنہائی سے فکرمند تھا۔ وہ عجیب گیت جو مسٹر گریفتھ Mr. Griffith نے ایک لمحہ پہلے گایا اُسی نے لکھا تھا – جو کہ بیٹلز کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی بن گیا تھا جب اُس نے اِسے جان لینن John Lennon کے ساتھ گایا۔ یہ دو لوگوں کے بارے میں بات کرتا ہے، ایلیانور رِگبی Eleanor Rigby (جو اوسط عمر کی ایک خاتون ہیں) اور فادر میکینزی Father McKenzie، ایک کاہن جو تنہا رہتا ہے۔

فادر میکینزی ایک واعظ کے الفاظ لکھ رہے ہیں جو کوئی بھی نہیں سُنے گا۔
کوئی بھی نزدیک نہیں آتا۔
اُس کو کام کرتا ہوا دیکھیں، رات میں اپنی جرابوں کی رفوگری کرتے ہوئے جب کہ وہاں پر کوئی بھی نہیں ہے۔
وہ کس کی پرواہ کرتا ہے؟

ایک بوڑھا کاہن، ایک واعظ لکھ رہا ہے جس پر کوئی بھی توجہ نہیں دے گا۔ اپنی جرابوں کے سوراخوں کو رفو کر رہا ہے ’’جب کہ وہاں پر کوئی بھی نہیں ہے۔‘‘ وہ کس کی پرواہ کرتا ہے؟ وہ ایک تنہا وجودیت کا عادی ہو چکا ہے جو یہاں تک کہ اُس کو مذید اور پریشان بھی نہیں کرتی۔

ایلیانور رِگبی گرجہ گھر میں فوت ہوئیں اور اپنے نام کے ساتھ دفنا دی گئیں۔
کوئی بھی نہیں آیا۔

وہ اپنے پیچھے اُن کے نام کو چلانے کے لیے کوئی بھی اولاد پیدا کیےبغیر مر گئیں۔ کوئی بھی اُن کے جنازے پر نہیں آیا۔

فادر میکنزی جب قبر کے پاس سے اپنے ہاتھوں سے مٹی جھاڑتے ہوئے جاتے ہیں۔
کوئی بھی بچایا نہ گیا تھا۔

کوئی بھی اُس کے جنازے میں شامل نہیں ہوا تھا۔ کسی نے بھی اُس کا واعظ نہیں سُنا تھا۔ کوئی بھی بچایا نہیں گیا تھا۔ اور پھر کورس،

سارے تنہا لوگ،
وہ کہاں سے آ جاتے ہیں؟
سارے تنہا لوگ،
اُن سب کا تعلق کہاں سے ہے؟

اُس قسم کی سوچوں نے ہپّیوں کو پریشان کر دیا۔ وہ ہزاروں کی تعداد میں اِکٹھے آتے – وینس کے ساحل Venice Beach پر، جو ہالی ووڈ کی شاہراہ پر، سان فرانسسکو کے ہیٹ ایشبری میں، برکلے پر ہے۔ اُن کا ایک گروہ ایک پرانا گھر لیتا ہے۔ وہ سب کےسب وہاں پر رہتے ہیں۔ دوسرے وہاں پر ایک یا دو راتوں کے لیے ’’آ دھمکتے‘‘ ہیں۔ وہ اِکٹھے ہونا چاہتے ہیں۔ وہ ایک گروہی احساس چاہتے ہیں۔ اُنہیں گرجہ گھر کے لیے لانا آسان تھا، خاص طور پر اگر آپ اُنہیں ایک بوری نما تھیلے کو گھسیٹے ہوئے آنے دیں اور فرش پر بیٹھنے دیں۔ وہ ’’یسوع کے شوقین‘‘ یا ’’یسوع کے لوگ‘‘ کہلاتے ہیں۔

بپٹسٹ لوگوں نے واقعی میں اُنہیں کھو دیا۔ وہ باآسانی اُن ہزاروں لاکھوں بچوں کو پا سکتے تھے۔ مگر وہ اُن سے خوفزدہ تھے۔ اب بہت تاخیر ہو چکی ہے – ہمیشہ کے لیے بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ کرشماتی مشن والوں اور پینتیکوست مشن والوں نے اُن تمام کو ہتھیا لیا۔ آج بپتسمہ دینے والے مشرقی اور ہسپانوی بچوں سے خوفزدہ ہیں۔ وہ باآسانی اُن میں سے ہزاروں کو اپنا سکتے تھے۔ لیکن وہ اُن سے بھی خوفزدہ ہیں۔ جلد ہی اِس میں بہت تاخیر ہو جائے گی – ہمیشہ کے لیے انتہائی تاخیر – دوبارہ۔

مگر آپ بچوں کو ’’آ دھمکنے‘‘ کے لیے ایک گروہی گھر کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو تو اُس قسم کی برادری کو محسوس کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا میں ایک دوست کے ساتھ بات کر رہا تھا جو ’’یسوع کے لوگوں‘‘ کے ساتھ کام کرتا تھا۔ میں نے اُس سے پوچھا کیوں آج کل نوجوان لوگوں کو جیسے ہیپّیوں کو ضرورت تھی ویسے ہی ایک برادری کی ضرورت کا احساس نہیں ہوتا۔ اُس نے کہا، ’’میں نے اِس کے بارے میں نہیں سوچا۔ میں نہیں جانتا۔‘‘ بالکل جس وقت اُس نے وہ کہا میرے ذہن میں جواب اُجاگر ہو گیا – اُنہیں ایک گروہی جگہ کی ضرورت ہی نہیں پڑتی کیونکہ اُن کے پاس آئی فونزiPhones اور سمارٹ فونز smartphones ہیں۔‘‘ اُنہیں مل کر رہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی جیسے پرانے ہیپّیوں کو پڑتی تھی۔ اُن کے پاس تو اب آئی فونز اور سمارٹ فونز ہیں۔ وہ اُن پر لکھ سکتے ہیں اور اُن پر بات چیت کر سکتے ہیں – اور ظاہر کرتے ہیں کہ اُن کے پاس بہت زیادہ قریبی دوست ہیں۔ اُن مشینوں نے حقیقی دوستوں کی جگہ لے لی ہے۔ کیوں حقیقی دوست بنانے کے اُس تمام مصیبت میں سے گزرا جائے – جب کہ برقیاتی دوستوں کو بنانا اِس قدر آسان ترین ہے؟ ایلیانور رگِبی اور فادر میکینزی نے اِس قدر تنہا محسوس نہ کیا ہوتا اگر اُن کے پاس آپ جیسے برقیاتی آلات ہوتے۔ اُن کے پاس بھی ’’مجازی‘‘ دوست ہوتے جیسے آپ کے پاس ہیں۔ مگر ایک ’’مجازی‘‘ دوست ویسا نہیں ہوتا جیسا کہ ایک حقیقی دوست ہوتا ہے! کسی طور بھی نہیں! کیا آپ نے مغربی کیرولینا میں اُس نوجوان شخص کے بارے میں سُنا؟ اُس نے گذشتہ ہفتے نو افراد کو قتل کر ڈالا۔ اُس کے ساتھ مسئلہ کیا تھا؟ جی ہاں، وہ انٹرنیٹ پر جیتا تھا! اُس نے اُس کے ذھن کے پرخچے اُڑا دیے۔ مشینوں سے دور رہیں، کم از کم کچھ دورانیے کے لیے! مشینوں سے دور رہیں اور ایک حقیقی زندگی بسر کریں! اور گرجہ گھر میں آیا کریں! اور یہ بات مجھے ہماری تلاوت کی جانب واپس لے آتی ہے،

’’اور ہم محبت اور نیک کام کرنے کی ترغیب دینے کے لیے ایک دُوسرے کا لحاظ کریں۔ باہم جمع ہونا نہ چھوڑیں جیسا بعض لوگ کرتے ہیں بلکہ ہم ایک دُوسرے کو نصیحت کریں۔ تُم جس قدر خداوند کی دوبارہ آمد کے دِن کو نزدیک ہوتے ہُوئے دیکھتے ہو اُسی قدر زیادہ اِن باتوں پر عمل کیا کرو‘‘ (عبرانیوں 10:24۔25).

میں اُس حوالے پر دس سے زیادہ تبصرے پڑھ چکا ہوں۔ تمام کے تمام کہتے ہیں کہ کلام مقدس کا یہ حوالہ مقامی گرجہ گھر میں رفاقت کی ضرورت کے لیے نشاندہی کرتا ہے۔ ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell نے کہا، ’’یہ حوالہ مقامی گرجہ گھر کی انتہائی اہمیت کے بارے میں بائبل میں سب سے مضبوط ترین تصادیق میں سے ایک تصدیق مہیا کرتا ہے… [گرجہ گھر] سے وفادار رہنے کے لیے‘‘ (کرسویل کا مطالعہ بائبل The Criswell Study Bible، تھامس نیلسن پبلیشرز Thomas Nelson Publishers، 1979 ایڈیشن، صفحہ 1438؛ عبرانیوں10:25 پر غور طلب بات)۔

آئیے مجھے آپ کو ایک دورِ حاضرہ کا ترجمہ پیش کر لینے دیجیے۔ میں صرف کنگ جیمس بائبل KJV میں سے منادی کرتا ہوں۔ میں کسی دوسرے ترجمے کی سفارش نہیں کروں گا۔ مگر کبھی کبھار حوالے کے تاثر کو ’’محسوس‘‘ کرنے کے لیے دورِ حاضرہ کے ترجمے کو پڑھ لینا شاید مددگار ثابت ہو جاتا ہے۔ یہاں پر نئی امریکی معیاری بائبل NASV اور نئی انٹرنیشنل بائبل NIV کے ترجموں کو اکٹھا پرویا گیا ہے۔

آئیں ہم توجہ دیں کہ محبت کرنے اور نیک اعمال کرنے کے لیے کیسے ایک دوسرے کے جذبات کو اُبھارا جائے۔ آئیں اکٹھے ملنے کو مت چھوڑیں، جسیا کہ کچھ ایسا کرنے کے عادی ہیں، مگر آئیں ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھائیں – اور اِس کو مذید اور زیادہ کرتے جائیں جیسے جیسے آپ خُداوند کی آمد کے دِن کو قریب آتے ہوئے دیکھتے ہیں (عبرانیوں10:24 NASV؛ 10:25 NIV)۔

محبت کرنے اور نیک اعمال کرنے کے ’’جذبات کو اُبھارنے‘‘ کے لیے ہمیں گرجہ گھر میں ہونے کی ضرورت ہے۔ ’’ایک دوسرے کو حوصلہ دینے‘‘ کے لیے ہمیں گرجہ گھر میں ہونے کی ضرورت ہے۔ پھر یہاں وہ ہے جس کو جان میک آرتھر John MacArthur ’’نسل انسانی اور دُنیا کی حتمی تقدیر کی فوری ضرورت eschatological urgency‘‘ کہتے ہیں – جو ظاہر کرتی ہے کہ گرجہ گھر میں ہونا زیادہ اور زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے، ’’جوں جوں آپ خُداوند کی آمد کے دِن کو قریب ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔‘‘ وہ ’’دِن‘‘ مسیح کی دوسری آمد کے دِن کے لیے نشاندہی کرتا ہے۔ یہ ایک اہم پیشن گوئی ہے۔ جیسا کہ ہم اِس دُنیا کے آخری ایام میں داخل ہو چکے ہیں یہ مذید زیادہ سے زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے کہ مقامی گرجہ گھر کے لیے خود کو وقف کر دیں۔ کیوں؟ کیوں اِن آخری ایام میں جن میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں ایمان کھونے کے لیے زیادہ اور زیادہ معاشرتی دباؤ بڑھتا جائے گا۔ پرانے وقتوں میں لوگ اِس کی دُرستگی ہفتے میں ایک مرتبہ گرجہ گھر جانے سے کر لیا کرتے تھے۔ مگر اب معاشرتی تبدیلی (مسقتبل کا دھچکا) کی چنگھاڑتی ہواؤں نے اِس کو پہلے سے بھی مذید اور زیادہ اہم کر دیا ہے کہ مقامی گرجہ گھر کی رفاقت میں دوسرے مسیحیوں کے ساتھ ہوں۔ سُنیے جو تھامس ھیل Thomas Hale نے اپنے تبصرے میں کہا، ’’اگر کوئی [اپنے ایمان میں] ڈگمگانا شروع کرتا ہے تو ہمیں چاہیے کہ اُس کا حوصلہ بڑھانے اور اُس کو مضبوط کرنے میں جلدی کریں۔ ایک دوسرے کو محبت کرنے اور نیک اعمال کرنے کے لیے اُکسائیں [یا جذبات کو اُبھاریں]۔ آئیں دیکھیں کہ ہم میں سے کوئی بھی [گناہ اور بے دینی] میں واپس نہ گمراہ ہو جائے۔ اکٹھے ہم مضبوط ہیں، لیکن تنہا ہم کمزور ہیں‘‘ (تھامس ھیل Thomas Hale، اطلاق شُدہ نئے عہد نامے کا تبصرہ The Applied New Testament Commentary، کنگزوے اشاعتی ادارے Kingsway Publications، 1997، صفحات 913، 914؛ عبرانیوں10:24 پر تبصرہ؛ ڈاکٹر ہائیمرز کی غور طلب بات بریکٹوں میں)۔ مقامی گرجہ گھر محض ایک جگہ نہیں ہے جہاں پر آپ بائبل کا مطالعہ کرنے کے لیے جاتے ہیں، حالانکہ وہ بہت اہم ہے۔ ہم رفاقت خالی اُن کھانوں کے گرد تعمیر نہیں ہوتی جو ہم ہر عبادت کے بعد کھاتے ہیں، حالانکہ وہ بہت اہم ہے۔ مگر ہماری رفاقت گرجہ گھر کے اہم مقصد کے گرد تعمیر ہوتی ہے – جو کہ دوسرے نوجوان لوگوں کو جو کہ ابھی تک مسیحی نہیں ہوئے ہیں اندر لانے کے لیے باہر پھیلتی جا رہی ہے۔ تھامس ھیل کا تبصرہ کہتا ہے، ’’گرجہ گھر کا بنیادی مقصد انجیل کی خوشخبری کا پرچار ہے… مردوں اور عورتوں کو یسوع مسیح اور نجات کے لیے رہنمائی کرنے کی بنیادی فکرمندی‘‘ (ibid.، صفحہ 125)۔

لہٰذا ہم نئے لوگوں کو بتاتے ہیں، ’’ہمارے ساتھ آئیں! ہمارے ساتھ کھائیں! ہمارے ساتھ دوستی کریں! ہمارے ساتھ پرستش کریں! ہمارے ساتھ انجیل بشارت کا پرچار کرنے کے لیے باہر جائیں! سارا سفر طے کر کے گرجہ گھر میں آئیں! شام کی عبادت میں آئیں! دعائیہ اجلاس میں آئیں! خُداوند کے خاندان میں شامل ہوں!‘‘ ’’اکٹھے ہم مضبوط ہیں۔ تنہا ہم کمزور ہیں۔‘‘

ایسا کرنا ہر کوئی یکدم ہی شروع نہیں کر دے گا۔ ہم آپ کا انتظار کریں گے۔ ہم سمجھائیں گے کہ کیوں یہ ضروری ہے۔ ہم وہ سب کچھ کریں گےجو آپ کی مدد کرنے کے لیے کر سکتے ہیں۔ بالکل یہی ہے جو ابتدائی کلیسیاؤں نے کیا تھا۔ ڈاکٹر مائیکل گرین Dr. Michael Green نے ابتدائی کلیسیا میں انجیلی بشارت کا پرچار Evangelism in the Early Church کے عنوان سے ایک نہایت شاندار کتاب لکھی ہے (عئیرڈمینز پبلیشنگ کمپنی Eerdmans Publishing Company، 2003 ایڈیشن)۔ ڈاکٹر گرین نے کہا، ’’گرجہ گھر کی ترقی کے لیے رفاقت قطعی طور پر انتہائی اہم تھی۔ لوگوں کو [گرجہ گھروں میں] کسی دوسری رفاقت کے ذریعے سے کشش ہوتی تھی جو کہ عمدہ تر اور زیادہ جزا والی تھی… [اُنہوں نے دیکھا] کیسے مسیحی ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے‘‘ (صفحہ 256)۔ ’’وہ رفاقت جو گرجہ گھر مہیا کرتا تھا وہ نسل، جنس، رُتبے اور تعلیم کی رکاوٹوں سے بالا تر ہوتی تھی اور جو کہ ایک بہت بڑی کشش تھی‘‘ (صفحہ253)۔ ڈاکٹر گرین نے نشاندہی کی کہ کچھ بھی راز میں نہیں ہوا تھا۔ کافروں کو سیدھا لایا جاتا تھا اور ہر ایک کی طرح ہی برتاؤ کیا جاتا تھا۔ قدیم مسیحی مصنف ٹرٹولیعین Tertullian (160۔220) نے کلیسیاؤں میں مسیحی محبت اور رفاقت کے بارے میں بتایا۔ اُنہوں نے کہا ہمارے ایمان کے ابتدائی سالوں میں مسیحی بننے کے لیے کافروں کی ایک بہت بڑی تعداد کو متوجہ کرنے میں یہ ایک بہت بڑا عنصر تھا (ibid.)۔ ٹرٹولیعین نے کہا کہ شمالی افریقہ میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں کافروں نے اُس محبت اور رفاقت کی وجہ سے جو اُنہیں ملی گرجہ گھروں میں شمولیت اختیار کی۔

میں ایک تنہا لڑکا تھا۔ میرے والدین کی طلاق ہو چکی تھی۔ مجھے اُن رشتہ داروں کے ساتھ رہنا پڑتا تھا واقعی میں نہیں چاہتے تھے کہ میں اُن کے گھر میں رہوں۔ میں سڑکوں پر تنہا پھرا کرتا تھا۔ میں اُن میں سے ایک کی مانند تھا جن کے بارے میں جان لینن John Lennon نے گیت گایا،

’’سارے تنہا لوگ،
اُن سب کا تعلق کہاں سے ہے؟‘‘

میں آپ کو بتاتا ہوں اُن کا تعلق کہاں سے ہے۔ اُن کا تعلق اِس قسم کے ایک گرجہ گھر سے ہے! یہی ہے جہاں سے آپ کا تعلق بھی ہے! کتنے افسوس کی بات ہے کہ اُس بیچارے جان لینن نے کبھی بھی یسوع پر بھروسہ نہیں کیا اور کبھی بھی ایک مقامی گرجہ گھر میں نہیں گیا! آخری دِنوں میں اُس نے نشہ کرنا شروع کر دیا اور دِن میں زیادہ تر بستر ہی میں رہتا تھا۔

اگر میں ایک مضبوط گرجہ گھر میں شامل نہ ہوا ہوتا تو میں پُریقین ہوں کہ میں آج کی صبح یہاں پر نہ ہوتا۔ میں پُریقین ہوں میں بھی بیچارے جان لینن ہی کی مانند کافی عرصہ پہلے مر چکا ہوتا۔ میرے دوست نے خود کشی کر لی۔ کیا میں نے وہ کی ہوتی؟ میں نہیں جانتا۔ مگر میں ایک بات جانتا ہوں کہ میں اُس گرمجوشی اور رفاقت کے وسیلے سے جو مجھے ایک مقامی گرجہ گھر سے ملی ایک تاریک اور تنہا دُنیا سے بچا لیا گیا تھا۔ جب میں بلوغت کی جانب بڑھ رہا تھا تو گرجہ گھرمیرا دوسرا گھر بن چکا تھا۔

میں جانتا ہوں آپ میں سے بہت سارے میری بات نہیں سُنیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ سب کچھ چھوڑ کر ہمارے ساتھ نہیں آئیں گے۔ مگر یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے گا کہ ہم نے آپ کو مدعو کیا تھا! ہمیشہ یاد رکھیے گا کہ ہم نے چاہا تھا آپ ہمارے ساتھ ہوں۔ یقیناً، آپ کو کچھ نہ کچھ قیمت تو چکانا پڑے گی! بیشک! عزم کی ہمیشہ کچھ نہ کچھ قیمت چکانا ہی پڑتی ہے۔ آپ کبھی بھی دیرپا شادی بغیر عزم کے نہیں پا سکتے۔ میں آپ کے لیے پُرخلوص رہنا چاہتا ہوں۔ اور میں آپ سے میرے ساتھ بھی پُرخلوص رہنے کے لیے پوچھتا ہوں۔ جیسا کہ تھامس ھیل نے اپنے تبصرے میں اِس کو لکھا، ’’اکٹھے ہم سب مضبوط ہیں، لیکن تنہا ہم کمزور ہیں‘‘ (ibid.، صفحہ914)۔ کوئی شاید کہے، ’’میں یہ کر سکتا ہوں۔‘‘ خود کے ساتھ ایماندار رہیں۔ آپ یہ کر پائیں گے، مگر آپ کرنا نہیں چاہیں گے۔ آپ ’’آزاد‘‘ رہنا چاھیں گے۔ بہت بُری بات ہے۔ اُس کا مطلب ہے کہ آپ تنہا ہوں گے۔ اِکٹھے ہم مضبوط ہیں۔ تنہا ہم کمزور ہیں!

اِکٹھے ہم مضبوط ہیں! تنہا ہم کمزور ہیں! آج کی صبح یہ میرا آپ کے لیے پیغام ہے! یسوع آپ کے لیے اب دستیاب ہے۔ اُس کے پاس آئیں! وہ آپ کو عدالت سے بچانے کے لیے صلیب پر مرا تھا۔ وہ آپ کو نئی زندگی بخشنے کے لیے مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا۔ وہ بالکل ابھی – اوپر تیسرے آسمان میں، جنت میں زندہ ہے۔ مصرف بیٹے کے بڑے بھائی کی مانند دروازے کے باہر کھڑے مت رہیں۔ بائبل کہتی ہے وہ ’’اندر نہیں جانا چاہتا تھا‘‘ (لوقا15:28)۔ دوسرے اندر ایک بہت بڑی خوشگوار دعوت کا لطف اُٹھا رہے تھے۔ مگر بڑے بھائی نے کہا، میں ’’اندر نہیں جاؤں‘‘ گا۔ آپ میں کچھ ابھی بھی یہی کر رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں، ’’یسوع کے لیے اندر آئیں! اندر آئیں اور دعوت میں شامل ہوں!‘‘ لیکن آپ کہتے ہیں، ’’میں اندر نہیں جاؤں گا۔‘‘ ہم اب بھی آپ کا انتظار کر رہے ہیں! یسوع کے پاس اندر آئیں اور دعوت میں شمولیت اختیار کریں!

گھر آ جاؤ، گھر آ جاؤ،
   تم جو تھکے ماندے ہو، گھر آ جاؤ،
سنجیدگی کے ساتھ، نرمی سے، یسوع بُلا رہا ہے،
   بُلا رہا ہے، اے گنہگار، گھر آ جاؤ!
(’’ملائمت اور نرمی سے یسوع بُلا رہا ہے Softly and Tenderly Jesus is Calling‘‘
      شاعر وِل ایل۔ تھامپسن Will L. Thompson، 1847۔1909)۔

اے باپ، میں دعا مانگتا ہوں کہ اصل میں کوئی نہ کوئی یسوع کے لیے آئے گا – اور ہمارے گرجہ گھر کے خاندان میں بھی آئے گا۔ اُسی کے نام میں، آمین۔ ’’اِکٹھے ہم مضبوط ہیں! تنہا ہم کمزور ہیں!‘‘ اگر آپ باقی سب کچھ جو میں نے اِس صبح کہا بھول بھی جائیں تو مہربانی سے یہ یاد رکھیں! اِکٹھے ہم مضبوط ہیں۔ تنہا ہم کمزور ہیں۔ آمین۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو مہربانی سے ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای۔میل بھیجیں اور اُنھیں بتائیں – (یہاں پر کلک کریں) rlhymersjr@sbcglobal.net۔ آپ کسی بھی زبان میں ڈاکٹر ہائیمرز کو خط لکھ سکتے ہیں، مگر اگر آپ سے ہو سکے تو انگریزی میں لکھیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: عبرانیوں10:19۔25.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
نے گایا تھا: ’’ایلیانار رِگبی Eleanor Rigby‘‘ (شاعر پال میک کارٹنی Paul McCartney، 1942۔).