Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مسیح کے خون کے ذریعے سے امن

PEACE THROUGH CHRIST’S BLOOD
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 31 مئی، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, May 31, 2015

’’اور خُدا کی مرضی یہ بھی تھی کہ مسیح کے خون کے سبب سے جو صلیب پر بہا، صلح کر کے سب چیزوں کا اپنے ساتھ میل کر لے‘‘ (کُلسیوں1:20)۔

جب میں ایک چھوٹا سا لڑکا تھا تو ہم مسلسل نیوکلیائی جنگ سے خوفزدہ رہتے تھے۔ مجھے اپنی دادی کے گھر میں بستر میں پڑے اوپر اُڑتے ہوئے ہوائی جہازوں کو سُنتے رہنا یاد ہے۔ میں وہاں پڑا رہتا اور رضائیوں کے نیچے پسینوں پسینے ہو جاتا۔ میں سوچتا اُن میں سے ایک جہاز ہمارے اوپر ایٹمی بم گرانے والا ہے۔ میں وہاں پڑا کروٹیں بدلتا رہتا جب تک میرے پیٹ میں بل پڑنا شروع نہ ہو جاتے۔

آج نوجوان لوگوں کو وہ خوف نہیں ہوتے۔ مگر آپ دوسری بے شمار باتوں سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ آپ خوفزدہ ہوتے ہیں کہ لوگ آپ کو پسند نہیں کریں گے۔ آپ سکول میں بُرے گریڈز حاصل کرنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ آپ خوفزدہ ہوتے ہیں کہ زندگی میں ناکام ہو جائیں گے۔ آج بہت زیادہ نوجوان لوگوں کو بے شمار خوف ہوتے ہیں۔

نوجوان لوگوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اندرونی سکون تلاش کرنے کی کوششوں میں منشیات لیتی ہے۔ ماہرین عمرانیات اِس حقیقت سے خبردار ہو چکے ہیں کہ ہزاروں چھوٹے چھوٹے بچے ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ادوایات پر زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ خود کو قابو نہیں کر سکتے۔ اُن کے پاس کوئی سکون نہیں ہے – یہاں تک کہ بچپن میں بھی۔ نوعمر لوگ اندرونی سکون کی تلاش میں شراب اور منشیات کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ کالج کی عمر کے نوجوان لوگوں میں خودکشی مرنے کی وجوہات میں سے دوسرے نمبر پر ہے۔ آج نوجوان لوگوں میں ذہنی دباؤ اور تنہائی عام سی بات ہے۔ مگر ہماری تمام تر ٹیکنالوجی، سائنس، منشیات، آئی فونز اور کمپیوٹر کی کھیلوں کے ساتھ بے شمار لوگوں کی لیے اندرونی سکون پانا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’وہ امن ڈھونڈیں گے لیکن نہیں پائیں گے‘‘ (حزقی ایل7:25)۔

نوجوان لوگ زندگی میں ناکام ہونے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ وہ خوفزدہ ہوتے ہیں کہ وہ اِس کو نہیں کر پائیں گے۔ وہ خوفزدہ ہوتے ہیں کہ وہ شادی کرنے کے لیے کبھی بھی صحیح ہستی تلاش نہیں کر پائیں گے۔ وہ خوفزدہ ہوتے ہیں کہ وہ کبھی بھی سچے طور پر خوش نہیں رہ پائیں گے۔ وہ تنہا ہوتے ہیں۔ اور بے شمار نوجوان لوگ تو موت سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ اور ایسا کچھ ہوتا اُنھیں دکھائی نہیں دیتا جو وہ کریں اور اندرونی امن پا سکیں۔

اور نشے میں دھت ہو سکتے ہیں اور سنگسار کیے جا سکتے ہیں – مگر خوف اب بھی باطن میں کہیں موجود ہوتا ہے۔ آپ ایک نائٹ کلب میں جا سکتے ہیں اور گھنٹوں ناچ سکتے ہیں۔ آپ جنسی ملاپ کر سکتے ہیں مگر خوف اب بھی وہیں ہوتا ہے، باطن میں۔ آپ گھنٹوں ویڈیو گیمز کھیل سکتے ہیں۔ آپ گھنٹوں ٹیلی فون کے ساتھ کھیل سکتے ہیں اور میسیجز اور ٹویٹر کر سکتے ہیں۔ مگر خوف اب بھی وہیں ہوتا ہے – باطن میں۔ آپ اب بھی خوفزدہ ہوتے ہیں کہ آپ کبھی بھی خوشی نہیں ڈھونڈ پائیں گے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آپ کے پاس آپ کے اپنے دِل میں امن نہیں ہوتا ہے جو کہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کے پاس ہونا چاہیے؟

اب یہ شاید آپ کو عجیب سے لگا کہ میں مسیح کی مصلوبیت کے واقعہ کو لیکر امن کے بارے میں منادی کر رہا ہوں۔ صلیب پر مسیح کی موت کے خونریز نظارے کے بارے میں کوئی بھی بات امن سے بھرپور نہیں ہے۔ مگر کلام مقدس کا یہ پیغام امن کے بارے میں ہے۔ یہ ہمیں حقیقی امن پانے کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔ ہماری تلاوت کہتی ہے،

’’اور خُدا کی مرضی یہ بھی تھی کہ مسیح کے خون کے سبب سے جو صلیب پر بہا صلح کرے‘‘ (کُلسیوں1:20)۔

مسیح کی مصلوبیت امن پانے کے بارے میں ہمیں بے شمار باتیں بتاتی ہے۔

I۔ پہلی باتے، شریروں کے لیے کوئی امن نہیں ہے۔

بائبل کہتی ہے، ’’شریروں کے لیے کوئی امن نہیں‘‘ (اشعیا57:21)۔ ہم یہ بات صلیب پر مسیح کی موت کے واقعہ میں دیکھتے ہیں۔ وہ لوگ جنھوں نے صلیب پر نظریں گاڑیں تھیں جب وہ اُس صلیب پر لٹکا ہوا تھا غصے، کڑواہٹ اور بے اعتقادی سے بھری ہوئی تھیں۔ وہ ’’سلامتی کی راہ‘‘ نہیں جانتے تھے (رومیوں3:17)۔ اُس ہجوم کے اپنے دِلوں میں کوئی سلامتی نہیں تھی۔

وہ سپاہی تھے، رومی افسران تھے۔ اُنھوں نے یسوع کو صلیب پر کیلوں سے جڑ دیا تھا اور پھر وہ گھٹنے ٹیک کر اُس لبادے کے لیے جو مسیح نے پہنا تھا قرعہ ڈالنے لگے۔ وہ سخت، کٹھن لوگ تھے۔ صلیبیں دینا اُنکا کاروبار تھا۔ وہ تقریباً ہر روز لوگوں کو صلیب پر کیلوں سے جڑتے تھے۔ یہ سزائے موت دینے کا رومی طریقہ تھا اور وہ لوگ جلاد تھے۔ اُن کے دِل اِس قدر سخت ہو چکے تھے اور اُن کے ضمیر اِس قدر سخت تھے کہ وہ اُس وقت ہنستے تھے جب یسوع کے ہاتھوں اور پیروں کے گوشت کو کیل چیرتے ہوئے گزرتے تھے اور وہ شدید اذیت سے چِلا اُٹھتا تھا۔ بائبل کہتی ہے، ’’سپاہیوں نے بھی اُس کی ہنسی اُڑائی‘‘ (لوقا23:36)۔

آج ایسے لوگ موجود ہیں۔ کٹھور، سرد، شریر، غصے والے لوگ – ہماری ہر طرف۔ شاید آپ ویسے ہی ہوں۔ مذھب کا سارے کا سارا تصور آپ کے لیے ایک بہت بڑا مذاق ہو۔ ’’کتنی ہنسی آتی ہے!‘‘ آپ شاید کہیں۔ آپ سوچتے ہیں کہ مسیحیت بوڑھی عورتوں کے لیے اور چھوٹے بچوں کے لیے ہے آپ جیسے ہوشیار شخص کےلیے نہیں ہے۔ اُن رومی سپاہیوں کی مانند آپ کا دِل اِسقدر سخت ہو چکا ہے کہ آپ جرم محسوس کیے بغیر گناہ کر سکتے ہیں۔ آپ کا ضمیر آپ کو کبھی بھی ملامت نہیں کرتا – اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس گناہ کا اِرتکاب کرتے ہیں۔

مگر کسی نہ کسی طور آپ کو سکون نہیں ملتا ہے۔ بیرونی طور پر ہر کوئی سوچتا ہے آپ ٹھیک محسوس کرتے ہیں۔ مگر اندر سے آپ خالی اور تنہا اور خوفزدہ ہوتے ہیں۔

’’میرا خُداوند فرماتا ہے، شریروں کے لیے کوئی امن نہیں‘‘ (اشعیا57:21)۔

پھر، وہاں پر یسوع کے ساتھ ’’دو ڈاکوؤں کو مصلوب کیا گیا تھا، ایک کو داھنی طرف اور دوسرے کو بائیں جانب‘‘ (متی27:38)۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ اُنہوں نے یسوع کا تمسخر اُڑایا اور اُس پر چلائے۔ بائبل کہتی ہے، وہ جو اُس کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے اُنھوں نے اُس کو بدنام کیا (یا بے عزتی کی)‘‘ (مرقس15:32)۔ اُنھوں نے بھی سکون نہیں پایا تھا اور اُنھوں نے اپنا غصہ مصلوب نجات دہندہ پر نکالا تھا۔

آپ شاید کہیں، ’’وہ ڈاکو ایسا کیوں کریں گے؟ کیا وہ بھی مر نہیں رہے تھے؟ کیوں ایک مرتا ہوا شخص یسوع کی بے عزتی کرے گا؟‘‘ یہ ایک اچھا سوال ہے۔ مگر لوگ سارا وقت ایسا کرتے ہیں۔ آپ دیکھیں، ہم سب مرنے والے ہیں۔ اگر آپ ستر سال اور زندہ رہتے ہیں تو یہ اِس قدر تیزی سے گزر جائیں گے کہ آپ اِس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہم سب کے سب جلد ہی مرنے والے ہیں۔ اور اِس کے باوجود آپ میں سے کچھ تمسخر اُڑاتے ہیں۔ آپ یسوع کی بے عزتی ویسے ہی کرتے ہیں جیسے اُن ڈاکوؤں نے کی تھی۔

اور آپ اِس عبادت کو چھوڑیں گے واپس جائیں اور آج جو کچھ بھی آپ نے یہاں سُنا ہے اُس کے بارے میں بُری بُری باتیں کریں گے۔ اور آپ کے گمراہ دوست اور رشتے دار آپ سے متفق ہو جائیں گے۔ وہ کہیں گے، ’’وہاں اُس بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں واپس نہیں جانا۔ ایک دیوانے مت بن جانا۔ اُس بوڑھے مبلغ کو اپنا ذہن بدلنے مت دینا۔ ہر ایک بات جو وہ کہتا ہے اُس پر یقین مت کرنا۔ وہاں پر واپس مت جانا!‘‘ یہ ہے جو آپ کے گمراہ دوست اور آپ کے برگشتہ والدین اور رشتے دار اکثر کہتے ہیں۔ اور آپ میں سے بہت سے اِس واعظ میں آپ نے جو کچھ بھی سُنا ہے اُس کے بارے میں اُن کے ساتھ مل کر لطیفے بنائیں گے اور ہنسیں گے۔ اور آپ بالکل اُن دو ڈاکوؤں کی مانند ہونگے جنھوں نے مسیح کی بے عزتی کی تھی۔ بعد میں اُس دِن اُن میں سے ایک یسوع پر ایمان لے آیا تھا اور ایک مسیحی بن گیا تھا، مگر دوسرا مسیح کا تمسخر اُڑاتا ہوا مر گیا تھا۔ ’’میرا خُداوند فرماتا ہے، شریروں کے لیے کوئی امن نہیں‘‘ (اشعیا57:21)۔

پھر وہاں پر وہ مذھبی رہنما تھے۔ بائبل کہتی ہے،

اِسی طرح سردار کاہن، شریعت کے عالم اور بزرگ بھی اُس کی ہنسی اُڑاتے اور کہتے تھے: اِس نے اوروں کو بچایا لیکن اپنے آپ کو نہیں بچا سکا، یہ تو اسرائیل کا بادشاہ ہے! اگر اب بھی صلیب پر سے اُتر آئے تو ہم اُس پر ایمان لے آئیں گے‘‘ (متی27:41۔42)۔

اُن کاہنوں اور بائبل کی تعلیمات دینے والوں نے سوچا تھا کہ اُنھیں ہر بات کا پتا ہے۔ آپ کو اِس شہر میں بالکل اُن کی مانند کالج کے پروفیسرز، یا کاتھولک کاہن اور پروٹسٹنٹ مبلغین مل جائیں گے۔ وہ شاید مسیح کے لیے زبانی عبادت تو ادا کرتے ہوں لیکن وہ آپ کو بتائیں گے کہ آپ کو تبدیل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ کہیں گے، اُس دیوانے مبلغ کی بات پر دھیان مت دو۔ تم جیسے ہو ویسے ہی ٹھیک ہو۔‘‘

مگر وہ اِتنے ہی غلط ہیں جتنے کہ وہ کاہن اور بائبل کے اُستاد تھے جو صلیب کے نزدیک کھڑے مسیح کا مذاق اُڑا رہے تھے۔ ’’آپ کو مسیح کی اشد ضرورت ہے۔ آپ کو مسیح میں تبدیل ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ کچھ بھی نہیں ماسوائے مکمل اور جامع مسیح میں تبدیلی آپ کو خُدا کے ساتھ سکون و امن دلا سکتی ہے۔

’’میرا خُداوند فرماتا ہے، شریروں کے لیے کوئی امن نہیں‘‘ (اشعیا57:21)۔

II۔ دوسری بات، اُن لوگوں کے لیے امن و شانتی ہے جو اپنا بھروسہ یسوع مسیح میں قائم رکھتے ہیں۔

ہماری تلاوت کہتی ہے:

’’اور خُدا کی مرضی یہ بھی تھی کہ مسیح کے خون کے سبب سے جو صلیب پر بہا صلح کرے…‘‘ (کُلسیوں1:20)۔

غور کریں اُس دِن جب یسوع صلیب پر مرا تھا کتنے لوگوں نے سکون پایا تھا۔

وہاں پر مسیح کی ماں، مریم تھی۔ وہ کبھی بھی مکمل طور پر اپنے بیٹے کے مقصد کو سمجھ نہیں پائی تھی۔ اوہ جی ہاں، اُس کو فرشتہ یاد تھا۔ اُس کو یسوع کی عجیب پیدائش یاد تھی۔ وہ جانتی تھی یسوع مختلف تھا اور کہ خُداوند نے یسوع کو بُلایا تھا۔ مگر بائبل ظاہر کرتی ہے کہ وہ کبھی بھی مکمل طور پر مسیح کا مقصد اور منزل سمجھ نہیں پائی تھی۔ بائبل کہتی ہے کہ مسیح کے اپنے سوتیلے بھائیوں نے بھی اُس پر اُس وقت تک یقین نہیں کیا تھا جب تک کہ وہ مُردوں میں سے دوبارہ زندہ نہیں ہو گیا (یوحنا7:5)۔ مرقس کی تیسرے باب میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اُس کی رشتے داروں نے اُس کو منادی کرنے سے روکنے کی کوشش کی تھی اور اُس کو پاگل کہا تھا۔ پھر اُس کے سوتیلے بھائی اور اُس کی ماں اُس کو روکنے یا اُس کو اپنے پیغام کو ’’نرم‘‘ کروانے کے لیے آئے تھے۔ مگر مسیح نے کہا، ’’جو کوئی خُدا کی مرضی پر چلتا ہے وہی میرا بھائی، میری بہن اور میری ماں ہے‘‘ (مرقس3:35)۔

ڈاکٹر جے ورنن میگیDr. J. Vernon McGee نے کہا،

وہ خُداوند کہہ رہا ہے کہ آج سب سے مضبط ترین رشتہ مسیح اور ایک ایماندار کے درمیان رشتہ ہے۔ دوستو، اگر آپ خُداوند کے بچے ہیں اور آپ کے خاندان کے غیر نجات یافتہ افراد ہیں، تو آپ اپنے رشتہ داروں جن میں آپ کی وہ ماں بھی ہے جس نے آپ کو جنم دیا، کے مقابلے میں مسیح کے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں۔ آپ [اپنے] خُاندان کے غیرنجات یافتہ افراد کے مقابلے میں دوسرے ایمانداروں سے کہیں زیادہ نزدیکی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں (بائبل میں سے Thru the Bible، جلد چہارم، صفحہ70، متی12:46۔49 پر غور طلب بات)۔

مسیح کی ماں وہیں پر تھی جس دِن اُنھوں نے اُس کو مصلوب کیا تھا۔ وہ وہاں پر کھڑی تھی صلیب پر لٹکے اپنے بیٹے کو اوپر دیکھ رہی تھی۔ اور یسوع نے نیچے اُس پر نظر ڈالی اور پھر اُس نے اپنے رسول یوحنا پر نظر ڈالی۔ اور اُس نے یوحنا سے اپنی ماں کا خیال رکھنے کے لیے کہا (یوحنا19:20)۔

مسیح کی ماں اور بھائیوں نے یسوع کے مُردوں میں سے دوبارہ زندہ ہو چکنے کے بعد اُس کا مکمل طور پر تجربہ کیا تھا۔ اور یسوع کی ماں نے اپنے بیٹے یسوع میں ایمان لانے کے وسیلے سے شاندار امن و سکون پایا تھا۔ اور آپ بھی وہی امن و سکون اور معافی پا سکتے ہیں جب آپ یسوع مسیح پر بھروسہ کریں گے جیسے مریم نے کیا تھا۔

وہ دوسرا ڈاکو جو مسیح کے پاس صلیب پر لٹک رہا تھا اُس نے بھی یسوع پر بھروسہ کرنے کے وسیلے سے امن و سکون پا لیا تھا۔ اُس نے دوسرے ڈاکو ہی کی مانند ساری صبح مسیح کا مذاق اُڑایا تھا۔ مگر جوں جوں دِن گزرتا چلا گیا اُس نے یسوع کو سُننا شروع کر دیا۔ اُس نے صلیب پر سے مسیح کے سات کلمات سُنے۔ اُس نے یسوع کو سُنا تھا جب اُس نے صلیب پر سے ایک واعظ کی منادی کی تھی۔

دوپہر کے آغاز ہی میں یہ دوسرا ڈاکو مسیح میں ایمان لے آیا تھا۔ اُس نے یسوع مسیح میں ایمان کا تجربہ کیا تھا اور نئے سرے سے جنم لیا تھا۔ اُس ڈاکو نے یسوع پر اُس کی خونی صلیب پر لٹکے ہوئے نظر ڈالی تھی۔ اور اُس ڈاکو نے یسوع سے کہا، ’’خُداوند، جب تو بادشاہ بن کر اپنی سلطنت میں آئے تو مجھے بھی یاد کرنا۔ اور یسوع نے اُس سے کہا، میں تجھے یقین دلاتا ہوں، کہ تو آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہوگا‘‘ (لوقا23:42۔43)۔ اُس کا یسوع پر بھروسہ کرنے کے وسیلے سے خُداوند کے ساتھ امن ہو گیا تھا۔

اور ہم مسیح بننے کے بارے میں اُس ڈاکو سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی تبدیل کرنے کے ذریعے سے یا بپتسمہ پا لینے کے وسیلے سے ایک مسیحی نہیں بن پایا تھا۔ وہ صلیب پر کیلوں سے جڑا ہوا مر رہا تھا۔ اُس کے پاس اپنی زندگی کو بدلنے یا بپتسمہ پانے کے لیے کوئی وقت نہیں تھا۔ بہت تاخیر ہو چکی تھی۔ اُس کے پاس صرف یسوع پر بھروسہ کرنے کےلیے وقت تھا۔ اُس نے ایمان کے وسیلے سے خود کو خُدا کے بیٹے کے حوالے کر دیا تھا۔ اُس نے اپنے تمام دِل کے ساتھ یسوع پر بھروسہ کیا تھا۔ اور مسیح میں اُس کا سادہ سا ایمان ہی کافی تھا۔ یسوع نے اُس کو بچا لیا تھا، اور اُس نے خداوند کے ساتھ امن و شانتی کو محسوس کیا تھا۔

اور یسوع آپ کو بھی بچا سکتا ہے جب آپ اُس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ محض یسوع کے بارے میں باتوں پر یقین کرنا نہیں ہوتا ہے۔ یہ یقین کرنا ہی کافی نہیں ہے کہ وہ آپ کے گناہوں کے لیے مرا یا کہ وہ مُردوں میں سے زندہ ہو گیا تھا۔ وہ مذھبی عقائد ہیں اور خالی مذھبی عقائد ہی آپ کو نجات نہیں دلا سکتے۔ بابئل کہتی ہے، ’’خداوند یسوع مسیح میں ایمان لا اور تو نجات پا لے گا‘‘ (اعمال16:31)۔ اور آپ یسوع بخود میں یقین کر سکتے ہیں جیسے اِس ڈاکو نے کیا تھا۔ اور جب آپ اپنا مکمل ایمان یسوع میں قائم کرتے ہیں تو وہ آپ کو بھی بچا لے گا۔ وہ اپنے خون میں آپ کے گناہوں کو پاک صاف کر دے گا اور آپ گناہ کے عذابوں سے نجات پا لیں گے۔

III۔ تیسری بات، مسیح کے ذریعے سے خُداوند کے ساتھ امن و سکون ملتا ہے۔

یہ جس کے بارے میں بائبل یہاں پر ہماری تلاوت میں بات کر رہی ہے۔ یہ خُدا کے ساتھ صلح کرنے کے بارے میں بات ہو رہی ہے – خُداوند کے ساتھ امن۔

’’اور خُدا کی مرضی یہ بھی تھی کہ مسیح کے خون کے سبب سے جو صلیب پر بہا، صلح کر کے سب چیزوں کا اپنے ساتھ میل کر لے‘‘ (کُلسیوں1:20)۔

بائبل تعلیم دیتی ہے کہ نسل انسانی نے خُداوند کے خلاف بغاوت کی تھی۔ آدم نے بغاوت کی۔ اُس کے گناہ نے انسانی فطرت کو تباہ وبرباد کر دیا۔ بائبل تعلیم دیتی ہے کہ ہم فطرتاً گنہگار ہیں۔ ہم نے آدم سے اپنی گناہ سے بھرپور فطرت وراثت میں پائی ہے۔

اور گناہ نے آپ کو خُداوند سے علیحدہ کر دیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ خُداوند آپ کو حقیقی دکھائی نہیں دیتا۔ آپ اپنے خون کے ذریعے سے خُدا سے جُدا ہو چکے ہیں۔ بائبل کہتی ہے:

’’تمہاری بدکاری نے تمہیں خُداوند سے دور کر دیا ہے اور تمہارے گناہوں نے اُسے تم سے ایسا روپوش کیا کہ وہ سُنتا نہیں‘‘ (اشعیا59:2)۔

آپ کے اور خُداوند کے درمیان ایک دوری ہے۔ آپ دور ہو چکے ہیں، خُداوند سے علیحدہ، اپنے گناہ کی وجہ سے۔

چونکہ آپ فطرتاً ایک گنہگار ہیں، تو ایسا کچھ نہیں ہے کہ جو آپ خود کو بچانے کے لیے کر پائیں۔ کیونکہ آپ مایوس کُن حد تک گناہ میں گمراہ ہو چکے ہیں، آپ گناہ سے فرار پانے کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ ایسا کچھ نہیں ہے جو آپ کریں یا سُنیں کہ وہ آپ کو گناہ اور انصاف سے بچا سکتا ہو۔ خُداوند کو قدم اُٹھانا ہی پڑتا ہے۔ آپ کے گناہ کے مسٔلے کا حل صرف بائبل ہی پیش کرتی ہے۔

’’خُدا ہمارے لیے اپنی محبت یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح نے ہماری خاطر اپنی جان قربان کر دی‘‘ (رومیوں5:8)۔

خُداوند نے مسیح کو آسمان سے نیچے آپ کے گناہوں کی ادائیگی کے لیے صلیب پر مرنے کےلیے بھیجا – کہ آپ کی خُداوند کے سات صُلح کرائے اور آپ کو خُدا کے ساتھ امن بخشے۔

خُدا منصف – اپنی پاکیزگی میں خود سے سچا – اور اِس کے باوجود آپ جیسے گنہگار کو معاف کرتا اور انصاف کرتا ہوا کیسے ہو سکتا ہے؟ اِس کا واحد حل یسوع کے لیے اُس صلیب پر اپنی موت کے ذریعے سے آپ کے گناہوں کی ادائیگی کر کے مرنا اور اپنے خون کے ساتھ آپ کے گناہوں کو پاک صاف کرنا تھا۔ اُس کا خون اور اُس کی موت صلح کرنے کے لیے اِس بات کو آپ کے لیے ممکن بناتے ہیں – خُدا کے ساتھ ایک صحیح تعلق میں واپس لانے کے لیے۔

آپ مسیح کے خون کے ذریعے سے خُداوند کے ساتھ متحد ہو سکتے ہیں۔ بائبل کہتی ہے،

’’مگر تم جو پہلے دور تھے اب مسیح میں ہو کر اُس کے خون کے وسیلے سے نزدیک ہو گئے ہو‘‘ (افسیوں2:13)

بائبل کہتی ہے،

’’ہماری خُداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے خُدا کے ساتھ صلح ہو چکی ہے‘‘ (رومیوں5:1)۔

’’اور خُدا کی مرضی یہ بھی تھی کہ مسیح کے خون کے سبب سے جو صلیب پر بہا، صلح کر کے سب چیزوں کا اپنے ساتھ میل کر لے‘‘ (کُلسیوں1:20)۔

چند ایک منٹ پہلے مسٹر گریفتھ Mr. Griffith نے حمدوثنا کا ایک گیت گایا تھا یہ سارے کا سارے لوگوں کو اُس کے گناہوں سے یسوع کے خون کے وسیلے سے پاک صاف کرنے کے بارے میں تھا۔ آپ کو اُس امن کو پانے کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے جو مسیح اپنے خون کے ذریعے سے پیش کرتا ہے؟

پہلی بات، آپ کو گرجہ گھر آتے رہنے کی ضرورت ہے۔ جتنا زیادہ عرصہ آپ آتے ہیں اُتنا ہی زیادہ موقع آپ کو خوشخبری پر یقین کرنے اور مسیح میں ایمان لانے کا مل جاتا ہے۔ مسیح میں تبدیلی محض جلدی سے ایک دعا مانگ لینا یا آسانی سے ایک آیت کو رٹ لینا یا محض ایک یا دو عقائد کو سیکھ لینا نہیں ہے۔ مسیح میں تبدیلی، بالکل ابھی، اور تمام ابدیت کے لیے، آپ کی زندگی کا تمام رُخ موڑ دیتی ہے۔ اور جتنا زیادہ آپ گرجہ گھر آتے رہتے ہیں، اِس قسم کی منادی کے واعظ کو سننے کے لیے اُتنا ہی زیادہ موقع آپ کے لیے مسیح میں تبدیل ہونے کا بڑھتا جاتا ہے۔

لوگ آپ کو آنے سے روکنے کے لیے کوشش کریں گے۔ شیطان اُن کو استعمال کرے گا کیونکہ وہ نہیں چاہتا آپ مسیح میں ایمان لے آئیں۔ شیطان آپ کو خود کے لیے – جہنم میں چاہتا ہے۔ یوں وہ آپ کے گمراہ دوستوں اور برگشتہ رشتہ داروں کو تیار کرتا ہے کہ وہ آپ کو واپس اِس گرجہ گھرمیں آنے سے روکنے کی کوشش کریں۔

ایک نوجوان شخص بغیر لائسنس کے گاڑی چلا رہا تھا۔ اُس کا خاندان نیا نیا ہی مبشران انجیل میں شامل ہوا تھا۔ اُنھوں نے فرض کر لیا تھا کہ وہ 1998 میں ’’نجات پا چکے‘‘ تھے۔ مگر یہ نوجوان آدمی چند ایک اِتواروں کے لیے ہمارے گرجہ گھرمیں آیا۔ اُس کے نئے مبشران بھائیوں نے اُس کو روکنے کی کوشش کی۔ وہ اِس کے بجائے چاہتے تھے کہ وہ کام کرے۔ جیسے بے شمار نئے مبشران اور پینتیکوست والے کرتے ہیں، اُنھوں نے اُس سے جھوٹ بولا تھا۔ اُنھوں نے کہا، ’’تمہیں ایک مسیحی ہونے کے لیے گرجہ گھر میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ یہ ایک جھوٹ ہے! یہ آج سب سے بڑے جھوٹوں میں سے ایک ہے جو شیطان لوگوں کو بتاتا ہے۔ آپ اِس کو کلام مقدس سے ثابت نہیں کر سکتے کیونکہ یہ کلام پاک میں سے ہے ہی نہیں۔ بائبل کہتی ہے، ’’اور خُداوند نجات پانے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ کرتا رہتا تھا‘‘ (اعمال2:47)۔ یہ ہے وہ سچ! یہ کہنا ایک جھوٹ ہے کہ مسیحی ہونے کے لیے آپ کو گرجہ گھر میں جانے کی ضرورت نہیں! اگر آپ اِس گرجہ گھر میں آتے ہیں تو آپ بار بار خوشخبری سُنتے ہیں اور یہ اِس امکان کو کہیں زیادہ بڑھا دیتی ہے کہ آپ نجات پا لیں گے۔

اُن نئے نئے مبشران نے اِس نوجوان آدمی کو آنے سے روکنے کے لیے اپنی حتٰی الوسیع کوشش کر لی۔ وہ بغیر لائسنس کے گاڑی چلا رہا تھا، چیزیں لوگوں کے حوالے کر رہا تھا۔ مگر اُس نے یہ کام اِتوار کو کرنا چھوڑ دیا اور اِس کو ہفتے کے روز کیا تاکہ وہ گرجہ گھر آ پائے۔ پولیس نے اُس کو ہفتہ کے روز روک لیا بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے پر اُس کا چلان کر دیا۔ وہ نئے مبشران بھائی غصے میں آ گئے! وہ چلائے، ’’اُس بپتسمہ دینے والے گرجہ گھرمیں جانا چھوڑ دو۔ اگر تم اِتوار کو گاڑی چلا رہے ہوتے جیسے تم چلایا کرتے تھے تو تمہارا چالان نہ ہوتا!‘‘

جب ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan نے اُس بارے میں سُنا تو اُنھوں نے کہا، ’’کیا پولیس لوگوں کو اِتوار کو نہیں روکتی اور اِتوار کو چالان بھی نہیں کرتی؟‘‘ بیشک وہ کرتی ہے۔ مگر یہ گمراہ مبشران منطق کا بھی استعمال نہیں کر پائے۔ اُنھوں نے کوئی سی بھی احمقانہ دلیل جو وہ اُس نوجوان آدمی کو واپس جانے اور نجات پا لینے سے روکنے کے لیے سوچ پاتے استعمال کی – اُس کو ایک حقیقی مسیحی بننے سے روکنے کے لیے۔ اِس لیے، یہ پہلے نمبر پر ہے۔ یہاں گرجہ گھر میں واپس آنا جاری رکھیں۔ کسی بھی بات کو آپ کو روکنے مت دیں!

پھر، دوسری بات، جب میں مسیح کی خوشخبری کی منادی کرتا ہوں تو دھیان سے سُنیں۔ آپ کی باطنی روح خوشخبری کو سُننے اور اُس کی فرمانبرداری کرنے پر انحصار کرتی ہے۔ اِن خوشخبری کی واعظوں کو سُنا کریں جیسے آپ کی زندگی کا انحصار اِن پر ہے – کیونکہ یہ واقعی میں اِن پر انحصار کرتی ہے!

اور پھر، تیسری بات، یسوع کے پاس آئیں۔ وہ مُردہ نہیں ہے۔ وہ جی اُٹھا ہے۔ وہ آسمان میں زندہ ہے، خُداوند کے داھنے ہاتھ پر۔ اور آپ یسوع، خُداوند کے بیٹے کے پاس آ سکتے ہیں، اور وہ آپ کو بچا لے گا اور آپ کو معاف کر دے گا اور آپ کو تبدیل کر لے گا۔ ایمان کے وسیلے سے خود کو یسوع کے حوالے کر دیں! اُس کا قیمتی خون آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کر دے گا!

’’اور خُدا کی مرضی یہ بھی تھی کہ مسیح کے خون کے سبب سے جو صلیب پر بہا، صلح کر کے سب چیزوں کا اپنے ساتھ میل کر لے‘‘ (کُلسیوں1:20)۔

اے آسمانی باپ، میں دعا مانگتا ہوں کہ اِس واعظ کو سُننے والوں میں سے کوئی نہ کوئی تیرے بیٹے کے پاس آئے گا اور بچا لیا جائے گا۔ آمین!

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو مہربانی سے ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای۔میل بھیجیں اور اُنھیں بتائیں – (یہاں پر کلک کریں) rlhymersjr@sbcglobal.net۔ آپ کسی بھی زبان میں ڈاکٹر ہائیمرز کو خط لکھ سکتے ہیں، مگر اگر آپ سے ہو سکے تو انگریزی میں لکھیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: لوقا23:33۔43.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
نے گایا تھا: ’’مصلوب کیے گئے کے خون کے وسیلہ سے نجات پائی
Saved by the Blood of the Crucified One‘‘ (شاعر ایس۔ جے۔ ھینڈریسن S. J. Henderson، 1902)۔

لُبِ لُباب

مسیح کے خون کے ذریعے سے امن

PEACE THROUGH CHRIST’S BLOOD

ڈٓاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اور خُدا کی مرضی یہ بھی تھی کہ مسیح کے خون کے سبب سے جو صلیب پر بہا، صلح کر کے سب چیزوں کا اپنے ساتھ میل کر لے‘‘ (کُلسیوں1:20)۔

(حزقی ایل 7:25)

I.    پہلی بات، شریروں کے لیے کوئی امن نہیں ہے، اشعیا57:21؛
رومیوں3:17؛ متی27:38؛ مرقس15:32 متی27:41۔42 .

II.   دوسری بات، اُن لوگوں کے لیے امن و شانتی ہے جو اپنا بھروسہ یسوع مسیح میں قائم رکھتے ہیں، کُلسیوں1:20؛
یوحنا7:5؛ مرقس3:35؛ لوقا23:42۔43؛ اعمال16:31 .

III.  تیسری بات، مسیح کے ذریعے سے خُداوند کے ساتھ امن و سکون ملتا ہے، اشعیا59:2؛ رومیوں5:8؛ افسیوں2:13؛ رومیوں5:1؛ کُلسِیوں1:20؛ اعمال2:47 .