Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

شیاطین اور جھوٹے اُستاد

DEMONS AND FALSE TEACHERS IN THE CHURCHES
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 26 اپریل، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, April 26, 2015

’’جس طرح بنی اِسرائیل میں جھوٹے نبی موجود تھے اُسی طرح تُم میں بھی جھوٹے اُستاد اُٹھ کھڑے ہوں گے جو چوری چھُپے ہلاک کرنے والی بدعتیں شروع کریں گے اور اُس مالک کا بھی اِنکار کر دیں گے جس نے اُنہیں قیمت دے کر چھُڑایا ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو جلد ہی ہلاکت میں ڈالیں گے۔ بہت سے لوگ اُن کی شہوت پرستی کی پیروی کرنے لگیں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ طریقِ حق بدنام ہوکر رہ جائے گا۔ ایسے اُستاد لالچ سے باتیں بنا بنا کر تُم سے ناجائز فائدہ اُٹھائیں گے۔ لیکن اُن پر بہت پہلے ہی سزا کا حکم ہو چُکا ہے اور ہلاکت اُن کی منتظر ہے‘‘ (2۔ پطرس 2:1۔3).

خُدا کے کلام میں یہ ایک انتہائی اہم بیان ہے۔ پطرس رسول کے ذریعے سے کلیسیاؤں میں اِرتداد اور جھوٹے اُستادوں کے بارے میں پیش کی گئی یہ ایک پیشن گوئی ہے۔ اِس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ یہ ایک پیشن گوئی ہے۔ رسول کہتا ہے، ’’تمہارے درمیان جھوٹے اُستاد اُٹھ کھڑے ہونگے‘‘ (2:1)۔ وہ مستقبل کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ خود خُداوند یسوع مسیح بخود نے اِس کو زمانے کے خاتمہ کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا تھا۔ مسیح نے کہا، ’’جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے بڑے نشان اور عجیب عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو چُنے ہوئے لوگوں کو بھی گمراہ کر دیں‘‘ (متی24:24)۔ اُسی باب میں اِس سے پہلے مسیح نے کہا، ’’خبردار، کوئی تمہیں گمراہ نہ کر دے‘‘ (متی24:4)۔ اِس ہی طرح پطرس رسول بھی خبردار کرتا ہے ’’تمہارے درمیان جھوٹے اُستاد اُٹھ کھڑے ہوں گے‘‘ (2۔پطرس2:1)۔ ڈاکٹر جان ایف۔ والوورد Dr. John F. Walvoord، جو کہ بائبل کی پیشن گوئی پر ایک نہایت قابل احترام بااختیار ہستی مانے جاتے ہیں اُنھوں نے کہا،

آج یہاں گرجہ گھر ہیں جو کہ اِتوار کی رات کو سرد اور مُردہ ہوتی ہیں – وہ جو زیادہ مدت نہیں گزری [اِتوار] کی شام کو جوش وخروش سے عبادتیں کراتی تھیں۔ آج بے شمار گرجہ گھروں میں ہفتے میں صرف ایک ہی عبادت ہوتی ہے، اِتوار کی صبح… ہم ایک ایسے زمانے میں زندگی بسر کر رہے ہیں جب گرجہ گھروں کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے… بے اعتقادی، شک کی نظر سے دیکھنا اور بائبل کی تنقید… ناقابلِ اعتراض طریقے سے آج بیرون ممالک تک پھیل چکے ہیں۔ یہ ایک حادثہ نہیں ہے، تاھم، لیکن یہ کچھ ایسا ہے جس کی واضح طور پر خُدا کے کلام میں پیشن گوئی کی جا چکی تھی۔ 2۔پطرس2:1 بیان کرتی ہے، ’’ تُم میں بھی جھوٹے اُستاد اُٹھ کھڑے ہوں گے جو چوری چھُپے [خُفیہ طور پر] ہلاک کرنے والی [تباہ کُن] بدعتیں شروع کریں گے اور اُس مالک کا بھی اِنکار کر دیں گے جس نے اُنہیں قیمت دے کر چھُڑایا ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو جلد ہی ہلاکت میں ڈالیں گے۔‘‘ یہ پیشن گوئی [نشان دہی] کرتی ہے کہ کلیسیا کی تاریخ کے سلسلہ میں لوگ مسیحی اُستادوں کے روپ [بھیس] میں اُٹھ کھڑے ہوں گے وہ جو اِس کے ناگزیر عقائد کا انکار کریں گے (جان ایف۔ والوورد، ٹی ایچ۔ ڈی۔ John F. Walvoord, Th.D.، اُنیس سو ستّر کی دہائی اور پیشن گوئی Prophecy and the Seventies، موڈی بائبل اِدارہMoody Bible Institute ، 1971، صفحات 112، 113)۔

میں نے یہ خود دیکھا تھا۔ سان فرانسسکو کے شمال میں مغربی بپتسمہ دینے والوں کی سیمنری کے اِس خطرناک حد تک ناقابلِ اعتبار اِرتداد کا ایک چشم دید گواہ تھا، جہاں سے میں نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ میں نے پروفیسروں کو کہتے ہوئے سُنا تھا کہ یسوع جسمانی طور پر مُردوں میں سے نہیں جی اُٹھا تھا۔ وہ بدعتی ایمل برونر Emil Brunner کا تصور پیش کرتے تھے کہ ’’مسیح صرف شاگردوں کے ذہنوں میں مُردوں میں سے زندہ ہوا تھا۔‘‘ میں نے تو اُن کو صلیب پر میسح کی متبدلیاتی موت کا انکار کرتے ہوئے بھی سُنا تھا۔ میں نے اُن کو خون کے فدیہ کا انکار کرتے ہوئے سُنا تھا۔ یہ تمام کا تمام نہایت احتیاط کے ساتھ تحریری حالت میں میری کتاب مغربی بپتسمہ دینے والوں کے اجتماع کے اندر Inside the Southern Baptist Convention میں اور اُس کے تنقیدی حاشیوں میں موجود ہے۔ میں نے تو سان اینسیلمو San Anselmo میں پریسبائی ٹیرئین سیمنری میں اِس سے بھی بدتر باتیں سُنیں تھیں، جہاں سے میں نے ڈاکٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اُن دونوں علم الہٰیات کی سیمنریوں میں جانا واقعی میں آنکھیں کھُل دینے والی بات تھی۔

بہت سے لوگ تعجب کرتے ہیں کہ کیوں صدر اوباما مسیحیوں کے اکثر مخالف ہوتے ہیں، مگر دوسرے مذاھب کی جانب نرم روئیہ اپناتے ہیں۔ میں جانتا تھا کہ وہ شروع سے ہی ایسے ہونگے۔ بیس سالوں سے زیادہ عرصہ تک اُن کے پادری ڈاکٹر یرمیاہ رائٹ Dr. Jeremiah Wright رہے تھے۔ ہم تمام اُن کو ٹیلی ویژن پر ’’خُدا امریکہ پر لعنت لائے!‘‘ چیختے ہوئے سُن چکے ہیں۔ لوگوں نے اِس بات کو ذہنوں سے یہ سوچتے ہوئے جھٹک کر نکال دیا کہ وہ ایک جاہل حبشی مناد تھے۔ وہ کس قدر غلطی پر تھے! ڈاکٹر رائٹ اصل میں ایک نہایت ہی ذھین شخص ہیں، جنہوں نے ماسٹرز کی ڈگری لی ہوئی ہے اور ڈاکٹریت بھی پاس کی ہوئی ہے۔ مگر اُنھوں نے اپنی ماسٹرز کی ڈگری شیکاگو کے الہٰیاتی سکول کی یونیورسٹی سے پاس کی تھی۔ وہ امریکہ میں سب سے زیادہ آزاد خیال، بائبل کو مسترد کر دینے والے سکولوں میں سے ایک ہے۔ یہ وہیں پر تھا کہ اوباما کے دیرینہ پادری صاحب نے بائبل کو مسترد کرنے اور بائبل پر ایمان رکھنے والی مسیحیت سے نفرت کرنی سیکھی تھی۔ اِس طرح سے ہمارا سامنا ایک مغربی دُنیا کے رہنما، ایک صدر کے ساتھ ہے جن کو ایک ’’جھوٹے اُستاد [جو] ہلاک کر دینے والی بدعتوں کو لایا اور یہاں تک کہ اُس مالک کا بھی انکار کیا جس نے [اُسے] قیمت دے کر چُھڑایا۔‘‘ کوئی تعجب نہیں کہ صدر مسیحیت اور اسرائیل پر حملہ کرتے ہیں، جبکہ مسلسل دھشت گردوں کے ساتھ میانہ روی اختیار کیے ہوئے ہیں! خُداوند ہماری مدد کرے! آج پطرس رسول کی پیشن گوئی ہم سب کی زندگیوں کو اثر انداز کر رہی ہے!

پھر رسول نے کہا کہ یہ جھوٹے اُستاد ’’چوری چُھپے ہلاک کر دینے والی بدعتیں لائیں گے‘‘ (2۔پطرس2:1)۔ کنگ جیمس بائبل میں لفظ ’’چوری چُھپے privily‘‘ کا مطلب ’’خُفیہ طور‘‘ ہے۔ ’’بدعتوںheresies‘‘ کا مطلب خود کے مرتب کیے ہوئے مذھبی جھوٹ‘‘ (میک آرتھر MacArthur)۔ وہ اِن جھوٹوں کو گرجہ گھروں میں لاتے ہیں (’’ہلاک کر دینے والی بدعتیں لائیں گے‘‘)۔ کہاں پر لائیں گے؟ بِلا شُبہ گرجہ گھروں ہی میں!

میں آپ کو ایک قابلِ غور مثال پیش کروں گا کہ کیسے یہ ہلاک کر دینے والی بدعتیں اُن کو تباہ کر دیتی ہیں جو اُن کو قائم کرتے ہیں۔ بشپ جیمس پائیک James Pike (1913۔1969) ایپیسکوپل Episcopal گرجہ گھر میں ایک معروف آزاد خیال شخص تھے۔ ڈاکٹر فرانسس شیئفر Dr. Francis Schaeffer (1912۔1984) بشپ پائیک کے گھر مدعو کیے جانے کے بارے میں بتاتے ہیں۔ اِس وقت بشپ پائیک اپنے مُردہ بیٹے کے ساتھ جس نے خودکشی کر لی تھی بات کر رہے تھے۔ مُردہ بیٹا بشپ پائیک کے ساتھ روحانیت کے ذریعے سے بات چیت کر رہا تھا۔ میں نے اُن نظاروں میں سے ایک ٹیلی ویژن پر دیکھا تھا۔ جب ڈاکٹر شیئفر اپنے گھر پہنچے تو اُنھوں نے بشپ پائیک کو بتایا کہ یہ تو شیطانی تھا، ’’جو واقعی میں آسیبوں کے علم کا معاملہ تھا‘‘ – جس میں ایک بدروح اُن کے مُردہ بیٹے کے ہونے کا دکھاوا کر رہی تھی۔ ڈاکٹر شیئفر نے کہا، ’’وہ ناراض نہیں ہوا تھا، حالانکہ وہ رونے کے قریب ہی تھا۔‘‘ پھر شیئفر نے کہا، ’’میں کبھی بھی نہیں بھولوں گا جب آخری مرتبہ میں نے اُس کو دیکھا تھا… اُنھوں نے بدقسمت ترین باتوں میں سے ایک بات کہی تھی جو میں نے اِس سے پہلے کبھی بھی نہیں سُنی تھی: ’جب میں نے ایک اگنوسٹکagnostic ہونے کو ترک کیا تو میں یونین علم الہٰیات کی سیمنری [جو کہ ایک انتہائی شدید آزاد خیال سکول تھا] چلا گیا، مال کی توقع اور شوق کے لیے؛ مگر جب میں نے گریجوایشن کر لی تو اِس نے میرے لیے اگر کچھ چھوڑا تو وہ مُٹھی بھر کنکر تھے۔‘ بشپ پائیک کے المیے کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ اُن کے علم الہٰیات کے آزاد خیال پروفیسروں نے مُٹھی بھر کنکروں کے ساتھ [اُنھیں چھوڑ] دیا اور اِس کے علاوہ کچھ بھی نہیں‘‘ (فرانسس اے۔ شیئفر، ڈی۔ڈی۔ Francis A. Schaeffer, D.D.، سب سے بڑی انجیلی بشارت کے پرچار کی آفت The Great Evangelical Disaster، کراسوے کُتب Crossway Books، 1984، صفحہ84)۔

بشپ پائیک یہودیہ کے بیابان میں کافی اندر تک گئے، یہ تلاش کرنے کی کوششوں میں کہ یسوع کیوں وہاں پر چالیس دِن تک کے لیے دعا مانگنے اور روزہ رکھنے کے لیے گیا تھا۔ اُن کی گاڑی ایک نالی میں پھنس گئی اور ہلنے بھی نہ پائی۔ بشپ پائیک نے اُس بیابان میں سے پیدل نکلنے کی کوشش کی۔ وہ پھسل گئے اور ایک 60 فٹ گہری کھائی میں جا گرے۔ وہ وہیں پر ’’تاریخی یسوع‘‘ کے بارے میں حقائق تلاش کرتے ہوئے مر گئے (ویکیپیڈیاWikipedia )۔ میں نے جب پہلی مرتبہ اُس بارے میں پڑھا تو میں زاروقطار رو پڑا۔ میں جانتا تھا کہ یہ بیچارہ، کھویا ہوا شخص جھوٹے اُستادوں کی وجہ سے صحرا میں تنہا تباہ ہو چکا تھا… جو چوری چُھپے ہلاک کر دینے والی بدعتیں [لایا] اور یہاں تک کہ اُس مالک کا بھی انکار کر دیا جس نے اُسے قیمت ادا کر کے چُھڑایا‘‘ (2۔پطرس2:1)۔ جیسا کہ ڈاکٹر شیئفر نے نشاندہی کی، اِس المیے کا سبب شیطانیت کا علم تھا۔ پولوس رسول نے ’’گمراہ کرنے والی روحوں اور شیاطین کی تعلیمات کی طرف متوجہ ہونے‘‘ کے بارے میں بتایا جو کہ آزاد خیال علم الہٰیات کے لیے ذمہ دار ہیں (1تیموتاؤس4:1)۔

جب میں سان فرانسسکو کے شمال میں، آزاد خیال مغربی بپتسمہ دینے والی سیمنری میں مطالعہ کر رہا تھا تو میں آزاد خیال علم الہٰیات سے منسلک شیاطین اور اِس کے بائبل پر حملوں کے بارے میں شدت سے آگاہ ہو گیا تھا۔ مجھے 1 تیموتاؤس میں وہ حوالہ پڑھنا یاد ہے،

’’اب پاک رُوح صاف طور پر فرماتا ہے کہ آنے والے دِنوں میں بعض لوگ مسیحی ایمان سے مُنہ موڑ کر گُمراہ کرنے والی رُوحوں اور شیاطین کی تعلیمات کی طرف متوجّہ ہونے لگیں گے۔ یہ باتیں جھُوٹے آدمیوں کی ریاکاری کے باعث ہوں گی جن کا دل گرم لوہے سے داغا گیا ہے‘‘ (1۔ تیموتاؤس 4:1۔2).

ڈاکٹر میرل ایف۔ اُونگر Dr. Merrill F. Unger (1909۔1980) ڈلاس علم الہٰیات کی سیمنری میں طویل عرصے سے پروفیسر تھے۔ اُنھوں نے اُونگر کی مختصر اور جامع بائبل Unger’s Bible Handbook تحریر کی، جو کہ ایک معیاری حوالے کی کتاب ہے۔ ڈاکٹر اُونگر نے بائبلی آسیبیت Biblical Demonology کے عنوان سے بھی ایک کتاب تحریر کی۔ اُنھوں نے 1تیموتاؤس4:1۔2 کو ’’سچائی کو بگاڑنے اور بہتوں کو ایمان سے مُنہ موڑ لینے کے لیے آخری دِنوں کی شیطانی سرگرمی کے خلاف انبیانہ تنبیہہ کہا… یہ انبیانہ حوالہ تمام عقیداتی گمراہیوں کا اُن کی گہری ترین وجوہات کے ساتھ سُراغ لگاتا ہے اور غیرمرئی شیطانی کارندوں میں اُن کے حتمی منبع کا ذریعہ تلاش کرتا ہے‘‘ (میرل ایف۔ اُونگر، ٹی ایچ۔ ڈی۔، پی ایچ۔ ڈی۔ Merrill F. Unger, Th.D., Ph. D.، بائبلی آسیبیت Biblical Demonology، کریگل پبلیکشنز Kregel Publications، 1994، صفحات 166۔167)۔

ڈاکٹر وِلبر ایم سمتھ Dr. Wilbur M. Smith (1894۔1976) موڈی بائبل انسٹیٹوٹ میں ایک طویل عرصے تک پروفیسر رہے تھے۔ بعد میں وہ کیلیفورنیا کے شہر پساڈینہ میں فُلر علم الہٰیات کی سیمنری کے بانیوں میں سے ایک بن گئے۔ اُنھوں نے فُلر سیمنری کو اُس وقت چھوڑ دیا جب اُس نے بائبل کے اختیار کو مسترد کرنا شروع کیا۔ اُنھوں نے ایلینوئسIllinois کے شہر ڈیئرفلیڈDeerfield میں تثلیثی مبشراتی سیمنری Trinity Evangelical Seminary ایک ایسا سکول ہے جو بائبل پر آزاد خیال حملوں کو مسترد کرتا ہے اُس میں ایک پروفیسر کی حیثیت سے اپنے پیشے کا اختتام کیا۔ معذرتوں پر اپنی معیاری کتاب اِس لیے ڈٹا ہوا Therefore Stand، میں ڈاکٹر سمتھ نے شیطان اور اُس کے آسیبوں کے لیے آزاد خیال، بائبل کو مسترد کرنے والی تعلیمات کا سُراغ لگایا۔ ڈاکٹر سمتھ نے کہا، ’’آج ہماری علم الہٰیات کی سیمنریوں میں لوگ ہیں جو خُدا کی وجودیت ہی سے انکار کرتے ہیں، اُس متبدلیاتی کام پر جو ہمارے بابرکت خُداوند نے صلیب پر مکمل کیا [حملہ کرتے ہیں]… وہ ایک جو اِن بُرے لوگوں کو ماہر کر رہا ہے، قابو میں کیے ہوئے ہے اور ہدایات دے رہا… خود شیطان ہے جو کسی سے کم نہیں ہے۔ یہ ہی ہے جو پولوس کا مطلب تھا جب تیموتاؤس کے پہلے مراسلے میں وہ کہتا ہے کہ آنے والے دِنوں میں بعض لوگ مسیحی ایمان سے مُنہ موڑ کر گُمراہ کرنے والی رُوحوں اور شیاطین کی تعلیمات کی طرف متوجّہ ہونے لگیں گے‘‘ (ولبر ایم۔ سمتھ، ڈی۔ڈی۔ Wilbur M. Smith, D.D.، اِس لیے ڈٹا ہواTherefore Stand ، ڈبلیو۔ اے۔ وائلڈی کمپنی W. A. Wilde Co.، 1945، صفحات184، 185، 176)۔

ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones (1899۔1981) بیسویں صدی کے دو یا تین عظیم ترین مبلغین میں سے ایک تھے۔ اُنھوں نے لندن کے دِل میں ویسٹ منسٹر چھوٹے گرجہ گھر Westminster Chapel کے پادری کی حیثیت سے ڈاکٹر جی۔ کیمپبیل مورگن Dr. G. Campbell Morgan کی پیروی کی۔ اُن کے واعظوں میں بہت بڑے بڑے ہجوم کھینچے چلے آتے تھے۔ اُن کی کُتب کی سینکڑوں ہزاروں نقول فروخت ہوئیں۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا، ’’یہاں ہزاروں، شاید کروڑوں بُری روحیں ہیں‘‘ (مسیحی اتحاد Christian Unity، دی بینر اور ٹرٹھ ٹرسٹ The Banner of Truth Trust، 1980، صفحہ 58)۔ دوبارہ، اُنھوں نے کہا، ابلیس [خود کو چھپانے میں] ماہروں کا ماہر ہے۔ اِس لیے جب وہ کلیسیا کو قائل کر سکتا ہے، خاص طور پر، کہ جب شیطان اور حاکموں اور طاقتوں اور آسیبوں کے طور پر ایسا کوئی وجود ہی نہ ہو تو اُس کے نقطہ نظر سے ہر ایک بات مکمل طور پر بہت اچھی جا رہی ہے۔ کلیسیا نشے میں دھت اور جھانسے میں آئی ہوئی ہے؛ وہ سوئی ہوئی ہے اور اِس کشمکش کے بارے میں بالکل بھی باخبر نہیں ہے‘‘ (ڈی۔ مارٹن لائیڈ جونز، ایم۔ڈی۔D. Martyn Lloyd-Jones, M.D. ، مسیحی جنگ: افسیوں6:10۔13 کی ایک تفسیر The Christian Warfare: An Expostion of Ephesians 6:10-10، بیکر کُتب گھر Baker Book House، 1976، صفحہ 106)۔

وہ الفاظ مسئلے کی ابتدا کو ظاہر کرتے ہیں۔ جھوٹے اُستاد ہمارے گرجہ گھروں اور سکولوں اور سیمنریوں میں ’’چوری چُھپے‘‘ (خُفیہ طور پر) چلے آتے ہیں۔ یہ ہوتا کیسے ہے؟ شیطان ہمیں اندھا کر چکا ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر لائیڈ جونز اِس کو لکھتے ہیں، ’’کلیسیا نشے میں دھت اور جھانسے میں آئی ہوئی ہے؛ وہ سوئی ہوئی ہے اور اِس کشمکش کے بارے میں بالکل بھی باخبر نہیں ہے…‘‘ (ibid.)۔

میں آزاد خیال مغربی بپتسمہ دینے والوں کی سیمنری میں جانے سے پہلے ہی شیطان اور آسیبوں کے بارے میں بہت اچھی طرح سے باخبر تھا۔ میرے دیرینہ پادری ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin تھے جو کہ پرانے عہد نامے کے ایک عالم تھے اور جو ایلینوئس Illinois میں ٹالبوٹ علم الہٰیات کی سیمنری Talbot Theological Seminary اور تثلیثی مبشراتی علم الہٰیات کی سیمنری Trinity Evangelical Theological Seminary میں تدریس دینے کے لیے چلے گئے تھے۔ وہ نئی امریکی معیاری بائبل New American Standard Bible کے ترجمہ نگاروں میں سے ایک تھے اور تائیوان کے شہر ٹائیپئی Taipei میں چینی مبشراتی سیمنری China Evangelical Seminary کے صدر کی حیثیت سے اپنے پیشے کا اختتام کیا۔ ڈاکٹر لِن نے ہمیں ہمارے گرجہ گھر میں خصوصی کلاسز میں سلسلہ بہ سلسلہ علم الہٰیات اور علم آسیبیت کی تعلیم دی۔ اِس لیے میں آزاد خیال سیمنری میں جانے سے پہلے ہی شیطانی اثرات سے بخوبی آگاہ تھا۔ میں وہاں اِس لیے گیا تھا کیونکہ وہ ایک قدامت پسند سکول کے مقابلے میں زیادہ مہنگی نہیں تھی۔ تاھم، شروع شروع میں، مَیں نے مشکل سے ہی شیطانیت پر دھیان دیا۔ میں کُلّی طور پر کیلیفورنیا کے شہر ساکرامینٹوں میں ایک نئے چینی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر کا آغاز کروانے میں مدد دینے میں مصروف رہا تھا۔

مگر واقعات کا ایک سلسلسہ رونما ہوا جس نے مجھے اِس مشنری کام سے باہر نکال کھڑا کیا اور مجھے سیمنری تک محدود کر دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب مجھ پر شیطانیت کا حملہ مایوسی اور نااُمیدی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا۔ میں نے یوں محسوس کیا تھا جیسے شیطانی روحوں نے میرا گلا گھونٹ دیا ہو۔ اجتماعی سونے والے کمرے میں زندگی بسر کرتا، کلاسز میں حاضر ہونا – آزاد خیال، بائبل کا انکار کرنے والے لوگوں میں گِھرے ہوئے ہونا، میں نے یوں محسوس کیا جیسے کہ میں دلدل کے تالاب میں دھنستا چلا جا رہا تھا۔ مجھے یقین آنے لگ گیا کہ طالب علموں میں سے کچھ آسیبوں کے اثر میں تھے۔ دوسرے – خصوصی طور پر سکول کے عملہ کے کچھ اراکین – میں پُر یقین ہوں آسیب زدہ تھے۔ یہ ایک پاگل خانے میں، ایک جہنم کے دھانے میں، ایک فرقے کی تاریک کوٹھڑی میں تعلیم حاصل کرنے اور زندگی بسر کرنے کی مانند تھا! جب میں نے گریجوایشن مکمل کر لی، تو یوں لگتا تھا جیسے میں اپنی زندگی مشکلوں سے ہی بچا پایا تھا! اِس کے باوجود یہ تھی وہ جگہ جہاں پر مغربی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر اپنے نوجوان لوگوں کو مذھبی خدمات سرانجام دینے کا مطالعہ کرنے کے لیے بھیجا کرتے تھے!

میں اکثر تعجب کیا کرتا کہ کیوں خُدا نے مجھے اُس سیمنری میں بھیجا تھا۔ پھر بھی میں جانتا تھا کہ اُس خدا نے مجھے وہاں کسی نہ کسی وجہ کے تحت ہی بھیجا تھا۔ یہ ہی وجہ تھی کہ میں الہٰیات میں ماسٹرز کی ڈگری کے ساتھ گریجوایشن کرنے تک، پورے تین سال وہاں پر ٹکا رہا۔ مگر وجہ کیا رہی تھی؟ کیوں خُدا نے مجھے اِس قدر زیادہ شیطانی تجربے سے ایک اِس قدر زیادہ بُری جگہ میں سے گزارا؟ میں اب یقین کرتا ہوں کہ خُدا نے مجھے وہاں پر حقیقی تبدیلی اور جھوٹی تبدیلی کے بارے میں گہرائی کے ساتھ سوچنے پر مجبور کرنے کے لیے بھیجا تھا، جو کہ گرجہ گھروں میں جھوٹے اُستادوں کا ذریعہ ہے۔

یہ جھوٹے اُستاد آتے کہاں سے ہیں؟ کیوں، مغربی بپتسمہ دینے والوں کی سیمنری میں ہر جھوٹا اُستاد ایک بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر سے آیا! اِن آسیب زدہ اور بدروحوں کے ستائے ہوئے پروفیسروں میں سے ہر ایک نے جب وہ بچے ہی تھے تو بپتسمہ دینے والے گرجہ گھروں کے سنڈے سکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔ اُن میں سے ہر ایک ’’فیصلے کے وقت‘‘ ’’سامنے چلا آیا‘‘ تھا۔ اُن میں سے ہر ایک اُن کے ’’ایمان کے پیشے‘‘ پر بپتسمہ پایا ہوا تھا۔ مگر وہ نجات یافتہ نہیں تھے! میں صرف دو ہی عملے کے اراکین کے بارے میں سوچ سکتا ہوں جو مسیح میں ایمان لائے ہوئے لوگ دکھائی دیتے تھے! ہر علامت نشاندہی کرتی تھی کہ اُن میں سے ہر اندھا تھا\ یا آسیبوں کے قابو میں تھا۔

میں اُس کے بارے میں اب تک چالیس سالوں سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے کہ سوچتا رہا ہوں۔ اِس چیز نے دو کتابوں کی تحریر میں رہنمائی کی، جن میں سے ایک کلک کرنے کے ذریعے سے مفت ہی میں مہیا ہے: آج کا اِرتداد: کیسے فیصلہ سازیت ہمارے گرجہ گھروں کو تباہ کر رہی ہے Today’s Apostasy: How Decisionism is Destroying Our Churches ۔

میں قائل ہو چکا ہوں کہ ’’فیصلہ سازیت‘‘ زہریلی ہوتی ہے۔ انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والی مسیحیت کو اُنیسویں صدی کے وسط سے ہی تباہ کرنے کے لیے شیطان نے اِس کو ایک اہم اوزار کی حیثیت سے استعمال کیا ہے۔ آج کے اِرتداد Today’s Apostasy میں ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan اور میں نے اِس شیطانی تعلیم کا سُراغ چارلس جی فنی Charles G. Finney تک لگایا، اور ہم نے دکھایا کہ کیسے یہ مختلف اقسام میں نشوونما پا چکی ہے۔ فنی کی انگلیاں ہمارے گرجہ گھروں کے گلوں کے اردگرد جکڑی ہوئی ہیں، شیطانی طور پر ہم میں سے زندگی کو نچوڑ رہی ہیں۔ امریکہ اور مغربی دُنیا میں ہر انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے اور بُنیاد پرست گرجہ گھر کو واقعی میں فنّی کی ’’فیصلہ سازیت‘‘ تباہ کر رہی ہے!

’’بہت سے لوگ اُن کی شہوت پرستی [تباہ کُن راہوں] کی پیروی کرنے لگیں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ طریقِ حق بدنام ہوکر رہ جائے گا ‘‘ (2۔ پطرس 2:2).

وہ ہماری انتہائی آنکھوں کے سامنے رونما ہوچکا ہے! میں خود شیطانی آزادخیالی کو فُلر سیمنری پر قابو پاتے ہوئے دیکھ چکا ہوں۔ میرے دوست ڈاکٹر ھیرالڈ لینڈسل Dr. Harold Lindsell نے اپنی شہرہ آفاق کتاب بائبل کے لیے جنگ The Battle for the Bible (ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، 1976، صفحات 106۔121) میں ایک باب لکھا ہوا ہے۔

مہربانی سے یہ مت سوچیں کہ بنیاد پرست گرجہ گھر اِس سے بچے رہے ہونگے! بالکل ابھی ہم لوگ، اپنے بنیاد پرست بپتسمہ دینے والے گرجہ گھروں میں وہی غلطی جس نے ماضی کی بہت بڑی بڑی پروٹسٹنٹ جماعتوں کو تباہ کردیا، دھرا رہے ہیں۔ بالکل ابھی ہمارے زیادہ تر بنیاد پرست بپتسمہ دینے والے گرجہ گھرغیرنجات یافتہ نوجوان لوگوں سے بھرے پڑے ہیں۔ وہ ہمارے بنیاد پرست سکولوں میں جائیں گے اور گریجوایشن کر لیں گے۔ پھر اُن میں سے زیادہ تر تو بالکل سیدھے ہی آزادخیالی کے مختلف اقسام کا رُخ اختیار کر لیں گے۔ کیوں؟ کیوں کہ ہم نے کبھی بھی اِس بات کو یقینی نہیں بنایا کہ وہ جب نوجوان ہی تھے تو اُنہیں مسیح میں ایمان لانے کی توفیق دلاتے!

ہم تمام کے تمام کہتے ہیں کہ ایک شخص کی زندگی میں نجات سے زیادہ اہم بات ہوتی ہے۔ ہم سارے کہتے ہیں کہ ہم نئے سرے سے جنم لینے اور مسیح میں ایمان لانے میں یقین رکھتے ہیں۔ ہم سب ہی کہتے ہیں، ’’تمہیں نئے سرے سے جنم لینا چاہیے‘‘ (یوحنا3:7)۔ اِس کے باوجود ہم انتہائی ہی کم (وہ بھی اگر دیتے ہوں) توجہ دیتے ہیں اِس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ وہ بات ہمارے نوجوان لوگوں کے ساتھ ہو چکی ہے۔ ہم مطمئن ہوتے ہیں کہ وہ ’’سامنے آئے۔‘‘ ہم مطمئن ہو جاتے ہیں کہ اُنہوں نے ’’گنہگار کی دعا‘‘ کے الفاظ کو دھرا لیا تھا۔ مگر ہمارے پادریوں نے اُن سے کبھی وہ سادہ سے سوال نہیں پوچھے – جیسے ’’یسوع آپ کے لیے کیا کرتا ہے؟‘‘ آپ سامنے کیوں آئے تھے؟‘‘ یا ’’آپ کے گناہ کیسے معاف کیے جا سکتے ہیں؟‘‘ میرے خیال میں ہمارے بے شمار پادری صاحبان اِس قسم کے چند ایک سادہ سے سوالات پوچھنے سے ڈرتے ہیں۔ کیوں، اُنھیں شاید غلط جواب مل سکتا ہے! اُنھیں شاید اُن لوگوں کو بپتسمہ دینے کے ذریعے سے ’’دکھاوا‘‘ کرنے کا موقع نہیں ملے گا! جیک ھائلز Jack Hyles اپنے گرجہ گھر میں اوسطاً بچوں کو بپتسمہ دیتے تھے، اوسطاً بچوں کو، کم از کم پانچ مرتبہ۔ اِس بات نے اُن کے بپتسمہ دینے کی تعداد کو بڑھا کر رکھا، یوں وہ شیخی بگھار سکتے تھے کہ اُن کے گرجہ گھر میں کتنے لوگوں نے بپتسمہ پایا تھا! مگر اُنھوں نے کبھی بھی اُن بچوں سے چند ایک سادہ سے سوالات نہیں پوچھے! کوئی تعجب کی بات نہیں اگر اُن کا بیٹا تسلسل کے ساتھ زانی ہوتا چلا گیا! کوئی تعجب کی بات نہیں تھی اگر اُن کا داماد، جو اُن کی پیروی کرتے ہوئے ایک پادری بنا، ایک نوجوان لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی وجہ سے قید میں ڈالا گیا! خدا ہماری مدد کرے! تبدیلی حقیقی ہوتی ہے! تبدیلی ساری کی ساری زندگی کو ایک تحریک میں رواں کر دیتی ہے! آپ کے خیال میں ’’جھوٹے اُستاد‘‘ کہاں سے آئے تھے؟ وہ اُن مبلغین سے آئے تھے جنہوں نے کبھی بھی لوگوں کی جانوں پر زیادہ دھیان نہیں دیا کہ اِس بات کو یقینی بنا لیں کہ وہ نجات پا چکے ہیں! یہ ہے جہاں سے وہ آئے تھے!

ہم اپنی حتی الوسیع کوشش کریں گے کہ ایسا آپ کے ساتھ نہ ہو! ہم احتیاط کے ساتھ پڑتال کریں گے اِس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ آپ جانتے ہوں مسیح کون ہے، وہ کیا کر چکا ہے، اور وہ اب کہاں پر ہے۔ ہم اپنے طور پر بہترین کوشش کریں گے اِس بات کو یقینی بنانے کی کہ آپ یسوع مسیح بخود پر بھروسہ کریں۔ ہم آپ کو آپ کے گناہ دیکھنے میں مدد کرنے کی پوری کوشش کریں گے، گناہ کی سزایابی میں آئیں، اور یسوع پر بھروسہ کریں۔ وہ ہی تنہا واحد ہے جو آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کر سکتا ہے اُس قیمتی خون کے وسیلے سے جو اُس نے صلیب پر بہایا تھا۔ وہ جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ وہ واپس جنت میں اُٹھایا جا چکا ہے جہاں پر وہ خُدا باپ کے داھنے ہاتھ پر بیٹھا ہوا ہے۔ ہم دعا مانگتے ہیں کہ آپ یسوع پر بھروسہ کریں گے۔ وہ آپ کو گناہ کی زندگی سے آرام بخشے گا۔ ہائے، خُدایا، ہم تجھ ہی سے مانگتے ہیں کہ کسی نہ کسی کو یسوع کی جانب کھینچ، جو کہ آج یہاں پر ہے۔ ہم دعا مانگتے ہیں کہ تو آج کسی نہ کسی کو یسوع کی جانب کھینچ لے گا جو یہ واعظ پڑھ رہا ہے یا اِس کو انٹرنیٹ پر دیکھ رہا ہے۔ اُسی کے نام میں، آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: 2۔پطرس2:1۔3.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
نے گایا تھا: ’’پھر یسوع آ گیاThen Jesus Came ‘‘ (الفاظ لکھے ڈاکٹر اُوسولڈ جے ۔ سمتھ نے Dr. Oswald J. Smith، 1889۔1986؛
          موسیقی دی ہومر روڈھیور نے Homer Rodeheaver، 1880۔1955؛ پادری صاحب نے ترمیم کی)۔