Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

زندگی بخشنے والا نجات دہندہ!

THE LIFE-GIVING SAVIOUR!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 19 اپریل، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, April 19, 2015

’’پھر بھی تُم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے اِنکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا5:40).

لفظ ’’زندگی life‘‘ یونانی لفظ ’’زوئی zōē‘‘ کا ترجمہ ہے۔ یہ خُدا باپ اور بیٹے کی زندگی ہے۔ جیسا کہ مسیح نے کہا،

’’کیونکہ جیسے باپ اپنے آپ میں زندگی (زوئی zōē) رکھتا ہے ویسے ہی اُس نے بیٹے کو بھی اپنے میں زندگی (زوئی zōē) رکھنے کا شرف بخشا ہے‘‘ (یوحنا 5:26).

یسوع دُنیا میں ہمیں زندگی بخشنے کے لیے آیا تاکہ ہم جی سکیں۔ یسوع نے کہا، ’’میں آیا ہوں کہ لوگ زندگی (زوئی zōē) پائیں (یوحنا10:10)۔

یسوع صلیب پر مرا تاکہ ہم زندگی پا سکیں۔ یسوع نے اپنا قیمتی خون بہایا تاکہ ہمیں زندگی مل پائے۔ اور وہ جو مسیح میں ایمان لاتے ہیں اُن کے پاس یہ ’’زندگی‘‘ ہوتی ہے۔ یسوع نے کہا، ’’جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے ہمیشہ کی زندگی [zōēn aiōnion] پاتا ہے‘‘ (یوحنا3:36)۔ ڈاکٹر اے۔ ٹی۔ رابرٹسن Dr. A. T. Robertson نے کہا کہ وہ جو یسوع میں ایمان لاتا ہے ’’اُس کو یہیں اور ابھی ہی پاتا‘‘ ہے (تصاویرِ کلام Word Pictures؛ یوحنا3:36 پر غور طلب بات)۔

ھنری سکاؤگال Henry Scougal (1650۔1678) صرف 28 برس کی عمر کے تھے جب اُنہوں نے وفات پائی۔ اِس لیے وہ 26 یا 27 برس کی عمر سے زیادہ کے نہیں رہے ہونگے جب اُنہوں نے انسان کی جان میں خُدا کی زندگی The life of God in the Soul of Man (مارٹینو پبلیشنگ Martino Publishing، 2010 ایڈیشن) کہلانے والی ایک چھوٹی سی کتاب تحریر کی۔

چارلس ویزلی Charles Wesley کی جانب سے انسان کی جان میں خُدا کی زندگی The life of God in the Soul of Man نامی کتاب جارج وائٹ فیلڈGeorge Whitefield کو پیش کی گئی۔ وائٹ فیلڈ اِس کو پڑھنے سے مسیح میں ایمان لے آئے تھے اور تمام زمانوں کے سب سے عظیم ترین مبلغین میں سے ایک بن گئے تھے۔ جب وائٹ فیلڈ نے اِس کو پڑھا تو اُنھوں نے کہا، ’’ہائے پھر کیسی الٰہی زندگی کی ایک شعاع میری جان میں پھوٹی تھی!‘‘ وائٹ فیلڈ نے کہا، ’’یسوع مسیح نے… خود کو مجھ پر ظاہر کیا اور مجھے ایک نئی زندگی بخشی۔‘‘ اُس کتاب نے پہلی اور دوسری عظیم بیداری میں ایک عظیم کردار ادا کیا۔ جان ویزلی نے اِس کو چودہ مرتبہ شائع کیا۔ امریکہ میں اِس کو فِلاڈلفیہ کے پہلے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر کے پادری ولیم سٹحاحٹن William Staughton کے ذریعے سے شائع کیا گیا۔ یہاں تک کہ بینجامن فرینکلن Benjamin Franklin نے بھی اِس کا ایک ایڈیشن شائع کروایا!

انسان کی جان میں خُدا کی زندگی The life of God in the Soul of Man ھنری سکاؤگال نے کہا کہ حقیقی مسیحیت ’’خُدا کے ساتھ جان کا ملاپ‘‘ ہوتی ہے، الٰہی قدرت کا حقیقت میں [بانٹا] جانا‘‘ (ibid.، صفحہ30)۔ دوسرے لفظوں میں، انسان کی جان میں خُدا کی زندگی The life of God in the Soul of Man! خُدا کی زندگی ہماری جانوں میں صرف اُسی وقت داخل ہو سکتی ہے جب ہم یسوع کے پاس آتے ہیں۔ مگر مسیح نے کہا،

’’پھر بھی تُم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے اِنکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا 5:40).

یا جیسا کہ ایک جدید مترجم اس کو لکھتے ہیں،

’’تم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے انکار کرتے ہو‘‘ (NIV)

یسوع نے یہ اُن لوگوں سے کہا جو خُدا میں ایمان رکھتے ہیں۔ اُس نے یہ اُن لوگوں سے کہا جو کلام پاک کے ہر لفظ پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ اُس نے اُن لوگوں سے کہا جو ہر ہفتے میں کم از کم دو دِن روزہ رکھتے ہیں۔ یہ اُس نے اُن لوگوں سے کہا جو دیندار بننے کے لیے شدید کوششیں کر رہے ہیں۔ اور ایسا ہی وہ آپ سے بھی کہتا ہے جو آج کی صبح ابھی تک مسیح میں ایمان نہیں لائے ہیں،

’’پھر بھی تُم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے اِنکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا 5:40).

ایک حقیقی مسیحی بننے کی واحد راہ اپنی زندگی میں خُدا کی زندگی کو بسانا ہوتا ہے۔ اور اُس زندگی کو اپنی جان میں پانے کا واحد راستہ صرف یسوع کے پاس آنے سے ہے۔ اِس کے باوجود نجات دہندہ کہتا ہے، ’’پھر بھی تم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے انکار کرتے ہو۔‘‘ میں اِس آیت کا اِطلاق کئی طریقے سے کروں گا۔

I۔ پہلی بات، آپ کیوں یسوع کے پاس نہیں آئے ہیں۔

’’فیصلہ ساز decisionists‘‘ سوچتے ہیں کہ کوئی بھی کسی بھی وقت مسیح کے پاس آ سکتا ہے۔ اُنہیں صرف اتنا ہی کرنا ہوتا ہے کہ اپنا ہاتھ بُلند کریں یا ایک واعظ کے اختتام پر ’’سامنے آ جائیں۔‘‘ اُنھیں صرف ’’گنہگاروں کی دعا‘‘ کے الفاظ ہی کہنے ہوتے ہیں۔ یہ تمام کے تمام انسانی اعمال ہیں جو کہ کوئی بھی کسی بھی وقت کر سکتا ہے۔ مگر اِن میں سے کوئی بھی ’’فیصلے‘‘ آپ کی جان کو نجات نہیں دے پائیں گے۔ ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts نے کہا،

کوئی بھی بیرونی قسم مجھے پاک صاف نہیں کر سکتی،
کوڑھ میرے باطن میں پنہاں ہے۔

’’پھر بھی تُم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے اِنکار کرتے ہو۔‘‘ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ جو مسیح میں ایمان نہیں لائے ہوئے ہیں ابھی آپ کے پاس زندگی نہیں ہے۔ بائبل کہتی ہے کہ آپ ’’فطرتاً قہر کے بچے ہیں‘‘ (افسیوں2:3)۔ بائبل کہتی ہے کہ آپ ’’گناہوں میں مُردہ‘‘ ہیں (افسیوں2:5)۔ بائبل کہتی ہے کہ آپ ’’گناہ کے تحت‘‘ ہیں (رومیوں3:9)۔

’’گناہ کے تحت‘‘ – کتنا ہولناک بیان، مگر ایک سچی بات۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز Dr. Lloyd-Jones نے کہا اِس کا مطلب ہوتا ہے ’’فطرتاً تمام نوع انسانی گناہ کے جرم کے تحت، گناہ کی قوت کے تحت اور گناہ کی آلودگی کے تحت ہے… ہم پیدائشی گنہگار ہوتے ہیں، ’تمام کے تمام گناہ کے تحت۔‘ اور وہ اصطلاح ’تحت،‘ میرے خیال میں، ہمیں یہ تاثر پیش کرتی ہے کہ ہم اختیار کے تحت ہیں، یعنی کہ وہ تمام کی تمام سلطنت جس سے ہم تعلق رکھتے ہیں… کیونکہ ہم تمام کے تمام آدم کی آل اولاد ہیں، ہم تمام کے تمام گناہ کے تحت پیدا ہوتے ہیں… [آدم کا گناہ] سب سے زیادہ تباہ کُن اور ہیبت ناک بات ہے جو کہ کبھی بھی دُنیا میں وقوع پزیر ہوئی‘‘ (رومیوں، باب2:1۔3: 20، دی بینر آف ٹُرٹھ ٹرسٹ The Banner of Truth Trust، 1989، صفحات190۔191)۔

وہ بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں، ’’اگر آپ اپنی خود کی اِس تشریح کو قبول نہیں کرتے ہیں… تو پھر اِس کے بارے میں بحث کرنے کی کوئی بھی ضرورت نہیں ہے، آپ ابھی ایک مسیحی ہیں ہی نہیں… آپ ابھی تک قائل ہوئے ہی نہیں ہیں اور گناہ کی سزایابی میں نہیں ہیں اور آپ مسیح میں ایمان رکھنے والے ایک انسان ہیں ہی نہیں، حالانکہ آپ نے شاید سوچا ہو کہ آپ ہیں۔ اگر آپ کسی طور بھی اِس سے اختلاف کرتے ہیں، تو آپ خودبخود ہی خود کو مسیحی ایمان … باہر رکھ رہے ہوتے ہیں۔ گناہ میں انسان کی یہ تشریح سادہ سا سچ ہے، وہ ہولناک سچ‘‘ (ibid.، صفحہ 214)۔

آرتھر ڈبلیو۔ پنک Arthur W. Pink نے کہا، ’’’کم ہمتی‘ ہونے سے انتہائی بہت دور، باطن میں پنپتا ہوا گناہ ایک قابل کراہت بیماری ہے‘‘ (انسان کا مکمل اخلاقی بگاڑ Man’s Total Depravity، موڈی پریس Moody Press، 1981)۔ گناہ کی بیماری کا آپ پر اِس قدر اختیار ہوتا ہے کہ آپ مسیح کے پاس آنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔ آپ اُس کے پاس اِس لیے نہیں آتے ہیں کیونکہ آپ اُس کو چاہتے ہی نہیں ہیں۔ آپ گناہ کے اِس قدر غلام ہوتے ہیں کہ آپ مسیح کے ساتھ کچھ بھی کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں!

آپ شاید کہتے ہیں، ’’لیکن میں گرجے تو آ ہی رہا ہوں۔ کیا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں؟‘‘ جی نہیں، یہ نہیں ظاہر کرتا! یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کسی خودغرضانہ مقصد کی وجہ سے آ رہے ہیں۔ اِس کا سامنا کیجیے۔ آپ یہاں اِس لیے نہیں ہیں کیونکہ آپ مسیح کو چاہتے ہیں۔ آپ یہاں اِس لیے ہیں کیونکہ آپ کو نوجوان لوگوں کے خوش کُن ہجوم میں ہونا پسند ہے۔ آپ یہاں لوگوں کو پسند کرتے ہیں، مگر آپ مسیح کو نہیں چاہتے ہیں! اب میں آپ کو خود اپنے آپ کے ساتھ ایماندار ہونے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ وہ ہی سچ ہے، کیا نہیں ہے؟ کوئی شاید کہے، جی ہاں، وہ ہی سچ ہے۔ اِس لیے میں اب مذید اور نہیں آؤں گا۔ میں ایماندار رہوں گا اور مذید اور نہیں آؤں گا۔‘‘ مگر یہ تو اُس بات کو اور زیادہ ثابت کرتا ہے جو میں نے کہی ہے! یہ تو یہاں تک کہ اور زیادہ ثابت کرتا ہے کہ آپ مسیح کو نہیں چاہتے ہیں! یہ اور زیادہ ثابت کرتا ہے کہ آپ گناہ کی ہتھکڑی میں ہیں اور اِس سے بندھے ہوئے ہیں – کہ گناہ کا آپ پر مکمل قبضہ ہو چکا ہے۔ آپ گناہ کے قابو میں ہیں۔ جیسا کہ پولوس رسول اِس کو لکھتے ہیں، آپ ’’گناہ کے تحت‘‘ ہیں۔ کوئی تعجب نہیں کہ آپ مسیح کے پاس نہیں آئے ہیں! کوئی تعجب نہیں کہ مسیح آپ سے کہتا ہے، ’’پھر بھی تُم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے اِنکار کرتے ہو۔‘‘ آپ مسیح کو نہیں چاہتے ہیں۔ آپ زندگی کو نہیں چاہتے ہیں۔ آپ گناہ کو چاہتے ہیں۔ یسوع نے کہا، ’’لوگوں نے نور کے بجائے تاریکی کو پسند کیا کیونکہ اُن کے کام بُرے تھے‘‘ (یوحنا3:19)۔ جب تک آپ خود سے اِس بات کا اعتراف نہیں کر لیتے تب تک آپ کے لیے واقعی میں کوئی اُمید نہیں ہے۔ آپ کو اِس بات سے آگاہ ہو جانا چاہیے۔ آپ کو خود سے کہنا چاہیے، ’’ جی ہاں، یہ ہی سچ ہے۔ میں نور کے بجائے تاریکی کو پسند کرتا ہوں۔ میں جیسا ہوں اِس ہی کو پسند کرتا ہوں، اور میں یسوع کے وسیلے سے نجات نہیں پانا چاہتا۔ حتیٰ کہ اگر میں تبدیل بھی ہو سکوں، تو بھی میں نہیں ہونا چاہتا! میں جیسا ہوں اِس ہی میں رہنا چاہتا ہوں۔‘‘ کوئی تعجب نہیں کہ آپ یسوع کے پاس نہیں آئیں گے! کوئی تعجب نہیں مسیح کہتا ہے،

’’پھر بھی تُم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے اِنکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا 5:40).

II۔ دوسری بات، اُن کے ساتھ کیا ہوتا ہے جو یسوع کے پاس نہیں آتے ہیں۔

مجھے بہت اچھی طرح سے یاد ہے میرے ساتھ کیا ہوا تھا۔ میں اپنی سوانح حیات لکھتا رہا ہوں، اِس لیے یہ بات حال ہی میں میرے خیالات میں رہ چکی ہے۔

شروع شروع میں مَیں نے سوچا تھا کہ گرجہ گھر جانے کی ہی مجھے سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ میرے پڑوسی لوگ اپنے بچوں کے ساتھ مجھے کیلفورنیا میں ہوٹینگٹن پارک کے پہلے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں لے گئے تھے۔ میں گرجہ گھر آتا رہا تھا کیونکہ مجھے اُن دوستانہ قسم کے لوگوں کے ساتھ رہنا اچھا لگتا تھا۔ اِس کے علاوہ کوئی اور وجہ نہیں تھی۔ مجھے یہ پسند تھا۔ یہ سب کچھ تھا۔

میں حیران ہوتا ہوں کہ کہیں یہ ہی وجہ تو نہیں کہ آپ گرجہ گھر میں آتے ہیں۔ آپ تجربے سے لطف اندوز ہوتے ہیں – اس کے علاوہ کوئی اور بات نہیں ہے۔ یہ حالت تو کافی مدت تک جاری رہ سکتی ہے۔ مگر جلد یا بدیر یہ کافی نہیں ہوگی۔ اگر آپ یسوع کے پاس نہیں آتے ہیں، تو کچھ عرصے کے بعد آپ اُس بیرونی خوشی سے جو آپ گرجہ گھر آنے سے پاتے ہیں مطمئن نہیں ہونگے۔ کچھ نہ کچھ ایسا ہوگا جو آپ کو محض گرجہ گھر آنے سے بے چین یا غیرمطمئن کر دے گا۔

گرجہ گھر میں کچھ نہ کچھ بُرا رونما ہو جائے گا۔ چونکہ کوئی بھی گرجہ گھر کامل نہیں ہوتا ہے، تو آپ کچھ نہ کچھ ایسا سُن یا دیکھ لیں گے جو آپ کو پریشان کر دے گا۔ میں نے کہنا شروع کر دیا تھا، ’’آپ شاید کچھ ایسا سُنیں یا دیکھیں جو آپ کو پریشان کرتا ہے۔‘‘ مگر میں نے اِس کو اِس سے بدل ڈالا، ’’آپ کچھ نہ کچھ ایسا سُنیں یا دیکھیں گے جو آپ کو پریشان کر ڈالے گا۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ یہ ہمیشہ ہی ہوتا ہے۔ اِس پلیٹ فارم پر میرے ساتھ ایک بھی شخص نہیں ہے جو کہ کسی نہ کسی بات سے شدت کے ساتھ پریشان نہ ہوا ہو جو اُنھوں نے اِس گرجہ گھر میں دیکھی۔ مگر وہ ابھی تک یہیں پر ہیں۔ اِس کے باوجود دوسرے، جنھوں نے یہی باتیں دیکھیں، پسپا ہو گئے اور آنا بند کر دیا۔ اُن کی تفصیل بیج بونے والے کی تمثیل میں پیش کی گئی ہے،

’’کلام اُن میں جڑ نہیں پکڑتا۔ وہ کچھ عرصہ تک تو اپنے ایمان پر قائم رہتے ہیں لیکن آزمائش کے وقت پسپا ہو جاتے ہیں‘‘ (لوقا 8:13).

ڈاکٹر آر۔ سی۔ ایچ۔ لینسکی Dr. R. C. H. Lenski نے کہا، ’’ہر ایک ایماندار کے لیے کسی نہ کسی قسم کی آزمائش تو آنی ہی ہوتی ہے‘‘ (لوقا8:13 پر غور طلب بات)۔ مگر وہ جو مسیح میں جڑ رکھتے ہیں پسپا نہیں ہوتے۔ وہ جو مسیح میں جڑ نہیں پکڑتے پسپا ہو جائیں گے جب اُنھیں کسی مشکل سے آزمایا جائے گا۔ وہ کیوں گرجہ گھر سے پسپا ہو جاتے ہیں؟ یہ اِس لیے ہے کیونکہ اُن کی جانوں میں مسیح کی ’’زندگی‘‘ نہیں ہوتی ہے!

’’پھر بھی تُم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے اِنکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا 5:40).

اِس حقیقت سے ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ عرصے کے بعد گرجہ گھر کو چھوڑ جاتے ہیں۔

میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو ایک کے بعد دوسرے گرجہ گھر میں جاتے رہے ہیں۔ مگر وہ کبھی بھی مطمئن نہیں ہوئے۔ اُنھیں ہمیشہ کوئی نہ کوئی نقص ملتا تھا۔ مگر اُنھوں نے کبھی بھی احساس نہیں کیا کہ اہم ترین نقص تو خود اُن میں تھا۔ اُن سے مسیح کہتا ہے،

’’پھر بھی تُم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے اِنکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا 5:40).

III۔ تیسری بات، وہ جو یسوع کے پاس آتے ہیں۔

وہ جو یسوع کے پاس آتے ہیں وہ ہیں جو خُداوند کے فضل سے اُس کی جانب کھینچے چلے آتے ہیں۔ ایک نوعمر کی حیثیت سے میں ھونٹنگٹن پارک کے پہلے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر کی ایک سچی ہولناک ’’تقسیم‘‘ سے گزر چکا ہوں۔ میں اِس چھوٹے سے واعظ میں وہ تمام کی تمام تو بیان نہیں کر سکتا۔ یہ کہہ دینا ہی کافی ہے کہ وہ ہولناک تھی۔ لوگوں نے ایک دوسرے کو گریبان سے پکڑ لیا تھا اور اِتوار کی صبح کی عبادت میں جانوروں کی طرح لڑے تھے۔ اُنھوں نے ایک دوسرے پر حمد و ثنا کے گیتوں کی کتابیں پھینکیں۔ اُنھوں نے ایسی باتیں کہیں اور کیں کہ اُنہیں ایک گرجہ گھر کی عبادت میں بیان کرنا شدید ہولناک ہے۔ میں نے یہ سب کا سب مسیح میں ایمان نہ لائے ہوئے ایک نو عمر کی حیثیت سے دیکھا تھا۔ اِس کے باوجود، پچاس سال کے بعد، میں یہاں پر ہوں، آپ کو تبلیغ کر رہا ہوں۔ میرے خیال میں باقی سارے نوعمر پسپا ہو گئے تھے۔ میں یہاں پر کیوں ہوں؟ میں تو کسی مسیحی گھرانے سے بھی نہیں آیا ہوں۔ میں یہاں پر کیوں ہوں؟ میرے لیے اِس کو بیان کر سکنے کا واحد طریقہ افسیوں1:4 سے حوالہ دینے کے ذریعے سے ہے، ’’اُس نے ہمیں دُنیا کے بنائے جانے سے پیشتر ہی مسیح میں چُن لیا تھا۔‘‘ مجھ میں ایسا کچھ بھی اچھا نہیں تھا جس نے مجھے نجات دلائی تھی۔ یہ خُدا تھا جس نے مجھے چُنا تھا! یہ سب کا سب خُدا کے فضل کے وسیلے سے تھا!

حیرت انگیز فضل! کس قدر میٹھی وہ آواز،
جس نے مجھ جیسے تباہ حال کو بچایا!
میں جو کبھی کھو گیا تھا، لیکن اب مل گیا ہوں،
اندھا تھا لیکن اب دیکھتا ہوں۔

بے شمار خطرات، مشقت اور شکنجوں میں سے،
میں پہلے سے ہی گزر چکا ہوں؛
یہ فضل ہی مجھے حفاظت سے اتنی دور تک لایا،
اور فضل ہی میری گھر تک رہنمائی کرے گا۔
   (’’حیرت انگیز فضلAmazing Grace ‘‘ شاعر جان نیوٹن John Newton ، 1725۔1807).

میں نے یسوع سے محبت اُس پر بھروسہ کرنے سے پہلے ہی شروع کر دی تھی۔ دوسرے گرجہ گھر میں بیوقوفیاں کرتے پھر رہے تھے، مگر میں ایک بے گھر، بن باپ کے لڑکا تھا۔ شروع میں مَیں نے سوچا میں خود کو نیک بننے سے بچا سکتا ہوں۔ مگر میں اتنا نیک ہو ہی نہیں پایا۔ آخرکار، وقت کے ایک لمحے میں، میں یسوع مسیح بخود کے پاس آ گیا – یا اِس کے بجائے، وہ میرے پاس آ گیا۔ اُس نے مجھے نجات دی اور اُس نے اپنے قیمتی خون کے وسیلے سے مجھے میرے تمام گناہوں سے پاک صاف کر ڈالا!

میں نے ایک دوست ڈھونڈ لیا ہے، اوہ، کیسا ایک دوست!
   اُس نے مجھے پیار کیا اِس سے پہلے کہ میں اُسے جانتا؛
اُس نے پیار کے دھاگوں سے مجھے کھینچ لیا،
   اور یوں اُس نے مجھے اپنے ساتھ باندھ لیا؛
اور میرے دِل کے اردگرد اب بھی قربت سے لپٹا ہے
   وہ بندھن جو کبھی بھی نہیں ٹوٹ سکتا،
کیونکہ میں اُسکا اور وہ میرا ہے،
   ہمیشہ اور ہمیشہ کے لیے۔

میں نے ایک دوست ڈھونڈ لیا ہے، اوہ، کیسا ایک دوست!
   اُس نے خون بہایا، وہ مجھے نجات دلانے کے لیے مر گیا؛
اور تنہا زندگی کا تحفہ ہی نہیں،
   بلکہ خود اپنی ذات بھی اُس نے مجھے پیش کر دی؛
یہ نہیں کہ میرے پاس خود میری اپنی بُلاہٹ ہے،
   میں اِس کو دینے والے کے لیے قائم کرتا ہوں؛
میرا دِل، میری قوت، میری زندگی، میرا سب کچھ
   اُس کے ہیں، اور ہمیشہ اُسی کے ہیں۔
(میں نے ایک دوست ڈھونڈ لیا ہے I’ve Found a Friend‘‘ شاعر جیمس جی۔ سمال James G. Small، 1817۔1888)۔

میں نے تجھ سے محبت کی، کیونکہ پہلے تو نے مجھ سے محبت کی،
   اور کلوری کی صلیب پر میری معافی کو خریدا؛
میں تجھ سے تیری پیشانی پر کانٹے پہننے کے لیے محبت کرتا ہوں؛
   اگر میں نے کبھی بھی تجھ سے پیار کیا ہے، میرے یسوع، تو وہ اب ہے۔

میں نے زندگی میں تجھ سے محبت کی، میں موت میں بھی تجھ سے ہی محبت کروں گا،
   اور تیری اُس وقت تک ستائش کرتا رہوں گا جب تک تو نے مجھے سانس بخشی ہے؛
اور جب موت کی سرد شبنم میرے ماتھے پر ہوگی تو کہوں گا،
   اگر میں نے کبھی تجھ سے محبت کی، میرے یسوع، تو وہ ابھی ہے۔
   (’’میرے یسوع، میں نے تجھ سے محبت کی My Jesus, I Love Thee‘‘ شاعر ولیم فیدرسٹون William Featherstone، 1842۔1878)۔

’’ہائے، پیارے نوجوان لوگو، میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ میرے نجات دہندہ یسوع سے محبت کریں! اُس نے صلیب پر آپ کے لیے خون بہایا کہ آپ کو آسمان کے لیے پاک صاف اور موزوں بنا دے۔ یسوع کے پاس آئیں اور اُس سے محبت کریں، اور اُس پر بھروسہ کریں۔ یسوع کے پاس آئیں اور وہ آپ کو دائمی زندگی اور ہمیشہ کی خوشی بخشے گا! وہ زندہ ہے! وہ زندہ ہے! وہ تیسرے آسمان میں ہے خُدا کے پاس بیٹھا ہوا۔ وہ زندہ ہے! اُس کے پاس آئیں۔ اُس پر بھروسہ کریں! وہ آپ سے محبت کرتا ہے!

یسوع اتنا زیادہ پیار کرتا ہے، وہ اتنا بہتر پیار کرتا ہے،
   وہ زبان جسے بیان نہ کر سکے اِس سے زیادہ پیار کرتا ہے؛
یسوع اتنا زیادہ پیار کرتا ہے، وہ اتنا بہتر پیار کرتا ہے،
   وہ تمہاری جان جہنم سے بچانے کے لیے مر گیا۔
(’’وہ تمہیں اب بھی پیار کرتا ہے He Loves You Still ‘‘ شاعر جان آر۔ رائس John R. Rice، 1960)۔

اے باپ، میں دعا مانگتا ہوں کہ آج کی صبح یہاں پر کوئی نہ کوئی تیرے بیٹے یسوع کے پاس آئے گا اور ہمیشہ اور ہمیشہ کے لیے نجات پا لے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: یوحنا5:33۔40.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
     نے گایا تھا: ’’تیرے لیے اور زیادہ محبت More Love to Thee‘‘ (شاعر الزبتھ پی۔ پرینٹس Elizabeth P. Prentiss، 1818۔1878)۔

لُبِ لُباب

زندگی بخشنے والا نجات دہندہ!

THE LIFE-GIVING SAVIOUR!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’پھر بھی تُم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے اِنکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا5:40).

(یوحنا5:26؛ 10:10؛ 3:36)

   پہلی بات، آپ کیوں یسوع کے پاس نہیں آئے ہیں، افسیوں2:3، 5؛
 رومیوں3:9؛ یوحنا3:19۔

II۔  دوسری بات، اُن کے ساتھ کیا ہوتا ہے جو یسوع کے پاس نہیں آتے ہیں،لوقا 8:13 .

III۔ تیسری بات، وہ جو یسوع کے پاس آتے ہیں، افسیوں1:4.