Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

یسوع مسیح بخود

JESUS CHRIST HIMSELF
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 12 اپریل، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, April 12, 2015

میری بیوی عیلیانہ اور میرے لیے یہ ایک عظیم دِن ہے۔ ہم دونوں ہی کی سالگرائیں آج کے دِن منائی جاتی ہیں۔ آج ہی کے دِن، 12 اپریل کو، میری چوہترویں سالگرہ ہے۔ آج ہی کے دِن 1958 میں مذھبی خدمت کے لیے میری بُلاہٹ کی ستاون ویں سالگرہ بھی ہے۔ لیکن، سب سے زیادہ، یہ ہمارے گرجہ گھر کے لیے ایک عظیم دِن ہے۔ ٹھیک چالیس سال پہلے میں نے اِس گرجہ گھر کو صرف چھ یا سات نوجوان لوگوں کے ساتھ اپنے اپارٹمنٹ سے شروع کیا تھا، جو یو۔سی۔ ایل۔ اے۔ UCLA سے جو کہ مغربی لاس اینجلز کی ایک بہت بڑی یونیورسٹی ہے اِس سے چند بلاکس کے فاصلے پر، ویسٹ ووڈ اور وِیلشائیر کی گزرگاہ کے کونے پر واقع ہے۔ صرف دو لوگ اب بھی یہاں پر ہیں، مسٹر جان کُک Mr. John Cook اور میں خود۔ خُدا کے فضل سے، میں اور جان آج کی صبح یہاں پر ہیں – چالیس سال بعد۔ خُداوند یسوع مسیح کی ستائش ہو!

یہ گرجہ گھر چالیس سال کی آزمائشوں سے گزر کر یہاں تک پہنچا ہے۔ جیسا کہ اسرائیل کے بچوں نے بیابان میں چالیس سال گزارے تھے، ویسے ہی یہ گرجہ گھر بھی بے شمار دشواریوں، مصیبتوں اور بہت زیادہ بدبختیوں سے گزر چکا ہے۔ میں اِس کے بارے میں آج کی رات مذید اور بتاؤں گا۔ مگر ہم یہاں پر ہیں، لاس اینجلز کے مرکز میں ایک سوِک سنٹر میں ایک عظیم گرجہ گھر جو انجیل کی منادی کرتا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں، کہ ہماری تمام تر مشکلات میں، خُداوند ہمارے ساتھ رہا ہے اور ہمارے گرجہ گھر کی چالیسویں سالگرہ پر، آج کا دِن منانے کے لیے ہمیں ایک عظیم فتح بخشی ہے! خُداوند یسوع مسیح کی ستائش ہو!

گذشتہ رات پادری راجر ہوفمین Roger Hoffman نے ہماری دعائیہ عبادت میں بات کی تھی۔ وہ آج کی رات بھی دوبارہ ہماری سالگرہ کی تقریب میں بات کریں گے۔ مگر پادری ہوفمین نے پسپائی اختیار کر لی جب میں نے اُن سے آج کی صبح تبلیغ کرنے کے لیے پوچھا۔ اُنہوں نے کہا، ’’ڈاکٹر ہائیمرز، میں اِتوار کی صبح آپ کو تبلیغ کرتے ہوئے سُننا چاہتا ہوں۔‘‘ تب، مجھے کیا کہنا چاہیے اِس کے بارے میں دعا کرتے ہوئے، میری رہنمائی ایک واعظ کو دہرانے کے لیے ہوئی جس کو میں نے 2010 کے اگست کے مہینے میں ایک دوسرے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں پیش کیا تھا۔ مہربانی کے ساتھ میرے ساتھ افسیوں کی کتاب دوسرا باب کھولیں۔ یہ سیکوفیلڈ بائبل کے صفحہ 1251 پر ہے۔ کھڑے ہو جائیں جب میں افسیوں2:19،20 پڑھوں۔

’’پس اب تُم پردیسی اور اجنبی نہیں رہے بلکہ خدا کے مُقدّس لوگوں کے ہم وطن اور خدا کے گھرانے کے رُکن ہو گئے ہو۔ تُم گویا ایک عمارت ہو جو رسولوں اور نبیوں کی بنیاد پر تعمیر کی گئی ہے اور یسوع مسیح خُود اُس بنیاد کا اہم ترین پتھر ہے‘‘ (افسیوں 2:19،20).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

یہاں اِن آیات میں پولوس رسول ہمیں بتاتا ہے کہ کلیسیا خُداوند کا گھرانہ ہے۔ پھر وہ ہمیں بتاتا ہے کہ کلیسیا انبیا اور رسولوں کی بنیادوں پر تعمیر ہوئی ہے مگر یسوع مسیح بخود اِس کا ’’مرکزی کونے کا پتھر‘‘ ہے۔ ڈاکٹر جے ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے کہا اِس کا مطلب ہوتا ہے ’’کہ مسیح وہ چٹان ہے جس پر کلیسیا کی تعمیر ہوئی ہے‘‘ (بائبل میں سے Thru the Bible، جلد پنجم، تھامس نیلسن Thomas Nelson، صفحہ 241؛ افسیوں2:20 پر غور طلب بات)۔ ڈاکٹر اے۔ ٹی۔ رابرٹسن Dr. A. T. Robertson نے کہا، ’’اکروگونیااِس akrogōniais … اہم ترین بنیادی پتھر‘‘ (کلام کی تصاویر Word Pictures، براڈمینBroadman، 1931؛ افسیوں2:20 پر غور طلب بات)۔ ہمارے تمام اعمال اور ہماری ساری زندگی کی بنیاد یسوع مسیح بخود ہی ہے۔ ہماری کلیسیا کی انتہائی بنیاد ’’یسوع مسیح بخود‘‘ ہی ہے۔ آج کی صبح ہماری تلاوت کے طور پر میں افسیوں 2:20 میں سے اُن الفاظ کو ہٹا رہا ہوں۔

’’یسوع مسیح خُود‘‘ (افسیوں 2:20).

یسوع مسیح بخود اِس واعظ کا موضوع ہے۔ مسیحی ایمان میں یسوع مسیح بخود سے زیادہ کوئی اور شاندار بات شامل نہیں ہے۔ یسوع مسیح جیسا کوئی اور کبھی بھی نہیں تھا اور کبھی بھی نہیں ہوگا۔ وہ انسانی تاریخ میں قطعی طور پر بےمِثل ہے۔ یسوع مسیح بخود خُدائی انسان ہے۔ یسوع مسیح بخود آسمان سے نیچے آیا اور لوگوں کے درمیان میں رہا۔ یسوع مسیح نے خود مصائب برداشت کیے، خون بہایا اور ہمارے گناہوں کےلیے مرا۔ یسوع مسیح بخود ہماری راستبازی کے لیے جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ یسوع مسیح بخود خُدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھنے کے لیے واپس آسمان پر اُٹھایا گیا کہ ہمارے لیے دعا میں ثالثی بنے۔ اور یسوع مسیح بخود زمین پر ایک ہزار سال کے لیے اپنی بادشاہت قائم کرنے کے لیے دوبارہ آئے گا۔ یہی ہے یسوع مسیح خود! کھڑے ہوں اور وہ کورس گائیں!

صرف یسوع، کو مجھے دیکھنے دو،
   کسی کو بھی بچانے کے لیے، وہ یسوع صرف،
پھر میرا گیت ہمیشہ ہی کے لیے ہوگا –
   یسوع! صرف یسوع!
(’’صرف یسوع، کو مجھے دیکھنے دو Jesus Only, Let Me See‘‘
      شاعر ڈاکٹر اُوسولڈ جے۔ سمتھ Dr. Oswald J. Smith، 1889۔1986)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

یسوع مسیح خود کا موضوع اِس قدر گہرا، اِس قدر وسیع، اور اِس قدر اہم ہے کہ ہم اِس کو مکمل طور پر کبھی بھی ایک واعظ میں واضح نہیں کر سکیں گے۔ ہم یسوع مسیح خود سے تعلق رکھتے ہوئے صرف چند ایک نقاط پر بات کر سکتے ہیں۔

I۔ پہلی بات، یسوع مسیح خود نسل انسانی کے ذریعے سے حقیر جانا گیا اور مسترد کیا گیا۔

انجیلی بشارت کے اشعیا نبی نے اِسے واضح کیا جب اُس نے کہا،

’’لوگوں نے اُسے حقیر جانا اور ردّ کر دیا، وہ ایک غمگین اِنسان تھا جو رنج سے آشنا تھا۔ اور اُس شخص کی مانند تھا جسے دیکھ کر لوگ مُنہ موڑ لیتے ہیں وہ حقیر سمجھا گیا اور ہم نے اُس کی کچھ قدر نہ جانی‘‘ (اشعیا 53:3).

ڈاکٹر ٹورے Dr. Torrey نے کہا، ’’یسوع مسیح میں ایمان [رکھنے] کے لیے ناکامی کوئی بدقسمتی نہیں ہے، یہ ایک گناہ ہے، ایک سنگین گناہ ہے، ایک ہولناک گناہ ہے، ایک لعنتی گناہ ہے‘‘ (آر۔ اے۔ ٹوری، ڈی۔ڈی۔، R. A. Torrey, D.D. ، مسیح کے لیے کیسے کام کریں How to Work for Christ، فیلیمنگ ایچ۔ ریول کمپنی Fleming H. Revell Company، n.d.، صفحہ 431)۔ اشعیا نبی نے مسیح کو حقیر جاننے اور مسترد کرنے کے گناہ کی تاویل پیش کی ہے، وہ اندرونی اخلاقی زوال جو ہلاک ہونے والے لوگوں کے لیے مسیح سے منہ چھپانے کا سبب بنتا ہے۔ انسان کے مکمل اخلاقی زوال کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ یسوع مسیح بخود کے بارے میں بہت کم سوچتے ہیں۔ سب سے بڑا ثبوت کہ ہلاک ہونے والی نوع انسانی آگ کی جھیل میں دائمی سزا پانے کی مستحق ہے یہ ہے کہ وہ جان بوجھ کر اور عادتاً اُس سے اپنا مُنہ موڑ لیتے ہیں۔

بِنا توبہ یا میسح میں تبدیل نہ ہوئے ہونے کی حالت میں لوگ یسوع مسیح بخود کی تحقیر کرتے ہیں۔ اپنی مکمل اخلاقی زوال کی حالت میں، اوہ یسوع مسیح بخود کی بالکل بھی قدر نہیں کرتے ہیں۔ جب تک کہ آپ کا ضمیر آپ کو جھنجھوڑتا نہیں ہے، جب تک کہ آپ اپنے گناہ کے لیے خوف محسوس نہیں کرتے ہیں، اور دائمی سزا سے خوفزدہ نہیں ہوتے، آپ یسوع مسیح بخود کو مسلسل حقیر جانتے اور مسترد کرتے رہیں گے۔

اپنے گرجہ گھرمیں واعظوں کے بعد، ہم یہ رونما ہوتا ہوا تفتیشی کمرے میں دیکھتے ہیں۔ ہم لوگوں کو بہت سی باتوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے سُنتے ہیں۔ وہ بائبل کی آیات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ وہ بات کرتے ہیں اِس چیز یا اُس چیز کی ’’حقیقیت‘‘ کو محسوس کرنے کے بارے میں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ اُنہوں نے کیا محسوس کیا اور اُنہوں نےکیا کیا۔ وہ عموماً یہ کہتے ہوئے اختتام کرتے ہیں، ’’پھر میں یسوع کے پاس آیا۔‘‘ بس یہی سب کچھ ہوتا ہے! وہ یسوع کے بارے میں ایک بھی مذید اور لفظ نہیں کہہ سکتے! اُن کے پاس یسوع مسیح بخود کے بارے میں کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا ہے! وہ کیسے ممکنا طور پر بچائے جا سکیں گے؟

عظیم سپرجیئن نے کہا، ’’یہاں لوگوں کے درمیان مسیح بخود کو انجیل میں سے دور رکھنے کا ناقص رُجحان ہے‘‘ (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon، چھوٹے دروازے کے پرے سے Around the Wicket Gate، پلگرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت 1992، صفحہ 24)۔

نجات کے منصوبے کو جان لینا آپ کو بچا نہیں سکتا ہے! بائبل کے بارے میں مذید اور زیادہ جان لینا آپ کو بچا نہیں سکتا ہے! مذید اور زیادہ واعظ سُننا آپ کو بچا نہیں سکتا ہے! اپنے گناہوں کے لیے دُکھ محسوس کرنا بھی آپ کو بچا نہیں سکتا ہے! اِس نے یہوداہ کو بھی نہیں بچایا تھا، کیا بچایا تھا؟ اپنی زندگی کو وقف کر دینا آپ کو نہیں بچا سکتا! آپ کو آنسو آپ کو نہیں بچا سکتے! کچھ بھی آپ کی مدد نہیں کر سکتا جب تک کہ آپ کی رہنمائی نہیں کی جاتی اُس یسوع کی تحقیر کرنے اور اُسے مسترد کرنے سے روکا نہیں جاتا ہے – جب تک آپ کو یسوع سے منہ موڑنے سے رُکنے کے لیے مجبور نہیں کیا جاتا – جب تک آپ یسوع مسیح بخود کے پاس کھینچے چلے نہیں آتے! کھڑے ہوں اور اِسے دوبارہ گائیں!

صرف یسوع، کو مجھے دیکھنے دو،
   کسی کو بھی بچانے کے لیے، وہ یسوع صرف،
پھر میرا گیت ہمیشہ ہی کے لیے ہوگا –
   یسوع! صرف یسوع!

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

II۔ دوسری بات، یسوع مسیح خود تمام بائبل کا مرکزی موضوع ہے۔

ہمارے لیے آپ کو یہ بتانا نامناسب ہے کہ یسوع مسیح بخود آپ کے خیالات میں مرکز میں ہونا چاہیے؟ جی نہیں، یہ نامناسب نہیں ہے۔ کیوں، اِس کے بارے میں سوچیں، یسوع مسیح بخود تمام بائبل کا عظیم موضوع ہے – پیدائش سے لیکر مکاشفہ تک! مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنےکے بعد وہ عاموس جانے والے راستے پر دو شاگردوں کو ملا تھا۔ اُس نے جو اُن سے کہا وہ آج بھی لاگو ہوتا ہے،

’’پھر اُس نے اُن سے کہا: تُم کتنے نادان ہو اور نبیوں کی بتائی ہوئی باتوں کو قبول کرنے میں کس قدر سُست ہو۔ کیا مسیح کے لیے ضروری نہ تھا کہ وہ اذیتوں کو برداشت کرتا اور پھر اپنے جلال میں داخل ہوتاَ؟ اور اُس نے مُوسیٰ سے لے کر سارے نبیوں کی باتیں جو اُس کے بارے میں پاک کلام میں درج تھیں اُنہیں سمجھا دیں‘‘ (لوقا 24:25۔27).

موسیٰ کی پانچ کتابوں میں سے، اور باقی کی تمام بائبل میں سے، ’’مُوسیٰ سے لے کر سارے نبیوں کی باتیں جو اُس کے بارے میں پاک کلام میں درج تھیں،‘‘ مسیح نے اُنہیں سمجھا دیں۔ اِس سے زیادہ آسان کیا ہو سکتا ہے؟ تمام بائبل کا مرکزی موضوع یسوع مسیح بخود ہے! چونکہ یسوع مسیح بخود بائبل کا مرکزی موضوع ہے، تو کیا یہ آپ کے لیے قابل توجیہح نہیں ہے کہ یسوع مسیح بخود کو اپنے خیالات اور اپنی زندگی کا مرکزی موضوع بنائیں؟ میں آپ سے کہتا ہوں، آج کی صبح یسوع مسیح بخود کے بارے میں گہرائی سے سوچیں! اِسے گائیں!

صرف یسوع، کو مجھے دیکھنے دو،
   کسی کو بھی بچانے کے لیے، وہ یسوع صرف،
پھر میرا گیت ہمیشہ ہی کے لیے ہوگا –
   یسوع! صرف یسوع!

میں یقین کرتا ہوں کہ یسوع مسیح بخود کو جاننا، ایک حقیقی تبدیلی میں، جو کبھی آپ کے ساتھ رونما ہو سکتی ہے سب سے اہم ترین بات ہے۔ اگر آپ سچے طور پر یسوع مسیح بخود پر بھروسہ کرتے ہیں تو آپ کو نہایت ہی کم مشاورت کی ضرورت پڑے گی۔ میں یقین کرتا ہوں کہ یسوع مسیح کا سچا شعور تمام مسیحیوں کی 90 % مشاورت کی ضرورت کو رفع کر دے گا! جب ایک شخص مسیح کو جانتا ہے تو ایک حقیقی تبدیلی میں، وہ اُس مسیح کو پا لے گا،

’’… جسے اُس نے ہمارے لیے حکمت، راستبازی، پاکیزگی اور مخلصی ٹھہرایا‘‘ (1۔ کرنتھیوں 1:30).

اگر ہم اپنے گرجہ گھروں میں سے ’’فیصلہ سازیت decisionism‘‘ سے چھٹکارا پا لیں، اگر ہم یقینی بنا لیں لوگ مسیح کے لیے سچے طور پر تبدیل ہوئے ہیں، تو یہ آج گرجہ گھروں میں ہونے والے مشاورت کی 90 % ضرورت کو دور کر دے گی! آئیے یسوع مسیح بخود کو ہی مشیر بننے دیں! اِسے گائیں!

صرف یسوع، کو مجھے دیکھنے دو،
   کسی کو بھی بچانے کے لیے، وہ یسوع صرف،
پھر میرا گیت ہمیشہ ہی کے لیے ہوگا –
   یسوع! صرف یسوع!

III۔ تیسری بات، یسوع مسیح بخود روح رواں، مرکزی جُز، اور انجیل کا انتہائی دِل ہے۔

یہاں اشعیا نبی نے یسوع مسیح خود کی بطور انجیل کا دِل، بات کی،

’’ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے، ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی راہ لی، اور خداوند نے ہم سب کی بدکاری اُس پر لاد دی‘‘ (اشعیا 53:6).

’’خُداوند نے ہم سب کی بدکاری اُس پر لاد دی۔‘‘ مسیح کی وہ تبدلیاتی، کفاراتی موت، آپ کی جگہ پر، خُدا کے قہر کو آپ کی جگہ پر برداشت کرنا اور قیمت چکانا – یہ ہے انجیل کا دِل! یہ یسوع مسیح بخود ہے جو گتسمنی کی تاریکی میں آپ کے گناہوں کو خود پر لاد لیتا ہے۔ اُس باغ میں یہ یسوع مسیح بخود ہے، جس نے کہا،

’’غم کی شِدّت سے میری جان نکلی جا رہی ہے‘‘ (مرقس 14:34).

یہ یسوع مسیح بخود ہے جو،

’’سخت دردوکرب میں مبتلا ہو کر… اُس کا پسینہ خون کی بوندوں کی مانند زمین پر ٹپکنے لگا‘‘ (لوقا 22:44).

یہ یسوع مسیح بخود ہے جو وہاں گتسمنی کے باغ میں گرفتار ہوا تھا۔ یہ یسوع مسیح بخود ہے جس کو شریعت کے عالمین کے سامنے گھسیٹا گیا تھا، منہ پر مکّے مارے گئے تھے، مذاق اُڑایا گیا اور شرمندہ کیا گیا تھا۔ اُنہوں نے یسوع مسیح بخود کے چہرے پر تھوکا تھا! اُنہوں نے یسوع مسیح بخود کی داڑھی کے بال نوچ ڈالے تھے۔ یہ یسوع مسیح بخود تھا جو پینطُس پیلاطُوس کے سامنے لے جایا گیا تھا، کمر پر رومی دُرّے کے ساتھ پیٹا گیا تھا، کانٹوں کا تاج پہنایا گیا تھا، خُون اُس کے ماتھے پر سے نیچے بہہ کر یسوع مسیح بخود کے پاک چہرے پر گر رہا تھا، اُس کا چہرہ جسے مار مار کر ناقابل شناخت بنا دیا گیا تھا،

’’جس طرح بہت سے لوگ اُسے دیکھ کر حیرت زدہ ہو گئے۔ کیونکہ اُس کی شکل و صورت بگڑ کر آدمیوں کی سی نہ رہ گئی تھی‘‘ (اشعیا 52:14).

’’اور اُس کے کوڑے کھانے سے ہم شفا یاب ہُوئے‘‘ (اشعیا 53:5).

یہ یسوع مسیح بخود ہے جو پیلاطُوس کی عدالت سے اپنی صلیب کو موت کی جگہ تک کے لیے کھینچتے ہوئے لے گیا۔ یہ یسوع مسیح بخود تھا جس کو اُس لعنتی صلیب پر کیلوں سے جڑا گیا۔ یہ یسوع مسیح بخود تھا جس نے نا صرف اپنے ہاتھوں اور پیروں میں سے گزاری جانے والی کیلوں کی تکلیف کو برداشت کیا تھا – بلکہ جس نے اُس شدید اذیت کو برداشت کیا جب خُدا نے ’’ہم سب کی بدکاری اُس پر لاد دی‘‘ (اشعیا53:6)۔ یسوع مسیح بخود ’’اپنے ہی بدن پر ہمارے گناہوں کا بوجھ لیے ہوئے صلیب پر چڑھ گیا‘‘ (1۔پطرس2:24)۔ ڈاکٹر واٹز Dr. Watts نے کہا،

دیکھو، اُس کے سر سے، ہاتھوں سے، پیروں سے،
   دُکھ اور غم متحد ہو کر نیچے بہتے ہیں:
کیا کبھی اِس طرح سے محبت اور رنج ملے تھے،
   یا کانٹوں نے اِس قدر قیمتی تاج بنایا؟
(’’جب میں حیرت انگیز صلیب کا جائزہ لیتا ہوں When I Survey the Wondrous Cross‘‘
      شاعر آئزک واٹز، ڈی۔ڈی۔ Isaac Watts, D.D.، 1674۔1748)۔

کھڑے ہوں اور اِسے گائیں! اب ہمارا کورس گائیں!

صرف یسوع، کو مجھے دیکھنے دو،
   کسی کو بھی بچانے کے لیے، وہ یسوع صرف،
پھر میرا گیت ہمیشہ ہی کے لیے ہوگا –
   یسوع! صرف یسوع!

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں،

IV۔ چوتھی بات، یسوع مسیح بخود دائمی فرحت کا واحد منبع ہے۔

اُنہوں نے یسوع کے مُردہ بدن کو صلیب پر سے اُتارا اور اُس کو ایک مہربند قبر میں دفنایا۔ مگر تیسرے دِن، وہ جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھا! پھر وہ شاگردوں کے پاس آیا اور اُن سے کہا، ’’تم پر سلامتی ہو‘‘ (یوحنا20:19)۔

’’اور یہ کہہ کر اُس نے اپنے ہاتھ اور اپنی پسلی اُنہیں دکھائی۔ شاگرد اُسے دیکھ کر خُوشی سے بھر گئے‘‘ (یوحنا 20:20).

تب شاگرد اُسے دیکھ کر خوشی سے بھر گئے‘‘ (یوحنا20:20)۔ یسوع مسیح بخود نے اُنہیں خوشی فراہم کی تھی ’’جب اُنہوں نے خُداوند کو دیکھا۔‘‘ آپ کبھی بھی گہرا امن اور خُداوند کی خوشی نہیں جان سکتے، جب تک کہ آپ یسوع مسیح خود کو نہیں جان لیتے!

اوہ، میں آج کی صبح آپ کو بتاتا ہوں – میں وہ انتہائی لمحہ یاد کر سکتا ہوں جب میں نے یسوع مسیح بخود پر یقین کیا! کیسا ایک پاک تجربہ! میں اُس کی طرف تیزی سے دوڑاآیا، یوں کہیں، یہ لگتا ہو کہ وہ میری طرف تیزی سے چلا آ رہا ہو۔ میں اُس کے قیمتی خون کے وسیلے سے گناہ سے پاک صاف ہو گیا تھا! میں خُدا کے جیتے جاگتے بیٹے کے وسیلے سے زندہ کر دیا گیا تھا! وہ کورس گائیں!

صرف یسوع، کو مجھے دیکھنے دو،
   کسی کو بھی بچانے کے لیے، وہ یسوع صرف،
پھر میرا گیت ہمیشہ ہی کے لیے ہوگا –
   یسوع! صرف یسوع!

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

یسوع مسیح بخود کے پاس آئیں! اپنی زندگی سے نجات دہندہ کو باہر مت نکالیں۔ اُس کو اپنی گواہی سے پرے نہ چھوڑیں۔ وہ سرزد مت کریں جسے سپرجیئن نے کہا کہ ’’ناقص رُجحان… مسیح بخود کو انجیل میں نکال باہرکرنا....‘‘ جی نہیں! جی نہیں! یسوع مسیح بخود کے پاس ابھی آئیں۔ اِن الفاظ کو غور سے سُنیں جب میں اُنہیں گاتا ہوں۔

بغیر ایک التجا کے، میں جیسا بھی ہوں،
   مگر کہ تیرا خون میرے لیے بہایا گیا،
اور کہ تو مجھے اپنے پاس بُلانے کے لیے بیقرار ہے،
   اے خُدا کے برّے، میں آیا! میں آیا!
(’’میں جیسا بھی ہوں Just As I Am‘‘ شاعر شارلٹ ایلیٹ Charlotte Elliott، 1789۔1871)۔

یسوع آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر مرا۔ یسوع نے اپنا پاک خون آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے بہایا۔ یسوع کے پاس آئیں۔ اُس پر بھروسہ کریں اور وہ آپ کو تمام گناہ سے بچا لے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: متی26:47۔56.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
   نے گایا تھا: ’’جب صبح آسمان میں سجتی ہے When Morning Gilds the Skies‘‘
      (جرمن زبان سے ترجمہ کیا گیا مترجم ایڈورڈ کاسوال Edward Caswall، 1814۔1878)۔

لُبِ لُباب

یسوع مسیح بخود

JESUS CHRIST HIMSELF

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’یسوع مسیح بخود‘‘ (افسیوں2:20)۔

I.   پہلی بات، یسوع مسیح بخود نسل انسانی کے ذریعے سے حقیر جانا گیا اور مسترد کیا گیا، اشعیا53:3۔

II.  دوسری بات، یسوع مسیح بخود تمام بائبل کا مرکزی موضوع ہے، لوقا24:25۔27؛ 1۔کرنتھیوں1:30 .

III. تیسری بات، یسوع مسیح خود روح رواں، مرکزی جُز، اور انجیل کا انتہائی دِل ہے، اشعیا53:6؛ مرقس14:34؛ لوقا22:44؛ اشعیا52:14؛ 53:5؛ 1۔ پطرس2:24 .

IV. چہارم، یسوع مسیح خود دائمی فرحت کا واحد منبع ہے، یوحنا20:19، 20 .