Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

یہوداہ کا جھوٹا پچھتاوا

THE FALSE REPENTANCE OF JUDAS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتے کی شام، 4 اپریل، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, April 4, 2015

’’جب یہوداہ نے جس نے یسوع کو پکڑوایا تھا، دیکھا کہ یسوع کو مجرم ٹھہرایا گیا ہے تو بہت بچھتایا اور چاندی کے وہ تیس سِکّے سردار کاہنوں اور بزرگوں کے پاس واپس لایا‘‘ (متی 27:3).

جب اُنہوں نے یسوع کو سردار کاہن کے محل میں لے جانا شروع کیا تو یہوداہ وہاں پر آیا۔ یہوداہ وہاں یسوع کے قریب ہی کھڑا تھا۔ مگر یہوداہ نے یسوع کی جانب رُخ نہیں کیا اور نہ ہی معافی مانگی۔ اگر اُس نے یسوع سے اِس پل بھی رجوع کیا ہوتا تو اُس کو معاف کر دیا جاتا۔ یسوع کے ساتھ صلیب پر اُس ڈاکو کو مرنے سے تھوڑی ہی دیر پہلے معاف کیا گیا تھا۔ یہوداہ نے کیوں معافی کے لیے یسوع کی جانب رُخ کرنے کے بجائے سردار کاہنوں اور دین کے بزرگان کی جانب رُخ کیا تھا؟ میں یقین کرتا ہوں اِس کی دو وجوہات ہیں۔

I۔ پہلی بات، یہوداہ پہلے ہی ناقابل معافی گناہ کا اِرتکاب کر چکا تھا۔

یسوع نے کہا،

’’آدمیوں کا ہر گناہ اور کفر معاف کیا جائے گا لیکن جو کفر پاک رُوح کے خلاف ہوگا وہ نہیں بخشا جائے گا۔ اگر کوئی ابنِ آدم کے خلاف کچھ کہتا ہے تو اُسے بھی معاف کردیا جائے گا لیکن جو پاک رُوح کے خلاف کچھ کہتا ہے اُسے نہ تو اِس دنیا میں معاف کیا جائے گا نہ آنے والی دنیا میں‘‘ (متی 12:31۔32).

اُن آیات پر اپنے تبصرے میں، ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice نے کہا کہ یہوداہ ’’ناقابل معافی گناہ کا اِرتکاب کرتا ہوا‘‘ دکھائی دیتا ہے، یعنی کہ وہ پہلے سے ہی شدید نفرت کے حوالے کیا جا چکا تھا۔ ڈاکٹر رائس نے کہا،

ناقابل معافی گناہ مسیح کا مکمل اور حتمی انکار ہے اِس قدر پختہ اور یقینی … کہ یہ پاک روح کی بے عزتی کرتا اور اُسے ہمیشہ کے لیے دور کر دیتا ہے۔ پھر [وہ پاک روح] مذید اور دِل کو تحریک نہیں دیتا، سزایابی نہیں لاتا یا نجات کے لیے خواہش کو اُجاگر نہیں کرتا… وہ جس نے [ناقابلِ معافی گناہ کا اِرتکاب کیا ہوتا ہے] وہ بے لاتعلق ہو جاتا ہے چونکہ پاک روح نے خود کو اُس سے دور کر دیا ہوتا ہے۔ خُدا کی جانب سچے طور پر رُخ کرنے کا سبب پاک روح کے دِل پر عمل کرنے کے وسیلے سے ہونا چاہیے۔ اگر [پاک روح] خود کو دور کر لیتا ہے تو خُدا کے پاس کوئی دوسرا طریقہ نہیں کہ جس کے ساتھ وہ سزایابی دے اور ایک گنہگار کو بچائے (جان آر۔ رائس، ڈی۔ڈی۔ John R. Rice, D.D.، انجیل بامطابق متی پر آیت بہ آیت تبصرہ A Verse-by-Verse Commentary on the Gospel According to Mathew، خُداوند کی تلوار اشاعت خانے Sword of the Lord Publishers، 1980 ایڈیشن، صفحہ 183؛ متی12:31۔32 پر تبصرے)۔

ڈاکٹر رائس کے گیت ’’اگر آپ نے زیادہ دیر سُستی دکھائی If You Linger Too Long‘‘ کا دوسرا بند براہ راست یہوداہ کی جانب ہی اشارہ ہوگا!

آپ نے سُستی دکھائی اور اِنتظار کیا پھر بھی نجات دہندہ کو مسترد کیا؛
   اِس قدر صبر کے ساتھ اُس کی تمام تنبیہات، اِس قدر مہربان اُس کی تمام التجائیں؛
یوں آپ نے منع کیا ہوا پھل کھایا، آپ نے شیطان کے وعدے کا اعتبار کیا؛
   یوں آپ کا دِل سخت ہو چکا ہے؛ گناہ آپ کے ذہن کو تاریک کر چکا ہے۔
پھر کس قدر افسوسناک فیصلے کا سامنا آپ کو بغیر رحم کے ساتھ یاد کرنا ہوگا
   کہ آپ نے سُستی دکھائی اور فضول میں وقت گزارا جب تک کہ روح چلا نہ گیا؛
کیسی الزام تراشی اور ماتم، اگر جب موت آپ کو بے اُمید پاتی ہے،
   آپ نے فضول میں وقت گزار دیا اور سُستی دکھائی اور بہت زیادہ ہی انتطار کیا!
(’’اگر آپ نے زیادہ دیر سُستی دکھائی If You Linger Too Long‘‘ شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1985)۔

یہوداہ نے ’’سُستی دکھائی اور فضول میں وقت گزار دیا جب تک کہ روح چلا نہ گیا۔‘‘ اُس نے ناقابلِ معافی گناہ کا اِرتکاب کیا تھا۔ وہ اُس صبح یسوع کی جانب نہیں مُڑا تھا کیونکہ اُس کے بچائے جانے کے لیے اب بہت تاخیر ہو چکی تھی۔ بہت تاخیر! بہت تاخیر! ہمیشہ کے لیے بہت تاخیر!

یہاں ایک لکیر ہے جو ہمارے خُداوند کو مسترد کرنے پر کھینچی گئی ہے،
   جہاں اُس کی روح کی آواز کھو جاتی ہے،
اور تم دیوانے ہجوم کے ساتھ جلدی کرو –
   کیا تم نےاندازہ لگایا، کیا تم نے قیمت کا اندازہ لگایا؟
کیا تم نے قیمت کا اندازہ لگایا اگرتمہاری روح کھو جاتی ہے،
   حالانکہ تم اپنے لیے پوری دُنیا حاصل کر لو گے؟
ہو سکتا ہے کہ اب بھی تم جو لکیر پار کر چکے ہو،
   کیا تم نےاندازہ لگایا، کیا تم نےقیمت کا اندازہ لگایا؟
(‘‘کیا تم نے قیمت کا اندازہ لگایا؟Have You Counted the Cost? ‘‘ شاعر اے. جے. ہاج
      A. J. Hodge، 1923).

میں آپ سے التجا کرتا ہوں، اُس وقت تک کا انتظار مت کریں کہ پاک روح آپ سے جُدا ہو جائے! جب وہ آپ کو گناہ کی سزایابی میں لاتا ہے – تو مسیح کے پاس آئیں۔ آپ کو کبھی بھی شاید دوسرا موقع نہ ملے! میں آپ سے درخواست کرتا ہوں، میں آپ سے التجا کرتا ہوں، مسیح کے پاس آئیں اِس سے پہلے کہ ہمیشہ کے لیے بہت دیر ہو جائے!

II۔ دوسری بات، یہوداہ کا ’’پچھتاوا‘‘ صرف ’’دُنیاوی دُکھ‘‘ تھا۔

تلاوت کہتی ہے،

’’جب یہوداہ نے جس نے یسوع کو پکڑوایا تھا، دیکھا کہ یسوع کو مجرم ٹھہرایا گیا ہے تو بہت پچھتایا‘‘ (متی 27:3).

لفظ ’’پچھتاواrepented‘‘ کا یہاں پر یونانی لفظ کی ایک قسم سے ’’میٹامیلو مائی metamelomai‘‘ سے ترجمہ کیا گیا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے ’’پشیمان ہونا to regret‘‘ (سٹرانگ Strong)، ’’افسردہ محسوس کرنا‘‘ (جارج رائیکر بیری George Ricker Berry)۔ مگر ’’میٹامیلو مائی metamelomai‘‘ نجات کی جانب رہنمائی نہیں کرتا ہے۔ یہ تو صرف ’’پشیمان ہونا‘‘ ہے پاک روح کے وسیلے سے گناہ کی سزایابی نہیں ہے۔ یہ ماسوائے گناہ کا اِرتکاب کرتے ہوئے پکڑے جانے کے افسوس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اِس قسم کا دُکھ اور پشیمانی صرف افسردگی، ذہنی دباؤ، خود ترسی اور نا اُمیدی کی جانب رہنمائی کرتے ہیں۔ پولوس رسول نے کہا،

’’وہ رنج جو خدا کی مرضی کو پورا کرتا ہے، اِنسان کو توبہ کرنے پر اُبھارتا ہے جس کا نتیجہ نجات ہے۔ اور اِس پر کسی کو بچھتانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن دُنیا کا رنج مَوت پیدا کرتا ہے‘‘ (2۔ کرنتھیوں 7:10).

خُدائی دُکھ سچا پچھتاوا پیدا کرتا ہے، جو مسیح میں نجات کی جانب رہنمائی کرتا ہے۔ وہ لفظ جس کا 2۔ کرنتھیوں7:10 میں ترجمہ ’’پچھتاوا‘‘ کیا گیا ہے وہ متی27:3 میں جہاں یہوداہ ’’خود پچھتایا‘‘ اُس لفظ سے مختلف ہے۔ 2۔کرنتھیوں7:10 میں یونانی لفظ ’’میٹانوئیہmetanoia‘‘ کی ایک قسم ہے – جس کا مطلب ’’ذہن کی ایک تبدیلی‘‘ ہوتا ہے (وائن Vine)۔ جیسا کہ مجھ سے پہلے والے چینی پادری صاحب ڈاکٹر ٹموٹھی لِن Dr. Timothy Lin (1911۔2009) جو کہ عبرانی اور یونانی کے ایک عالم تھے اکثر کہا کرتے تھے، یہ ایک نیا ’ناؤس nous،‘ ایک نیا ذہن ہے۔‘‘ یہ کسی کے دِل اور ذہن کی ایک مکمل اور جامع تبدیلی ہوتی ہے جو صرف خُدا ہی پیدا کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر جارج رائیکر بیری Dr. George Ricker Berry (1865۔1945) نے کہا کہ ’’میٹانوئیہmetanoia‘‘ [محض ’’میٹامیلو مائی metamelomai‘‘ کے مقابلے میں] ایک عالی شان ترین لفظ ہے، جو کہ مکمل اور جامع پچھتاوے کا مستقل اِظہار ہوتا ہے‘‘ (نئے عہد نامے کی یونانی سے انگریزی میں لغت Greek-English New Testament Lexicon)۔ رچرڈ بیکسٹر Richard Baxter (1615۔1691) جو ایک پیوریٹن مصنف ہیں اُنھوں نے اِس کو ’’لگاؤ یا رغبت کی ایک تبدیلی‘‘ کہا۔

’’وہ رنج جو خدا کی مرضی کو پورا کرتا ہے، اِنسان کو توبہ کرنے پر اُبھارتا ہے جس کا نتیجہ نجات ہے۔ اور اِس پر کسی کو بچھتانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن دُنیا کا رنج مَوت پیدا کرتا ہے‘‘ (2۔ کرنتھیوں 7:10).

خُدائی دُکھ پاک روح کے وسیلے سے پیدا ہوتا ہے، جو کہ پھر بچھتاوا پیدا کرتا ہے، جو کہ ایک نیا ذہن ہوتا ہے جو مسیح میں نجات کی جانب رہنمائی کرتا ہے۔

یہوداہ کو تو صرف پکڑے جانے کے دُکھ کے جھوٹے پچھتاوے کو محسوس کرنے کا تجربہ ہوا تھا۔ ’’جب اُس نے دیکھا کہ اُس [یسوع] کو مجرم ٹھہرایا گیا تو اُس [یہوداہ] کو خود پر پچھتاوا ہوا۔‘‘ میرے خیال میں کنگ جیمس بائبل میں اِس کی سمجھ آتی ہے۔ وہ ’’خود پچھتایا۔‘‘ خُدا نے یہ پیدا نہیں کیا تھا۔ یہ خالصتاً انسانی پچھتاوا تھا، نا کہ ’’خُدائی دُکھ [جو] پچھتاوے کو پیدا کرتا ہے۔‘‘ یہ ’’خُدائی دُکھ‘‘ نہیں تھا جو کہ ایک سچے ذہن کی تبدیلی پیدا کرتا ہے – صرف خود ترسی! صرف ’’دُنیا کا رنج ہے [جو پیدا کرتا ہے] موت۔‘‘ اِسی لیے وہ ’’چلا گیا اور پھانسی لے لی‘‘ (متی27:5)۔

میں یقین کرتا ہوں کہ قائین اور عیسو یہوداہ کی تشبیہیں (یا تصویریں) ہیں، جنھیں مسیح نے ’’جہنم کے بیٹا‘‘ کہا (یوحنا17:12)۔ یہوداہ ہی کی مانند، جو کہ انسانی طور پر مسیح کی موت کا ذمہ دار تھا، ’’قائین بھی اپنے بھائی ہابل کے خلاف کھڑا ہو گیا تھا، اور اُس کو قتل کر دیا تھا‘‘ (پیدائش4:8)۔ قائین پر سیکوفیلڈ Scofield کہتا ہے، ’’قائین… زمین کے محض آدمی کی ایک قسم ہے… جو کہ گناہ کی کسی مناسب سمجھ کا محتاج ہے، یا کفارے کی ضرورت میں ہے‘‘ (سیکوفیلڈ مطالعۂ بائبل The Scofield Study Bible؛ پیدائش4:1 پر غور طلب بات)۔ قائین کو کبھی بھی ’’خُدائی دُکھ‘‘ نہیں ہوا تھا اور نجات کے لیے کوئی ’’پچھتاوا‘‘ نہیں ہوا تھا۔ اُس نے صرف خود کے لیے افسوس محسوس کیا تھا۔ قائین نے کہا، ’’میری سزا میری برداشت سے باہر ہے‘‘ (پیدائش4:13)۔ خود ترسی! یہ تھی جو اُس نے محسوس کی۔ اُس نے صرف ’’دُنیا کے رنج‘‘ کو محسوس کیا تھا۔ یہ پکڑے جانے کے دُکھ سے زیادہ اور کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ خود ترسی کی جانب رہنمائی کرتا ہے اور اِس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اِس نے قائین کو ایک نااُمید کی حالت میں اکیلا چھوڑا تھا۔

عیسو یہوداہ کی ایک اور تشبیہہ (یا تصویر) ہے۔ عیسو نے گوشت کے شوربے کے ایک پیالے کے بدلے میں اپنے پہلوٹھے ہونے کا حق بیچ دیا تھا جیسے یہوداہ نے مسیح کو دھوکہ دینے کے لیے چاندی کے تیس سکّے موصول کیے تھے۔ سیکوفیلڈ کی غور طلب بات کہتی ہے، ’’عیسو زمین کے محض آدمی کا نقطۂ نظر ہے‘‘ (ibid.، پیدائش25:25 پر غور طلب بات)۔ بعد میں، جب عیسو کو پتا چلتا ہے کہ وہ برکت پانے کا حق کھو چکا تھا، ’’وہ بُلند اور تلخ آواز کے ساتھ چِلا اُٹھا اور اپنے باپ سے کہا، مجھے برکت دے، ہاں اے میرے باپ مجھے بھی برکت دے‘‘ (پیدائش27:34)۔ عیسو، بھی یہوداہ اور قائین ہی کی مانند ’’دُنیا کے رنج‘‘ میں ڈوب گیا تھا۔ اُس نے کبھی بھی ’’خُدائی دُکھ کو [جو] نجات کے لیے پچھتاوے کو پیدا کرتا ہے‘‘ محسوس نہیں کیا۔ اُس نے صرف خود ترسی اور ندامت کو محسوس کیا، یہوداہ ہی کی مانند۔ اِس کے علاوہ، یہوداہ ہی کی طرح، عیسو نے کہا، ’’میں اپنے بھائی یعقوب کو مار ڈالوں گا‘‘ (پیدائش27:41)۔ عبرانیوں کی کتاب عیسو کو کہتی ہے ’’حرامکار… جس نے گوشت کے ایک لقمہ کے بدلے اپنے پہلوٹھے ہونے کا حق بیچ دیا کیونکہ تم جانتے ہو کہ بعد میں جب اُس نے برکت پانے کی کوشش کی تو ناکام رہا۔ اُسے اپنی نیت بدلنے کا موقع نہ ملا حالانکہ وہ آنسو بہا بہا کر اُس کی تلاش کرتا رہا‘‘ (عبرانیوں12:16۔17)۔ وہ کبھی بھی سچا ’’پچھتاوا، حالانکہ وہ اِسے آنسو بہا بہا کر تلاش کرتا رہا‘‘نہ حاصل کر سکا۔

میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ قائین، عیسو اور یہوداہ کی مانند نہیں ہیں۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ خُدا کے روح سے گناہ کی گہری سزایابی کے تحت آ جائیں گے۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ قائین کی مانند نہیں ہوں گے جو ’’زمین کے محض آدمی… جو کہ گناہ کی کسی مناسب سمجھ کا محتاج ہے، یا کفارے کی ضرورت میں ہے۔‘‘ میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ عیسو کی مانند نہیں ہوں گے، جو کہ ایک حرامکار ہے۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ دنیاوی چیزوں کے لیے اپنی جان کو پرے نہیں پھینک دیں گے۔ میں کس قدر دعا مانگتا ہوں کہ آپ یہوداہ کی مانند نہیں ہوں گے جس نے چند چاندی کے سکوں کے بدلے مسیح کو دھوکہ دیا! مسیح نے کہا،

’’آدمی اگر ساری دنیا حاصل کرلے مگر اپنی جان کھو بیٹھے تو اُسے کیا فائدہ ہوگا؟‘‘ (مرقس 8:36).

ہائے، دُنیا اور اُس کے گناہوں اور جھوٹے خزانوں میں سے باہر نکل آئیں! گناہ سے باہر آ جائیں اور مسیح کے لیے آئیں۔ جب کہ خُدا کا روح آپ کو بُلا رہا ہے اور آپ کا دِل آپ کے گناہ کا وزن اور بوجھ محسوس کرتا ہے یسوع کے پاس آئیں اور اُس کے خون کے وسیلے سے گناہ سے دُھل کر پاک صاف ہو جائیں! یسوع کے پاس آئیں اِس سے پہلے کہ ہمیشہ کے لیے انتہائی تاخیر ہو جائے!

پھر کس قدر افسوسناک فیصلے کا سامنا آپ کو بغیر رحم کے ساتھ یاد کرنا ہوگا
   کہ آپ نے سُستی دکھائی اور فضول میں وقت گزارا جب تک کہ روح چلا نہ گیا؛
کیسی الزام تراشی اور ماتم، اگر جب موت آپ کو بے اُمید پاتی ہے،
   آپ نے فضول میں وقت گزار دیا اور سُستی دکھائی اور بہت زیادہ ہی انتطار کیا!
(’’اگر آپ نےزیادہ دیر سُستی دکھائی If You Linger Too Long‘‘ شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1985)۔

ایک نوجوان آدمی نے ایک مرتبہ میرے شریک کار ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan سے کہا، ’’اِس رفتار سے تو میں کبھی بھی مسیحی نہیں بن پاؤں گا۔‘‘ کس قدر سچی بات! آپ کی تمام کی تمام سیکھی ہوئی باتیں اور دعائیں اور اچھے اعمال آپ کی مدد نہیں کر سکتے جب تک کہ آپ گناہ کی گہری سزایابی کے تحت نہیں آ جاتے اور یسوع کی جانب رُخ نہیں موڑتے۔ جیسا کہ ایک خاتون نے کہا، ’’میں مکمل اور جامع طور پر خود سے کراہت محسوس کرنے لگی۔‘‘ یہ ’’خُدائی دُکھ ہے [جو] نجات کے لیے پچھتاوے کو پیدا کرتا ہے۔‘‘ جلد ہی اپنے گناہ سے بھرپور دِل کے ساتھ ’’کراہت‘‘ محسوس کرنے سے وہ خاتون مسیح کی جانب کھینچی چلی گئی تھی اور مسیح میں ایمان لے آئی تھی۔ خُدا کا روح آپ کو خود سے ’’مکمل اور جامع طور پر‘‘ کراہت محسوس کرائے کہ آپ کا ’’منہ بند ہو جائے اور ساری دُنیا خُدا کے سامنے سزا کی مستحق ٹھہرے‘‘ (رومیوں3:19)۔ خُدا کا روح آپ کو اُس کے خون کے ذریعے سے گناہ سے نجات پانے کے لیے یسوع کی جانب کھینچے۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب

یہوداہ کا جھوٹا پچھتاوا

THE FALSE REPENTANCE OF JUDAS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’جب یہوداہ نے جس نے یسوع کو پکڑوایا تھا، دیکھا کہ یسوع کو مجرم ٹھہرایا گیا ہے تو بہت پچھتایا اور چاندی کے وہ تیس سِکّے سردار کاہنوں اور بزرگوں کے پاس واپس لایا‘‘ (متی 27:3).

(متی27:1۔2)

I.   پہلی بات، یہوداہ پہلے ہی ناقابل معافی گناہ کا اِرتکاب کر چکا تھا، متی12:31۔32 .

II.  دوسری بات، یہوداہ کا ’’پچھتاوا‘‘ صرف ’’دُنیاوی دُکھ‘‘ تھا، 2۔کرنتھیوں7:10؛ متی27:5؛ یوحنا17:12؛ پیدائش4:8، 13؛ پیدائش27:34، 41؛ عبرانیوں12:16۔17؛ مرقس8:36؛ رومیوں3:19 .