Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

گتسمنی کے باغ میں مسیح کی دعا

CHRIST’S PRAYER IN GETHSEMANE
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی ایک شام، 29 مارچ، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, March 29, 2015

یسوع نے اپنے شاگردوں کے ساتھ آخری کھانا کھایا تھا۔ اُس کے بعد اُس نے اُن کی رہنمائی گتسمنی کے باغ میں کی تھی۔ یسوع اُنہیں باغ کے سرے پر ہی چھوڑ کر مذید اور اندر تاریکی میں دعا مانگنے کے لیے چلا گیا۔ وہ گہری مایوسی میں تھا۔ اُسے بچانے کے لیے اُس نے خُدا کو پکارا۔ جب وہ اذیت میں وہاں دعا مانگ رہا تھا تو اُس کا پسینہ ’’خون کی بڑی بڑی بوندوں کی مانند زمین پر ٹپک رہا تھا‘‘ (لوقا22:44)۔ اور یہ ہمیں ہماری تلاوت کی جانب لے جاتا ہے۔ تلاوت ہمیں گتسمنی کے باغ میں مسیح کی دعا کے بارے میں مذید اور بتاتی ہے۔

’’یسوع نے ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے دنوں میں پُکار پُکار کر اور آنسو بہا بہا کر خدا سے دعائیں اور اِلتجائیں کیں جو اُسے مَوت سے بچا سکتا تھا اور اُس کی خدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی‘‘ (عبرانیوں 5:7).

اِس آیت کے بارے میں جو بے شمار تبصرے کہتے ہیں وہ حیرت انگیز ہیں۔ اُن میں زیادہ تر کہتے ہیں کہ یہ گتسمنی کے باغ میں مسیح کی دعا کی جانب حوالہ دیتا ہے۔ مگر اُن میں سے بے شمار سوچتے ہیں کہ وہ اگلے دِن صلیب پر اپنی موت سے بچنے کے لیے خُدا سے دعا مانگ رہا تھا۔ ڈاکٹر لینسکی Dr. Lenski عبرانیوں5:7 میں سے اخذ کر کے مانی جانے والی اِن مبہم اور متضاد نظریات کی کئی وجوہات کا جواب دیتے ہیں (آر۔ سی۔ ایچ۔ لینسکی، پی ایچ۔ ڈی۔ R. C. H. Lenski, Ph.D.، یہوداہ کے مراسلے اور عبرانیوں کے مراسلے کی تاویل The Interpretation of the Epistle to the Hebrews and the Epistle of James، اُوگسبرگ اشاعت گھر Augsburg Publishing House، 1966 ایڈیشن، صفحہ 162۔165؛ عبرانیوں5:7 پر غور طلب بات)۔

آئیے اِس کا جملہ بہ جملہ معائنہ کرتے ہیں، کیونکہ اِس سے یسوع کے مصلوب کیے جانے سے ایک رات پہلے، گتسمنی میں اُس کی تنہائی میں دعا کے بارے میں بہت زیادہ پتہ چلتا ہے۔

’’یسوع نے ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے دنوں میں پُکار پُکار کر اور آنسو بہا بہا کر خدا سے دعائیں اور اِلتجائیں کیں جو اُسے مَوت سے بچا سکتا تھا اور اُس کی خدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی‘‘ (عبرانیوں 5:7).

I۔ پہلی بات، تلاوت مسیح کے ’’ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے دِنوں‘‘ کے بارے میں بتاتی ہے۔

یہ جملہ ہمیں ظاہر کرتا ہے کہ تلاوت کسی ایسی بات کی جانب حوالہ نہیں دیتی جو یسوع کے ساتھ اُس کی قبل از متجسم حالت میں رونما ہوئی تھی، اُس کے آسمان سے نیچے آنے سے پہلے۔ یہ بات یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ یہ تلاوت کسی ایسی بات کی جانب بھی اشارہ نہیں کرتی جس کا مسیح نے اپنے آسمان میں اُٹھائے جانے، آسمان میں قبول کیے جانے کے بعد تجربہ کیا ہو۔ تلاوت توجہ مرکوز کرتی ہے ایک ایسے وقت پر جب زمین پر یسوع نے ’’زار و قطار پکار پکار‘‘ کر ’’ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے دِنوں‘‘ میں دعا مانگی تھی۔

نیے عہد نامے ہمیں تین مواقعوں کے بارے میں بتاتا ہے جب یسوع رویا تھا۔ ایک لعزر کی قبر پر تھا۔ بائبل کہتی ہے، ’’یسوع رو پڑا‘‘ (یوحنا11:35)۔ دوسری مرتبہ وہ یروشلیم پر رویا تھا،

’’اور یروشلیم کے نزدیک پہنچ کر یسوع نے شہر پر نظر ڈالی اور اُسے اُس پر رونا آ گیا‘‘ (لوقا 19:41).

ڈاکٹر جے ۔ ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے کہا، ’’تیسری مرتبہ وہ گتسمنی کے باغ میں رویا تھا‘‘ (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن بپلیشرز Thomas Nelson Publishers، 1983، جلد پنجم، صفحہ 540؛ عبرانیوں5:7 پر غور طلب بات)۔ یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہماری تلاوت لعزر کی قبر پر یسوع کے رونے کی جانب حوالہ نہیں دیتی ہے۔ اور یہ اِس بات کی جانب بھی حوالہ نہیں دیتی جب اُس نے یروشلیم شہر کی جانب نظر ڈال کر آنسو بہائے تھے۔ یہ بات تلاوت میں حوالے کو یسوع کے مصلوب کیے جانے سے ایک رات پہلے، گتسمنی کے باغ میں اُس کی غمزدگی کے اُس وقت پر محدود کر دیتی ہے۔

یہ آدھی رات کا وقت ہے اور زیتون کی صلیب پر
   وہ ستارہ بھی مدھم پڑ چکا ہے جو بعد میں چمکتا تھا؛
اب باغ میں آدھی رات کا وقت ہو چکا ہے،
   مصائب زدہ نجات دہندہ تنہا دعا مانگتا ہے۔

یہ آدھی رات کا وقت؛ اور دوسروں کے جرم کےلیے
   دُکھوں بھرا انسان خون میں روتا ہے؛
اِس کے باوجود وہ جو ذہنی اذیت میں دوزانو تھا
   اپنے خُدا کی جانب سے بخشا نہیں گیا تھا۔
(’’یہ آدھی رات کا وقت ہے؛ اور زیتون کی صلیب پر ‘
Tis Midnight; and on Olive’s Brow‘‘ شاعر ولیم بی۔ ٹیپان William B. Tappan، 1794۔1849)۔

’’یسوع نے ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے دنوں میں پُکار پُکار کر اور آنسو بہا بہا کر خدا سے دعائیں اور اِلتجائیں کیں جو اُسے مَوت سے بچا سکتا تھا اور اُس کی خدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی‘‘ (عبرانیوں 5:7).

II۔ دوسری بات، تلاوت ہمیں بتاتی ہے کہ مسیح نے خُداوند سے دعا مانگی تھی، جو گتسمنی میں اُسے موت سے بچانے کے قابل تھا۔

متی 26:36۔38 کو غور سے سُنیں۔

’’تب یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ ایک جگہ پہنچا جس کا نام گتسمنی تھا۔ اُس نے شاگردوں سے کہا، تُم یہاں بیٹھو اور میں وہاں آگے جا کر دعا کرتا ہُوں۔ اور وہ پطرس اور زبدی کے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے گیا اور افسردہ اور بیقرار ہونے لگا۔ پھر اُس نے اُن سے کہا، غم کی شدّت سے میری جان نکلی جا رہی ہے…‘‘ [’’مرنے کے لمحے تک کے لیے‘‘ NIV] (متی 26:36۔38).

عبرانیوں5:7 کے بارے میں کہنے کے لیے ڈاکٹر جان میک آرتھر Dr. John MacArthur کے پاس کچھ اچھی باتیں ہیں، مگر اُس آیت پر وہ اپنے آخری جملے میں غلطی کر جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’یسوع نے موت میں جانے سے بچائے جانے کے لیے دعا مانگی تھی، [یعنی کہ] مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے لیے‘‘(جان میک آرتھر، ڈی۔ڈی۔ John MacArthur, D.D.، میک آرتھر کا مطالعۂ بائبل The MacArthur Study Bible، ورڈ بائبلز Word Bibles، 1997، صفحہ 1904؛ عبرانیوں5:7 پر غور طلب بات)۔

یسوع ’’موت میں جانے سے بچائے جانے کے لیے‘‘ دعائیں نہیں مانگ رہا تھا! جی نہیں، متی 26:38 ہمیں واضح طور پر بتاتی ہے کہ یسوع کی ’’غم کی شدت سے جان نکلی جا رہی تھی‘ – مرنے کے لمحے تک کے لیے – بالکل وہیں گتسمنی کے باغ میںیسوع مرنے کے قریب ہی تھا! وہ بالکل اُسی وقت گتسمنی میں وہیں پر موت سے بچائے جانے کے لیے دعائیں مانگ رہا تھا! لوقا کی انجیل ہمیں بتاتی ہے، ’’اُس کا پسینہ خون کی بڑی بوندوں کی مانند زمین پر ٹپک رہا تھا‘‘ (لوقا22:44)۔ یسوع مصائب کی اِس قدر ہولناک حالت میں تھا کہ اُس کو خونی پسینے آ رہے تھے، اور اُس رات اُس کے مصلوب کیے جانے سے پہلے گتسمنی میں وہ مرنے کے لمحے کے قریب تھا۔ جوزف ہارٹ نے کہا،

خُدا کے تکلیف زدہ بیٹے کو دیکھو،
ہانپتا، کراہتا، خون پسینے کی مانند بہاتا ہوا!
الٰہی پیار کی لا محدود گہرائیاں!
یسوع، تیرا پیار کیسا تھا!
   (’’تیرے انجانے مصائب Thine Unknown Sufferings‘‘ شاعر جوزف ہارٹ
Joseph Hart، 1712۔1768؛ بطرز ’’’اِس شام زیتون کی صلیب پر Tis Midnight, and on Olive’s Brow‘‘)۔

متی 26:38۔39 کو سُنیے۔

’’ پھر اُس نے اُن سے کہا، غم کی شدّت سے میری جان نکلی جا رہی ہے۔ یہاں ٹھہرو اور جاگتے رہو۔ پھر ذرا آگے جا کر وہ زمین پر سجدہ میں گر پڑا اور دعا کرنے لگا کہ اَے باپ! اگر ممکن ہوتو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے، پھر بھی جو میں چاہتا ہُوں وہ نہیں بلکہ جو تُو چاہتا ہے وہی ہو‘‘ (متی 26:38۔39).

اِس دعا کی ایک عام سی وضاحت یہ ہے کہ مسیح خُدا سے صلیب پر جانے سے بچائے جانے کے لیے پوچھ رہا تھا۔ مگر میں پُر یقین ہوں کہ یہ نہیں ہے جو بائبل ہمیں تعلیم دیتی ہے۔ ڈاکٹر جے۔ ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee جو امریکہ کے ایک جانے مانے بائبل کے اُستاد ہیں اُنھوں نے کہا،

یہ کہنا کہ ہمارا خُداوند صلیب پر نہ جانے کے لیے کوشش کر رہا تھا سچ نہیں ہے۔ اپنی انسانیت میں اُس نے اُس پر دُنیا کے گناہوں کی نفرت اور بھیانک ہولناکی کے لادے جانے کو محسوس کیا تھا… (جے ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، 1983، تھامس نیلسن بپلیشرز Thomas Nelson Publishers، جلد چہارم، صفحہ 141؛ متی 26:36۔39 پر غور طلب بات)۔

ڈاکٹر جے ۔ اولیور بسویل Dr. J. Oliver Buswell جو کہ ایک جانے مانے عالم الٰہیات ہیں، اُنھوں نے کہا،

شدید حد سے متجاوز پسینے کا اخراج جیسا کہ لوقا نے بیان کیا ایک ایسی حالت کی خصوصیت ہے جس میں مصیبت میں مبتلا شخص بےہوشی اور یہاں تک کہ مرنے کے انتہائی فوری خطرے میں ہوتا ہے… ہمارے خُداوند یسوع مسیح نے جب خود کو اِس جسمانی حالت کے شدید جھٹکے میں پایا تو اُس نے باغ میں مرنے سے خلاصی کے لیے دعا مانگی تھی اِس امر میں کہ وہ صلیب پر [اگلے روز] اپنے مقصد کے حکم کو پورا کر سکے (جے۔ اولیور بسویل، پی ایچ۔ ڈی۔ J. Oliver Buswell, Ph.D.، مسیحی مذھب کا سلسلہ بہ سلسلہ علم الٰہیات A Systematic Theology of the Christian Religion، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، 1962، حصہ سوئم، صفحہ 62)۔

’’ وہ پطرس اور زبدی کے دونوں بیٹوں کو اپنے ساتھ لے گیا اور افسردہ اور بیقرار ہونے لگا۔ پھر اُس نے اُن سے کہا، غم کی شدّت سے میری جان نکلی جا رہی ہے…‘‘ [’’مرنے کے لمحے تک کے لیے‘‘ NIV] (متی 26:37۔38).

اُن دو آیات کو احتیاط کے ساتھ پڑھ چکنے کے بعد، ڈاکٹر جان آر۔ رائسDr. John R. Rice نے مذید اور واضح کیا جو ڈاکٹر جے۔ ورنن میگی اور ڈاکٹر جے۔ اولیور بسویل نے ہمیں پیش کیا۔ ڈاکٹر رائس نے کہا،

     اگر آپ [متی26 باب کی] آیت 37 اور 38 پر غور نہیں کرتے ہیں تو گتسمنی میں مانگی جانے والی دعا کا معنی غائب ہو جاتا ہے۔ یسوع غمزدہ اور بیقرار تھا اور ’’غم سے اُس کی جان نکلی جا رہی تھی،‘‘ یعنی کہ [وہ] واقعی میں غم سے مر رہا تھا… یسوع باغ میں مرنے کے قریب ہی تھا۔ آیات 39 اور 42 میں جس پیالہ کا تزکرہ کیا گیا وہ موت کا پیالہ تھا، گتسمنی کے باغ میں اُس رات موت۔ عبرانیوں 5:7 میں یہ خصوصی طور پر واضح کیا گیا ہے جہاں پر ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یسوع ’’نے پُکار پُکار کر اور آنسو بہا بہا کر خدا سے دعائیں اور اِلتجائیں کیں جو اُسے مَوت سے بچا سکتا تھا اور اُس کی خدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی۔‘‘ گتسمنی کے باغ میں مرنے کے قریب تھا، یسوع نے دعا مانگی تھی کہ اُس رات موت کا پیالہ اُس سے ٹل جائے تاکہ وہ اگلے روز صلیب پر مرنے کے لیے زندہ رہ پائے۔ کلام مقدس کہتا ہے کہ ’’اُس کی سُنی گئی تھی‘‘! خُدا نے اُس کی دعا کا جواب دیا تھا… اگر یسوع گتسمنی کے باغ ہی میں مر جاتا، تو پھر اُس کے پاس نجات دینے کی کوئی خوشخبری نہ ہوتی، کیونکہ خوشخبری ہے ’’کہ پاک کلام کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کے لیے مرا [کاتہ تاس گرافاس kata tas graphas]، 1۔کرنتھیوں15:3۔ کوئی عام موت ایسا نہیں کر پاتی؛ مسیح کی موت کو کلام پاک کے مطابق ہی ہونا تھا… یسوع کو اپنی داڑھی نچوانی ہی تھی (اشعیا50:6)۔ اُس کو بے شمار کوڑوں سے پیٹا ہی جانا تھا (اشعیا53:5)… اُس کو صلیب پر دو ڈاکوؤں کے درمیان مرنا ہی تھا [اشعیا53:12؛ زکریاہ 12:10؛ زکریاہ 13:6]۔ اُن کو اُس کے ہاتھوں اور اُس کے پیروں کو چھیدنا ضروری تھا (زبور22:16)… یہاں تک کہ [صلیب پر سے] [اُس کی] انتہائی پکار، ’’اے میرے خُدا، اے میرے خُدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟‘‘… اُس کی پیشن گوئی پاک کلام میں کی جا چکی تھی (زبور22:1)۔ [جب وہ صلیب پر تھا تو] سردار کاہنوں اور لوگوں کا تضحیک اُڑانا اُس لکھے کو پورا کرنے کے لیے ضروری تھا جیسا کہ اُس کی پیشن گوئی کی جا چکی تھی (زبور22:7۔8)۔ [سپاہیوں کا] اُس کے [چوغے] لباس پر قرعہ ڈالنا ضروری تھا (زبور22:18)۔
     اگر یسوع واقعی میں ’’کلام مقدس کے مطابق‘‘ نہ مرا ہوتا تو پھر وہ ہمارا نجات دہندہ نہیں ہوتا۔ خُدا کا شکر ادا کریں، گتسمنی کے باغ میں اُس کی دعائیں قبول ہو گئی تھیں! وہ موت کا پیالہ… اُس رات اُس سے ٹل گیا تھا [تاکہ وہ جا پائے] اُس صلیب تک تاکہ ہم بچائے جا سکتے… لوقا22:43 ہمیں بتاتی ہے ’’آسمان سے ایک فرشتہ اُس پر ظاہر ہوا جو اُسے تقویت دیتا تھا۔‘‘ یسوع کے بدن کو فوق الفطرت تقویت کے ملے بغیر، مسیح یقینی طور پر اُس رات باغ میں مر گیا ہوتا (جان آر۔ رائس، ڈی۔ڈی۔ John R. Rice, D.D.، انجیل بامطابق متی The Gospel According to Mathew، خُدا کی تلوار اشاعت خانے Sword of the Lord Publishers، 1980 ایڈیشن، صفحات 441۔442؛ متی26:36۔46 پر غور طلب بات)۔

ہم اپنے گناہوں سے نہ بچائے گئے ہوتے اگر یسوع صلیب پر جانے سے پہلے ہی گتسمنی کے باغ میں مر گیا ہوتا۔ کیوں؟ کیونکہ مسیح مر ہی نہیں پایا ہوگا ’’کاتہ تاس گرافاس kata tas graphas۔‘‘ وہ ہمیں بچا ہی نہیں پاتا کیونکہ وہ ’’مقدس کلام کے مطابق‘‘ مرا ہی نہیں ہوتا۔

’’یسوع نے ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے دنوں میں پُکارپُکار کر اور آنسو بہا بہا کر خدا سے دعائیں اور اِلتجائیں کیں جو اُسے مَوت سے بچا سکتا تھا اور اُس کی خدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی‘‘ (عبرانیوں 5:7).

III۔ تیسری بات، تلاوت ہمیں بتاتی ہے کہ خُدا نے مسیح کو جواب دیا تھا۔

اگر وہ صلیب سے بچنے کے لیے دعائیں مانگ رہا ہوتا، تو پھر خدا نے اُس کی نہ سُنی ہوتی یا اُس کو نہ بچایا ہوتا! جی نہیں، خُدا نے اُس کی سُنی تھی اور اُس کی دعا کا جواب دیا تھا۔ وہ گتسمنی کے باغ میں نہیں مرا تھا! خُدا نے اُس کو بچا لیا تھا تاکہ وہ صلیب پر ہمارے گناہ کے لیے مر پاتا کلام مقدس کے مطابق – ’’کاتہ تاس گرافاس kata tas graphas‘‘! یسوع کی ’’خُدا ترسی کی وجہ سے سُنی گئی تھی‘‘ (عبرانیوں5:7)۔ میرے خیال میں اِس کا مطلب ہوتا ہےکہ اُس کو خُدائی خوف تھا، کہ اُس کو صلیب کے لیے جانے سے پہلے مرنے سے خُدا کی نافرمانی کے ہونے کا خوف تھا۔ بائبل کہتی ہے کہ یسوع نے، ’’اُس خوشی کے لیے جو اُس کے سامنے تھی صلیب کا دُکھ سہا‘‘ (عبرانیوں12:2)۔ یسوع حادثاً نہیں مرا تھا۔ جی نہیں، وہ جان بوجھ کر اور اپنی مرضی سے ہمارے گناہوں کا مکمل کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر چڑھا تھا۔

تب، پھر، گتسمنی کے باغ میں ’’یہاں تک کہ موت تک‘‘ [’’مرنے کے لمحے تک کے لیے‘‘ NIV] اُس کی اِس قدر شدید اذیت اور دُکھوں کی وجہ کیا تھی (متی26:38)؟ وہ وہاں پر کیوں اِس قدر ’’غمزدہ‘‘ اور ’’بیقرار‘‘ تھا؟ وہ کیوں ’’بہت پریشان اور بیقرار‘‘ تھا (مرقس14:33)؟ وہ کیوں ’’ایک اذیت میں‘‘ تھا (لوقا22:44)؟ گتسمنی میں کیوں اُس نے ’’خون کی بڑی بڑی بوندوں کی مانند پسینہ بہایا‘‘ (لوقا22:44)؟

میں یقین کرتا ہوں کہ یہ گتسمنی کے باغ ہی میں اُس رات ہوا تھا کہ خُدا نے اُس کے لوگوں کے گناہ یسوع، خُدا کے برّے پر لاد دیے تھے۔ بائبل کہتی ہے، ’’خُدا نے ہم سب کی بدکاری اُس پر لاد دی‘‘ (اشعیا53:6)۔ میں یقین کرتا ہوں کہ یہ گتسمنی میں رونما ہونا تھا۔ اُس رات آپ کے گناہ ’’خود اُس کے اپنے بدن پر‘‘ لاد دیے گئے تھے اور اُس نے اُنہیں صلیب تک برداشت کیا کہ اگلی صبح آپ کے گناہوں کے لیے کفارہ ادا کر پائے۔ یسوع یہاں ہے، ’’وہ خود اپنے ہی بدن پر ہمارے گناہوں کا بوجھ لیے ہوئے لکڑی پر چڑھ گیا – صلیب پر (1پطرس2:24)۔ وہاں گتسمنی میں اُس کو شدید اذیت میں، خونی پسینہ بہاتے ہوئے دیکھیں، جب خدا ’’اُس پر ہم سب کی بدکاری لاد دیتا ہے۔‘‘ گتسمنی سے لے کر ’’خود اپنے ہی بدن پر صلیب پر‘‘ ہمارے گناہوں کا بوجھ برداشت کرتے ہوئے جاتا ہوا دیکھیں۔ کیا آپ اِس قدر عظیم نجات دہندہ کو جیسا کہ یہ ہے مسترد کر دیں گے؟ یا کیا آپ اُس کے پاس آئیں گے، جس نے آپ کی جگہ پر مصائب برداشت کیے اور آپ کی جگہ پر مر گیا تاکہ آپ کو معاف کیا جا سکے اور گناہ کے کفارے سے بچایا جا سکے؟

گتسمنی کے باغ میں یسوع کے ساتھ یہی رونما ہوا تھا اِس بات کو حمدوثنا کے گیتوں کے عظیم شاعر جوزف ہارٹ Joseph Hart (1712۔1768) نے بالکل اِسی طرح دیکھا۔

خُدا کے تکلیف زدہ بیٹے کو دیکھو،
ہانپتا، کراہتا، خون پسینے کی مانند بہاتا ہوا!
الٰہی پیار کی لا محدود گہرائیاں!
یسوع، تیرا پیار کیسا تھا!
      (’’تیرے انجانے مصائب Thine Unknown Sufferings‘‘ شاعر جوزف ہارٹ
         Joseph Hart، 1712۔1768؛ بطرز ’’’اِس شام زیتون کی صلیب پر Tis Midnight, and on Olive’s Brow‘‘)۔

مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور جوزف ہارٹ کا لکھا ہوا ایک اور حمدوثنا کا گیت گائیں۔ یہ آپ کے گیتوں والے ورق پر حمدوثنا کا گیت نمبر5 ہے۔

بہت سے دشمنوں کو اُس نے برداشت کیا، بے شمار کٹھن آزمائشوں سے گزرا،
صابر، اور تکالیف کو سہنے پر مجبور: لیکن کٹھن ترین آزمائش ابھی باقی تھی
جس کو تجھ میں اُس افسردہ، غمگین گتسمنی میں بڑھنا ہی تھا!
جس کو تجھ میں اُس افسردہ، غمگین گتسمنی میں بڑھنا ہی تھا!

بالاآخر وہ ہولناک رات آ ہی گئی؛ انتقام اپنی لوہے کی سلاخ کے ساتھ
کھڑا تھا، اور اکٹھی قوت کے ساتھ خُدا کے بے ضرر برّے کو زخمی کیا۔
دیکھ، میری جان، نجات دہندہ کو دیکھ، گتسمنی میں سجدہ ریز!
دیکھ، میری جان، نجات دہندہ کو دیکھ، گتسمنی میں سجدہ ریز!

وہاں خُدا کے بیٹے نے میرے تمام جرائم برداشت کیے؛ یہ فضل کے وسیلے سے ہی یقین کیا جا سکتا ہے؛
تجھ میں سے کوئی بھی آر پار نہیں ہو سکتا، غمگین، تاریک گتسمنی!
تجھ میں سے کوئی بھی آر پار نہیں ہو سکتا، غمگین، تاریک گتسمنی!

ایک پاک خُدا کے خلاف گناہ؛ اُس کی راستبازی۔ شریعت کے خلاف گناہ؛
اُس کی محبت، اُس کے خون کے خلاف گناہ، اُس کے نام اور مقصد کے خلاف گناہ؛
گناہ اتنے وسیع جتنا کہ سمندر ہے – اے گتسمنی، مجھے چُھپا لے!
گناہ اتنے وسیع جتنا کہ سمندر ہے – اے گتسمنی، مجھے چُھپا لے!

یہاں میرا داعویٰ ہے، اور تنہا یہاں ہی ہے؛ ایک نجات دہندہ کو اِس سے زیادہ کی ضرورت نہیں ہو سکتی؛
راستبازی کے کوئی کام مجھ میں نہیں؛ جی نہیں، التجا کرنے کے لیے کوئی ایک نیکی بھی نہیں ہے:
میرے لیے اُمید کی کوئی جھلک نہیں ہے، ماسوائے گتسمنی میں!
میرے لیے اُمید کی کوئی جھلک نہیں ہے، ماسوائے گتسمنی میں!
   (’’بہت سے دشمنوں کو اُس نے برداشت کیا Many Woes He Had Endured‘‘
      شاعر جوزف ہارٹ Joseph Hart، 1712۔1768؛ پادری کی طرف سے ترمیم کیا گیا، ’’آؤ، اے گنہگارو Come, Ye Sinners‘‘ کی طرز پر)۔

یسوع نے صلیب پر آپ کے گناہوں کو برداشت کیا کیونکہ وہ آپ سے محبت کرتا ہے۔ یسوع نے آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے اپنے خون کو بہایا کیونکہ وہ آپ سے محبت کرتا ہے۔ یہ میری دعا ہے کہ آپ نجات دہندہ پر بھروسہ کریں گے جو آپ سے ہمیشہ قائم و دائم رہنے والی محبت کے ساتھ پیار کرتا ہے!

کوئی بھی آپ سے یسوع کی مانند محبت نہیں کرتا؛
   کوئی بھی خیال نہیں کرتا جیسے وہ خیال کرتا ہے؛
آپ کبھی بھی سچا ترین دوست نہیں پائیں گے،
   اِس لیے اُس پر بھروسہ کریں اور آپ زندگی کو دوبارہ پا لیں گے۔
یسوع کو انتہائی اپنا بنا لیں!

ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی کریں۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: متی26:36۔39.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
     نے گایا تھا: ’’گتسمنی، وہ زیتون کا کہلو! Gethsemane, the Olive-Press!‘‘ (شاعر جوزف ہارٹ Joseph Hart، 1712۔1768)۔

لُبِ لُباب

گتسمنی کے باغ میں مسیح کی دعا

CHRIST’S PRAYER IN GETHSEMANE

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’یسوع نے ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے دنوں میں پُکار پُکار کر اور آنسو بہا بہا کر خدا سے دعائیں اور اِلتجائیں کیں جو اُسے مَوت سے بچا سکتا تھا اور اُس کی خدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی‘‘ (عبرانیوں 5:7) .

(لوقا22:44)

I.   پہلی بات، تلاوت مسیح کے ’’ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے دِنوں‘‘ کے بارے میں بتاتی ہے، یوحنا11:35؛ لوقا19:41 .

II.  دوسری بات، تلاوت ہمیں بتاتی ہے کہ مسیح نے خُداوند سے دعا مانگی تھی، جو گتسمنی میں اُس موت سے بچانے کے قابل تھا، متی26:36۔39؛ لوقا22:44؛ 1۔کرنتھیوں15:3؛ اشعیا50:6؛ 53:5، 12؛ زکریاہ12:10؛ 13:6؛ زبور22:16، 1، 7۔8؛ لوقا22:43 .

III. تیسری بات، تلاوت ہمیں بتاتی ہے کہ خُدا نے مسیح کو جواب دیا تھا، عبرانیوں12:2؛ متی26:38؛ مرقس14:33؛ لوقا22:44؛ اشعیا53:6؛ 1۔ پطرس2:24 .