Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 42 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


پطرس سزا یابی کے تحت

PETER UNDER CONVICTION
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتے کی شام، 28 مارچ، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, March 28, 2015

’’اور پطرس باہر جا کر زار زار رویا‘‘ (لوقا22:62)۔

یسوع کے مصلوب کیے جانے سے ایک رات پہلے وہ اپنے شاگردوں کو ’’ایک بہت بڑے بالا خانے‘‘ میں لے گیا (لوقا22:12) جہاں پر اُنہوں نے فسح کا کھانا اکٹھے کھایا۔ کھانا کھا چکنے کے بعد یسوع نے روٹی اور ایک پیالہ لیا اور عشائے ربانی کو قائم کیا۔ پھر یسوع نے اُنہیں بتایا کہ ’’تم میں سے ایک مجھے دھوکہ دے گا‘‘ (متی26:21)۔ تب یہوداہ ’’فوراً باہر چلا گیا: اور رات ہو چکی تھی‘‘ (یوحنا13:30)۔ چند ایک منٹوں بعد شاگرد ایک مرتبہ پھر سے اِس بات پر بحث کرنے لگے کہ ’’اُن میں سب سے بڑا کون ہے‘‘ (حوالہ دیکھیں لوقا9:46)۔ ڈاکٹر میگی Dr. McGee نے کہا، ’’کیا آپ اِس کا تصور کر سکتے ہیں؟ بالکل صلیب کے سائے میں یہ لوگ رُتبے کے لیے لالچ کر رہے تھے‘‘ (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن پبلیشرز، 1983، جلد چہارم، صفحہ 435؛ لوقا22:24 پر غور طلب بات)۔

اُنہیں اب بھی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ یسوع مصلوب ہونے کے لیے جا رہا تھا، حالانکہ وہ اُنہیں اِس بارے میں متی کی انجیل میں پانچ مرتبہ بتا چکا تھا (16:21؛ 17:12؛ 17:22۔23؛ 20:18۔19؛ 20:28)۔ میں ڈاکٹر میگی کے ساتھ متفق ہوں کہ شاگردوں نے اُس وقت تک نیا جنم (احیاء) نے لیا تھا جب تک اُنہوں نے ایسٹر کی شام کو جی اٹھے مسیح کا سامنا نہیں کر لیا (یوحنا 20:21 پر غور طلب بات)۔ (میرے واعظ پڑھنے کے لیے یہاں پر کلِک کریں – ’’شاگردوں کے خوف The Fear of the Disciples،‘‘ ’’یہ قول اور اِس کا مطلب اُن سے پوشیدہ رہا This Saying Was Hid From Them‘‘ اور ’’پطرس کی تبدیلی The Conversion of Peter۔‘‘)

پطرس نے خصوصی طور پر خوشخبری کی مخالفت کی تھی۔ اُس کو یسوع سے تعلق رکھتے ہوئے پاک روح کی جانب سے کوئی الہٰام ہوا تھا (متی16:15۔17) – اِس کے باوجود اُس نے یسوع کے ساتھ یہ کہنے پر کہ اُس [یسوع] کو ’’قتل کیا جائے گا، اور تیسرے دِن دوبارہ جی اُٹھے گا‘‘ غصہ کیا۔ یوں، پطرس نے شدت کے ساتھ خوشخبری کو مسترد کیا تھا! متی ہمیں بتاتا ہے،

’’اُس کے بعد یسوع نے اپنے شاگردوں پر ظاہر کرنا شروع کر دیا کہ اُس کا یروشلم جانا لازمی ہے تاکہ وہ بزرگوں، سردار کاہنوں اور شریعت کے عالموں کے ہاتھوں بہت دُکھ اُٹھائے، قتل کیا جائے اور تیسرے دِن جے اُٹھے۔ تب پطرس اُسے الگ لے گیا اور ملامت کرنے لگا کہ خُداوند! ہرگز نہیں، تیرے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ لیکن یسوع نے مُڑ کر پطرس سےکہا، اے شیطان! میرے سامنے سے دور ہو جا، تو میرے راستے میں رکاوٹ بن رہا ہے: کیونکہ تجھے خدا کی باتوں کا نہیں بلکہ آدمیوں کی باتوں کا خیال ہے‘‘ (متی16:21۔23)۔

ڈاکٹر جے ورنن میگی نے اُس حوالے پر یہ رائے پیش کی،

پہلی مرتبہ خُداوند یسوع نے اپنے شاگردوں کو اپنی موت اور جی اُٹھنے کا بتایا۔ یہ وقت اُس کے اصل میں مصلوب کیے جانے سے تقریباً چھ ماہ پہلے تھا۔ اُس نے کیوں اِس قدر انتہائی اہم اعلان کے لیے اِس قدر زیادہ طویل انتظار کیا؟ یقینی طور پر، اُس کے شاگرد اِس بات کے لیے تیار نہیں تھے، حتیٰ کہ اِس وقت بھی، اُن کے ردعمل سے اندازہ لگاتے ہوئے۔ اُس نے اِس حقیقت کو کہ وہ یروشلم مرنے کے لیے جا رہا تھا پانچ مرتبہ دھرایا تھا (متی [16:21]؛ 17:12؛ 17:22۔23؛ 20:18۔29؛ 20:28)۔ اِس قدر شدید ہدایت کے باوجود، شاگرد اِس کی اہمیت کو گرفت میں لینے سے ناکام رہے تھے… اُس کے جی اُٹھنے کے بعد تک (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن پبلیشرز، 1983، جلد چہارم، صفحہ 93؛ متی16:21 پر غور طلب بات)۔

ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’اِس بات کا نچوڑ یہ ہے، پطرس نے کہا، ’ تو مسیحا ہے؛ تو خُدا کا بیٹا ہے۔ تجھے مرنا نہیں چاہیے، تو صلیب کے لیے جا ہی نہیں سکتا!‘ صلیب اُس کی سوچ میں تھی ہی نہیں…بالکل بھی، جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں‘‘ (ibid.، متی16:22 پر غور طلب بات)۔ پطرس کو مسیحا سے توقع تھی کہ وہ بالکل اُسی وقت اپنی بادشاہی قائم کرے۔ اُس کو مسیحا سے توقع نہیں تھی کہ وہ پہلے دُکھ اُٹھائے اور صلیب پر مرے جیسا کہ پرانے عہد نامے کی بے شمار پیشن گوئیوں میں پہلے ہی سے بتایا گیا تھا (حوالہ دیکھیں اشعیا53؛ زبور22؛ زکریا12:10؛ 13:6؛ وغیرہ۔)۔ میں ڈاکٹر میگی کے ساتھ متفق ہوں، کہ پطرس کا خوشخبری کو سرے سے ہی مسترد کرنا ظاہر کرتا ہے کہ اُس نے اُس وقت تک دوبارہ جنم [احیاء] نہیں لیا تھا جب تک مسیح مُردوں میں سے جی نہیں اُٹھا تھا۔ کوئی بھی جو خوشخبری کو مسترد کرتا ہے دوبارہ جنم نہیں لے سکتا اور مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہو سکتا!

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

ہمارے واعظ اب آپ کے موبائل فون پر مہیا ہیں۔
WWW.SERMONSFORTHEWORLD.COM پر جائیں۔
جس پر لفظ ’’ایپ‘‘ ہے اُس سبز بٹن پر کلِک کریں۔
جو ہدایات سامنے آئیں اُن پر عمل کریں۔

+ + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + + +

اب پھر، جیسا کہ ہم اپنی تلاوت کی جانب بڑھتے ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ شاگرد کس کو ’’سب سے بڑا شمار‘‘ کیا جائے گا اِس بات پر بحث کر رہے ہیں۔ پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ یسوع نے شمعون پطرس سے کہا،

’’اور خُداوند نے کہا، شمعون، شمعون، دیکھ، شیطان نے گِڑگڑا کر اِجازت چاہی کہ تمہیں گندم کی طرح پھٹکے لیکن میں نے تیرے لیے دعا کی کہ تیرا ایمان جاتا نہ رہے اور جب تو توبہ کر چکے تو اپنے بھائیوں کے ایمان کو مضبوط کرنا۔ اور پطرس نے اُس سے کہا، اے خُداوند! تیرے ساتھ تو میں قید ہونے بلکہ مرنے کو بھی تیار ہوں۔ لیکن یسوع نے کہا: اے پطرس، میں تجھ سے کہتا ہوں کہ آج مرغ کے بانگ دینے سے پہلے تو تین بار میرا انکار کرے گا کہ تو مجھے جانتا تک نہیں‘‘ (لوقا22:31۔34)۔

یسوع نے کہا، ’’جب تو توبہ کر چکے،، تو اپنے بھائیوں کو مضبوط کرنا۔‘‘ لیکن پطرس نے نہیں سوچا تھا کہ اُسے بھی توبہ کرنے کی ضرورت تھی! میں یقین کرتا ہوں کہ یہ سوچنا ایک غلطی ہو گی کہ مسیح پطرس کی تبدیلی یا اُس کے توبہ کرنے کے بارے میں بات نہیں کر رہا تھا۔ وہ اُس وقت تک تبدیل نہیں ہوا تھا یا اُس نے اُس وقت تک توبہ نہیں کی تھی جب تک مسیح اُس کے اور دوسرے شاگردوں کے سامنے ظاہر نہیں ہو گیا، اور اُس شام کو جب وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا اُن پر اپنا پاک روح نہ پھونکا (حوالہ دیکھیں یوحنا20:22)۔ اِس واقعہ سے تعلق رکھتے ہوئے ڈاکٹر میگی نے کہا کہ یہ اُس وقت ہوا تھا جب ’’اِن لوگوں نے احیاء [نیا جنم] پائی تھی‘‘ (بائبل میں سے Thru the Bible، جلد چہارم، یوحنا 20:22 پر غور طلب بات). میرے خیال میں ’’فیصلہ سازیت‘‘ کے اس دور میں ہمیں اس کو ’’نئی بصیرت‘‘ کے ساتھ پڑھنے کی ضرورت ہے۔

پطرس کافی پُر اعتماد تھا جب اُس نے کہا، ’’تیرے ساتھ تو میں قید ہونے بلکہ مرنے کو بھی تیار ہوں۔‘‘ لیکن یسوع جانتا تھا کہ وہ ایسا اس غیر تبدیل شدہ حالت میں نہیں کر سکتا تھا۔ یسوع نے اُس سے کہا، ’’اے پطرس، میں تجھ سے کہتا ہوں کہ آج مرغ کے بانگ دینے سے پہلے تو تین بار میرا انکار کرے گا کہ تو مجھے جانتا تک نہیں۔‘‘ اس میں سبق یہ ہے: آپ شیطان کے خلاف اُس وقت تک کھڑے ہونے کے قابل نہیں ہیں جب تک نیا جنم نہیں لیتے اور توبہ [مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہو جاتے] نہیں کر لیتے!

پھر یسوع بالاخانے سے شاگردوں کو باہر گتسمنی کے باغ کی تاریکی میں لے آیا جہاں، ’’پھر وہ سخت درد و کرب میں مبتلا ہو کر اور بھی دِلسوزی سے دعا کرنے لگا: اور اُس کا پسینہ خُون کی بوندوں کی مانند زمین پر ٹپکنے لگا‘‘ (لوقا 22:44). جب یسوع اس تنہائی والی دعا کو کر کے واپس آیا، تو اُس نے شاگردوں کو سوتے ہوئے پایا۔ جب وہ اُن سے باتیں کر رہا تھا، تو ہیکل کے سپاہی، دھوکے باز یہوداہ کی رہنمائی میں باغ میں گھُسے چلے آئے اور یسوع کو گرفتار کر لیا۔ وہ یسوع کو گھسیٹتے ہوئے سردار کاہن کے گھر لے گئے، ’’اور پطرس بہت دور تک پیچھے گیا‘‘ (لوقا 22:54). سردار کاہن کی رہائش گاہ کے باہر آگ جلائی گئی تھی۔ پطرس لوگوں کے ایک گروہ کے ساتھ آگ کے پاس بیٹھ گیا تھا۔ تب ایک نوجوان لڑکی نے کہا، ’’یہ شخص بھی [یسوع] کے ساتھ تھا‘‘ (لوقا 22:56). پطرس نے یہ کہتے ہوئے یسوع کا انکار کیا، ’’اے عورت، میں اُسے نہیں جانتا‘‘ (لوقا22:57). کُچھ دیر بعد ایک اور شخص نے پطرس کو دیکھا اور کہا، ’’تُو بھی اُنھی میں سے ایک ہے‘‘ – تو یسوع کے شاگردوں میں سے ایک ہے – ’’اور پطرس نے کہا، اے شخص، میں نہیں ہوں‘‘ (لوقا 22:58). تقریباً ایک گھنٹے بعد ایک اور شخص نے کہا، ’’یہ آدمی بلاشبہ اُس کے ساتھ تھا کیونکہ یہ بھی گلیلی ہے‘‘ (لوقا 22:59). اور پطرس نے کہا، ’’اے شخص، میں نہیں جانتا کہ تو کیا کہہ رہا ہے‘‘ (لوقا 22:60). ’’اِس پر [پطرس] خود پر لعنت کرنے لگا اور قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ میں اِس آدمی سے واقف نہیں ہوں‘‘ (متی 26:74).

’’اور ابھی وہ کہہ ہی رہا تھا کہ مُرغ نے بانگ دی۔ اور خداوند نے مُڑ کر پطرس کی طرف دیکھا اور پطرس کو خداوند کی وہ بات یاد آئی جو اُس نے پطرس سے کہی تھی کہ آج مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے تُو تین بار میرا اِنکار کرے گا۔ اور پطرس باہر جا کر زار زار رویا‘‘ (لوقا 22:60۔62).

یہاں ہماری تلاوت ہے، ’’اور پطرس باہر جا کر زار زار رویا۔‘‘ اس سے دو سبق حاصل کیے جا سکتے ہیں – پہلا، اُس کی سزایابی کا سبب اور، دوسرا، اس کے لیے علاج۔

I۔ پہلا، پطرس کی سزایابی کا سبب۔

یہاں پر ہم پطرس کو گناہ کی سزایابی کے تحت دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر اے۔ ٹی رابرٹسن Dr. A. T. Robertson نے کہا، ’’وہ زار زار رویا۔ تمام زبانوں اور تمام دلوں میں ’ناقابلِ برداشتBitter‘ آنسوؤوں کے لیے ایک عام تاثر ہے‘‘ (اے۔ ٹی۔ رابرٹسن A. T. Robertson، علم الہٰیات میں ڈاکٹریٹ Litt.D.، نئے عہدنامے میں کلام کی عکاسیWord Pictures in the New Testament، بروڈمین پریس Broadman Press، 1930، جلد دوئم، صفحہ 276؛ لوقا 22:62 پر غور طلب بات).

ڈاکٹر آر۔ سی۔ ایچ۔ لینسکی Dr. R. C. H. Lenski نے کہا، ’’متی اور لوقا [پطرس] کی توبہ کو دو الفاظ [eklause pikrōs] کے ساتھ بیان کرتے ہیں، وہ فعل بُلند، قابلِ سماعت رونے کا اظہار کرتا ہے: ’وہ ناقابلِ برداشت طور پر سسکیاں لے لے کر رویا۔‘ فعل متعلق جسمانی طور پر سسکیاں لینے کی جانب نشاندہی نہیں کرتا ہے بلکہ اُس شرمساری کی شدت کو ظاہر کرتا ہے جو اِس کی وجہ سے ہوئی ہے۔ شرمساری میں وہ احساس شامل ہے کہ ہم گناہ کر چُکے ہیں اور ہمارے گناہ کے لیے اُس رنج کا خالص نتیجہ‘‘ ( آر۔ سی۔ ایچ۔ لینسکی، پی ایچ۔ ڈی۔ R. C. H. Lenski, Ph.D.، لوقا کی انجیل کی تاویل The Interpretation of St. Luke’s Gospel، اُوگسبرگ اشاعت خانےAugsburg Publishing House ، اشاعت 1961، صفحہ 1091؛ لوقا 22:62 پر غور طلب بات).

’’اور پطرس باہر جا کر زار زار رویا‘‘ (لوقا22:62)۔

وہ خُدائی رنج تھا،

’’کیونکہ وہ رنج جو خُدا کی مرضی کو پورا کرتا ہے انسان کو توبہ کرنے پر اُبھارتا ہے جس کا نتیجہ نجات ہے‘‘ (2 کرنتھیوں7:10)۔

یہ سزایابی تھی جو پطرس کو خُدا کے روح کی جانب سے پطرس پر بھیجی گئی تھی،

’’اور جب وہ آ جائے گا، تو جہاں تک گناہ، کا تعلق ہے وہ دُنیا کو مجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا16:8)۔

عمومی طور پر گناہ کی سزایابی پر بات کرتے ہوئے آئعین ایچ۔ میورے Iain H. Murray نے کہا،

پاک روح گناہ کی سزایابی کے لیے آتا ہے۔ یہ قطعی طور پر ضروری ہے کہ انسان کو گناہ کا قائل ہونا چاہیے… [پاک روح] مقصد کے تحت گناہ کے بارے میں قائل کرنے کے لیے آتا ہے، لوگوں کو یہ احساس دلانے کے لیے کہ وہ قصور وار ہیں، شدید طور پر قصور وار ہیں – اِس قدر قصور وار کہ وہ کھو چکے ہیں، تباہ ہو چکے ہیں اور فناپذیر ہو چکے ہیں۔ وہ گناہ کو گناہ ظاہر کرنے کے لیے آتا ہے، اور ہمیں [گناہ کے] خوف سے بھرپور نتائج دکھانے کے لیے آتا ہے۔ وہ زخم دینے کے لیے آتا ہے تاکہ کوئی بھی انسانی مرہم شفا نہ دے سکے؛ قتل کرنے کے لیے تاکہ کوئی بھی زمینی قوت ہمیں زندہ نہ کر سکے… یہاں پر پاک روح کو مرجھا ڈالنے والا عمل ہوتا ہے جس کا ہمیں تجربہ کرنا چاہیے، ورنہ ہم کبھی بھی اُس کی قوت بخش اور بحال کر دینے والی قوت کو جان نہیں پائیں گے۔ یہ مُرجھانا سب سے زیادہ ضرورت سے بھرپور تجربہ ہوتا ہے، اور بالکل ابھی ہی اِس پر زور دینے کی ضرورت بھی ہے۔ آج ہمارے ہاں بے شمار ایسے لوگ تعمیر ہو چکے ہیں جنہیں کبھی بھی نیچا نہیں کیا گیا تھا؛ اِس قدر زیادہ لبریز ہوئے جنہیں کبھی بھی خالی نہیں کیا گیا تھا؛ اِس قدر لوگ معزز ہوئے جنہیں کبھی بھی عاجز نہیں کیا گیا تھا؛ کہ میں آپ کو نہایت ایمانداری کے ساتھ یاد دلاتا ہوں کہ پاک روح کو [آپ کو] گناہ کے بارے میں قائل کرنا چاہیے، ورنہ [آپ] نجات نہیں پا سکتے۔ [سزایابی کا] یہ کام سب سے زیادہ ضروری ہے، کیونکہ اِس کے بغیر کوئی بھی خُدا کے فضل کی خوشخبری کو وصول کرنے کے لیے قیادت کرنے والے لوگ نہیں ہیں… مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کے بارے میں سچائی کی بحالی کے لیے آج اشد ضرورت ہے۔ اِس موضوع پر ایک وسیع پھیلی ہوئی تکرار ہزارہا کم اہم باتوں کو اُڑا دینے کے لیے ہوا کا ایک صحت مندانہ جھونکا ہو گی۔ خُدا کے خوف کا ایک نیاپن بے شمار دُنیاوی سوچوں کا خاتمہ کر دے گا… آئعین ایچ۔ میورے Iain H. Murray، پرانی ایونجیلیکل اِزم The Old Evangelicalism، سچائی پر بھروسہ کے علمدار The Banner of Truth Trust، 2005 ایڈیشن، صفحات 66۔67)۔

میرے واعظ ’’خُدا کے روح کا افسردہ کر دینے والا کام The Withering Work of the Spirit‘‘ کو پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔

’’اور پطرس باہر جا کر زار زار رویا‘‘ (لوقا22:62)۔

ذاتی طور پر، میں یقین کرتا ہوں کہ یہ اُس وقت ہوا تھا جب پطرس گناہ کی سزایابی کی انجیلی بشارت کی پرانی تعلیم کے تحت آیا تھا۔ جی ہاں، میں پطرس کو اِس حد تک پہلے سے جانتا ہوں جب اُس نے یسوع سے کہا تھا، ’’اے خُداوند! میں گنہگار آدمی ہوں، تو میرے پاس سے چلا جا‘‘ (لوقا5:8)۔ لیکن یہ سوچنا کہ آپ ایک گناہ سے بھرپور ہیں ایک بات ہے اور ایک پاک خُدا کی حضوری میں اپنے گناہ کے ہولناک وزن کو محسوس کرنا قطعی طور پر ایک مختلف بات ہے! میں قائل ہو چکا ہوں کہ پطرس مکمل طور پر سزایابی میں نہیں تھا جب تک یہ وقت نہیں آیا۔

’’اور پطرس باہر جا کر زار زار رویا‘‘ (لوقا22:62)۔

ہر کوئی جسمانی طور پر آنسو نہیں بہاتا جب وہ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو چکا ہوتا ہے۔ اِس کے باوجود لوتھر، اور بنعین، اور وائٹ فیلڈ اور ویزلی حیات نو کے ادوار میں بے شمار ہزارہا لوگ جسمانی طور پر زار و قطار آنسوؤں کے ساتھ رو چکے ہیں۔ اور میرے خیال میں آج کل کی انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم میں سب سے زیادہ اہم باتوں میں سے ایک جو نظر نہیں آتی ہے وہ کسی قسم کے آنسوؤں کی قلت ہے، اور ’’وہ رنج جو خُدا کی مرضی کو پورا کرتا ہے اور انسان کو توبہ کرنے پر اُبھارتا ہے جس کا نتیجہ نجات ہے‘‘ اُس کی قلت ہے (2کرنتھیوں7:10)۔

’’اور پطرس باہر جا کر زار زار رویا‘‘ (لوقا22:62)۔

ایک نوجوان آدمی نے کہا، ’’جب بھی میں خُود پر نظر ڈالتا ہوں، تو میں خُود کو ایک گنہگار کی حیثیت سے دیکھتا ہوں۔‘‘ ہائے، ’’دیکھنا‘‘ وہ ایک الگ بات ہے! لیکن کیا آپ اپنی گناہ کی بھرپوری کو محسوس کرتے ہیں؟ کیا یہ آپ کو بوجھ تلے دباتی ہے اور آپ کو مُرجھاتی [افسردہ کرتی] ہے، جیسا کہ آئعین میورے نے کہا؟ کیا آپ گناہ کی سزایابی کے بھاری بوجھ کے تلے دبے ہوئے اور مشقت کر رہے ہیں؟ کیا آپ کم از کم اپنے دِل میں افسردگی کو محسوس کر سکتے ہیں جب آپ اپنے گناہ کے بارے میں سوچتے ہیں؟

’’اور پطرس باہر جا کر زار زار رویا‘‘ (لوقا22:62)۔

پطرس کی سزایابی کا سبب خُدا کا روح تھا۔

II۔ دوسرا، پطرس کی سزایابی کے لیے علاج۔

میرا وقت گزر چکا ہے۔ میں اِس موضوع کو صرف مختصراً چھو سکتا ہوں۔ پطرس سزایابی کی حالت میں تین دِنوں تک رہا تھا۔ وہ جمعہ، ہفتہ اور تقریباً سارے کا سارا اِتوار (رومن حسابی شمار سے) روح کے شدید کرب میں مبتلا رہا تھا۔ اِیسٹر سنڈے کی صبح،

’’پطرس اُٹھا اور قبر کی طرف دوڑا؛ وہاں اُس نے جُھک کر اندر دیکھا تو اُسے صرف کفن پڑا نظر آیا اور وہ اِس ماجرے پر تعجب کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا‘‘ (لوقا24:12)۔

پطرس ابھی تک ’’تعجب‘‘ کر رہا تھا؛ وہ ابھی تک مکمل طور پر سمجھ نہیں پایا تھا یا اُس نے خوشخبری پر یقین نہیں کیا تھا۔

میرا یقین ہے کہ یہ اُس وقت ہوا تھا جب جی اُٹھا مسیح گیارہ شاگرد پر ظاہر ہوا تھا اور کہا تھا، ’’تم پاک روح پاؤ‘‘ (یوحنا20:22)، کہ پطرس نے بالاآخر نئے سرے سے جنم لیا تھا اور مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوا تھا۔ ڈاکٹر میگی نے یوحنا20:22 پر یہ رائے پیش کی،

یہ سچ ہے کہ شمعون پطرس نے کچھ فہم و فراست دکھائی تھی جب اُس نے کہا کہ یسوع ہی المسیح ہے، لیکن یہ اُس کے چند ہی منٹوں بعد تھا کہ اُس نے یسوع سے صلیب پر نہ جانے اور نہ مرنے کے لیے کہا تھا۔ میں ذاتی طور پر یقین رکھتا ہوں کہ جس لمحے ہمارے خُداوند نے اُس پر پھونکا، اور کہا، ’’تم پاک روح پاؤ،‘‘ اِن لوگوں نے احیاء [نیا جنم] پائی تھی۔ اِس سے پہلے، اُن میں خُدا کے روح کا بسیرا نہیں ہوا تھا (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، ibid.، صفحہ 498؛ یوحنا20:22 پر غور طلب بات)۔

ڈاکٹر میگی کی طرح، میں یقین رکھتا ہوں کہ پطرس نے ایسٹر سنڈے کی شام کو نیا جنم لیا تھا جب مسیح اُس پر اور دوسروں پر ظاہر ہوا تھا۔ یہ اُسی وقت ہوا تھا جب یسوع نے خود پطرس کی گناہ کی سزایابی کا علاج کیا تھا۔

کیا آپ اپنے گناہ کے وزن کو محسوس کرتے ہیں؟ کیا آپ گناہ کی سزایابی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں یا اُس نے آپ پر بوجھ ڈالا ہے؟ کیا آپ مسیح کے قیمتی خون کے وسیلے سے اپنے گناہ دھو ڈالنا چاہتے ہیں؟

ڈاکٹر جان آر۔ رائیس Dr. John R. Rice کے خوشخبری کے گیت کا دوسرا بند ’’یسوع، صرف یسوع Jesus, Only Jesus‘‘ پطرس کے وسیلے سے لکھا جا سکا ہو گا!

میری نیکی کی شیخی نے مجھے ناکام کیا، گناہ کے لیے کوئی علاج نہیں جو میری بیماری ہے،
   خُدا کے روح نے پھر مجھے یسوع پر اپنے گناہ چھوڑ دینے کے لیے قائل کر لیا۔
میرے تمام گناہ معاف کیے جا چکے ہیں، گناہ کی زنجیریں کٹ چکی ہیں،
   اور میرا تمام دِل دیا جا چکا ہے، یسوع کو، صرف یسوع کو۔
(’’یسوع، صرف یسوعJesus, Only Jesus‘‘ شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائیس Dr. John R. Rice، 1895۔1980)۔

اگر آپ دُکھ محسوس کریں اور اپنے گناہ سے بھرپور دِل کے ساتھ اور اپنی گناہ سے بھرپور فطرت کے ساتھ کی وجہ سے سزایاب ہوں، تو واحد علاج یسوع ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر رائیس نے کہا، ’’[اپنے] گناہوں کو یسوع پر چھوڑ دو۔‘‘ آمین۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے گیت گایا: ’’یسوع، صرف یسوع Jesus, Only Jesus‘‘
(شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائیس Dr. John R. Rice، 1895۔1980)۔

لُبِ لُباب

پطرس سزا یابی کے تحت

PETER UNDER CONVICTION

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اور پطرس باہر جا کر زار زار رویا‘‘ (لوقا22:62)۔

(لوقا22:12؛ متی26:21؛ یوحنا13:30؛ لوقا9:46؛
متی16:21؛ 17:12؛ 17:22۔23؛ 20:18۔19؛ 20:28؛ 16:21۔23؛
لوقا 22:31۔34، 44، 54، 56، 57، 58، 59، 60؛
متی26:74؛ لوقا22:60۔62)

I.   پہلا، پطرس کی سزایابی کا سبب، 2 کرنتھیوں7:10؛
یوحنا16:8؛ لوقا5:8 .

II.  دوسرا، پطرس کی سزایابی کے لیے علاج، لوقا24:12؛یوحنا20:22 .