Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

میں چاہتا ہوں – تُو پاک صاف ہو جائے!

I WILL – BE THOU CLEAN!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، یکم مارچ، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, March 1, 2015

’’اور ایک کوڑھی یسوع کے پاس آیا اور گھٹنے ٹیک کر اُس سے منت کرنے لگا کہ اگر تو چاہے، تو مجھے کوڑھ سے پاک صاف کر سکتا ہے۔ اور یسوع نے اُس پر ترس کھا کر اپنا ہاتھ بڑھایا، اور کوڑھی کو چھوأ اور کہا، میں چاہتا ہُوں کہ تُو پاک صاف ہوجائے۔ اور اُس دم اُس کا کوڑھ جاتا رہا اور وہ پاک صاف ہوگیا‘‘ (مرقس 1:40۔42).

مجھے مرقس کی انجیل پڑھنی اچھی لگتی ہے۔ اُس کا عبرانی نام یوحنا تھا۔ مرقس اُس کا لاطینی نام تھا، لاطینی میں ’’مارقُس Marcus۔‘‘ یوحنا مرقس پطرس رسول کا روحانی بیٹا تھا۔ پطرس نے اُس کا ’’مارقُس میرا بیٹا‘‘ بُلایا تھا (1 پطرس5:13)۔ ابتدائی کلیسیا کے آباؤ میں سے ایک پاپیاس Papias (70۔163) تھا۔ پاپیاس نے کہا کہ مرقس نے اپنی انجیل پطرس سے حاصل کی تھی۔ پاپیاس نے کہا، ’’مرقس، جو پطرس کا [سیکریٹری] تھا، اُس نے بہت احتیاط کے ساتھ وہ سب کچھ لکھ لیا تھا جو [پطرس] کی یاداشت میں ہوتا تھا۔‘‘ شہید جسٹن Justin Martyr (100۔165) نے بھی کہا کہ مرقس نے اپنی انجیل پطرس کے الفاظ سے مرتب کی تھی۔ ایک اور کلیسیا کے آباؤاِجداد میں سے، یوبیئسEusebius (263۔339) نے کہا کہ ابتدائی مسیحیوں نے ’’مرقس سے اِلتجا کی تھی کہ وہ اُن کے لیے اُن نظریات کو لکھی ہوئی حالت میں چھوڑ کر جائے جو اُنہوں نے [پطرس سے] حاصل کیے تھے۔‘‘

مرقس کی انجیل عمل کرنی والی ایک انجیل ہے کیونکہ پطرس عمل کرنے والا ایک شخص تھا۔ اِس انجیل کو خصوصی طور پر رومیوں کے لیے لکھا گیا تھا جو کہ عمل کرنے والے لوگ مانے جاتے تھے۔ لفظ ’’اور‘‘ مرقس کی انجیل میں 1,331 مرتبہ تحریر ہوا ہے۔ الفاظ ’’یکدمstraightway‘‘ یا ’’فوراًimmediately‘‘ بھی مرقس کی انجیل میں بار بار ظاہر ہوتے ہیں۔ لفظ ’’اور‘‘ ہمیشہ مذید اور آگے کے عمل کے لیے رہنمائی کرتا ہے۔ غور کریں کہ وہ پانچ آیات جو ہماری تلاوت کے لیے رہنمائی کر رہی ہیں سب کی سب ’’اور‘‘ کے ساتھ شروع ہوتی ہیں۔ اور ہماری تلاوت میں تمام کی تمام تین آیات ’’اور‘‘ سے شروع ہوتی ہیں۔

’’اور‘‘ ایک کوڑھی یسوع کے پاس آیا‘‘ (آیت 40)

’’اور‘‘ یسوع نے اُس پر ترس کھا کر‘‘ (آیت 41)۔

’’اور‘‘ اُس دم اُس کا کوڑھ جاتا رہا اور وہ پاک صاف ہو گیا‘‘ (آیت42)۔

رومی لوگ قوت [قدرت] اور کاروائی کرنے پر یقین کرتے تھے۔ مرقس کی انجیل کے صرف 16 باب ہیں اور وہ ہمارے خُداوند یسوع مسیح کی قدرت اور کاروائیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ مسیح اور اُس کے کام پرانے عہد نامے میں سے حوالوں اور طویل پیراگرافوں کے ساتھ بیان نہیں کیے گئے ہیں۔ اِس میں سے زیادہ تر مرقس نے چھوڑ دیا جب وہ ہمیں یسوع کی قدرت اور معجزات کو دکھاتا ہے جو مرقس کے رومی سامعین کے لیے دلچسپی کا باعث تھے۔

غور کریں مرقس کے پہلے باب ہی میں کس قدر زیادہ کاروائیاں بھری پڑی ہیں،

یوحنا بپتسمہ دینے والے کی منادی۔
یسوع کا بپتسمہ۔
یسوع کی بیابان میں آزمائش۔
یسوع کی گلیل میں ابتدائی منادی۔
پطرس اور اندریاس کی بُلاہٹ۔
کفرنحوم میں بدروحوں کا نکالا جانا۔
شمعون پطرس کی ساس کا شفا پانا۔
گلیل میں یسوع کی منادی کا سفر۔
اور ہماری تلاوت میں کوڑھی کا شفا پانا۔

یسوع کو ایک عمل کرنے والے اور قدرت والے شخص کی حیثیت سے دکھایا گیا ہے۔ اور اُس کی قدرت اور عمل آج کی صبح آپ کو بچا سکتا ہے۔

یسوع وہ نام جو ہمارے خوفوں کو لُبھاتا ہے،
جو ہمارے غموں کو ختم ہونے کا حکم دیتا ہے؛
جو گنہگاروں کے کانوں میں موسیقی ہے،
جو زندگی، صحت اور سکون ہے۔
   (’’اوہ ہزار زبانوں کے لیے O For a Thousand Tongues‘‘ شاعر چارلس ویزلی
      Charles Wesley، 1707۔1788)۔

مرقس کے پہلے باب میں سارے کے سارے نو انتہائی اہم واقعات بھرے پڑے ہیں! ڈاکٹر میگی Dr. McGee نے کہا، ’’بائبل میں کسی دوسرے باب کے مقابلے میں مرقس کے پہلے باب میں غالباً بہت زیادہ مواد ہے، پیدائش کے پہلے باب کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے‘‘ (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، جلد چہارم، تھامس نیلسن Thomas Nelson، 1983، صفحہ161)۔

یہ اب ہمیں ہماری تلاوت اور کوڑھ کے مرض میں مبتلا شخص کی شفایابی کی جانب لے آتا ہے،

’’اور ایک کوڑھی یسوع کے پاس آیا اور گھٹنے ٹیک کر اُس سے منت کرنے لگا کہ اگر تو چاہے، تو مجھے کوڑھ سے پاک صاف کر سکتا ہے۔ اور یسوع نے اُس پر ترس کھا کر اپنا ہاتھ بڑھایا، اور کوڑھی کو چھوأ اور کہا، میں چاہتا ہُوں کہ تُو پاک صاف ہوجائے۔ اور اُس دم اُس کا کوڑھ جاتا رہا اور وہ پاک صاف ہوگیا‘‘ (مرقس 1:40۔42).

آیئے اِس حوالے میں سے تین اہم حقائق کو سیکھتے ہیں۔

I۔ پہلی بات، اُس شخص کو کوڑھ تھا۔

احبار کی کتاب کے تیرھویں اور چودھویں باب میں کوڑھ [جُذام] کی ہولناک بیماری بیان کی گئی ہے۔ یہ بے شمار جلدی بیماریوں کو بیان کرتی ہے جن میں دورِحاضرہ کا کوڑھ (یا ھینسن کی بیماری Hansen’s disease) شامل ہے۔ ایک تبصرہ نگار نے کہا کہ اِس شخص کو غالباً سچ مچ میں کوڑھ تھا ورنہ اِس قسم کی سنسنی پیدا نہ ہوئی ہوتی، جیسی کہ پینتالیسویں آیت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اُونگر Unger کی نئی بائبل کی لغت کہتی ہے، ’’اِس میں تھوڑا سا شُبہ ہے کہ نئے عہد نامے میں کوڑھی کی حیثیت سے بیان کیے گئے زیادہ تر لوگوں کو واقعی میں ھینسن کی بیماری تھی‘‘ (اُونگر کی نئی بائبل کی لُغت The New Unger’s Bible Dictionary،موڈی پریس Moody Press، 1988، صفحہ307)۔

اُس شدید قسم کے کوڑھ نے جو اُس شخص کو تھا سفید جلدی دھبے اور اُن حصوں کا سُن ہو جانا پیدا کر دیا تھا۔ اُس کے بدن کے مختلف حصوں میں سوجن رونما ہو گئی تھی۔ اور وہ زخموں میں سے السرذدہ رسنے والا مائع بن گئے تھے۔ جوں جوں بیماری بڑھتی گئی اُس کے ہاتھ اور پاؤں سوجے ہوئے اور بدشکل ہو گئے ہونگے۔ وہ بیماری شاید پہلے سے ہی جسم کے کسی حصے کو سُن کر دینے کے عمل کو جس میں اصل میں اُس کے جسم کے حصے گل سڑ رہے ہوتے ہیں شروع کر چکی ہو گی۔ اُس کے چہرے پر ٹیوبرکلیئوس کے زخم پہلے ہی نظر آنے شروع ہو گئے ہونگے، جو کہ ایک ہولناک قسم کے ناقابل شناخت ماسک کی شکل دیتے ہیں – کچھ طرح سے بالکل اُسی طرح جیسے وکٹوریئین انگلستان میں ’’ایلیفینٹ مین Elephant Man‘‘ تھا جو کہ اِس قدر ہیبت ناک تھا کہ اُس کو اپنے چہرے پر نقاب چڑھانا پڑتا تھا۔

کوڑھی کی زیادہ تر جلد سُرخ اور موٹی ہو چکی تھی۔ یہ سچ مچ کا کوڑھ ہی تھا، جس کو اب ھینسن کی بیماری کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ ہولناک ہوتا ہے! (دیکھیے اُونگر کی نئی بائبل کی لُغت The New Unger’s Bible Dictionary،ibid.)۔

ڈاکٹر والٹر ایل۔ ولسن Dr. Walter L. Wilson نے کہا کہ یہ بیماری گناہ کی تشبیہہ (یا عکاسی) ہے۔ یہ ناقابل علاج اور آلودہ ہوتی ہے۔ بائبل میں کوڑھی کو ’’پاک صاف‘‘ہو جانا چاہیے۔ کیونکہ وہ بیماری چھوت کی ہے اور کوڑھی کو تنہا ہی زندگی بسر کرنی چاہیے۔ اُس کو منہ پر کپڑا رکھنا چاہیے اور ’’ناپاک! ناپاک!‘‘ چِلانا چاہیے۔ اُس کو شہر یا لشکرگاہ سے باہر ہی رکھنا چاہیے۔

یہ سب کچھ ایک غیرنجات یافتہ شخص کے بارے میں سچا ہے۔ وہ ایک گرجہ گھر کا رُکن نہیں ہو سکتا ہے۔ وہ اپنے گناہ کی بیماری کی وجہ سے جنت میں بھی داخل نہیں ہو سکتا ہے۔ (دیکھیے والٹر ایل۔ ولسن ایم۔ڈی۔ Walter L. Wilson, M.D.، بائبل کی اقسام کی ڈکشنری A Dictionary of Bible Types، ھینڈرکسن پبلیشرز Hendrickson Publishers، دوبارہ اشاعت1999، صفحہ257)۔ احبار 13:45، 46 کہتا ہے

،

’’اِس قسم کے متعدی مرض مثلاً کوڑھ میں مبتلا شخص کے لیے لازم ہے کہ وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے اور اُس کے بال بکھرے ہُوئے ہوں اور وہ اپنے چہرے کے نِچلے حِصّہ کوڈھانکے اور چِلاّ چِلاّ کر کہے کہ ناپاک! ناپاک! جب تک وہ ایسے متعدی مرض میں مبتلا رہے گا وہ ناپاک سمجھا جائے گا۔ اِس لیے لازم ہے کہ وہ تنہا رہے اور لشکر گاہ کے باہر زندگی گزارے‘‘ (احبار 13:45،46).

کوڑھ گناہ کے بارے میں بات کرتا ہے بطور (1) خون میں؛ (2) گھناؤنے طریقے سے نمودار ہونا؛ (3) انسانی ذرائع سے ناقابلِ علاج‘‘ (سیکوفیلڈ کا مطالعۂ بائبل The Scofield Study Bible، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 1917، صفحہ141؛ احبار13:1 پر غور طلب بات)۔

کوڑھ انسان کے مکمل اخلاقی زوال کی ایک تشبیہہ یا تصویر ہے۔ اخلاقی زوال ہمارے خون میں آدم سے ہی چلا آ رہا ہے۔ یہ شروع میں کم ہوتا ہے، تھوڑی سی بغاوت کے ساتھ اور آخر میں قابل کراہت اور گھناؤنا ہو جاتا ہے۔

’’اِس لیے کہ جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں 8:7).

اور بائبل کہتی ہے،

’’کوئی سمجھدار نہیں، کوئی خدا کا طالب نہیں۔ سب کے سب گمراہ ہوگئے، وہ کسی کام کے نہیں رہے، کوئی نہیں جو بھلائی کرتا ہو، ایک بھی نہیں‘‘ (رومیوں 3:11۔12).

جان ویزلی John Wesley (1703۔1791) ایک کیلونسٹ نہیں تھا، مگر اُس نے اِس حوالے کے بارے میں کہا کہ غیرنجات یافتہ لوگ ’’بے بس، بیکار، خود کے لیے یا دوسروں کے لیے کمانے کے قابل نہیں ہوتے ہیں… [تمام کے تمام لوگ] [گناہ کی] قدرت اور جرم کے تحت ہوتے ہیں،‘‘ رومیوں3:12، 9 (جان ویزلی، ایم۔ اے۔ John Wesley, M.A.، نئے عہد نامے پر تشریحاتی غور طلب باتیں Explanatory Notes Upon the New Testament، جلد دوئم، بیکر کُتب گھر Baker Book House، دوبارہ اشاعت1983، صفحات 33، 34؛ رومیوں3:12، 9 پر غور طلب باتیں)۔

ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones (1899۔1981) نے کہا، ’’گناہ میں انسان… گناہ کے ذریعے سے حکمرانی کرتا اور قابو میں کیا جاتا ہے‘‘ (مارٹن لائیڈ جونز، ایم۔ ڈی۔ Martyn Lloyd-Jones, M.D.، یقین دھانی، رومیوں5 Assurance, Romans5، دی بینر اور ٹرتھ ٹرسٹ The Banner of Truth Trust، 1971، صفحہ306)۔

ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts اپنے حمد و ثنا کے گیتوں میں سے ایک میں اِسے یوں لکھتے ہیں،

خُداوندا، میں غلیظ ہوں، گناہ میں بطن میں پڑا، اور ناپاک اور آلودہ پیدا ہوا؛
انسان سے دستبردار کر دے جس کا جرم نسل کی بدکاری پر پڑتا اور ہم سب کو داغدار کرتا ہے

غور سے دیکھ، میں تیرے چہرے کے سامنے گِرتا ہوں؛ میری واحد پناہ گاہ تیرا فضل ہے؛
کوئی بیرونی اقسام مجھے پاک نہیں کر سکتیں؛ کوڑھ میرے باطن تک میں پھیلا ہوا ہے۔
      (زبور51 Psalm ، شاعر آئزک واٹز، ڈی۔ڈی۔Isaac Watts, D.D.، 1674۔1748)۔

تاریکی میں گناہ ذہن کو اندھا کر دیتا ہے۔ یہ آپ کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے، ’’یہاں چھوڑ دینے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اگر میں ایک حقیقی مسیحی بن جاتا ہوں تو مجھے بے شمار باتوں کو چھوڑنا پڑتا ہے۔‘‘ یوں، آپ گناہ کی غلامی ہی میں گِھرے رہتے ہیں، تمام زمانوں اور ابدیت تک اُمید کے بغیر بد نصیبی میں۔ یا گناہ آپ کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے، ’’میں ہر اِتوار کو گرجہ گھر میں ہوتا ہوں۔ میں بالکل ٹھیک جا رہا ہوں۔‘‘ یوں آپ گناہ کے کوڑھ میں چلے جاتے ہیں، بالکل بھی کسی اُمید کے بغیر۔ یا گناہ آپ کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے، ’’مجھ میں مَیں بچایا گیا ہوں ثابت کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی مخصوص احساس ہونا چاہیے۔‘‘ مگر بائبل ہمیں کبھی بھی نہیں بتاتی کہ ہم ایک احساس کے وسیلے سے بچائے جاتے ہیں۔ ہم یسوع مسیح پر بھروسہ کرنے کے وسیلےسے بچائے جاتے ہیں۔ یسوع پر بھروسہ کرنے کے بجائے ایک احساس کی تلاش میں، کچھ لوگ تو مہینوں تک اور کچھ سالوں تک یوں ہی زندگی بسر کرتے رہتے ہیں۔ وہ کیا ہے ماسوائے ایک ایسے دِل کے جو گناہ کے کوڑھ سے تباہ ہو چکا ہے! آگسٹُس ٹاپ لیڈی Augustus Toplady نے اپنے حمد و ثنا کے گیتوں میں سے ایک میں کہا،

حیرت زدہ اور پریشان حال،
میں نے اپنی نظریں خود پر ڈالیں؛
گناہ کے بوجھوں کے ساتھ میرا دِل دب چکا تھا،
ہر گناہ کی پشت پر۔

بُرے خیالات کا کیسا ہجوم،
کس قدر وہاں پر غلیظ رغبتیں تھیں!
اندیشے، ڈھٹائی،غلامانہ خوف۔
      (’’وہ دِل The Heart‘‘ شاعر آگسٹس ٹاپ لیڈی Augustus Toplady، 1740۔1778)۔

دوبارہ، ڈاکٹر واٹز نے کہا،

’’کوئی بیرونی اقسام مجھے پاک نہیں کر سکتیں؛ کوڑھ میرے باطن تک میں پھیلا ہوا ہے۔‘‘

ایک نام نہاد کہلانے والی ’’گنہگار کی دعا‘‘ کے الفاظ کہہ دینےسے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ایک نوجوان شخصیت نے ہمیں بتایا، ’’میں نے صرف دعا کہی تھی اِس لیے میں باہر جا سکتا ہوں اور کھیل سکتا ہوں!‘‘ اِس قسم کی بات کسی کو بھی نجات نہیں دے پاتی ہے! دوسرے، عبادت کے بعد خود کو ’’وقف‘‘ کرنے کے لیے’’آگے آتے‘‘ ہیں۔ وہ بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا ہے۔ یہ صرف جھوٹی اور بیکار ’’بیرونی اقسام‘‘ ہیں۔

’’کوئی بیرونی اقسام مجھے پاک نہیں کر سکتیں؛
کوڑھ میرے باطن تک میں پھیلا ہوا ہے۔‘‘

یہ ہی معاملہ ہماری تلاوت میں اِس بیچارے کوڑھی کا تھا۔ اُس شخص کو کوڑھ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اِیسا کچھ بھی نہیں ہے جو وہ کرے یا کہے اور اُس میں وہ پاک صاف ہو جائے گا۔

II۔ دوسری بات، وہ شخص یسوع کے پاس آیا تھا۔

’’ایک کوڑھی یسوع کے پاس آیا اور گھٹنے ٹیک کر اُس سے منت کرنے لگا کہ اگر تو چاہے، تو مجھے کوڑھ سے پاک صاف کر سکتا ہے‘‘ (مرقس 1:40).

اِس بیچارے کوڑھی نے بلاشک و شُبہ یسوع کے بارے میں سُنا تھا۔ جان ویزلی نے کہا اُس نے حتیٰ کہ غالباً یسوع کو منادی کرتے ہوئے بھی سُنا تھا۔ ویزلی نے کہا، ’’غالباً اِس کوڑھی نے سوچا تھا کہ وہ لوگوں میں گھل مل نہیں پائے گا، اور ہمارے خداوند کو فاصلے سے سُنا تھا‘‘ (ibid.)۔ مسٹر ویزلی اُس بارے میں جانتے ہونگے، کیونکہ بے شمار ہزاروں لوگ فاصلے سے اُن کی منادی سُننے کے لیے آئے تھے – اور بچائے گئے تھے! یہاں پر خط کا ایک حصہ ہے جو 1745 میں مسٹر ویزلی کو لکھا گیا تھا،

جب تک میں نے آپ کے بھائی [چارلس] اور آپ کو نہیں سُنا تھا، میں خود کو نہیں جانتا تھا۔ پھر مجھے پتا چلا کہ میں ایک بے اعتقادہ ہوں، کوئی ماسوائے مسیح کے کوئی اور میری مدد نہیں کر سکتا۔ میں اُس کے سامنے گڑگڑایا، اور اُس نے مجھے سُنا اور وہ الفاظ قدرت کے ساتھ میرے دِل میں کہے، ’’سکون سے جا، تیرے گناہ تجھے معاف ہوئے۔‘‘ (جان ویزلی، ایم۔ اے، John Wesley, M.A.، جان ویزلی کے کارنامے The Works of John Wesley، جلد اوّل، بیکر کُتب گھر Baker Book House، دوبارہ اشاعت1979، صفحہ527)۔

اور بالکل یہی تھا جو یسوع نے اُس بیچارے کوڑھی کے لیے کیا تھا۔ اور وہ ایسا ہی آپ کے لیے بھی کرے گا جب آپ خود کو عاجز کریں اور اُس پر بھروسہ کریں جیسا کہ کوڑھی نے کیا تھا۔

III۔ تیسری بات، وہ شخص پاک صاف کر دیا گیا تھا۔

یہاں پر مجھے پینتیکوست اور کرشماتی مشن والے ’’شفا دینے والوں‘‘ کے بارے میں چند ایک الفاظ کہنے چاہیے۔ جب اہم زور جسمانی شفا پر دیا جاتا ہے تو انجیل کی قدرت کو اُلجھایا جاتا ہے اور اکثر مکمل طور پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہمیں ایک شخص کے جسم کی شفایابی پر توجہ مرکوز نہیں کرنی چاہیے۔ یسوع صلیب پر ہمیں گناہ کے کوڑھ سے نجات دینے کے لیے مرا تھا نا کہ ہمیں کان کے درد یا ٹونسلز سے شفا دینے کے لیے! ’’شفا دینے والوں‘‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو ٹوزر Dr. A. W. Tozer (1897۔1963) نے کہا،

یہ شدید شرمناک نمائش کے نتیجے میں ہوا ہے، مسیح پر انحصار کرنے کے بجائے تجربے پر انحصار کرنے کے رُجحان سے اور اکثر لوگوں کے کارناموں کو روح کی کاروائیوں سے الگ نہ کر سکنے کی اہلیت سے (اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر، ڈی۔ڈی۔A. W. Tozer, D.D.، گہری زندگی کے لیے کُلیدیں Keys to the Deeper Life، ژونڈروان پبلیشنگ ہاؤسZondervan Publishing House، n.d.، صفحات41، 42)۔

جی ہاں، میں یقین کرتا ہوں کہ خُدا ہمارے جسموں کو شفا دے سکتا ہے۔ میں مضبوطی سے یقین کرتا ہوں کہ وہ کر سکتا ہے! مگر کیا ہو اگر ہمیں اپنے جسموں کی شفایابی اور ہماری گناہوں سے داغدار روحوں کے درمیان چناؤ کرنا پڑے؟ میرے لیے، چناؤ آسان ہوگا۔ ہمارے جسم جلد ہی مر جائیں گے۔ لیکن ہماری روحیں کبھی نا ختم ہونے والی ابدیت تک زندہ رہیں گی۔ یہ دیکھنا آسان ہے کہ کونسا والا زیادہ اہم ہے!

شفایاب کوڑھی کی اِس چھوٹی سی کہانی میں ہم ناصرف جسمانی بلکہ روحانی شفایابی کو بھی دیکھتے ہیں۔ ہم یقینی طور پر مسیح کی تعلیمات کو دوسرے لفظوں میں یوں بیان کر سکتے ہیں،

’’آدمی اگر ساری دنیا حاصل کرلے مگر اپنی جان [بشمول جسمانی شفایابی] کھو بیٹھے تو اُسے کیا فائدہ ہوگا؟" (مرقس 8:36).

جی نہیں، یہ شخص جانتا تھا کہ اُس کا کوڑھ کسی گہری بات کا نشان تھا۔ اُس نے یسوع سے اُس کو شفایاب کرنے کے لیے نہیں کہا تھا۔ اُس نے کہا تھا، ’’خُداوند اگر تو چاہے، تو مجھے کوڑھ سے پاک صاف کر سکتا ہے۔‘‘ اُس نے تنہا ’’اُس گوشت کو جو مر رہا تھا نہیں ڈھونڈا تھا۔‘‘ ’’کوڑھ باطن کی گہرائی میں پنہاں ہوتا ہے۔‘‘ اور یہی وجہ تھی کہ یسوع نے اِس قدر جلدی سے اور شاندارنہ طور پر اُس کو بچا لیا تھا۔

’’اگر تو چاہے تو مجھے کوڑھ سے پاک صاف کر سکتا ہے‘‘ (مرقس 1:40).

’’اور یسوع نے اُس پر ترس کھا کر اپنا ہاتھ بڑھایا، کوڑھی کو چھوأ اور کہا، میں چاہتا ہُوں کہ تُو پاک صاف ہوجائے‘‘ (مرقس 1:41).

اور فوراً، ’’وہ پاک صاف ہو گیا‘‘ (مرقس1:42)۔

وہ انجیل کی قدرت کو ظاہر کرتا ہے۔ یسوع نے آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے صلیب پر اپنا خون بہایا۔ یسوع آپ کو ایک نئی زندگی دینے کے لیے مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا۔ جب آپ یسوع کے پاس سادہ ایمان کے ساتھ آتے ہیں، اِس آدمی کی طرح، تو یسوع آپ کو ’’فوراً‘‘ یکدم بچا لے گا! میرے لیے، وہ بائبل کا سب سے بڑا پیغام ہے! ’’اگر تو چاہے، تو مجھے پاک صاف کر سکتا ہے۔‘‘ ’’میں چاہتا ہوں؛ تو پاک صاف ہو جائے‘‘ – اور وہ پاک صاف ہو گیا! وہ ایک خوشخبری ہے! وہ نجات کی ایک خوشخبری ہے! وہ ہی آپ کی واحد اُمید ہے! ’’یسوع، اگر تو چاہے، تو مجھے پاک صاف کر سکتا ہے۔‘‘ ’’میں چاہتا ہوں؛ تو پاک صاف ہو جائے۔‘‘ یسوع کے پاس آئیں۔ اُس پر بھروسہ کریں۔ یسوع پر بھروسہ کرنا آسان ہے۔ وہ آپ کو ایک ہی لمحے میں پاک صاف کر دے گا! – بالکل جیسے اُس نے اِس آدمی کے ساتھ کیا تھا! یہاں مذید اور انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے! یسوع پر بھروسہ کریں اور پاک صاف ہو جائیں! اے باپ، میں دعا مانگتا ہوں کہ آج کی صبح کوئی نہ کوئی یسوع پر بھروسہ کرے گا اور اُس کے خون کے وسیلے سے پاک صاف کیا جائے گا! آمین۔

اور میں جانتا ہوں، جی ہاں، میں جانتا ہوں،
   یسوع کا خون غلیظ ترین گنہگار کو بھی پاک صاف کر سکتا ہے،
اور میں جانتا ہوں، جی ہاں، میں جانتا ہوں،
   یسوع کا خون غلیظ ترین گنہگار کو بھی پاک صاف کر سکتا ہے۔
(’’جی ہاں، میں جانتا ہوں!Yes, I Know! ‘‘ شاعر آنہ ڈبلیو۔ واٹرمینAnna W. Waterman ، 1920)۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: 2مرقس1:40۔42.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
نے گایا تھا: ’’جی ہاں، میں جانتا ہوں!Yes, I Know! ‘‘ (شاعر آنہ ڈبلیو۔ واٹرمین Anna W. Waterman ، 1920)۔

لُبِ لُباب

میں چاہتا ہوں – تُو پاک صاف ہو جائے!

I WILL – BE THOU CLEAN!

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اور ایک کوڑھی یسوع کے پاس آیا اور گھٹنے ٹیک کر اُس سے منت کرنے لگا کہ اگر تو چاہے، تو مجھے کوڑھ سے پاک صاف کر سکتا ہے۔ اور یسوع نے اُس پر ترس کھا کر اپنا ہاتھ بڑھایا، اور کوڑھی کو چھوأ اور کہا، میں چاہتا ہُوں کہ تُو پاک صاف ہوجائے۔ اور اُس دم اُس کا کوڑھ جاتا رہا اور وہ پاک صاف ہوگیا‘‘ (مرقس 1:40۔42).

(1پطرس5:13)

I.   پہلی بات، اُس شخص کو کوڑھ تھا، احبار13:45، 46؛ رومیوں8:7؛ 3:11۔12 .

II.  دوسری بات، وہ شخص یسوع کے پاس آیا تھا، مرقس1:40 .

III. تیسری بات، وہ شخص پاک صاف کیا گیا تھا، مرقس8:36؛ 1:40، 41، 42 .