Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


دُعا میں شیطان کا مقابلہ کرنا

(حیاتِ نو پر واعظ نمبر16)
FIGHTING THE DEVIL IN PRAYER
(SERMON #16 ON REVIVAL)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 22 فروری، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, February 22, 2015

آج کی رات میں اب ’’دعا میں شیطان سے مقابلہ کرنا‘‘ پر بات کرنے جا رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ دانی ایل کے دسویں باب کو اپنی بائبل میں سے کھولیں۔ یہ سیکوفیلڈ مطالعۂ بائبل میں صفحہ 916 پر ہے۔ سُنیں جب میں دانی ایل 10:12۔ 13 اور 20 آیت کو پڑھوں گا۔ اُن آیات میں بے شمار مواد ہے۔ میرے دیرینہ پادری صاحب ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin، نے اکثر اِس حوالے پر تعلیم دی۔ وہ پرانے عہد نامے پر ایک ماہر تھے۔ اُنہوں نے باب جونز یونیورسٹی میں اور ٹالبوٹ سیمنری میں عبرانی اور آرمینی زبان میں پرانے عہد نامے کو پڑھایا تھا – اور بعد میں تائیوان میں سیمنری کی صدر بنے تھے۔ ڈاکٹر لِن نے اکثر اِس حوالے کو شیطان اور آسیبوں کے ساتھ ہماری کشمکش کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جب ہم دعا مانگتے ہیں۔ اُن آیات کو سُنیں، 12 اور 13۔

’’تب اُس نے اپنا بیان جاری رکھا۔ اے دانی ایل، ڈر مت کیونکہ پہلے ہی دِن سے جب کہ تُو نے سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لیے دل لگایا اور اپنے خدا کے سامنے اپنے آپ کو خاکسار بنایا، اسی دن تیری باتیں سُن لی گئیں اور میں اُن کے جواب میں آ گیا ہُوں۔ لیکن فارس کی مملکت کے مؤکل نے اکیس دِن تک مجھے روکے رکھا۔ تب میکائیل جو مُقرب فرشتوں میں سے ایک ہے، میری مدد کو آیا کیونکہ مجھے وہاں شاہِ فارس کے پاس روک دیا گیا تھا‘‘ (دانی ایل 10:12، 13).

اب آیت 20 پر نظر ڈالیں۔

’’تب اُس نے کہا۔ کیا تُو جانتا ہے کہ میں تیرے پاس کس لیے آیا ہُوں؟ بہت جلد میں فارس کے مؤکل سے لڑنے کے لیے واپس لَوٹوں گا اور جب میں چلا جاؤں گا تو یونان کا مؤکل آئے گا‘‘ (دانی ایل 10:20).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

سادہ ترین اور واضح ترین وضاحت جو میں نے پڑھی ہے بلی گراھم Billy Graham کی جانب سے اُن کی انتہائی مشہور و معرف فرشتے: خُدا کا خفیہ کارندے Angels: God’s Secret Agents (ڈبلڈے اور کپنی Doubleday and Company، 1975، صفحات73۔75) نامی کتاب میں ہے۔ یہ بلی گراہم کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ میں بلی گراہم کے ساتھ کچھ معاملات میں متفق نہیں ہوں، لیکن جب اُنہوں نے یہ کتاب لکھی تھی تو وہ دُرست تھے۔ یہ ہے جو اُنہوں نے دانی ایل کے تجربے کے بارے میں کہا:

      پرانے عہد نامے میں دانی ایل نے واضح طور پر خُدا کی فرشتانہ فوجوں اور مخالفت کرنے والے تاریکی کے آسیبوں کے درمیان کشمکش کو بیان کیا۔ [دانی ایل] کے پاس فرشتے کے آنے سے پہلے وہ تین ہفتوں تک [روزہ رکھتا رہا اور دعا مانگتا رہا] تھا… جب وہ دریائے دجلہ کے کنارے پر کھڑا تھا تو باریک کتانی لباس میں ملبوس ایک شخص نمودار ہوا….
      تنہا دانی ایل ہی نے اُس رویاء کو دیکھا تھا۔ وہ لوگ جو اُس کے ساتھ تھے اُنہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ اِس کے باوجود اُن پر شدید خوف طاری ہو گیا تھا وہ چُھپنے کے لیے دوڑ پڑے تھے۔ اُس کی شخصیت کا اُس [دانی ایل] پر اِس قدر شدید اثر تھا کہ اُس کی قوت سَلب ہو گئی تھی۔
      دانی گہری نیند میں [چلا گیا] تھا، اِس کے باوجود اُس نے فرشتے کی آواز کو سُنا… فرشتہ دانی ایل کے اُسی لمحہ سے آنا شروع کر چکا تھا جب سے اُس نے دعا مانگنی شروع کی تھی، لیکن [راہ میں] ایک آسیب شہزادہ گھات لگا کر بیٹھا ہوا تھا جس نے اُس کو کشمکش میں مبتلا کر دیا تھا اور تاخیر کروائی تھی۔ [تین ہفتوں کے بعد] فرشتوں کا سردار میکائیل اِس ماتحت فرشتے کی مدد کرنے کے لیے آیا، [دانی ایل کی دعا کا جواب ] دینے کے لیے آزاد کروایا…
      اپنا مشن ختم کر چکنے کے بعد، فرشتے نے دانی ایل کو بتایا کہ وہ بُرائی کی قوتوں کے مقابلے میں اچھائی کی قوتوں کی کبھی نہ ختم ہونے والی جدوجہد کرنے کے لیے آسیب شہزادے کے ساتھ لڑنے کے لیے واپس جا رہا تھا…
      [دانی ایل] خُدا سے اسرائیل کے بیٹوں کے لیے اِلتجا کر چکا تھا۔ اُس کی دعا کا دور، روزے کے ہمراہ، تین ہفتوں تک رہا تھا۔ اُس لمحے اُس نے ’’آئے ہوئے فرشتے‘‘ سے خبر سُنی جو آسمان سے بھیجی گئی تھی کہ اُس کی دعا سُنی جا چکی تھی۔ یہ واقعہ اِس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ تاخیر کا ہونا تردید یا انکار کا ہو جانا نہیں ہوتا اور کہ تمام زندگی میں خُدا کی روکنے والی مرضی شامل ہوتی ہے (بلی گراھم، ڈی۔ ڈی۔Billy Graham, D.D.، فرشتے: خُدا کی خُفیہ کارندےAngels: God’s Secret Agents، ڈبلڈے اور کمپنی Doubleday and Company، 1975، صفحات74، 75)۔

پولوس رسول نے کہا کہ ہم شیطان کی آسیبی قوتوں کے ساتھ ایک جنگ میں ہیں۔ مسٹر پرودھوم Mr. Prudhomme نے عبادت کے آغاز میں یہ حوالہ پڑھا تھا۔

’’آخری بات یہ ہے کہ تم خداوند اور اُس کی قوت سے معمور ہو کر مضبوط بن جاؤ۔ خدا کے دئیے ہُوئے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو جاؤ تاکہ تُم اِبلیس کے منصوبوں کا مقابلہ کر سکو۔ کیونکہ ہمیں خُون اور گوشت یعنی اِنسان سے نہیں بلکہ تاریکی کی دُنیا کے حاکموں، اِختیار والوں اور شرارت کی رُوحانی فوجوں سے لڑنا ہے جو آسمانی مقاموں میں ہیں‘‘ (افسیوں 6:10۔12).

اور پھر اُس نے کہا،

’’پاک رُوح کی ہدایت سے ہر وقت اور ہر طرح دعا اور منت کرتے رہو اور اِس غرض سے جاگتے رہو اور سب مُقدسوں کے لیے بلاناغہ دعا کرتے رہو‘‘ (افسیوں 6:18).

میں کلام پاک کے اُس حوالے پر ڈاکٹر جے ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee کے کچھ تبصرات آپ کو پیش کروں گا۔ اُنہوں نے کہا،

      وہ دشمن جس سے مسیحی کو لڑنا ہے وہ انسان نہیں ہے۔ وہ دشمن روحانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں روحانی قوت کی ضرورت ہے…
      ہم ایک روحانی جنگ میں ہیں۔ جنگ کے میدان میں شیطان اپنے غلاموں کی صف بندی عُہدوں کے لحاظ سے کر چکا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ہم اُن کے خلاف کُشتی کرتے ہیں۔ یہ بدکاری کی روحانی قوتوں کے ساتھ دوبدو تصادم کرنے کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ اُس ترجمے کا… دراصل یوں پڑھا جانا چاہیے، ’’کیونکہ ہماری کُشتی خون اور گوشت یعنی انسان کے خلاف نہیں، بلکہ حاکموں، اختیار والوں کے خلاف ہے، اِس تاریکی کے دُنیاوی حکمرانوں [اور یہ تمام کے تمام روحانی ہیں]، اور آسمانی مقاموں میں شرارت کی روحانی فوجوں سے لڑنا ہے۔‘‘ یہ ہماری مڈبھیڑ ہے، اور یہ اب بڑھ رہی ہے۔ ہمارے اِردگرد ایک شیطانی دُنیا بسی ہوئی ہے اور موجودہ لمحے میں یہ اپنا تسلط قائم کر رہی ہے… لوگ پھندوں میں پھنس رہے ہیں اور ہر قسم کی آسیبیت میں پھنستے جا رہے ہیں۔ دُنیا میں روحانی قوتیں کام کر رہی ہیں، کلیسیا کے خلاف شیطانی قوتیں کام کر رہی ہیں۔ وہ ایماندار کے خلاف، خُدا کے خلاف، مسیح کے خلاف کام کر رہی ہیں…
      ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ قوتیں منظم ہیں۔ بااختیار حکمران وہ شیطان ہیں جو قوموں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ وہ جنرل کے عہدوں کے برابر ہونگے…

میں یقین کرتا ہوں کہ خود امریکہ ایک شیطانی بادل کے سائے میں ہے۔ وہ ’’آسیب جن کی نظریں ہماری قوم پر جمی ہوئی ہیں ایسے آسیب ہیں جو مادیت پرستی اور روحانی اندھے پن کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔ سارے موسمِ بہار میں ہمارے ہاں تین دِن کا اختتامِ ہفتہ weekend ہوتا ہے۔ لوگ یہاں وہاں دوڑتے ہیں – لاس ویگاس کے لیے، سان فرانسسکو کے لیے، آپ نام لیں! وہ شیطانی قوتوں کے ذریعے سے کھینچتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں – ’’تفریح‘‘ اور ہنگاموں کی تلاش میں۔ اُن کے پاس گرجہ گھر کے لیے کوئی وقت نہیں ہوتا۔ اُن کے پاس دعا مانگنے کے لیے کوئی وقت نہیں ہوتا۔ اُن کے پاس خُدا کے لیے کوئی وقت نہیں ہوتا۔

جب میں ٹیلی ویژن پر چینلز کو بدل کر دیکھتا ہوں تو میں خون دیکھ کر بھونچکا رہ جاتا ہوں، وہ قتل و غارت گری، خون چوسنے والی بلائیں، وہ پاگل پن، نوجوان عورتیں فحاشاؤں کی مانند لباس زیب تن کیے ہوئے، نوجوان مرد منشیات لیتے ہوئے۔ قابلِ تصور ہر جنسی گمراہی۔ میں ایک بوڑھا شخص ہوں۔ میں ایک صدی کی تین چوتھائیوں سے اِس دُنیا میں ہوں۔ یہ کچھ نیا ہے! وہ کالج میں بیئر بنا رہے ہیں! یہ کچھ ایسا ہے جس نے میرے ’’چھکے چُھڑا دیے ہوتے،‘‘ مجھے ماضی میں 1950 کی دہائی میں، میری روح تک کو دہلا دیا ہوتا! امریکہ اب قبضے میں ہے، وائٹ ہاؤس سے لیکر سکول ہاؤس تک، مادیت پرستی، ڈاروِن ازِم، شیطانیت کی آسیبی قوتوں کے ساتھ اور وہ سب کچھ جو اِن کے ساتھ چلتا ہے! آپ ایک نوجوان شخص کو گرجہ گھر میں لاتے ہیں اور اُن کے ’’دوست‘‘ اُنہیں پرے کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں! یہاں تک کہ اُن کے والدین اکثر ایسا کرتے ہیں! یہ نیا ہے۔ میں نے اِس طرح سے کبھی بھی نہیں دیکھا تھا جب میں ایک لڑکا تھا! یہاں تک کہ صدر اُوباما بھی ایک شیطانی بادل کے سائے تلے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ اُن کے سر پر کھڑا ہے۔ وہ تذبذب کا شکار ہیں۔ اُنہیں معلوم ہوتا دکھائی نہیں دیتا کہ کیا کرنا چاہیے۔ یہ اُن کے سر پر کھڑا ہے! نا ہی مبلغین کو معلوم ہے کیا کرنا چاہیے۔ گذشتہ دِنوں میں تین بڑے بڑے مبلغین ’’ریٹائر‘‘ ہو چکے ہیں۔ وہ سب کے سب کافی حد تک نوجوان لوگ ہیں۔ ایک مبلغ نے مجھے بتایا، ’’میں اب مذید اور برداشت نہیں کر سکتا۔ کوئی میری نہیں سُنتا۔‘‘ یہاں تک کہ اگر کوئی گرجہ گھر میں رُکتا بھی ہے، تو اُن کے لیے یسوع پر بھروسہ کرنا تقریباً ناممکن سے دکھائی دیتا ہے۔ اُن کے پاس دُنیاوی روح ہوتی ہے۔ وہ ہیجان کو محسوس کرنا چاہتے ہیں، وہ عام مسیحیت سے پرے کچھ محسوس کرنا چاہتے ہیں۔ وہ محض یسوع پر بھروسہ کرنے کے ذریعے سے تسلی پاتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے – اور مسیحی زندگی کے ساتھ گزارتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔ کچھ بھی اُن کو مطمئن نہیں کرتا۔ یہ ایک معجزہ ہے کہ ہمارے پاس یہ گرجہ گھر ہے! یہ ایک معجزہ ہے کہ یہ واعظ تیس زبانوں میں ہزاروں لوگوں کے پاس انٹرنیٹ پر جاتے ہیں! ڈاکٹر میگی Dr. McGee بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں،

اختیار والے وہ جنسی اعضاء ہیں جو انسانوں پر قبضہ جمانے کے لیے انتظار کرتے ہوئے آسیب ہیں۔ اِس دُنیا کی تاریکی کے حکمران وہ آسیب ہیں جو شیطان کے دُنیاوی کاروبار کو سنبھال چکے ہیں۔ اعلیٰ مقامات پر بُرائی کی روحیں آسمانی مقامات میں وہ آسیب ہیں جو مذھب کو اختیار میں سنبھالے ہوئے ہیں…

کیا آپ نے نام نہاد کہلایا جانے والا ’’مسیحی‘‘ ٹی وی حال ہی میں دیکھا؟ یہ شیطانی ہے – تقریباً یہ سارے کا سارا۔ اِس سے آگے کوئی تبصرہ نہیں۔ کوئی ضرورت بھی نہیں! یہ ایک ’’کچرا‘‘ مذھب ہے۔ ہمارے گرجہ گھر بھی کوئی بہتر نہیں ہیں۔ اِتوار کی شام کی عبادتیں بند ہو چکی ہیں۔ ہر گرجہ گھر میں پچاس سال پہلے شام کو ایک عبادت ہوا کرتی تھی! میں جانتا ہوں! میں وہاں تھا! اب ہر کوئی بہت تھکا ہوا ہوتا ہے۔ بہت تھکا ہوا؟ میرے پردادا صبح 4:00 بجے اُٹھا کرتے تھے اور ہر روز 12 گھنٹوں کے لیے سیسے کی ایک کان میں کام کرنے کے لیے جانے سے پہلے دو گائیوں کا دودھ دھوتے تھے۔ وہ زمین میں سے اُس سوراخ میں سے نکلتے، گھر جاتے، دوبارہ دو گائیوں کا دودھ دھوتے – اور پھر میتھوڈسٹ چھوٹے سے گرجہ گھر میں موسیقی کی رہنمائی کرنے کے لیے اور اپنے پھیپھڑوں کا پورا زور لگا کر گانے کے لیے جاتے تھے! لیکن اب لوگ اِتوار کی شام کو آنے کے لیے ’’بہت تھکے ہوئے‘‘ ہوتے ہیں! میں یقین کرتا ہوں کوئی نہ کوئی شیطان کام پر لگا ہوا ہے – شاید آپ اُس کو ’’تھکاوٹ کا شیطان‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ وہ یقینی طور پر جسمانی طور سے تھکے ہوئے نہیں ہوتے! اِس کو روحانی ہونا چاہیے۔ اِس کو شیطانی ہی ہونا چاہیے!

میں اپنے پردادا جان ہائیمرز کی تصویر کو دیکھ رہا تھا جب میں نے اِس واعظ کو تیار کیا۔ اُس وقت ماضی میں اُن کے ہاں مسلسل حیاتِ نو آیا کرتے تھے۔ آخری مرتبہ کب تھا جب آپ نے خُدا کی جانب سے حیاتِ نو کے نیچے آنے کے بارے میں سُنا تھا؟ کیا آپ نے کبھی کوئی دیکھا ہے؟ پرانے پروٹسٹنٹ اور بپٹسٹ سکولوں نے تقریباً ہر دس سال میں خُدا کو حیاتِ نو نیچے بھیجتے ہوئے دیکھا تھا۔ آپ کے خیال میں بپٹسٹ کہاں سے آئے تھے؟ آپ کے خیال میں پریسبائیٹیرئین اور میتھوڈسٹ کہاں سے آئے تھے؟ فنّی اور اُس کے خوشامدیوں کے انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کو تباہ کرنے اور گرجہ گھروں کو زہریلا کرنے سے پہلے وہ – خُدا کی جانب سے بھیجے ہوئے حیاتِ نو کی آگ میں سے نکلے تھے! اب وہ اِتوار کی صبح ایک گھنٹے کے لیے ملتےہیں، اتنے ہی سرد، مُردہ اور بے جان جتنی کہ ایک سڑتی ہوئی لاش ہوتی ہے! جی ہاں، اُس میں، یہاں پاساڈینا Pasadena میں فُلر تھیالوجیکل سیمنری شامل ہوتی ہے۔ وہ صرف راب بیل Rob Bell جیسے ’’خبطی‘‘ پیدا کر سکتے ہیں، جو چند ایک دِن پہلے اُوپرا کے شو میں گیا اور کہا کہ بائبل غلط ہے، اور جنسی گمراہی کی تائید کی۔ اِس قسم کے مُردہ ذہنوں والے مبلغین کو فُلر اور دوسری سیمنریاں بھیج رہی ہیں! جیسا کہ ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’ اعلیٰ مقامات پر بُرائی کی روحیں آسمانی مقامات میں وہ آسیب ہیں جو مذھب کو اختیار میں سنبھالے ہوئے ہیں‘‘… ہم دشمن کا ٹھکانہ جان چکے ہیں اور اُس کو شناخت کر چکے ہیں۔ وہ دشمن روحانی ہے۔ یہ شیطان ہے جو اپنی آسیبی قوتوں کی سربراہی کر رہا ہے۔ اب ہمیں یہ پہچاننا ہے کہ یہ جنگ ہو کہاں پر رہی ہے۔ میرے خیال میں کلیسیا بہت حد تک روحانی جنگ کی بصیرت کھو چکی ہے‘‘ (جے ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، جلد پنجم، صفحہ280)، افسیوں6:12 پر تبصرے)۔

یہ ہے جس کے ہم خلاف ہیں! اور ہمارے پاس خود میں اِس پر قابو پانے کی قوت نہیں ہے۔ شیطان اور آسیبوں کی تفصیل کے انتہائی آخر میں، رسول نے کہا،

’’پاک رُوح کی ہدایت سے ہر وقت اور ہر طرح دعا اور منت کرتے رہو اور اِس غرض سے جاگتے رہو اور سب مُقدسوں کے لیے بلاناغہ دعا کرتے رہو۔ میرے لیے بھی دعا کرو تاکہ جب کبھی مجھے بولنے کا موقع ملے تو مجھے پیغام سُنانے کی توفیق ہو اور میں خُوشخبری کے بھید کو دلیری سے ظاہر کر سکوں‘‘ (افسیوں 6:18۔19).

ہم خود شیطان کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں! ڈاکٹر میگی نے کہا کہ ہمارا ’’دفاع کا ہتھیار دعا ہے… اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ اور میں اپنے دشمن کو پہچانتے ہیں اور کہ ہمیں [دعا میں] خُدا کو تھامے ہوئے ہیں… پولوس یہاں پر دعا اور مُناجات میں فرق ظاہر کرتا ہے۔ دعا عمومی ہوتی ہے؛ مُناجات مخصوص ہوتی ہے۔ ساری پُراثر دعا روح میں ہونی چاہیے‘‘ (ibid.، صفحہ283؛ افسیوں6:18 پر تبصرہ)۔

ہم آج کی رات یہاں پر ہیں، گرجہ گھر میں، مرکزی لاس اینجلز کے انتہائی دِل میں۔ مبلغین اِس کو ’’گرجہ گھروں کا قبرستان‘‘ کہتے ہیں۔ لیکن ہم یہیں پر ہیں، تقریباً ہم سب کے سب۔ ہمارے سارے کے سارے اراکین! ہم کیوں ابھی تک یہیں پر ہیں؟ ہم یہاں پر اِس لیے ہیں کیونکہ خُدا دعا کا جواب دیتا ہے۔ ہمارے ہر ہفتے میں دو دعائیہ اِجلاس ہوتے ہیں۔ ہم صرف دعا ہی مانگتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم یہیں پر ہیں۔ اِس کے علاوہ کوئی دوسری وجہ نہیں ہے!

آپ میں سے کچھ حیاتِ نو کی دعا مانگنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ اِس پر برقرار رہیں! ہمت مت ہاریں! دانی ایل کو جواب کے ملنے سے پہلے ہفتوں تک دعا مانگنی پڑی تھی۔ خُدا سے توقع مت کریں کہ وہ چند ایک دِنوں ہی میں اپنا پاک روح نازل کر دے گا۔ یسوع نے کہا، ’’ہمت ہارے بغیر دعا میں لگے رہنا چاہیے‘‘ (لوقا18:1)۔ ہمارے ہاں 100 سالوں سے بھی زیادہ عرصے سے مرکزی لاس اینجلز میں حیاتِ نو نہیں آیا۔ صورتحال آج کہیں زیادہ بدتر ہے! اِس کے لیے شدید دعا، مسلسل دعا یہاں تک کہ روزانہ دعا مانگنی پڑے گی – اگر ہم خُدا سے چاہتے ہیں کہ اپنے روح کو حقیقی حیاتِ نو میں اُنڈیلے، مسیح میں حقیقی طور پر تبدیل ہونے والے لوگوں پر نازل کرے، فنّی سے پہلے، حیاتِ نو کے حقیقی پرانے سکول پر اُنڈیلے!

ڈاکٹر جان آر رائس ایک دعا گو شخص تھے۔ اُنہوں نے دعا کے جواب میں بے شمار معجزات کو ہوتے ہوئے دیکھا۔ ڈاکٹر رائس نے کہا، ’’یہ بات کہنا یقینی طور پر بجا ہو گی کہ شاگرد ایک دِل ہو کر دعا میں مشغول رہتے تھے۔ اعمال 1:14 کہتی ہے، ’وہ سب چند عورتیں، یسوع کی ماں مریم، اور اُس کے بھائیوں کے ساتھ ایک دِل ہو کر دعا میں مشغول رہتے تھے‘… جی ہاں، یوں دکھائی دیتا ہے، پچاس دِنوں تک، خُدا کے اُس پہلے عظیم حیاتِ نو پر اپنا پاک روح اُنڈیلنے سے پہلے، شاگرد ایک دِل ہو کر دعا میں مشغول رہتے تھے۔‘‘ ڈاکٹر رائس نے کہا، ’’جب ہم ’’ایک دِل ہو کر دعا مانگنے میں مشغول ہونے‘‘ کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ایک ایسے شخص کے بارے میں سوچیں جو پہلے ہی سے ایک مسیحی ہے جو اپنے بوجھوں کو خُدا کے پاس لے جا رہا ہے اور انتظار کر رہا جب تک اُس کی دعاؤں کا جواب نہیں مل جاتا‘‘ (جان آر۔ رائس، ڈی۔ڈی۔ John R. Rice, D.D.، دعا – مانگنا اور پاناPrayer – Asking and Receiving، سورڈ آف دی لارڈ پبلیشرز Sword of the Lord Publishers، 1970 ایڈیشن، صفحہ199)۔ مسٹر گریفتھ Mr. Griffith نے ’’ایک دِل ہو کر دعا مانگنے میں مشغول ہونے‘‘ کے بارے میں اِس واعظ سے پہلے گایا تھا۔

کیا آپ نے ایک دِل ہو کر دعا کی جب تک جواب نہیں ملا؟
تمہارایمان کا دعویٰ کرنے کے لیے یہاں سچا وعدہ ہے؛
دعا کی جگہ پر یسوع آپ کا انتظار کرتا ہے،
کیا آپ اُس کو وہاں پر ملے تھے، کیا آپ نے ایک دِل ہو کر دعا کی؟
   (’’کیا آپ نے ایک دِل ہو کر دعا کی؟ Have You Prayed It Through? ‘‘
      شاعر ڈبلیو۔ سی۔ پولی W. C. Poole،1915 )۔

چین کی ایک ابتدائی مشنری میری مونسن Marie Monsen کو سُنیں۔ اُس وقت چین میں کوئی حیاتِ نو نہیں تھا۔ مشنریوں کا کام دشوار ہوتا تھا، اور انتہائی کم چینی مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوتے تھے۔ تب مس مونسن نے کہا،

      اِس مسئلے پر روشنی کی پہلی کِرن مجھ پر اُس وقت پڑی جب ہم نے کوریا میں حیاتِ نو کے بارے میں سُنا، جو 1907 میں شروع ہوا تھا۔ یہ ایک بہت بڑی تحریک تھی اور مشنریوں کے درمیان ایک دعائیہ حیاتِ نو کے ذریعے سے شروع ہو چکا تھا۔ اوہ، وہاں جانے کے قابل ہو جاؤں اور کچھ دھکتے ہوئے کوئلے خود اپنے میدانوں کے لیے واپس لے آؤں! مگر سفر طویل اور مہنگا تھا اور میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ جب میں نے پیسوں کے لیے دعا مانگی جواب کی تلاش کی تو ایک پکا وعدہ اُن کے بجائے بھیجا گیا: ’’جو تم اُس سفر کے ذریعے سے چاہتے ہو شاید یہیں پیش کر دیا جائے، دعا کے جواب میں، جہاں پر تم ہو۔‘‘ وہ الفاظ ایک شاندار چیلنج تھے۔ میں نے اپنا پُرخلوض وعدہ پیش کیا: ’’پھر میں دعا مانگتا رہوں گا جب تک مل نہیں جاتا۔‘‘
      حیاتِ نو کے لیے پہلی مرتبہ اِس دعا کو مانگنے کی نیت سے، میں اپنے کمرے کو پار کر کے اپنی دعا والی جگہ پر جانے کے لیے کھڑا ہوا۔ میں نے دو یا تین قدم بھی نہ اُٹھائے ہوں گے کہ میں تھم گیا۔ اُس کے بعد جو ہوا وہ صرف یوں ہی بیان کیا جا سکتا ہے: یہ ایسا ہی تھا جیسے ایک بہت بڑے اژدھے نے میرے بدن کے اردگرد بل کس دیے ہوں اور بل کس کر میری جان لے رہا ہو۔ میں شدید خوفزدہ ہو گیا۔ بالاآخر جب سانس لینے کے لیے ہانپا تو میں ایک لفظ کہنے میں کامیاب ہو پایا، ’’یسوع! یسوع! یسوع! ہر مرتبہ جب میں اُس قیمتی نام کو تکلیف میں ادا کرتا، سانس لینا آسان ہوتا چلا جاتا، اور آخر میں وہ ’’سانپ‘‘ مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔ میں وہاں پر مدہوش کھڑا تھا۔ پہلی خود ساختہ سوچ تھی: تب دعا کا مطلب اِتنا ہی تھا جتنا وہ تھا، اور کہ میرے وعدے کو پورا کیا جائے گا [ایک جان ہو کر دعا میں مشغول رہنے کے لیے] کا مطلب اِتنا ہی ہوتا ہے جتنا وہ ہے۔‘‘
      اُس تجربے نے مجھے تقریباً بیس سالوں میں سے گزرنے کے لیے جو کہ حیاتِ نو کے پہلے چھوٹے سے آغاز کو گزارنے کے لیے نظر آ رہے تھے بہادری سے مقابلہ کرنے میں مدد دی (میری مونسن Marie Monsen، وہ بیداری: چین میں حیات نو 1927۔1937 The Awakening: Revival in China، Strategic Press، n.d.، صفحہ7، 8)۔

آج، تقریباً سو سال بعد، اُس چھوٹی سی ناروے کی مشنری کی دعائیں 150 ملین چینی مسیحیوں میں کِھل چکی ہیں – تاریخ کے سب سے بڑے حیاتِ نو میں۔

اپریل کے مہینے میں، UCLA کے قریب، ویسٹ ووڈ Westwood میں میرے چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں اِس گرجہ گھر کے آغاز سے اب تک چالیس سال ہو جائیں گے۔ پہلے دعائیہ اِجلاس سے ہم نے حیاتِ نو کے لیے دعائیں مانگی ہیں۔ بے شمار مرتبہ اُس ’’سانپ‘‘ نے ہمارا دَم گھوٹا جب تک کہ ہم تقریباً ہمت ہارنے کے قریب نہ پہنچ گئے۔ میں آپ کو اُن ہولناک موڑوں اور بَلوں، اُن خوفناکیوں، سردردوں، اُن تکالیف کے بارے میں بتانے کے لیے جن میں سے ہم گزر چکے ہیں، وقت نہیں لے سکتا۔ لیکن میں آج کی رات یقین کرتا ہوں 1975 میں اُس صبح کے مقابلے میں جب مسٹر جان کُک Mr. John Cook اور میں پہلی مرتبہ اکٹھے ہوئے اور خُدا کے روح کے نزول کے لیے دعا مانگنے کا آغاز کیا حیاتِ نو کے چالیس سال اور قریب ہیں۔ جب میں اِس واعظ کا اختتام کروں تو میرے پاس آپ سے کہنے کے لیے صرف ایک لفظ ہو گا – ’’اب مت رُکیے گا!‘‘ جب دوسرے دعا میں رہنمائی کر رہے ہوتے ہیں، اُن کی پیروی کرنے میں کوشش کریں اور کہیں ’’آمین۔‘‘ جب آپ ایسا کرتے ہیں تو اُن کی دعائیں آپ کی بن جاتی ہیں۔ اُس ’’سانپ‘‘ سے خود کو مت رُکوائیں! آمین۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک کی تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme
نے کی تھی: افسیوں6:10۔12 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
      نے گایا تھا: ’’ کیا آپ نے ایک دِل ہو کر دعا کی؟Have You Prayed It Through?‘‘
(شاعر ڈبلیو۔ سی۔ پُول W. C. Poole، 1915)۔