Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


نجات اور تقدیس و تحریم!

SALVATION AND SANCTIFICATION!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، یکم فروری، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, February 1, 2015

’’مجھے اِس بات کا یقین ہے کہ خُدا، جس نے تم لوگوں میں اپنا نیک کام شروع کیا ہے وہ اُسے یسوع مسیح کی واپسی کے دِن تک پورا کر دے گا‘‘ (فلپیوں1:6)۔

یہ آیت میرے لیے ایک خصوصی دلکشی رکھتی ہے۔ یہ میرے پادری صاحب ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin کی ’’زندگی کی آیت‘‘ تھی۔ یہ ڈاکٹر جے ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee کی بھی ’’زندگی کی آیت‘‘ تھی، جن سے میں نے زیادہ تر جو کچھ میں جانتا ہوں، 1960 کی دہائی میں ہر روز اُنہیں ریڈیو پر سُننے کے ذریعے سے سیکھا ہے۔ ڈاکٹر لِن اور ڈاکٹر میگی میرے اصلی اُستاد تھے، چونکہ جو کچھ بھی میں نے لیبرل سیمنری میں سیکھا جب میں وہاں پڑھ رہا تھا اُس کی کوئی بھی قدروقیمت نہیں ہے۔ ڈاکٹر لِن اور ڈاکٹر میگی میرے اُستاد تھے، اور اُن دونوں ہی نے اِس آیت کے بارے میں اپنی زندگیوں کی سب سے زیادہ اہم ترین آیت کی حیثیت سے سوچا تھا – یوں، اُںہوں نے اِس کو اُنکی ’’زندگی کی آیت‘‘ کہا۔

اِن دونوں ہی اشخاص نے مذہبی خادم بننے کے لیے نہایت شدید دشوار وقت گزارا۔ یہ وجوہات میں سے ایک ہے کہ میں اُنہیں سمجھ پاتا ہوں اور اُن سے اِس قدر زیادہ چاہت کرتا ہوں – کیونکہ میں خود بھی حیران رہ جاتا ہوں (حتّٰی کہ آج بھی) کہ میں نے کالج اور سیمنری کو پاس کر لیا، اور بے شمار ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں بھی حاصل کر لیں! ڈاکٹر میگی بھی حیران تھے۔ اور اِس ہی طرح ڈاکٹر لِن بھی۔

اب ڈاکٹر میگی کی شہادت کو ذرا سُنیں۔ جب وہ چودہ برس کی عمر کے تھے تو اُن کے والد صاحب کا انتقال ایک حادثے میں ہو گیا۔ اُسی سال وہ پورے وقت کی ملازمت کے لیے ایک ہارڈ وئیر سٹور میں لگ گئے، صرف چودہ برس کی عمر میں۔ وہ دِن میں آٹھ گھنٹے یا زیادہ کام کیا کرتے۔ اُنہیں صبح 5:00 بجے اُٹھنا پڑتا۔ وہ سکول جانا چاہتے تھے لیکن جا نہیں پاتے تھے۔ بعد میں ایک بوڑھا شخص، جس کا ایک بیٹا تھا جو شرابی تھا، اُن کے لیے باپ جیسی ہستی بن گیا۔ اِس شخص نے اُن کی ایک بہتر ملازمت حاصل کرنے میں مدد کی اور وہ کالج جانے کے قابل ہو گئے۔ اُنہوں نے کہا، ’’ہر سال میں سوچتا یہ میرا آخری سال ہوگا۔‘‘ میری طرح، ڈاکٹر میگی نے خود کو سہارا دینے اور کالج کی ٹیوشن ادا کرنے کے لیے کام کرنے میں ایک انتہائی مشکل وقت گزارا۔ اُنہیں طالب علموں کے لیے اُدھار نہیں ملا کرتا تھا، یا کچھ اور جو ماضی میں اُس وقت طالب علموں کی مدد کرتا، اور اُس وقت بھی نہیں جب میں کالج میں گیا۔ میں نے کالج میں تعلیم خود کو کُل وقتی ملازمت اور رات میں کلاسز پڑھنے کے لیے جانے کے ذریعے سے حاصل کروائی۔ ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’گذشتہ سال جب میں کالج میں تھا تو وہ معاشی بحرانdepression کے دوران تھا… مجھے ملازمت نہیں مل پائی اور کوئی بھی پیسہ نہیں تھا۔‘‘ وہ مذہب خدمت میں جانا چاہتے تھے، اِس لیے اُنہیں سیمنری میں گریجوایٹ سکول کے تین سالوں کی تعلیم مکمل کرنی تھی۔ اُںہوں نے ایک دوست سے کہا، ’’میرے پاس سیمنری میں اگلے سال جانے کے لیے ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے۔‘‘

پھر اُن کے گرجہ گھر کی دو بوڑھی خواتین نے اُنہیں 500 ڈالرز دیے، جو کہ عظیم معاشی بحرانGreat Depression کے دوران پیسوں کی ایک بہت بڑی رقم تھی، جو آج کے حساب سے 25,000 ڈالرز بنتی ہے۔ جب وہ اپنے گرجہ گھر کو چھوڑنے والے تھے اور سیمنری جانے والے تھے، تو اُن کے گرجہ گھر کے کچھ لوگوں نے اُنہیں ایک الوداعی دعوت دی۔ اُس دعوت میں کسی نے اُنہیں یہ آیت پیش کی۔ اُنہوں نے کہا، ’’اُس ہی رات سے لیکر یہ آیت میری زندگی کی آیت بنی رہی ہے‘‘ (جے ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D، بائبل میں سے Thru the Bible، جلد پنجم، تھامس نیلسن پبلیشرز، 1983، صفحہ 292؛ فلپیوں1:6 پر غور طلب بات)۔

’’مجھے اِس بات کا یقین ہے کہ خُدا، جس نے تم لوگوں میں اپنا نیک کام شروع کیا ہے وہ اُسے یسوع مسیح کی واپسی کے دِن تک پورا کر دے گا‘‘ (فلپیوں1:6)۔

جب اُنہوں نے کالج سے گریجوایشن مکمل کر لی تو ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’میں اُن امیر لڑکوں کو اپنے والدین سے گلے ملتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔ میرے گِرد بانہیں ڈالنے کے لیے کوئی بھی وہاں پر نہیں تھا… میں نے سوچا میں تعلیم حاصل کر چکا ہوں۔ میں نے مذہبی خدمت کی بُلاہٹ کو محسوس کیا، مگر سیمنری میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے میرے پاس کوئی بھی ممکن راہ نہیں تھی۔ تاہم، میرے پاس شاندار آسمانی باپ موجود تھا، جس نے فلپیوں1:6 کے ذریعے سے، میرے گِرد اپنی بانہیں ڈالیں اور کہا، ’میں تجھے اِس دور میں سے گزارتا ہوا دیکھوں گا‘… اور میں آج شہادت دینا چاہتا ہوں کہ وہ اب بھی اپنا وعدہ قائم کیے ہوئے ہے۔ [وہ آیت] میرے لیے سکون کا باعث رہی ہے چونکہ مجھے کینسر کے ساتھ بے شمار دورے پڑ چکے ہیں… اُس [خُدا] نے کہا ہے، ’میرے پاس سٹور میں تیرے لیے جو کچھ بھی ہے، میں تجھے جب تک یسوع مسیح کا دِن نہیں آ جاتا تجھے اِس دور میں سے گزرتا ہوا دیکھوں گا!‘ لہٰذا میں اُس خُدا کے ہاتھوں میں ہوں۔ یہ کلام پاک کی ایک عظیم آیت ہے۔ اوہ، میں بے شمار کالی راتوں کے دوران اِس [آیت] سے چمٹا رہا ہوں جب باہر طوفان میری چھوٹی سی کشتی پر تھپیڑے مار رہا تھا۔ میرے خُدایا، اِس طرح کے آسمانی باپ کو ہونا [یہ بات] کس قدر شاندار ہے!‘‘ (ibid.، صفحات292، 293)۔

ڈاکٹر ٹموتھی لِن نے بھی ایسی ہی دشوار گزار زندگی گزاری تھی۔ جب وہ ایک چھوٹے سے بچے تھے تو زیادہ تر اوقات ڈاکٹر لِن کے والد ایک مشنری کی حیثیت سے اُن کے گھر سے دور ہی ہوتے تھے۔ ڈاکٹر لِن کو ایک مشن سکول میں بھیج دیا گیا اور وہ شاذ و نادر ہی گھر جاتے، یہاں تک کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران بھی نہیں۔ وہ جب صرف 24 برس کی عمر کے تھے تو ایک پادری صاحب بن چکے تھے۔ اُںہوں نے ڈیزی نامی ایک لڑکی سے شادی کی، اُن کی بی بئی Beibei نامی ایک بیٹی تھی۔ پھر چاپانیوں نے اُن پر ہوائی جہازوں سے حملہ کر دیا۔ ڈاکٹر لِن نے سکول میں طالب علموں کی ایک کشتی میں رہنمائی کر کے فرار اختیار کی۔ کشتی پر ہوا میں سے حملہ کیا گیا اور اُن کی بیوی اور ننھی بچی مارے گئے۔ کشتی پر سوار ہونے والے ڈاکٹر لِن آخری شخص تھے۔ جب ہوائی جہازوں نے گولیاں برسانا شروع کیں، اُنہوں نے چھلانگ ماری اور ایک پہاڑی پر جا گرے اور اپنی گردن تُڑوا لی۔ وہاں کوئی ڈاکٹر نہیں تھا، لہٰذا اُنہوں نے جب تک ہڈیاں ٹھیک نہیں ہو گئیں اپنی گردن کے گرد کچھ پرانے چیتھڑے لپیٹ لیے۔ اُس کے بعد وہ کبھی بھی اپنے سر کو گھما کر دیکھنے کے قابل نہ رہے۔ جب ڈاکٹر لِن کی والدہ کو ایک خط موصول ہوا جو اُن کی بیوی اور بیٹی کی موت کے بارے میں بتا رہا تھا، تو اُن کے چھوٹے بھائی نے کہا، ’’جب ہماری امّی نے [ڈاکٹر لِن کا خط جو اُن کی بیوی اور بیٹی کی موت کی خبر دے رہا تھا] موصول کیا تو وہ آنسوؤں کے ساتھ زاروقطار روئیں۔ اُس بارے میں سوچتے ہوئے میں ابھی تک اُداس ہو جاتا ہوں۔‘‘

یہ کچھ تفصیلات ہیں جو مجھے اُس وقت تک معلوم نہ تھیں جب تک میں نے وہ نہیں پڑھا جو اُن کے چھوٹے بھائی نے ڈاکٹر لِن کی وفات کے بعد لکھا تھا۔ ڈاکٹر لِن نے ریاست ہائے متحدہ میں علم الہٰیات کا مطالعہ کرنے کی غرض سے 1948 میں چین کو اپنی دوسری بیوی گریسیGracie اور اُن کے بیٹے کے ساتھ چھوڑا۔ جب وہ گھاٹ پر کشتی کو روانہ ہوتے ہوئے کھڑے دیکھ رہے تھے، تو اُن کے بھائی نے کہا، ’’میں تصور نہیں کر سکا کہ ہم اُن کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جُدا ہو رہے تھے… [میں نے 61 برسوں تک اُنہیں نہیں دیکھا]۔ دور حاضرہ کی [کیمونسٹ] سرکار کی وجہ سے اُںہیں [چین سے] دور رہنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ (ڈاکٹر لِن کے بھائی کی مکمل واقعاتی تفصیل پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں)۔

میں اور بھی باتیں بتانا جاری رکھ سکتا ہوں اور آپ کو اُن شدید دشواریوں کے بارے میں بتا سکتا ہوں جن سے ڈاکٹر لِن چین چھوڑنے کے بعد گزرے، مگر میں یہیں پر رُک جاؤں گا اور محض کہوں گا کہ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ فلپیوں1:6 اُن کی ’’زندگی کی آیت‘‘ بن گئی تھی۔ میرے بیٹے لیزلی Leslie نے مجھے یہ بات یاد دلائی کہ ڈاکٹر لِن نے اُس آیت کا حوالہ تقریبا ہر مرتبہ ہمارے گرجہ گھر میں تبلیغ کے دوران دیا۔

’’مجھے اِس بات کا یقین ہے کہ خُدا، جس نے تم لوگوں میں اپنا نیک کام شروع کیا ہے وہ اُسے یسوع مسیح کی واپسی کے دِن تک پورا کر دے گا‘‘ (فلپیوں1:6)۔

حالانکہ غم ہم تک پہنچے اور بُرائیوں نے مخالفت کی،
خُداوند اپنے پیارے بچوں کی ساتھ ساتھ رہنمائی کرتا ہے؛
فضل کے ذریعے سے ہم فتح پا سکتے ہیں، اپنے تمام دشمنوں کو ہرا سکتے ہیں،
خُداوند اپنے پیارے بچوں کی ساتھ ساتھ رہنمائی کرتا ہے۔
کچھ پانیوں میں، کچھ سیلابوں میں سے،
کچھ آگ میں سے، لیکن تمام کی تمام خون میں سے؛
کچھ شدید غموں میں سے، مگر خُدا ایک گیت پیش کرتا ہے،
رات کے موسم میں اور تمام دِن کی طوالت میں۔
   (’’خُداوند اپنے پیارے بچوں کی ساتھ ساتھ رہنمائی کرتا ہےGod Leads His Dear Children Along‘‘ شاعر جارج اے۔ ینگ George A. Young، 1903)۔

ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones نے یہ بات فلپیوں کے نام پولوس کے خط کے بارے میں کہی، ’’یہ سب سے زیادہ شاعرانہ، خوشگوار ترین خط ہے جو رسول نے کبھی بھی لکھا‘‘ (مارٹن لائیڈ جونز، ایم۔ ڈی Martyn Lloyd-Jones, M.D.، مسرت کی زندگی The Life of Joy، ہوڈّر اور سٹواحٹن Hodder and Stoughton، 1989، صفحہ 9)۔ فلپیوں کی یہ چھوٹی سی مسرت سے بھرپور کتاب مسیحیوں کے لیے خوشیوں اور اُمید کے ساتھ بھری پڑی ہے۔ اِس میں خود میری اپنی ’’زندگی کی آیت‘‘ – فلپیوں4:13 بھی شامل ہے،

’’مسیح میں جو مجھے طاقت بخشتا ہے اُس کی مدد سے میں سب کچھ کر سکتا ہوں‘‘ (فلپیوں4:13)۔

وہ لفظ ’’طاقت بخشتاstrengtheneth‘‘ یونانی لفظ ’’ڈیونامِس dunamis‘‘ سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ’’طاقتpower‘‘ ہوتا ہے۔ جب میں نے محسوس کیا میں جاری نہیں رہ پاؤں گا، مسیح نے ہمیشہ مجھے کام کرنے کے لیے وہ طاقت بخشی جو میں خود سے کبھی بھی نہ کر پاتا! مگر میں خود میری اپنی ’’زندگی کی آیت‘‘ کے بارے میں بات نہیں کر رہا ہوں۔ میں تو ڈاکٹر میگی اور ڈاکٹر لِن کی ’’زندگی کی آیت‘‘ پر بات کر رہا ہوں،

’’مجھے اِس بات کا یقین ہے کہ خُدا، جس نے تم لوگوں میں اپنا نیک کام شروع کیا ہے وہ اُسے یسوع مسیح کی واپسی کے دِن تک پورا کر دے گا‘‘ (فلپیوں1:6)۔

وہ ’’نیک کام‘‘ جو خُداوند ہم میں شروع کرچکا ہے ہمارے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کی جانب نشاندہی کرتا ہے۔ بیشک یہ ایک ’’نیک کام‘‘ ہے اور یہ وہ کام ہے جسے ہم خود سے کبھی بھی تکمیل نہ کر پاتے۔ کیوں نہیں؟ کیونکہ ’’ہم گناہوں میں مُردہ تھے‘‘ (افسیوں2:5)۔ ہم اِس قدر مکمل طور سے ’’گناہوں میں مُردہ‘‘ تھے کہ ہمارے پاس ’’کوئی اُمید نہ تھی [اور] دُنیا میں خُدا کے بغیر تھے‘‘ (افسیوں2:12)۔ ہم نے نجات پانے کے لیے تقریباً ہر ممکنہ کوشش کی۔ مگر ہر کوشش ناکام رہی۔ ہم نے نیک بننے کی کوشش کی، مگر ہم کافی نیک نہ بن پائے! ہم نے سیکھنے کی کوشش کی، مگر ہم کافی سیکھ نہ پائے! ہم نے ’’محسوس‘‘ کرنے کی کوشش کی، مگر ہم کافی ’’محسوس‘‘ نہ کر پائے۔ ہم کھو چکے تھے! ہم ’’گناہوں میں مُردہ‘‘ تھے! پھر، جدوجہد اور ناکامی کے بعد، خُداوند نے ’’ہمیں جب کہ ہم اپنے قصوروں کے باعث مُردہ تھے مسیح کے ساتھ زندہ کیا! (افسیوں2:5)۔ وہ ہوتا ہے حقیقی طور سے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونا! وہ ہوتی ہے مُردوں میں سے زندگی! وہ ہوتی ہے فضل کے وسیلے سے نجات! وہ ہوتی ہے ’’خدا کی بخشش: جو تمہارے اعمال کا پھل نہیں ہے کہ کوئی فخر کر سکے‘‘ (افسیوں2:8، 9)۔ یہ ہوتا ہے وہ مطلب جب ہم حمدوثنا کا نیوٹن کا پرانا گیت گاتے ہیں!

حیرت انگیز فضل! کس قدر میٹھی وہ آواز،
   جس نے مجھ جیسے تباہ حال کو بچایا!
میں جو کبھی کھو گیا تھا، لیکن اب مل گیا ہوں،
   اندھا تھا لیکن اب دیکھتا ہوں۔

یہ فضل ہی تھا جس نے میرے دِل کو خوف کرنا سیکھایا،
   اور فضل نے ہی میرے تمام خوف ختم کیے؛
کس قدر قیمتی وہ فضل ظاہر ہوا تھا
   اُس لمحے میں جب میں نے پہلی مرتبہ یقین کیا تھا!

میری بیوی اور میں نے ڈاکٹر لِن کے لیے جب اپنے بسترِ مرگ پر تھے اگلا بند گایا تھا۔ وہ بول نہیں سکتے تھے، مگر جب ہم نے یہ گایا تو وہ مسکرائے تھے!

بے شمار خطرات، مشقت اور شکنجوں میں سے،
   میں پہلے سے ہی گزر چکا ہوں؛
یہ فضل ہی مجھے حفاظت سے اتنی دور تک لایا،
   اور فضل ہی میری گھر تک رہنمائی کرے گا۔
(’’حیرت انگیز فضلAmazing Grace ‘‘ شاعر جان نیوٹن John Newton ، 1725۔1807).

’’مجھے اِس بات کا یقین ہے کہ خُدا، جس نے تم لوگوں میں اپنا نیک کام شروع کیا ہے وہ اُسے یسوع مسیح کی واپسی کے دِن تک پورا کر دے گا‘‘ (فلپیوں1:6)۔

پولوس نے کہا کہ فلّپی میں لوگوں کا مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونا ’’ایک نیک عمل‘‘ تھا۔ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونا ایک گنہگار کے دِل میں خُدا کا ہی عمل ہوتا ہے، جو اُس کو گناہ کی سزایابی کے تحت لاتا ہے، اور پھر مسیح کی جانب اُس کو خون میں پاک صاف ہونے کے لیے کھینچتا ہے! خُداوند کا یہی ’’نیک عمل‘‘ جس نے اِس کو بچایا اِسے ساری زندگی کے لیے محفوظ رکھے گا – چاہے اُس کے ساتھ کچھ بھی ہو جائے!

حالانکہ غم ہم تک پہنچے اور بُرائیوں نے مخالفت کی،
خُداوند اپنے پیارے بچوں کی ساتھ ساتھ رہنمائی کرتا ہے؛
فضل کے ذریعے سے ہم فتح پا سکتے ہیں، اپنے تمام دشمنوں کو ہرا سکتے ہیں،
خُداوند اپنے پیارے بچوں کی ساتھ ساتھ رہنمائی کرتا ہے۔
کچھ پانیوں میں، کچھ سیلابوں میں سے،
کچھ آگ میں سے، لیکن تمام کی تمام خون میں سے؛
کچھ شدید غموں میں سے، مگر خُدا ایک گیت پیش کرتا ہے،
رات کے موسم میں اور تمام دِن کی طوالت میں۔

آپ میں سے وہ لوگ جو کچھ نہ کچھ سیکھنے کے ذریعے سے، کچھ نہ کچھ کرنے کے ذریعے سے، یا کچھ نہ کچھ محسوس کرنے کے ذریعے سے نجات ’’حاصل‘‘ کرنے کے لیے کوششیں کر چکے ہیں – (میں اُمید کرتا ہوں) آپ دیکھنا شروع کر چکے ہیں کہ یہ سیکھنے سے، یا محسوس کرنے سے یا کام کرنے سے ملنے والی نہیں ہے۔ نجات ایک معجزہ ہوتی ہے! پولوس رسول یہ بات جانتا تھا! وہ جانتا تھا کہ اُس کا اپنا مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونا ایک معجزہ تھا۔ اور چونکہ اُس نے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کے معجزے کا تجربہ کیا تھا تو وہ اِس ’’نیک عمل‘‘ کے بارے میں جو خُداوند نے اُس کے دِل اور زندگی میں کیا – اُس کو یسوع کی جانب کھینچنے کی بات کر پایا۔ وہ خود اپنے تجربے کے وسیلے سے جان گیا تھا کہ جس خُداوند نے اُسے مسیح میں ایمان دلا کر تبدیل کیا، اُس وقت تک جب تک اُس دِن جب یسوع ہمیں آسمان میں لینے کے لیے آئے گا نیک عمل کرتے رہنا جاری رکھے گا! وہ اِس کے بارے میں ’’پُراعتماد‘‘ تھا! یہ ہی وہ لفظ ہے جو اُس نے استعمال کیا، ’’اعتمادconfident‘‘ – ’’پیپائی تھوس pepoithōs‘‘ = اِس کے بارے میں قائل کیا، اِس کے بارے میں یقین دلایا!

اوہ کیا میں آپ کو بتانا بھول گیا، پولوس روم میں زیرزمین قید تنہائی میں زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا جب اُس نے یہ پیارا، حوصلہ بڑھانے والا مُراسلہ فلّپی کے مسیحیوں کے لیے لکھا! میں اُس زیرزمین قید خانے میں جا چکا ہوں – بہت بڑے اکھاڑے Colosseum کے قریب، وہ میمرٹائین Mamertine قیدخانہ۔ علیانہ اور میں اُس تاریک، سیلن زدہ سُرنگ میں نیچے گئے تھے! یہ وہیں پر تھا، اُس ناخوشگوار جگہ پر، جہاں پولوس نے فلّپی کے لوگوں کو لکھا جسے ڈاکٹر لائیڈ جونز ’’یہ سب سے زیادہ خوشگوار ترین خط ہے جو رسول نے کبھی بھی لکھا‘‘!!! اور اُس نے فلّپی میں مسیحیوں کو بتایا کہ وہ پُراعتماد تھا، کُلی طور پر پُریقین تھا، کہ خُداوند، جس نے اُنہیں نیا جنم بخشا اور حقیقی تبدیلی بخشی، اِس کو ادا کرے گا (اِسے پورا کرے گا)۔ ڈاکٹر ونسٹ Dr. Vincent کہتے ہیں اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ خُداوند ’’اِسے تکمیل کی جانب لے جائے گا، اور بالاآخر اِسے مکمل کر دے گا‘‘ (ماروِن آر۔ ونسنٹ، پی ایچ۔ ڈی۔ Marvin R. Vincent, Ph.D.، فلیمون اور فلّپیوں کے نام مُراسلوں پر ایک تنقیدی اور بابئل وصاحتی تبصرہ A Critical and Exegetical Commentary on the Epistles to the Philippians and Philemon۔ بین الااقوامی تنقیدی تبصرے International Critical Commentary میں، کلارک Clark، 1955؛ فلپیوں1:6 پر غور طلب بات)۔

میرے خیال میں ڈاکٹر تھامس حیل دُرست تھے جب اُنہوں نے کہا، ’’خُداوند، اپنے فضل کے وسیلے سے، ہر [مسیحی] میں ایک نیک عمل [مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کا عمل] شروع کر چکا ہے… وہ خُدا کے عمل کا آغاز تھا۔ اور آخر میں، بالکل جیسے درخت پر پھل پک جاتا ہے، خُدا اپنی ’نئی تخلیق‘ کو اختتام کی جانب لے آئے گا – کاملیت کی جانب… ہماری زندگیوں میں کب خُداوند کا عمل مکمل ہو گا؟ یہ ’یسوع مسیح کے دِن پر‘ مکمل ہو جائے گا – یعنی کہ، وہ دِن جب یسوع آئے گا… صرف مسیح کے جلال میں دوبارہ واپس آ چکنے کے بعد ہی وہ کام جو خُداوند نے ہماری زندگیوں میں شروع کیا ہے مکمل ہو گا۔ اُس وقت ہمارے جسموں کی مخلصی ہو جائے گی (رومیوں8:23) اور ہم مسیح کی مانند بن جائیں گے‘‘ (نئےعہد نامے کا اِطلاق شُدہ تبصرہ The Applied New Testament Commentary، کنگز وے پبلیکیشنز Kingsway Publications، 1996، صفحہ 792؛ فلپیوں1:6 پر غور طلب بات)۔

دلدل سے پرے، اور مٹی سے پرے،
خُداوند اپنے پیارے بچوں کی ساتھ ساتھ رہنمائی کرتا ہے؛
پرے اوپر جلال میں، ابدیت کے دِن،
خُداوند اپنے پیارے بچوں کی ساتھ ساتھ رہنمائی کرتا ہے
کچھ پانیوں میں، کچھ سیلابوں میں سے،
کچھ آگ میں سے، لیکن تمام کی تمام خون میں سے؛
کچھ شدید غموں میں سے، مگر خُدا ایک گیت پیش کرتا ہے،
رات کے موسم میں اور تمام دِن کی طوالت میں۔

’’مجھے اِس بات کا یقین ہے کہ خُدا، جس نے تم لوگوں میں اپنا نیک کام شروع کیا ہے وہ اُسے یسوع مسیح کی واپسی کے دِن تک پورا کر دے گا‘‘ (فلپیوں1:6)۔

آپ آگے کی جانب بڑھتا ہوا ایک عمل ہیں، اگر آپ نجات پا جاتے ہیں! آپ گناہ کی سزا سے خُداوند کی قوت کے وسیلے سے بچائے گئے تھے۔ آپ فوراً ہی یسوع کے خون کے وسیلے سے دُھل کر پاک صاف کر دیے گئے تھے۔ مگر آپ میں پھر بھی کچھ خیالات تھے جو کہ غلط تھے، اور کچھ عادات تھیں جو کہ غلط تھیں۔ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ وہی خُدا جس نے آپ کو مسیح میں ایمان دلا کر تبدیل کیا آہستہ آہستہ آپ کو زیادہ سے زیادہ یسوع کی مانند کر دے گا۔ جب آپ آسمان میں یسوع کا استقبال کرنے کے لیے، یسوع سے ملنے کے لیے ہوا میں اُٹھا لیے جاتے تو آپ خُدا کے وسیلے سے مکمل کر دیے جائیں گے، جیسا کہ دورِ حاضرہ کا ایک ترجمہ اِس کو تحریر کرتا ہے، ’’میں اِس بارے میں پُریقین ہوں کہ وہ جس نے آپ میں ایک نیک عمل شروع کیا اِس کو یسوع مسیح کے دِن پر اختتام تک لے آئے گا۔‘‘ مجھے ایک مزاحیہ شخص یاد آتا ہے جو ایک دوست تھا۔ اُس نے کہا، ’’مجھے ابھی مت پرکھو! میں آگے کی جانب بڑھتا ہوا ایک کام ہوں!‘‘

مگر یہاں ہی ہے جہاں پر میں بے شمار انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے اِساتذہ سے متفق نہیں ہوں۔ وہ آپ کو بتائیں گے کہ آپ ڈھیڑ ساری آیت بہ آیت بائبل کے مطالعے کے ذریعے سے ایک مسیحی کی حیثیت سے نشو و نما پاتے ہیں۔ میں غیرمتفق ہوں۔ میں بذات خود بائبل کے مطالعے کے خلاف نہیں ہوں۔ بالکل بھی نہیں ہوں! مگر میں کہہ رہا ہوں کہ تنہا بائبل کا مطالعہ ہی آپ کو ایک بالغ مسیحی نہیں بناتا ہے۔ خُدا نے ہمیں سمجھانے اور ہمارے ایمان کو بڑھانے کے لیے بائبل عنایت کی ہے۔ مگر اُس نے ہمیں کامل بنانے اور ہماری مسیحی پختگی رہنمائی کرنے کے لیے مقامی گرجہ گھر بخشا ہے! میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے اپنی ساری زندگی بائبل کا مطالعہ کیا اور پھر بھی ناپختہ و نابالغ ہی رہے، کیونکہ وہ مکمل طور سے ایک مقامی کلیسیا یعنی گرجہ گھر میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ میں دوسروں کو جانتا ہوں جنہوں نے نجات پائی اور اُسی ہی لمحے سے گرجہ گھر میں کام کرنے کے لیے چلے گئے! یہ وہ لوگ ہیں جو شاندار مسیحی بنے! وہ باقی کبھی بھی ٹھوس مسیحی بنتے ہوئے دکھائی نہیں دیے۔

مجھے ایک ’’سنگ میل‘‘ بپٹسٹ کہا جاتا ہے کیونکہ میں اِس قدر شدت کے ساتھ مقامی گرجہ گھر میں جانے اور اِس میں مکمل طور سے شامل ہونے، گُھل مِل جانے کی خالص ضرورت میں یقین کرتا ہوں۔ تقریباً ہر واعظ کے اختتام پر میں اُن کو جو انٹرنیٹ پر ویڈیوز دیکھتے ہیں ایک اچھا مقامی گرجہ گھر ڈھونڈنے کے لیے کہتا ہوں، ترجیحاً ایسا جس میں دونوں اِتوار کی صبح اور اِتوار کی شام کی عبادتیں ہوتی ہوں۔ میں اُنہیں ’’ہر مرتبہ جب دروازہ کُھلتا ہے، اور پادری صاحب کو جاننے کے لیے‘‘ گرجہ گھر میں موجود ہونے کے لیے کہتا ہوں۔

بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ کلیسیاؤں کے رہنما عطا کیے جاتے ہیں ’’تاکہ مقدس لوگ خدمت کرنے کے لیے مکمل طور پر تربیت پائیں اور مسیح کے بدن کی ترقی [تعمیر ہونے] کا باعث ہوں: یہاں تک کہ ہم سب کے سب خُدا کے بیٹے کو پورے طور پر جاننے اور اُس میں ایمان رکھنے میں ایک ہو جائیں اور کامل اِنسان بن کر مسیح کے قد کے اندازے تک پہنچ جائیں‘‘ (افسیوں4:12، 13)۔ میں اصلاح مطالعہ بائبل The Reformation Study Bible میں غور طلب اِس بات سے متفق ہوں،

نیا عہد نامہ فرض کرتا ہے کہ تمام مسیحی مقامی مذہبی جماعت کی زندگی میں اشتراکیت کریں گے، بدن میں عبادت کرتے ہوئے، اِس کے نظم و ضبط اور پالنے پوسنے کو قبول کرتے ہوئے، اور اِس کی مذہبی خدمات اور گواہی میں شریک ہوں گے۔ وہ مسیحی جو دوسرے ایمانداروں کے ساتھ شامل ہونے سے انکار کرتے ہیں وہ خُدا کی نافرمانی کرتے ہیں اور روحانی طور پر خود کو کنگال کر لیتے ہیں (عبرانیوں10:25) – صفحہ 1709 پر غور طلب بات۔

ہمارے تمام کے تمام لوگ دعائیہ مجلسوں میں حاضر ہوتے ہیں۔ ہمارے تمام کے تمام لوگ گمراہ لوگوں کو انجیلی بشارت کا پرچار کرنے کے لیے اور اُنہیں گرجہ گھر میں لانے کے لیے باہر جاتے ہیں۔ یہ مقامی گرجہ گھر کی اِنہی مذہبی خدمات میں شریک ہونے کے ذریعے سے ہوتا ہے کہ لوگ مسیح میں بالغ بنتے ہیں۔

دلدل سے پرے، اور مٹی سے پرے،
خُداوند اپنے پیارے بچوں کی ساتھ ساتھ رہنمائی کرتا ہے؛
پرے اوپر جلال میں، ابدیت کے دِن،
خُداوند اپنے پیارے بچوں کی ساتھ ساتھ رہنمائی کرتا ہے
کچھ پانیوں میں، کچھ سیلابوں میں سے،
کچھ آگ میں سے، لیکن تمام کی تمام خون میں سے؛
کچھ شدید غموں میں سے، مگر خُدا ایک گیت پیش کرتا ہے،
رات کے موسم میں اور تمام دِن کی طوالت میں۔

اب میں اُن کو جنہوں نے ابھی تک نجات نہیں پائی ہے چند ایک الفاظ کہتے ہوئے اختتام کروں گا۔

’’مجھے اِس بات کا یقین ہے کہ خُدا، جس نے تم لوگوں میں اپنا نیک کام شروع کیا ہے وہ اُسے یسوع مسیح کی واپسی کے دِن تک پورا کر دے گا‘‘ (فلپیوں1:6)۔

وہ ’’نیک عمل‘‘ جو مسیحی زندگی کو شروع کرتا ہے اُس وقت ہوتا ہے جب خُدا آپ کو دکھاتا ہے کہ آپ گنہگار ہیں، اور پھر یسوع کی جانب اُس کے خون میں پاک صاف ہونے کے لیے کھینچتا ہے۔

مگر کچھ مسیح پر بھروسہ کرنے سے یہ سوچتے ہوئے ٹھہر جاتے ہیں کہ خُدا اُن سے شروع سے ہی کامل ہونے کے لیے کہہ رہا ہے – بجائے یہ احساس کرنے کے کہ کاملیت (بلوغت یا پُختگی) زندگی بھر کی تقدیس و تحریم کے عمل کے ذریعے سے آتی ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ اُن کی بالکل انتہائی شروع ہی میں تقدیس و تحریم ہو جانی چاہیے۔ اِس لیے وہ بار بار جب ہم اُنہیں یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے کہتے ہیں تو ڈگمگاتے ہیں۔ کاش میں آپ کو اِس قدر شدت کے ساتھ جس قدر ممکن ہے کہہ پاتا – خُداوند آپ کو یسوع میں ایک سادہ سے بھروسے کے لیے بُلا رہا ہے۔ ایک پُختہ مسیحی بننے کا عمل اُس وقت تک واقعی میں شروع نہیں ہوتا جب تک کہ پہلے آپ یسوع کی جانب نہیں مُڑتے اور اُس پر بھروسہ نہیں کرتے۔ یسوع آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر قربان ہوا تھا۔ وہ مُردوں میں سے زندہ ہوا آپ کو زندگی دینے کے لیے۔ ’’کامل‘‘ ہونے کے بارے میں فکر مت کریں۔ شیطان اُس بات کو آپ کو روکنے کے لیے استعمال کرے گا! کامل ہونے کے بارے میں مت سوچیں۔ صرف یسوع کے بارے میں سوچیں۔ اُس کی جانب مُڑیں۔ اُس پر بھروسہ کریں۔ وہ آپ کو اُسی لمحے نجات دلائے گا! اُس یسوع کا آپ کو نجات دلا دینے کے بعد، ’’وہ جس نے آپ میں ایک نیک عمل کا آغاز کیا ہے اِس کو یسوع کی واپسی کے دِن تک پورا کرے گا [اِسے ختم کرے گا، اِس کو اِس کی احساسیت تک لائے گا]‘‘ (فلپیوں1:6)۔ وہ اُس پختگی کے عمل کو اُسی ہی لمحے شروع کرے گا جب آپ یسوع پر بھروسہ کریں گے اور اُس کے خون کے وسیلے سے اپنے گناہ سے پاک صاف ہو جائیں گے! ڈاکٹر چعینDr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: فلپیوں1:1۔6 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجیمن کنکیتھ گریفتھMr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا
’’خُداوند اپنے پیارے بچوں کی ساتھ ساتھ رہنمائی کرتا ہے God Leads His Dear Children Along‘‘
(شاعر جارج اے۔ ینگ George A. Young، 1903)۔