Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

وہ کتابیں اور کتاب

(روز محشر پر ایک واعظ)
THE BOOKS AND THE BOOK
(A Sermon on the Last Judgment)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 25جنوری، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, January 25, 2015

’’اور میں نے چھوٹے بڑے تمام مُردوں کو خُدا کے سامنے کھڑے دیکھا۔ تب کتابیں کھولی گئیں اور ایک کتاب جس کا نام کتابِ حیات ہے، وہ بھی کھولی گئی۔ اور تمام مُردوں کا اِنصاف اُن کے اعمال کے مطابق کیا گیا جو اُن کی کتابوں میں درج تھے۔ اور سمندر نے اُن مُردوں کو جو اُس کے اندر تھے دے دیا اور مَوت اور عالمِ ارواح نے اپنے اندر کے مُردوں کو دے دیا اور ہر ایک کا انصاف اُس کے اعمال کے مطابق کیا گیا۔ پھر موت اور عالمِ ارواح کو آگ کی جھیل میں ڈال دیا گیا۔ یہ آگ کی جھیل دُوسری مَوت ہے‘‘ (مکاشفہ 20:12۔14).

جب میری اور میری بیوی کی شادی ہوئی تو ہم پہلے اسرائیل کے لیے گئے۔ واپسی پر ہم روم میں چند ایک دِنوں کے لیے رُکے۔ دوسری جگہوں کے ساتھ ساتھ ہم ویٹیکن، سینٹ پیٹر کے گرجہ گھر جہاں سے پوپ صدارت کرتے ہیں اور جہاں پر صدیوں سے بے شمار خزانے موجود ہیں۔ میں ہمیشہ سے ہی سِسٹائین کے چھوٹے گرجہ گھرSistine Chapel کی چھت دیکھنا چاہتا تھا۔ وہاں پر مائیکل اینجلو Michelangelo (1475۔1564) نے اپنے ساری دُنیا کے فن پاروں کے عظیم ترین شاہکاروں میں سے ایک بنایا تھا۔ وہ بائبل کے عظیم ترین ادوار، انسان کی تخلیق، انسان کی برگشتگی، ہمارے پہلے ماں باپ کا باغ عدن سے نکالا جانا وغیرہ تمام بائبل میں سے منظر کشی کرتا ہے۔ وہ پلستر پر کیے ہوئے عظیم نقش و نگار چھت کو ڈھانپے ہوئے ہیں۔ ایک اور پوپ نے مائیکل اینجلو کو آخری فیصلے کے پلستر کیے ہوئے نقش و نگار کو سامنے کی دیوار کو ڈھانپنے کے لیے مامور کیا تھا۔ یہ سانس کو روک دینے والا خُداوند کا ایک نظارہ ہے اُن کو سزا دیتے ہوئے جو جہنم کی زیرزمین دُنیا میں مجرم قرار دیے گئے ہیں۔ اُن آدمیوں میں سے ایک جو شعلوں میں ڈوب رہا ہے آپ کو اپنے چہرے پر ہولناکی اور حیرت کی نظر کے ساتھ گھورتا ہے۔ میں اُس رنگ کی ہوئی پستر پر نقش بہت بڑی تصویر کو کھڑا دیکھتا رہا، جو روز محشر کی منظر کشی کر رہی تھی۔ میں نے حیرت سے سوچا کہ کتنی مرتبہ ایک پوپ یا ایک کارڈینل اصل میں وہاں پراُس تصویر کے سامنے گذشتہ سو سالوں میں کھڑے ہوئے ہوں اور روز محشر پر منادی کی ہو۔ میرا نہیں خیال اُن میں سے کسی نے ایسا کیا ہو!

اور ہمارے بپتسمہ دینے والے اور پروٹسٹنٹ گرجہ گھر والے بھی کوئی اتنے بہتر نہیں ہیں۔ درحقیقت ہم بدترین ہیں۔ کم از کم اُن کے پاس لوگوں کو یاد کرانے کے لیے وہ عظیم تصویر تو ہے۔ اگر یہ کوئی بپتسمہ دینے والا گرجہ گھر ہوتا، تو اہم خواتین میں سے ایک جیسی کہ سنڈے سکول کی منتظم ہوتی ہے یا مسیحی سکول کی پرنسپل تو اُنہوں نے سوچا ہوتا کہ یہ تو بچوں کے دیکھنے کے لیے نہایت ناگوار اور خوفزدہ کر دینے والی تصویر ہے۔ کسی دوپہر کو پادری اندر آیا ہوتا اور دیکھا ہوتا کہ اِس خاتون نے کسی کو اندر بُلا کر اِس پر سفید رنگ کی تہہ کا ٹھپہ لگوا دیا ہے! اُس سِسٹین چھوٹے گرجہ گھر Sistine Chapel میں اُس دیوار پر مائیکل اینجلو کی روز محشر کی مصوری 450 سالوں سے زیادہ عرصہ گزار چکی ہے۔ مجھے شک ہے کہ سنڈے سکول کی خواتین نے اُس کو ایک بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں یا ایک انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے گرجہ گھر میں، چار سالوں کے لیے بھی رکھنے کی اجازت دی ہوتی!

کیا آپ سوچتے ہیں کہ میں اپنے بپتسمہ دینے والے اور انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے گرجہ گھروں پر بہت زیادہ سختی دکھا رہا ہوں؟ میں غالباً ابھی کافی سختی نہیں دکھا رہا!!!

آخری مرتبہ کب تھا جب آپ نے ایک بپتسمہ دینے والے پادری کو جہنم پر واعظ دیتے ہوئے سُنا تھا؟ آخری مرتبہ کب تھا جب آپ نے ایک انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے یا کرشماتی مشن کے پادری کو جہنم پر منادی کرتے ہوئے سُنا تھا؟ کوئی تعجب نہیں کہ ہم نے 150 سالوں سے بھی زیادہ عرصے سے ایک قومی سطح پر پھیلے ہوئے حیاتِ نو کا تجربہ نہیں کیا!

ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونزDr. Martyn Lloyd-Jones حیاتِ نو پر ایک عظیم طالب علم اور اتھارٹی تھے۔ اُنہوں نے کہا، ’’… جب تک مسیحی کلیسیا میں مرد اور عورتیں دِل شکستہ اور رسوا نہیں ہو جاتے اور اُس پاک اور راستباز کے سامنے گِر نہیں پڑتے،جی ہاں، ناراض خُدا کے سامنے، مجھے حیاتِ نو کی کوئی اُمید دکھائی نہیں دیتی‘‘ (مارٹن لائیڈ جونز ایم۔ ڈی۔ Martyn Lloyd-Jones, M.D.، حیاتِ نو Revival، کراسوے کُتب Crossway Books، 1987، صفحہ42)۔ یہی وجہ ہے کہ اِس عظیم مبلغ نے کہا، میں اپنی حتیٰ الوسیع کوشش کروں گا کہ آپ کو جہنم کی ہولناکیوں کے نظارے کے ساتھ خبردار کر سکوں۔ دائمی ندامت، ہمیشہ کی بد نصیبی، سدا کے لیے بدقسمتی، ناقابل تبدیل عذاب، اِسی طرح کا ہے اُن تمام کا انبار جو محض خوشخبری کے ساتھ خود کو متفق کروانے اور خوش ہونے سے مطمئن ہوتے ہیں، لیکن وہ جو… باقی سب کچھ کبھی بھی نہیں بُھلاتے اور اِس کو تمام دِل کے ساتھ قبول کرتے ہیں‘‘ (لائیڈ جونزLloyd-Jones، انجیلی بشارت کے پرچار کے واعظ Evangelistic Sermons، دی بینر آف ٹُرتھ ٹرسٹ The Banner of Truth Trust، 1990، صفحہ161)۔

یقینی طور پر کوئی بھی شخص جو تھوڑا سا بھی مسیحی تاریخ کے بارے میں جانتا ہے وہ جان ویزلی John Wesley کے نام کو جانتا ہے! ویزلی (1703۔1791) وہ تھا جس کو ہم ’’ایک ایپیسکوپیلیئن Episcopalian کاہن‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ مگر خُدا نے اُس کو تاریخ میں سب سے بڑے قومی حیاتِ نو میں سے ایک کے رہنما کی حیثیت سے استعمال کیا، جو میتھوڈسٹ کی بیداری تھا۔ سُنیں جو جان ویزلی نے جہنم کے بارے میں کہا،

’’بدکار… جہنم میں ڈالے جائیں گے، یہاں تک کہ وہ تمام لوگ جو خُدا کو بُھلا چکے ہیں۔ اُنہیں خُدا کی حضوری سے اور اُس کے جلال کی قوت سے ہمیشہ کی تباہی کے ساتھ سزا‘‘ دی جائے گی۔ اُنہیں ’گندھک سے جلنے والی آگ کی جھیل میں‘‘جھونک دیا جائے گا، جس کو اصل میں تو ’شیطان اور اُس کے فرشتوں کے لیے تیار کیا گیا؛‘ جہاں وہ اپنی زبانوں کو درد اور شدید کرب سے کُتریں گے، وہ خُدا کو بُرا بھلا کہیں گے اور اوپر کی جانب دیکھیں گے۔ وہاں پر جہنم کے کتے – تکبر، کینہ، انتقام، طیش وغصہ، دھشت، مایوسی – مسلسل اُنہیں نگلتے رہیں گے۔ وہاں، ’اُنہیں کوئی آرام نہیں ملے گا، دِن اور رات، مگر اُن کے عذاب کا دھواں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اُٹھتا رہے گا!‘ کیونکہ ’اُن کا کیڑا مرتا نہیں اور آگ کبھی بُجھتی نہیں۔‘‘‘ (جان ویزلی، ایم۔ اے۔ John Wesley, M.A.، “The Great Assize”، جان ویزلی کے کارنامے The Works of John Wesley، جلد پنجم، بیکر کُتب گھر Baker Book House، اشاعت 1979، صفحہ179)۔

اپنی موت کے وقت اُس کی زیرنگہداشت وہاں پر اسی ہزار لوگ میتھوڈسٹ سوسائٹیوں میں تھے (ibid.، صفحہ45)۔ 1834 تک وہاں پر 619,771 رُکن تھے۔ یہ انجیل کا پرچار کرنے والا عظیم مبشر جہنم پر منادی کرنے کے ساتھ ساتھ جنت میں کسی کے بھی داخل ہونے کی ایک ضرورت کے طور پرحقیقی تبدیلی پر بھی منادی کرنے سے خوفزدہ نہیں تھا۔ آج متحدہ میتھوڈسٹ کلیسیا مٹی میں بوسیدہ ہوتی جا رہی ہے کیونکہ اُنہوں نے کافی عرصہ ہوا ویزلی کے منادی کے طریقے کو چھوڑ دیا! اُنہیں اپنے فرقے کو بچانے کے لیے اُنہی موضوعات پر واپس آنا ہوگا جن کی منادی ویزلی کرتا تھا۔ مگر اپنی سانس مت تھامیں! تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ مُرتد ہمیشہ مُرتد ہی رہتے ہیں!

اب سپرجیئنSpurgeon کو سُنیں۔ 1899 میں یعل Yale یونیورسٹی میں ایک لیکچر میں ڈاکٹر جان براؤن Dr. John Brown نے سپرجیئن کے بارے میں بات کی۔ اُنہوں نے سپرجیئن کی مذھبی خدمات کی ’’وائٹ فیلڈ اور ویزلی کے زمانے سے لیکر انگلستان میں ایک ایسی یقینی کامیابی جس کے مقابلے میں کوئی اور نہیں‘‘ کی حیثیت سے سراھا۔ ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell جو ٹیکساس کے شہر ڈلاس کے پہلے چینی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر کے پادری تھے، دو مرتبہ مغربی بپتسمہ دینے والوں کی کنونشن کے صدر رہ چکے تھے اُنہوں نے کہا، ’’تمام زمانوں کے عظیم ترین مبلغین میں سے ایک سپرجیئن تھے اور اُن کا پیغام تمام نسلوں کے لیے مطابقت رکھتا ہے اور معقول ہے۔‘‘ اب سُنیں عظیم سپرجیئن نے جہنم کے بارے میں کیا منادی کی۔

’’یہ انصاف دونوں روح اور بدن کو آگ کی جھیل میں جھونک دے گا… جہنم ایک ایسی جگہ ہے جو خُدا سے خالی ہے – گناہ کی افزائش کے لیے ایک جگہ، جہاں پر ہر جنون بے لگام، ہر آرزو بے قابو ہوتی ہے – ایک ایسی جگہ جہاں پر خُدا دِن اور رات اُنہیں سزا دیتا ہے جو دِن اور رات گناہ کرتے ہیں – ایک ایسی جگہ جہاں پر کبھی نیند نہیں آتی یا سکون نہیں ملتا یا اُمید نہیں ہوتی – ایک ایسی جگہ جہاں پر پانی کے ہر قطرے کے لیے انکار ہو جاتا ہے چاہے پیاس زبان کو جلا ہی کیوں نہ ڈالے – ایک ایسی جگہ جہاں پر خوشی کبھی بھی سانس نہیں لیتی، جہاں روشنی کبھی طلوع نہیں ہوتی، جہاں پر تسلی دلاسے جیسی کسی بات کے بارے میں کبھی بھی سُنا ہی نہیں گیا تھا – ایک ایسی جگہ جہاں پر انجیلی یعنی خوشخبری کا انکار کیا جاتا ہے، جہاں پر رحم اپنے پروں کو لٹکا لیتا ہے اور مر جاتا ہے… غیظ و غضب اور جلنے کی ایک جگہ – ایک ایسی جگہ جس کے بارے میں پسند کی تصویر کا کوئی تصور ہی نہیں ہوتا۔ خُدا کرے کہ یہ ایک ایسی جگہ ہو جو آپ کبھی بھی نہیں دیکھیں۔ مرنا، گنہگار ہونا اور جہنم سے فرار ناممکن ہو جاتا ہے؛ تم کھو چکے ہو، پھر، دائمی طور پر… سوچیں! سوچیں! یہ تنبیہہ شاید آخری ہو جو آپ کبھی سُنیں‘‘ (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon، ’’پہلا مُردوں میں سے جی اُٹھنا The First Resurrection،‘‘ میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ The Metropolitan Tabernacle Pulpit، جلد ہفتم، پلگرم پبلیکیشنز، دوبارہ اشاعت 1986، صفحہ 352)۔

میں مذید جاری رہ سکتا ہوں اور آپ کو جہنم پر لوتھرLuther، بنعین Bunyan، ایڈورڈز Edwards، وائٹ فیلڈ Whitefield، موڈیMoody، ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice اور گزرے ہوئے زمانے کے بے شمار دوسرے عظیم مبلغین کے حوالے پیش کر سکتا ہوں۔ مگر یہ کافی نہیں ہے۔ مجھے سادگی سے یہ کہنے دیجیے کہ ایک پادری جو کبھی بھی جہنم پر واعظ نہیں دیتا وہ ایک وفادار شخص نہیں ہے جو کلام پاک کے ساتھ سچا نہیں ہے اور ایک ایسا شخص نہیں ہے جسے ہرکسی کو سُننا چاہیے۔ کیوں؟ کیونکہ اُس نے ’’خُداوند کے سارے مقصد‘‘ کی منادی نہیں کی! (اعمال20:27)۔ اُس نے پولوس کی مانند یا پطرس کی مانند یا خود یسوع مسیح کی مانند منادی نہیں کی – جس نے بائبل میں کسی اور کے مقابلے میں درج انصاف اور جہنم پر زیادہ منادی کی۔ ایسے آدمی کو مت سُنیں! اگر آپ اُس پر انصاف اور جہنم کے بارے میں بھروسہ نہیں کر سکتے تو آپ اُس پر کسی اور بات کے بارے میں کیسے بھروسہ کر سکتے ہیں؟

مگر اب تلاوت کی طرف دیکھتے ہیں۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں جب میں اِس کو دوبارہ پڑھوں۔

’’اور میں نے چھوٹے بڑے تمام مُردوں کو خُدا کے سامنے کھڑے دیکھا۔ تب کتابیں کھولی گئیں اور ایک کتاب جس کا نام کتابِ حیات ہے، وہ بھی کھولی گئی۔ اور تمام مُردوں کا اِنصاف اُن کے اعمال کے مطابق کیا گیا جو اُن کی کتابوں میں درج تھے۔ اور سمندر نے اُن مُردوں کو جو اُس کے اندر تھے دے دیا اور مَوت اور عالمِ ارواح نے اپنے اندر کے مُردوں کو دے دیا اور ہر ایک کا انصاف اُس کے اعمال کے مطابق کیا گیا۔ پھر موت اور عالمِ ارواح کو آگ کی جھیل میں ڈال دیا گیا۔ یہ آگ کی جھیل دُوسری مَوت ہے‘‘ (مکاشفہ 20:12۔14).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ مہربانی سے اپنی بائبل اِس صفحہ پر کھلی رہنے دیں۔

اِس کو ’’روز محشر‘‘ کہتے ہیں کیونکہ اِس کے بعد کوئی انصاف نہیں ہوگا۔ یہ ہی آخری ہے۔ مسیح عظیم سفید تخت پر نشین ہوگا۔ اعمال 17:31 اور دوسرے صحائف ظاہر کرتے ہیں کہ مسیح ہی منصف ہوگا۔ مسیح مذید نجات دہندہ نہیں رہے گا۔ نجات کا زمانہ اب ختم ہو جائے گا۔ مسیح مذید گنہگاروں کو نہیں بچائے گا۔ وہ اب کھوئے ہوئے گنہگاروں کا انصاف کرے گا۔ یہ انصاف اِس لیے نہیں ہوگا کہ تعین کیا جائے کون بچایا گیا اور کون کھویا ہوا ہے۔ اِس کا فیصلہ تو اِسی زندگی میں ہو چکا ہے۔ اگر آپ ایک کھوئے ہوئے شخص کی طور پر مر جاتے ہیں تو آپ کا فیصلہ اِس وقت ہوگا۔ آیت 12 صرف غیرنجات یافتہ مُردوں کے بارے میں بات کرتی ہے۔ یہ کہتی ہے،

’’اور میں نے چھوٹے بڑے تمام مُردوں کو خُدا کے سامنے کھڑے دیکھا۔ تب کتابیں کھولی گئیں اور ایک کتاب جس کا نام کتابِ حیات ہے، وہ بھی کھولی گئی۔ تمام مُردوں کا اِنصاف اُن کے اعمال کے مطابق کیا گیا جو اُن کی کتابوں میں درج تھے‘‘ (مکاشفہ 20:12).

ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہاں پر ’’کتابیں‘‘ اور ’’کتاب حیات‘‘ ہوگی۔ ’’کتابیں‘‘ آپ کی زندگی کے دوران آپ کے ’’اعمال‘‘ ہیں۔ ’’چھوٹے بڑے تمام مُردوں کو خُدا کے سامنے کھڑے ہونا ہوگا‘‘ (20:12)۔ امیر اور مشہور وہیں پر ہونگے۔ ’’چھوٹے‘‘ بھی وہیں پر ہونگے۔ کوئی بھی غیرنجات یافتہ انصاف سے بچ نہیں پائے گا۔ غیرنجات یافتہ مُردہ سب کے سب انصاف کے لیے مسیح کے سامنے کھڑے ہونگے۔ وہ جو ڈوب چکے تھے، یا سمندر میں دفن کر دیے گئے تھے وہیں پر جی اُٹھے جسموں کے ساتھ ہونگے۔ وہ کے بدن سمندر کے پانیوں میں حل ہو چکے تھے۔ مگر خُدا اُن کے ایٹموں کو دوبارہ اکٹھا کر دے گا اور اُنہیں اُن کے جسموں میں اِس انصاف کے لیے اُٹھا لے گا۔ زمین پر قبریں اپنے مُردوں کو چھوڑ دیں گی اور جہنم (مُردوں کی دنیاhades) وہ جگہ جہاں کھوئی ہوئی روحیں جاتی ہیں ’’مُردوں کو چھوڑ‘‘ دے گی۔ اُن کے روحیں اور اُن کے بدن مل جائیں گے اور وہ عظیم سفید تخت کے سامنے کھڑے ہونگے۔ خُدا کے لیے ایسا کرنے میں کوئی مسٔلہ نہیں ہوگا۔ وہ قادر مطلق ہے۔ اب آیت 12 کو دوبارہ سُنیں،

’’اور میں نے چھوٹے بڑے تمام مُردوں کو تخت کے سامنے کھڑے دیکھا۔ تب کتابیں کھولی گئیں اور ایک کتاب جس کا نام کتابِ حیات ہے، وہ بھی کھولی گئی۔ تمام مُردوں کا اِنصاف اُن کے اعمال کے مطابق کیا گیا جو اُن کی کتابوں میں درج تھے‘‘ (مکاشفہ 20:12).

اگر آپ ابھی بچائے نہیں گئے ہیں، اِس زندگی میں تو آپ کا انصاف ’’اُن باتوں کے میں سے ہوگا جو اُن کتابوں میں [آپ کے] اعمال کے مطابق لکھی جا چکی تھیں‘‘ ہراُس بات کے مطابق جو آپ نے اِس زندگی میں کی۔

ڈاکٹر جے ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے کہا، ’’اپنے بستر مرگ پر ایک شخص نے مجھ سے کہا، ’مبلغ، تمہیں میرے ساتھ مستقبل کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں اپنے کیے کی ذمہ داری خود قبول کرتا ہوں۔ میں یقین کرتا ہوں کہ خُداوند منصفانہ اور راستباز رہے گا اور مجھے میرے اعمال پیش کرنے دے گا۔‘‘‘ ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’آپ صحیح ہیں۔ وہ منصفانہ اور راستباز ہے اور وہ آپ کو آپ کے اعمال پیش کرنے دے گا۔ یہی ہے جو وہ کہتا ہے کہ وہ کرنے جا رہا ہے۔ مگر میرے پاس آپ کے لیے ایک خبر ہے: اُس انصاف سے کوئی بھی نہیں بچا ہوا ہے، کیونکہ آپ اپنے اعمال کے ذریعے سے نہیں بچائے جائیں گے… آپ کے چھوٹے چھوٹے اعمال کسی بھی گنتی میں شمار نہیں ہونگے‘‘ (بائبل میں سے Thru the Bible، جلد پنجم، تھامس نیلسن پبلیشرز Thomas Nelson Publishers، 1983، صفحہ 1060؛ مکاشفہ 20:11 پر غور طلب بات)۔

جی ہاں، آپ کو تب ایک ’’جائز‘‘ آزمائش سے گزارا جائے گا۔ ’’اُن کتابوں‘‘ میں وہ سب کچھ ہوگا جو آپ اِس زندگی میں کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر میگی نے ’’اُن کتابوں‘‘ کا موازنہ آپ کے زندگی کے بارے میں ایک ویڈیو ٹیپ کے ساتھ کیا۔ اُنہوں نے کہا، ’’آپ کی زندگی ایک ٹیپ پر ہے اور وہ ٹیپ مسیح کے پاس ہوتی ہوئی دکھائی پڑتی ہے۔ جب وہ اِس کو واپس چلاتا ہے تو آپ اِس کو سُننے [اور دیکھنے] کے قابل ہو جائیں گے۔ اور یہ آپ کو کسی بھی طور اچھی لگنے نہیں جا رہی ہے۔ کیا آپ خُدا کے سامنے کھڑے ہونے اور اُس کو آپ کی زندگی کی ٹیپ چلانے دینے کے لیے تیار ہیں؟ میرے خیال میں وہ اِس کو ایک ٹیلی ویژن سکرین پر چلائے گا تاکہ آپ اِس کو دیکھ بھی پائیں۔ آپ کے خیال میں کیا آپ کی زندگی اِس امتحان کو جھَیل سکتی ہے؟ مجھے آپ کے بارے میں نہیں معلوم، مگر میں اِس کو نہیں کر [سکوں گا]… وہ سیموئیل جانسن تھا [ایک بہت بڑا لُغت نویس] جس نے کہا، ’ہر شخص خود اپنے بارے میں جانتا ہے جو وہ اپنے پیارے ترین دوست کو بھی بتانے کی جرأت نہیں کرتا۔‘ آپ خود کے بارے میں جانتے ہیں، کیا نہیں جانتے؟ آپ اُن باتوں کو جانتے ہیں جن کو آپ نے چُھپایا اور لپیٹا جن کو آپ کسی بھی قیمت پر اِس دُنیا میں ظاہر نہیں کر پائیں گے۔ [خُدا] اِس انصاف کے موقعہ پر اِن کو سامنے لے آنے جا رہا ہے، جب کہ آپ اپنے چھوٹے [نیک اعمال] پیش کر رہے ہیں، وہ آپ کو آپ کے بارے میں بتانے جا رہا ہوگا‘‘ (میگی McGee، ibid.)۔ پھر ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’اُس عظیم سفید تخت کا انصاف برگشتہ لوگوں کا انصاف ہے۔ [لوگوں کے] ہجوم اپنے اعمال کے مطابق انصاف کیا جانا چاہتے ہیں۔ یہ اُن کے لیے موقع ہے۔ انصاف منصفانہ ہے مگر کوئی بھی [نیک] اعمال کی وجہ سے بچایا نہیں جائے گا‘‘ (ibid.)۔

غور کریں کہ خُدا ’’اُن کتابوں‘‘ کے بارے میں بتاتا ہے اور پھر وہ ’’کتابِ حیات‘‘ کے بارے میں بات کرتا ہے۔ ’’کتابِ حیات‘‘ میں ہر اُس کا نام درج ہے جو یسوع کے وسیلے سے بچایا جا چکا ہے ہر ایک جو اِسی زندگی میں [مسیح کے] خون کے وسیلے سے خُدا کے واسطے بخشا جا چکا ہے۔ (مکاشفہ 5:9)۔ اُنہوں نےجب اِس زندگی میں یسوع پر بھروسہ کیا تھا تو اُن یسوع مسیح کے خون نے اُنہیں اُن کے گناہ سے دھو کر پاک صاف کر دیا تھا۔ وہ صرف وہی ہیں جن کے نام ’’کتابِ حیات‘‘ میں درج ہیں۔ یہ وہی ہیں جو گا سکتے ہیں اور ستائش کر سکتے اُس کی ’’جس نے ہم سے محبت کی اور جس نے خود اپنے خون کے وسیلے سے ہمیں ہمارے گناہوں سے مخلصی بخشی‘‘ (مکاشفہ1:5)۔ صرف وہی جو اِس زندگی میں یسوع کے وسیلے سے مخلصی پا چکے ہیں اور اِس زندگی میں اُس کے خون کے وسیلے سے پاک صاف کیے گئے ہیں، صرف اُنہی کے نام اُس ’’کتابِ حیات‘‘ میں ہونگے۔

غور کریں کہ وہاں پر صرف ایک ہی ’’کتابِ حیات‘‘ ہے – مگر وہاں پر بے شمار ’’کتابیں‘‘ ہیں جن میں اُن کے ریکارڈ درج ہیں جو کبھی بھی نہیں بچائے نہ گئے! مجھے ایک مبلغ کو کہتے ہوئے سُننا یاد ہے، ’’ وہاں پر ’کتابیں‘ تو بے شمار ہیں کیونکہ بے شمار لوگ کھوئے ہوئے ہیں۔ لیکن وہاں پر ’کتابِ حیات‘ صرف ایک ہی ہے کیونکہ چند ہی بچائے گئے ہیں۔‘‘ اور، پھر، آیت پندرہ پر نظر ڈالیں،

’’اور جس کسی کا نام کتابِ حیات میں لکھا ہُوا نہ ملا، اُسے بھی آگ کی جھیل میں ڈالا گیا‘‘ (مکاشفہ 20:15).

وہ ’’آگ کی جھیل‘‘ دائمی جہنم ہے، ہمیشہ کا عذاب، ہمیشہ کی اذیت۔ خُداوند یسوع مسیح نے کہا کہ راستے دو ہی ہیں اور ہر کوئی اُن دو راستوں میں سے ایک پر چلتا ہے۔ اُس نے کہا،

’’تنگ دروازہ سے داخل ہو کیونکہ وہ دروازہ چوڑا اور وہ راستہ کشادہ ہے جو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے اور اُس سے داخل ہونے والے بہت ہیں کیونکہ وہ دروازہ تنگ اور وہ راستہ سکڑا ہے جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں‘‘ (متی 7:13۔14).

مسیح نے کہا، ’’جو [صحیح راستہ] زندگی کی طرف لے جاتا ہے اُس کے پانے والے تھوڑے ہی ہیں۔‘‘ ’’اُس کے پانے والے تھوڑے ہی ہیں۔‘‘ کیا آپ اُن چند میں سے ایک ہونگے جن کے نام ’’کتابِ حیات‘‘ میں درج ہیں؟ انصاف اور جہنم سے مخلصی پانے کا واحد راستہ – وہ واحد راستہ – ابھی ہی یسوع پر بھروسہ کرنے کے وسیلے سے ہے، اِس ہی زندگی میں۔ اپنے گناہ سے منہ موڑیں اور یسوع کی جانب رُخ کریں! بائبل کہتی ہے، ’’اپنی بُری روِشوں سے باز آؤ تو تم کیوں مرو گے؟‘‘ (حزقی ایل33:11)۔ اعمال کی کتاب میں ’’لوگ بڑی تعداد میں ایمان لائے اور خُدا کی طرف رجُوع ہوئے‘‘ (اعمال11:21)۔ اپنی خودغرصانہ گناہ سے بھرپور روِشوں سے منہ موڑیں – اور خُداوند یسوع کی جانب رجُوع کریں،

’’ہمیں اُس فضل کی بدولت مسیح کے خُون کے وسیلہ سے مخلصی یعنی گناہوں کی معافی حاصل ہوتی ہے‘‘ (افسیوں 1:7).

اُس یسوع کا خون ہی آپ کے تمام گناہوں کو ڈھانپے گا کہ خُدا اُنہیں نے دیکھے گا! رومیوں کی کتاب کہتی ہے،

’’مبارک ہیں وہ … جن کے گناہوں پر پردہ ڈالا گیا‘‘ (رومیوں 4:7).

یسوع کا خون آپ کے گناہوں کو ڈھانپ دے گا تاکہ خُدا اُنہیں کبھی بھی نہ دیکھ پائے! اور یسوع کا خون آپ کے گناہوں کو دھو ڈٓالے گا تاکہ خُدا کبھی بھی اُن پر نظر نہ ڈالے! دوبارہ رومیوں کی کتاب کہتی ہے،

’’پس جب ہم نے مسیح کے خُون بہانے کے باعث راستباز ٹھہرائے جانے کی توفیق پائی تو ہمیں اور بھی زیادہ یقین ہے کہ ہم اُس کے وسیلہ سے غضبِ اِلٰہی سے ضرور بچیں گے‘‘ (رومیوں 5:9).

اور مکاشفہ 1:5 کہتی ہے کہ وہ جو بچائے جا چکے ہیں اِس لیے بچائے گئے ہیں کیونکہ یسوع ہمیں پیار کرتا ہے اور ’’اُس نے خود اپنے خون سے ہمیں ہمارے گناہوں سے مخلصی بخشی۔‘‘ آمین! یسوع کے نام کی ستائش ہو! ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones جو عظیم ویلشWelsh مبلغ ہیں، اُنہوں نے کہا،

میرے گناہوں کے دھبوں سے چھٹکارہ پانے کے لیے دُنیا کے تمام حل ناکافی ہیں، مگر یہاں خُدا کے اُس بے داغ، بے گناہ بیٹے کا خون ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ طاقتور ہے۔

   یہاں قوت ہے، قوت، حیرت ناک کام کر دینے والی قوت
   برّے کے قیمتی خون میں۔

ا   ُس کا خون غلیظ ترین کو بھی پاک کر سکتا ہے،
ا   ُس کا خون میرے لیے میسر کیا گیا۔
      (چارلس ویزلی Charles Wesley)

وہ ہی ہماری تسکین اور ہمارا دلاسہ ہے۔ (مارٹن لائیڈ جونز، ایم۔ ڈی۔ Martyn Lloyd-Jones, M.D.، خُدا کے ساتھ رفاقت Fellowship with God، کراسوے کُتب Crossway Books، 1994، صفحہ144)۔

خُداوندا، میرے گناہ وہ بے شمار ہیں، سمندر کی ریت کی مانند،
مگر تیرا خون، اے میرے نجات دہندہ، میرے لیے کافی ہے؛
کیونکہ تیرا وعدہ لکھا ہوا ہے، چمکدار لفظوں میں جو جگمگاتے ہیں،
’’حالانکہ تیرے گناہ سُرخی مائل ہیں، میں اُن کو برف کی مانند بنا ڈالوں گا۔‘‘
جی ہاں، میرا نام وہاں پر لکھا ہوا ہے، اُس صفحہ پر جو سفید اور منصفانہ ہے،
تیری بادشاہی کی کتاب میں، جی ہاں، میرا نام وہاں پر لکھا ہوا ہے!
(’’کیا میرا نام وہاں پر لکھا ہوا ہے؟ Is My Name Written There?‘‘ شاعرہ میری اے۔ کیڈر Mary A. Kidder، 1820۔1905)۔

کیا آپ وہ کہہ سکیں گے؟ کیا آپ وہ آج کی صبح کہہ سکتے ہیں؟ کیا آپ کے گناہ اُس خون کے وسیلے سے جو یسوع نے صلیب پر بہایا دھوئے جا چکے ہیں؟ اُس کے پاس ایمان کے وسیلے سے آئیں اور وہ آپ کو خُدا کی نظروں میں پاک صاف کر دے گا! ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سےدعا میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: مکاشفہ20:11۔15.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
          نے گایا تھا: (’’کیا میرا نام وہاں پر لکھا ہوا ہے؟ Is My Name Written There?‘‘ شاعرہ میری اے۔ کیڈر Mary A. Kidder، 1820۔1905)۔