Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

امریکہ کیوں بائبل کی پیشنگوئی میں نہیں ہے

(’’زندگی کے لیے حق‘‘ پر اِتوار کو دیا گیا ایک واعظ)
WHY AMERICA IS NOT IN BIBLE PROPHECY
(A SERMON PREACHED ON “RIGHT TO LIFE” SUNDAY)
(Urdu)

ڈاکٹرآر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُدا کے دِن کی صبح، 18 جنوری، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, January 18, 2015

’’تب خُداوند نے مجھ سے فرمایا، میری قوم اسرائیل کا وقت آ پہنچا ہے؛ اب میں اِسے دوبارہ نہیں چھوڑوں گا۔ اور خُداوند فرماتا ہے اُس دِن ہیکل کے نغمے ماتم میں بدل جائیں گے۔ ہر طرف بہت سی لاشیں پڑی ہونگی؛ وہ اُنہیں خاموشی کے ساتھ آگے ڈال دیں گے‘‘ (عاموس8:2۔3)۔

’’اب میں اسے نہِیں چھوڑوں گا۔‘‘ ڈاکٹر سی۔ ایف۔ کائیل Dr. C. F. Keil نے کہا اِس کا مطلب ہوتا ہے، کسی کے پاس سے بغیر اُس پر توجہ دیے گزر جانا، بغیر اُس کے قصور پر نظر ڈالے یا اُس کو سزا دیے بغیر؛ یوں بخش دینا‘‘ (کائیل اور ڈیلیٹژچ Keil and Delitzsch)۔ مگر ڈاکٹر جان گِل Dr. John Gill نے زیادہ منصفانہ معنی پیش کیا، ’’اب اُس کا حتمی خاتمہ کر دینا‘‘ (جان گِل John Gill)۔ ڈاکٹر چارلس جان ایلیکوٹ Dr. Charles John Ellicott نے اضافہ کیا، ’’ایک وقت ایسا آئے گا جب دعا کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تمام کی تمام شفارشیں، چاہے کتنی ہی دِل یا بیقراری سے مانگی ہوئی ہوں، اُنہیں انتہائی دیر ہو چکی ہوگی۔ رحم کا دروازہ بند ہو چکا ہے‘‘ (ایلیکوٹ کا تمام بائبل پر تبصرہ)۔ اور میتھیو ھنری Mathew Henry نے تلاوت کا یہ اِطلاق پیش کیا، ’’خُداوند کا صبر، جس کے خلاف بہت عرصہ پہلے ہی گناہ کیا جا چکا تھا، گناہ سے دور… کیا جائے گا؛ اور وہ وقت آئے گا جب وہ جنہیں اکثر بخشا گیا تھا پھر بخشے نہیں جائیں گے۔ میری روح ہمیشہ ہی کوشش نہیں کرے گا۔ مسلسل عارضی سکون کے بعد، پھر بھی سزا کا ایک دِن آئے گا‘‘ (متھیو ھنری کا تبصرہ Mathew Henry’s Commentary)۔

عاموس نے کہا کہ یروبعام بادشاہ تلوار سے ہلاک کیا جائے اور اسرائیل کے لوگ اُسور میں غلاموں کی حیثیت سے اسیری میں چلے جائیں گے۔ عاموس نے کہا کہ خُدا نے اُس کو بتایا، ’’اب میں اُنہیں دوبارہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ یہ ہی سب کچھ تھا! وہ ختم ہو چکے تھے! اب توبہ کرنے میں بہت دیر ہو چکی تھی! اب دعا کرنے میں بہت تاخیر ہو چکی تھی! اب اسرائیل کے بچائے جانے کے لیے وقت نکل چکا تھا! خدا کا فیصلہ حتمی تھا –

’’تب خُداوند نے مجھ سے فرمایا، میری قوم … کا وقت آ پہنچا ہے؛ اب میں اِسے نہیں چھوڑوں گا‘‘ (عاموس8:2)۔

تلاوت کے دو اِطلاق ہوتے ہیں۔ پہلے، یہ قوم کے لیے لاگو ہوتی ہے۔ اسرائیل کی قوم کے لیے خُدا نے کہا،

’’اب میں اسے دوبارہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ (عاموس8:2)۔

دوسرے، یہ ایک فرد پر لاگو ہوتی ہے۔ امصیاہ کو جو ایک جھوٹا کاہن تھا اور جس نے عاموس کی مخالفت کی تھی اُسے خُداوند نے کہا، ’’تو ناپاک مُلک میں مرے گا – اور اسرائیل یقینی طور پر اسیری میں چلا جائے گا‘‘ (عاموس7:17)۔ یہاں پر قوم کے لیے ایک فیصلہ تھا – اور فرد کے لیے بھی فیصلہ تھا۔

’’اب میں اسے دوبارہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘

I۔ پہلی بات، تلاوت امریکہ اور مغربی دُنیا کے لیے لاگو ہوتی ہے۔

’’اب میں اسے دوبارہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ (عاموس8:2)۔

کوئی کہتا ہے، ’’ڈاکٹر ہائیمرز کیا آپ پُریقین ہیں؟ جی ہاں، میں پُریقین ہوں! گناہ کی وجہ سے ہم فضل کے دِن کو دور کر چکے ہیں اور اب خُداوند ہمیں نہیں چھوڑے گا۔ میں یقینی طور پر محسوس کرتا ہوں کہ ایسا امریکہ کے ساتھ ہو چکا ہے!

میں ایک خودمختیار بپتسمہ دینے والے کے لکھے ہوئے بلاگblog کو پڑھتا رہا ہوں۔ وہ ایک ہوشیار شخص ہے۔ وہ بہت سی باتوں کے بارے میں دُرست ہے۔ کبھی کبھار اُس کے پاس دلچسپ اور مددگار سوچیں ہوتی ہیں۔ مگر وہ پہلی عظیم بیداری سے پہلے امریکہ اور مغرب کا انگلستان کے ساتھ موازنہ کرنے میں سراسر غلط تھا۔ میں اُس کو جواب دے رہا ہوں کیونکہ اُس نے ایک جھوٹی اُمید دلائی جو کہ میں دوسرے لوگوں کو دیتے ہوا سُن چکا ہوں – اور اس کا جواب دیا جانا چاہیے۔ وہ جھوٹی اُمید یہ ہے – وہ گناہ سے بھرپور انگلستان کے حالات کو پہلی عظیم بیداری (ویزلی \ وائٹ فیلڈ کا حیات نو the Wesley/Whitefield revival) سے نہیں روک پائے تھے۔ لٰہذا، (وہ وجہ دیتا ہے) امریکہ اور مغرب کا گناہ خُدا کو ہماری قوم اور ہمارا ساتھ دینے والوں پر حیات نو بھیجنے سے نہیں روکے گا۔ وہ بپتسمہ دینے والا بلاگرblogger اپنے آرٹیکل کو یہ کہتے ہوئے ختم کرتا ہے، ’’آئے اِس اختتام کے لیے کام کریں اور دعا مانگیں، اور اِس [حیات نو کو] کے آنے کے لیے خُداوند کی منت سماجت کریں۔‘‘

یہ مجھے اور بیوقوفانہ بے تُکی گفتگو جیسا لگتا ہے۔ میں اپنی تمام زندگی یہ سُن چکا ہوں۔ میرا نہیں خیال وہ سنجیدہ ہے۔ وہ دعا مانگنے کے لیے کہتا ہے۔ کیا وہ تمام رات دعا مانگنے کے اجلاس کے لیے تیار ہے، جیسا کہ ابتدائی میتھوڈسٹ کرتے تھے؟ کیا اُس کا گرجہ گھر ایسا کرے گا؟ کیا وہ کسی ایسے گرجہ گھر کو جانتا ہے جو ایسا کرے گا؟ کیا وہ روزے رکھیں اور دعا مانگیں گے جیسا کہ وائٹ فیلڈ اور ویزلی کے لوگ کیا کرتے تھے؟ کیا اُس کا گرجہ گھر روزے رکھنے کے لیے لوگوں کو بُلائے گا؟ کیا وہ کسی ایسے گرجہ گھر کو کہیں پر بھی جانتا ہے، جو روزہ قائم کرے گا؟ کیا وہ ’’فیصلہ سازیت‘‘ کے خلاف منادی کرے گا، اور صاف صاف کہے گا کہ زیادہ تر بپتسمہ دینے والے برگشتہ ہو چکے ہیں، سرے سے کبھی تبدیل ہوئے ہی نہیں تھے، سرے سے نیا جنم لیا ہی نہیں تھا – جیسا کہ وائٹ فیلڈ اور ویزلی نے اپنے گرجہ گھر کے لوگوں کے ساتھ کیا تھا؟ کیا اُس کا پادری ایسا کرے گا؟ کیا وہ کسی ایسے خود مختیار بپتسمہ دینےوالے یا مغربی بپتسمہ دینے والے پادری کو جانتا ہے جو ایسا کرے گا؟ کیا وہ کسی ایسے پادری کے بارے میں جانتا ہے جو سارے گرجہ گھروں سے باہر نکال دیے جانے کے لیے تیار ہوگا، جیسا کہ ویزلی اور وائٹ فیلڈ ہوئے تھے؟ کیا وہ یہاں تک کہ کسی ایک ہی ایسے پادری کے بارے میں جانتا ہے جو اِس تمام میں سے گزر جائے گا؟ کیا وہ خود ایسے حالات سے گزرے گا؟ یہ ہی واحد اُس قسم کی منادی ہے جو کہ آج حقیقی حیات نو میں استعمال کی جا سکے گی۔ کیا وہ ایسے مبلغین کو جانتا ہے جو ایسا کریں گے؟ مجھے پال واشر Paul Washer کے بارے میں مت بتائیں! اُس کی تبلیغ آدھی بھی نہیں ہے جس کی ضرورت ہے!

پھر بلاگ لکھنے والا ہمارا دوست کہتا ہے، ’’آئیے [حیات نو] نو کے آ جانے تک کے لیے دعا مانگیں اور کام کریں‘‘ اُس کے ذہن میں کام ہے کونسا؟ ایک بات جو جیری فالوے Jerry Falwell نے کہی بالکل سچ تھی۔ جیری فالوے نے کہا، ’’امریکہ کا قومی گناہ اسقاطِ حمل ہے۔‘‘ اوہ، جی ہاں، اس کے بارے میں جیری فالوے قطعی طور پر دُرست تھے! یقینی طور پر، ’’اُس حد تک‘‘ کام کرنے میں پیٹ میں موجود بچوں کے ذبح ہونے کو روکنے کا کام شامل ہونا چاہیے! کیا آپ ’’اِس حد تک‘‘ کوئی کام کر چکے ہیں مسٹر بلاگر؟ کیا آپ بپتسمہ دینے والے ایسے پادریوں کو جانتے ہیں جو ’’اِس حد تک‘‘ کام کر چکے ہوں؟ کیا آپ ایسے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھروں کو جانتے ہیں جو اسقاط حمل کرنے والے شفاخانوں کو بند کروا رہے ہیں؟ کیا آپ کوئی ایک بھی جانتے ہیں جو ’’اِس حد تک‘‘ کام کر رہے ہوں؟ میں نہیں جانتا۔ ہمارا گرجہ گھر لاس اینجلز میں دو اسقاطِ حمل کے شفاخانوں کو بند کروا چکا ہے۔ ہم اُن دونوں کو مکمل طور پر قانونی چارہ جوئی کے ذریعے سے بند کروا چکے ہیں! اگر امریکہ میں بپتسمہ دینے والے گرجہ گھروں میں سے آدھے ہی دو دو اسقاط حمل کے شفاخانوں کو بند کروا دیں تو اسقاطِ حمل کافی عرصہ پہلے ہی ختم ہو چکا ہوتا۔ ہمارے شریک کار پادری، ڈاکٹر کیگنDr. Cagan اور میں سینکڑوں کاتھولک لوگوں کے ساتھ نشست کر چکے ہیں جبکہ گھوڑوں پر بیٹھے پولیس والے ہمیں دھمکاتے تھے، اور ہمارے اردگرد اپنے گھوڑے ہاتھوں میں ڈنڈے لیے دوڑاتے تھے، جبکہ ہم اسقاطِ حمل کے خلاف احتجاج کرتے تھے۔ مسٹر بلاگر، وہ بپتسمہ دینے والے کہاں پر تھے؟ میں نے کسی کو بھی نہیں دیکھا! میں نے صرف بزرگ مذھبی بہنوں اور کچھ کاتھولک سکولوں سے نوجوان لوگوں کو دیکھا۔ وہ بپتسمہ دینے والے مبلغین کہاں پر تھے؟ وہ بپتسمہ دینے والی خواتین کہاں پر تھیں جو سنڈے سکول میں تعلیم دیتی تھیں؟ وہ معقول اوسط عمر کی خواتین جو ہمارے گرجہ گھروں کو چلاتی ہیں اور ہمارے مبلغین پر دھونس جماتی ہیں، وہ کہاں پر تھیں؟ میں نے اُن میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا! اُنہیں پرواہ ہی نہیں ہوتی؟ جی نہیں، میرا نہیں خیال کہ اُنہیں ہوتی ہے! وہ عظیم حیات نو میں ویزلی والی خواتین کی مانند بالکل بھی نہیں ہیں جن کے بارے میں بلاگر بھائی نے بات کی تھی۔

ہر سال امریکہ ایک ملین بچوں کو قتل کرتا ہے! ہم جنوری1973 سے جب سے ریاست ہائے متحدہ میں سپریم کورٹ نے قانون پاس کیا کہ حاملہ خواتین تین ماہ کے حمل تک کی صورت میں اسقاط حمل عدالت کی اجازت کے بغیر کروا سکتی ہیں کیونکہ تین ماہ کے بعد حمل گرانے سے ماں کی جان کو خطرہ ہوتا ہے اِس قانون کو رویی وی۔ ویڈ Roe v. Wade کہا جاتا ہے ہم اُس وقت سے لے کر اب تک 57 ملین بچوں کو ذبح کر چکے ہیں۔ اب تک، ہر امریکی انجیل کی بشارت کرنے والے ’’مسیحی‘‘ کے ہاتھوں پر خون کے قطرے ہیں۔ ہم اُنہیں 57 ملین بچوں کو قتل کرنے دیتے ہیں جبکہ خود ہم ائر کنڈیشنڈ گرجہ گھروں میں گھنٹہ بھر بیٹھتے ہیں اور زندہ دلی کی باتین سُنتے ہیں! ہم کہاں پر تھے جب 57 ملین بچے قتل کیے گئے تھے؟ ہم اِس قدر اندھے اور جھانسے میں آ چکے تھے کہ ہم نے اصل میں سوچ لیا تھا کہ جوئیل اُوسٹن Joel Osteen کی مسکراتی تحریک دینے والی باتیں لوگوں کو ’’نجات‘‘ دے رہی تھیں – کیونکہ اُس نے چند ایک کہانیاں سُنانے اور اپنے لطیفوں پر لوگوں کو ھنسانے کے بعد ایک چھوٹی پیاری سی نام نہاد کہلانے والی ’’گنہگاروں کی دعا‘‘ پیش کی تھی۔ لیکن لطیفہ ہم پر ہے! کوئی بھی بچایا نہیں گیا تھا! کوئی بھی نہیں! کوئی بھی نہیں! کوئی بھی نہیں! کوئی بھی نہیں! کوئی بھی نہیں! اِس قسم کی منادی ہماری قوم یا ہمارے لوگوں کو تبدیل نہں کر پائی تھی! اور یہ اب بھی اُنہیں تبدیل نہیں کرے گی! ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر نے کہا، ’’امریکہ میں جس قسم کی مسیحیت کو ہم آج جانتے ہیں ایک وسیع پھیلا ہوا حیات نو شاید اخلاقی المیہ ثابت ہو جس میں سے ہم سو سالوں تک نکل نہ پائیں‘‘ (اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر، ڈی۔ ڈی۔ A.W. Tozer, D.D.، گہری زندگی کے لیے کُلیدیں Keys to the Deeper Life، ژونڈروان پبلیشنگ ہاؤس، 1957، صفحہ12)۔

’’تب خُداوند نے مجھ سے فرمایا، میری قوم اسرائیل کا وقت آ پہنچا ہے؛ اب میں اِسے دوبارہ نہیں چھوڑوں گا‘‘ (عاموس8:2)۔

پھر، بھی ہماری قوم اُس طرح کی نہیں ہے جس طرح کا 18ویں صدی میں انگلستان تھا – بالکل بھی نہیں! برطانیہ میں غیر نجات یافتہ لوگ جتنے ہم ہیں اُس کے مقابلے میں کہیں زیادہ بُرے حال میں تھے! یہاں تک کہ کوئلہ کی کان کُنی کرنے والے اور کسان ہمارے مقابلے میں کہیں زیادہ پڑھے لکھے تھے۔ حتیٰ کہ وہ لوگ جو پڑھ نہیں سکتے تھے وہ وائٹ فیلڈ اور ویزلی کو پیچیدہ واعظوں کو سُن اور سمجھ سکتے تھے! کیا ہمارے لوگ جیسے اُنہوں نے کیا تھا، مکمل اخلاقی بگاڑ پر ایک پیچیدہ واعظ کے دوران سکون سے بیٹھ بھی پائیں گے؟ وہ ہر صبح5:00 بجے اُنہیں سُننے کے لیے برف میں کھڑے ہوتے تھے! کیا ہمارے لوگ ایسا کریں گے؟ جی نہیں، وہ نہیں کریں گے! ہمارے لوگ جذباتی طور پر پُرتشدد ویڈیو گیمز، فحاش تصوروں اور فلموں کو دیکھنے، خونی اور غلیظ ٹیلی ویژن کے پروگراموں کو دیکھنے، منشیات لینے، اور مسلسل جاری بیہودہ اور شیطانی فلموں کو دیکھنے کی وجہ سے جھانسے میں آئے ہوئے ہیں۔ انگلستان کے ویزلی کے دور میں اُن لوگوں کے پاس اِس میں سے کچھ بھی نہیں تھا! ویزلی کے انگلستان میں عام لوگوں میں تو طلاق تک کا نام و نشان نہیں تھا۔ گھر قائم دائم اور پائیدار ہوتے تھے ناکہ ٹوٹے پھوٹے جیسے آج ہمارے ہیں۔ پھر اُن کی حکومت کے ساتھ ہماری حکومت کا موازنہ کر کے دیکھیں۔ اُن کی حکومت پارلیمینٹ میں سمجھ دار اور باشعور لوگوں سے چل رہی تھی جو بے شک حقیقی مسیحی نہیں تھے مگر کم از کم مسیحی اخلاق سے تو متاثر تھے۔ ہمارے مُلک کی رہنمائی بزدل لوگوں سے ہو رہی ہے، جو کمزور ہیں اور اُن کے پاس کوئی بھی مسیحی اخلاقی معیار نہیں ہے۔ اُن لوگوں نے ویزلی کے انگلستان میں کسی بھی قسم کی جنسی بے راہ روی کی اجازت نہیں دی تھی۔ کیا مجھے کچھ اور کہنے کی ضرورت ہے؟ اور اُن کے مذھب کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جی ہاں، یہ ویزلی کے انگلستان میں بہت بڑے پیمانے پر ایک ڈیعئسٹ deist مذھب تھا۔ جی ہاں، تقریباً سارے کے سارے پادری غیرنجات شُدہ تھے۔ مگر – اور یہ ایک بہت بڑا ’’مگر‘‘ ہے – وہ ’’فیصلہ سازیت‘‘ سے بالکل بھی متاثر نہیں تھے۔ وہ بالکل بھی نہیں سوچتے تھے کہ وہ تبدیل شُدہ ہیں جیسا کہ تقریباً 75 % ہمارے لوگ سوچتے ہیں۔ وہ نہیں سوچتے تھے کہ وہ چند ایک نام نہاد کہلانے والی ’’گنہگار کی دعا‘‘ سے نجات پا لیں گے۔ گنہگار جانتے تھے کہ وہ مسیحی نہیں تھے، اور وہ بچائے جانے کے لیے اداکاری بھی نہیں کرتے تھے، جیسا کہ ہم کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ، جب وہ مسیح میں تبدیلی کے بارے میں سوچتے تھے تو وہ ایسے سوچتے تھے جیسے جان بنعین John Bunyan نے – اپنی انتہائی مشہور کتابوں ’’گنہگاروں کے سردار کے لیے کثرت سے فضل Grace Abounding to the Chief of Sinners‘‘ اور ’’زائر کی پیش قدمیPilgrim’s Progress‘‘ میں سوچا تھا۔ وہ تصورات جو تبدیلی کے بارے میں اُن کے تھے وہ پیوریٹنز Puritans کے نظریات تھے – سزایابی اور پاک صاف ہونا – نا کہ ’’چکنا پیارsloppy agape‘‘!

اِس کے علاوہ، اُن سب کی ایک ہی بائبل تھی۔ کنگ جیمس کی واحد بائبل سب کے پاس ہوتی تھی۔ یوں وہ مختلف تراجم کی شدت سے جو درجنوں میں ہیں، جن کی بنیاد مسخ کی ہوئی یونانی تلاوتوں پر تھی، جو گنوسٹکGnostic تصورات کے زیر اثر تھیں جیسی کہ آج کل ہماری بائبلیں ہیں، اُلجھن کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ اور اُن کے سکولوں یا یونیورسٹیوں میں کنگ جیمس بائبل پر پابندی عائد نہیں ہوتی تھی۔ حالانکہ وہ غیرنجات یافتہ تھے، وہ یقین کرتے تھے کہ بائبل خُداوند کا کلام تھی۔ یہاں تک کہ بادشاہ جارج دوئم King George II (1727۔1760) خود آپ کو بتا چکا ہوتا کہ بائبل خُدا کا کلام تھا! سکولوں میں بائبل پر کوئی پابندی عائد نہیں تھی۔ ہر نوجوان شخص بائبل کی کہانیوں کے بارے میں جانتا تھا۔ اور یونیورسٹیوں میں، عدالتوں میں یا شہری حکومت میں بائبل پر پابندی عائد نہیں تھی، جیسا کہ یہ ہمارے مُلک میں ہے۔ بائبل پر پابندی عائد کرنے کے بجائے، اُنہوں نے اِس کی توثیق کی اور اِس کو منظور کیا، حالانکہ وہ نئے سرے سے جنم لیے ہوئے مسیحی بھی نہیں تھے۔ اِس کے علاوہ، کوئی حکومتی امداد بھی نہیں ہوتی تھی۔ ہر کوئی کام کرتا تھا، اور وہ سب کے سب کام کی عظمت میں یقین کرتے تھے جیسا کہ بائبل میں تعلیم دی گئی ہے۔ اب، سخت محنت کو حقیر سمجھا جاتا ہے اور ’’پیوریٹن کے کام کی اخلاقیات Puritan work ethic‘‘کو جیسا کہ یہ بہت بُری بات ہو توھین سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ اُن تمام نے یا تو کام کیا یا فاقے کیے، کسی کے پاس بھی اِتنا وقت نہیں تھا کہ بے تُکی باتوں پر فضول میں وقت گزارتے اور خواب بُنتے جیسا کہ ہمارے لوگ کرتے ہیں۔ اُن کے پاس غوروفکر کرنے، بدھ مت کی براہ راست الہامی روحانیت پانےZen Buddhism یا کسی قسم کی مشرقی پُراسراریت کی پریکٹس کرنے کے کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ یہ ہی وجہ تھی کہ اُن کے انتہائی کم لوگ آسیب زدہ تھے – جبکہ یہ کافی واضح ہے کہ ہمارے لوگوں میں سے ہزاروں (اگر لاکھوں نہیں) شیطانی روحوں کے قبضے میں ہیں۔

جی نہیں، مسٹر بلاگر عظیم بیداری سے پہلے وائٹ فیلڈ اور ویزلی کے تحت انگلستان میں اُن لوگوں کے ساتھ ہمارا موازنہ کرنے پر غلط ہیں۔ امریکی لوگوں کا نوح کے زمانے کے اُن لوگوں سے موازنہ کرنا سچائی کے کسی حد تک قریب ہوگا۔ کیا بالکل یہی نہیں ہے جو مسیح نے اِس نسل کے بارے میں کہا تھا؟ مسیح نے کہا،

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا۔ کیونکہ طوفان سے پہلے کے دِنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور شادی بیاہ کرتے کراتے تھے۔ نُوح کے کشتی میں داخل ہونے کے دِن تک یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ اُنہیں خبر تک نہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا۔ ابنِ آدم کی آمد بھی ایسی ہی ہوگی‘‘ متی 24:37۔39).

مسیح نے ہمارے لوگوں کو 18ویں صدی میں انگلستان کے لوگوں کے ساتھ موازنہ نہیں کیا تھا! اُس نے ہماری نسل کا موازنہ نوح کے زمانے کے لوگوں سے کیا تھا،

’’اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں۔ خداوند کو افسوس ہُوا کہ اُس نے زمین پر انسان کو پیدا کیا اور اُس کا دِل غم سے بھر گیا‘‘ (پیدائش 6:5۔6).

’’چنانچہ خدا نے نُوح سے کہا: میں سب لوگوں کا خاتمہ کرنے کو ہُوں کیونکہ زمین اُن کی وجہ سے ظلم سے بھر گئی ہے۔ اِس لیے میں یقیناً نوعِ اِنسان اور زمین دونوں کو تباہ کر ڈالوں گا‘‘ (پیدائش 6:13).

ہمارے بلاگر دوست نے کہا، ’’یہاں یہ اُمید ہے… جیسا کہ خُدا نے انگلستان کے لوگوں کو قریب آتی ہوئی مکمل روحانی اور اخلاقی گراوٹ سے بچایا تھا… جارج وائٹ فیلڈ، جان اور چارلس ویزلی کے روحانی حیات نو کے ذریعے سے، اِس لیے خُدا وہی بات ایک مرتبہ پھر ہمارے زمانے میں کر سکتا ہے۔‘‘ وہ صحیح ہے جب وہ کہتا ہے کہ خُدا وہ دوبارہ کر سکتا ہے۔ مگر سوال یہ نہیں ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ آیا خُدا قومی حیات نو بھیج سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا خُدا قومی حیات نو بھیجے گا؟ اور میں قائل ہو چکا ہوں کہ جواب ایک گونجدار ’’نہیں‘‘ ہے! جیسا کہ ہم اپنی تلاوت میں پڑھتے ہیں،

’’تب خُداوند نے مجھ سے فرمایا، میری قوم اسرائیل کا وقت آ پہنچا ہے؛ اب میں اِسے نہیں چھوڑوں گا۔ اور خُداوند فرماتا ہے اُس دِن ہیکل کے نغمے ماتم میں بدل جائیں گے۔ ہر طرف بہت سی لاشیں پڑی ہونگی؛ وہ اُنہیں خاموشی کے ساتھ آگے ڈال دیں گے‘‘ (عاموس8:2۔3)۔

میرے خیال میں امریکہ اور مغربی دُنیا کے لیے کوئی اُمید نہیں ہے، بالکل بھی نہیں ہے۔ کوئی بھی نہیں۔ خُدا کہتا ہے،

‘’اب میں اِسے دوبارہ نہیں چھوڑوں گا‘‘ (عاموس 8:2).

امریکہ اور یورپ میں کوئی بھی قومی حیات نو نہیں ہوگا۔ یہ رونما نہیں ہوگا۔ اِس کے لیے ہمیشہ کی تاخیر ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell، وہ عظیم مبلغ جس کو 20ویں صدی میں امریکہ نے پیدا کیا، اُنہوں نے کہا، ’’ہمارے لوگ کل کے بارے میں مسلسل فکرمندی اور اندیشوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں کیونکہ ہم بدکار لوگ ہیں… ہر طرح سے امریکہ تیزی سے خُدا کا مخالف اور دُنیا نواز ہوتا جا رہا ہے۔ انصاف کا ایک دِن آ رہا ہے اور ہم اِس کو محسوس کرتے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر کرسویل Dr. Criswell ڈلاس شہر کے پہلے چینی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر کے پچاس سے بھی زیادہ سالوں تک پادری رہے تھے۔ وہ بلی گراھم Billy Graham کے پادری تھے۔ (ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل، پی ایچ۔ ڈی۔ W. A. Criswell, Ph.D.، بائبل کے عظیم عقائد – بائبل کا علم Great Doctrines of the Bible – Bibliology، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، 1982، صفحہ43)۔

ہم ایک عوام کی اور ایک قوم کی حیثیت سے فیصلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ بائبل کی پیشن گوئی میں نہیں ہے۔ ہم مذید اور ایک عظیم قوم نہیں رہیں گے۔ ہم کلام پاک کی زمانے کے اختتام کی پیشن گوئیوں کے بارے میں تبصرے کے بھی قابل نہیں ہونگے! مگر میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ تلاوت کے بارے میں ایک دوسرا اِطلاق بھی ہے۔

II۔ دوسری بات، تلاوت ہر اُس شخص پر لاگو ہوتی ہے جو موت تک گناہ کا اِرتکاب کرتا ہے۔

ایک وقت آئے گا، اگر وہ ابھی تک نہیں آ چکا ہوا ہے، جب خُدا آپ کے بارے میں یہ کہے گا،

’’اب میں اِسے دوبارہ نہیں چھوڑوں گا‘‘ (عاموس 8:2).

جب آپ کے بارے میں خُدا وہ کہتا ہے تو اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ ہمیشہ کے لیے بدنصیب ہو چکے ہیں۔ آپ شاید کئی سالوں تک زندہ رہیں۔ لیکن آپ نصیب میں پہلے سے ہی جہنم کے دائمی شعلوں ہوتے ہیں جب خُدا کہتا ہے، ’’اب میں اِسے دوبارہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ ایسا کیوں ہوگا؟ کیونکہ آپ ناقابلِ معافی گناہ کے مرتکب ہو چکے ہیں! ماضی کے بہت سے عظیم مبلغین ناقابلِ معافی گناہ کے بارے میں بتا چکے ہیں۔ ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones ’’پاک روح کے خلاف گناہ the sin against the Holy Ghost‘‘ (خُدا کے بیٹے The Sons of God، صفحہ230)۔ جاناتھن ایڈورڈز Johathan Edwards، ایساھل نیٹیلٹن Asahel Nettleton، موڈیMoody، ٹورے Torrey، جارج ڈبلیو۔ ٹُرویٹ George W. Truett، اور پرانے وقتوں کے تمام مبلغین ’’ناقابلِ معافی گناہ‘‘ پر بات کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر جان آر۔ رائسDr. John R. Rice نے کہا،

ایک گناہ ایسا ہے ’’جو لوگوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔‘‘ ایک گناہ ایسا ہے جو، اگر ایک شخص سرزد کرتا ہے تو، ’’وہ اُسے معاف نہیں کیا جائے گا، نا ہی اِس دُنیا میں اور نا ہی آنے والی دُنیا میں۔‘‘ وہ ناقابل معافی گناہ ایک ہے… وہ ناقابل معافی گناہ [ہے] کہ کوئی شاید آخری حد کو پار کر جائے جبکہ ابھی زندہ ہی ہو، شاید سزایافتوں کی سلطنت میں چلا جائے، شاید ہمیشہ کے لیے رحم سے پرے ہو جائے جبکہ وہ ابھی تک اِسی دُنیا میں زندہ ہی ہو!... جی ہاں، وہ ناقابلِ معافی گناہ اب بھی سرزد کیا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی گنہگار جو انجیل یا خوشخبری کو سن چکا ہو، جب شدت سے مجرم رہا ہو، جس کو اُس کے گناہ کے لیے اور نجات دہندہ کے بارے میں اُس کے ضرورت کے لیے آگاہ کیا جا چکا ہو وہ اُس گناہ کا مُرتکب ہونے کے انتہائی شدید خطرے میں ہے جس کی کوئی معافی نہیں ہوتی (ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، آخری حد کو پار کرنا Crossing the Deadline، خُدا کے تلوار پبلیشرز Sword of the Lord، 1953، صفحات3۔4)۔

اگر خُدا ایک قوم کو نہیں چھوڑ سکتا تو وہ آپ کو بھی نہیں چھوڑ سکتا! اگر ایک قوم موت تک گناہ کا اِرتکاب کر سکتی ہے تو آپ بھی کر سکتے ہیں! 1یوحنا5:16 کہتی ہے، ’’گناہ ایسا بھی ہوتا ہے جو موت لاتا ہے‘‘ (1یوحنا5:16)۔ قائین نے وہ گناہ کیا تھا، اور خُدا نے اُس کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا۔ بے شک وہ سالوں تک زندہ رہا، اُس کو مذید اور نہیں بچایا جا سکا۔ موسیٰ کے زمانے میں فرعون اُس گناہ کا مرتکب ہوا، اور خُدا نے اُس پر سے نظرِ کرم ہٹا لی۔ اگرچہ وہ سالوں تک زندہ رہا اُس کو بچایا نہیں جا سکا۔ یہوداہ نے وہ گناہ سرزد کیا تھا اور خُدا نے اُسے چھوڑ دیا – وہ چند ایک گھنٹوں تک کے لیے زندہ رہا لیکن اُس کے بچائے جانے کے لیے بہت تاخیر ہو چکی تھی! اگر آپ پاک روح کی مزاحمت کرتے ہیں اور یسوع پر بھروسہ کرنے سے انکار کرتے ہیں تو ایک دِن اور ایک لمحہ آئے گا جب خُدا آپ کو بھی چھوڑ دے گا! تب خُدا کی جانب سے یہ کہا جائے گا،

‘’اب میں اِسے دوبارہ نہیں چھوڑوں گا‘‘ (عاموس 8:2)

.

ڈاکٹر جان آر۔ رائس کے لکھے ہوئے اِس گیت کے الفاظ کو پوری توجہ کے ساتھ سُنیں،

آپ نے سُستی دکھائی اور اِنتظار کیا پھر بھی نجات دہندہ کو مسترد کیا؛
اِس قدر صبر کے ساتھ اُس کی تمام تنبیہات، اِس قدر مہربان اُس کی تمام التجائیں؛
یوں آپ نے منع کیا ہوا پھل کھایا، آپ نے شیطان کے وعدے کا اعتبار کیا؛
یوں آپ کا دِل سخت ہو چکا ہے؛ گناہ آپ کے ذہن کو تاریک کر چکا ہے۔
پھر کس قدر افسوسناک فیصلے کا سامنا آپ کو بغیر رحم کے ساتھ یاد کرنا ہوگا
کہ آپ نے سُستی دکھائی اور فضول میں وقت گزارا جب تک کہ روح چلا نہ گیا؛
کیسی الزام تراشی اور ماتم، اگر جب موت آپ کو بے اُمید پاتی ہے،
آپ نے فضول میں وقت گزار دیا اور سُستی دکھائی اور بہت زیادہ انتطار کیا!
   (’’اگر آپ نےزیادہ دیر سُستی دکھائی If You Linger Too Long‘‘ شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1985)۔

آج کی صبح میں آپ سے التجا کرتا ہوں – اپنے گناہ سے مُڑ جائیں اور یسوع پر ابھی بھروسہ کریں جبکہ ابھی وقت ہے۔ یسوع مسیح پر ابھی بھروسہ کریں – اِس سے پہلے کہ خُدا آپ کا ساتھ چھوڑ جائے – جیسا کہ اُس نے اسرائیل کا ساتھ چھوڑ دیا تھا! جیسا کہ اُس نےعاموس کے دِنوں میں امصیاہ کا ساتھ چھوڑ دیا تھا! جیسا کہ اُس نے قائین کا ساتھ چھوڑ دیا تھا! جیسا کے اُس نے فرعون کا ساتھ چھوڑ دیا تھا! جیسا کہ اُس نے یہوداہ کا ساتھ چھوڑ دیا تھا! وہ آپ کا بھی ساتھ چھوڑ دے گا!!! مسیح کے پاس آئیں۔ مسیح پر ابھی بھروسہ کریں، اِس سے پہلے کہ بہت تاخیر ہو جائے! بائبل کہتی ہے،

’’اپنے پُورے دل سے خداوند پر اعتقاد رکھ اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر‘‘ (امثال 3:5).

یسوع پر بھروسہ کریں۔ اُس کا خون آپ کے تمام گناہوں کو ڈھانپ لے گا اور اُنہیں دھو ڈالے گا۔ صلیب پر اُس کی موت آپ کے تمام گناہوں کے لیے کفارہ ادا کرے گی اور آپ کو دائمی عذاب سے بچا لے گی۔ مُردوں میں سے اُس کا جی اُٹھنا آپ کو زندگی اور اُمید بخشے گا! یسوع پر ابھی بھروسہ کریں اور وہ ہمیشہ کے لیے آپ کے گناہ معاف کر دے گا۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: عاموس7:14۔8:3 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’اگر آپ نےزیادہ دیر سُستی دکھائی If You Linger Too Long‘‘ (شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1985)

۔

لُبِ لُباب

امریکہ کیوں بائبل کی پیشنگوئی میں نہیں ہے

(’’زندگی کے لیے حق‘‘ پر اِتوار کو دیا گیا ایک واعظ)
WHY AMERICA IS NOT IN BIBLE PROPHECY
(A SERMON PREACHED ON “RIGHT TO LIFE” SUNDAY)

ڈاکٹرآر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’تب خُداوند نے مجھ سے فرمایا، میری قوم اسرائیل کا وقت آ پہنچا ہے؛ اب میں اِسے دوبارہ نہیں چھوڑوں گا۔ اور خُداوند فرماتا ہے اُس دِن ہیکل کے نغمے ماتم میں بدل جائیں گے۔ ہر طرف بہت سی لاشیں پڑی ہونگی؛ وہ اُنہیں خاموشی کے ساتھ آگے ڈال دیں گے‘‘ (عاموس8:2۔3)۔

(عاموس7:17)

I.   پہلی بات، تلاوت امریکہ اور مغربی دُنیا کے لیے لاگو ہوتی ہے، متی24:37۔39؛ پیدائش6:5۔6، 13؛ عاموس8:2۔3 .

II.  دوسری بات، تلاوت ہر اُس شخص پر لاگو ہوتی ہے جو موت تک گناہ کا اِرتکاب کرتا ہے، 1یوحنا5:16؛ امثال3:5 .