Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

ایک عظیم – قادر اورمُہیب خُدا

A GREAT GOD – MIGHTY AND TERRIBLE!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دن کی صبح، 11 جنوری، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, January 11, 2015

’’ہر صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے وہ تعلیم دینے، تنبیہہ کرنے، سُدھارنے اور راستبازی میں تربیت دینے کے لیے مفید ہے‘‘(2۔ تیموتاؤس 3:16).

جب ہم بائبل کو کھولتے ہیں تو ہم خُود خدا کے الہام کو پڑھتے ہیں۔ میں ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell (1909۔2002) کی بات کو دُہرا رہا ہوں – مطالعے اور مشاہدے سے ہم بے شمار باتوں کو جان سکتے ہیں۔ ہم مٹی اور بیج، درخت اور پھل، پانی اور معدنیات، مچھلی اور ریوڑ، کششِ ثقل اور ستاروں کی حرکت کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ مطالعے اور مشاہدے سے ہم فطرت کی دُنیا میں بے شمار باتوں کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ مگر اصلیت کے پیچھے کیا ہے؟ وہ کیا اصلیت ہے کہ جس سے پرے ہم جسمانی دُنیا میں مطالعہ اور مشاہدہ کر سکتے ہیں؟ زندگی کا مطلب اور مقصد کیا ہے؟ یہ وہ باتیں جو ہم کبھی بھی مطالعہ اور مشاہدے سے نہیں سیکھ سکتے۔ وہ کون ہے جس نے دُنیا اور ستاروں اور کائنات کو بنایا؟ جواز یا استدلال اور مشاہدہ اور مطالعہ اِسی حد تک جا سکتے ہیں۔ مگر ہم جو کچھ بیرون اور جسمانی ہے ہم اُس سے پرے نہیں جا سکتے۔ وہ معنی جو ہمارے دیکھنے، محسوس کرنے اور سونگھنے اور سُننے سے پرے ہوتے ہیں – وہ ہم نہیں سیکھ سکتے۔

ہم ہمیشہ کے لیے ستاروں کو دیکھ سکتے ہیں اور نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ جس کسی نے بھی اُنہیں بنایا عظیم اور قادر مطلق ہے۔ مگر اُس کا نام کیا ہے؟ وہ لگتا کیسا ہے؟ کیا وہ ہمیں جانتا ہے؟ کیا وہ ہمیں نام لے کر بُلا پائے گا؟ ہم ستاروں کا مطالعہ ہمیشہ کے لیے کر سکتے ہیں اور کبھی بھی اُس کو نہیں جان سکتے۔

ہم غروب ہوتے ہوئے سورج کی خوبصورتی کا، ایک پارک میں خوبصورت درختوں کا، اُن پھولوں کا جو زمین میں سے اُگتے ہیں مطالعہ کر سکتے ہیں۔ ہم قدرت کی تمام خوبصورتیوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ ہم اِس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ جس کسی نے بھی اُنہیں بنایا اُسے خوبصورتی اور ہم آہنگی اور رنگوں سے محبت ہے۔ مگر وہ ہے کون؟ وہ لگتا کیسا ہے؟ ہم قوس و قزح اور بادلوں کا، اور گرینڈ کینئین Grand Canyon کے پہاڑوں میں رنگوں کا، اور ایریزونا Arizona کے غروب ہوتے ہوئے سورج کی خوبصورتی کا مطالعہ کر سکتے۔ ہم اِس تمام کا ساری زندگی مطالعہ کر سکتے اور اُس کو کبھی بھی نہیں جان پاتے۔

ہم خود پر نظر ڈال سکتے ہیں۔ ہم دُنیا کی تہذیبوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ معاشریات اور اخلاقیات کا مطالعہ کرنے سے ہم اِس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ جس کسی نے بھی نسل اِنسانی کو تخلیق کیا اُس میں ترتیب اور اخلاقیات کی سمجھ تھی۔ مگر وہ ہے کون اور اُس کا نام کیا ہے؟ کیا وہ ہمیں جانتا ہے؟ یہ کیسے ہے کہ خُدا نے ہمیں اِس طرح کا بنایا ہے؟ یہ باتیں مکمل طور پر انسان سے چھپی ہوئی ہیں۔ اِن باتوں کو صرف خود انکشافی اور خُدا کی خود وحی کے وسیلےسے ہی جانا جا سکتا ہے۔ اگر خُدا خود کو ظاہر نہ کرتا تو ہم کبھی بھی اُس کو جان نہ پاتے (ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل، پی ایچ۔ ڈی۔ کی کتاب ’’خُدا کا خود کا اظہار The Self-Revelation of God‘‘ سے اخذ کیا کیا)۔

لیکن خُدا نے خود کو ہم پر بائبل کے ذریعے سے ظاہر کیا۔ ایک کھوئی ہوئی دُنیا کے لیے بائبل ہی خُدا کا خود کا اظہار ہے۔ جیسا کہ پطرس رسول اِس کو لکھتا ہے، بائبل ’’وہ چراغ ہے جو اندھیرے میں روشنی دیتی ہے‘‘ (2پطرس1:19)۔ میں تقریبا آدھی سے زیادہ صدی تک مذھب کا مطالعہ کر چکا ہوں۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ دُنیا میں تقریباً 600 مذاھب ہیں۔ اُن میں سے کونسا سچا ہے؟ ہم کیسے جان سکتے ہیں؟ ہم دُنیا کے مذاھب کا مطالعہ اپنے لیے کر سکتے ہیں اور پھر بھی اُس کو نہیں جان سکتے۔ خود کو ہم پر آشکارہ کرنا پڑتا ہے۔ اور یہی ہے جو اُس نے کیا تھا۔ خُدا نے بائبل میں خود کو انسان پر ظاہر کیا تھا، جو خدا کے الہام سے ہے اور جو تعلیم دینے، تنبیہہ کرنے، سُدھارنے اور راستبازی میں تربیت دینے کے لیے مفید ہے‘‘ (2 تیموتاؤس3:16)۔ بائبل ہی خُدا کے بارے میں جاننے کے لیے واحد قابل اعتماد ذریعہ ہے۔ بائبل کے بغیر ہم خُدا کو نہ جان پاتے۔ ہم نہ جان پاتے کہ خُدا ایک تثلیث ہے۔ ہم خُدا کی منسوبیت کو نا جان پاتے – اُس کا ہر جگہ پر موجود ہونا omnipresence، اُس کی ہر چیز کو جاننے کی صلاحیت omniscience، اُس کا قدرت کاملہ کی بہت بڑی طاقت ہونا omnipotence، اُس کی ہیت کی واحدانیت immutability، اُس کی پاکیزگی، اُس کی راستبازی، اُس کے انصاف، اُس کی نیکی، اُس کی سچائی۔ یہ خُدا کی وہ باتیں ہیں جن کے بارے میں ہم کبھی بھی نہ جان پاتے اگر اُس نے اِنہیں ہم پر بائبل میں آشکارہ نہ کیا ہوتا۔ ہر ایک بات جو ہم اُس حقیقی خُدا کے بارے میں جانتے ہیں وہ بائبل میں سے ہے کیونکہ،

’’ہر صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے وہ تعلیم دینے، تنبیہ کرنے، سُدھارنے اور راستبازی میں تربیت دینے کے لیے مفید ہے‘‘( 2۔ تیموتاؤس 3:16).

پھر، ہم کیا کہیں، اُس خُدا کے بارے میں جو گناہ کی سزا دیتا ہے؟ ڈاکٹر جارج بُٹریک Dr. George Buttrick جو بائبل کو مسترد کرنے والی کتاب مترجم کی بائبل The Interpreter’s Bible کے ایڈیٹر ہیں اُنہوں نے کہا، ’’میرا خُدا ابلیس ہے۔‘‘ اُنہوں نے کہا کہ بائبل کا خُدا ’’ابلیس‘‘ تھا۔ رابرٹ انجرسول Robert Ingersoll نے بائبل کے خدا کو ’’یہ آسیبی خُدا‘‘ کہا ہے اور کہا، ’’مجھے اِس سے نفرت ہے۔‘‘ کالج میں پروفیسروں کے ذریعے سے طالب علموں کو اُس خُدا کے بارے میں جو گناہ کی سزا دیتا ہے اکثر سُننا پڑتا ہے۔ مگر جارج بُٹریک کے پاس خُدا کے انصاف کو مسترد کرنے کی کوئی بنیاد نہیں تھی ماسوائے خود اپنی ہی بدگمانی کے۔ انجرسول کے پاس خُدا کو ’’آسیبی‘‘ کہنے کی کوئی بنیاد نہیں تھی ماسوائے خود اُس کے اپنے تعصب کے۔ اور آپ کے کالج کے پروفیسر کے پاس اُس خود کو مسترد کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے جو بجائے خود اپنی طرفداری کے گناہ کا فیصلہ کرتا ہے۔

ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ وہ غلط ہیں؟ اور ہم کیسے جو کچھ وہ خُدا کے بارے میں جانتے ہیں اُس کے مقابلے میں زیادہ جان سکتے ہیں؟ اِس کا جواب ہماری تلاوت میں ہے،

’’ہر صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے وہ تعلیم دینے، تنبیہہ کرنے، سُدھارنے اور راستبازی میں تربیت دینے کے لیے مفید ہے‘‘( 2۔ تیموتاؤس 3:16).

بائبل کے تمام کے تمام عبرانی اور یونانی الفاظ تھیانیوسٹُس theopneustos (الہام سے، خُدا کے پھونکنے سے) سے بخشے گئے ہیں اور وہ عقیدے کے (ڈِیڈ آسکالئینdidaskalian – فلسفے، ھدایت) کی تعلیم دینے، تنبیہہ کرنے، سُدھارنے اور راستبازی میں تربیت دینے کے لیے مفید (اُوفیلیموس ōphĕlímos – کارآمد) ہیں۔ ڈاکٹر فرٹز رائنیکر Dr. Fritz Rienecker جو ایک جرمن عالم ہیں اُنہوں نے کہا، ’’[کلام پاک کی] وہ تحاریر خُدا کی پھونکی ہوئی ہیں… ربّیوں کی تعلیمات تھیں کہ خُدا کا روح انبیاء پر اور اُن میں قائم ہوتا ہے اور اُن کے ذریعے سے کلام کرتا ہے تاکہ اُن کے الفاظ خود اُن کی طرف سے نہ ادا ہوں، بلکہ خُدا کے مُنہ سے ہوں اور وہ پاک روح کے وسیلے سے بولتے اور لکھتے تھے۔ ابتدائی کلیسیا اِس نظریے کے ساتھ [مکمل] حتمی طور پر متفق تھی‘‘ (فرٹز رائنیکر، پی ایچ۔ ڈی۔ Fritz Rienecker, Ph. D.، یونانی نئے عہد نامے کے لیے زباندانی کی ایک کُلید A Linguistic Key to the Greek New Testament، (کلیوآن ایل۔ روجرز، جونیئر Cleon L. Rogers, Jr. کی جانب سے جرمنی سے ترجمہ کیا گیا؛ 2تیموتاؤس3:16 پر غور طلب بات)۔

یوں بائبل خُدا کے زبانی الہامی الفاظ کا ایک مکمل ترین خزانہ ہے؛ ہر عبرانی اور یونانی لفظ خود ’’خُدا کے مُنہ سے‘‘ ادا ہوا تھا! ہم جو کچھ بھی خُدا کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں اُس کو بائبل میں سے ہی ہونا چاہیے اور کہیں اور سے بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے۔ جیسا کہ لوتھرLuther نے اس کو لکھا، ’’سولہ سکریپچورہ sola scriptura‘‘ – ہمارے عقائد اور اعتقادوں کا واحد منبع بائبل ہے۔ ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones نے کہا، ’’صرف دو ہی حتمی صورتیں ہوتی ہیں؛ یا تو ہم بائبل کو ایک با اختیار تصدیق شُدہ کتاب کی حیثیت سے عزت دیں یا پھر ہمیں انسانی تصورات پر بھروسہ کرنا چاہیے… بائبل کا تمام کا تمام معاملہ یہ ہے کہ خُدا کا منفرد الہام ہے‘‘ (خُدا کے ساتھ رفاقت Fellowship with God، کراسوے کُتب Crossway Books، 1993، صفحہ104)۔ یوں جب لوگ کہتے ہیں، ’’یہ تو آپ کی رائے ہے’’ – میں جواب دیتا ہوں، ’’جی نہیں، وہ میری رائے نہیں ہے، وہ بائبل کی رائے ہیں، خُدا کے کلام کی وہ واضح عقیدیاتی تعلیم۔‘‘ پھر وہ کہتے ہیں، ’’مگر آپ کیسے اِس کی ترجمانی کرتے ہیں؟‘‘ میں کہتا ہوں، ’’بالکل اُسی طرح سے جیسے میں اخبارات کی تشریح پیش کرتا ہوں – اُن میں مطلب وہی ہوتا ہے جو وہ لکھتے ہیں۔‘‘

برگشتہ لوگوں کو وہ پسند نہیں آتا۔ کیا آپ جانتے ہیں کیوں؟ یہ اِس لیے کیونکہ وہ شیطان کو سُن رہے ہوتے ہیں۔ ابلیس نے ہماری پہلی ماں کو یہ کہہ کر پریشان کر دیا تھا کہ خُدا کا واقعی میں وہ مطلب نہیں تھا جو اُس نے کہا تھا (پیدائش3:1۔5)۔ وہ یہ تصور ہی ہے کہ آپ خُدا کے کلام پر بھروسہ نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے انسان گمراہی کا شکار ہوا اور نسل انسانی کی تباہی آئی! خُدا ہماری مدد کرے! ہر وہ بات جو ہم اُس حقیقی خُدا کے بارے میں جانتے ہیں صرف بائبل میں سے ہی نکلتی ہے۔ غور کریں میں نے کہا، ’’ہر وہ بات جو ہم حقیقی خُدا کے بارے میں جانتے ہیں…‘‘ صرف بائبل میں سے نکلتی ہے۔ ناکہ مورمنوں کی کتاب میں سے۔ ناکہ میری بیکر ایڈی Mary Baker Eddy کی سائنس اور صحت Science and Health کی کتاب میں سے، ناکہ بگڑی مسخ شُدہ، جان بوجھ کر غلط ترجمہ کی ہوئی یہواہ کی گواہی Jehovah’s Witness دینے والوں کی بائبل میں سے۔ ہر وہ بات جو ہم ایک حقیقی خُدا کے بارے میں جانتے ہیں وہ صرف بائبل میں سے ہی آتی ہے۔ اب، خُدا کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے؟ بائبل جو کچھ بھی خُدا کے بارے میں کہتی ہے وہ لوگ جو کچھ اُس کےبارے میں آج کہتے ہیں اُس سے بہت مختلف ہے۔ سڑکوں پر ایک اوسط انسان خُدا کے بارے میں دو میں سے ایک بات سوچتا ہے۔ یا تو وہ سوچتا ہے،


1۔ کہ خُدا وجود نہیں رکھتا، یا

2۔ کہ خُدا صرف ایک محبت کا خُدا ہے، اور کبھی بھی گناہ کی سزا نہیں دے گا۔


مگر اُن میں سے کوئی بھی تصور بائبل میں سے نہیں ہے۔ دونوں ہی تصورات انسانوں سے ہیں، اور حقیقی خُدا کی وضاحت پیش نہیں کرتے ہیں۔

جی ہاں، بائبل تعلیم دیتی ہے کہ وہ محبت کا خُدا ہے (1یوحنا4:16)۔ مگر خُدا انصاف کا خُدا بھی تو ہے۔ خُدا کے قہر اور انصاف کا تزکرہ اُس کی محبت کے مقابلے میں اکثر کئی مرتبہ زیادہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا، ’’اگر آپ انصاف کا یہ تصور بائبل میں سے باہر نکال دیں تو آپ کے پاس بہت کم بچتا ہے‘‘ (خوشخبری کا دِل The Heart of the Gospel، کراسوے کُتب، Crossway Books، 1991، صفحہ98)۔ ایک اور مقام پر، ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا، ’’اُن لوگوں کے ساتھ جو خُدا کے قہر کے بارے میں یقین نہیں کرتے ہیں سب سے قطعی مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خُدا کی بائبل الہام پر یقین نہیں کرتے ہیں۔ اُن کے پاس خُدا اُن کی اپنی تخلیق کردہ باتوں کا ہوتا ہے‘‘ (خُدا کا خود مختیار مقصد (رومیوں) God’s Sovereign Purpose (Romans 9))، دی بینر اور ٹُرٹھ ٹرسٹ The Banner of Truth Trust، 1991، صفحہ212)۔

خُدا کا قہر اور خُدا کا انصاف وہ عقیدے ہیں جو تمام کی تمام بائبل میں ظاہر ہوتے ہیں، دونوں ہی نئے اور پرانے عہد نامے میں۔ گذشتہ ہفتے میں نے عظیم سیلاب میں خُدا کے انصاف کے بارے میں پڑھا۔

’’اور خداوند نے کہا، میں انسان کو جسے میں نے پیدا کیا رُوئے زمین پر سے مِٹا دُونگا‘‘ (پیدائش 6:7).

’’اور خدا نے نُوح سے کہا، میں سب لوگوں کا خاتمہ کرنے کو ہُوں کیونکہ زمین اُن کی وجہ سے ظلم سے بھر گئی ہے۔ اِس لیے میں یقیناً نوعِ اِنسان اور زمین دونوں کو تباہ کر ڈالوں گا‘‘ (پیدائش 6:13).

’’اور رُوئے زمین پر کی ہر جاندار شَے نابود ہوگئی، کیا انسان، کیا حیوان، کیا زمین پر رینگنے والے جاندار اور کیا ہوا میں اُڑنے والے پرندے، سب کے سب نابود ہو گئے۔ صرف نُوح باقی بچا اور وہ جو اُس کے ساتھ کشتی میں تھے‘‘ (پیدائش 7:23).

یہ ہے جو انصاف کا خُدا ہے! اِس کے علاوہ میں نے سدوم اور عمورہ کے انصاف کے بارے میں بھی پڑھا،

’’تب خداوند نے اپنی طرف سے سدوم اور عمورہ پر آسمان سے جلتی ہُوئی گندھک برسائی۔ اِس طرح اُس نے اُن کو اور سارے میدان کو اُن شہروں کے باشندوں اور زمین کی ساری نباتات سمیت غارت کردیا‘‘ (پیدائش 19:24۔25).

یہ ہے جو انصاف کا خُدا ہے! پھر میں نے مصریوں پر خُدا کے ہولناک انصاف کے بارے میں پڑھا – کیسے خُدا نے اُن کا انصاف کیا جب اُنہوں نے عبرانی لوگوں کو آزاد کرنے سے انکار کیا،

’’اور آدھی رات کو خداوند نے مِصر میں تخت نشین فرعون کے پہلوٹھے سے لے کر قید خانہ کے قیدی کے پہلوٹھے تک بلکہ تمام جانوروں کے پہلوٹھوں کو بھی ہلاک کردیا۔ اور فرعون اور اُس کے تمام اہلکار اور مِصری رات ہی کو اُٹھ بیٹھے اور مِصر میں بڑا کہرام مچا کیونکہ کوئی بھی گھر ایسا نہ تھا جس میں کوئی مرا نہ ہو‘‘ (خروج 12:29۔30).

یہ ہے جو انصاف کا خُدا ہے! پھر میں نے ندب اور ابیہو Nadab and Abihu کے انصاف کے بارے میں پڑھا، جو ہارون کے بیٹے تھے،

’’اور ہارون کے بیٹوں ندب اور ابیہو نے اپنے اپنے بخوردان لے کر اُن میں آگ بھری اور مزید بخور ڈالا اور اُنہوں نے خداوند کے حکم کے خلاف اُس کے حُضور نا واجب آگ پیش کی۔ لٰہذا خداوند کی حُضوری سے آگ نکلی جس نے اُنہیں بھسم کردیا اور وہ خداوند کے سامنے ہی مرگئے‘‘ (احبار 10:1۔2).

یہ ہے جو انصاف کا خُدا ہے! پھر میں نے اُس شخص کے بارے میں پڑھا جس نے شریعت کی خلاف ورزی سبت کے روز لکڑیاں اکٹھی کرنے سے کی تھی،

’’اور خداوند نے مُوسٰی سے کہا کہ یہ آدمی مار ڈالا جائے۔ ساری جماعت لشکر گاہ کے باہر اُسے سنگسار کرے۔ چنانچہ جیسا خداوند نے مُوسٰی کو حکم دیا تھا اُس کے مطابق جماعت نے اُسے لشکرگاہ کے باہر لے جا کر سنگسار کیا اور وہ مر گیا‘‘ (گنتی 15:35۔36).

یہ ہے جو انصاف کا خُدا ہے! پھر میں نے قورح کے بارے میں اور اُن کے بارے میں جنہوں نے اُس کی پیروی میں موسیٰ کے خلاف بغاوت کی تھی،

’’جوں ہی اُس نے یہ باتیں ختم کیں اُن کے قدموں کے نیچے کی زمین پھٹ گئی اور زمین نے اپنا منہ کھول دیا اور اُنہیں، اُن کے گھر بار اور قورح کے ہاں کے سب آدمیوں کو اور اُن کے تمام مال و اسباب کو ہڑپ کر لیا۔ وہ اپنے تمام مال و اسباب کے ساتھ جیتے جی قبر میں جا پڑے اور زمین اُن کے اوپر برابر ہوگئی اور وہ جماعت میں سے نابود ہوگئے۔ اُن کا چِلانا سن کر سارے اِسرائیلی جو اُن کے آس پاس تھے وہ یہ کہتے ہُوئے بھاگ نکلے کہ زمین ہمیں بھی نگل لے گی۔ تب خداوند کے پاس سے آگ نکلی اور اُن ڈھائی سَو آدمیوں کو بھسم کر گئی جو بخور چڑھا رہے تھے‘‘ (گنتی 16:31۔35).

یہ ہے جو انصاف کا خُدا ہے! پھر استثنا کی کتاب میں مَیں نے پڑھا،

’’کیونکہ خداوند تمہارا خدا، خداؤں کا خدا ہے اور خداوندوں کا خداوند ہے۔ وہ عظیم، قادر اور مہیب خدا ہے جو کسی کی طرفداری نہیں کرتا اور نہ ہی رشوت لیتا ہے‘‘ (استثنا 10:17).

اور پھر یہ کہتی ہے،

’’خداوند اپنے خدا کا خوف مانو، اور اُس کی خدمت کرو‘‘ (استثنا 10:20).

وہ بھی انصاف کا خُدا ہی ہے،

وہ تمام کی تمام باتیں توریت موسیٰ کی پانچ کتابوں میں پیش کی گئی ہیں۔ وہ کلام پاک کی پہلی پانچ کتابوں میں خُدا کے انصاف کے بارے میں صرف چند ایک ہی باتیں ہیں! وہاں پر اُس کو ’’خُداؤں کا خُدا، اور خُداوندوں کا خُدا، ایک عظیم، قادر مُہیب خُدا… کہا گیا ہے‘‘ (استثنا10:17)۔

پھر خُدا نے اشعیا نبی کی معرفت کہا، ’’میں اپنے قہر میں قوموں کو روند ڈالوں گا‘‘ (اشعیا63:3)۔ نحمیاہ نبی نے اُس کو ’’عظیم اور مُہیب خُدا‘‘ کہا (نحمیاہ1:5)۔ دانی ایل نبی نے اُس کو ’’عظیم اور ہولناک خُدا‘‘ کہا (دانی ایل9:4)۔

مگر کوئی شاید کہے، ’’وہ تو پرانے عہد نامے کا خُدا ہے۔ میں تو نئے عہد نامے کے خُدا میں یقین کرتا ہوں۔‘‘ وہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ نئے عہد نامے کے بارے میں لاعِلم ہیں! ہم نئے عہد نامے میں پڑھتے ہیں، ’’زندہ خُدا کے ہاتھوں میں پڑنا ہولناک بات ہے‘‘ (عبرانیوں10:31)۔ دوسرا کرنتھیوں 5 باب میں پولوس رسول نے کہا، ’’ہم خُداوند کے خوف کو سامنے رکھ کر دوسروں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘ اور بائبل میں خُداوند یسوع مسیح نے انصاف اور جہنم کے بارے میں کسی اور کے مقابلے میں زیادہ بتایا۔ مسیح نے کہا،

’’یہ لوگ ہمیشہ کی سزا پائیں گے‘‘ (متی 25:46).

مسیح نے کہا،

’’اور اگر تیری آنکھ تیرے لیے گناہ کا باعث بنتی ہے تو اُسے نکال کر پھینک دے۔ ایک آنکھ کے ساتھ زندگی میں داخل ہونا دو آنکھیں رکھتے ہوئے جہنم کی آگ میں ڈالے جانے سے بہتر ہے‘‘ (متی 18:9).

مسیح نے کہا،

’’ابنِ آدم اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وہ اُس کی بادشاہی میں سے گناہ کا باعث بننے والی ساری چیزوں اور بدکاروں کو جمع کر لیں گے اور اُنہیں آگ کی بھٹی میں جھونک دیں گے جہاں وہ لوگ روتے اور دانت پیستے رہیں گے‘‘ (متی 13:41۔42).

مسیح نے کہا کہ ایک غیر نجات یافتہ دولت مند آدمی جہنم میں گیا،

’’اور اُس نے عالمِ ارواح میں عذاب میں مبتلا ہوکر اپنی آنکھیں اوپر اُٹھائیں تو دُور سے ابرہام کو دیکھا اور یہ بھی کہ لعزر ابرہام کی گود میں ہے۔ اُس نے چلا کر کہا، اَے باپ ابرہام، مجھ پر رحم کر اور لعزر کو بھیج تاکہ وہ اپنی اُنگلی کا سرا پانی سے تر کر کے میری زبان کو ٹھنڈک پہنچائے کیونکہ میں اِس آگ میں تڑپ رہا ہُوں‘‘ (لوقا 16:23۔24).

اور نئے عہد نامے کی آخری کتاب کہتی ہے،

’’تو اُسے بھی خدا کے قہر کی خالص مَے پینا ہوگی جو اُس کے غضب کے پیالہ میں اُنڈیل دی گئی ہے۔ وہ مُقدّس فرشتوں کے رُوبُرو اور برّہ کے سامنے آگ اور گندھک کے عذاب میں مبتلا ہوکر تڑپتا رہے گا۔ ایسے لوگوں کے عذاب کا دُھواں ابد تک اُٹھتا رہے گا جو حیوان اور اُس کی مُورت کو سجدہ کرتے ہیں اور اُس کے نام کا نشان لگاتے ہیں اُنہیں دِن رات چین نہ ملے گا…‘‘ (مکاشفہ 14:10۔11).

جی نہیں، آپ نئے عہد نامے میں پناہ نہیں لے سکتے! ساری کی ساری بائبل میں، ایک سرے سے لیکر دوسرے سرے تک، خُدا کو ’’ایک عظیم، قادر اور مُہیب خُدا‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے (استثنا10:17)۔

وہ آخری اُمید جو آپ کے پاس ہے وہ خُداوند یسوع مسیح پر بھروسہ کرنے کی ہے۔ خُدا نے اُس کو صلیب پر مرنے کے لے بھیجا – کہ آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرے اور اپنے خون کے ساتھ آپ کے گناہوں کو پاک صاف کرے۔ خُدا کے قہر اور انصاف سے بچنے کا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے! پولوس رسول نے کہا، ’’خُداوند یسوع مسیح میں ایمان لا اور تو نجات پا لے گا‘‘ (اعمال16:31)۔ بائبل کہتی ہے، ’’اپنے تمام دِل کے ساتھ خُداوند پر بھروسہ رکھ‘‘ (امثال3:5)۔ اور خُداوند یسوع مسیح نے کہا،

’’جو ایمان لائے اور بپتسمہ لے وہ نجات پائے گا؛ لیکن جو ایمان نہ لائے وہ مجرم قرار دیا جائے گا‘‘ (مرقس 16:16).

مسٹر گریفتھ Mr. Griffith مہربانی سے ’’جب میں خون دیکھوں گا When I See the Blood‘‘ کا پہلا اور دوسرا بند گائیں۔

مسیح ہمارا مُنّجی صلیب پر مر گیا،
   گنہگاروں کے لیے مرا، اپنا تمام فرض ادا کیا۔
اپنی جان کو برّے کے خون کے ساتھ تر کر لو،
   اور میں تم پر سے ٹل جاؤں گا، تم پر سے ٹل جاؤں گا۔
جب میں خون دیکھوں گا، جب میں خون دیکھوں گا،
   جب میں خون دیکھوں گا، میں ٹل جاؤں گا، میں تم پر سے ٹل جاؤں گا۔
بدترین گنہگاروں کو یسوع بچائے گا؛
   وہ تمام جو وعدہ کر چکا ہے، وہ اُسے پورا کرے گا؛
گناہ کے لیے کھولے گئے چشمہ میں دھو ڈال
   اور میں تم پر سے ٹل جاؤں گا، تم پر سے ٹل جاؤں گا۔
جب میں خون دیکھتا ہوں، جب میں خون دیکھتا ہوں،
   جب میں خون دیکھتا ہوں،
میں ٹل جاؤں گا، میں تم پر سے ٹل جاؤں گا۔
(’’جب میں خون دیکھوں گا When I See the Blood‘‘ شاعر جان فوٹے
       John Foote، انیسویں صدی)۔

ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی کریں۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: مکاشفہ14:9۔11 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’جب میں خون دیکھوں گا When I See the Blood‘‘ (شاعر جان فوٹے John Foote، انیسویں صدی)۔